Al-Alaq( العلق)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ اقرَأ بِاسمِ رَبِّكَ الَّذى خَلَقَ(1)
(اے حبیب!) اپنے رب کے نام سے (آغاز کرتے ہوئے) پڑھئے جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایا،(1)
خَلَقَ الإِنسٰنَ مِن عَلَقٍ(2)
اس نے انسان کو (رحمِ مادر میں) جونک کی طرح معلّق وجود سے پیدا کیا،(2)
اقرَأ وَرَبُّكَ الأَكرَمُ(3)
پڑھیئے اور آپ کا رب بڑا ہی کریم ہے،(3)
الَّذى عَلَّمَ بِالقَلَمِ(4)
جس نے قلم کے ذریعے (لکھنے پڑھنے کا) علم سکھایا،(4)
عَلَّمَ الإِنسٰنَ ما لَم يَعلَم(5)
جس نے انسان کو (اس کے علاوہ بھی) وہ (کچھ) سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ (یا- جس نے (سب سے بلند رتبہ) انسان (محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (بغیر ذریعۂ قلم کے) وہ سارا علم عطا فرما دیا جو وہ پہلے نہ جانتے تھے،(5)
كَلّا إِنَّ الإِنسٰنَ لَيَطغىٰ(6)
(مگر) حقیقت یہ ہے کہ (نافرمان) انسان سر کشی کرتا ہے،(6)
أَن رَءاهُ استَغنىٰ(7)
اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو (دنیا میں ظاہراً) بے نیاز دیکھتا ہے،(7)
إِنَّ إِلىٰ رَبِّكَ الرُّجعىٰ(8)
بیشک (ہر انسان کو) آپ کے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے،(8)
أَرَءَيتَ الَّذى يَنهىٰ(9)
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے،(9)
عَبدًا إِذا صَلّىٰ(10)
(اﷲ کے) بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔ (یا:- (اللہ کے محبوب و برگزیدہ) بندے (محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب وہ نماز پڑھتے ہیں)،(10)
أَرَءَيتَ إِن كانَ عَلَى الهُدىٰ(11)
بھلا دیکھئے تو اگر وہ ہدایت پر ہوتا،(11)
أَو أَمَرَ بِالتَّقوىٰ(12)
یا وہ (لوگوں کو) پرہیزگاری کا حکم دیتا (تو کیا خوب ہوتا)،(12)
أَرَءَيتَ إِن كَذَّبَ وَتَوَلّىٰ(13)
اب بتائیے! اگر اس نے (دینِ حق کو) جھٹلایا ہے اور (آپ سے) منہ پھیر لیا ہے (تو اس کا کیا حشر ہوگا)،(13)
أَلَم يَعلَم بِأَنَّ اللَّهَ يَرىٰ(14)
کیا وہ نہیں جانتا کہ اﷲ (اس کے سارے کردار کو) دیکھ رہا ہے،(14)
كَلّا لَئِن لَم يَنتَهِ لَنَسفَعًا بِالنّاصِيَةِ(15)
خبر دار! اگر وہ (گستاخئ رسالت اور دینِ حق کی عداوت سے) باز نہ آیا تو ہم ضرور (اسے) پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹیں گے،(15)
ناصِيَةٍ كٰذِبَةٍ خاطِئَةٍ(16)
وہ پیشانی جو جھوٹی (اور) خطا کار ہے،(16)
فَليَدعُ نادِيَهُ(17)
پس وہ اپنے ہم نشینوں کو (مدد کے لئے) بلا لے،(17)
سَنَدعُ الزَّبانِيَةَ(18)
ہم بھی عنقریب (اپنے) سپاہیوں (یعنی دوزخ کے عذاب پر مقرر فرشتوں) کو بلا لیں گے،(18)
كَلّا لا تُطِعهُ وَاسجُد وَاقتَرِب ۩(19)
ہرگز نہیں! آپ اس کے کئے کی پرواہ نہ کیجئے، اور (اے حبیبِ مکرّم!) آپ سر بسجود رہئے اور (ہم سے مزید) قریب ہوتے جائیے،(19)