Qaf( ق)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ ق ۚ وَالقُرءانِ المَجيدِ(1)
ف١    یعنی قرآن کی بزرگی اور عظمت شان کا کیا کہنا جس نے آخر سب کتابوں کو منسوخ کر دیا اور اپنی اعجازی قوت اور لامحدود اسرار و معارف سے دنیا کو محو حیرت بنا دیا۔ یہ ہی بزرگی والا قرآن بذاتِ خود شاہد ہے کہ اس کے اندر کوئی نقص و عیب نہیں نہ کہیں انگلی رکھنے کی جگہ ہے، لیکن منکرین پھر بھی اس کو قبول نہیں کرتے اس لیے نہیں کہ ان کے پاس اس کے خلاف کوئی حجت و برہان ہے بلکہ محض اپنے جہل اور حماقت سے اس پر تعجب کرتے ہیں کہ ان ہی کے خاندان اور نسل کا ایک آدمی ان کی طرف رسول ہو کر آیا اور بڑا بن کر سب کو نصیحتیں کرنے لگا۔ اور بات بھی ایسی عجیب کہی جسے کوئی باور نہ کر سکے۔ بھلا جب ہم مر کر مٹی ہوگئے۔ کیا پھر زندگی کی طرف واپس کیے جائیں گے؟ یہ واپسی تو عقل سے بہت دور اور امکان وعادت سے بالکل بعید ہے۔(1)
بَل عَجِبوا أَن جاءَهُم مُنذِرٌ مِنهُم فَقالَ الكٰفِرونَ هٰذا شَيءٌ عَجيبٌ(2)
(2)
أَءِذا مِتنا وَكُنّا تُرابًا ۖ ذٰلِكَ رَجعٌ بَعيدٌ(3)
ف ۱   یعنی ساری مٹی نہیں ہو جاتی، جان سلامت رہتی ہے اور بدن کے اجزاء تحلیل ہو کر جہاں کہیں منتشر ہوگئے ہیں وہ سب اللہ کے علم میں ہیں۔ اس کو قدرت ہے کہ ہر جگہ سے اجزائے اصلیہ کو جمع کر کے ڈھانچہ کھڑا کر دے اور دوبارہ اس میں جان ڈال دے۔(3)
قَد عَلِمنا ما تَنقُصُ الأَرضُ مِنهُم ۖ وَعِندَنا كِتٰبٌ حَفيظٌ(4)
ف۲  یعنی یہ نہیں کہ آج سے معلوم ہے بلکہ ہمارا علم قدیم ہے حتی کہ ان میں قبل و قوع ہی سب اشیاء کے سب حالات ایک کتاب میں جو "لوح محفوظ" کہلاتی ہے لکھ دیے تھے اور اب تک ہمارے پاس وہ کتاب موجود چلی آتی ہے۔ پس اگر علم قدیم کسی کی سمجھ میں نہ آئے تو یوں ہی سمجھ لے وہ دفتر جس میں سب کچھ لکھا ہے حق تعالٰی کے سامنے حاضر ہے۔ یا اس کو پہلے جملہ کی تاکید سمجھو۔ کیونکہ جو چیز کسی کے علم میں ہو اور قلمبند بھی کر لی جائے وہ لوگوں کے نزدیک بہت زیادہ مؤکد سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح یہاں مخاطبین کے محسوسات کے اعتبار سے متنبہ کر دیا کہ ہرچیز خدا کے علم میں ہے اور اس کے ہاں لکھی ہوئی ہے جس میں ذرا کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔(4)
بَل كَذَّبوا بِالحَقِّ لَمّا جاءَهُم فَهُم فى أَمرٍ مَريجٍ(5)
