Al-Ahzab( الأحزاب)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ اتَّقِ اللَّهَ وَلا تُطِعِ الكٰفِرينَ وَالمُنٰفِقينَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَليمًا حَكيمًا(1)
اے نبی! آپ اللہ کے تقوٰی پر (حسبِ سابق استقامت سے) قائم رہیں اور کافروں اور منافقوں کا (یہ) کہنا (کہ ہمارے ساتھ مذہبی سمجھوتہ کر لیں ہرگز) نہ مانیں، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،(1)
وَاتَّبِع ما يوحىٰ إِلَيكَ مِن رَبِّكَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ بِما تَعمَلونَ خَبيرًا(2)
اور آپ اس (فرمان) کی پیروی جاری رکھیئے جو آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے وحی کیا جاتا ہے، بیشک اللہ ان کاموں سے خبردار ہے جو تم انجام دیتے ہو،(2)
وَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ وَكيلًا(3)
اور اللہ پر بھروسہ (جاری) رکھئے، اور اللہ ہی کارساز کافی ہے،(3)
ما جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِن قَلبَينِ فى جَوفِهِ ۚ وَما جَعَلَ أَزوٰجَكُمُ الّٰـٔى تُظٰهِرونَ مِنهُنَّ أُمَّهٰتِكُم ۚ وَما جَعَلَ أَدعِياءَكُم أَبناءَكُم ۚ ذٰلِكُم قَولُكُم بِأَفوٰهِكُم ۖ وَاللَّهُ يَقولُ الحَقَّ وَهُوَ يَهدِى السَّبيلَ(4)
اللہ نے کسی آدمی کے لئے اس کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے، اور اس نے تمہاری بیویوں کو جنہیں تم ظِہار کرتے ہوئے ماں کہہ دیتے ہو تمہاری مائیں نہیں بنایا، اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے (حقیقی) بیٹے بنایا، یہ سب تمہارے منہ کی اپنی باتیں ہیں، اور اللہ حق بات فرماتا ہے، اور وہی (سیدھا) راستہ دکھاتا ہے،(4)
ادعوهُم لِءابائِهِم هُوَ أَقسَطُ عِندَ اللَّهِ ۚ فَإِن لَم تَعلَموا ءاباءَهُم فَإِخوٰنُكُم فِى الدّينِ وَمَوٰليكُم ۚ وَلَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ فيما أَخطَأتُم بِهِ وَلٰكِن ما تَعَمَّدَت قُلوبُكُم ۚ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا(5)
تم اُن (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے باپ (ہی کے نام) سے پکارا کرو، یہی اللہ کے نزدیک زیادہ عدل ہے، پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو (وہ) دین میں تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔ اور اس بات میں تم پر کوئی گناہ نہیں جو تم نے غلطی سے کہی لیکن (اس پر ضرور گناہ ہوگا) جس کا ارادہ تمہارے دلوں نے کیا ہو، اور اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے،(5)
النَّبِىُّ أَولىٰ بِالمُؤمِنينَ مِن أَنفُسِهِم ۖ وَأَزوٰجُهُ أُمَّهٰتُهُم ۗ وَأُولُوا الأَرحامِ بَعضُهُم أَولىٰ بِبَعضٍ فى كِتٰبِ اللَّهِ مِنَ المُؤمِنينَ وَالمُهٰجِرينَ إِلّا أَن تَفعَلوا إِلىٰ أَولِيائِكُم مَعروفًا ۚ كانَ ذٰلِكَ فِى الكِتٰبِ مَسطورًا(6)
یہ نبیِ (مکرّم) مومنوں کے ساتھ اُن کی جانوں سے زیادہ قریب اور حق دار ہیں اور آپ کی اَزواجِ (مطہّرات) اُن کی مائیں ہیں، اور خونی رشتہ دار اللہ کی کتاب میں (دیگر) مومنین اور مہاجرین کی نسبت (تقسیمِ وراثت میں) ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں سوائے اس کے کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرنا چاہو، یہ حکم کتابِ (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے،(6)
وَإِذ أَخَذنا مِنَ النَّبِيّۦنَ ميثٰقَهُم وَمِنكَ وَمِن نوحٍ وَإِبرٰهيمَ وَموسىٰ وَعيسَى ابنِ مَريَمَ ۖ وَأَخَذنا مِنهُم ميثٰقًا غَليظًا(7)
اور (اے حبیب! یاد کیجئے) جب ہم نے انبیاء سے اُن (کی تبلیغِ رسالت) کا عہد لیا اور (خصوصاً) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور عیسٰی ابن مریم (علیھم السلام) سے اور ہم نے اُن سے نہایت پختہ عہد لیا،(7)
لِيَسـَٔلَ الصّٰدِقينَ عَن صِدقِهِم ۚ وَأَعَدَّ لِلكٰفِرينَ عَذابًا أَليمًا(8)
تاکہ (اللہ) سچوں سے اُن کے سچ کے بارے میں دریافت فرمائے، اور اس نے کافروں کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،(8)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اذكُروا نِعمَةَ اللَّهِ عَلَيكُم إِذ جاءَتكُم جُنودٌ فَأَرسَلنا عَلَيهِم ريحًا وَجُنودًا لَم تَرَوها ۚ وَكانَ اللَّهُ بِما تَعمَلونَ بَصيرًا(9)
اے ایمان والو! اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو جب (کفار کی) فوجیں تم پر آپہنچیں، تو ہم نے ان پر ہوا اور (فرشتوں کے) لشکروں کو بھیجا جنہیں تم نے نہیں دیکھا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھنے والا ہے،(9)
