Ad-Dukhan( الدخان)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ حم(1)
حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،(1)
وَالكِتٰبِ المُبينِ(2)
اس روشن کتاب کی قسم،(2)
إِنّا أَنزَلنٰهُ فى لَيلَةٍ مُبٰرَكَةٍ ۚ إِنّا كُنّا مُنذِرينَ(3)
بیشک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں،(3)
فيها يُفرَقُ كُلُّ أَمرٍ حَكيمٍ(4)
اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے،(4)
أَمرًا مِن عِندِنا ۚ إِنّا كُنّا مُرسِلينَ(5)
ہماری بارگاہ کے حکم سے، بیشک ہم ہی بھیجنے والے ہیں،(5)
رَحمَةً مِن رَبِّكَ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّميعُ العَليمُ(6)
(یہ) آپ کے رب کی جانب سے رحمت ہے، بیشک وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے،(6)
رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُما ۖ إِن كُنتُم موقِنينَ(7)
آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ اِن کے درمیان ہے (اُس کا) پروردگار ہے، بشرطیکہ تم یقین رکھنے والے ہو،(7)
لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ يُحيۦ وَيُميتُ ۖ رَبُّكُم وَرَبُّ ءابائِكُمُ الأَوَّلينَ(8)
اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندگی دیتا اور موت دیتا ہے (وہ) تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے آباء و اجداد کا (بھی) رب ہے،(8)
بَل هُم فى شَكٍّ يَلعَبونَ(9)
بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں،(9)
فَارتَقِب يَومَ تَأتِى السَّماءُ بِدُخانٍ مُبينٍ(10)
سو آپ اُس دن کا انتظار کریں جب آسمان واضح دھواں ظاہر کر دے گا،(10)
يَغشَى النّاسَ ۖ هٰذا عَذابٌ أَليمٌ(11)
جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا (یعنی ہر طرف محیط ہو جائے گا)، یہ دردناک عذاب ہے،(11)
رَبَّنَا اكشِف عَنَّا العَذابَ إِنّا مُؤمِنونَ(12)
(اس وقت کہیں گے:) اے ہمارے رب! تو ہم سے (اس) عذاب کو دور کر دے، بیشک ہم ایمان لاتے ہیں،(12)
أَنّىٰ لَهُمُ الذِّكرىٰ وَقَد جاءَهُم رَسولٌ مُبينٌ(13)
اب اُن کا نصیحت ماننا کہاں (مفید) ہو سکتا ہے حالانکہ ان کے پاس واضح بیان فرمانے والے رسول آچکے،(13)
ثُمَّ تَوَلَّوا عَنهُ وَقالوا مُعَلَّمٌ مَجنونٌ(14)
پھر انہوں نے اس سے منہ پھیر لیا اور (گستاخی کرتے ہوئے) کہنے لگے: (وہ) سکھایا ہوا دیوانہ ہے،(14)
إِنّا كاشِفُوا العَذابِ قَليلًا ۚ إِنَّكُم عائِدونَ(15)
بیشک ہم تھوڑا سا عذاب دور کئے دیتے ہیں تم یقیناً (وہی کفر) دہرانے لگو گے،(15)
يَومَ نَبطِشُ البَطشَةَ الكُبرىٰ إِنّا مُنتَقِمونَ(16)
جس دن ہم بڑی سخت گرفت کریں گے تو (اس دن) ہم یقیناً انتقام لے ہی لیں گے،(16)
۞ وَلَقَد فَتَنّا قَبلَهُم قَومَ فِرعَونَ وَجاءَهُم رَسولٌ كَريمٌ(17)
اور در حقیقت ہم نے اِن سے پہلے قومِ فرعون کی (بھی) آزمائش کی تھی اور اُن کے پاس بزرگی والے رسول (موسٰی علیہ السلام) آئے تھے،(17)
أَن أَدّوا إِلَىَّ عِبادَ اللَّهِ ۖ إِنّى لَكُم رَسولٌ أَمينٌ(18)
(انہوں نے کہا تھا) کہ تم بندگانِ خدا (یعنی بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کر دو، بیشک میں تمہاری قیادت و رہبری کے لئے امانت دار رسول ہوں،(18)
وَأَن لا تَعلوا عَلَى اللَّهِ ۖ إِنّى ءاتيكُم بِسُلطٰنٍ مُبينٍ(19)