ف٤    یعنی صرف تعجب نہیں بلکہ کھلی ہوئی تکذیب ہے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت قرآن اور بعث بعد الموت، ہرچیز کو جھٹلاتے ہیں۔ اور عجب الجھی ہوئی باتیں کرتے ہیں۔ بیشک جو شخص سچی باتوں کو جھٹلاتا ہے۔ اسی طرح شک و اضطراب اور تردد و تحیر کی الجھنوں میں پڑ جایا کرتا ہے۔(5)
أَفَلَم يَنظُروا إِلَى السَّماءِ فَوقَهُم كَيفَ بَنَينٰها وَزَيَّنّٰها وَما لَها مِن فُروجٍ(6)
ف ٥     یعنی آسمان کو دیکھ لو، نہ بظاہر کوئی کھمبا نظر آتا ہے نہ ستون، اتنا بڑا عظیم الشان جسم کیسا مضبوط و مستحکم کھڑا ہے اور رات کو جب اس پر ستاروں کی قندیل اور جھاڑ فانوس روشن ہوتے ہیں تو کس قدر پر رونق اور خوبصورت نظر آتا ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں برس گزر گئے نہ اس چھت میں کہیں سوراخ ہوا، نہ کوئی کنکرہ گرا، نہ پلاسٹر ٹوٹا، نہ رنگ خراب ہوا، آخر کون سا ہاتھ ہے جس نے یہ مخلوق بنائی اور بنا کر اس کی ایسی حفاظت کی۔(6)
وَالأَرضَ مَدَدنٰها وَأَلقَينا فيها رَوٰسِىَ وَأَنبَتنا فيها مِن كُلِّ زَوجٍ بَهيجٍ(7)
(7)
تَبصِرَةً وَذِكرىٰ لِكُلِّ عَبدٍ مُنيبٍ(8)
ف ٦     یعنی جو آدمی خدا کی طرف رجوع کرتا ہو محض ان ہی محسوسات کے دائرہ میں الجھ کر نہ رہ جائے اس کے لیے آسمان و زمین کی تخلیق و تنظیم میں دانائی و بینائی کے کتنے سامان ہیں جن میں ادنیٰ غور کرنے سے صحیح حقیقت تک پہنچ سکتا ہے۔ اور بھولے ہوئے سبق اس کو یاد آسکتے ہیں۔ پھر خدا جانے ایسی روشن نشانیوں کی موجودگی میں بھی یہ لوگ کیونکر حق کو جھٹلانے کی جرأت کرتے ہیں۔(8)
وَنَزَّلنا مِنَ السَّماءِ ماءً مُبٰرَكًا فَأَنبَتنا بِهِ جَنّٰتٍ وَحَبَّ الحَصيدِ(9)
ف۷    اناج وہ ہے جس کے ساتھ اس کا کھیت بھی کٹ جائے اور باغ پھل ٹوٹ کر قائم رہتا ہے۔(9)
وَالنَّخلَ باسِقٰتٍ لَها طَلعٌ نَضيدٌ(10)
ف۸   یعنی بڑی کثرت و افراط سے جن کا خوشہ دیکھنے میں بھی بھلا معلوم ہوتا ہے۔(10)
رِزقًا لِلعِبادِ ۖ وَأَحيَينا بِهِ بَلدَةً مَيتًا ۚ كَذٰلِكَ الخُروجُ(11)
ف۹   یعنی بارش برسا کر مردہ زمین کو زندہ کر دیا۔ اسی طرح قیامت کے دن مردے زندہ کر دیے جائیں گے۔(11)
كَذَّبَت قَبلَهُم قَومُ نوحٍ وَأَصحٰبُ الرَّسِّ وَثَمودُ(12)
(12)
وَعادٌ وَفِرعَونُ وَإِخوٰنُ لوطٍ(13)
(13)
وَأَصحٰبُ الأَيكَةِ وَقَومُ تُبَّعٍ ۚ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعيدِ(14)
ف ۱۰   ان اقوام کے قصے سورہ حجر، فرقان، دخان وغیرہ میں گزر چکے ہیں۔ ف ۱۱    یعنی تکذیب انبیاء پر جس انجام سے ڈرایا گیا تھا وہ ہی سامنے آکر رہا۔(14)