إِذ جاءوكُم مِن فَوقِكُم وَمِن أَسفَلَ مِنكُم وَإِذ زاغَتِ الأَبصٰرُ وَبَلَغَتِ القُلوبُ الحَناجِرَ وَتَظُنّونَ بِاللَّهِ الظُّنونا۠(10)
جب وہ (کافر) تمہارے اوپر (وادی کی بالائی مشرقی جانب) سے اور تمہارے نیچے (وادی کی زیریں مغربی جانب) سے چڑھ آئے تھے اور جب (ہیبت سے تمہاری) آنکھیں پھر گئی تھیں اور (دہشت سے تمہارے) دل حلقوم تک آپہنچے تھے اور تم (خوف و امید کی کیفیت میں) اللہ کی نسبت مختلف گمان کرنے لگے تھے،(10)
هُنالِكَ ابتُلِىَ المُؤمِنونَ وَزُلزِلوا زِلزالًا شَديدًا(11)
اُس مقام پر مومنوں کی آزمائش کی گئی اور انہیں نہایت سخت جھٹکے دئیے گئے،(11)
وَإِذ يَقولُ المُنٰفِقونَ وَالَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسولُهُ إِلّا غُرورًا(12)
اور جب منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں (کمزورئ عقیدہ اور شک و شبہ کی) بیماری تھی، یہ کہنے لگے کہ ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے صرف دھوکہ اور فریب کے لئے (فتح کا) وعدہ کیا تھا،(12)
وَإِذ قالَت طائِفَةٌ مِنهُم يٰأَهلَ يَثرِبَ لا مُقامَ لَكُم فَارجِعوا ۚ وَيَستَـٔذِنُ فَريقٌ مِنهُمُ النَّبِىَّ يَقولونَ إِنَّ بُيوتَنا عَورَةٌ وَما هِىَ بِعَورَةٍ ۖ إِن يُريدونَ إِلّا فِرارًا(13)
اور جبکہ اُن میں سے ایک گروہ کہنے لگا: اے اہلِ یثرب! تمہارے (بحفاظت) ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں رہی، تم واپس (گھروں کو) چلے جاؤ، اور ان میں سے ایک گروہ نبی (اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہتے ہوئے (واپس جانے کی) اجازت مانگنے لگا کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں، حالانکہ وہ کھلے نہ تھے، وہ (اس بہانے سے) صرف فرار چاہتے تھے،(13)
وَلَو دُخِلَت عَلَيهِم مِن أَقطارِها ثُمَّ سُئِلُوا الفِتنَةَ لَءاتَوها وَما تَلَبَّثوا بِها إِلّا يَسيرًا(14)
اور اگر ان پر مدینہ کے اَطراف و اَکناف سے فوجیں داخل کر دی جاتیں پھر اِن (نِفاق کا عقیدہ رکھنے والوں) سے فتنۂ (کفر و شرک) کا سوال کیا جاتا تو وہ اس (مطالبہ) کو بھی پورا کر دیتے، اور تھوڑے سے توقّف کے سوا اس میں تاخیر نہ کرتے،(14)
وَلَقَد كانوا عٰهَدُوا اللَّهَ مِن قَبلُ لا يُوَلّونَ الأَدبٰرَ ۚ وَكانَ عَهدُ اللَّهِ مَسـٔولًا(15)
اور بیشک انہوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کر رکھا تھا کہ پیٹھ پھیر کر نہ بھاگیں گے، اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی (ضرور) باز پُرس ہوگی،(15)
قُل لَن يَنفَعَكُمُ الفِرارُ إِن فَرَرتُم مِنَ المَوتِ أَوِ القَتلِ وَإِذًا لا تُمَتَّعونَ إِلّا قَليلًا(16)
فرما دیجئے: تمہیں فرار ہرگز کوئی نفع نہ دے گا، اگر تم موت یا قتل سے (ڈر کر) بھاگے ہو تو تم تھوڑی سی مدت کے سوا (زندگانی کا) کوئی فائدہ نہ اٹھا سکو گے،(16)
قُل مَن ذَا الَّذى يَعصِمُكُم مِنَ اللَّهِ إِن أَرادَ بِكُم سوءًا أَو أَرادَ بِكُم رَحمَةً ۚ وَلا يَجِدونَ لَهُم مِن دونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلا نَصيرًا(17)
فرما دیجئے: کون ایسا شخص ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہے اگر وہ تمہیں تکلیف دینا چاہے یا تم پر رحمت کا ارادہ فرمائے، اور وہ لوگ اپنے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی کارساز پائیں گے اور نہ کوئی مددگار،(17)
۞ قَد يَعلَمُ اللَّهُ المُعَوِّقينَ مِنكُم وَالقائِلينَ لِإِخوٰنِهِم هَلُمَّ إِلَينا ۖ وَلا يَأتونَ البَأسَ إِلّا قَليلًا(18)
بیشک اﷲ تم میں سے ان لوگوں کو جانتا ہے جو (رسول سے اور ان کی معیّت میں جہاد سے) روکتے ہیں اور جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہماری طرف آجاؤ، اور یہ لوگ لڑائی میں نہیں آتے مگر بہت ہی کم،(18)
أَشِحَّةً عَلَيكُم ۖ فَإِذا جاءَ الخَوفُ رَأَيتَهُم يَنظُرونَ إِلَيكَ تَدورُ أَعيُنُهُم كَالَّذى يُغشىٰ عَلَيهِ مِنَ المَوتِ ۖ فَإِذا ذَهَبَ الخَوفُ سَلَقوكُم بِأَلسِنَةٍ حِدادٍ أَشِحَّةً عَلَى الخَيرِ ۚ أُولٰئِكَ لَم يُؤمِنوا فَأَحبَطَ اللَّهُ أَعمٰلَهُم ۚ وَكانَ ذٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسيرًا(19)
تمہارے حق میں بخیل ہو کر (ایسا کرتے ہیں)، پھر جب خوف (کی حالت) پیش آجائے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف تکتے ہوں گے (اور) ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح گھومتی ہوں گی جس پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہو، پھر جب خوف جاتا رہے تو تمہیں تیز زبانوں کے ساتھ طعنے دیں گے (آزردہ کریں گے، ان کا حال یہ ہے کہ) مالِ غنیمت پر بڑے حریص ہیں۔ یہ لوگ (حقیقت میں) ایمان ہی نہیں لائے، سو اﷲ نے ان کے اعمال ضبط کر لئے ہیں اور یہ اﷲ پر آسان تھا،(19)
