Ta-ha( طه)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ طه(1)
(1)
ما أَنزَلنا عَلَيكَ القُرءانَ لِتَشقىٰ(2)
(2)
إِلّا تَذكِرَةً لِمَن يَخشىٰ(3)
ف ٦  یعنی قرآن کریم اس لیے اتارا گیا ہے کہ جن کے دل نرم ہوں اور خدا سے ڈرتے ہوں، وہ اس کے بیانات سے نصیحت حاصل کریں اور روحانی فیوض و برکات سے محروم نہ رہیں۔ یہ غرض نہیں کہ قرآن نازل کر کے خواہ مخواہ تم کو کسی محنت شاقہ اور تکلیف شدت میں مبتلا کیا جائے۔ نہ وہ ایسی چیز ہے جس کا حامل و عامل کبھی محروم و ناکام رہے۔ آپ تکذیب کرنے والوں کی باتیں سن کر ملول اور تنگدل نہ ہوں۔ نہ ان کے پیچھے پڑ کر زیادہ تکلیف اٹھائیں۔ حق کا علمبردار ہی آخر کامیاب ہو کر رہے گا۔ آپ توسط کے ساتھ عبادت کرتے رہیئے۔ بعض روایات میں ہے کہ ابتداء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شب کو نماز میں کھڑے ہو کر بہت زیادہ قرآن پڑھتے تھے۔ کفار آپ کی محنت و ریاضت دیکھ کر کہتے کہ قرآن کیا اترا بیچارے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سخت تکلیف اور محنت میں پڑ گئے، اس کا جواب ان آیات میں دیا گیا کہ فی الحقیقت قرآن محنت و شقاء نہیں، رحمت و نور ہے، جس کو جتنا آسان ہو اسی قدر نشاط کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔ فَاقْرَءُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ۔(3)
تَنزيلًا مِمَّن خَلَقَ الأَرضَ وَالسَّمٰوٰتِ العُلَى(4)
ف٧ اس لیے ضروری ہے کہ مخلوق نہایت خوشی کے ساتھ اس کو اپنے سر آنکھوں پر رکھے اور شہنشاہانہ احکام کی خلاف ورزی نہ کرے۔(4)
الرَّحمٰنُ عَلَى العَرشِ استَوىٰ(5)
ف ٨ استواء علی العرش کا مفصل بیان سورہ "اعراف" کے فوائد میں دیکھ لیا جائے۔ "عرش" کے متعلق نصوص سے اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ اس کے پائے ہیں اور خاص فرشتے اٹھانے والے ہیں اور آسمان کے اوپر قبہ کی طرح ہے۔ صاحب روح المعانی نے "عرش" اور "استواء علی العرش" پر اس آیت کے تحت میں نہایت مبسوط کلام کیا ہے۔ من شاء فلیراجعہ۔(5)
لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ وَما بَينَهُما وَما تَحتَ الثَّرىٰ(6)
ف٩ یعنی وہ ہی ایک خدا بلا شرکت غیرے آسمانوں سے زمین تک اور زمین سے تحت الثریٰ تک تمام کائنات کا مالک و خالق ہے۔ اسی کی تدبیر و انتظام سے کل سلسلے قائم ہیں۔ (تنبیہ) آسمان و زمین کی درمیانی مخلوق سے یا تو کائنات جوّ مراد ہیں جو دائماً دونوں کے درمیان ہی رہتی ہیں۔ مثلاً ہوا، بادل وغیرہ اور یا وہ چیزیں بھی اس میں شامل ہوں جو اکثر ہوا میں پرواز کرتی ہیں جیسے پرند جانور اور "ثریٰ" (گیلی زمین) سے زمین کے نیچے کا طبقہ مراد ہے جو پانی کے قرب و اتصال کی وجہ سے تر رہتا ہے۔(6)
وَإِن تَجهَر بِالقَولِ فَإِنَّهُ يَعلَمُ السِّرَّ وَأَخفَى(7)
ف١٠ پہلے عموم قدرت و تصرف کا بیان تھا۔ اس آیت میں علم الٰہی کی وسعت کا تذکرہ ہے۔ یعنی جو بات زور سے پکار کر کہی جائے، وہ اس علام الغیوب سے کیونکر پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ جس کو ہر کھلی چھپی بلکہ چھپی سے زیادہ چھپی ہوئی باتوں کی خبر ہے۔ جو بات تنہائی میں آہستہ کہی جائے، اور جو دل میں گزرے ابھی زبان تک نہ آئی ہو اور جو ابھی دل میں بھی نہیں گزری آئندہ گزرنے والی ہو، حق تعالٰی کا علم ان سب کو محیط ہے۔ اسی لیے بلا ضرورت بہت زور سے چلاّ کر ذکر کرنے کو بھی علمائے شریعت نے منع کیا ہے۔ جن مواقع میں ذکر با آواز بلند منقول ہے یا بعض مصالح معتبرہ کی بناء پر تجربہ کاروں کے نزدیک نافع سمجھا گیا ہے، وہ عموم نہی سے مستثنیٰ ہوں گے۔(7)
اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ لَهُ الأَسماءُ الحُسنىٰ(8)
ف١ آیات بالا میں جو صفات حق تعالٰی کی بیان ہوئی ہیں۔ (یعنی اس کا خالق الکل، مالک علی الاطلاق، رحمان، قادر مطلق اور صاحب علم محیط ہونا) انکا اقتضاء یہ ہے کہ الوہیت بھی تنہا اسی کا خاصہ ہو بجز اس کے کسی دوسرے کے آگے سر عبودیت نہ جھکایا جائے۔ کیونکہ نہ صرف صفات مذکورہ بالا بلکہ کل عمدہ صفات اور اچھے نام اسی کی ذات منبع الکمالات کے لیے مخصوص ہیں۔ کوئی دوسری ہستی اس شان و صفت کی موجود نہیں جو معبود بن سکے۔ نہ ان صفتوں اور ناموں کے تعدد سے اس کی ذات میں تعدد آتا ہے۔ جیسا کہ بعض جہال عرب کا خیال تھا کہ مختلف ناموں سے خدا کو پکارنا دعوائے توحید کے مخالف ہے۔(8)
وَهَل أَتىٰكَ حَديثُ موسىٰ(9)
ف٢ یہاں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ بہت بسط و تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ سامعین سمجھ جائیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قرآن کی وحی بھیجنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ جس طرح پیشتر موسیٰ علیہ السلام کو وحی مل چکی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ملی، جیسے موسیٰ علیہ السلام کی وحی توحید وغیرہ کی تعلیم پر مشتمل تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی میں بھی ان ہی اصول پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تبلیغ حق میں جو صعوبات و شدائد برداشت کیں، آپ کو بھی برداشت کرنی پڑیں گی اور جس طرح ان کو آخرکار کامیابی اور غلبہ نصیب ہوا اور دشمن مقہور و مخذول ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی یقینا غالب و منصور ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن تباہ و ذلیل کیے جائیں گے چونکہ سورت کا آغاز انزال قرآن کے ذکر سے کیا گیا تھا اس کے مناسب نبوتِ موسوی کے آغاز کا قصہ بیان فرماتے ہیں۔(9)
إِذ رَءا نارًا فَقالَ لِأَهلِهِ امكُثوا إِنّى ءانَستُ نارًا لَعَلّى ءاتيكُم مِنها بِقَبَسٍ أَو أَجِدُ عَلَى النّارِ هُدًى(10)
(10)
فَلَمّا أَتىٰها نودِىَ يٰموسىٰ(11)
ف٣ اس قصہ کے مختلف اجزاء سورہ قصص، سورہ طہٰ اور سورہ اعراف میں سے جمع کیے جاسکتے ہیں۔ یہاں مدین سے مصر کی طرف واپسی کا واقعہ مذکور ہے۔ مدین میں حضرت شعیب علیہ السلام کی صاحبزادی سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نکاح ہوگیا تھا۔ کئی سال وہاں مقیم رہنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مصر جانے کا ارادہ کیا، حاملہ بیوی ہمراہ تھی رات اندھیری تھی، سردی کا شباب تھا، بکریوں کا گلہ بھی ساتھ لے کر چلے تھے۔ اس حالت میں راستہ بھول گئے۔ بکریاں متفرق ہوگئیں اور بیوی کو درد زہ شروع ہوگیا۔ اندھیرے میں سخت پریشان تھے سردی میں تاپنے کے لیے آگ موجود نہ تھی۔ چقماق مارنے سے بھی آگ نہ نکلی۔ ان مصائب کی تاریکیوں میں دفعتاً دور سے ایک آگ نظر آئی۔ وہ حقیقت میں دنیاوی آگ نہ تھی۔ اللہ کا نورِ جلال تھا یا حجاب ناری تھا (جس کا ذکر مسلم کی حدیث میں آیا ہے) موسیٰ علیہ السلام نے ظاہری آگ سمجھ کر گھر والوں سے کہا کہ تم یہیں ٹھہرو۔ میں جاتا ہوں شاید اس آگ کا ایک شعلہ لا سکوں، یا وہاں پہنچ کر کوئی راستہ کا پتہ بتلانے والا مل جائے۔ کہتے ہیں کہ اس پاک میدان میں پہنچ کر عجیب نظارہ دیکھا۔ ایک درخت میں زور شور سے آگ لگ رہی ہے۔ اور آگ جس قدر زور سے بھڑکتی ہے درخت اسی قدر زیادہ سر سبز ہو کر لہلہاتا ہے۔ اور جوں جوں درخت کی سرسبزی و شادابی بڑھتی ہے آگ کا اشتعال تیز ہوتا جاتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے آگ کے قریب جانے کا قصد کیا کہ درخت کی کوئی شاخ جل گرے تو اٹھا لائیں لیکن جتنا وہ آگے سے نزدیک ہونا چاہتے آگ دور ہٹتی جاتی اور جب گھبرا کر ہٹنا چاہتے تو آگ تعاقب کرتی۔ اسی حیرت و ہشت کی حالت میں آواز آئی "اِنِّی اَنَارَبُّکَ" الخ گویا وہ درخت بلاتشبیہ اس وقت غیبی ٹیلیفون کا کام دے رہا تھا۔ امام احمد نے وہب سے نقل کیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جب "یاموسیٰ" سنا تو کئی بار "لبیک" کہا اور عرض کیا کہ میں تیری آواز سنتا ہوں اور آہٹ پاتا ہوں مگر یہ نہیں دیکھتا کہ تو کہاں ہے۔ آواز آئی "میں تیرے اوپر ہوں، تیرے ساتھ ہوں، تیرے سامنے ہوں، تیرے پیچھے ہوں، اور تیری جان سے زیادہ تجھ سے نزدیک ہوں۔" کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام ہر جہت سے اور اپنے ایک ایک بال سے اللہ کا کلام سنتے تھے۔(11)
إِنّى أَنا۠ رَبُّكَ فَاخلَع نَعلَيكَ ۖ إِنَّكَ بِالوادِ المُقَدَّسِ طُوًى(12)
ف٤ "طویٰ" اس میدان کا نام ہے۔ شاید وہ میدان پہلے سے متبرک تھا یا اب ہوگیا۔ موسیٰ علیہ السلام کی جوتیاں ناپاک تھیں اس لیے اتروا دی گئیں۔ باقی موزہ یا جوتا پاک ہو تو اس میں نماز پڑھ سکتے ہیں پورا مسئلہ فقہ میں دیکھنا چاہیے۔(12)
وَأَنَا اختَرتُكَ فَاستَمِع لِما يوحىٰ(13)
ف ٥ "پسند کیا ہے" یعنی تمام جہان میں سے نبوت و رسالت اور شرف مکالمہ کے لیے چھانٹ لیا۔ اس لیے آگے جو احکام دیئے جائیں انہیں غور و توجہ سے سنو۔(13)
إِنَّنى أَنَا اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا أَنا۠ فَاعبُدنى وَأَقِمِ الصَّلوٰةَ لِذِكرى(14)
ف ٦  اس میں خالص توحید اور ہر قسم کی بدنی و مالی عبات کا حکم دیا۔ نماز چونکہ اہم العبادات تھی اس کا ذکر خصوصیت سے کیا گیا اور اس پر بھی متنبہ فرما دیا گیا کہ نماز سے مقصود اعظم خدا تعالٰی کی یادگاری ہے۔ گویا نماز سے غافل ہونا خدا کی یاد سے غافل ہونا ہے اور ذکر اللہ (یاد خدا) کے متعلق دوسری جگہ فرما دیا۔ "وَاذْکُرْ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیْتَ" یعنی کبھی بھول چوک ہو جائے تو جب یاد آجائے اسے یاد کرو۔ یہ ہی حکم نماز کا ہے کہ وقت پر غفلت و نسیان ہو جائے تو یاد آنے پر قضا کر لے۔ "فَلْیُصَلِّہَا اِذَاذَکَرَہَا"(14)
إِنَّ السّاعَةَ ءاتِيَةٌ أَكادُ أُخفيها لِتُجزىٰ كُلُّ نَفسٍ بِما تَسعىٰ(15)