أَفَعَيينا بِالخَلقِ الأَوَّلِ ۚ بَل هُم فى لَبسٍ مِن خَلقٍ جَديدٍ(15)
ف۱   یعنی دوبارہ نئے سرے سے پیدا کرنے میں انہیں فضول دھوکا لگ رہا ہے۔ جس نے پہلی بار پیدا کیا دوسری مرتبہ پیدا کر دینا کیا مشکل ہے؟ کیا یہ گمان کرتے ہو کہ (معاذ اللہ) وہ پہلی دفعہ دنیا کو بنا کر تھک گیا ہوگا؟ اس قادر مطلق کی نسبت ایسے توہمات قائم کرنا سخت جہالت اور گستاخی ہے۔(15)
وَلَقَد خَلَقنَا الإِنسٰنَ وَنَعلَمُ ما تُوَسوِسُ بِهِ نَفسُهُ ۖ وَنَحنُ أَقرَبُ إِلَيهِ مِن حَبلِ الوَريدِ(16)
ف۲    یعنی اس کے ہر قول و فعل سے ہم خبردار ہیں حتی کہ جو وساوس و خطرات اس کے دل میں گزرتے ہیں ان کا بھی ہم کو علم ہے۔ "اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ الَّلطِیْفُ الْخَبِیْرُ۔" ف ۳   گردن کی رگ مراد ہے جسے "شہ رگ" کہتے ہیں اور جس کے کٹنے سے انسان مر جاتا ہے۔ شاید یہ کنایہ ہو جان اور روح سے۔ مطلب یہ ہوا کہ ہم (باعتبار علم کے) اس کی روح اور نفس سے بھی نزدیک تر ہیں۔ یعنی جیسا علم انسان کو اپنے احوال کا ہے ہم کو اس کا علم خود اس سے بھی زیادہ ہے۔ نیز علت اور منشاء کو معلول اور ناشئی کے ساتھ وہ قرب حاصل ہوتا ہے جو معلول اور ناشئی کو خود اپنے نفس سے بھی نہیں ہوتا۔ اس کا کچھ مختصر بیان "اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ" کے حواشی میں ہو چکا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ اللہ اندر سے نزدیک ہے اور رگ آخر باہر ہے جان سے۔" وَلَنِعْمَ مَاقِیْلَ۔ جاں نہاں در جسم واو درجاں نہاں اے نہاں اندر نہاں اے جانِ جاں(16)
إِذ يَتَلَقَّى المُتَلَقِّيانِ عَنِ اليَمينِ وَعَنِ الشِّمالِ قَعيدٌ(17)
ف٤    یعنی دو فرشتے خدا کے حکم سے ہر وقت اس کی تاک میں لگے رہتے ہیں جو لفظ اس کے منہ سے نکلے وہ لکھ لیتے ہیں۔ نیکی داہنے والا، اور بدی بائیں والا۔(17)
ما يَلفِظُ مِن قَولٍ إِلّا لَدَيهِ رَقيبٌ عَتيدٌ(18)
ف۵    یعنی لکھنے کو تیار ہے (تنبیہ) دونوں فرشتے کہاں رہتے ہیں؟ اور علاوہ اقوال کے کیا کیا کچھ لکھتے ہیں؟ اس کی تفصیل احادیث و آثار سے ملے گی۔(18)
وَجاءَت سَكرَةُ المَوتِ بِالحَقِّ ۖ ذٰلِكَ ما كُنتَ مِنهُ تَحيدُ(19)
ف ٦   یعنی لو! ادھر مسل تیار ہوئی، ادھر موت کی گھڑی آپہنچی۔ اور مرنے والا نزع کی بیہوشیوں اور جاں کنی کی سختیوں میں ڈبکیاں کھانے لگا۔ اس وقت وہ سب سچی باتیں نظر آنا شروع ہوگئیں جن کی خبر اللہ کے رسولوں نے دی تھی۔ اور میت کی سعادت و شقاوت سے پردہ اٹھنے لگا اور ایسا پیش آنا قطعی اور یقینی تھا۔ کیونکہ حکیم مطلق کی بہت سی حکمتیں اس سے متعلق تھیں۔ ف ۷    یعنی آدمی نے موت کو بہت کچھ ٹلانا چاہا۔ اور اس ناخوشگوار وقت سے بہت کچھ بھاگتا اور کتراتا رہا پر یہ گھڑی ٹلنے والی کہاں تھی۔ آخر سر پر آکھڑی ہوئی کوئی تدبیر اور حیلہ دفع الوقتی کا نہ چل سکا۔(19)