يَحسَبونَ الأَحزابَ لَم يَذهَبوا ۖ وَإِن يَأتِ الأَحزابُ يَوَدّوا لَو أَنَّهُم بادونَ فِى الأَعرابِ يَسـَٔلونَ عَن أَنبائِكُم ۖ وَلَو كانوا فيكُم ما قٰتَلوا إِلّا قَليلًا(20)
یہ لوگ (ابھی تک یہ) گمان کرتے ہیں کہ کافروں کے لشکر (واپس) نہیں گئے اور اگر وہ لشکر (دوبارہ) آجائیں تو یہ چاہیں گے کہ کاش وہ دیہاتیوں میں جا کر بادیہ نشین ہو جائیں (اور) تمہاری خبریں دریافت کرتے رہیں، اور اگر وہ تمہارے اندر موجود ہوں تو بھی بہت ہی کم لوگوں کے سوا وہ جنگ نہیں کریں گے،(20)
لَقَد كانَ لَكُم فى رَسولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كانَ يَرجُوا اللَّهَ وَاليَومَ الءاخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثيرًا(21)
فی الحقیقت تمہارے لئے رسول اﷲ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونۂ (حیات) ہے ہر اُس شخص کے لئے جو اﷲ (سے ملنے) کی اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اﷲ کا ذکر کثرت سے کرتا ہے،(21)
وَلَمّا رَءَا المُؤمِنونَ الأَحزابَ قالوا هٰذا ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسولُهُ ۚ وَما زادَهُم إِلّا إيمٰنًا وَتَسليمًا(22)
اور جب اہلِ ایمان نے (کافروں کے) لشکر دیکھے تو بول اٹھے کہ یہ ہے جس کا اﷲ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا اور اﷲ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے، سو اس (منظر) سے ان کے ایمان اور اطاعت گزاری میں اضافہ ہی ہوا،(22)
مِنَ المُؤمِنينَ رِجالٌ صَدَقوا ما عٰهَدُوا اللَّهَ عَلَيهِ ۖ فَمِنهُم مَن قَضىٰ نَحبَهُ وَمِنهُم مَن يَنتَظِرُ ۖ وَما بَدَّلوا تَبديلًا(23)
مومنوں میں سے (بہت سے) مَردوں نے وہ بات سچ کر دکھائی جس پر انہوں نے اﷲ سے عہد کیا تھا، پس ان میں سے کوئی (تو شہادت پا کر) اپنی نذر پوری کر چکا ہے اور ان میں سے کوئی (اپنی باری کا) انتظار کر رہا ہے، مگر انہوں نے (اپنے عہد میں) ذرا بھی تبدیلی نہیں کی،(23)
لِيَجزِىَ اللَّهُ الصّٰدِقينَ بِصِدقِهِم وَيُعَذِّبَ المُنٰفِقينَ إِن شاءَ أَو يَتوبَ عَلَيهِم ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ غَفورًا رَحيمًا(24)
(یہ) اس لئے کہ اﷲ سچے لوگوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور منافقوں کو چاہے تو عذاب دے یا ان کی توبہ قبول فرما لے۔ بیشک اﷲ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے،(24)
وَرَدَّ اللَّهُ الَّذينَ كَفَروا بِغَيظِهِم لَم يَنالوا خَيرًا ۚ وَكَفَى اللَّهُ المُؤمِنينَ القِتالَ ۚ وَكانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزيزًا(25)
اور اﷲ نے کافروں کو ان کے غصّہ کی جلن کے ساتھ (مدینہ سے نامراد) واپس لوٹا دیا کہ وہ کوئی کامیابی نہ پا سکے، اور اﷲ ایمان والوں کے لئے جنگِ (احزاب) میں کافی ہوگیا، اور اﷲ بڑی قوت والا عزت والا ہے،(25)
وَأَنزَلَ الَّذينَ ظٰهَروهُم مِن أَهلِ الكِتٰبِ مِن صَياصيهِم وَقَذَفَ فى قُلوبِهِمُ الرُّعبَ فَريقًا تَقتُلونَ وَتَأسِرونَ فَريقًا(26)
اور (بنو قُرَیظہ کے) جن اہلِ کتاب نے ان (کافروں) کی مدد کی تھی اﷲ نے انہیں (بھی) ان کے قلعوں سے اتار دیا اور ان کے دلوں میں (اسلام کا) رعب ڈال دیا، تم (ان میں سے) ایک گروہ کو (ان کے جنگی جرائم کی پاداش میں) قتل کرتے ہو اور ایک گروہ کو جنگی قیدی بناتے ہو،(26)
وَأَورَثَكُم أَرضَهُم وَدِيٰرَهُم وَأَموٰلَهُم وَأَرضًا لَم تَطَـٔوها ۚ وَكانَ اللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرًا(27)
اور اس نے تمہیں ان (جنگی دشمنوں) کی زمین کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے اموال کا اوراس (مفتوحہ) زمین کا جِس میں تم نے (پہلے) قدم بھی نہ رکھا تھا مالک بنا دیا، اور اﷲ ہر چیز پر بڑا قادر ہے،(27)
يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ قُل لِأَزوٰجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدنَ الحَيوٰةَ الدُّنيا وَزينَتَها فَتَعالَينَ أُمَتِّعكُنَّ وَأُسَرِّحكُنَّ سَراحًا جَميلًا(28)
اے نبیِ (مکرَّم!) اپنی اَزواج سے فرما دیں کہ اگر تم دنیا اور اس کی زینت و آرائش کی خواہش مند ہو تو آؤ میں تمہیں مال و متاع دے دوں اور تمہیں حسنِ سلوک کے ساتھ رخصت کر دوں،(28)