ف٧ یعنی اس کے آنے کا وقت سب سے مخفی رکھنا چاہتا ہوں، حتی کہ اگر خود اپنے سے چھپانا ممکن ہوتا تو اپنے سے بھی مخفی رکھتا، لیکن یہ ممکن ہی نہیں۔ وفیہ من المبالغۃ کما فی الحدیث "لَا تَعْلَمُ شِمَالَہ، مَا تُنْفِقُ یَمِیْنُہ، " وکما قال الشاعر (غیرت از چشم برم روئے تودیدن نہ دہم ۔گوش رانیز حدیثِ توشنیدن نہ دہم) اور اگر بہت سی مصالح باعث اظہار نہ ہوتیں تو جتنا اجمالی اظہار کیا گیا یہ بھی نہ کیا جاتا۔ ف ٨ یعنی قیامت کا آنا اس لیے ضروری ہے کہ ہر شخص کو اس کے نیک و بد کا بدلہ ملے اور مطیع و عاصی میں کوئی التباس و اشتباہ باقی نہ رہے یہ توحید و عبادت کے بعد عقیدہ معاد کی تعلیم ہوئی۔(15)
فَلا يَصُدَّنَّكَ عَنها مَن لا يُؤمِنُ بِها وَاتَّبَعَ هَوىٰهُ فَتَردىٰ(16)
ف٩ نہ روک دے اس سے یعنی قیامت پر یقین رکھنے سے یا نماز سے۔ اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو برے کی صحبت سے منع کیا تو اور کوئی کس شمار میں ہے۔ کذافی الموضح۔ غرض یہ ہے کہ دنیا پرست کافر کی چاپلوسی یا زیادہ نرمی اور مداہنت اختیار نہ کی جائے۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ آدمی بلند مقام سے نیچے پٹک دیا جائے۔ العیاذ باللہ۔(16)
وَما تِلكَ بِيَمينِكَ يٰموسىٰ(17)
ف١٠ یہاں سے منصب رسالت کی تمہید شروع ہوتی ہے۔ چونکہ معجزات دے کر فرعون کی طرف بھیجے جانے والے تھے اس لیے اولاً معجزہ عصا کا ذکر فرماتے ہیں۔ یہ سوال کہ تیرے ہاتھ میں کیا چیز ہے۔ اس غرض سے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام اپنی لاٹھی کی حقیقت اور اس کے منافع کو خوب مستحضر کرلیں تاکہ جو خارق عادت چیز پیش آنے والی تھی اس کا معجزہ ہونا پوری طرح واضح، مستحکم اور اوقع فی النفس ہو۔ یعنی اس وقت خوب دیکھ بھال کر اور جانچ تول کر بتلاؤ، تمہارے ہاتھ میں کیا چیز ہے؟ مباداسانپ بن جانے پر وہم کرنے لگو کہ شاید میں غلطی سے ہاتھ میں لاٹھی نہ لایا ہوں کچھ اور لے آیا ہوں۔(17)
قالَ هِىَ عَصاىَ أَتَوَكَّؤُا۟ عَلَيها وَأَهُشُّ بِها عَلىٰ غَنَمى وَلِىَ فيها مَـٔارِبُ أُخرىٰ(18)
ف١١ یعنی اس میں شبہ کیا ہے۔ وہ لاٹھی ہے جسے ہمیشہ ہاتھ میں رکھتا ہوں، اس پر ٹیک لگاتا ہوں، بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں، دشمن کو اور موذی جانوروں کو دفع کرتا ہوں اور بہت سی ضرورتوں میں لاٹھی کا کام لیتا ہوں۔(18)
قالَ أَلقِها يٰموسىٰ(19)
(19)
فَأَلقىٰها فَإِذا هِىَ حَيَّةٌ تَسعىٰ(20)
ف ١٢ یعنی لاٹھی کا زمین پر ڈالنا تھا کہ لاٹھی کی جگہ ایک اژدہا نظر آیا جو پتلے سانپ کی طرح تیزی سے دوڑتا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام ناگہاں یہ انقلاب دیکھ کر بمقتضائے بشریت خوفزدہ ہوگئے۔(20)
قالَ خُذها وَلا تَخَف ۖ سَنُعيدُها سيرَتَهَا الأولىٰ(21)
ف١٣ یعنی ہاتھ میں آکر پھر لاٹھی ہو جائے گی۔ کہتے ہیں ابتداء میں موسیٰ علیہ السلام کو پکڑنے کی ہمت نہ ہوتی تھی آخر کپڑا ہاتھ میں لپیٹ کر پکڑنے لگے۔ فرشتہ نے کہا "موسیٰ کیا خدا اگر بچانا نہ چاہے تو یہ چیتھڑا تجھے بچا سکتا ہے؟ موسیٰ نے کہا "نہیں، لیکن میں کمزور مخلوق ہوں، اور ضعف سے پیدا کیا گیا ہوں۔" پھر حضرت موسیٰ نے ہاتھ سے کپڑا ہٹا کر اژدھے کے منہ میں دے دیا۔ ہاتھ ڈالنا تھا کہ وہی لاٹھی ہاتھ میں دیکھی۔(21)
وَاضمُم يَدَكَ إِلىٰ جَناحِكَ تَخرُج بَيضاءَ مِن غَيرِ سوءٍ ءايَةً أُخرىٰ(22)
ف١ یعنی ہاتھ گریبان میں ڈال کر اور بغل سے ملا کر نکالو گے تو نہایت روشن سفید چمکتا ہوا نکلے گا۔ اور یہ سفیدی برص وغیرہ کی نہ ہوگی جو عیب سمجھی جائے۔(22)
لِنُرِيَكَ مِن ءايٰتِنَا الكُبرَى(23)
ف٢ یعنی عصا اور یدبیضا کے معجزے ان بڑی نشانیوں میں سے دو ہیں جن کا دکھلانا تم کو منظور ہے۔(23)
اذهَب إِلىٰ فِرعَونَ إِنَّهُ طَغىٰ(24)
(24)
قالَ رَبِّ اشرَح لى صَدرى(25)
ف٣ یعنی حلیم و بردبار اور حوصلہ مند بنا دے کہ خلافِ طبع دیکھ کر جلد خفا نہ ہوں اور ادائے رسالت میں جو سختیاں پیش آئیں ان سے نہ گھبراؤں بلکہ کشادہ دلی اور خندہ پیشانی سے برداشت کروں۔(25)
وَيَسِّر لى أَمرى(26)
ف٤ یعنی ایسا سامان فراہم کر دے کہ یہ عظیم الشان کام آسان ہو جائے۔(26)
وَاحلُل عُقدَةً مِن لِسانى(27)
(27)
يَفقَهوا قَولى(28)
ف ٥ زبان لڑکپن میں جل گئی تھی (جس کا قصہ تفاسیر میں ہے) صاف نہ بول سکتے تھے۔ اس لیے یہ دعا کی۔(28)
وَاجعَل لى وَزيرًا مِن أَهلى(29)
(29)
هٰرونَ أَخِى(30)
ف ٦  یہ عمر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے۔(30)
اشدُد بِهِ أَزرى(31)
(31)
وَأَشرِكهُ فى أَمرى(32)
ف٧ یعنی دعوت و تبلیغ کے کام میں ایک دوسرے کا معین ومددگار ہوں۔(32)
كَى نُسَبِّحَكَ كَثيرًا(33)
(33)
وَنَذكُرَكَ كَثيرًا(34)
ف ٨ یعنی دونوں مل کر دعوت و تبلیغ کے موقع پر بہت زور شور سے تیری پاکی اور کمالات بیان کریں اور مواضع دعوت سے قطع نظر جب ہر ایک کو دوسرے کی معیت سے تقویت قلب حاصل ہوگی، تو اپنی خلوتوں میں نشاط و طمانیت کے ساتھ تیرا ذکر بکثرت کر سکیں گے۔(34)
إِنَّكَ كُنتَ بِنا بَصيرًا(35)
ف٩ یعنی ہمارے تمام احوال کو خوب دیکھ رہا ہے اور جو دعاء مَیں کر رہا ہوں یہ بھی تجھے خوب معلوم ہے کہ اس کا قبول فرمانا ہمارے لیے کہاں تک مفید ہوگا۔ اگر تجھے ہمارے حال و استعداد کی پوری خبر نہ ہوتی تو نبوت و رسالت کے لیے ہم کو منتخب ہی کیوں کرتا اور ایسے سخت دشمن (فرعون) کی طرف کیوں بھیجتا۔ یقینا جو کچھ آپ نے کیا خوب دیکھ بھال کر کیا ہے۔(35)
قالَ قَد أوتيتَ سُؤلَكَ يٰموسىٰ(36)
ف١٠ یعنی جو کچھ تم نے مانگا، خدا تعالٰی کی طرف سے تم کو دیا گیا۔(36)
وَلَقَد مَنَنّا عَلَيكَ مَرَّةً أُخرىٰ(37)
ف١١ یعنی ہم تو پہلے ایک مرتبہ بے مانگے تجھ پر بڑا بھاری احسان کر چکے ہیں، پھر اب ایک مناسب چیز مانگنے پر کیوں نہ دیں گے۔(37)
إِذ أَوحَينا إِلىٰ أُمِّكَ ما يوحىٰ(38)
ف ١٢ یعنی خواب میں یا بیداری میں بطور الہام کے یا اس زمانہ کے کسی نامعلوم الاسم نبی کی زبانی تیری ماں کو وہ حکم بھیجا۔ جس کا بھیجا جانا مناسب تھا (اس کی تفصیل آگے مذکور ہے۔ "اَنِ اقْذِفِیْہِ" الخ) (تنبیہ) لفظ "ایحاء" سے حضرت موسیٰ کی والدہ کا نبیّہ ہونا ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ تقریر بالا سے ظاہر ہے۔ نبی وہ ہے جس کی طرف احکام کی وحی آئے اور ان کی تبلیغ کا مامور ہو۔ یہاں یہ تعریف صادق نہیں آتی۔(38)
أَنِ اقذِفيهِ فِى التّابوتِ فَاقذِفيهِ فِى اليَمِّ فَليُلقِهِ اليَمُّ بِالسّاحِلِ يَأخُذهُ عَدُوٌّ لى وَعَدُوٌّ لَهُ ۚ وَأَلقَيتُ عَلَيكَ مَحَبَّةً مِنّى وَلِتُصنَعَ عَلىٰ عَينى(39)
ف١٣ یعنی موسیٰ کو (جو اس وقت نوزائیدہ بچہ تھے) صندوق میں رکھ کر صندوق کو دریا میں چھوڑ دے، دریا کو ہمارا حکم ہے کہ اسے بحفاظت تمام ایک خاص کنارہ پر لگائے گا جہاں سے اس کو وہ شخص اٹھالے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور اس بچہ کا بھی، واقعہ یہ ہے کہ فرعون اس سال نجومیوں کے کہنے سے بنی اسرائیل کے بیٹوں کو چن چن کر قتل کر رہا تھا۔ جب موسیٰ پیدا ہوئے ان کی والدہ کو خوف ہوا کہ فرعون کے سپاہی خبر پائیں گے تو بچہ کو مار ڈالیں گے اور والدین کو بھی ستائیں گے کہ ظاہر کیوں نہیں کیا۔ اس وقت حق تعالٰی کی طرف سے یہ تدبیر الہام ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے صندوق نہر میں ڈال دیا۔ دریا کی ایک شاخ فرعون کے باغ میں گزرتی تھی اس میں سے ہو کر صندوق کنارے جا لگا۔ فرعون کی بیوی حضرت آسیہ نے (جو نہایت پاکباز اسرائیلی خاتون تھی) بچہ کو اٹھا کر فرعون کے سامنے پیش کیا کہ آؤ ہم تم اسے بیٹا بنا لیں۔ فرعون کو بھی دیکھ کر محبت آئی۔ گو اس نے بیٹا بنانے سے انکار کیا (جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے) مگر آسیہ کی خاطر اسے بیٹوں کی طرح پرورش کیا اور اس طرح حق تعالٰی کی عجیب و غریب قدرت کا ظہور ہوا۔ (تنبیہ) فرعون کو خدا کا دشمن اس لیے کہا کہ وہ حق کا دشمن تھا اور خدا کے بالمقابل خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اور موسیٰ کا دشمن اس لیے فرمایا کہ فی الحال تمام اسرائیلی بچوں کے ساتھ سخت دشمنی کر رہا تھا۔ اور آئندہ چل کر خاص موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اعلانیہ دشمنی کا اظہار کرنے والا تھا۔ ف١٤ یعنی ہم نے اپنی طرف سے اس وقت مخلوق کے دلوں میں تیری محبت ڈال دی کہ جو دیکھے محبت اور پیار کرے یا اپنی ایک خاص محبت تجھ پر ڈال دی کہ تو محبوب خدا بن گیا۔ پھر جس سے خدا محبت کرے بندے بھی محبت کرنے لگتے ہیں۔ ف١٥ یعنی لوگوں کے دلوں میں تیری محبت ڈال دینا اس غرض سے تھا کہ ہماری نگرانی و حفاظت میں تیری پرورش کی جائے۔ ایسے سخت دشمن کے گھر میں تربیت پاتے ہوئے بھی کوئی تیرا بال بیکا نہ کر سکے۔(39)
إِذ تَمشى أُختُكَ فَتَقولُ هَل أَدُلُّكُم عَلىٰ مَن يَكفُلُهُ ۖ فَرَجَعنٰكَ إِلىٰ أُمِّكَ كَى تَقَرَّ عَينُها وَلا تَحزَنَ ۚ وَقَتَلتَ نَفسًا فَنَجَّينٰكَ مِنَ الغَمِّ وَفَتَنّٰكَ فُتونًا ۚ فَلَبِثتَ سِنينَ فى أَهلِ مَديَنَ ثُمَّ جِئتَ عَلىٰ قَدَرٍ يٰموسىٰ(40)
