Al-Ahqaf( الأحقاف)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ حم(1)
حا، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،(1)
تَنزيلُ الكِتٰبِ مِنَ اللَّهِ العَزيزِ الحَكيمِ(2)
اس کتاب کا نازل کیا جانا اللہ کی جانب سے ہے جو غالب حکمت والا ہے،(2)
ما خَلَقنَا السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما إِلّا بِالحَقِّ وَأَجَلٍ مُسَمًّى ۚ وَالَّذينَ كَفَروا عَمّا أُنذِروا مُعرِضونَ(3)
اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس (مخلوقات) کو جو ان کے درمیان ہے پیدا نہیں کیا مگر حکمت اور مقررہ مدّت (کے تعیّن) کے ساتھ، اور جنہوں نے کفر کیا ہے انہیں جس چیز سے ڈرایا گیا اسی سے رُوگردانی کرنے والے ہیں،(3)
قُل أَرَءَيتُم ما تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ أَرونى ماذا خَلَقوا مِنَ الأَرضِ أَم لَهُم شِركٌ فِى السَّمٰوٰتِ ۖ ائتونى بِكِتٰبٍ مِن قَبلِ هٰذا أَو أَثٰرَةٍ مِن عِلمٍ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(4)
آپ فرما دیں کہ مجھے بتاؤ تو کہ جن (بتوں) کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کیا چیز تخلیق کی ہے یا (یہ دکھا دو کہ) آسمانوں (کی تخلیق) میں ان کی کوئی شراکت ہے۔ تم میرے پاس اس (قرآن) سے پہلے کی کوئی کتاب یا (اگلوں کے) علم کا کوئی بقیہ حصہ (جو منقول چلا آرہا ہو ثبوت کے طور پر) پیش کرو اگر تم سچے ہو،(4)
وَمَن أَضَلُّ مِمَّن يَدعوا مِن دونِ اللَّهِ مَن لا يَستَجيبُ لَهُ إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ وَهُم عَن دُعائِهِم غٰفِلونَ(5)
اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسے (بتوں) کی عبادت کرتا ہے جو قیامت کے دن تک اسے (سوال کا) جواب نہ دے سکیں اور وہ (بت) ان کی دعاء و عبادت سے (ہی) بے خبر ہیں،(5)
وَإِذا حُشِرَ النّاسُ كانوا لَهُم أَعداءً وَكانوا بِعِبادَتِهِم كٰفِرينَ(6)
اور جب لوگ (قیامت کے دن) جمع کئے جائیں گے تو وہ (معبودانِ باطلہ) ان کے دشمن ہوں گے اور (اپنی برات کی خاطر) ان کی عبادت سے ہی منکر ہو جائیں گے،(6)
وَإِذا تُتلىٰ عَلَيهِم ءايٰتُنا بَيِّنٰتٍ قالَ الَّذينَ كَفَروا لِلحَقِّ لَمّا جاءَهُم هٰذا سِحرٌ مُبينٌ(7)
اور جب ان پر ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں (تو) جو لوگ کفر کر رہے ہیں حق (یعنی قرآن) کے بارے میں، جبکہ وہ ان کے پاس آچکا، کہتے ہیں: یہ کھلا جادو ہے،(7)
أَم يَقولونَ افتَرىٰهُ ۖ قُل إِنِ افتَرَيتُهُ فَلا تَملِكونَ لى مِنَ اللَّهِ شَيـًٔا ۖ هُوَ أَعلَمُ بِما تُفيضونَ فيهِ ۖ كَفىٰ بِهِ شَهيدًا بَينى وَبَينَكُم ۖ وَهُوَ الغَفورُ الرَّحيمُ(8)
کیا وہ لوگ (یہ) کہتے ہیں کہ اس (قرآن) کو (پیغمبر نے) گھڑ لیا ہے۔ آپ فرما دیں: اگر اسے میں نے گھڑا ہے تو تم مجھے اللہ (کے عذاب) سے (بچانے کا) کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے، اور وہ ان (باتوں) کو خوب جانتا ہے جو تم اس (قرآن) کے بارے میں طعنہ زنی کے طور پر کر رہے ہو۔ وہی (اللہ) میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے، اور وہ بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے،(8)