وَإِن كُنتُنَّ تُرِدنَ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَالدّارَ الءاخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلمُحسِنٰتِ مِنكُنَّ أَجرًا عَظيمًا(29)
اور اگر تم اﷲ اور اس کے رسول اور دارِ آخرت کی طلب گار ہو تو بیشک اﷲ نے تم میں نیکوکار بیبیوں کے لئے بہت بڑا اَجر تیار فرما رکھا ہے،(29)
يٰنِساءَ النَّبِىِّ مَن يَأتِ مِنكُنَّ بِفٰحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ يُضٰعَف لَهَا العَذابُ ضِعفَينِ ۚ وَكانَ ذٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسيرًا(30)
اے اَزواجِ نبیِ (مکرّم!) تم میں سے کوئی ظاہری معصیت کی مرتکب ہو تو اس کے لئے عذاب دوگنا کر دیا جائے گا، اور یہ اﷲ پر بہت آسان ہے،(30)
۞ وَمَن يَقنُت مِنكُنَّ لِلَّهِ وَرَسولِهِ وَتَعمَل صٰلِحًا نُؤتِها أَجرَها مَرَّتَينِ وَأَعتَدنا لَها رِزقًا كَريمًا(31)
اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت گزار رہیں اور نیک اعمال کرتی رہیں تو ہم ان کا ثواب (بھی) انہیں دوگنا دیں گے اور ہم نے اُن کے لئے (جنّت میں) باعزّت رزق تیار کر رکھا ہے،(31)
يٰنِساءَ النَّبِىِّ لَستُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّساءِ ۚ إِنِ اتَّقَيتُنَّ فَلا تَخضَعنَ بِالقَولِ فَيَطمَعَ الَّذى فى قَلبِهِ مَرَضٌ وَقُلنَ قَولًا مَعروفًا(32)
اے اَزواجِ پیغمبر! تم عورتوں میں سے کسی ایک کی بھی مِثل نہیں ہو، اگر تم پرہیزگار رہنا چاہتی ہو تو (مَردوں سے حسبِ ضرورت) بات کرنے میں نرم لہجہ اختیار نہ کرنا کہ جس کے دل میں (نِفاق کی) بیماری ہے (کہیں) وہ لالچ کرنے لگے اور (ہمیشہ) شک اور لچک سے محفوظ بات کرنا،(32)
وَقَرنَ فى بُيوتِكُنَّ وَلا تَبَرَّجنَ تَبَرُّجَ الجٰهِلِيَّةِ الأولىٰ ۖ وَأَقِمنَ الصَّلوٰةَ وَءاتينَ الزَّكوٰةَ وَأَطِعنَ اللَّهَ وَرَسولَهُ ۚ إِنَّما يُريدُ اللَّهُ لِيُذهِبَ عَنكُمُ الرِّجسَ أَهلَ البَيتِ وَيُطَهِّرَكُم تَطهيرًا(33)
اور اپنے گھروں میں سکون سے قیام پذیر رہنا اور پرانی جاہلیت کی طرح زیب و زینت کا اظہار مت کرنا، اور نماز قائم رکھنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت گزاری میں رہنا، بس اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا میل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے،(33)
وَاذكُرنَ ما يُتلىٰ فى بُيوتِكُنَّ مِن ءايٰتِ اللَّهِ وَالحِكمَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ لَطيفًا خَبيرًا(34)
اور تم اللہ کی آیتوں کو اور (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) سنت و حکمت کو جن کی تمہارے گھروں میں تلاوت کی جاتی ہے یاد رکھا کرو، بیشک اللہ (اپنے اولیاء کے لئے) صاحبِ لُطف (اور ساری مخلوق کے لئے) خبردار ہے،(34)
إِنَّ المُسلِمينَ وَالمُسلِمٰتِ وَالمُؤمِنينَ وَالمُؤمِنٰتِ وَالقٰنِتينَ وَالقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقينَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرينَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالخٰشِعينَ وَالخٰشِعٰتِ وَالمُتَصَدِّقينَ وَالمُتَصَدِّقٰتِ وَالصّٰئِمينَ وَالصّٰئِمٰتِ وَالحٰفِظينَ فُروجَهُم وَالحٰفِظٰتِ وَالذّٰكِرينَ اللَّهَ كَثيرًا وَالذّٰكِرٰتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَغفِرَةً وَأَجرًا عَظيمًا(35)
بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور مومن مَرد اور مومن عورتیں، اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، اور صدق والے مرد اور صدق والی عورتیں، اور صبر والے مرد اور صبر والی عورتیں، اور عاجزی والے مرد اور عاجزی والی عورتیں، اور صدقہ و خیرات کرنے والے مرد اور صدقہ و خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، اللہ نے اِن سب کے لئے بخشِش اور عظیم اجر تیار فرما رکھا ہے،(35)
وَما كانَ لِمُؤمِنٍ وَلا مُؤمِنَةٍ إِذا قَضَى اللَّهُ وَرَسولُهُ أَمرًا أَن يَكونَ لَهُمُ الخِيَرَةُ مِن أَمرِهِم ۗ وَمَن يَعصِ اللَّهَ وَرَسولَهُ فَقَد ضَلَّ ضَلٰلًا مُبينًا(36)
اور نہ کسی مومن مرد کو (یہ) حق حاصل ہے اور نہ کسی مومن عورت کو کہ جب اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کام کا فیصلہ (یا حکم) فرما دیں تو ان کے لئے اپنے (اس) کام میں (کرنے یا نہ کرنے کا) کوئی اختیار ہو، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کرتا ہے تو وہ یقیناً کھلی گمراہی میں بھٹک گیا،(36)
