Nuh( نوح)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ إِنّا أَرسَلنا نوحًا إِلىٰ قَومِهِ أَن أَنذِر قَومَكَ مِن قَبلِ أَن يَأتِيَهُم عَذابٌ أَليمٌ(1)
ف۸    یعنی اس سے پہلے کہ کفر و شرارت کی بدولت دنیا میں طوفان کے اور آخرت میں دوزخ کے عذاب کا سامنا ہو۔(1)
قالَ يٰقَومِ إِنّى لَكُم نَذيرٌ مُبينٌ(2)
(2)
أَنِ اعبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقوهُ وَأَطيعونِ(3)
(3)
يَغفِر لَكُم مِن ذُنوبِكُم وَيُؤَخِّركُم إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذا جاءَ لا يُؤَخَّرُ ۖ لَو كُنتُم تَعلَمونَ(4)
ف۱۰    یعنی اللہ سے ڈر کر کفرو معصیت چھوڑو اور طاعت و عبادت کا راستہ اختیار کرو۔ ف۱۱    یعنی ایمان لے آؤ گے تو اس سے پہلے اللہ کے جو حقوق تلف کیے ہیں وہ معاف کر دے گا، اور کفر و شرارت پر جو عذاب آنا مقدر ہے ایمان لانے کی صورت میں وہ نہ آئے گا۔ بلکہ ڈھیل دی جائے گی کہ عمر طبعی تک زندہ رہو۔ حتی کہ جانداروں کی موت و حیات کے عام قانون کے موافق اپنے مقرر وقت پر موت آئے۔ کیونکہ اس سے تو بہرحال کسی نیک و بد کو چارہ نہیں۔ ف۱    یعنی ایمان نہ لانے کی صورت میں عذاب کا جو وعدہ ہے اگر وہ سر پر آکھڑا ہوا تو کسی کے ٹالے نہیں ٹلے گا نہ ایک منٹ کی ڈھیل دی جائے گی۔ یا یہ مطلب ہو کہ موت کا وقت معین پر آنا ضروری ہے اس میں تاخیر نہیں ہوسکتی والظاہر ہوالاول۔ حضرت شاہ صاحب ان آیات کی تقریر ایک اور طرح کرتے ہیں۔ "یعنی بندگی کرو کہ نوع انسان دنیا میں قیامت تک رہے۔ اور قیامت کو تو دیر نہ لگے گی اور جو سب مل کر بندگی چھوڑ دو تو سارے ابھی ہلاک ہو جاؤ۔" طوفان آیا تھا ایسا ہی کہ ایک آدمی نہ بچے۔ حضرت نوح کی بندگی سے ان کا بچاؤ ہوگیا۔ ف۲    یعنی اگر تم کو سمجھ ہے تو یہ باتیں سمجھنے اور عمل کرنے کی ہیں۔(4)
قالَ رَبِّ إِنّى دَعَوتُ قَومى لَيلًا وَنَهارًا(5)
(5)
فَلَم يَزِدهُم دُعاءى إِلّا فِرارًا(6)
ف۳    یعنی نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی جھلک باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگدل ہو کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا کہ بارِ خدایا میں نے اپنی طرف سے دعوت و تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ رات کی تاریکی میں اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا۔ مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیرے طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیر کر بھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت و دلسوزی کا اظہار ہوا، ان کی جانب سے نفرت اور بیزاری بڑھتی گئی۔(6)
وَإِنّى كُلَّما دَعَوتُهُم لِتَغفِرَ لَهُم جَعَلوا أَصٰبِعَهُم فى ءاذانِهِم وَاستَغشَوا ثِيابَهُم وَأَصَرّوا وَاستَكبَرُوا استِكبارًا(7)