ف١ پورا قصہ دوسری جگہ آئے گا۔ حضرت موسیٰ کی والدہ صندوق نہر میں چھوڑنے کے بعد بمقتضائے بشریت بہت غمگین اور پریشان تھیں کہ بچہ کا کیا حشر ہوا ہوگا، معلوم نہیں زندہ ہے یا جانوروں نے کھا لیا۔ حضرت موسیٰ کی بہن کو کہا کہ خفیہ طور پر پتہ لگا۔ ادھر مشیت ایزدی سے یہ سامان ہوا کہ حضرت موسیٰ کسی عورت کا دودھ نہیں پیتے تھے۔ بہت سی انائیں بلائی گئیں، کامیابی نہ ہوئی۔ موسیٰ کی بہن جو تاک میں لگی ہوئی تھی بولی کہ میں ایک عورت کو لا سکتی ہوں، امید ہے کہ کسی طرح دودھ پلا کر بچہ کو پال سکے گی۔ حکم ہوا بلاؤ۔ وہ موسیٰ کی والدہ کو لے کر پہنچی۔ چھاتی سے لگاتے ہی بچہ نے دودھ پینا شروع کر دیا۔ فرعون کے گھر بڑی خوشیاں منائی جانے لگیں۔ موسیٰ کی والدہ نے کہا کہ میں یہاں نہیں رہ سکتی اجازت دو کہ اپنے گھر میں لے جاؤں اور پوری حفاظت و اہتمام سے بچہ کو پرورش کروں۔ آخر فرعون کی طرف سے بطور دایہ کے بچہ کی تربیت پر مامور ہو کر اپنے گھر لے آئیں اور شاہانہ اعزازو اکرام کے ساتھ موسیٰ کی تربیت میں لگی رہیں۔ ف٢ یہ پورا قصہ سورہ قصص میں آئے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جوان ہونے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے ایک قبطی مارا گیا تھا، موسیٰ علیہ السلام ڈرے کہ دنیا میں پکڑا جاؤں گا اور آخرت میں بھی ماخوذ ہوں گا۔ دونوں قسم کی پریشانی سے خدا تعالٰی نے نجات دی، اُخروی پریشانی سے اس طرح کہ توبہ کی توفیق بخشی جو قبول ہوگئی اور دنیاوی سے اس طرح کہ موسیٰ علیہ السلام کو مصر سے نکال کر مدین پہنچا دیا جہاں حضرت شعیب علیہ السلام کی صاحبزادی سے ان کا نکاح ہوگیا۔ پورا قصہ دوسری جگہ آئے گا۔ ف٣ یعنی اللہ تعالٰی نے تم کو کئی طرح جانچا۔ جس میں تم کھرے ثابت ہوئے (تنبیہ) اس موقع پر مفسرین نے حدیث الفتون کے عنوان سے ایک نہایت طویل روایت ابن عباس رضی اللہ کی نقل کی ہے جس کے متعلق حافظ ابن کثیر کے الفاظ یہ ہیں "وہو موقوف من کلام ابن عباس ولیس فیہ مرفوع الاقلیل منہ وکانہ تلقاہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ممّا ابیح نقلہ من الاسرائیلیات من کعب بن الاحبار وغیرہ واللہ اعلم وسمعت شیخنا الحافظ ابا الحجاج المزی یقول ذلک ایضًا" ف٤ یعنی اب مدین سے نکل کر راستہ بھولا اور تقدیر سے یہاں پہنچ گیا جس کا تجھے وہم و گمان بھی نہ تھا، سچ ہے خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھیے احوال کہ آگ لینے کو جائیں پیغمبری مل جائے(40)
وَاصطَنَعتُكَ لِنَفسِى(41)
ف ٥ یعنی اپنی وحی و رسالت کے لیے تیار کر کے اپنے خواص و مقربین میں داخل کیا اور جس طرح خود چاہا تیری پرورش کرائی۔(41)
اذهَب أَنتَ وَأَخوكَ بِـٔايٰتى وَلا تَنِيا فى ذِكرِى(42)
ف ٦  یعنی جس کام کے لیے بنائے گئے ہو، وقت آگیا ہے کہ اپنے بھائی ہارون کو ساتھ لے کر اس کے لیے نکل کھڑے ہو اور جو دلائل و معجزات تم کو دیے گئے ہیں ضرورت کے وقت ظاہر کرو۔ چونکہ موسیٰ علیہ السلام پیشتر دعا کرتے وقت کہہ چکے تھے "کَیْ نُسَبِّحَکَ کَثِیْرًا وَّنَذْکُرَکَ کَثِیْرًا" یہاں"وَلَاتَنِیَافِیْ ذِکْرِیْ" کہہ کر وہ بات یاد دلا دی۔ یعنی اللہ کے نام کی تبلیغ میں پوری مستعدی دکھلاؤ اور تمام احوال و اوقات میں عموماً اور دعوت تبلیغ کے وقت خصوصاً اللہ کو کثرت سے یاد کرو کہ اہل اللہ کے لیے کامیابی کا بڑا ذریعہ اور دشمن کے مقابلہ میں بہترین ہتھیار یہی ہے۔ حدیث میں ہے۔ "وان عبدی کل عبدی الذی یذکرنی وہومنا جزقرنہ"(42)
اذهَبا إِلىٰ فِرعَونَ إِنَّهُ طَغىٰ(43)
ف٧ پہلے جانے کا حکم دیا تھا۔ اب مقام بتلا دیا کہ کہاں کس کے پاس جانا ہے اور یہ جملہ آگے آنے والے کلام کی تمہید ہے۔(43)
فَقولا لَهُ قَولًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَو يَخشىٰ(44)
ف ٨ یعنی دعوت و تبلیغ وعظ و نصیحت کے وقت نرم، آسان، رقت انگیز اور بلند بات کہو۔ گو اس کے تمرد و طغیان کو دیکھتے ہوئے قبول کی امید نہیں۔ تاہم تم یہ خیال کر کے کہ ممکن ہے کہ وہ کچھ سوچ سمجھ کر نصیحت حاصل کر لے یا اللہ کے جلال و جبروت کو سن کر ڈر جائے اور فرمانبرداری کی طرف جھک پڑے، گفتگو نرمی سے کرو۔ اس سے دعاۃ و مبلغین کے لیے بہت بڑا دستور العمل معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ دوسری جگہ صاف ارشاد ہے۔ "اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ" (نحل، رکوع١٦، آیت:١٢٥)(44)
قالا رَبَّنا إِنَّنا نَخافُ أَن يَفرُطَ عَلَينا أَو أَن يَطغىٰ(45)
ف٩ یعنی اس کے ڈرنے کی امید تو بعد کو ہوگی، فی الحال اپنی بے سروسامانی اور اس کے جاہ و جلال پر نظر کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ وہ ہماری بات سننے کے لیے بھی آمادہ ہوگا یا نہیں۔ ممکن ہے ہماری پوری بات سننے سے پہلے ہی وہ بھبک پڑے یا سننے کے بعد غصہ میں بپھر جائے اور تیری شان میں زیادہ گستاخی کرنے لگے۔ یا ہم پر دست درازی کرے جس سے اصل مقصد فوت ہو جائے۔ (تنبیہ) موسیٰ علیہ السلام کے اس خوف اور شرح صدر میں کچھ منافات نہیں۔ کاملین بلاء کے نزول سے پہلے ڈرتے ہیں اور استعاذہ کرتے ہیں لیکن جب آپڑتی ہے اس وقت پورے حوصلہ اور کشادہ دلی سے اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔(45)
قالَ لا تَخافا ۖ إِنَّنى مَعَكُما أَسمَعُ وَأَرىٰ(46)
ف١٠ یعنی جو باتیں تمہارے اور اس کے درمیان ہوں گی یا جو معاملات پیش آئیں گے وہ سب میں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں مَیں کسی وقت تم سے جدا نہیں، میری حمایت و نصرت تمہارے ساتھ ہے۔ گھبرانے اور فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔(46)
فَأتِياهُ فَقولا إِنّا رَسولا رَبِّكَ فَأَرسِل مَعَنا بَنى إِسرٰءيلَ وَلا تُعَذِّبهُم ۖ قَد جِئنٰكَ بِـٔايَةٍ مِن رَبِّكَ ۖ وَالسَّلٰمُ عَلىٰ مَنِ اتَّبَعَ الهُدىٰ(47)
ف١١ اس میں تین چیزوں کی طرف دعوت دی گئی۔ (١) فرعون کا اور سب مخلوقات کا کوئی رب ہے جو رسول بھیجتا ہے (٢) ہم دونوں اس کے رسول ہیں لہٰذا ہماری اطاعت اور رب کی عبادت کرنی چاہیے۔ گویا اس جملہ میں اصل ایمان کی دعوت دی گئی اس کو "نازعات" میں اس طرح ادا کیا ہے۔ "فَقُلْ ہَلْ لَّکَ اِلٰی اَنْ تَزَکیّٰ وَاَہْدِیَکَ اِلٰی رَبِّکَ فَتَخْشٰی" آگے (٣) تیسری چیز وہ ہے جس کی اس وقت خاص ضرورت تھی۔ یعنی بنی اسرائیل کو فرعونیوں کی ذلت آمیز اور درد انگیز غلامی سے نجات دلانا۔ مطلب یہ ہے کہ اس شریف و نجیب الاصل خاندان پر ظلم و ستم مت توڑ اور ذلیل ترین غلامی سے آزادی دے کر ہمارے ساتھ کر دے۔ جہاں چاہیں آزادانہ زندگی بسر کریں۔ ف ١٢ یعنی ہمارا دعویٰ رسالت بے دلیل نہیں بلکہ اپنی صداقت پر خدائی نشان لے کر آئے ہیں۔(47)
إِنّا قَد أوحِىَ إِلَينا أَنَّ العَذابَ عَلىٰ مَن كَذَّبَ وَتَوَلّىٰ(48)
ف١٣ یعنی جو ہماری بات مان کر سیدھی راہ چلے گا اس کے لیے دونوں جہان میں سلامتی ہے۔ اور جو تکذیب یا اعراض کرے گا اس کے لیے عذاب یقینی ہے۔ خواہ صرف آخرت میں یا دنیا میں بھی۔ اب تم اپنا انجام سوچ کر جو راستہ چاہو اختیار کر لو۔(48)
قالَ فَمَن رَبُّكُما يٰموسىٰ(49)
ف١٤ یعنی تم اپنے کو جس رب کا بھیجا ہوا بتلاتے ہو وہ رب کون ہے اور کیسا ہے (اس سوال سے مترشح ہوتا ہے کہ فرعون دہری عقیدہ کی طرف مائل ہوگا یا محض دق کرنے کے لیے ایسا سوال کیا ہو)(49)
قالَ رَبُّنَا الَّذى أَعطىٰ كُلَّ شَيءٍ خَلقَهُ ثُمَّ هَدىٰ(50)
ف١٥ یعنی ہرچیز کو اس کی استعداد کے موافق شکل صورت، قویٰ، خواص وغیرہ عنایت فرمائے۔ اور کمال حکمت سے جیسا بنانا چاہیے تھا بنایا۔ پھر مخلوقات میں سے ہرچیز کے وجود و بقاء کے لیے جن سامانوں کی ضرورت تھی، مہیا کیے اور ہرچیز کو اپنی مادی ساخت اور روحانی قوتوں اور خارجی سامانوں سے کام لینے کی راہ سجھائی۔ پھر ایسا محکم نظام دکھلا کر ہم کو بھی ہدایت کر دی کہ مصنوعات کے وجود سے صانع کے وجود پر کسی طرح استدلال کرنا چاہیے فللہ الحمد والمنہ۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ "یعنی کھانے پینے کو ہوش دیا۔ بچہ کو دودھ پینا وہ نہ سکھائے تو کوئی نہ سکھا سکے۔"(50)
قالَ فَما بالُ القُرونِ الأولىٰ(51)
(51)
قالَ عِلمُها عِندَ رَبّى فى كِتٰبٍ ۖ لا يَضِلُّ رَبّى وَلا يَنسَى(52)
ف١ یعنی اگر خدا تعالٰی کے وجود پر ایسی روشن دلیلیں قائم ہو چکی ہیں اور جس چیز کی طرف تم بلاتے ہو، وہ حق ہے تو گذشتہ اقوام کے تفصیلی حالات تم کو ضرور معلوم ہونے چائیں یہ سب لایعنی اور دور ازکار قصے فرعون نے اس لیے چھیڑے کہ حضرت موسیٰ کے مضامین ہدایت کو ان فضول باتوں میں رلا دے۔ حضرت موسیٰ نے فرما دیا کہ پیغمبر کو تمام چیزوں کا تفصیلی علم ہونا ضروری نہیں، ہر قوم کے حالات کا تفصیلی علم حق تعالٰی کو ہے جو بعض مخفی مصالح کی بناء پر کتاب (لوح محفوظ) میں ثبت بھی کر دیا گیا۔ اللہ کے علم سے نہ کوئی چیز ابتداء غائب ہوسکتی ہے اور نہ علم میں آئی ہوئی چیز کو ایک سیکنڈ کے لیے بھول سکتا ہے۔ جو اعمال کسی قوم نے کسی وقت کیے ہیں سب کا ذرہ ذرہ حساب لکھا ہوا موجود ہے جو وقت پر پیش کر دیا جائے گا۔(52)
الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَرضَ مَهدًا وَسَلَكَ لَكُم فيها سُبُلًا وَأَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَجنا بِهِ أَزوٰجًا مِن نَباتٍ شَتّىٰ(53)
ف٢ یعنی وادیوں دریاؤں اور پہاڑوں کے بیچ میں سے زمین پر راہیں نکال دیں جن پر چل کر ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچ سکتے ہو۔ ف٣ یعنی پانی کے ذریعہ سے طرح طرح کی سبزیاں، غلے اور پھل پھول پیدا کر دیئے۔(53)
كُلوا وَارعَوا أَنعٰمَكُم ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِأُولِى النُّهىٰ(54)
ف٤ یعنی عمدہ غذائیں تم کھاتے ہو، جو تمہارے کام کی نہیں وہ اپنے مویشیوں کو کھلاتے ہو جن کی محنت سے ساری پیداوار حاصل ہوئی ہے۔ ف ٥ یہ فرمایا ہے دہریوں کی آنکھ کھولنے کو یعنی اس کی تدبیریں اور قدرتیں دیکھو۔ اگر عقل ہے تو سمجھ لو گے کہ یہ مضبوط و محکم انتظامات یوں ہی بخت و اتفاق سے قائم نہیں ہو سکتے۔ گویا ان آیات میں وجود باری اور توحید کی طرف توجہ دلائی۔ آگے معاد کا ذکر ہے۔(54)
۞ مِنها خَلَقنٰكُم وَفيها نُعيدُكُم وَمِنها نُخرِجُكُم تارَةً أُخرىٰ(55)
ف ٦  سب کے باپ آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا کیے گئے۔ پھر جن غذاؤں سے آدمی کا بدن پرورش پاتا ہے وہ بھی مٹی سے نکلتی ہیں، مرنے کے بعد بھی عام آدمیوں کو جلد یا بدیر مٹی میں مل جانا ہے۔ اسی طرح حشر کے وقت بھی ان اجزاء کو جو مٹی میں مل گئے تھے دوبارہ جمع کر کے از سر نو پیدا کر دیا جائے گا اور جو قبروں میں مدفون تھے وہ ان سے باہر نکالے جائیں گے۔(55)
وَلَقَد أَرَينٰهُ ءايٰتِنا كُلَّها فَكَذَّبَ وَأَبىٰ(56)
ف٧ یعنی جو آیات اس کو دکھلانا منظور تھیں، سب دکھلادیں مثلاً القائے عصاء اور یدبیضا وغیرہ مع اپنے متعلقات و تفاصیل کے۔ اس پر بھی بدبخت نہ مانا اور حجود وتکذیب پر اڑا رہا۔(56)
قالَ أَجِئتَنا لِتُخرِجَنا مِن أَرضِنا بِسِحرِكَ يٰموسىٰ(57)