وَإِذ تَقولُ لِلَّذى أَنعَمَ اللَّهُ عَلَيهِ وَأَنعَمتَ عَلَيهِ أَمسِك عَلَيكَ زَوجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخفى فى نَفسِكَ مَا اللَّهُ مُبديهِ وَتَخشَى النّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخشىٰهُ ۖ فَلَمّا قَضىٰ زَيدٌ مِنها وَطَرًا زَوَّجنٰكَها لِكَى لا يَكونَ عَلَى المُؤمِنينَ حَرَجٌ فى أَزوٰجِ أَدعِيائِهِم إِذا قَضَوا مِنهُنَّ وَطَرًا ۚ وَكانَ أَمرُ اللَّهِ مَفعولًا(37)
اور (اے حبیب!) یاد کیجئے جب آپ نے اس شخص سے فرمایا جس پر اللہ نے انعام فرمایا تھا اور اس پر آپ نے (بھی) اِنعام فرمایا تھا کہ تُو اپنی بیوی (زینب) کو اپنی زوجیت میں روکے رکھ اور اللہ سے ڈر، اور آپ اپنے دل میں وہ بات٭ پوشیدہ رکھ رہے تھے جِسے اللہ ظاہر فرمانے والا تھا اور آپ (دل میں حیاءً) لوگوں (کی طعنہ زنی) کا خوف رکھتے تھے۔ (اے حبیب! لوگوں کو خاطر میں لانے کی کوئی ضرورت نہ تھی) اور فقط اللہ ہی زیادہ حق دار ہے کہ آپ اس کا خوف رکھیں (اور وہ آپ سے بڑھ کر کس میں ہے؟)، پھر جب (آپ کے متبنٰی) زید نے اسے طلاق دینے کی غرض پوری کرلی، تو ہم نے اس سے آپ کا نکاح کر دیا تاکہ مومنوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (کے ساتھ نکاح) کے بارے میں کوئی حَرج نہ رہے جبکہ (طلاق دے کر) وہ ان سے بے غَرض ہو گئے ہوں، اور اللہ کا حکم تو پورا کیا جانے والا ہی تھا، ٭: (کہ زینب کی تمہارے ساتھ مصالحت نہ ہو سکے گی اور منشاء ایزدی کے تحت وہ طلاق کے بعد اَزواجِ مطہرات میں داخل ہوں گی۔)(37)
ما كانَ عَلَى النَّبِىِّ مِن حَرَجٍ فيما فَرَضَ اللَّهُ لَهُ ۖ سُنَّةَ اللَّهِ فِى الَّذينَ خَلَوا مِن قَبلُ ۚ وَكانَ أَمرُ اللَّهِ قَدَرًا مَقدورًا(38)
اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس کام (کی انجام دہی) میں کوئی حرج نہیں ہے جو اللہ نے ان کے لئے فرض فرما دیا ہے، اللہ کا یہی طریقہ و دستور اُن لوگوں میں (بھی رہا) ہے جو پہلے گزر چکے، اور اللہ کا حکم فیصلہ ہے جو پورا ہوچکا،(38)
الَّذينَ يُبَلِّغونَ رِسٰلٰتِ اللَّهِ وَيَخشَونَهُ وَلا يَخشَونَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ ۗ وَكَفىٰ بِاللَّهِ حَسيبًا(39)
وہ (پہلے) لوگ اللہ کے پیغامات پہنچاتے تھے اور اس کا خوف رکھتے تھے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے، اور اللہ حساب لینے والا کافی ہے،(39)
ما كانَ مُحَمَّدٌ أَبا أَحَدٍ مِن رِجالِكُم وَلٰكِن رَسولَ اللَّهِ وَخاتَمَ النَّبِيّۦنَ ۗ وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمًا(40)
محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے،(40)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اذكُرُوا اللَّهَ ذِكرًا كَثيرًا(41)
اے ایمان والو! تم اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کرو،(41)
وَسَبِّحوهُ بُكرَةً وَأَصيلًا(42)
اور صبح و شام اس کی تسبیح کیا کرو،(42)
هُوَ الَّذى يُصَلّى عَلَيكُم وَمَلٰئِكَتُهُ لِيُخرِجَكُم مِنَ الظُّلُمٰتِ إِلَى النّورِ ۚ وَكانَ بِالمُؤمِنينَ رَحيمًا(43)
وہی ہے جو تم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی، تاکہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے اور وہ مومنوں پر بڑی مہربانی فرمانے والا ہے،(43)
تَحِيَّتُهُم يَومَ يَلقَونَهُ سَلٰمٌ ۚ وَأَعَدَّ لَهُم أَجرًا كَريمًا(44)
جس دن وہ (مومِن) اس سے ملاقات کریں گے تو ان (کی ملاقات) کا تحفہ سلام ہوگا، اور اس نے ان کے لئے بڑی عظمت والا اجر تیار کر رکھا ہے،(44)
يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ إِنّا أَرسَلنٰكَ شٰهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذيرًا(45)
اے نبیِ (مکرّم!) بیشک ہم نے آپ کو (حق اور خَلق کا) مشاہدہ کرنے والا اور (حُسنِ آخرت کی) خوشخبری دینے والا اور (عذابِ آخرت کا) ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے،(45)
وَداعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذنِهِ وَسِراجًا مُنيرًا(46)
اور اس کے اِذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور منوّر کرنے والا آفتاب (بنا کر بھیجا ہے)،(46)
وَبَشِّرِ المُؤمِنينَ بِأَنَّ لَهُم مِنَ اللَّهِ فَضلًا كَبيرًا(47)
اور اہلِ ایمان کو اس بات کی بشارت دے دیں کہ ان کے لئے اللہ کا بڑا فضل ہے (کہ وہ اس خاتم الانبیاء کی نسبتِ غلامی میں ہیں)،(47)
وَلا تُطِعِ الكٰفِرينَ وَالمُنٰفِقينَ وَدَع أَذىٰهُم وَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ وَكيلًا(48)
