Maryam( مريم)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ كهيعص(1)
(1)
ذِكرُ رَحمَتِ رَبِّكَ عَبدَهُ زَكَرِيّا(2)
ف١ حضرت زکریا علیہ السلام "بنی اسرائیل" کے جلیل القدر انبیاء میں سے ہیں۔ نجاری (بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ سے محنت کر کے کھاتے تھے۔ ان کا قصہ پہلے سورہ آلِ عمران میں گزر چکا۔ وہاں کے فوائد ملاحظہ کر لیے جائیں۔(2)
إِذ نادىٰ رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا(3)
ف٢ کہتے ہیں رات کی تاریکی اور خلوت میں پست آواز سے دعاء کا اصل قاعدہ ہے۔ "اُدْعُوْارَبَّکُمْ تَضَرُّعًاوَّخُفْیَۃً" (اعراف، رکوع٧، آیت:٥٥) ایسی دعاء ریا سے دور اور کمال اخلاص سے معمور ہوتی ہے۔ شاید یہ بھی خیال ہو کہ بڑھاپے کی عمر میں بیٹا مانگتے تھے۔ اگر نہ ملے تو سننے والے ہنسیں، اور ویسے بھی عموماً بڑھاپے میں آواز پست ہو جاتی ہے۔(3)
قالَ رَبِّ إِنّى وَهَنَ العَظمُ مِنّى وَاشتَعَلَ الرَّأسُ شَيبًا وَلَم أَكُن بِدُعائِكَ رَبِّ شَقِيًّا(4)
ف٣ یعنی بظاہر موت کا وقت قریب ہے، سر کے بالوں میں بڑھاپے کی سفیدی چمک رہی ہے اور ہڈیاں تک سوکھنے لگیں۔ ف٤ یعنی آپ نے اپنے فضل و رحمت سے ہمیشہ میری دعائیں قبول کیں اور مخصوص مہربانیوں کا خوگر بنائے رکھا اس آخری وقت اور ضعف و پیرانہ سالی میں کیسے گمان کروں کہ میری دعاء رد کر کے مہربانی سے محروم رکھیں گے۔ بعض مفسرین نے "وَلَمْ اَکُنْ بِدُعَآئِکَ رَبِّ شَقِیّاً" کے معنی یوں کیے ہیں کہ اے پروردگار آپ کی دعوت پر میں کبھی شقی ثابت نہیں ہوا یعنی جب آپ نے پکارا برابر امتثال امر اور طاقت و فرمانبرداری کی سعادت حاصل کی۔(4)
وَإِنّى خِفتُ المَوٰلِىَ مِن وَراءى وَكانَتِ امرَأَتى عاقِرًا فَهَب لى مِن لَدُنكَ وَلِيًّا(5)
ف ٥ ان کے بھائی بند قرابت دار نا اہل ہوں گے۔ ڈر یہ ہوا کہ وہ لوگ ان کے بعد اپنی بد اعمالیوں اور غلط کاریوں سے راہ نیک نہ بگاڑ دیں اور جو دینی و روحانی دولت یعقوب علیہ السلام کے گھرانے میں منتقل ہوتی ہوئی حضرت زکریا علیہ السلام تک پہنچی تھی اُسے اپنی شرارت اور بدتمیزی سے ضائع نہ کر دیں۔(5)
يَرِثُنى وَيَرِثُ مِن ءالِ يَعقوبَ ۖ وَاجعَلهُ رَبِّ رَضِيًّا(6)
ف ٦  یعنی میں بوڑھا ہوں، بیوی بانجھ ہے، ظاہری سامان اولاد ملنے کا کچھ نہیں لیکن تو اپنی لامحدود قدرت و رحمت سے اولاد عطا فرما جو دینی خدمات کو سنبھالے اور تیری مقدس امانت کا بوجھ اٹھا سکے۔ میں اس ضعف و پیروی میں کیا کر سکتا ہوں، جی یہ چاہتا ہے کہ کوئی بیٹا اس لائق ہو جو اپنے باپ دادوں کی پاک گدی پر بیٹھ سکے۔ ان کے علم و حکمت کے خزانوں کا مالک اور کمالات نبوت کا وارث بنے (تنبیہ) احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔ ان کی وراثت دولت علم میں چلتی ہے۔ خود شیعوں کی مستند کتاب "کافی کلینی" سے بھی "روح المعانی" میں اس مضمون کی روایات نقل کی ہیں۔ لہٰذا متعین ہے کہ "یَرِثُنِیْ وَیَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ" میں وراثت مالی مراد نہیں۔ جس کی تائید خود لفظ "آل یعقوب" سے ہو رہی ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے تمام "آل یعقوب" کے اموال و املاک کا وارث تنہا حضرت زکریا علیہ السلام کا بیٹا کیسے ہو سکتا تھا بلکہ نفسِ وراثت کا ذکر ہی اس موقع پر ظاہر کرتا ہے کہ مالی وراثت مراد نہیں۔ کیونکہ یہ تو تمام دنیا کے نزدیک مسلم ہے کہ بیٹا باپ کے مال کا وارث ہوتا ہے۔ پھر دعاء میں اس کا ذکر کرنا محض بیکار تھا۔ یہ خیال کرنا کہ حضرت زکریا علیہ السلام کو اپنے مال و دولت کی فکر تھی کہ کہیں میرے گھر سے نکل کر بنی اعمام اور دوسرے رشتہ داروں میں نہ پہنچ جائے، نہایت پست اور ادنیٰ خیال ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی شان یہ نہیں ہوتی کہ دنیا سے رخصت ہوتے وقت دنیا کی متاع حقیر کی فکر میں پڑ جائیں کہ ہائے یہ کہاں جائے گی اور کس کے پاس رہے گی۔ اور لطف یہ ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام بڑے دولت مند بھی نہ تھے، بڑھئی کا کام کر کے محنت سے پیٹ پالتے تھے بھلا ان کو بڑھاپے میں کیا غم ہو سکتا تھا کہ چار پیسے رشتہ داروں کے ہاتھ نہ پڑ جائیں۔ العیاذ باللّٰہ۔ ف٧ یعنی ایسا لڑکا دیجئے جو اپنے اخلاق و اعمال کے لحاظ سے میری اور تیری اور اچھے لوگوں کی پسند کا ہو۔(6)