ف ٨ فرعون نے یہ بات اپنی قوم "قبط" کو موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے نفرت اور اشتعال دلانے کے لیے کہی۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام کی غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ جادو کے زور سے ہم کو نکال باہر کرے اور ساحرانہ ڈھونگ بنا کر عوام کی جمعیت اپنے ساتھ کر لے اور اس طرح قبطیوں کے تمام املاک و اموال پر قابض ہو جائے۔(57)
فَلَنَأتِيَنَّكَ بِسِحرٍ مِثلِهِ فَاجعَل بَينَنا وَبَينَكَ مَوعِدًا لا نُخلِفُهُ نَحنُ وَلا أَنتَ مَكانًا سُوًى(58)
ف٩ یعنی تو اس ارادہ میں کامیاب نہیں ہو سکتا ہمارے یہاں بھی بڑے بڑے ماہر جادوگر موجود ہیں۔ بہتر ہوگا کہ ان سے مقابلہ ہو جائے۔ پس جس دن اور جس جگہ مقابلہ کرنا چاہے تجھے اس کی تعیین کا اختیار دیا جاتا ہے۔ ضرورت اس کی ہے کہ جو وقت معین ہو جائے اس سے کوئی فریق گریز نہ کرے اور جگہ ایسی ہو جہاں فریقین کو آنے اور بیٹھنے میں یکساں سہولت حاصل ہو۔ نشست وغیرہ میں راعی و رعایا یا حاکم و محکوم اور بڑے چھوٹے کا کوئی سوال نہ ہو، ہر ایک فریق آزادی سے اپنی قوت کا مظاہرہ کر سکے اور میدان بھی کھلا، ہموار اور صاف ہو کہ تماشا دیکھنے والے سب بے تکلف مشاہدہ کر سکیں۔(58)
قالَ مَوعِدُكُم يَومُ الزّينَةِ وَأَن يُحشَرَ النّاسُ ضُحًى(59)
ف١٠ پیغمبروں کے کام میں کوئی تلبیس و تلمیع نہیں ہوتی، ان کا معاملہ کھلم کھلا صاف صاف ہوتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ بہتر ہے جو بڑا میلہ اور جشن تمہارے یہاں ہوتا ہے اسی روز جب دن چڑھ جائے اس وقت میدانِ مقابلہ قائم ہو۔ یعنی میلہ میں جہاں زیادہ سے زیادہ مخلوق جمع ہوگی اور دن کے اجالے میں یہ کام کیا جائے، تاکہ دیکھنے والے بکثرت ہوں اور روزِ روشن میں کسی کو اشتباہ والتباس نہ ہو۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ "دنگل میں مقابلہ کرنے سے دونوں کی غرض تھی۔ وہ چاہے کہ ان کو ہرا دے سب کے روبرو، یہ چاہیں کہ وہ ہارے۔ جشن کا دن سارے مصر کے شہروں میں مقرر تھا فرعون کی سالگرہ کا۔"(59)
فَتَوَلّىٰ فِرعَونُ فَجَمَعَ كَيدَهُ ثُمَّ أَتىٰ(60)
ف١١ یعنی یہ طے کر کے فرعون مجلس سے اٹھ گیا اور ساحروں کو جمع کرنے اور مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ہر قسم کی تدبیریں اور داؤ گھات کرنے لگا۔ اور آخرکار مکمل تیاری کے بعد پوری طاقت کے ساتھ وقت معین پر میدانِ مقابلہ میں حاضر ہوگیا۔ ساحروں کی بڑی فوج اس کے ہمراہ تھی، انعام و اکرام کے وعدے ہو رہے تھے اور ہر طرح موسیٰ کو شکست دینے اور حق کو مغلوب کر لینے کی فکر تھی۔(60)
قالَ لَهُم موسىٰ وَيلَكُم لا تَفتَروا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا فَيُسحِتَكُم بِعَذابٍ ۖ وَقَد خابَ مَنِ افتَرىٰ(61)
ف ١٢ معلوم ہوتا ہے کہ اس مجمع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہر شخص کو اس کے حسبِ حال نصیحت فرمائی۔ چونکہ جادوگر حق کا مقابلہ جادو سے کرنے والے تھے، ان کو تنبیہ کر دی کہ دیکھو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔ خدا کے نشانوں اور انبیاء کے معجزات کو سحر بتلانا اور بے حقیقت کی چیزوں کو ثابت شدہ حقائق کے مقابلہ میں پیش کرنا گویا اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ جھوٹ باندھنے والوں کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ بلکہ اندیشہ ہے کہ ایسے لوگوں پر کوئی آسمانی آفت آپڑے۔ جو ان کی بیخ و بنیاد تک نہ چھوڑے۔(61)
فَتَنٰزَعوا أَمرَهُم بَينَهُم وَأَسَرُّوا النَّجوىٰ(62)
ف١٣ موسیٰ علیہ السلام کی تقریر نے ساحروں کی جماعت میں کھلبلی ڈال دی۔ آپس میں جھگڑنے لگے کہ اس شخص کو کیا سمجھا جائے۔ اس کی باتیں ساحروں جیسی معلوم نہیں ہوتیں۔ غرض باہم بحث و مناظرہ کرتے رہے اور سب سے الگ ہو کر انہوں نے مشورہ کیا۔ آخر اختلاف و نزاع کے بعد فرعون کے اثر سے متاثر ہو کر وہ کہا جو آگے مذکور ہے۔(62)
قالوا إِن هٰذٰنِ لَسٰحِرٰنِ يُريدانِ أَن يُخرِجاكُم مِن أَرضِكُم بِسِحرِهِما وَيَذهَبا بِطَريقَتِكُمُ المُثلىٰ(63)
ف١ یعنی تمہارا جو دین اور رسوم پہلے سے چلی آتی ہیں ان کو مٹا کر اپنا دین اور طور و طریق رائج کر دیں اور جادو کے فن کو بھی جس سے ملک میں تمہاری عزت اور کمائی ہے، چاہتے ہیں کہ دونوں بھائی تم سے لے اڑیں اور تن تنہا خود اس پر قابض ہوجائیں۔(63)
فَأَجمِعوا كَيدَكُم ثُمَّ ائتوا صَفًّا ۚ وَقَد أَفلَحَ اليَومَ مَنِ استَعلىٰ(64)
ف٢ یعنی موقع کی اہمیت کو سمجھو، وقت کو ہاتھ سے نہ جانے دو، پوری ہمت وقوت سے سب مل کر ان کے گرانے کی تدبیر کرو۔ اور دفعتاً ایسا متفقہ حملہ کر دو کہ پہلے ہی وار میں ان کے قدم اکھڑ جائیں کہ آج کا معرکہ فیصلہ کن معرکہ ہے، آج کی کامیابی دائمی کامیابی ہے۔ جو فریق آج غالب رہے گا وہ ہمیشہ کے لیے منصور و مفلح سمجھا جائے گا۔(64)
قالوا يٰموسىٰ إِمّا أَن تُلقِىَ وَإِمّا أَن نَكونَ أَوَّلَ مَن أَلقىٰ(65)
(65)
قالَ بَل أَلقوا ۖ فَإِذا حِبالُهُم وَعِصِيُّهُم يُخَيَّلُ إِلَيهِ مِن سِحرِهِم أَنَّها تَسعىٰ(66)
ف٣ موسیٰ علیہ السلام نے نہایت بے پروائی سے جواب دیا کہ نہیں، تم پہلے اپنے حوصلے نکال لو اور اپنے کرتب دکھا لو۔ تاکہ باطل کی زور آزمائی کے بعد حق کا غلبہ پوری طرح نمایاں ہو۔ یہ قصہ سورہ اعراف میں گزر چکا وہاں کے فوائد ملاحظہ کر لیے جائیں۔ ف٤ یعنی ساحرین کی نظر بندی سے موسیٰ علیہ السلام کو یوں خیال ہونے لگا گویا رسیاں اور لاٹھیاں سانپوں کی طرح دوڑ رہی ہیں، اور واقعہ میں ایسا نہ تھا۔(66)
فَأَوجَسَ فى نَفسِهِ خيفَةً موسىٰ(67)
ف ٥ کہ جادو گروں کا یہ سوانگ دیکھ کر کہیں بیوقوف لوگ دھوکہ میں نہ پڑ جائیں اور سحر و معجزہ میں فرق نہ کر سکیں۔ ایسی صورت میں حق کا غلبہ واضح نہ ہوگا۔ خوف کا یہ مطلب آگے جواب سے ظاہر ہوتا ہے۔(67)
قُلنا لا تَخَف إِنَّكَ أَنتَ الأَعلىٰ(68)
ف ٦  یعنی ڈر کو دل سے نکال دو۔ اس قسم کے وسوسے مت لاؤ۔ اللہ تعالٰی حق کو غالب اور سربلند رکھنے والا ہے۔(68)
وَأَلقِ ما فى يَمينِكَ تَلقَف ما صَنَعوا ۖ إِنَّما صَنَعوا كَيدُ سٰحِرٍ ۖ وَلا يُفلِحُ السّاحِرُ حَيثُ أَتىٰ(69)
ف٧ یعنی اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دو جو ان کے بنائے ہوئے سوانگ کا ایک دم لقمہ کر جائے گی۔ ف ٨ یعنی جادوگر کے ڈھکوسلے چاہے کہیں ہوں اور کسی حد تک پہنچ جائیں، حق کے مقابل کامیاب نہیں ہو سکتے نہ جادوگر کبھی فلاح پا سکتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں ساحر کے قتل کا حکم دیا گیا ہے۔(69)
فَأُلقِىَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قالوا ءامَنّا بِرَبِّ هٰرونَ وَموسىٰ(70)
ف٩ ساحرین فن کے جاننے والے تھے۔ اصول فن کے اعتبار سے فوراً سمجھ گئے کہ یہ سحر نہیں ہو سکتا یقینا سحر سے اوپر کوئی اور حقیقت ہے، دل میں ایمان آیا اور سجدہ میں گر پڑے۔ یہ قصہ سورہ اعراف میں گزر چکا۔(70)
قالَ ءامَنتُم لَهُ قَبلَ أَن ءاذَنَ لَكُم ۖ إِنَّهُ لَكَبيرُكُمُ الَّذى عَلَّمَكُمُ السِّحرَ ۖ فَلَأُقَطِّعَنَّ أَيدِيَكُم وَأَرجُلَكُم مِن خِلٰفٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُم فى جُذوعِ النَّخلِ وَلَتَعلَمُنَّ أَيُّنا أَشَدُّ عَذابًا وَأَبقىٰ(71)
ف١٠ یعنی ہم سے بے پوچھے ہی ایمان لے آئے۔ ہمارے فیصلہ کا بھی انتظار نہ کیا۔ معلوم ہوگیا کہ یہ تمہاری اور موسیٰ کی ملی بھگت ہے، جنگ زرگری کر کے عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہو جیسا کہ سورہ اعراف میں گزرا۔ ف١١ یعنی داہنا ہاتھ بایاں پاؤں، یا بایاں ہاتھ داہنا پاؤں۔ ف ١٢ تاکہ تمہارا حال دیکھ کر سب عبرت حاصل کریں۔ ف١٣ یعنی تم ایمان لا کر سمجھے ہو کہ ہم ہی ناجی ہیں اور دوسرے لوگ (یعنی فرعون اور اس کے ساتھی) سب ابدی عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ سو ابھی تم کو معلوم ہوا چاہتا ہے کہ کس کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیر تک رہنے والا ہے۔(71)
قالوا لَن نُؤثِرَكَ عَلىٰ ما جاءَنا مِنَ البَيِّنٰتِ وَالَّذى فَطَرَنا ۖ فَاقضِ ما أَنتَ قاضٍ ۖ إِنَّما تَقضى هٰذِهِ الحَيوٰةَ الدُّنيا(72)
(72)
إِنّا ءامَنّا بِرَبِّنا لِيَغفِرَ لَنا خَطٰيٰنا وَما أَكرَهتَنا عَلَيهِ مِنَ السِّحرِ ۗ وَاللَّهُ خَيرٌ وَأَبقىٰ(73)
ف١ یعنی ہم ایسے صاف دلائل کو تیری خاطر سے نہیں چھوڑ سکتے اور اپنے خالق حقیقی کی خوشنودی کے مقابلہ میں تیری کچھ پروا نہیں کر سکتے۔ اب جو تو کر سکتا ہے کر گزر۔ تیرا بڑا زور یہ ہی چل سکتا ہے کہ ہماری اس فانی زندگی کو ختم کر دے۔ سو کچھ مضائقہ نہیں، ہم پہلے ہی دارالفناء کے مقابلہ میں دارالقرار کو اختیار کر چکے ہیں۔ ہم کو اب یہاں کے رنج و راحت کی فکر نہیں۔ تمنا صرف یہ ہے کہ ہمارا مالک ہم سے راضی ہو جائے اور ہمارے عام گناہوں کو خصوصاً اس گناہ کو جو تیری حکومت کے خوف سے زبردستی کرنا پڑا (یعنی حق کا مقابلہ جادو سے) معاف فرما دے۔ کہتے ہیں کہ جادوگر حضرت موسیٰ کے نشان دیکھ کر سمجھ گئے تھے کہ یہ جادو نہیں۔ مقابلہ نہ کرنا چاہیے، پھر فرعون کے ڈر سے کیا۔ ف٢ یعنی جو انعام و اکرام تو ہم کو دیتا اس سے کہیں بہتر اور پائدار اجر مومنین کو خدا کے ہاں ملتا ہے۔(73)
إِنَّهُ مَن يَأتِ رَبَّهُ مُجرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لا يَموتُ فيها وَلا يَحيىٰ(74)
ف٣ یعنی انسان کو چاہیے کہ اول آخرت کی فکر کرے۔ لوگوں کا مطیع بن کر خدا کا مجرم نہ بنے۔ اس کے مجرم کا ٹھکانہ بہت برا ہے جس سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں۔ دنیا کی تکلیفیں کتنی ہی شاق ہوں موت آکر سب کو ختم کر دیتی ہے۔ لیکن کافر کو دوزخ میں موت بھی نہیں آئے گی جو تکالیف کا خاتمہ کر دے، اور جینا بھی جینے کی طرح کا نہ ہوگا، زندگی ایسی ہوگی کہ موت کو ہزار درجہ اس پر ترجیح دے گا، العیاذ باللہ۔(74)
وَمَن يَأتِهِ مُؤمِنًا قَد عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَأُولٰئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ العُلىٰ(75)
(75)