اور آپ کافروں اور منافقوں کا (یہ) کہنا (کہ ہمارے ساتھ مذہبی سمجھوتہ کر لیں ہرگز) نہ مانیں اور اُن کی ایذاء رسانی سے درگزر فرمائیں، اور اﷲ پر بھروسہ (جاری) رکھیں، اور اﷲ ہی (حق و باطل کی معرکہ آرائی میں) کافی کارساز ہے،(48)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا نَكَحتُمُ المُؤمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقتُموهُنَّ مِن قَبلِ أَن تَمَسّوهُنَّ فَما لَكُم عَلَيهِنَّ مِن عِدَّةٍ تَعتَدّونَها ۖ فَمَتِّعوهُنَّ وَسَرِّحوهُنَّ سَراحًا جَميلًا(49)
اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر تم انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ تم انہیں مَس کرو (یعنی خلوتِ صحیحہ کرو) تو تمہارے لئے ان پر کوئی عدّت (واجب) نہیں ہے کہ تم اسے شمار کرنے لگو، پس انہیں کچھ مال و متاع دو اور انہیں اچھی طرح حُسنِ سلوک کے ساتھ رخصت کرو،(49)
يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ إِنّا أَحلَلنا لَكَ أَزوٰجَكَ الّٰتى ءاتَيتَ أُجورَهُنَّ وَما مَلَكَت يَمينُكَ مِمّا أَفاءَ اللَّهُ عَلَيكَ وَبَناتِ عَمِّكَ وَبَناتِ عَمّٰتِكَ وَبَناتِ خالِكَ وَبَناتِ خٰلٰتِكَ الّٰتى هاجَرنَ مَعَكَ وَامرَأَةً مُؤمِنَةً إِن وَهَبَت نَفسَها لِلنَّبِىِّ إِن أَرادَ النَّبِىُّ أَن يَستَنكِحَها خالِصَةً لَكَ مِن دونِ المُؤمِنينَ ۗ قَد عَلِمنا ما فَرَضنا عَلَيهِم فى أَزوٰجِهِم وَما مَلَكَت أَيمٰنُهُم لِكَيلا يَكونَ عَلَيكَ حَرَجٌ ۗ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا(50)
اے نبی! بیشک ہم نے آپ کے لئے آپ کی وہ بیویاں حلال فرما دی ہیں جن کا مہَر آپ نے ادا فرما دیا ہے اور جو (احکامِ الٰہی کے مطابق) آپ کی مملوک ہیں، جو اللہ نے آپ کو مالِ غنیمت میں عطا فرمائی ہیں، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں، اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں، اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں، اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں، جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور کوئی بھی مؤمنہ عورت بشرطیکہ وہ اپنے آپ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح) کے لئے دے دے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی) اسے اپنے نکاح میں لینے کا ارادہ فرمائیں (تو یہ سب آپ کے لئے حلال ہیں)، (یہ حکم) صرف آپ کے لئے خاص ہے (امّت کے) مومنوں کے لئے نہیں، واقعی ہمیں معلوم ہے جو کچھ ہم نے اُن (مسلمانوں) پر اُن کی بیویوں اور ان کی مملوکہ باندیوں کے بارے میں فرض کیا ہے، (مگر آپ کے حق میں تعدّدِ ازواج کی حِلّت کا خصوصی حکم اِس لئے ہے) تاکہ آپ پر (امتّ میں تعلیم و تربیتِ نسواں کے وسیع انتظام میں) کوئی تنگی نہ رہے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے،(50)
۞ تُرجى مَن تَشاءُ مِنهُنَّ وَتُـٔوى إِلَيكَ مَن تَشاءُ ۖ وَمَنِ ابتَغَيتَ مِمَّن عَزَلتَ فَلا جُناحَ عَلَيكَ ۚ ذٰلِكَ أَدنىٰ أَن تَقَرَّ أَعيُنُهُنَّ وَلا يَحزَنَّ وَيَرضَينَ بِما ءاتَيتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۚ وَاللَّهُ يَعلَمُ ما فى قُلوبِكُم ۚ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَليمًا(51)
(اے حبیب! آپ کو اختیار ہے) ان میں سے جِس (زوجہ) کو چاہیں (باری میں) مؤخّر رکھیں اور جسے چاہیں اپنے پاس (پہلے) جگہ دیں، اور جن سے آپ نے (عارضی) کنارہ کشی اختیار فرما رکھی تھی آپ انہیں (اپنی قربت کے لئے) طلب فرما لیں تو آپ پر کچھ مضائقہ نہیں، یہ اس کے قریب تر ہے کہ ان کی آنکھیں (آپ کے دیدار سے) ٹھنڈی ہوں گی اور وہ غمگین نہیں رہیں گی اور وہ سب اس سے راضی رہیں گی جو کچھ آپ نے انہیں عطا فرما دیا ہے، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑا حِلم والا ہے،(51)
لا يَحِلُّ لَكَ النِّساءُ مِن بَعدُ وَلا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِن أَزوٰجٍ وَلَو أَعجَبَكَ حُسنُهُنَّ إِلّا ما مَلَكَت يَمينُكَ ۗ وَكانَ اللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ رَقيبًا(52)