اور یہ کہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، میں تمہارے پاس روشن دلیل لے کر آیا ہوں،(19)
وَإِنّى عُذتُ بِرَبّى وَرَبِّكُم أَن تَرجُمونِ(20)
اور بیشک میں نے اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے اس سے کہ تم مجھے سنگ سار کرو،(20)
وَإِن لَم تُؤمِنوا لى فَاعتَزِلونِ(21)
اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے کنارہ کش ہو جاؤ،(21)
فَدَعا رَبَّهُ أَنَّ هٰؤُلاءِ قَومٌ مُجرِمونَ(22)
پھر انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ بیشک یہ لوگ مجرم قوم ہیں،(22)
فَأَسرِ بِعِبادى لَيلًا إِنَّكُم مُتَّبَعونَ(23)
(ارشاد ہوا:) پھر تم میرے بندوں کو راتوں رات لے کر چلے جاؤ بیشک تمہارا تعاقب کیا جائے گا،(23)
وَاترُكِ البَحرَ رَهوًا ۖ إِنَّهُم جُندٌ مُغرَقونَ(24)
اور (خود گزر جانے کے بعد) دریا کو ساکن اور کھلا چھوڑ دینا، بیشک وہ ایسا لشکر ہے جسے ڈبو دیا جائے گا،(24)
كَم تَرَكوا مِن جَنّٰتٍ وَعُيونٍ(25)
وہ کتنے ہی باغات اور چشمے چھوڑ گئے،(25)
وَزُروعٍ وَمَقامٍ كَريمٍ(26)
اور زراعتیں اور عالی شان عمارتیں،(26)
وَنَعمَةٍ كانوا فيها فٰكِهينَ(27)
اور نعمتیں (اور راحتیں) جن میں وہ عیش کیا کرتے تھے،(27)
كَذٰلِكَ ۖ وَأَورَثنٰها قَومًا ءاخَرينَ(28)
اسی طرح ہوا، اور ہم نے اِن سب کا دوسرے لوگوں کو وارث بنا دیا،(28)
فَما بَكَت عَلَيهِمُ السَّماءُ وَالأَرضُ وَما كانوا مُنظَرينَ(29)
پھر نہ (تو) اُن پر آسمان اور زمین روئے اور نہ ہی انہیں مہلت دی گئی،(29)
وَلَقَد نَجَّينا بَنى إِسرٰءيلَ مِنَ العَذابِ المُهينِ(30)
اور واقعتہً ہم نے بنی اسرائیل کو ذِلّت انگیز عذاب سے نجات بخشی،(30)
مِن فِرعَونَ ۚ إِنَّهُ كانَ عالِيًا مِنَ المُسرِفينَ(31)
فرعون سے، بیشک وہ بڑا سرکش، حد سے گزرنے والوں میں سے تھا،(31)
وَلَقَدِ اختَرنٰهُم عَلىٰ عِلمٍ عَلَى العٰلَمينَ(32)
اور بیشک ہم نے ان (بنی اسرائیل) کو علم کی بنا پر ساری دنیا (کی معاصر تہذیبوں) پر چُن لیا تھا،(32)
وَءاتَينٰهُم مِنَ الءايٰتِ ما فيهِ بَلٰؤٌا۟ مُبينٌ(33)
اور ہم نے انہیں وہ نشانیاں عطا فرمائیں جن میں ظاہری نعمت (اور صریح آزمائش) تھی،(33)
إِنَّ هٰؤُلاءِ لَيَقولونَ(34)
بیشک وہ لوگ کہتے ہیں،(34)
إِن هِىَ إِلّا مَوتَتُنَا الأولىٰ وَما نَحنُ بِمُنشَرينَ(35)
کہ ہماری پہلی موت کے سوا (بعد میں) کچھ نہیں ہے اور ہم (دوبارہ) نہیں اٹھائے جائیں گے،(35)
فَأتوا بِـٔابائِنا إِن كُنتُم صٰدِقينَ(36)
سو تم ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر کے) لے آؤ، اگر تم سچے ہو،(36)
أَهُم خَيرٌ أَم قَومُ تُبَّعٍ وَالَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ أَهلَكنٰهُم ۖ إِنَّهُم كانوا مُجرِمينَ(37)
بھلا یہ لوگ بہتر ہیں یا (بادشاہِ یمن اسعد ابوکریب) تُبّع (الحمیری) کی قوم اور وہ لوگ جو اِن سے پہلے تھے، ہم نے اُن (سب) کو ہلاک کر ڈالا تھا، بیشک وہ لوگ مجرم تھے،(37)
وَما خَلَقنَا السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما لٰعِبينَ(38)
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ اِن کے درمیان ہے اسے محض کھیلتے ہوئے نہیں بنایا،(38)