جَنّٰتُ عَدنٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها ۚ وَذٰلِكَ جَزاءُ مَن تَزَكّىٰ(76)
ف٤ مجرمین کے بالمقابل یہ مطیعین کا انجام بیان فرمادیا۔ ف ٥ یعنی پاک ہوا، گندے خیالات، فاسد عقائد، رذیل اخلاق، اور برے اعمال سے۔(76)
وَلَقَد أَوحَينا إِلىٰ موسىٰ أَن أَسرِ بِعِبادى فَاضرِب لَهُم طَريقًا فِى البَحرِ يَبَسًا لا تَخٰفُ دَرَكًا وَلا تَخشىٰ(77)
(77)
فَأَتبَعَهُم فِرعَونُ بِجُنودِهِ فَغَشِيَهُم مِنَ اليَمِّ ما غَشِيَهُم(78)
ف ٦  جب فرعونیوں نے میدان مقابلہ میں شکست کھائی، ساحرین مشرف بایمان ہوگئے۔ بنی اسرائیل کا پلہ بھاری ہونے لگا۔ اور موسیٰ علیہ السلام نے سالہا سال تک اللہ تعالٰی کی آیات باہرہ دکھلا کر ہر طرح حجت تمام کر دی۔ اس پر بھی فرعون حق کو قبول کرنے اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے پر آمادہ نہ ہوا۔ تب حق تعالٰی نے حکم دیا کہ سب بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر رات کے وقت مصر سے ہجرت کر جاؤ تاکہ اس طرح بنی اسرائیل کی مظلومیت اور غلامی کا خاتمہ ہو۔ راستہ میں سمندر (بحر قلزم) حائل ہوگا لیکن تم جیسے اولوالعزم پیغمبر کے راستہ میں سمندر کی موجیں حائل نہیں ہونی چاہئیں۔ ان ہی کے اندر سے اپنے لیے خشک راستہ نکال لو۔ جس سے گزرتے ہوئے نہ غرق ہونے کا اندیشہ کرو اور نہ اس بات کا کہ شاید دشمن پیچھے سے تعاقب کرتا ہوا آپکڑے۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے اسی ہدایت کے موافق سمندر میں لاٹھی ماری جس سے پانی پھٹ کر راستہ نکل آیا۔ خدا نے ہوا کو حکم دیا کہ زمین کو فوراً خشک کر دے۔ چنانچہ آناً فاناً سمندر کے بیچ خشک راستہ تیار ہوگیا جس کے دونوں طرف پانی کے پہاڑ کھڑے ہوئے تھے "فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ" بنی اسرائیل اس پر سے بے تکلف گزر گئے۔ پیچھے سے فرعون اپنے عظیم الشان لشکر کو لیے تعاقب کرتا آرہا تھا۔ خشک راستہ دیکھ کر ادھر ہی گھس پڑا۔ جس وقت بنی اسرائیل عبور کر گئے اور فرعونی لشکر راستہ کے بیچوں بیچ پہنچا، خدا تعالٰی نے سمندر کو ہر طرف سے حکم دیا کہ ان سب کو اپنی آغوش میں لے لے۔ پھر کچھ نہ پوچھو کہ سمندر کی موجوں نے کس طرح ان سب کو ہمیشہ کے لیے ڈھانپ لیا۔(78)
وَأَضَلَّ فِرعَونُ قَومَهُ وَما هَدىٰ(79)
ف٧ یعنی دعوے تو زبان سے بہت کیا کرتا تھا۔ "وَمَا اَہْدِیْکُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ" لیکن اس نے اپنی قوم کو کیسا اچھا راستہ بتلایا۔ وہ ہی مثال سچی کر دی کہ "ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔" جو حال دنیا میں ہوا تھا وہ ہی آخرت میں ہوگا۔ یہاں سب کو لے کر سمندر میں ڈوبا تھا وہاں سب کو ساتھ لے کر جہنم میں گرے گا۔ "یَقْدُمُ قَوْمَہ، یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَاَوْرَدَہُمُ النَّارَ"(ھود، رکوع٩، آیت:٩٨)(79)
يٰبَنى إِسرٰءيلَ قَد أَنجَينٰكُم مِن عَدُوِّكُم وَوٰعَدنٰكُم جانِبَ الطّورِ الأَيمَنَ وَنَزَّلنا عَلَيكُمُ المَنَّ وَالسَّلوىٰ(80)
(80)
كُلوا مِن طَيِّبٰتِ ما رَزَقنٰكُم وَلا تَطغَوا فيهِ فَيَحِلَّ عَلَيكُم غَضَبى ۖ وَمَن يَحلِل عَلَيهِ غَضَبى فَقَد هَوىٰ(81)
ف١ یہ حق تعالٰی بنی اسرائیل کو نصیحت فرماتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تم پر کیسے کیسے احسان و انعام کیے، چاہیے کہ ان کا حق ادا کرو۔ کیا یہ تھوڑی بات ہے کہ ایسے سخت جابر و قاہر دشمن کے ہاتھوں سے تم کو نجات دی اور اس کو کیسے عبرتناک طریقہ سے تمہاری آنکھوں کے سامنے ہلاک کیا۔ پھر بتوسط حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تم سے وعدہ ٹھہرا کہ مصر سے شام کو جاتے ہوئے کوہ "طور" کا جو مبارک و میمون حصہ داہنے ہاتھ پڑتا ہے وہاں آؤ تم کو "تورات" عطا کی جائے گی۔ "تِیہ" کے لق ودق میدان میں تمہارے کھانے کے لیے من و سلویٰ اتارا گیا (جس کا ذکر سورہ بقرہ میں گزر چکا ہے) ان احسانات کا حق یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے جو حلال طیب لذیذ اور ستھری چیزیں عنایت فرمائیں ہیں انہیں شوق سے استعمال کرو۔ لیکن اس معاملہ میں حد سے نہ گزرو مثلاً ناشکری یا فضول خرچی کرنے لگو۔ یا اس فانی تنعم پر اِترانے لگو۔ یا اس میں سے حقوق واجبہ ادا نہ کرو۔ یا اللہ کی دی ہوئی دولت معاصی میں خرچ کرنے لگو۔ یا جہاں اور جس وقت جوڑ کر رکھنے کی ممانعت ہے وہاں جوڑنے کے پیچھے پڑ جاؤ، غرض خدا کی نعمتوں کو طغیان و عصیان کا آلہ نہ بناؤ۔ ف٢ یعنی زیادتی کرو گے تو اللہ کا غضب تم پر نازل ہوگا اور ذلت و عذاب کے تاریک غاروں میں پٹک دیئے جاؤ گے۔(81)
وَإِنّى لَغَفّارٌ لِمَن تابَ وَءامَنَ وَعَمِلَ صٰلِحًا ثُمَّ اهتَدىٰ(82)
ف٣ مغضوبین کے بالمقابل یہ مغفورین کا بیان ہوا۔ یعنی کتنا ہی بڑا مجرم ہو اگر سچے دل سے تائب ہو کر ایمان و عمل صالح کا راستہ اختیار کر لے اور اسی پر موت تک مستقیم رہے تو اللہ کے یہاں بخشش اور رحمت کی کمی نہیں۔(82)
۞ وَما أَعجَلَكَ عَن قَومِكَ يٰموسىٰ(83)
(83)
قالَ هُم أُولاءِ عَلىٰ أَثَرى وَعَجِلتُ إِلَيكَ رَبِّ لِتَرضىٰ(84)
ف٤ حضرت موسیٰ علیہ السلام حسب وعدہ نہایت اشتیاق کے ساتھ کوہِ طور پر پہنچے۔ شاید قوم کے بعض نقباء کو بھی ہمراہ لے جانے کا حکم ہوگا وہ ذرا پیچھے رہ گئے۔ حضرت موسیٰ شوق میں آگے بڑھے چلے گئے۔ حق تعالٰی نے فرمایا موسیٰ! ایسی جلدی کیوں کی کہ قوم کو پیچھے چھوڑ آئے۔ عرض کیا کہ اے پروردگار! تیری خوشنودی کے لیے جلد حاضر ہوگیا۔ اور قوم بھی کچھ زیادہ دور نہیں یہ میرے پیچھے چلی آرہی ہے۔ کذا فی التفاسیر و یحتمل غیر ذلک واللہ اعلم۔(84)
قالَ فَإِنّا قَد فَتَنّا قَومَكَ مِن بَعدِكَ وَأَضَلَّهُمُ السّامِرِىُّ(85)
ف ٥ یعنی تم تو ادھر آئے اور ہم نے تیری قوم کو ایک سخت آزمائش میں ڈال دیا، جس کا سبب عالم اسباب میں سامری بنا ہے کیونکہ اس کے اغواء و اضلال سے بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کی غیبت میں بچھڑا پوجنا شروع کر دیا تھا۔ جس کا قصہ سورہ اعراف میں گزر چکا ہے۔ (تنبیہ) سامری کا نام بھی بعض کہتے ہیں موسیٰ تھا۔ بعض کے نزدیک یہ اسرائیلی تھا بعض کے نزدیک قبطی۔ بہرحال جمہور کی رائے یہ ہے کہ یہ شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عہد کا منافق تھا اور منافقین کی طرح فریب اور چالبازی سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی فکر میں رہتا تھا۔ ابن کثیر کی روایت کے موافق کتب اسرائیلیہ میں اس کا نام ہارون ہے۔(85)
فَرَجَعَ موسىٰ إِلىٰ قَومِهِ غَضبٰنَ أَسِفًا ۚ قالَ يٰقَومِ أَلَم يَعِدكُم رَبُّكُم وَعدًا حَسَنًا ۚ أَفَطالَ عَلَيكُمُ العَهدُ أَم أَرَدتُم أَن يَحِلَّ عَلَيكُم غَضَبٌ مِن رَبِّكُم فَأَخلَفتُم مَوعِدى(86)
ف ٦  یعنی میری اتباع میں تم کو دینی و دنیاوی ہر طرح کی بھلائی پہنچے گی۔ چنانچہ بہت سی عظیم الشان بھلائیاں ابھی ابھی تم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو اور جو باقی ہیں وہ بھی عنقریب ملنے والی ہیں۔ کیا اس وعدہ کو بہت زیادہ مدت گزر گئی تھی کہ تم پچھلے احسانات کو بھول گئے اور اگلے انعامات کا انتظار کرتے کرتے تھک گئے ہو؟ یا جان بوجھ کر تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟ اور دین توحید پر قائم نہ رہ کر خدا کا غضب مول لیا (کذا فسرہ ابن کثیر رحمہ اللہ) یا یہ مطلب لیا جائے کہ تم سے حق تعالٰی نے تیس چالیس روز کا وعدہ کیا تھا کہ اتنی مدت موسیٰ علیہ السلام "طور" پر معتکف رہیں گے، تب تورات شریف ملے گی۔ تو کیا بہت زیادہ مدت گزر گئی کہ تم انتظار کرتے کرتے تھک گئے؟ اور گوسالہ پرستی اختیار کر لی، یا عمداً یہ حرکت کی ہے تاکہ غضب الٰہی کے مستحق بنو۔ اور "اَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ" سے مراد وہ وعدہ ہے جو بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کیا تھا کہ آپ ہم کو خدا کی کتاب لا دیجئے ہم اسی پر عمل کیا کریں گے۔ اور آپ کے اتباع پر مستقیم رہیں گے۔(86)
قالوا ما أَخلَفنا مَوعِدَكَ بِمَلكِنا وَلٰكِنّا حُمِّلنا أَوزارًا مِن زينَةِ القَومِ فَقَذَفنٰها فَكَذٰلِكَ أَلقَى السّامِرِىُّ(87)
ف٧ یعنی ہم نے اپنے اختیار سے از خود ایسا نہیں کیا، یہ حرکت ہم سے سامری نے کرائی۔ صورت یہ ہوئی کہ قوم فرعون کے زیورات کا جو بوجھ ہم پر لدا ہوا تھا اور سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اسے کیا کریں۔ وہ ہم نے باہمی مشورہ کے بعد اپنے سے اتار پھینکا۔ اس کو آگ میں پگھلا کر سامری نے ڈھال لیا اور بچھڑے کی صورت بنا کر کھڑی کر دی۔ یہ قصہ سورہ اعراف میں گزر چکا ہے وہاں اس کے فوائد دیکھ لیے جائیں۔ (تنبیہ) قوم فرعون کے یہ زیورات کس طرح بنی اسرائیل کے ہاتھ آئے تھے؟ یا ان سے مستعار لیے تھے۔ یا مال غنیمت کے طور پر ملے یا اور کوئی صورت ہوئی۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ کوئی صورت بھی ہو، بنی اسرائیل ان کا استعمال اپنے لیے جائز نہیں سمجھتے تھے، لیکن غضب ہے کہ اس کا بت بنا کر پوجنا جائز سمجھا۔(87)
فَأَخرَجَ لَهُم عِجلًا جَسَدًا لَهُ خُوارٌ فَقالوا هٰذا إِلٰهُكُم وَإِلٰهُ موسىٰ فَنَسِىَ(88)
ف ٨ یعنی موسیٰ سے بھول ہوئی کہ خدا تعالٰی سے ہم کلام ہونے کے لیے طور پر گئے۔ خدا تو یہاں موجود ہے۔ یعنی یہ ہی بچھڑا العیاذ باللہ۔ شاید یہ قول ان میں سے سخت غالیوں کا ہوگا۔(88)
أَفَلا يَرَونَ أَلّا يَرجِعُ إِلَيهِم قَولًا وَلا يَملِكُ لَهُم ضَرًّا وَلا نَفعًا(89)
ف١ یعنی اندھوں کو اتنی موٹی بات بھی نہیں سوجھتی کہ جو مورتی نہ کسی سے بات کر سکے نہ کسی کو ادنیٰ ترین نفع نقصان پہنچانے کا اختیار رکھے، وہ معبود یا خدا کس طرح بن سکتی ہے۔(89)
وَلَقَد قالَ لَهُم هٰرونُ مِن قَبلُ يٰقَومِ إِنَّما فُتِنتُم بِهِ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحمٰنُ فَاتَّبِعونى وَأَطيعوا أَمرى(90)