اس کے بعد (کہ انہوں نے دنیوی منفعتوں پر آپ کی رضا و خدمت کو ترجیح دے دی ہے) آپ کے لئے بھی اور عورتیں (نکاح میں لینا) حلال نہیں (تاکہ یہی اَزواج اپنے شرف میں ممتاز رہیں) اور یہ بھی جائز نہیں کہ (بعض کی طلاق کی صورت میں اس عدد کو ہمارا حکم سمجھ کر برقرار رکھنے کے لئے) آپ ان کے بدلے دیگر اَزواج (عقد میں) لے لیں اگرچہ آپ کو ان کا حُسنِ (سیرت و اخلاق اور اشاعتِ دین کا سلیقہ) کتنا ہی عمدہ لگے مگر جو کنیز (ہمارے حکم سے) آپ کی مِلک میں ہو (جائز ہے)، اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے،(52)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَدخُلوا بُيوتَ النَّبِىِّ إِلّا أَن يُؤذَنَ لَكُم إِلىٰ طَعامٍ غَيرَ نٰظِرينَ إِنىٰهُ وَلٰكِن إِذا دُعيتُم فَادخُلوا فَإِذا طَعِمتُم فَانتَشِروا وَلا مُستَـٔنِسينَ لِحَديثٍ ۚ إِنَّ ذٰلِكُم كانَ يُؤذِى النَّبِىَّ فَيَستَحيۦ مِنكُم ۖ وَاللَّهُ لا يَستَحيۦ مِنَ الحَقِّ ۚ وَإِذا سَأَلتُموهُنَّ مَتٰعًا فَسـَٔلوهُنَّ مِن وَراءِ حِجابٍ ۚ ذٰلِكُم أَطهَرُ لِقُلوبِكُم وَقُلوبِهِنَّ ۚ وَما كانَ لَكُم أَن تُؤذوا رَسولَ اللَّهِ وَلا أَن تَنكِحوا أَزوٰجَهُ مِن بَعدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذٰلِكُم كانَ عِندَ اللَّهِ عَظيمًا(53)
اے ایمان والو! نبیِ (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کے لئے اجازت دی جائے (پھر وقت سے پہلے پہنچ کر) کھانا پکنے کا انتظار کرنے والے نہ بنا کرو، ہاں جب تم بلائے جاؤ تو (اس وقت) اندر آیا کرو پھر جب کھانا کھا چکو تو (وہاں سے اُٹھ کر) فوراً منتشر ہوجایا کرو اور وہاں باتوں میں دل لگا کر بیٹھے رہنے والے نہ بنو۔ یقیناً تمہارا ایسے (دیر تک بیٹھے) رہنا نبیِ (اکرم) کو تکلیف دیتا ہے اور وہ تم سے (اُٹھ جانے کا کہتے ہوئے) شرماتے ہیں اور اللہ حق (بات کہنے) سے نہیں شرماتا، اور جب تم اُن (اَزواجِ مطّہرات) سے کوئی سامان مانگو تو اُن سے پسِ پردہ پوچھا کرو، یہ (ادب) تمہارے دلوں کے لئے اور ان کے دلوں کے لئے بڑی طہارت کا سبب ہے، اور تمہارے لئے (ہرگز جائز) نہیں کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ (جائز) ہے کہ تم اُن کے بعد ابَد تک اُن کی اَزواجِ (مطّہرات) سے نکاح کرو، بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا (گناہ) ہے،(53)
إِن تُبدوا شَيـًٔا أَو تُخفوهُ فَإِنَّ اللَّهَ كانَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمًا(54)
خواہ تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے،(54)
لا جُناحَ عَلَيهِنَّ فى ءابائِهِنَّ وَلا أَبنائِهِنَّ وَلا إِخوٰنِهِنَّ وَلا أَبناءِ إِخوٰنِهِنَّ وَلا أَبناءِ أَخَوٰتِهِنَّ وَلا نِسائِهِنَّ وَلا ما مَلَكَت أَيمٰنُهُنَّ ۗ وَاتَّقينَ اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ شَهيدًا(55)
ان پر (پردہ نہ کرنے میں) کوئی گناہ نہیں اپنے (حقیقی) آباء سے، اور نہ اپنے بیٹوں سے اور نہ اپنے بھائیوں سے، اور نہ اپنے بھتیجوں سے اور نہ اپنے بھانجوں سے اور نہ اپنی (مسلِم) عورتوں اور نہ اپنی مملوک باندیوں سے، تم اللہ کا تقوٰی (برقرار) رکھو، بیشک اللہ ہر چیز پر گواہ و نگہبان ہے،(55)
إِنَّ اللَّهَ وَمَلٰئِكَتَهُ يُصَلّونَ عَلَى النَّبِىِّ ۚ يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا صَلّوا عَلَيهِ وَسَلِّموا تَسليمًا(56)
بیشک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو،(56)
إِنَّ الَّذينَ يُؤذونَ اللَّهَ وَرَسولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُم عَذابًا مُهينًا(57)
بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت دیتے ہیں اللہ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت بھیجتا ہے اور اُس نے ان کے لئے ذِلّت انگیز عذاب تیار کر رکھا ہے،(57)
وَالَّذينَ يُؤذونَ المُؤمِنينَ وَالمُؤمِنٰتِ بِغَيرِ مَا اكتَسَبوا فَقَدِ احتَمَلوا بُهتٰنًا وَإِثمًا مُبينًا(58)
اور جو لوگ مومِن مَردوں اور مومِن عورتوں کو اذیتّ دیتے ہیں بغیر اِس کے کہ انہوں نے کچھ (خطا) کی ہو تو بیشک انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ (اپنے سَر) لے لیا،(58)
يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ قُل لِأَزوٰجِكَ وَبَناتِكَ وَنِساءِ المُؤمِنينَ يُدنينَ عَلَيهِنَّ مِن جَلٰبيبِهِنَّ ۚ ذٰلِكَ أَدنىٰ أَن يُعرَفنَ فَلا يُؤذَينَ ۗ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا(59)
اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے،(59)
۞ لَئِن لَم يَنتَهِ المُنٰفِقونَ وَالَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ وَالمُرجِفونَ فِى المَدينَةِ لَنُغرِيَنَّكَ بِهِم ثُمَّ لا يُجاوِرونَكَ فيها إِلّا قَليلًا(60)
اگر منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بُغض اور گستاخی کی) بیماری ہے، اور (اسی طرح) مدینہ میں جھوٹی افواہیں پھیلانے والے لوگ (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذاء رسانی سے) باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان پر ضرور مسلّط کر دیں گے پھر وہ مدینہ میں آپ کے پڑوس میں نہ ٹھہر سکیں گے مگر تھوڑے (دن)،(60)