وَنُفِخَ فِى الصّورِ ۚ ذٰلِكَ يَومُ الوَعيدِ(20)
ف۸    چھوٹی قیامت تو موت کے وقت ہی آچکی تھی۔ اس کے بعد بڑی قیامت حاضر ہے۔ بس صور پھونکا گیا اور وہ ہولناک دن آموجود ہوا۔ جس سے انبیاء و رسل برابر ڈراتے چلے آتے تھے۔(20)
وَجاءَت كُلُّ نَفسٍ مَعَها سائِقٌ وَشَهيدٌ(21)
ف ۹   یعنی محشر میں اس طرح حاضر کیے جائیں گے کہ ایک فرشتہ پیشی کے میدان کی طرف دھکیلتا ہوگا اور دوسرا اعمالنامہ لیے ہوگا۔ جس میں اس کی زندگی کے سب احوال درج ہوں گے۔ شاید یہ وہ ہی دو فرشتے ہوں جو "کراماً کاتبین" کہلاتے ہیں۔ اور جن کی نسبت فرمایا تھا۔ "اِذْیَتَلَقَی الْمُتَلَقِیَّان" الخ اور ممکن ہے کوئی اور ہوں۔(21)
لَقَد كُنتَ فى غَفلَةٍ مِن هٰذا فَكَشَفنا عَنكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ اليَومَ حَديدٌ(22)
ف۱۰    یعنی اس وقت کہا جائے گا کہ دنیا کے مزوں میں پڑ کر تو آج کے دن سے بے خبر تھا اور تیری آنکھوں کے سامنے شہوات و خواہشات کا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ پیغمبر جو سمجھاتے تھے۔ تجھے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ آج ہم نے تیری آنکھ سے وہ پردے ہٹا دیے اور نگاہ خوب تیز کر دی۔ اب دیکھ لے جو باتیں کہی گئی تھیں، صحیح ہیں یا غلط۔(22)
وَقالَ قَرينُهُ هٰذا ما لَدَىَّ عَتيدٌ(23)
ف١۱   یعنی فرشتہ اعمالنامہ حاضر کرے گا۔ اور بعض نے "قرین" سے مراد شیطان لیا ہے۔ یعنی شیطان کہے گا کہ یہ مجرم حاضر ہے جس کو میں نے اغواء کیا اور دوزخ کے لیے تیار کر کے لایا ہوں۔ مطلب یہ کہ اغواء تو میں نے کیا۔ مگر میرا ایسا زور تسلط نہ تھا کہ زبرستی اس کو شرارت میں ڈال دیتا۔ یہ اپنے ارادہ اختیار سے گمراہ ہوا۔(23)
أَلقِيا فى جَهَنَّمَ كُلَّ كَفّارٍ عَنيدٍ(24)
(24)
مَنّاعٍ لِلخَيرِ مُعتَدٍ مُريبٍ(25)
ف۱۲    بارگاہِ ایزدی سے یہ حکم دو فرشتوں کو ہوگا کہ ایسے لوگوں کو جہنم میں جھونک دو (اعاذنا اللہ منہا)(25)
الَّذى جَعَلَ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ فَأَلقِياهُ فِى العَذابِ الشَّديدِ(26)
ف۱۳   یعنی ایسے لوگ جہنم میں سخت ترین عذاب کے مستحق ہیں۔(26)