يٰزَكَرِيّا إِنّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ اسمُهُ يَحيىٰ لَم نَجعَل لَهُ مِن قَبلُ سَمِيًّا(7)
ف ٨ یعنی دعاء قبول ہوئی اور لڑکے کی بشارت پہنچی۔ جس کا نام (یحییٰ) قبل از ولادت حق تعالٰی نے تجویز فرما دیا۔ نام بھی ایسا انوکھا جو ان سے پہلے کسی کا نہ رکھا گیا تھا۔ بعض سلف نے یہاں "سمی" کے معنی "شبیہ" کے لیے ہیں۔ یعنی اس شان و صفت کا کوئی شخص ان سے پہلے نہیں ہوا تھا۔ شاید یہ مطلب ہو کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے کوئی ایسا لڑکا اس وقت تک پیدا نہیں کیا گیا تھا۔ یا بعض خاص احوال و صفات (مثلاً رقت قلب اور غلبہ بکا وغیرہ) میں ان کی مثال پہلے نہ گزری ہوگی۔ واللہ اعلم۔(7)
قالَ رَبِّ أَنّىٰ يَكونُ لى غُلٰمٌ وَكانَتِ امرَأَتى عاقِرًا وَقَد بَلَغتُ مِنَ الكِبَرِ عِتِيًّا(8)
ف٩ آدمی کا قاعدہ ہے کہ جب غیر متوقع اور غیر معمولی خوشخبری سنے تو مزید طمانیت و استلذاذ کے لیے بارہا پوچھتا اور کھود کرید کیا کرتا ہے۔ اس تحقیق و تفحّص سے لذت تازہ حاصل ہوتی اور بات خوب پکی ہو جاتی ہے یہ ہی منشاء حضرت زکریا علیہ السلام کے سوال کا تھا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں "انوکھی چیز مانگتے تعجب نہ آیا۔ جب سنا کہ ملے گی تب تعجب کیا۔"(8)
قالَ كَذٰلِكَ قالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَىَّ هَيِّنٌ وَقَد خَلَقتُكَ مِن قَبلُ وَلَم تَكُ شَيـًٔا(9)
ف١٠ تعجب کی کوئی بات نہیں۔ ان ہی حالات میں اولاد مل جائے گی اور مشیت ایزدی پوری ہو کر رہے گی۔ ف١١ یہ فرشتہ نے کہا۔ یعنی تمہارے نزدیک ظاہری اسباب کے اعتبار سے ایک چیز مشکل ہو تو خدا کے یہاں مشکل نہیں۔ اس کی قدرت عظیمہ کے سامنے سب آسان ہے۔ انسان اپنی ہستی ہی کو دیکھ لے۔ ایک زمانہ تھا کہ یہ کوئی چیز نہ تھی اس کا نام و نشان بھی کوئی نہ جانتا تھا۔ حق تعالٰی اس کو پردہ عدم سے وجود میں لایا۔ پھر جو قادر مطلق لاشی محض کو شی بنا دے کیا وہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا نہیں کر سکتا۔ اس پر تو بطریق اولیٰ قدرت ہونی چاہیے۔(9)
قالَ رَبِّ اجعَل لى ءايَةً ۚ قالَ ءايَتُكَ أَلّا تُكَلِّمَ النّاسَ ثَلٰثَ لَيالٍ سَوِيًّا(10)
ف١ یعنی باوجود تندرست ہونے کے جب کامل تین رات دن لوگوں کے ساتھ زبان سے بات چیت نہ کر سکے اس وقت سمجھ لینا کہ حمل قرار پا گیا ہے۔ اس کے متعلق مفصل کلام "آل عمران" کے فوائد میں گزر چکا۔ ملاحظہ کر لیا جائے۔(10)
فَخَرَجَ عَلىٰ قَومِهِ مِنَ المِحرابِ فَأَوحىٰ إِلَيهِم أَن سَبِّحوا بُكرَةً وَعَشِيًّا(11)
ف٢ یعنی جب وہ وقت آیا تو زبان گفتگو کرنے سے رک گئی۔ حجرہ سے باہر نکل کر لوگوں کو اشارہ سے کہا کہ صبح و شام اللّٰہ کو یاد کرو۔ نمازیں پڑھو۔ تسبیح و تہلیل میں مشغول رہو۔ یہ کہنا یا تو حسب معمول سابق وعظ و نصیحت کے طور پر ہوگا یا نعمت الٰہیہ کی خوشی محسوس کر کے چاہا کہ دوسرے بھی ذکر و شکر میں ان کے شریک حال ہوں۔ کیونکہ جیسا "آل عمران" میں گزرا حضرت زکریا کو حکم تھا کہ ان تین دن میں خدا کو بہت کثرت سے یاد کریں۔ اور خاص تسبیح کا لفظ شاید اس لیے اختیار کیا ہو کہ اکثر عجیب و غریب سماں دیکھنے پر آدمی "سبحان اللّٰہ" کہا کرتا ہے۔(11)
يٰيَحيىٰ خُذِ الكِتٰبَ بِقُوَّةٍ ۖ وَءاتَينٰهُ الحُكمَ صَبِيًّا(12)