مَلعونينَ ۖ أَينَما ثُقِفوا أُخِذوا وَقُتِّلوا تَقتيلًا(61)
(یہ) لعنت کئے ہوئے لوگ جہاں کہیں پائے جائیں، پکڑ لئے جائیں اور چُن چُن کر بری طرح قتل کر دیئے جائیں،(61)
سُنَّةَ اللَّهِ فِى الَّذينَ خَلَوا مِن قَبلُ ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبديلًا(62)
اللہ کی (یہی) سنّت اُن لوگوں میں (بھی جاری رہی) ہے جو پہلے گزر چکے ہیں، اور آپ اللہ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پائیں گے،(62)
يَسـَٔلُكَ النّاسُ عَنِ السّاعَةِ ۖ قُل إِنَّما عِلمُها عِندَ اللَّهِ ۚ وَما يُدريكَ لَعَلَّ السّاعَةَ تَكونُ قَريبًا(63)
لوگ آپ سے قیامت کے (وقت کے) بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ فرما دیجئے: اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور آپ کو کس نے آگاہ کیا شاید قیامت قریب ہی آچکی ہو،(63)
إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الكٰفِرينَ وَأَعَدَّ لَهُم سَعيرًا(64)
بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت فرمائی ہے اور اُن کے لِئے (دوزخ کی) بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے،(64)
خٰلِدينَ فيها أَبَدًا ۖ لا يَجِدونَ وَلِيًّا وَلا نَصيرًا(65)
جِس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ نہ وہ کوئی حمایتی پائیں گے اور نہ مددگار،(65)
يَومَ تُقَلَّبُ وُجوهُهُم فِى النّارِ يَقولونَ يٰلَيتَنا أَطَعنَا اللَّهَ وَأَطَعنَا الرَّسولا۠(66)
جِس دن ان کے مُنہ آتشِ دوزخ میں (بار بار) الٹائے جائیں گے (تو) وہ کہیں گے: اے کاش! ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور ہم نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی ہوتی،(66)
وَقالوا رَبَّنا إِنّا أَطَعنا سادَتَنا وَكُبَراءَنا فَأَضَلّونَا السَّبيلا۠(67)
اور وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! بیشک ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہا مانا تھا تو انہوں نے ہمیں (سیدھی) راہ سے بہکا دیا،(67)
رَبَّنا ءاتِهِم ضِعفَينِ مِنَ العَذابِ وَالعَنهُم لَعنًا كَبيرًا(68)
اے ہمارے رب! انہیں دوگنا عذاب دے اور اُن پر بہت بڑی لعنت کر،(68)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَكونوا كَالَّذينَ ءاذَوا موسىٰ فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمّا قالوا ۚ وَكانَ عِندَ اللَّهِ وَجيهًا(69)
اے ایمان والو! تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے موسٰی (علیہ السلام) کو (گستاخانہ کلمات کے ذریعے) اذیت پہنچائی، پس اللہ نے انہیں اُن باتوں سے بے عیب ثابت کردیا جو وہ کہتے تھے، اور وہ (موسٰی علیہ السلام) اللہ کے ہاں بڑی قدر و منزلت والے تھے،(69)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقولوا قَولًا سَديدًا(70)
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرا کرو اور صحیح اور سیدھی بات کہا کرو،(70)
يُصلِح لَكُم أَعمٰلَكُم وَيَغفِر لَكُم ذُنوبَكُم ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسولَهُ فَقَد فازَ فَوزًا عَظيمًا(71)
وہ تمہارے لئے تمہارے (سارے) اعمال درست فرما دے گا اور تمہارے گناہ تمہارے لئے بخش دے گا، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتا ہے تو بیشک وہ بڑی کامیابی سے سرفراز ہوا،(71)
إِنّا عَرَضنَا الأَمانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَالجِبالِ فَأَبَينَ أَن يَحمِلنَها وَأَشفَقنَ مِنها وَحَمَلَهَا الإِنسٰنُ ۖ إِنَّهُ كانَ ظَلومًا جَهولًا(72)
بیشک ہم نے (اِطاعت کی) امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو انہوں نے اس (بوجھ) کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بیشک وہ (اپنی جان پر) بڑی زیادتی کرنے والا (ادائیگئ امانت میں کوتاہی کے انجام سے) بڑا بے خبر و نادان ہے،(72)
لِيُعَذِّبَ اللَّهُ المُنٰفِقينَ وَالمُنٰفِقٰتِ وَالمُشرِكينَ وَالمُشرِكٰتِ وَيَتوبَ اللَّهُ عَلَى المُؤمِنينَ وَالمُؤمِنٰتِ ۗ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا(73)
(یہ) اس لئے کہ اللہ منافق مَردوں اورمنافق عورتوں اور مشرِک مَردوں اور مشرِک عورتوں کو عذاب دے اور اللہ مومِن مَردوں اور مومِن عورتوں کی توبہ قبول فرمائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے،(73)