ف٢ یعنی حضرت ہارون نرمی سے زبانی فہمائش کر چکے تھے کہ جس بچھڑے پر تم مفتون ہو رہے ہو، وہ خدا نہیں ہو سکتا۔ تمہارا پروردگار اکیلا رحمان ہے۔ جس نے اب تک خیال کرو کس قدر رحمتوں کی بارش تم پر کی ہے۔ اسے چھوڑ کر کدھر جا رہے ہو۔ میں موسیٰ کا جانشین ہوں اور خود نبی ہوں اگر اپنا بھلا چاہتے ہو تو لازم ہے کہ میری راہ چلو اور میری بات مانو۔ سامری کے اغواء میں مت آؤ۔(90)
قالوا لَن نَبرَحَ عَلَيهِ عٰكِفينَ حَتّىٰ يَرجِعَ إِلَينا موسىٰ(91)
ف٣ یعنی موسیٰ کے واپس آنے تک تو ہم اس سے ٹلتے نہیں ان کے آنے پر دیکھا جائے گا جو کچھ مناسب معلوم ہوگا کریں گے۔(91)
قالَ يٰهٰرونُ ما مَنَعَكَ إِذ رَأَيتَهُم ضَلّوا(92)
(92)
أَلّا تَتَّبِعَنِ ۖ أَفَعَصَيتَ أَمرى(93)
ف٤ یعنی تم کو اپنا خلیفہ بنا کر اور حکم کر کے گیا تھا کہ میری غیبت میں ان کی اصلاح کرنا اور مفسدین کے راستہ پر نہ چلنا۔ پھر تم نے کیا اصلاح کی؟ کیوں اپنے موافقین کو ساتھ لے کر ان گوسالہ پرستوں کا سختی سے مقابلہ نہ کیا؟ اگر یہ نہ ہو سکتا تھا تو ان سے منقطع ہو کر میرے پاس کیوں نہیں چلے آئے؟ غرض تم نے ایسی صریح گمراہی کو دیکھ کر میرے طریق کار کی پیروی کیوں نہیں کی؟(93)
قالَ يَبنَؤُمَّ لا تَأخُذ بِلِحيَتى وَلا بِرَأسى ۖ إِنّى خَشيتُ أَن تَقولَ فَرَّقتَ بَينَ بَنى إِسرٰءيلَ وَلَم تَرقُب قَولى(94)
ف ٥ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرطِ جوش میں ہارون علیہ السلام کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ لیے تھے۔ اس کی مفصل بحث سورہ اعراف کے فوائد میں گزر چکی۔ ف ٦  یعنی میری سمجھ میں یہ ہی آیا کہ تمہارے آنے کا انتظار کرنا اس سے بہتر ہے کہ تمہارے پیچھے کوئی ایسا کام کروں جس سے بنی اسرائیل میں پھوٹ پڑ جائے۔ کیونکہ ظاہر ہے اگر مقابلہ یا انقطاع ہوتا تو کچھ لوگ میرے ساتھ ہوتے اور بہت سے مخالف رہتے۔ مجھے ڈر ہوا کہ تم آکر یہ الزام نہ دو کہ میرا انتظار کیوں نہ کیا؟ اور قوم میں ایسا تفرقہ کیوں ڈال دیا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ "چلتے وقت موسیٰ ہارون کو نصیحت کر گئے تھے کہ سب کو متفق رکھیو۔ اس لیے انہوں نے بچھڑا پوجنے والوں کا مقابلہ نہ کیا۔ زبان سے البتہ سمجھایا وہ نہ سمجھے "بلکہ ان کے قتل پر تیار ہونے لگے "وَکَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ"(94)
قالَ فَما خَطبُكَ يٰسٰمِرِىُّ(95)
ف٧ ادھر سے فارغ ہو کر موسیٰ علیہ السلام نے سامری کو ڈانٹ پلائی اور فرمایا کہ اب تو اپنی حقیقت بیان کر۔ یہ حرکت تو نے کس وجہ سے کی؟ اور کیا اسباب پیش آئے کہ بنی اسرائیل تیری طرف جھک پڑے۔(95)
قالَ بَصُرتُ بِما لَم يَبصُروا بِهِ فَقَبَضتُ قَبضَةً مِن أَثَرِ الرَّسولِ فَنَبَذتُها وَكَذٰلِكَ سَوَّلَت لى نَفسى(96)
ف ٨ سامری نے کہا کہ مجھ کو ایک ایسی چیز نظر پڑی جو اوروں نے نہیں دیکھی تھی۔ یعنی خدا کے بھیجے ہوئے فرشتہ (جبرائیل) کو گھوڑے پر سوار دیکھا۔ شاید یہ اس وقت ہوا ہو جب بنی اسرائیل دریا میں گھسے اور پیچھے پیچھے فرعون کا لشکر گھسا اس حالت میں جبرائیل دونوں جماعتوں کے درمیان میں کھڑے ہوگئے تاکہ ایک کو دوسرے سے ملنے نہ دیں۔ بہرحال سامری نے کسی محسوس دلیل سے یا وجدان سے یا کسی قسم کے تعارفِ سابق کی بناء پر سمجھ لیا کہ یہ جبرائیل ہیں ان کے پاؤں یا ان کے گھوڑے کے پاؤں کے نیچے سے مٹھی بھر مٹی اٹھالی۔ وہ ہی اب سونے کے بچھڑے میں ڈال دی۔ کیونکہ اس کے جی میں یہ بات آئی کہ روح القدس کی خاکِ پا میں یقینا کوئی خاص تاثیر ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ "سونا تھا کافروں کا مال لیا ہوا فریب سے، اس میں مٹی پڑی برکت کی، حق اور باطل مل کر ایک کرشمہ بن گیا کہ جاندار کی طرح کی روح اور آواز اس میں ہوگئی۔" ایسی چیزوں سے بہت بچنا چاہیے۔ اسی سے بت پرستی بڑھتی ہے۔ (تنبیہ) آیت کی جو تفسیر اوپر بیان ہوئی، صحابہ و تابعین اور علمائے مفسرین سے یہ ہی منقول ہے۔ بعض زائغین نے اس پر جو طعن کیے ہیں اور آیت کی دور از صواب تاویلیں کی ہیں، ان کا کافی جواب صاحب روح المعانی نے دیا ہے۔ یہاں اس قدر بسط کا موقع نہیں۔ من شآء فلیراجعہ۔(96)
قالَ فَاذهَب فَإِنَّ لَكَ فِى الحَيوٰةِ أَن تَقولَ لا مِساسَ ۖ وَإِنَّ لَكَ مَوعِدًا لَن تُخلَفَهُ ۖ وَانظُر إِلىٰ إِلٰهِكَ الَّذى ظَلتَ عَلَيهِ عاكِفًا ۖ لَنُحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُ فِى اليَمِّ نَسفًا(97)
ف٩ یعنی مجھے ہاتھ مت لگاؤ مجھ سے علیحدہ رہو، چونکہ اس نے بچھڑا کا ڈھونگ بنایا تھا حُبِ جاہ و ریاست سے کہ لوگ اس کے ساتھ ہوں اور سردار مانیں اس کے مناسب سزا ملی کہ کوئی پاس نہ پھٹکے، جو قریب جائے وہ خوددور رہنے کی ہدایت کر دے۔ اور دنیا میں بالکل ایک ذلیل، اچھوت اور وحشی جانور کی طرح زندگی گزارے۔ ف١٠ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ "دنیا میں اس کو یہ ہی سزا ملی کہ لشکر بنی اسرائیل سے باہر الگ رہتا۔ اگر وہ کسی سے ملتا یا کوئی اس سے تو دونوں کو تپ چڑھتی، اسی لیے لوگوں کو دور دور کرتا۔ اور یہ جو فرمایا کہ ایک وعدہ ہے جو خلاف نہ ہوگا۔ شاید مراد عذاب آخرت ہے اور شاید دجال کا نکلنا، وہ بھی یہود میں سامری کے فساد کی تکمیل کرے گا۔ جیسے ہمارے پیغمبر مال بانٹتے ہیں، ایک شخص نے کہا انصاف سے بانٹو۔ فرمایا "اس کی جنس کے لوگ نکلیں گے" وہ خارجی نکلے کہ اپنے پیشواؤں پر لگے اعتراض پکڑنے، جو کوئی دین کے پیشواؤں پر طعن کرے ایسا ہی ہے۔" ف١١ یعنی تیری سزا تو یہ ہوئی۔ اب تیرے جھوٹے معبود کی قلعی بھی کھولے دیتا ہوں۔ جس بچھڑے کو تو نے خدا بنایا اور دن بھر وہاں دل جمائے بیٹھا رہتا تھا، ابھی تیری آنکھوں کے سامنے توڑ پھوڑ کر اور جلا کر راکھ کر دوں گا۔ پھر راکھ کو دریا میں بہادوں گا۔ تاکہ اس کے پجاریوں کو خوب واضح ہو جائے کہ وہ دوسروں کو تو کیا نفع نقصان پہنچا سکتا، خود اپنے وجود کی بھی حفاظت نہیں کر سکتا۔(97)
إِنَّما إِلٰهُكُمُ اللَّهُ الَّذى لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۚ وَسِعَ كُلَّ شَيءٍ عِلمًا(98)
ف١ باطل کو مٹانے کے ساتھ ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام قوم کو حق کی طرف بلاتے جاتے ہیں یعنی بچھڑا تو کیا چیز ہے کوئی بڑی سے بڑی چیز بھی معبود نہیں بن سکتی، سچا معبود تو وہ ہی ایک ہے جس کے سوا کسی کی بندگی عقلاً و نقلاً و فطرۃً روا نہیں اور جس کا لامحدود علم ذرہ ذرہ کو محیط ہے۔(98)
كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيكَ مِن أَنباءِ ما قَد سَبَقَ ۚ وَقَد ءاتَينٰكَ مِن لَدُنّا ذِكرًا(99)
ف٢ یعنی موسیٰ وفرعون کی طرح اور بہت سی گذشتہ اقوام کے واقعات ہم تجھ کو اور تیرے ذریعہ سے تمام دنیا کو سناتے رہتے ہیں جس میں بہت سے فوائد ہیں مثلاً علم کی توقیر، معجزات کی تکثیر، پیغمبر اور مسلمانوں کی تسلی، عقلمندوں کے لیے عبرت و تذکیر اور معاندین کے حق میں تہدید و ترہیب کا سامان ہوتا ہے۔ ف٣ یعنی قرآنِ کریم جو ان عبرت آموز واقعات و حقائق پر مشتمل ہے۔(99)
مَن أَعرَضَ عَنهُ فَإِنَّهُ يَحمِلُ يَومَ القِيٰمَةِ وِزرًا(100)
(100)
خٰلِدينَ فيهِ ۖ وَساءَ لَهُم يَومَ القِيٰمَةِ حِملًا(101)
ف٤ یعنی اعراض و تکذیب سے جو گناہوں کا بوجھ قیامت کے دن ان پر لادا جائے گا، کبھی ہلکا نہ ہوگا۔ ہمیشہ اس کے نیچے دبے رہیں گے پھر اس کا اٹھانا کوئی ہنسی کھیل نہیں جب اٹھائیں گے تو پتہ چلے گا کہ کیسے برے اور سخت بوجھ کے نیچے دبائے گئے ہیں۔(101)
يَومَ يُنفَخُ فِى الصّورِ ۚ وَنَحشُرُ المُجرِمينَ يَومَئِذٍ زُرقًا(102)
ف ٥ یعنی محشر میں لائے جانے کے وقت اندھے ہوں گے۔ یا شاید یوں ہی آنکھیں نیلی ہوں بدنمائی کے واسطے، بہرحال اگر پہلے معنی لیے جائیں تو یہ ایک خاص وقت کا ذکر ہے۔ پھر آنکھیں کھول دی جائیں گی تاکہ دوزخ وغیرہ کو دیکھ سکیں۔ وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ الایہ (الکہف، رکوع٧، آیت:٥٣) اَسْمِعْ بِہِمْ وَاَبْصِرْ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا (مریم، رکوع٢، آیت:٣٨)(102)
يَتَخٰفَتونَ بَينَهُم إِن لَبِثتُم إِلّا عَشرًا(103)
ف ٦  یعنی آخرت کا طول اور وہاں کے ہولناک احوال کی شدت کو دیکھ کر دنیا میں یا قبر میں رہنا اتنا کم نظر آئے گا کہ گویا ہفتہ عشرہ سے زیادہ نہیں رہے۔ بڑی جلدی دنیا ختم ہوگئی۔ یہاں کے مزے اور لمبی چوڑی امیدیں سب بھول جائیں گے۔ بیہودہ عمر ضائع کرنے پر ندامت ہوگی۔ یا شاید معذرت کے طور پر ایسا کہیں گے۔ یعنی دنیا میں بہت ہی کم ٹھہرنا ہوا۔ موقع نہ ملا کہ آخرت کے لیے کچھ سامان کرے جیسے دوسری جگہ فرمایا وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ مَالَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَۃٍ۔ الیٰ آخرہ (روم، رکوع٦، آیت:٥٥)(103)
نَحنُ أَعلَمُ بِما يَقولونَ إِذ يَقولُ أَمثَلُهُم طَريقَةً إِن لَبِثتُم إِلّا يَومًا(104)
ف٧ یعنی چپکے کہنا ہم سے نہیں چھپتا۔ وہ آپس میں جو سرگوشیاں کریں گے ہم کو خوب معلوم ہیں۔ ف ٨ یعنی جو ان میں زیادہ عقلمند، صاحب الرائے اور ہوشیار ہوگا وہ کہے گا کہ یہاں دس دن بھی کہاں؟ صرف ایک ہی دن سمجھو۔ اس کو زیادہ عقلمند اور اچھی راہ روش والا اس لیے فرمایا کہ دنیا کے زوال و فنا اور آخرت کی بقاء و دوام اور شدتِ ہول کو اس نے دوسروں سے زیادہ سمجھا۔(104)
وَيَسـَٔلونَكَ عَنِ الجِبالِ فَقُل يَنسِفُها رَبّى نَسفًا(105)
(105)
فَيَذَرُها قاعًا صَفصَفًا(106)
(106)
لا تَرىٰ فيها عِوَجًا وَلا أَمتًا(107)
ف٩ یعنی قیامت کے ذکر پر منکرین حشر استہزاءً کہتے ہیں کہ ایسے ایسے سخت اور عظیم الشان پہاڑوں کا کیا حشر ہوگا؟ کیا یہ بھی ٹوٹ پھوٹ جائیں گے؟ اس کا جواب دیا کہ حق تعالٰی کی لامحدود قدرت کے سامنے پہاڑوں کی کیا حقیقت ہے ان سب کو ذرا سی دیر میں کوٹ پیس کر ریت کے ذرات اور دھنی ہوئی روئی کی طرح ہوا میں اڑا دیا جائے گا اور زمین بالکل صاف و ہموار کر دی جائے گی جس میں کچھ ایچ پیچ اور اونچ نیچ نہ رہے گی، پہاڑوں کی رکاوٹیں ایک دم میں صاف کر دی جائیں گی۔(107)