۞ قالَ قَرينُهُ رَبَّنا ما أَطغَيتُهُ وَلٰكِن كانَ فى ضَلٰلٍ بَعيدٍ(27)
ف ۱٤   یعنی میری کچھ زبردستی اس پر نہ چلتی تھی۔ ذرا شہ دی تھی کہ یہ کم بخت خود گمراہ ہو کر نجات و فلاح کے راستہ سے دور جا پڑا۔ شیطان یہ کہہ کر اپنا جرم ہلکا کرنا چاہتا ہے۔(27)
قالَ لا تَختَصِموا لَدَىَّ وَقَد قَدَّمتُ إِلَيكُم بِالوَعيدِ(28)
ف ۱   یعنی بک بک مت کرو۔ دنیا میں سب کو نیک و بد سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔ اب ہر ایک کو اس کے جرم کے موافق سزا ملے گی۔ جو گمراہ ہوا اور جس نے اغواء کیا سب اپنی حرکتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔(28)
ما يُبَدَّلُ القَولُ لَدَىَّ وَما أَنا۠ بِظَلّٰمٍ لِلعَبيدِ(29)
ف۲   یعنی ہمارے یہاں ظلم نہیں۔ جو کچھ فیصلہ ہوگا عین حکمت اور انصاف سے ہوگا۔ "اور بات نہیں بدلتی۔" یعنی کافر بخشا نہیں جاتا۔ بھلا شیطان اکفر کی بخشش تو کہاں۔(29)
يَومَ نَقولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امتَلَأتِ وَتَقولُ هَل مِن مَزيدٍ(30)
ف ۳   یعنی دوزخ کا پھیلاؤ اس قدر لوگوں سے نہ بھرے گا اور شدتِ غیظ سے اور زیادہ کافروں اور نافرمانوں کو طلب کرے گی۔(30)
وَأُزلِفَتِ الجَنَّةُ لِلمُتَّقينَ غَيرَ بَعيدٍ(31)
ف٤     یعنی جنت اس سے دور نہ ہوگی۔ بہت قریب سے اس کی تروتازگی اور بناؤ سنگار دیکھیں گے۔(31)
هٰذا ما توعَدونَ لِكُلِّ أَوّابٍ حَفيظٍ(32)
(32)
مَن خَشِىَ الرَّحمٰنَ بِالغَيبِ وَجاءَ بِقَلبٍ مُنيبٍ(33)
(33)
ادخُلوها بِسَلٰمٍ ۖ ذٰلِكَ يَومُ الخُلودِ(34)
ف۵   یعنی جنہوں نے دنیا میں خدا کو یاد رکھا اور گناہوں سے محفوظ ہو کر اس کی طرف رجوع ہوئے، اور بے دیکھے اس کے قہرو جلال سے ڈرے اور ایک پاک و صاف رجوع ہونے والا دل لے کر حاضر ہوئے، اس جنت کا وعدہ ایسے لوگوں سے کیا گیا تھا وقت آگیا ہے کہ سلامتی و عافیت کے ساتھ اس میں داخل ہوں۔ فرشتے ان کو سلام کریں اور ان کے پروردگار کا سلام پہنچائیں۔ ف ٦     حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ "اس دن جس کو جو کچھ ملا سو، ہمیشہ کے لیے ہے۔ اس سے پہلے ایک بات پر ٹھہراؤ نہ تھا۔"(34)
لَهُم ما يَشاءونَ فيها وَلَدَينا مَزيدٌ(35)
ف۷   یعنی جو چاہیں گے وہ ملے گا اس کے علاوہ وہ نعمتیں ملیں گی جو ان کے خیال میں بھی نہیں۔ مثلاً دیدارِ الٰہی کی لذت بے قیاس اور ممکن ہے "وَلَدَیْنَا مَزِیْد" سے یہ غرض ہو کہ ہمارے پاس بہت ہے، جنتی کتنا ہی مانگیں سب دیا جائے گا۔ اللہ کے ہاں اتنا دینے پر بھی کوئی کمی نہیں آتی، نہ اس کے لیے کوئی رکاوٹ ہے۔ پس اتنی بے حساب و بے شمار عطایا کو مستبعد نہ سمجھو۔ واللّٰہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(35)