ما خَلَقنٰهُما إِلّا بِالحَقِّ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ(39)
ہم نے دونوں کو حق کے (مقصد و حکمت کے) ساتھ پیدا کیا ہے لیکن اُن کے اکثر لوگ نہیں جانتے،(39)
إِنَّ يَومَ الفَصلِ ميقٰتُهُم أَجمَعينَ(40)
بیشک فیصلہ کا دن، اُن سب کے لئے مقررّہ وقت ہے،(40)
يَومَ لا يُغنى مَولًى عَن مَولًى شَيـًٔا وَلا هُم يُنصَرونَ(41)
جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ہی اُن کی مدد کی جائے گی،(41)
إِلّا مَن رَحِمَ اللَّهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ(42)
سوائے اُن کے جن پر اللہ نے رحمت فرمائی ہے (وہ ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے)، بیشک وہ بڑا غالب بہت رحم فرمانے والا ہے،(42)
إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقّومِ(43)
بیشک کانٹے دار پھل کا درخت،(43)
طَعامُ الأَثيمِ(44)
بڑے نافرمانوں کا کھانا ہوگا،(44)
كَالمُهلِ يَغلى فِى البُطونِ(45)
پگھلے ہوئے تانبے کی طرح وہ پیٹوں میں کَھولے گا،(45)
كَغَلىِ الحَميمِ(46)
کھولتے ہوئے پانی کے جوش کی مانند،(46)
خُذوهُ فَاعتِلوهُ إِلىٰ سَواءِ الجَحيمِ(47)
(حکم ہوگا:) اس کو پکڑ لو اور دوزخ کے وسط تک اسے زور سے گھسیٹتے ہوئے لے جاؤ،(47)
ثُمَّ صُبّوا فَوقَ رَأسِهِ مِن عَذابِ الحَميمِ(48)
پھر اِس کے سَر پر کھولتے ہوئے پانی کا عذاب ڈالو،(48)
ذُق إِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الكَريمُ(49)
مَزہ چکھ لے، ہاں تُو ہی (اپنے گمان اور دعوٰی میں) بڑا معزّز و مکرّم ہے،(49)
إِنَّ هٰذا ما كُنتُم بِهِ تَمتَرونَ(50)
بیشک یہ وہی (دوزخ) ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے،(50)
إِنَّ المُتَّقينَ فى مَقامٍ أَمينٍ(51)
بیشک پرہیزگار لوگ اَمن والے مقام میں ہوں گے،(51)
فى جَنّٰتٍ وَعُيونٍ(52)
باغات اور چشموں میں،(52)
يَلبَسونَ مِن سُندُسٍ وَإِستَبرَقٍ مُتَقٰبِلينَ(53)
باریک اور دبیز ریشم کا لباس پہنے ہوں گے، آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے،(53)
كَذٰلِكَ وَزَوَّجنٰهُم بِحورٍ عينٍ(54)
اسی طرح (ہی) ہوگا، اور ہم انہیں گوری رنگت والی کشادہ چشم حوروں سے بیاہ دیں گے،(54)
يَدعونَ فيها بِكُلِّ فٰكِهَةٍ ءامِنينَ(55)
وہاں (بیٹھے) اطمینان سے ہر طرح کے پھل اور میوے طلب کرتے ہوں گے،(55)
لا يَذوقونَ فيهَا المَوتَ إِلَّا المَوتَةَ الأولىٰ ۖ وَوَقىٰهُم عَذابَ الجَحيمِ(56)
اس (جنت) میں موت کا مَزہ نہیں چکھیں گے سوائے (اس) پہلی موت کے (جو گزر چکی ہوگی) اور اللہ انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا،(56)
فَضلًا مِن رَبِّكَ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الفَوزُ العَظيمُ(57)
یہ آپ کے رب کا فضل ہے (یعنی آپ کا رب آپ کے وسیلے سے ہی عطا کرے گا)، یہی بہت بڑی کامیابی ہے،(57)
فَإِنَّما يَسَّرنٰهُ بِلِسانِكَ لَعَلَّهُم يَتَذَكَّرونَ(58)
بس ہم نے آپ ہی کی زبان میں اس (قرآن) کو آسان کر دیا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں،(58)
فَارتَقِب إِنَّهُم مُرتَقِبونَ(59)
سو آپ (بھی) انتظار فرمائیں، یقیناً وہ (بھی) انتظار کر رہے ہیں (آپ اُن کا حشر و انتقام دیکھیں گے اور وہ آپ کی شان اور آپ کے تصدّق سے مومنوں پر میرا انعام دیکھیں گے)،(59)