يَومَئِذٍ يَتَّبِعونَ الدّاعِىَ لا عِوَجَ لَهُ ۖ وَخَشَعَتِ الأَصواتُ لِلرَّحمٰنِ فَلا تَسمَعُ إِلّا هَمسًا(108)
ف١٠ یعنی جدھر فرشتہ آواز دے گا یا جہاں بلائے جائیں گے سیدھے تیر کی طرح ادھر دوڑے جائیں گے۔ نہ بلانے والے کی بات ٹیڑھی ہوگی اور نہ دوڑنے والوں میں کچھ ٹیڑھا ترچھا پن رہے گا۔ کاش یہ لوگ دنیا میں اللہ کے داعی کی آواز پر اسی طرح سیدھے جھپٹتے تو وہاں کام آتا۔ پر یہاں اپنی بدبختی اور کجروی سے ہمیشہ ٹیڑھی چال چلتے رہے۔ ف١١ یعنی محشر کی طرف چلنے کی کھسکھساہٹ کے سوا اس وقت رحمان کے خوف و ہیبت کے مارے کسی کی آواز نہ سنائی دے گی، اگر کوئی کچھ کہے گا بھی تو اس قدر آہستہ جیسے کانا پھوسی کرتے ہوں۔(108)
يَومَئِذٍ لا تَنفَعُ الشَّفٰعَةُ إِلّا مَن أَذِنَ لَهُ الرَّحمٰنُ وَرَضِىَ لَهُ قَولًا(109)
ف ١٢ یعنی اس کی سفارش چلے گی جس کو خدا تعالٰی کی طرف سے سفارش کی اجازت ملے۔ اس کا بولنا خدا کو پسند ہو اور بات ٹھکانے کی کہے اور ایسے شخص کی سفارش کرے جس کی بات (لا الہ الا اللہ) خدا کو پسند آچکی ہے کافر کے حق میں کوئی سعی سفارش نہیں چلے گی۔(109)
يَعلَمُ ما بَينَ أَيديهِم وَما خَلفَهُم وَلا يُحيطونَ بِهِ عِلمًا(110)
ف١ یعنی خدا کا علم سب کو محیط ہے لیکن بندوں کا علم اس کو یا اس کی معلومات کو محیط نہیں۔ اس لیے وہ ہی اپنے علم محیط سے جانتا ہے کہ کس کو کس کے لیے شفاعت کا موقع دینا چاہیے۔(110)
۞ وَعَنَتِ الوُجوهُ لِلحَىِّ القَيّومِ ۖ وَقَد خابَ مَن حَمَلَ ظُلمًا(111)
ف٢ یعنی اس روز بڑے بڑے سرکش متکبروں کے سر بھی اعلانیہ اسی حیّ و قیّوم کے سامنے ذلیل قیدیوں کی طرح جھکے ہوں گے۔ جنہوں نے کبھی خدا کے آگے پیشانی نہ ٹیکی تھی اس وقت بڑی عاجزی سے گردن جھکائے چلے آئیں گے۔ ف٣ یعنی ظالم کا حال کچھ نہ پوچھو کیسا خراب ہوگا۔ ظلم کے لفظ میں شرک اور دوسرے معاصی بھی داخل ہیں۔ جیسے فرمایا اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ (لقمان، رکوع٢، آیت:١٣) اور وَالَّذِیْنَ اِذَافَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْظَلَمُوْآ اَنْفُسَہُمْ الخ (آل عمران، رکوع١٤، آیت:١٣٥) ہر ایک ظالم کی خرابی اس کے درجہ ظلم کے موافق ہوگی۔(111)
وَمَن يَعمَل مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَهُوَ مُؤمِنٌ فَلا يَخافُ ظُلمًا وَلا هَضمًا(112)
ف٤ بے انصافی یہ کہ کوئی نیکی ضائع کر دی جائے یا ناکردہ گناہ پکڑا جائے۔ اور نقصان پہنچنا یہ کہ استحقاق سے کم بدلہ دیا جائے۔(112)
وَكَذٰلِكَ أَنزَلنٰهُ قُرءانًا عَرَبِيًّا وَصَرَّفنا فيهِ مِنَ الوَعيدِ لَعَلَّهُم يَتَّقونَ أَو يُحدِثُ لَهُم ذِكرًا(113)
ف ٥ یعنی جیسے یہاں محشر کے احوال اور نیک و بد کے نتائج صاف صاف سنا دیے۔ اسی طرح ہم نے پورا قرآن صاف زبان عربی میں نازل کیا تھا جو لوگ اس کے اولین مخاطب ہیں اس کو پڑھ کر خدا سے ڈریں۔ اور تقویٰ کی راہ اختیار کریں، اور اتنا نہ ہو تو کم ازکم ان کے دلوں میں اپنے انجام کی طرف سے کچھ سوچ تو پیدا ہو جائے۔ ممکن ہے یہ ہی سوچ اور غوروفکر آگے بڑھتے بڑھتے ہدایت پر لے آئے اور ان کے ذریعہ سے دوسروں کو ہدایت ہو۔(113)
فَتَعٰلَى اللَّهُ المَلِكُ الحَقُّ ۗ وَلا تَعجَل بِالقُرءانِ مِن قَبلِ أَن يُقضىٰ إِلَيكَ وَحيُهُ ۖ وَقُل رَبِّ زِدنى عِلمًا(114)
ف ٦  جس نے ایسا عظیم الشان قرآن اتارا، اور اپنی رعایا کو ایسی سچی اور کھری باتیں ان کے فائدہ کے لیے سنائیں۔ ف٧ یعنی جب قرآن ایسی مفید و عجیب چیز ہے تو جس طرح ہم اس کو بتدریج آہستہ آہستہ اتارتے ہیں، تم بھی اس کو جبرائیل سے لینے میں جلدی نہ کیا کرو۔ جس وقت فرشتہ وحی پڑھ کر سنائے، تم عجلت کر کے اس کے ساتھ ساتھ نہ پڑھو۔ ہم ذمہ لے چکے ہیں کہ قرآن تمہارے سینے سے نکلنے نہ پائے گا۔ پھر اس فکر میں کیوں پڑتے ہو کہ کہیں بھول نہ جاؤں اس فکر کے بجائے یوں دعا کیا کرو کہ اللہ تعالٰی قرآن کی اور زیادہ سمجھ اور بیش از بیش علوم و معارف عطا فرمائے۔ دیکھو آدم نے ایک چیز میں بے موقع تعجیل کی تھی اس کا انجام کیا ہوا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " جبرائیل جب قرآن لاتے تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پڑھنے کے ساتھ آپ بھی پڑھنے لگتے کہ بھول نہ جاؤں، اس کو پہلے منع فرمایا تھا سورہ قیامۃ میں "لَاتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہ، وَقُرْاٰنَہ،" اور تسلی کر دی تھی کہ اس کا یاد رکھوانا اور لوگوں تک پہنچوانا ہمارے ذمہ ہے۔ لیکن بندہ بشر ہے، شاید بھول گئے ہوں اس لیے پھر اس آیت سے تقید کیا اور بھولنے پر آگے مثل بیان فرمائی آدم کی۔"(114)
وَلَقَد عَهِدنا إِلىٰ ءادَمَ مِن قَبلُ فَنَسِىَ وَلَم نَجِد لَهُ عَزمًا(115)
ف ٨ وہ ہی جو دانہ کھا لیا تھا۔ بھول گئے، یعنی قائم نہ رہے، آگے اس قصہ کی قدرے تفصیل ہے۔(115)
وَإِذ قُلنا لِلمَلٰئِكَةِ اسجُدوا لِءادَمَ فَسَجَدوا إِلّا إِبليسَ أَبىٰ(116)
(116)
فَقُلنا يٰـٔادَمُ إِنَّ هٰذا عَدُوٌّ لَكَ وَلِزَوجِكَ فَلا يُخرِجَنَّكُما مِنَ الجَنَّةِ فَتَشقىٰ(117)
ف٩ ظاہر ہے بہشت کا آرام دوسری جگہ کہاں مل سکتا ہے۔ آخر کھانے پہننے، رہنے سہنے کی تدبیریں کرنی پڑیں گی۔(117)
إِنَّ لَكَ أَلّا تَجوعَ فيها وَلا تَعرىٰ(118)
(118)
وَأَنَّكَ لا تَظمَؤُا۟ فيها وَلا تَضحىٰ(119)
ف١٠ انسان کی یہ ہی بڑی ضرورتیں ہیں، کھانا، پینا، پہننا اور رہنے کے لیے مکان جس میں دھوپ بارش کا بچاؤ ہو۔ جنت میں اس طرح کی کوئی تکلیف نہیں۔ ہر طرح راحت ہی راحت ہے۔" بہشت آنجا کہ آزارے نباشد" یہاں راحت کا ذکر نہیں کیا۔ صرف تکلیفوں کی نفی کی شاید متنبہ کرنے کے لیے کہ یہاں سے نکلے تو ان سب چیزوں کی تکلیف اٹھاؤ گے۔(119)
فَوَسوَسَ إِلَيهِ الشَّيطٰنُ قالَ يٰـٔادَمُ هَل أَدُلُّكَ عَلىٰ شَجَرَةِ الخُلدِ وَمُلكٍ لا يَبلىٰ(120)
ف١١ یعنی ایسا درخت بتاؤں، جس کے کھانے سے کبھی موت نہ آئے اور لازوال بادشاہت ملے۔(120)
فَأَكَلا مِنها فَبَدَت لَهُما سَوءٰتُهُما وَطَفِقا يَخصِفانِ عَلَيهِما مِن وَرَقِ الجَنَّةِ ۚ وَعَصىٰ ءادَمُ رَبَّهُ فَغَوىٰ(121)
ف١ یہ سب قصہ سورہ اعراف وغیرہ میں مفصل گزر چکا ہے۔ وہاں کے فوائد میں ہم اس کے اجزاء پر نہایت کافی و شافی کلام کر چکے ہیں۔(121)
ثُمَّ اجتَبٰهُ رَبُّهُ فَتابَ عَلَيهِ وَهَدىٰ(122)
ف٢ یعنی جب حکم الٰہی کے امتثال میں غفلت و کوتاہی ہوئی تو اپنی شان کے موافق عزم و استقامت کی راہ پر ثابت قدم نہ رہے۔ اسی کو غوایت و عصیان سے تغلیظاً تعبیر فرمایا ہے بقاعدہ "حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ" اس کی بحث بھی پہلے گزر چکی۔ یعنی شیطان کا تسلط نہیں ہونے دیا، بلکہ فوراً توبہ کی توفیق بخشی، خلعت قبول سے نوازا، اور بیش از بیش مہربانی سے اس کی طرف متوجہ ہوا اور اپنی خوشنودی کے راستہ پر قائم کر دیا۔(122)
قالَ اهبِطا مِنها جَميعًا ۖ بَعضُكُم لِبَعضٍ عَدُوٌّ ۖ فَإِمّا يَأتِيَنَّكُم مِنّى هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُداىَ فَلا يَضِلُّ وَلا يَشقىٰ(123)
ف٣ اگر یہ خطاب صرف آدم و حوا کو ہے تو یہ مراد ہوگی کہ ان کی اولاد آپس میں ایک دوسرے کی دشمن رہے گی۔ جیسا رفاقت کر کے گناہ کیا تھا۔ اس رفاقت کا بدلہ یہ ملا کہ اولاد آپس میں دشمن ہوئی اور اگر خطاب آدم و ابلیس کو ہے تو یہ مطلب ہوگا کہ دونوں کی ذریت میں یہ دشمنی برابر قائم رہے گی۔ شیاطین ہمیشہ بنی آدم کو ضرر پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ ف٤ یعنی نبیوں اور کتابوں کے ذریعہ سے۔ ف ٥ یعنی نہ جنت کے راستہ سے بہکے گا نہ اس سے محروم ہو کر تکلیف اٹھائے گا۔ جس وطن اصلی سے نکل کر آیا تھا، بے کھٹکے پھر وہیں جا پہنچے گا۔(123)
وَمَن أَعرَضَ عَن ذِكرى فَإِنَّ لَهُ مَعيشَةً ضَنكًا وَنَحشُرُهُ يَومَ القِيٰمَةِ أَعمىٰ(124)
ف ٦  جو آدمی اللہ کی یاد سے غافل ہو کر محض دنیا کی فانی زندگی ہی کو قبلہ مقصود سمجھ بیٹھا ہے، اس کی گزران مکدّر اور تنگ کر دی جاتی ہے گو دیکھنے میں اس کے پاس بہت کچھ مال و دولت اور سامان عیش و عشرت نظر آئیں۔ مگر اس کا دل قناعت و توکل سے خالی ہونے کی بناء پر ہر وقت دنیا کی مزید حرص، ترقی کی فکر اور کمی کے اندیشہ میں بے آرام رہتا ہے۔ کسی وقت ننانوے کے پھیر سے قدم باہر نہیں نکلتا۔ موت کا یقین اور زوالِ دولت کے خطرات الگ سوہانِ روح رہتے ہیں۔ یورپ کے اکثر متنعّمین کو دیکھ لیجئے کسی کو رات دن میں دو گھنٹے اور کسی خوش قسمت کو تین چار گھنٹے سونا نصیب ہوتا ہوگا۔ بڑے بڑے کروڑ پتی دنیا کے مخمصوں سے تنگ آکر موت کو زندگی پر ترجیح دینے لگتے ہیں۔ اس نوع کی خود کشی کی بہت مثالیں پائی گئی ہیں۔ نصوص اور تجربہ اس پر شاہد ہیں کہ اس دنیا میں قلبی سکون اور حقیقی اطمینان کسی کو بدون یادِ الٰہی کے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اَلَابِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ" لیکن " ذوق این بادہ ندانی بخدا تانہ چشی" بعض مفسرین نے "معیشۃِ ضنک" کے معنی لیے ہیں وہ زندگی جس میں خیر داخل نہ ہو سکے۔ گویا خیر کو اپنے اندر لینے سے تنگ ہوگئی۔ ظاہر ہے کہ ایک کافر جو دنیا کے نشہ میں بدمست ہے اس کا سارا مال و دولت اور سامان عیش و تنعم آخرکار اس کے حق میں وبال بننے والا ہے۔ جس خوشحالی کا انجام چند روز کے بعد دائمی تباہی ہو۔ اسے خوشحالی کہنا کہاں زیبا ہے بعض مفسرین نے "مَعِیْشَۃً ضَنْکًا" سے قبر کی برزخی زندگی مراد لی ہے۔ یعنی قیامت سے پہلے اس پر سخت تنگی کا ایک دور آئے گا جبکہ قبر کی زمین بھی اس پر تنگ کر دی جائے گی۔ "معیشۃ ضنک" کی تفسیر عذاب قبر سے بعض صحابہ نے کی ہے بلکہ بزار نے باسناد جید ابوہریرہ رضی اللہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ بہرحال "معیشۃً ضنکًا" کے تحت میں یہ سب صورتیں داخل ہوسکتی ہیں۔ واللہ اعلم۔ ف٧ یعنی آنکھوں سے اندھا کر کے محشر کی طرف لایا جائے گا۔ اور دل کا بھی اندھا ہوگا کہ کسی حجت کی طرف راستہ نہ پائے گا۔ یہ ابتدائے حشر کا ذکر ہے پھر آنکھیں کھول دی جائیں گی۔ تاکہ دوزخ وغیرہ احوالِ محشر کا معائنہ کرے۔(124)