وَكَم أَهلَكنا قَبلَهُم مِن قَرنٍ هُم أَشَدُّ مِنهُم بَطشًا فَنَقَّبوا فِى البِلٰدِ هَل مِن مَحيصٍ(36)
ف۸   پہلے کفار کی تعذیب اخروی کا بیان تھا۔ درمیان میں ان کے مقابلہ پر اہل جنت کے تنعم کا ذکر آگیا۔ اب پھر کفار کی سزا دہی کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی آخرت سے پہلے دنیا ہی میں ہم کتنی شریر و سرکش قوموں کو تباہ کر چکے ہیں جو زور و قوت میں موجود اقوام کفار سے بڑھ چڑھ کر تھیں۔ اور جنہوں نے بڑے بڑے شہر چھان مارے تھے۔ پھر جب عذاب الٰہی آیا تو بھاگ جانے کو روئے زمین پر کہیں ٹھکانہ نہ ملا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عذاب کے وقت اپنی بستیوں میں کھوج لگانے لگے کہ کہیں پناہ ملے۔ مگر کوئی ٹھکانہ نہ پایا۔ وہذا ہوالظاہر من الترجمۃ والا ول ما اختارہ جمہور المفسرین۔ واللّٰہ اعلم۔(36)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَذِكرىٰ لِمَن كانَ لَهُ قَلبٌ أَو أَلقَى السَّمعَ وَهُوَ شَهيدٌ(37)
ف ۹   یعنی ان عبرتناک واقعات میں غور و فکر کر کے وہ ہی لوگ نصیحت حاصل کر سکتے ہیں جن کے سینہ میں سمجھنے والا دل ہو کہ از خود ایک بات کو سمجھ لیں، یا کم ازکم کسی سمجھانے والے کے کہنے پر دل کو حاضر کر کے کان دھریں۔ کیونکہ یہ بھی ایک درجہ ہے کہ آدمی خود متنبہ نہ ہو، تو دوسرے کے متنبہ کرنے پر ہوشیار ہو جائے۔ جو شخص نہ خود سمجھے نہ کسی کے کہنے پر توجہ کے ساتھ کان لگائے اس کا درجہ اینٹ پتھر سے زیادہ نہیں۔(37)
وَلَقَد خَلَقنَا السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما فى سِتَّةِ أَيّامٍ وَما مَسَّنا مِن لُغوبٍ(38)
ف۱۰  اس کا بیان پہلے کئی جگہ گزر چکا ہے۔ ف۱۱   جب پہلی مرتبہ بنانے سے نہ تھکے تو دوسری مرتبہ کیوں تھکیں گے۔ اور تباہ و برباد کر دینا تو بنانے سے کہیں آسان ہے۔(38)
فَاصبِر عَلىٰ ما يَقولونَ وَسَبِّح بِحَمدِ رَبِّكَ قَبلَ طُلوعِ الشَّمسِ وَقَبلَ الغُروبِ(39)
ف ۱۲    یعنی ایسی موٹی باتوں کو یہ لوگ نہ سمجھیں تو آپ غمگین نہ ہوں۔ بلکہ ان کی بیہودہ بکواس پر صبر کرتے رہیں۔ اور اپنے پروردگار کی یاد میں دل لگائے رکھیں جو تمام زمین وآسمان کا پیدا کرنے والا اور ہرچیز کے بنانے اور بگاڑنے پر قدرت رکھتا ہے۔(39)