قُل ما كُنتُ بِدعًا مِنَ الرُّسُلِ وَما أَدرى ما يُفعَلُ بى وَلا بِكُم ۖ إِن أَتَّبِعُ إِلّا ما يوحىٰ إِلَىَّ وَما أَنا۠ إِلّا نَذيرٌ مُبينٌ(9)
آپ فرما دیں کہ میں (انسانوں کی طرف) کوئی پہلا رسول نہیں آیا (کہ مجھ سے قبل رسالت کی کوئی مثال ہی نہ ہو) اور میں اَزخود (یعنی محض اپنی عقل و درایت سے) نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور نہ وہ جو تمہارے ساتھ کیا جائے گا، (میرا علم تو یہ ہے کہ) میں صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے (وہی مجھے ہر شے کا علم عطا کرتی ہے) اور میں تو صرف (اس علم بالوحی کی بنا پر) واضح ڈر سنانے والا ہوں،(9)
قُل أَرَءَيتُم إِن كانَ مِن عِندِ اللَّهِ وَكَفَرتُم بِهِ وَشَهِدَ شاهِدٌ مِن بَنى إِسرٰءيلَ عَلىٰ مِثلِهِ فَـٔامَنَ وَاستَكبَرتُم ۖ إِنَّ اللَّهَ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ(10)
فرما دیجئے: ذرا بتاؤ تو اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کر دیا ہو اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ (بھی پہلی آسمانی کتابوں سے) اس جیسی کتاب (کے اترنے کے ذکر) پر گواہی دے پھر وہ (اس پر) ایمان (بھی) لایا ہو اور تم (اس کے باوجود) غرور کرتے رہے (تو تمہارا انجام کیا ہوگا؟)، بیشک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا،(10)
وَقالَ الَّذينَ كَفَروا لِلَّذينَ ءامَنوا لَو كانَ خَيرًا ما سَبَقونا إِلَيهِ ۚ وَإِذ لَم يَهتَدوا بِهِ فَسَيَقولونَ هٰذا إِفكٌ قَديمٌ(11)
اور کافروں نے مومنوں سے کہا: اگر یہ (دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہلے نہ بڑھتے (ہم خود ہی سب سے پہلے اسے قبول کر لیتے)، اور جب ان (کفار) نے (خود) اس سے ہدایت نہ پائی تو اب کہتے ہیں کہ یہ تو پرانا جھوٹ (اور بہتان) ہے،(11)
وَمِن قَبلِهِ كِتٰبُ موسىٰ إِمامًا وَرَحمَةً ۚ وَهٰذا كِتٰبٌ مُصَدِّقٌ لِسانًا عَرَبِيًّا لِيُنذِرَ الَّذينَ ظَلَموا وَبُشرىٰ لِلمُحسِنينَ(12)
اور اس سے پہلے موسٰی (علیہ السلام) کی کتاب (تورات) پیشوا اور رحمت تھی، اور یہ کتاب (اس کی) تصدیق کرنے والی ہے، عربی زبان میں ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جنہوں نے ظلم کیا ہے اور نیکوکاروں کے لئے خوشخبری ہو،(12)
إِنَّ الَّذينَ قالوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ استَقٰموا فَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ(13)
بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر انہوں نے استقامت اختیار کی تو ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے،(13)
أُولٰئِكَ أَصحٰبُ الجَنَّةِ خٰلِدينَ فيها جَزاءً بِما كانوا يَعمَلونَ(14)