ف٣ یعنی تورات اور دوسرے آسمانی صحیفوں کو جو تم پر یا دوسرے انبیاء پر نازل کیے گئے ہوں، خوب مضبوطی اور کوشش سے تھامے رکھو۔ ان کی تعلیمات پر خود عمل کرو اور دوسروں سے کراؤ۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ "یعنی علم کتاب لوگوں کو سکھلانے لگا زور سے۔ یعنی باپ ضعیف تھے اور یہ جوان۔" ف٤ لڑکپن ہی میں ان کو حق تعالٰی نے فہم ودانش علم وحکمت فراست صادقہ احکام کتاب اور آداب عبودیت وخدمت کی معرفت عطا فرمادی تھی لڑکوں نے ایک مرتبہ انہیں کھیلنے کو بلایا کہا ہم اس واسطے نہیں بنائے گئے۔ بہت سے علماء کے نزدیک اللہ تعالٰی نے عام عادت کے خلاف ان کو لڑکپن ہی میں نبوت بھی عطا فرمادی۔(12)
وَحَنانًا مِن لَدُنّا وَزَكوٰةً ۖ وَكانَ تَقِيًّا(13)
ف ٥ یعنی اللہ تعالٰی نے ان کو شوق و ذوق، رحمت و شفقت، رقت و نرم دلی، محبت اور مجبوبیت عنایت فرمائی تھی، اور صاف ستھرا، پاکیزہ رُو، پاکیزہ خو، مبارک و سعید متقی و پرہیزگار بنایا، حدیث میں ہے کہ یحییٰ نے نہ کبھی گناہ کیا نہ گناہ کا ارادہ کیا۔ خدا کے خوف سے روتے روتے رخساروں پر آنسوؤں کی نالیاں سی بن گئی تھیں۔ علیہ وعلٰی نبینا الصلوٰۃ والسلام۔(13)
وَبَرًّا بِوٰلِدَيهِ وَلَم يَكُن جَبّارًا عَصِيًّا(14)
ف ٦  یعنی متکبر، سرکش اور خود سر نہ تھا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ "یعنی آرزو کے لڑکے اکثر ایسے ہوا کرتے ہیں۔" وہ ویسا نہ تھا۔(14)
وَسَلٰمٌ عَلَيهِ يَومَ وُلِدَ وَيَومَ يَموتُ وَيَومَ يُبعَثُ حَيًّا(15)
ف٧ اللّٰہ جو بندہ پر سلام بھیجے محض تشریف و عزت افزائی کے لیے ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اس پر کچھ گرفت نہیں۔ یہاں "یَوْمَ وُلِدَوَیَوْمَ یَمُوْتُ وَیَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا" سے غرض تعمیم اوقات و احوال ہے۔ یعنی ولادت سے لے کر موت تک اور موت سے قیامت تک کسی وقت اس پر خوردہ گیری نہیں۔ خدا کی پکڑ سے ہمیشہ مامون و مصؤن ہے۔(15)
وَاذكُر فِى الكِتٰبِ مَريَمَ إِذِ انتَبَذَت مِن أَهلِها مَكانًا شَرقِيًّا(16)
ف ٨ یعنی غسل حیض کرنے کو یہ ہی پہلا حیض تھا ۱۳برس کی عمر تھی یا۱۵برس کی شرم کے مارے مجمع سے الگ ہو کر ایک مکان میں چلی گئیں جو بیت المقدس سے مشرق کی طرف تھا اس لیے نصاری نے مشرق کو اپنا قبلہ بنا لیا(16)
فَاتَّخَذَت مِن دونِهِم حِجابًا فَأَرسَلنا إِلَيها روحَنا فَتَمَثَّلَ لَها بَشَرًا سَوِيًّا(17)
ف ۹ حضرت جبرائیل نوجوان خوبصورت مرد کی شکل میں پہنچے، جیسا کہ فرشتوں کی عادت ہے کہ عموماً خوش منظر صورتوں میں متمثل ہوتے ہیں۔ اور ممکن ہے یہاں حضرت مریم علیہا السلام کی انتہائی عفت و پاکبازی کا امتحان بھی مقصود ہو کہ ایسے زبردست دواعی و محرکات بھی اس کے جذباتِ عفاف و تقویٰ کو ادنیٰ ترین جنبش نہ دے سکے۔(17)
قالَت إِنّى أَعوذُ بِالرَّحمٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيًّا(18)
ف١٠ مریم نے اول وہلہ میں سمجھا کہ کوئی آدمی ہے۔ تنہائی میں دفعتاً ایک مرد کے سامنے آجانے سے قدرتی طور پر خوفزدہ ہوئیں اور اپنی حفاظت کی فکر کرنے لگیں۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ فرشتہ کے چہرہ پر تقویٰ و طہارت کے انوار چمکتے دیکھ کر اسی قدر کہنا کافی سمجھا کہ میں تیری طرف سے رحمان کی پناہ میں آتی ہوں۔ اگر تیرے دل میں خدا کا ڈر ہوگا (جیسا کہ پاک و نورانی چہرہ سے روشن تھا) تو میرے پاس سے چلا جائے گا اور مجھ سے کچھ تعرض نہ کرے گا۔(18)
قالَ إِنَّما أَنا۠ رَسولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِيًّا(19)
ف١١ یعنی گھبراؤ نہیں میری نسبت کوئی برا خیال آیا ہو تو دل سے نکال دو۔ میں آدمی نہیں، تیرے اس رب کا (جس کی تو پناہ ڈھونڈتی ہے) بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ اس لیے آیا ہوں کہ خداوند قدوس کی طرف سے تجھ کو ایک پاکیزہ، صاف ستھرا اور مبارک و مسعود لڑکا عطا کروں۔ "غُلَامًا زَکِیًّا" (پاکیزہ لڑکا) کہنے میں اشارہ ہوگیا کہ وہ حسب و نسب اور اخلاق وغیرہ کے اعتبار سے بالکل پاک و صاف ہوگا۔(19)