ف٤    کیونکہ میری بات سننا ان کو گوارا نہیں۔ چاہتے ہیں کہ یہ آواز کان میں نہ پڑے۔ ف۵    تا وہ میری اور میں ان کی صورت نہ دیکھوں۔ نیز انگلیاں اگر کسی وقت کانوں میں ڈھیلی پڑ جائیں تو کچھ کپڑوں کی روک رہے غرض کوئی بات کسی عنوان سے دل میں اترنے نہ پائے۔ یعنی کسی طرح اپنے طریقہ سے ہٹنا نہیں چاہتے اور ان کا غرور اجازت نہیں دیتا کہ میری بات کی طرف ذرا بھی کان دھریں۔(7)
ثُمَّ إِنّى دَعَوتُهُم جِهارًا(8)
ف ٦     یعنی ان کے مجمعوں میں خطاب کیا اور مجلسوں میں جا کر سمجھایا۔(8)
ثُمَّ إِنّى أَعلَنتُ لَهُم وَأَسرَرتُ لَهُم إِسرارًا(9)
ف۷    یعنی مجمع کے سوا ان سے علیحدگی میں بات کی، صاف کھول کر اور اشاروں میں بھی، زور سے بھی اور آہستہ بھی، غرض نصیحت کا کوئی عنوان اور کوئی رنگ نہیں چھوڑا۔(9)
فَقُلتُ استَغفِروا رَبَّكُم إِنَّهُ كانَ غَفّارًا(10)
ف۸    یعنی باوجود سینکڑوں برس سمجھانے کے اب بھی اگر میری بات مان کر اپنے مالک کی طرف جھکو گے اور اس سے اپنی خطائیں معاف کراؤ گے تو وہ بڑا بخشنے والا ہے، پچھلے سب قصور یک قلم معاف کر دے گا۔(10)
يُرسِلِ السَّماءَ عَلَيكُم مِدرارًا(11)
(11)
وَيُمدِدكُم بِأَموٰلٍ وَبَنينَ وَيَجعَل لَكُم جَنّٰتٍ وَيَجعَل لَكُم أَنهٰرًا(12)
ف۹    یعنی ایمان و استغفار کی برکت سے قحط و خشک سالی (جس میں وہ برسوں سے مبتلا تھے) دور ہو جائے گی اللہ تعالٰی دھواں دار برسنے والا بادل بھیج دے گا جس سے کھیت اور باغ خوب سیراب ہوں گے۔ غلے، پھل، میوہ کی افراط ہوگی، مواشی وغیرہ فربہ ہوجائیں گے، دودھ گھی بڑھ جائے گا اور عورتیں جو کفر و معصیت کی شامت سے بانجھ ہو رہی ہیں اولاد ذکور جننے لگیں گی۔ غرض آخرت کے ساتھ دنیا کے عیش و بہار سے بھی وافر حصہ دیا جائے گا۔ (تنبیہ) امام ابوحنیفہ نے اس آیت سے یہ نکالا ہے کہ استسقاء کی اصل حقیقت اور روح استغفار و انابت ہے اور نماز اس کی کامل ترین صورت ہے، جو سنت صحیحہ سے ثابت ہوئی۔(12)
ما لَكُم لا تَرجونَ لِلَّهِ وَقارًا(13)
ف۱۰    یعنی اللہ کی بڑائی سے امید رکھنا چاہیے کہ تم اس کی فرمانبرداری کرو گے تو تم کو بزرگی اور عزت و وقار عنایت فرمائے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم اللہ کی بڑائی کا اعتقاد کیوں نہیں رکھتے اور اس کی عظمت و جلال سے ڈرتے کیوں نہیں۔(13)
وَقَد خَلَقَكُم أَطوارًا(14)
ف۱۱    یعنی ماں کے پیٹ میں تم نے طرح طرح کے رنگ بدلے۔ اور اصلی مادہ سے لے کر موت تک آدمی کتنی پلٹیاں کھاتا ہے اور کتنے اطوار و ادوار اور اتار وچڑھاؤ ہیں جن میں کو گزرتا ہے۔(14)
أَلَم تَرَوا كَيفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبعَ سَمٰوٰتٍ طِباقًا(15)
ف۱۲    یعنی ایک کے اوپر ایک۔(15)
وَجَعَلَ القَمَرَ فيهِنَّ نورًا وَجَعَلَ الشَّمسَ سِراجًا(16)
ف۱۳    سورج کا نور تیز اور گرم ہوتا ہے جس کے آتے ہی رات کی تاریکی کافور ہو جاتی ہے۔ شاید اس لیے اس کو جلتے چراغ سے تشبیہ دی۔ اور چاند کے نور کو اسی چراغ کی روشنی کا پھیلاؤ سمجھنا چاہیے جو جرم قمر کے توسط سے ٹھنڈی اور دھیمی ہو جاتی ہے۔ واللہ اعلم۔(16)
وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِنَ الأَرضِ نَباتًا(17)
ف۱٤    یعنی زمین سے خوب اچھی طرح جماؤ کے ساتھ پیدا کیا اول ہمارے باپ آدم مٹی سے پیدا ہوئے، پھر نطفہ جس سے بنی آدم پیدا ہوتے ہیں غذا کا خلاصہ ہے جو مٹی سے نکلتی ہے۔(17)
ثُمَّ يُعيدُكُم فيها وَيُخرِجُكُم إِخراجًا(18)
ف۱۵    یعنی مرے پیچھے مٹی میں مل جاتے ہیں پھر قیامت کے دن اسی سے نکالے جائیں گے۔(18)
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الأَرضَ بِساطًا(19)
(19)
لِتَسلُكوا مِنها سُبُلًا فِجاجًا(20)
ف۱    یعنی اس پر لیٹو، بیٹھو، چلو، پھرو ہر طرف کشادہ راستے نکال دیے ہیں۔ ایک شخص چاہے اور وسائل ہوں تو ساری زمین کے گرد گھوم سکتا ہے۔ راستہ کی کوئی رکاوٹ نہیں۔(20)
قالَ نوحٌ رَبِّ إِنَّهُم عَصَونى وَاتَّبَعوا مَن لَم يَزِدهُ مالُهُ وَوَلَدُهُ إِلّا خَسارًا(21)
ف۲    یعنی اپنے رئیسوں اور مالداروں کا کہا مانا جن کے مال و اولاد میں کچھ خوبی اور بہتری نہیں بلکہ وہ ان پر ٹوٹا ہے۔ ان ہی کے سبب دین سے محروم رہے اور غایت تمردو تجبر سے اوروں کو بھی محروم رکھا۔(21)
وَمَكَروا مَكرًا كُبّارًا(22)
ف۳    یعنی سب کو سمجھا دیا کہ اس کی بات نہ مانو اور طرح طرح کی ایذاء رسانی کے درپے رہے۔(22)
وَقالوا لا تَذَرُنَّ ءالِهَتَكُم وَلا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلا سُواعًا وَلا يَغوثَ وَيَعوقَ وَنَسرًا(23)
ف٤    یعنی اپنے معبودوں کی حمایت پر جمے رہنا، نوح کے بہکائے میں نہ آنا، کہتے ہیں کہ سینکڑوں برس تک ہر ایک اپنی اولاد اور اولاد در اولاد کو وصیت کر جاتا تھا کہ کوئی اس بڈھے "نوح کے فریب میں نہ آئے اور اپنے آبائی دین سے قدم نہ ہٹائے۔ ف۵    یہ ان کے بتوں کے نام ہیں۔ ہر مطلب کا ایک الگ بت بنا رکھا تھا۔ وہ ہی بت پھر عرب میں آئے اور ہندوستان میں بھی۔ اسی قسم کے بت بشنو، برہما، اندر، شیو اور ہنومان وغیرہ کے ناموں سے مشہور ہیں۔ اس کی مفصل تحقیق حضرت شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے تفسیر عزیزی میں کی۔ بعض روایات میں ہے کہ پہلے زمانہ میں کچھ بزرگ لوگ تھے ان کی وفات کے بعد شیطان کے اغواء سے قوم نے ان کی تصویریں بطور یادگار بنا کر کھڑی کرلیں۔ پھر ان کی تعظیم ہونے لگی۔ شدہ شدہ پرستش کرنے لگے۔ (العیاذ باللہ)(23)
وَقَد أَضَلّوا كَثيرًا ۖ وَلا تَزِدِ الظّٰلِمينَ إِلّا ضَلٰلًا(24)
ف ٦     حضرت شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں "یعنی (بھٹکتے رہیں) کوئی تدبیر (سیدھی) بن نہ پڑے۔" اور حضرت شاہ عبدالعزیز لکھتے ہیں کہ "استدراج کے طور پر بھی ان کو اپنی معرفت سے آشنا نہ کر۔" اور عامہ مفسرین نے ظاہری معنے لیے ہیں۔ یعنی اے اللہ ان ظالموں کی گمراہی کو اور بڑھا دیجیے تاکہ جلد شقاوت کا پیمانہ لبریز ہو کر عذاب الٰہی کے مورد بنیں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ بددعا ان کی ہدایت سے بکلی مایوس ہو کر کی۔ خواہ مایوسی ہزار سالہ تجربہ کی بنا پر ہو یا حق تعالٰی کا یہ ارشاد سن چکے ہوں گے۔ "اَنَّہ، لَنْ یُّوْمِنَ مِنْ قَوْمِکَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ" (ہود، رکوع٤) بہرحال ایسی مایوسی کی حالت میں تنگدل اور غضبناک ہو کر یہ دعاء کرنا کچھ مستبعد نہیں۔ حضرت شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ جب کسی شخص یا جماعت کے راہ راست پر آنے کی طرف سے قطعاً مایوسی ہو جائے اور نبی ان کی استعداد کو پوری طرح جانچ کر سمجھ لے کہ خیر کے نفوذ کی ان میں مطلق گنجائش نہیں بلکہ ان کا وجود ایک عضو فاسد کی طرح ہے جو یقینا باقی جسم کو بھی فاسد اور مسموم کر ڈالے گا تو اس وقت ان کے کاٹ ڈالنے اور صفحہ ہستی سے محو کر دینے کے سوا دوسرا کیا علاج ہے۔ اگر قتال کا حکم ہو تو قتال کے ذریعہ سے ان کو فنا کیا جائے یا قوت توڑ کر ان کے اثربد کو متعدی نہ ہونے دیا جائے۔ ورنہ آخری صورت یہ ہے کہ اللہ سے دعاء کی جائے کہ وہ ان کے وجود سے دنیا کو پاک کر دے اور ان کے زہریلے جراثیم سے دوسروں کو محفوظ رکھے۔ کما قال۔ "اِنَّکَ اِنْ تَذَرْہُمْ یُضِلُّوا عِبَادِکَ" بہرحال نوح کی دعاء اور اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کی دعاء جو سورہ "یونس" میں گزری، اسی قبیل سے تھی۔ واللہ اعلم۔(24)
مِمّا خَطيـٰٔتِهِم أُغرِقوا فَأُدخِلوا نارًا فَلَم يَجِدوا لَهُم مِن دونِ اللَّهِ أَنصارًا(25)
ف۷    یعنی طوفان آیا۔ اور بظاہر پانی میں ڈبائے گئے۔ لیکن فی الحقیقت برزخ کی آگ میں پہنچ گئے۔ ف۸    یعنی وہ بت (ود، سواع، یغوث وغیرہ) اس آڑے وقت میں کچھ بھی مدد نہ کر سکے۔ یونہی کس مپرسی کی حالت میں مر کھپ گئے۔(25)
وَقالَ نوحٌ رَبِّ لا تَذَر عَلَى الأَرضِ مِنَ الكٰفِرينَ دَيّارًا(26)
(26)
إِنَّكَ إِن تَذَرهُم يُضِلّوا عِبادَكَ وَلا يَلِدوا إِلّا فاجِرًا كَفّارًا(27)
ف۹    یعنی ایک کافر کو زندہ نہ چھوڑیے۔ ان میں کوئی اس لائق نہیں کہ باقی رکھا جائے جو کوئی رہے گا میرا تجربہ یہ کہتا ہے کہ اس کے نطفہ سے بھی بے حیا ڈھیٹ منکر حق اور ناشکرے پیدا ہوں اور جب تک ان میں سے کوئی موجود رہے گا خود تو راہِ راست پر کیا آتا دوسرے ایمانداروں کو بھی گمراہ کرے گا۔(27)
رَبِّ اغفِر لى وَلِوٰلِدَىَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيتِىَ مُؤمِنًا وَلِلمُؤمِنينَ وَالمُؤمِنٰتِ وَلا تَزِدِ الظّٰلِمينَ إِلّا تَبارًا(28)
ف۱۰    یعنی میرے مرتبہ کے موافق مجھ سے جو تقصیر ہوئی ہو، اپنے فضل سے معاف کیجیے، اور میرے والدین اور جو میری کشتی یا میرے گھر یا میری مسجد میں مومن ہو کر آئے ان سب کی خطاؤں سے درگزر فرمائیے۔ بلکہ قیامت تک جس قدر مرد اور عورتیں مومن ہوں سب کی مغفرت کیجیے۔ اللہ! نوح کی دعاء کی برکت سے اس بندہ عاصی و خاطی کو بھی اپنی رحمت و کرم سے مغفور کر کے بدون تعذیب دنیاوی و اخروی اپنی رضاء و کرامت کے محل میں پہنچائیے۔ "اِنَّکَ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ مُجِیْبُ الدَّعْوَاتِ۔" تم(28)