یہی لوگ اہلِ جنت ہیں جو اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ یہ ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے،(14)
وَوَصَّينَا الإِنسٰنَ بِوٰلِدَيهِ إِحسٰنًا ۖ حَمَلَتهُ أُمُّهُ كُرهًا وَوَضَعَتهُ كُرهًا ۖ وَحَملُهُ وَفِصٰلُهُ ثَلٰثونَ شَهرًا ۚ حَتّىٰ إِذا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَربَعينَ سَنَةً قالَ رَبِّ أَوزِعنى أَن أَشكُرَ نِعمَتَكَ الَّتى أَنعَمتَ عَلَىَّ وَعَلىٰ وٰلِدَىَّ وَأَن أَعمَلَ صٰلِحًا تَرضىٰهُ وَأَصلِح لى فى ذُرِّيَّتى ۖ إِنّى تُبتُ إِلَيكَ وَإِنّى مِنَ المُسلِمينَ(15)
اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کاحکم فرمایا۔ اس کی ماں نے اس کو تکلیف سے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا اور اسے تکلیف کے ساتھ جنا، اور اس کا (پیٹ میں) اٹھانا اور اس کا دودھ چھڑانا (یعنی زمانۂ حمل و رضاعت) تیس ماہ (پر مشتمل) ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جاتا ہے اور (پھر) چالیس سال (کی پختہ عمر) کو پہنچتا ہے، تو کہتا ہے: اے میرے رب: مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمایا ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک اعمال کروں جن سے تو راضی ہو اور میرے لئے میری اولاد میں نیکی اور خیر رکھ دے۔ بیشک میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں یقیناً فرمانبرداروں میں سے ہوں،(15)
أُولٰئِكَ الَّذينَ نَتَقَبَّلُ عَنهُم أَحسَنَ ما عَمِلوا وَنَتَجاوَزُ عَن سَيِّـٔاتِهِم فى أَصحٰبِ الجَنَّةِ ۖ وَعدَ الصِّدقِ الَّذى كانوا يوعَدونَ(16)
یہی وہ لوگ ہیں ہم جن کے نیک اعمال قبول کرتے ہیں اوران کی کوتاہیوں سے درگزر فرماتے ہیں، (یہی) اہلِ جنت ہیں۔ یہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جا رہا ہے،(16)
وَالَّذى قالَ لِوٰلِدَيهِ أُفٍّ لَكُما أَتَعِدانِنى أَن أُخرَجَ وَقَد خَلَتِ القُرونُ مِن قَبلى وَهُما يَستَغيثانِ اللَّهَ وَيلَكَ ءامِن إِنَّ وَعدَ اللَّهِ حَقٌّ فَيَقولُ ما هٰذا إِلّا أَسٰطيرُ الأَوَّلينَ(17)
اور جس نے اپنے والدین سے کہا: تم سے بیزاری ہے، تم مجھے (یہ) وعدہ دیتے ہو کہ میں (قبر سے دوبارہ زندہ کر کے) نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکیں۔ اب وہ دونوں (ماں باپ) اللہ سے فریاد کرنے لگے (اور لڑکے سے کہا:) تو ہلاک ہوگا۔ (اے لڑکے!) ایمان لے آ، بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے۔ تو وہ (جواب میں) کہتا ہے: یہ (باتیں) اگلے لوگوں کے جھوٹے افسانوں کے سوا (کچھ) نہیں ہیں،(17)
أُولٰئِكَ الَّذينَ حَقَّ عَلَيهِمُ القَولُ فى أُمَمٍ قَد خَلَت مِن قَبلِهِم مِنَ الجِنِّ وَالإِنسِ ۖ إِنَّهُم كانوا خٰسِرينَ(18)
یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں فرمانِ (عذاب) ثابت ہو چکا ہے بہت سی امتوں میں جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں جنّات کی (بھی) اور انسانوں کی (بھی)، بیشک وہ (سب) نقصان اٹھانے والے تھے،(18)
وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِمّا عَمِلوا ۖ وَلِيُوَفِّيَهُم أَعمٰلَهُم وَهُم لا يُظلَمونَ(19)
اور سب کے لئے ان (نیک و بد) اعمال کی وجہ سے جو انہوں نے کئے (جنت و دوزخ میں الگ الگ) درجات مقرر ہیں تاکہ (اﷲ) ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا،(19)
وَيَومَ يُعرَضُ الَّذينَ كَفَروا عَلَى النّارِ أَذهَبتُم طَيِّبٰتِكُم فى حَياتِكُمُ الدُّنيا وَاستَمتَعتُم بِها فَاليَومَ تُجزَونَ عَذابَ الهونِ بِما كُنتُم تَستَكبِرونَ فِى الأَرضِ بِغَيرِ الحَقِّ وَبِما كُنتُم تَفسُقونَ(20)
اور جس دن کافر لوگ آتشِ دوزخ کے سامنے پیش کئے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا:) تم اپنی لذیذ و مرغوب چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں ہی حاصل کر چکے اور ان سے (خوب) نفع اندوز بھی ہو چکے۔ پس آج کے دن تمہیں ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اس وجہ سے کہ تم زمین میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اس وجہ سے (بھی) کہ تم نافرمانی کیا کرتے تھے،(20)
۞ وَاذكُر أَخا عادٍ إِذ أَنذَرَ قَومَهُ بِالأَحقافِ وَقَد خَلَتِ النُّذُرُ مِن بَينِ يَدَيهِ وَمِن خَلفِهِ أَلّا تَعبُدوا إِلَّا اللَّهَ إِنّى أَخافُ عَلَيكُم عَذابَ يَومٍ عَظيمٍ(21)
اور (اے حبیب!) آپ قومِ عاد کے بھائی (ہود علیہ السلام) کا ذکر کیجئے، جب انہوں نے (عُمان اور مَہرہ کے درمیان یمن کی ایک وادی) اَحقاف میں اپنی قوم کو (اَعمالِ بد کے نتائج سے) ڈرایا حالانکہ اس سے پہلے اور اس کے بعد (بھی کئی) ڈرانے والے (پیغمبر) گزر چکے تھے کہ تم اﷲ کے سوا کسی اور کی پرستش نہ کرنا، مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم پر بڑے (ہولناک) دن کا عذاب (نہ) آجائے،(21)
قالوا أَجِئتَنا لِتَأفِكَنا عَن ءالِهَتِنا فَأتِنا بِما تَعِدُنا إِن كُنتَ مِنَ الصّٰدِقينَ(22)
وہ کہنے لگے کہ کیا آپ ہمارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دیں، پس وہ (عذاب) لے آئیں جس سے ہمیں ڈرا رہے ہیں اگر آپ سچوں میں سے ہیں،(22)
قالَ إِنَّمَا العِلمُ عِندَ اللَّهِ وَأُبَلِّغُكُم ما أُرسِلتُ بِهِ وَلٰكِنّى أَرىٰكُم قَومًا تَجهَلونَ(23)
انہوں نے کہا کہ (اس عذاب کے وقت کا) علم تو اﷲ ہی کے پاس ہے اور میں تمہیں وہی احکام پہنچا رہا ہوں جو میں دے کر بھیجا گیا ہوں لیکن میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم جاہل لوگ ہو،(23)
فَلَمّا رَأَوهُ عارِضًا مُستَقبِلَ أَودِيَتِهِم قالوا هٰذا عارِضٌ مُمطِرُنا ۚ بَل هُوَ مَا استَعجَلتُم بِهِ ۖ ريحٌ فيها عَذابٌ أَليمٌ(24)
پھر جب انہوں نے اس (عذاب) کو بادل کی طرح اپنی وادیوں کے سامنے آتا ہوا دیکھا تو کہنے لگے: یہ (تو) بادل ہے جو ہم پر برسنے والا ہے، (ایسا نہیں) وہ (بادل) تو وہ (عذاب) ہے جس کی تم نے جلدی مچا رکھی تھی۔ (یہ) آندھی ہے جس میں دردناک عذاب (آرہا) ہے،(24)