قالَت أَنّىٰ يَكونُ لى غُلٰمٌ وَلَم يَمسَسنى بَشَرٌ وَلَم أَكُ بَغِيًّا(20)
ف ١٢ مریم علیہ السلام کے دل میں خدا نے یقین ڈال دیا کہ بیشک یہ فرشتہ ہے، مگر تعجب ہوا کہ جس عورت کا شوہر نہیں جو اس کو حلال طریقہ سے چھو سکتا، اور بدکار بھی نہیں کہ حرام طریقہ سے بچہ حاصل کر لے، اس کو بحالت راہنہ پاکیزہ اولاد کیونکر مل جائے گی، جیسا کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے اس سے کم عجیب بشارت پر سوال کیا تھا۔(20)
قالَ كَذٰلِكِ قالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَىَّ هَيِّنٌ ۖ وَلِنَجعَلَهُ ءايَةً لِلنّاسِ وَرَحمَةً مِنّا ۚ وَكانَ أَمرًا مَقضِيًّا(21)
ف١ یہ وہی جواب ہے جو حضرت زکریا علیہ السلام کو دیا گیا تھا۔ گذشتہ رکوع میں دیکھ لیا جائے۔ ف٢ یعنی یہ کام ضرور ہو کر رہے گا، پہلے سے طے شدہ ہے، تخلف نہیں ہو سکتا۔ ہماری حکمت اسی کو مقتضی ہے کہ بدون مس بشر کے محض عورت کے وجود سے بچہ پیدا کیا جائے۔ اور وہ دیکھنے اور سننے والوں کے لیے ہماری قدرت عظیمہ کی ایک نشانی ہو کیونکہ تمام انسان مرد و عورت کے ملنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ آدم علیہ السلام دونوں کے بدون پیدا ہوئے اور حوا کو صرف مرد کے وجود سے پیدا کیا گیا۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ جو حضرت مسیح میں ظاہر ہوئی کہ مرد کے بدون صرف عورت کے وجود سے ان کا وجود ہوا۔ اس طرح پیدائش کی چاروں صورتیں واقع ہوگئیں۔ پس حضرت مسیح علیہ السلام کا وجود قدرت الٰہیہ کا ایک نشان اور حق تعالٰی کی طرف سے دنیا کے لیے بڑی رحمت کا سامان ہے۔(21)
۞ فَحَمَلَتهُ فَانتَبَذَت بِهِ مَكانًا قَصِيًّا(22)
ف٣ کہتے ہیں فرشتہ نے پھونک ماری حمل ٹھہر گیا۔ وفی البحر۔ "وَذَکَرُوْا اَنَّ جِبْرَءِ یْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ نَفَخَ فِیْ جَیْبِ دَرْعِہَا اَوْفِیْہِ وَفِیْ کُمِّہَا۔ والظاہران المسندالیہ لنفخ ہو اللّٰہ تعالٰی لقولہ فنفخنا (ص١٨١/٦) کما قال فی ادم ونفخت فیہ من روحی واللّٰہ اعلم۔ ف٤ یعنی جب وضع حمل کا وقت قریب آیا شرم کے مارے سب سے علیحدہ ہو کر کسی بعید مکان میں چلی گئی۔ شاید وہ ہی جگہ ہو جسے "بیت اللحم" کہتے ہیں۔ یہ مقام "بیت المقدس" سے آٹھ میل ہے ذکرہ ابن کثیرعن وہب۔(22)
فَأَجاءَهَا المَخاضُ إِلىٰ جِذعِ النَّخلَةِ قالَت يٰلَيتَنى مِتُّ قَبلَ هٰذا وَكُنتُ نَسيًا مَنسِيًّا(23)
ف ٥ یعنی دردزہ کی تکلیف سے ایک کھجور کی جڑ کا سہارا لینے کے لیے اس کے قریب جاپہنچی۔ اس وقت درد کی تکلیف، تنہائی و بیکسی، سامان ضرورت و راحت کا فقدان، اور سب سے بڑھ کر ایک مشہور پاکباز عفیفہ کو دینی حیثیت سے آئندہ بدنامی اور رسوائی کا تصور سخت بے چین کیے ہوئے تھا۔ حتی کہ اسی کرب و اضطراب کے غلبہ میں کہہ اٹھی "یَالَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ہٰذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَنْسِیًّا" (کاش میں اس وقت کے آنے سے پہلے ہی مر چکی ہوتی کہ دنیا میں میرا نام و نشان نہ رہتا اور کسی کو بھولے سے بھی یاد نہ آتی) شدت کرب و اضطراب میں گذشتہ بشارات بھی جو فرشتہ سے سنی تھیں یاد نہ آئیں۔(23)
فَنادىٰها مِن تَحتِها أَلّا تَحزَنى قَد جَعَلَ رَبُّكِ تَحتَكِ سَرِيًّا(24)
(24)
وَهُزّى إِلَيكِ بِجِذعِ النَّخلَةِ تُسٰقِط عَلَيكِ رُطَبًا جَنِيًّا(25)
ف ٦  وہ مقام جہاں حضرت مریم علیہا السلام کھجور کے نیچے تشریف رکھتی تھیں قدرے بلند تھا، اس کے نیچے سے پھر اسی فرشتہ کی آواز سنائی دی کہ غمگین و پریشان مت ہو، خدا کی قدرت سے ہر قسم کا ظاہری و باطنی اطمینان حاصل کر۔ نیچے کی طرف دیکھ، اللّٰہ تعالٰی نے کیسا چشمہ یا نہر جاری کر دی ہے۔ یہ تو پینے کے لیے ہوا، کھانے کے لیے اسی کھجور کو ہلاؤ، پکی اور تازہ کھجوریں ٹوٹ کر گریں گی۔ (تنبیہ) بعض سلف نے "سری" کے معنی "عظیم الشان سردار" کے لیے ہیں۔ یعنی خدا تعالٰی تجھ سے ایک بڑا سردار پیدا کرنے والا ہے۔ جنہوں نے "سری" کے معنی چشمہ یا نہر کے لیے ظاہر یہ ہے کہ وہ چشمہ بطور خرق عادت نکالا گیا اور کھجوریں بھی خشک درخت پر بے موسم لگ گئیں۔ ان خوارق کا دیکھنا مریم کی تسکین و اطمینان اور تفریح کا سبب تھا۔ اور جیسا کہ مفسرین نے لکھا ہے اس حالت میں یہ چیزیں مریم علیہا السلام کے لیے مفید تھیں اور انہیں ضرورت بھی ہوگی۔(25)