قالَ رَبِّ لِمَ حَشَرتَنى أَعمىٰ وَقَد كُنتُ بَصيرًا(125)
ف ٨ یعنی جو کافر دنیا میں ظاہری آنکھیں رکھتا تھا تعجب سے سوال کرے گا کہ آخر مجھ سے کیا قصور ہوا جو آنکھیں چھین لی گئیں۔(125)
قالَ كَذٰلِكَ أَتَتكَ ءايٰتُنا فَنَسيتَها ۖ وَكَذٰلِكَ اليَومَ تُنسىٰ(126)
ف٩ یعنی دنیا میں ہماری آیات دیکھ سن کر یقین نہ لایا نہ ان پر عمل کیا۔ ایسا بھولا رہا کہ سب سنی ان سنی کر دی۔ آج اسی طرح تجھ کو بھلایا جا رہا ہے۔ جیسے وہاں اندھا بنا رہا تھا، یہاں اسی کے مناسب سزا ملنے اور اندھا کر کے اٹھائے جانے پر تعجب کیوں ہے۔(126)
وَكَذٰلِكَ نَجزى مَن أَسرَفَ وَلَم يُؤمِن بِـٔايٰتِ رَبِّهِ ۚ وَلَعَذابُ الءاخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبقىٰ(127)
ف١٠ یعنی اسی طرح ہر ایک مجرم کو اس کے مناسب حال سزا دی جائے گی۔ ف١١ اس لیے بڑی حماقت ہوگی کہ یہاں کی تکلیف سے گھبرائیں اور وہاں کے عذاب سے بچنے کی فکر نہ کریں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں "یعنی یہ عذاب اندھا ہونے کا حشر میں ہے اور دوزخ میں اور زیادہ"(127)
أَفَلَم يَهدِ لَهُم كَم أَهلَكنا قَبلَهُم مِنَ القُرونِ يَمشونَ فى مَسٰكِنِهِم ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِأُولِى النُّهىٰ(128)
ف ١٢ یعنی آخرت میں جو سزا ملے گی اگر اس پر یقین نہیں آتا تو کیا تاریخی واقعات سے بھی سبق حاصل نہیں کرتے۔ ان ہی مکہ والوں کے آس پاس کتنی قومیں اپنے کفر و طغیان کی بدولت تباہ کی جا چکی ہیں جن کے افسانے لوگوں کی زبان پر باقی ہیں اور جن میں سے بعض کے کھنڈرات پر ملک شام وغیرہ کا سفر کرتے ہوئے خود ان کا گزر بھی ہوتا ہے۔ جنہیں دیکھ کر ان غارت شدہ قوموں کی یاد تازہ ہو جانا چاہیے کہ کس طرح انہی مکانوں میں چلتے پھرتے ہلاک کر دیے گئے۔(128)
وَلَولا كَلِمَةٌ سَبَقَت مِن رَبِّكَ لَكانَ لِزامًا وَأَجَلٌ مُسَمًّى(129)
ف١ یعنی حق تعالٰی کی رحمت غضب پر سابق ہے۔ اسی لیے مجرم کو دیر تک اصلاح کا موقع دیتے ہیں اور پوری طرح اتمام حجت کے بدون ہلاک نہیں کرتے۔ بلکہ اس امت کے متعلق تو یہ بھی فرما دیا ہے۔ "وَمَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِبَہُمْ وَاَنْتَ فِیْہِمْ" الخ اور اپنی خاص مہربانی سے عذاب عام مستأصل کو اس امت سے اٹھا لیا ہے۔ یہ بات ہے جو تیرے رب کی طرف سے نکل چکی اگر یہ نہ ہوتی اور ہر ایک مجرم قوم کے عذاب کا ایک خاص وقت مقرر نہ ہوتا تو لازمی طور پر ان کو عذاب آگھیرتا۔ کیونکہ ان کا کفر و شرارت اسی کو مقتضی ہے کہ فوراً ہلاک کر دیے جائیں۔ صرف مصالح مذکورہ بالا مانع ہیں جن سے اس قدر توقف ہو رہا ہے۔ آخر قیامت میں عذاب عظیم کا مزا چکھنا پڑے گا۔ اور جب وقت آئے گا تو دنیا میں بھی اس گھمسان کا نمونہ دیکھ لیں گے۔ چنانچہ بدر میں مسلمانوں سے مڈ بھیڑ ہوئی تو تھوڑا سا نمونہ دیکھ لیا۔(129)
فَاصبِر عَلىٰ ما يَقولونَ وَسَبِّح بِحَمدِ رَبِّكَ قَبلَ طُلوعِ الشَّمسِ وَقَبلَ غُروبِها ۖ وَمِن ءانائِ الَّيلِ فَسَبِّح وَأَطرافَ النَّهارِ لَعَلَّكَ تَرضىٰ(130)
ف٢ یعنی عذاب اپنے وقت پر ہو کر رہے گا۔ تاخیر و امہال کو دیکھ کر یہ لوگ جو کچھ بکیں بکنے دو۔ آپ فی الحال ان کی باتوں کو سہتے رہیے اور صبرو سکون سے آخری نتیجہ کا انتظار کیجئے۔ ان کے کلماتِ کفر پر حد سے زیادہ مضطرب ہونے کی ضرورت نہیں۔ ف٣ یہ فجر اور عصر کی نمازیں ہوئیں۔ یعنی احمقوں اور شریروں کی باتوں پر دھیان نہ کرو۔ صبر و سکون کے ساتھ اپنے رب کی عبادت میں لگے رہو۔ کیونکہ خدا کی مدد صبرو صلوٰۃ دو چیزوں سے حاصل ہوتی ہے۔ "وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِوَالصَّلٰوۃِ" ف٤ اس میں مغرب و عشاء بلکہ بعض تفاسیر کے موافق نماز تہجد بھی داخل ہے۔ ف ٥ یہ ظہر کی نماز ہوئی، کیونکہ اس وقت دن کے نصف اول اور نصف آخر کی حدیں ملتی ہیں۔ بلکہ صحاح و قاموس وغیرہ میں تصریح کی ہے کہ "طرف" طائفۃ من الشئی" یعنی کسی شئے کے حصہ کو کہتے ہیں۔ خاص حد اور کنارہ کے معنی نہیں اس صورت میں نہار کو جنس مان کر ہر دن کا ایک خاص حصہ مراد ہو سکتا ہے، جہاں دن کی تنصیف ہوتی ہے۔ ف ٦  یعنی ایسا طرزِ عمل رکھو گے تو ہمیشہ دنیا و آخرت میں راضی رہو گے۔ اس عمل کا بڑا بھاری اجر ملے گا اور امت کی مدد ہوگی دنیا میں اور بخشش ہوگی آخرت میں آپ کی سفارش سے جسے دیکھ کر آپ خوش ہوں گے۔(130)
وَلا تَمُدَّنَّ عَينَيكَ إِلىٰ ما مَتَّعنا بِهِ أَزوٰجًا مِنهُم زَهرَةَ الحَيوٰةِ الدُّنيا لِنَفتِنَهُم فيهِ ۚ وَرِزقُ رَبِّكَ خَيرٌ وَأَبقىٰ(131)
ف٧ یعنی دنیا میں قسم قسم کے کافروں مثلاً یہود، نصاریٰ، مشرکین، مجوسی وغیرہ کو ہم نے عیش و تنعم کے جو سامان دیے ہیں ان کی طرف آپ کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے (جیسے اب تک نہیں دیکھا) یہ محض چند روزہ بہار ہے جس کے ذریعہ سے ہم ان کا امتحان کرتے ہیں کہ کون احسان مانتا ہے اور کون سرکشی کرتا ہے، جو عظیم الشان دولت حق تعالٰی نے (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کے لیے مقدر کی ہے مثلاً قرآن کریم، منصب رسالت، فتوحاتِ عظیمہ، رفع ذکر اور آخرت کے اعلیٰ ترین مراتب اس کے سامنے ان فانی اور حقیر سامانوں کی کیا حقیقت ہے۔ آپ کے حصہ میں جو دولت آئی وہ ان کی دولتوں سے کہیں بہتر ہے اور بذاتِ خود یا اپنے اثر کے اعتبار سے ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ بہرحال آپ نہ ان کی تکذیب و اعراض سے مضطرب ہوں نہ ان کے سازو سامان اور مال و دولت کی طرف نظر التفات اٹھائیں۔(131)
وَأمُر أَهلَكَ بِالصَّلوٰةِ وَاصطَبِر عَلَيها ۖ لا نَسـَٔلُكَ رِزقًا ۖ نَحنُ نَرزُقُكَ ۗ وَالعٰقِبَةُ لِلتَّقوىٰ(132)
ف ٨ یعنی اپنے متعلقین اور اتباع کو بھی نماز کی تاکید فرماتے رہیے۔ حدیث میں آپ نے فرمایا کہ بچہ جب سات برس کا ہو جائے تو (عادت ڈالنے کے لیے) نماز پڑھواؤ۔ جب دس برس کا ہو تو مار کر پڑھاؤ۔ ف٩ دنیا میں مالک غلاموں سے روزی کمواتے ہیں۔ وہ مالک بندگی چاہتا ہے اور غلاموں کو روزی آپ دیتا ہے (کذافی الموضح) غرض ہماری نماز سے اس کا کچھ فائدہ نہیں، البتہ ہمارا فائدہ ہے کہ نماز کی برکت سے بے غائلہ روزی ملتی ہے "وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَل لَّہ، مَخْرَجًا وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ" (طلاق، رکوع١، آیت:٢،٣) اسی لیے اگر فرض نماز اور کسب معاش میں تعارض ہو تو اللہ تعالٰی اجازت نہیں دیتا کہ کسب معاش کے مقابلہ میں نماز ترک کر دو۔ نماز بہرحال ادا کرنی ہے۔ روزی پہنچانے والا وہ خدا ہے جس کی نماز پڑھتے ہیں۔ الحاصل کسب معاش کے ان ذرائع کا خدا تعالٰی نے حکم نہیں دیا جو ادائے فرائض عبودیت میں مخل و مزاحم ہوں۔ انسان کو چاہیے کہ پرہیزگاری اختیار کرے۔ انجام کار دیکھ لے گا کہ خدا کس طرح اس کی مدد کرتا ہے۔(132)
وَقالوا لَولا يَأتينا بِـٔايَةٍ مِن رَبِّهِ ۚ أَوَلَم تَأتِهِم بَيِّنَةُ ما فِى الصُّحُفِ الأولىٰ(133)
ف١٠ یعنی کوئی ایسی کھلی نشانی کیوں نہیں دکھلاتے جس کے بعد ہم کو انکار کی گنجائش ہی نہ رہے۔ ورنہ اس روز روز کی تہدید و تخویف سے کیا فائدہ۔ ف١١ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ "یعنی اگلی کتابوں میں خبر ہے رسول آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ یا یہ معنی کہ پہلے پیغمبروں کی نشانی کافی ہے۔ یہ پیغمبر بھی اصولاً ان ہی باتوں کی تقید کرتا ہے کوئی انوکھی بات نہیں کہتا۔ یا یہ نشانی کی اگلی کتابوں کے موافق واقعات بیان کرتا ہے۔" اور بہترین تفسیر میرے نزدیک وہ ہے جو ابن کثیر وغیرہ نے اختیار کی۔ یعنی یہ لوگ ہٹ دھرمی سے کہتے ہیں کہ کوئی نشانی کیوں نہیں لایا۔ کیا اور سینکڑوں نشانات کے علاوہ سب سے بڑا عظیم الشان یہ قرآن ان کے پاس نہیں آچکا جو اگلی کتابوں کے ضروری مضامین کا محافظ اور ان کی صداقت کے لیے بطور حجت اور گواہ کے ہے اور جس کا اعجاز آفتاب سے زیادہ روشن ہے وَقَالُوْا لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَاتٌ مِّنْ رَّبِّہٖ قُلْ ِانَّمَا الْاٰیَاتُ عِنْدَاللّٰہِ وَاِنَّمَا اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ اَوَلَمْ یَکْفِہِمْ اَنَّا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ یُتْلٰی عَلَیْہِمْ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَرَحْمَۃً وَّذِکْرٰی لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۔ (عنکبوت، رکوع٥، آیت:٥١)(133)
وَلَو أَنّا أَهلَكنٰهُم بِعَذابٍ مِن قَبلِهِ لَقالوا رَبَّنا لَولا أَرسَلتَ إِلَينا رَسولًا فَنَتَّبِعَ ءايٰتِكَ مِن قَبلِ أَن نَذِلَّ وَنَخزىٰ(134)
(134)
قُل كُلٌّ مُتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصوا ۖ فَسَتَعلَمونَ مَن أَصحٰبُ الصِّرٰطِ السَّوِىِّ وَمَنِ اهتَدىٰ(135)
ف ١٢ یعنی ایسا عظیم الشان نشان دیکھنے کے بعد تو کہتے ہیں کہ کوئی نشان کیوں نہ لایا۔ اور فرض کرو ہم یہ نشان نہ دکھاتے، یعنی قرآن نازل نہ کرتے، بس انزال کتاب اور ارسال رسول سے پہلے ہی کفر و شرک کی سزا میں ان کو دھر گھسیٹتے، تو شور مچاتے کہ صاحب! سزا دینے سے بیشتر ہمارے پاس کوئی کتاب اور سمجھانے والا تو بھیجنا تھا کہ ہم کو ذلت و رسوائی اُٹھانے سے قبل آگاہ کر دیتا۔ پھر دیکھتے کہ ہم آپ کے کہنے پر کیسا چلتے۔ غرض قرآن نہ آتا تو یوں کہتے، اب آیا تو اسے چھوڑ کر دوسری من گھڑت نشانیوں کا مطالبہ کرنے لگے۔ ان کا مقصود ہدایت حاصل کرنا ہی نہیں۔ فضول حیلے بہانے تراشتے رہتے ہیں۔ سو خیر ان سے کہہ دو کہ ہم اور تم دونوں انتظار کرتے ہیں کہ عنقریب پردہ غیب سے کیسا مستقبل سامنے آتا ہے۔ اس وقت سب حقیقت آشکارا ہو جائے گی کہ کس جماعت کا راستہ سیدھا ہے؟ اور کون اس راستہ پر ٹھیک چل رہا ہے؟ تم سورۃ طٰہٰ بتوفیقہ وعونہ فلہ الحمد اولاً وآخراً وعلٰی نبیہ الصلوٰۃ والتسلیم وافراً متکاثراً۔(135)