تُدَمِّرُ كُلَّ شَيءٍ بِأَمرِ رَبِّها فَأَصبَحوا لا يُرىٰ إِلّا مَسٰكِنُهُم ۚ كَذٰلِكَ نَجزِى القَومَ المُجرِمينَ(25)
(جو) اپنے پروردگار کے حکم سے ہر شے کو تباہ و برباد کر دے گی پس وہ ایسے (تباہ) ہو گئے کہ ان کے (مِسمار) گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا۔ ہم مجرم لوگوں کو اِس طرح سزا دیا کرتے ہیں،(25)
وَلَقَد مَكَّنّٰهُم فيما إِن مَكَّنّٰكُم فيهِ وَجَعَلنا لَهُم سَمعًا وَأَبصٰرًا وَأَفـِٔدَةً فَما أَغنىٰ عَنهُم سَمعُهُم وَلا أَبصٰرُهُم وَلا أَفـِٔدَتُهُم مِن شَيءٍ إِذ كانوا يَجحَدونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَحاقَ بِهِم ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(26)
(اے اہلِ مکہّ!) درحقیقت ہم نے ان کو ان امور میں طاقت و قدرت دے رکھی تھی جن میں ہم نے تم کو قدرت نہیں دی اور ہم نے انہیں سماعت اور بصارت اور دل و دماغ (کی بے بہا صلاحیتوں) سے نوازا تھا مگر نہ تو ان کے کان ہی ان کے کچھ کام آسکے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ (ہی) ان کے دل و دماغ جبکہ وہ اﷲ کی نشانیوں کا انکار ہی کرتے رہے اور (بالآخر) اس (عذاب) نے انہیں آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،(26)
وَلَقَد أَهلَكنا ما حَولَكُم مِنَ القُرىٰ وَصَرَّفنَا الءايٰتِ لَعَلَّهُم يَرجِعونَ(27)
اور (اے اہلِ مکہّ!) بیشک ہم نے کتنی ہی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو تمہارے اردگرد تھیں اور ہم نے اپنی نشانیاں بار بار ظاہر کیں تاکہ وہ (کفر سے) رجوع کر لیں،(27)
فَلَولا نَصَرَهُمُ الَّذينَ اتَّخَذوا مِن دونِ اللَّهِ قُربانًا ءالِهَةً ۖ بَل ضَلّوا عَنهُم ۚ وَذٰلِكَ إِفكُهُم وَما كانوا يَفتَرونَ(28)
پھر ان (بتوں) نے ان کی مدد کیوں نہ کی جن کو انہوں نے تقرّبِ (الٰہی) کے لئے اﷲ کے سوا معبود بنا رکھا تھا، بلکہ وہ (معبودانِ باطلہ) ان سے گم ہو گئے، اور یہ (بتوں کو معبود بنانا) ان کا جھوٹ تھا اور یہی وہ بہتان (تھا) جو وہ باندھا کرتے تھے،(28)
وَإِذ صَرَفنا إِلَيكَ نَفَرًا مِنَ الجِنِّ يَستَمِعونَ القُرءانَ فَلَمّا حَضَروهُ قالوا أَنصِتوا ۖ فَلَمّا قُضِىَ وَلَّوا إِلىٰ قَومِهِم مُنذِرينَ(29)
اور (اے حبیب!) جب ہم نے جنّات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف متوجہ کیا جو قرآن غور سے سنتے تھے۔ پھر جب وہ وہاں (یعنی بارگاہِ نبوت میں) حاضر ہوئے تو انہوں نے (آپس میں) کہا: خاموش رہو، پھر جب (پڑھنا) ختم ہو گیا تو وہ اپنی قوم کی طرف ڈر سنانے والے (یعنی داعی الی الحق) بن کر واپس گئے،(29)
قالوا يٰقَومَنا إِنّا سَمِعنا كِتٰبًا أُنزِلَ مِن بَعدِ موسىٰ مُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَيهِ يَهدى إِلَى الحَقِّ وَإِلىٰ طَريقٍ مُستَقيمٍ(30)