فَكُلى وَاشرَبى وَقَرّى عَينًا ۖ فَإِمّا تَرَيِنَّ مِنَ البَشَرِ أَحَدًا فَقولى إِنّى نَذَرتُ لِلرَّحمٰنِ صَومًا فَلَن أُكَلِّمَ اليَومَ إِنسِيًّا(26)
ف٧ یعنی تازہ کھجوریں کھا کر چشمہ کے پانی سے سیراب ہو، اور پاکیزہ بیٹے کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کر، آگے کا غم نہ کھا، خدا تعالٰی سب مشکلات کو دور کرنے والا ہے۔ ف ٨ یعنی اگر کوئی آدمی سوال کرے تو اشارہ وغیرہ سے ظاہر کر دینا کہ میں روزہ سے ہوں۔ مزید گفتگو نہیں کر سکتی۔ ان کے دین میں یہ نیت درست تھی کہ نہ بولنے کا بھی روزہ رکھتے تھے۔ ہماری شریعت میں ایسی نیت درست نہیں۔ اور "کہیو میں نے مانا ہے" کا مطلب یہ ہے کہ روزہ کی نذر کر کے ایسا کہہ دینا۔ "انسیا" کی قید شاید اس لیے لگائی کہ فرشتہ سے بات کرنا منع نہ تھا۔(26)
فَأَتَت بِهِ قَومَها تَحمِلُهُ ۖ قالوا يٰمَريَمُ لَقَد جِئتِ شَيـًٔا فَرِيًّا(27)
ف٩ یعنی جب بچہ کو گود میں اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے سامنے آئی تو لوگ ششدر رہ گئے، کہنے لگے "مریم علیہ السلام تو نے غضب کر دیا، یہ بناوٹ کی چیز کہاں سے لے آئی۔ اس سے زیادہ جھوٹ طوفان کیا ہوگا کہ ایک لڑکی کنواری رہتے ہوئے دعویٰ کرے کہ میرے بچہ پیدا ہوا ہے۔"(27)
يٰأُختَ هٰرونَ ما كانَ أَبوكِ امرَأَ سَوءٍ وَما كانَت أُمُّكِ بَغِيًّا(28)
ف١٠ یعنی بدگمان ہو کر کہنے لگے کہ تیرے ماں باپ اور خاندان والے ہمیشہ سے نیک رہے ہیں، تجھ میں یہ بری خصلت کدھر سے آئی؟ بھلوں کی اولاد کا برا ہونا محل تعجب ہے (تنبیہ) مریم علیہا السلام کو "اخت ہارون" اس لیے کہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھی۔ گویا "اُخت ہارون" سے مراد "اُخت قوم ہارون" ہوئی۔ جیسے "وَاذْکُرْاَخَاعَادٍ" میں ہود علیہ السلام کو "عاد" کا بھائی کہا ہے۔ حالانکہ "عاد" ان کی قوم کے مورث اعلیٰ کا نام تھا۔ اور ممکن ہے "اُخت ہارون" کے ظاہری معنی لیے جائیں جیسا کہ بعض احادیث صحیحہ سے ظاہر ہوتا ہے یعنی مریم کے بھائی کا نام ہارون تھا۔ جیسے ہمارے زمانہ میں رواج ہے۔ اس وقت بھی لوگ انبیاء وصالحین کے ناموں پر نام رکھتے تھے۔ کہتے ہیں کہ مریم کا وہ بھائی ایک مرد صالح تھا۔ تو حاصل کلام یہ ہوا کہ تیرا باپ پاکباز تھا، ماں پارسا تھی، بھائی ایسا نیک ہے اوپر جا کر تیرانسب ہارون علیہ السلام پر منتہی ہوتا ہے، پھر یہ حرکت تجھ سے کیونکر سرزد ہوئی۔(28)
فَأَشارَت إِلَيهِ ۖ قالوا كَيفَ نُكَلِّمُ مَن كانَ فِى المَهدِ صَبِيًّا(29)
ف١١ یعنی مریم علیہا السلام نے ہاتھ سے بچہ کی طرف اشارہ کیا کہ خود اس سے دریافت کرو۔ ف ١٢ یعنی اس شرمناک حرکت پر یہ ستم ظریفی؟ کہ بچہ سے پوچھ لو۔ بھلا ایک گود کے بچہ سے ہم کیسے سوال و جواب کر سکتے ہیں۔ (تنبیہ) مَنْ کَانَ فِیْ الْمَہْدِ صَبِیًّا میں "کَانَ" کا لفظ اس پر دلالت نہیں کرتا کہ تکلم کے وقت وہ صبی نہیں رہا تھا۔ قرآن میں بہت جگہ مثلاً کَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا یا لَا تَقْرَبُوْا الزِّنَآ اِنَّہ، کَانَ فَاحِشَۃً یا اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لذکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہ، قَلْبٌ اَوْاَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَشَہِیْدٌ میں کان کا استعمال ایسے مضمون کے لیے ہوا ہے جس کا سلسلہ زمانہ ماضی کے گزرنے کے ساتھ منقطع نہیں ہوا۔ اور یہاں مَنْ کَانَ فِیْ الْمَہْدِ صَبِیًّا سے تعبیر کرنے میں نکتہ یہ ہے کہ کہنے والوں نے نفی تکلم کو ایک ضابطہ کے رنگ میں پیش کیا۔ یعنی نہ صرف عیسیٰ بلکہ ہر اس شخص سے جو گود میں بچہ ہو کلام کرنا عادۃً محال ہے۔(29)