وَمِنَ الَّيلِ فَسَبِّحهُ وَأَدبٰرَ السُّجودِ(40)
ف ۱    یہ وقت اللہ کی یاد کے ہیں۔ ان میں دعاء اور عبادت بہت قبول ہوتی ہے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تین ہی نمازیں فرض تھیں۔ فجر اور عصر اور تہجد، بہرحال اب بھی ان تینوں وقتوں کو خصوصی فضل و شرف حاصل ہے نماز یا ذکر و دعاء وغیرہ سے ان اوقات کو معمور رکھنا چاہیے۔ حدیث میں ہے۔ "عَلَیْکُمْ بِالْغُدْوَۃِ وَالرُّوْحَۃٍ وَ شَیْ ءٍ مِّنَ الدُّلْجَتہِ۔ " بعض نے کہا کہ "قَبْلَ الطُّلُوعِ" سے نماز فجر "قَبَلَ الْغُرُوْبِ" سے ظہر و عصر اور "مِنَ الَّیْلِ" سے مغرب و عشاء مراد ہیں۔ واللہ اعلم۔ ف۲  یعنی نماز کے بعد کچھ تسبیح و تہلیل کرنا چاہیے۔ یا نوافل مراد ہوں جو فرائض کے بعد پڑھے جاتے ہیں۔(40)
وَاستَمِع يَومَ يُنادِ المُنادِ مِن مَكانٍ قَريبٍ(41)
ف ۳    کہتے ہیں صور پھونکا جائے گا بیت المقدس کے پتھر پر۔ اس لیے نزدیک کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس کی آواز ہر جگہ نزدیک لگے گی اور سب کو یکساں سنائی دے گی۔ باقی صور پھونکنے کے سوا اور بھی ندائیں حق تعالٰی کی طرف سے اس روز ہوں گی۔ بعض نے آیت سے وہ مراد لی ہے۔ مگر ظاہر نفخ صور ہے۔ واللہ اعلم۔(41)
يَومَ يَسمَعونَ الصَّيحَةَ بِالحَقِّ ۚ ذٰلِكَ يَومُ الخُروجِ(42)
ف٤    یعنی دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو سب زمین سے نکل کھڑے ہوں گے۔(42)
إِنّا نَحنُ نُحيۦ وَنُميتُ وَإِلَينَا المَصيرُ(43)
ف۵   یعنی بہرحال موت و حیات سب خدا کے ہاتھ میں ہے اور پھر کر آخرکار اسی کی طرف سب کو جانا ہے۔ بچ کر کوئی نہیں نکل سکتا۔(43)
يَومَ تَشَقَّقُ الأَرضُ عَنهُم سِراعًا ۚ ذٰلِكَ حَشرٌ عَلَينا يَسيرٌ(44)
ف ٦    یعنی زمین پھٹے گی اور مردے اس سے نکل کر میدان حشر کی طرف جھپٹیں گے۔ خدا تعالٰی سب اگلوں پچھلوں کو ایک میدان میں اکٹھا کر دے گا اور ایسا کرنا اس کو کچھ مشکل نہیں۔(44)
نَحنُ أَعلَمُ بِما يَقولونَ ۖ وَما أَنتَ عَلَيهِم بِجَبّارٍ ۖ فَذَكِّر بِالقُرءانِ مَن يَخافُ وَعيدِ(45)
ف۷    یعنی جو لوگ حشر کا انکار کرتے اور واہی تباہی کلمات بکتے ہیں بکنے دو۔ اور ان کا معاملہ ہمارے سپرد کرو۔ ہم کو سب معلوم ہے جو کچھ وہ کہتے ہیں۔ آپ کا یہ منصب نہیں کہ زور زبردستی سے ہر ایک کو یہ باتیں منوا کر چھوڑیں۔ ہاں قرآن سنا سنا کر بالخصوص ان کو نصیحت اور فہمائش کرتے رہیے جو اللہ کے ڈرانے سے ڈرتے ہیں۔ ان معاندین کے پیچھے زیادہ نہ پڑیے۔ تم سورۃ ق والحمدللّٰہ۔(45)