انہوں نے کہا: اے ہماری قوم (یعنی اے قومِ جنّات)! بیشک ہم نے ایک (ایسی) کتاب سنی ہے جو موسٰی (علیہ السلام کی تورات) کے بعد اتاری گئی ہے (جو) اپنے سے پہلے (کی کتابوں) کی تصدیق کرنے والی ہے (وہ) سچّے (دین) اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتی ہے،(30)
يٰقَومَنا أَجيبوا داعِىَ اللَّهِ وَءامِنوا بِهِ يَغفِر لَكُم مِن ذُنوبِكُم وَيُجِركُم مِن عَذابٍ أَليمٍ(31)
اے ہماری قوم! تم اﷲ کی طرف بلانے والے (یعنی محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات قبول کر لو اور ان پر ایمان لے آؤ (تو) اﷲ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے پناہ دے گا،(31)
وَمَن لا يُجِب داعِىَ اللَّهِ فَلَيسَ بِمُعجِزٍ فِى الأَرضِ وَلَيسَ لَهُ مِن دونِهِ أَولِياءُ ۚ أُولٰئِكَ فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(32)
اور جو شخص اﷲ کی طرف بلانے والے (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات قبول نہیں کرے گا تو وہ زمین میں (بھاگ کر اﷲ کو) عاجز نہیں کر سکے گا اور نہ ہی اس کے لئے اﷲ کے سوا کوئی مددگار ہوں گے۔ یہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں،(32)
أَوَلَم يَرَوا أَنَّ اللَّهَ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَلَم يَعىَ بِخَلقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلىٰ أَن يُحۦِىَ المَوتىٰ ۚ بَلىٰ إِنَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(33)
کیا وہ نہیں جانتے کہ اﷲ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں اس بات پر (بھی) قادر ہے کہ وہ مُردوں کو (دوبارہ) زندہ فرما دے۔ کیوں نہیں! بیشک وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے،(33)
وَيَومَ يُعرَضُ الَّذينَ كَفَروا عَلَى النّارِ أَلَيسَ هٰذا بِالحَقِّ ۖ قالوا بَلىٰ وَرَبِّنا ۚ قالَ فَذوقُوا العَذابَ بِما كُنتُم تَكفُرونَ(34)
اور جس دن وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا آتشِ دوزخ کے سامنے پیش کئے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا:) کیا یہ (عذاب) برحق نہیں ہے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں! ہمارے رب کی قسم (برحق ہے)، ارشاد ہوگا: پھر عذاب کا مزہ چکھو جس کا تم انکار کیا کرتے تھے،(34)
فَاصبِر كَما صَبَرَ أُولُوا العَزمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلا تَستَعجِل لَهُم ۚ كَأَنَّهُم يَومَ يَرَونَ ما يوعَدونَ لَم يَلبَثوا إِلّا ساعَةً مِن نَهارٍ ۚ بَلٰغٌ ۚ فَهَل يُهلَكُ إِلَّا القَومُ الفٰسِقونَ(35)
(اے حبیب!) پس آپ صبر کئے جائیں جس طرح (دوسرے) عالی ہمّت پیغمبروں نے صبر کیا تھا اور آپ ان (منکروں) کے لئے (طلبِ عذاب میں) جلدی نہ فرمائیں، جس دن وہ اس (عذابِ آخرت) کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو (خیال کریں گے) گویا وہ (دنیا میں) دن کی ایک گھڑی کے سوا ٹھہرے ہی نہیں تھے، (یہ اﷲ کی طرف سے) پیغام کا پہنچایا جانا ہے، نافرمان قوم کے سوا دیگر لوگ ہلاک نہیں کئے جائیں گے،(35)