قالَ إِنّى عَبدُ اللَّهِ ءاتىٰنِىَ الكِتٰبَ وَجَعَلَنى نَبِيًّا(30)
ف١ قوم کی طرف سے یہ ہی گفتگو ہو رہی تھی کہ خود مسیح علیہ السلام کو حق تعالٰی نے گویا کر دیا۔ آپ نے اس وقت جو کچھ فرمایا اس میں تمام غلط اور فاسد خیالات کا رد تھا جو آئندہ ان کی نسبت قائم ہونے والے تھے۔ "میں بندہ ہوں اللّٰہ کا " یعنی خود اللّٰہ یا اللّٰہ کا بیٹا نہیں جیسا کہ اب نصاریٰ کا عقیدہ ہے، چنانچہ اسی عقیدہ کی تردید کے لیے پہلے حضرت مسیح کی ولادت وغیرہ کے تفصیلی حالات بیان فرمائے۔ اور "مجھ کو خدا نے نبی بنایا" یعنی مفتری اور کاذب نہیں جیسا کہ یہود گمان کرتے ہیں۔ (تنبیہ) سورہ "آلِ عمران" اور "مائدہ" میں حضرت مسیح کے تکلم فی المہد کے متعلق کلام کیا جا چکا ہے۔ وہاں دیکھ لیا جائے۔ صحیح بخاری کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن تین بچوں کے مہد میں کلام کرنے کا ذکر فرمایا ہے ان میں ایک حضرت مسیح ابن مریم ہیں۔ آج جو لوگ قرآن و حدیث کے خلاف حضرت مسیح کے تکلم فی المہد کا انکار کرتے ہیں ان کے ہاتھ میں نصاریٰ کی کورانہ تقلید کے سوا کچھ نہیں۔(30)
وَجَعَلَنى مُبارَكًا أَينَ ما كُنتُ وَأَوصٰنى بِالصَّلوٰةِ وَالزَّكوٰةِ ما دُمتُ حَيًّا(31)
ف٢ یعنی جب تک زندہ ہوں، جس وقت اور جس جگہ کے مناسب جس قسم کی صلوٰۃ و زکوۃ کا حکم ہو، اس کی شروط و حقوق کی رعایت کے ساتھ برابر ادا کرتا رہوں۔ جیسے دوسری جگہ مومنین کی نسبت فرمایا "اَلَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صلوتھم دَآئِمُوْنَ" اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر آن اور ہر وقت نمازیں پڑھتے رہتے ہیں۔ بلکہ یہ مراد ہے کہ جس وقت جس طرح کی نماز کا حکم ہو ہمیشہ پابندی سے تعمیل حکم کرتے ہیں اور اس کی برکات و انوار ہمہ وقت ان کو محیط رہتی ہیں۔ کوئی شخص کہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں۔ نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج وغیرہ کے مامور ہیں کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ ہر ایک مسلمان مامور ہے کہ ہر وقت نماز پڑھتا ہے، ہر وقت زکوۃ دیتا ہے (خواہ نصاب کا مالک ہو یا نہ ہو) ہر وقت روزے رکھتا ہے، ہر وقت حج کرتا ہے۔ حضرت مسیح کے متعلق بھی "مَادُمْتُ حَیًّا" کا ایسا ہی مطلب سمجھنا چاہیے۔ یاد رہے کہ لفظ "صلوٰۃ" کچھ اصطلاحی نماز کے ساتھ مخصوص نہیں، قرآن نے ملائکہ اور بشر سے گزر کر تمام جہان کی طرف صلوٰۃ کی نسبت کی ہے۔ اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہ، مَنْ فِیْ السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّیْرُ صَآفَّاتٍ کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلٰوتَہ، وَتَسْبیحہ (نور، رکوع ٦، آیت:٤١) اور یہ بھی بتلا دیا کہ ہرچیز کی تسبیح و صلوٰۃ کا حال اللہ ہی جانتا ہے کہ کس کی صلوٰۃ و تسبیح کس رنگ کی ہے۔ اسی طرح زکوۃ کے معنی بھی اصل میں طہارت، نماز، برکت و مدح کے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک معنی کا استعمال قرآن و حدیث میں اپنے اپنے موقع پر ہوا ہے۔ اسی رکوع میں حضرت مسیح کی نسبت "غُلَامًا زَکِیًّا" کا لفظ گزر چکا جو زکوۃ سے مشتق ہے۔ اور یحيٰ علیہ السلام کو فرمایا "وَحَنَانَامِّن لَّدُنَّاوَزَکٰوۃً۔" سورہ کہف میں ہے "خَیْرًا مِّنْہُ زَکٰوۃً وَّاَقْرَبَ رُحْمًا" اسی طرح کے عام معنی یہاں بھی زکوۃ کے لیے جاسکتے ہیں۔ اور ممکن ہے "اَوْصَانِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃ"سے اَوْصَانِیْ بِأَنْ اٰمُرَ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مراد ہو جیسے اسماعیل علیہ السلام کی نسبت فرمایا "وَکَانَ یَاْمُرُ اَہْلَہ، بِالصَّلٰوۃ وَالزَّکٰوۃ" پھر لفظ "اوصانی"اپنے مدلول لغوی کے اعتبار سے اس کو مقتضی نہیں کہ وقت ایصاء ہی سے اس پر عمل درآمد شروع ہو جائے۔ نیز بہت ممکن ہے کہ "مَادُمْتُ حَیًّا"سے یہ ہی زمینی حیات مراد لے لی جائے۔ جیسے ترمذی کی ایک حدیث میں ہے کہ جابر رضی اللہ کے والد کو اللّٰہ نے شہادت کے بعد زندہ کر کے فرمایا کہ مجھ سے کچھ مانگ، اس نے کہا مجھے دوبارہ زندہ کر دیجئے کہ دوبارہ تیرے راستہ میں قتل کیا جاؤں۔ اس زندگی سے یقینا زمینی زندگی مراد ہے ورنہ شہداء کے لیے نفس حیات کی قرآن میں اور خود اسی حدیث میں تصریح موجود ہے۔ یہ ہی مطلب حیات کا "لَوْکَانَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی حَیِّیْنِ الخ" میں سمجھو۔ اگر بالفرض اس کا حدیث ہونا ثابت ہو جائے۔ "بالفرض" ہم نے اس لیے کہا کہ اس کی اسناد کا کتب حدیث میں کہیں پتہ نہیں۔ واللّٰہ اعلم۔(31)
وَبَرًّا بِوٰلِدَتى وَلَم يَجعَلنى جَبّارًا شَقِيًّا(32)
ف٣ چونکہ باپ کوئی نہ تھا اس لیے صرف ماں کا نام لیا۔ ف٤ یہ سب جملے جو بصیغہ ماضی لائے گئے بیشک اس کے معنی ماضی ہی کے لیے جائیں گے۔ لیکن اس طرح کہ مستقبل متقین الوقوع کو گویا ماضی فرض کر لیا گیا۔ جیسے "اتی اَمْرُاللّٰہ فَلَا تَسْتَعْجِلُوہ" میں۔ اس طرح مسیح علیہ السلام نے بچپن میں ماضی کے صیغے استعمال کر کے متنبہ کر دیا کہ ان سب چیزوں کا آئندہ پایا جانا ایسا قطعی اور یقینی ہے کہ اسے یہ ہی سمجھنا چاہیے کہ گویا پائی جا چکی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی اس خارقِ عادت گفتگو سے اور ان اوصاف و خصال سے جو بیان کیے نہایت بلاغت کے ساتھ اس ناپاک تہمت کا رد ہوگیا جو ان کی والدہ ماجدہ پر لگائی جاتی تھی۔ اول تو ایک بچہ کا بولنا، اور ایسا جامع و موثر کلام طبعًا دشمنوں کو خاموش کرنے والا تھا پھر جس ہستی میں ایسی پاکیزہ خصال پائی جائیں، ظاہر ہے۔ وہ العیاذ باللّٰہ ولدالزنا کیسے ہوسکتی ہے جیسا کہ خود ان کے اقرار "مَاکَانَ اَبُوْکِ امْرَأَ سَوْءٍ وَّمَاکَانَتْ اُمُّکَ بَغِیًّا" سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فروع کو اصول کے موافق دیکھنا چاہتے تھے۔(32)
وَالسَّلٰمُ عَلَىَّ يَومَ وُلِدتُ وَيَومَ أَموتُ وَيَومَ أُبعَثُ حَيًّا(33)
ف ٥ اس جملہ کے ہم معنی جملہ پہلے حضرت یحییٰ کے ذکر میں گزر چکا۔ فرق اتنا ہے کہ وہاں خود حق تعالٰی کی طرف سے کلام تھا۔ یہاں حق تعالٰی نے مسیح کی زبان سے وہ ہی بات فرمائی۔ نیز "سَلَامٌ" اور "اَلسَّلَامُ" کا فرق بھی قابل لحاظ ہے۔(33)
ذٰلِكَ عيسَى ابنُ مَريَمَ ۚ قَولَ الحَقِّ الَّذى فيهِ يَمتَرونَ(34)
ف ٦  یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کی شان و صفت یہ ہے جو اوپر بیان ہوئی۔ ایک سچی اور کھلی ہوئی بات میں لوگوں نے خواہ مخواہ جھگڑے ڈال لیے۔ اور طرح طرح کے اختلافات کھڑے کر دیے۔ کسی نے ان کو خدا بنا دیا کسی نے خدا کا بیٹا، کسی نے کذاب و مفتری کہا، کسی نے نسب وغیرہ پر طعن کیا۔ سچی بات وہ ہی ہے جو ظاہر کر دی گئی کہ خدا نہیں، خدا کے مقرب بندے ہیں۔ جھوٹے مفتری نہیں، سچے پیغمبر ہیں۔ ان کا حسب نسب سب سے پاک و صاف ہے۔ خدا نے ان کو "کلمۃ اللہ" فرمایا ہے اور ممکن ہے "قول الحق" کے معنی بھی یہاں "کلمۃ اللہ" کے ہوں۔(34)
ما كانَ لِلَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ ۖ سُبحٰنَهُ ۚ إِذا قَضىٰ أَمرًا فَإِنَّما يَقولُ لَهُ كُن فَيَكونُ(35)
ف٧ جس کے ایک "کُنْ" (ہو جا) کہنے میں ہرچیز موجود ہو، اسے بیٹے پوتوں کی کیا ضرورت لاحق ہوگی۔ کیا (العیاذ باللّٰہ) اولاد ضعیفی میں سہارا دے گی؟ یا مشکلات میں ہاتھ بٹائے گی؟ یا اس کے بعد نام چلائے گی؟ اور اگر شبہ ہو کہ عموماً آدمی ماں باپ سے پیدا ہوتا ہے۔ پھر حضرت مسیح علیہ السلام کا باپ کسے کہیں؟ اس کا جواب بھی اسی جملہ "کُنْ فَیَکُوْنُ" میں آگیا۔ یعنی ایسے قادر مطلق کے لیے کیا مشکل ہے کہ ایک بچہ کو بن باپ پیدا کر دے۔ اگر عیسائی خدا کو باپ اور مریم کو ماں کہتے ہیں تو کیا (معاذ اللّٰہ) دوسرے تعلقاتِ زنا شوئی کا بھی اقرار کریں گے؟ باپ مان کر بھی بہرحال تخلیق کا طریقہ وہ تو نہ ہوگا جو عموماً والدین میں ہوتا ہے۔ پھر بدون باپ کے پیدا ہونے میں کیا اشکال ہے۔(35)
وَإِنَّ اللَّهَ رَبّى وَرَبُّكُم فَاعبُدوهُ ۚ هٰذا صِرٰطٌ مُستَقيمٌ(36)
(36)
فَاختَلَفَ الأَحزابُ مِن بَينِهِم ۖ فَوَيلٌ لِلَّذينَ كَفَروا مِن مَشهَدِ يَومٍ عَظيمٍ(37)
ف ٨ یہ کس نے کہا؟ بعض کے نزدیک یہ حضرت مسیح علیہ السلام کا مقولہ ہے۔ گویا پیشتر حضرت مسیح کی جو گفتگو "قَالَ اِنِّیْ عَبْدُاللّٰہِ الخ" سے نقل کی گئی تھی، یہ اس کا تکملہ ہوا۔ درمیان میں مخاطبین کی تنبیہ کے لیے "ذٰلِکَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ" سے حق تعالٰی کا کلام تھا۔ میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ اس کو "وَاذْکُرْفِیْ الْکِتٰبِ مَرْیَمَ الخ" کے ساتھ لگایا جائے۔ یعنی (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کتاب میں مریم و مسیح کا حال سنا کر جو مذکور ہو چکا، کہہ دو کہ میرا اور تمہارا سب کا رب اللہ ہے۔ تنہا اسی کی بندگی کرو۔ بیٹے، پوتے مت بناؤ۔ سیدھی راہ توحید خالص کی ہے جس میں کچھ ایچ پیچ نہیں۔ سب انبیاء اسی کی طرف ہدایت کرتے آئے لیکن لوگوں نے بہت سے فرقے بنا لیے اور جُدی جُدی راہیں نکال لیں۔ سو جو لوگ توحید کا انکار کر رہے ہیں، انہیں بڑے ہولناک دن (روزقیامت) کی تباہی سے خبردار رہنا چاہیے جو یقینا پیش آنے والی ہے۔(37)
أَسمِع بِهِم وَأَبصِر يَومَ يَأتونَنا ۖ لٰكِنِ الظّٰلِمونَ اليَومَ فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(38)
ف٩ یعنی آج تو جبکہ سننا اور دیکھنا مفید تھا، بالکل اندھے، بہرے بنے ہوئے ہیں اور قیامت کے دن جب دیکھنا سننا کچھ فائدہ نہ دے گا، آنکھیں اور کان خوب کھل جائیں گے اس وقت وہ باتیں سنیں گے جن سے جگر پھٹ جائیں اور وہ منظر دیکھیں گے جس سے چہرے سیاہ ہوجائیں نعوذ باللّٰہ منہ۔(38)
وَأَنذِرهُم يَومَ الحَسرَةِ إِذ قُضِىَ الأَمرُ وَهُم فى غَفلَةٍ وَهُم لا يُؤمِنونَ(39)
ف١٠ کافروں کو پچھتانے کے بہت مواقع پیش آئیں گے۔ آخری موقع وہ ہوگا جب موت کو مینڈھے کی صورت میں لا کر بہشت و دوزخ کے درمیان سب کو دکھا کر ذبح کیا جائے گا اور ندا آئے گی کہ بہشتی بہشت میں اور دوزخی دوزخ میں ہمیشہ کے لیے رہ پڑے، اس کے بعد کسی کو موت آنے والی نہیں۔ اس وقت کافر بالکل نا امید ہو کر حسرت سے ہاتھ کاٹیں گے۔ لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت۔ ف١١ یعنی اس وقت انہیں یقین نہیں کہ واقعی ایسا دن آنے والا ہے وہ غفلت کے نشہ میں مخمور ہیں اور بڑی بھاری بھول میں پڑے ہیں۔ کاش اس وقت آنکھیں کھولتے اور اپنے نفع نقصان کو سمجھتے اس دن پچھتانے سے حسرت و افسوس کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ "اَلْئٰنَ قَدْ نَدِمْتَ وَمَایَنْفَعُ النَّدَمُین"(39)
إِنّا نَحنُ نَرِثُ الأَرضَ وَمَن عَلَيها وَإِلَينا يُرجَعونَ(40)
ف١ یعنی کسی کا مُلک یا مِلک باقی نہ رہے گی۔ ہرچیز براہ راست مالک حقیقی کی طرف لوٹ جائے گی۔ وہی بلاواسطہ حاکم و متصرف علی الاطلاق ہوگا۔ جس چیز میں جس طرح چاہے گا اپنی حکمت کے موافق تصرف کرے گا۔ دنیا کے جن سامانوں نے تم کو غفلت میں ڈال رکھا ہے سب کا ایک ہی وارث باقی رہ جائے گا۔ مُلک و مِلک کے لمبے چوڑے دعوے رکھنے والے سب فنا کے گھاٹ اتار دیے جائیں گے۔(40)
وَاذكُر فِى الكِتٰبِ إِبرٰهيمَ ۚ إِنَّهُ كانَ صِدّيقًا نَبِيًّا(41)
ف٢ گذشتہ رکوع میں حضرت مسیح و مریم کا قصہ بیان فرما کر نصاریٰ کا رد کیا گیا تھا جو ایک آدمی کو خدا بنا رہے ہیں۔ اس رکوع میں مشرکین مکہ کو شرمانے کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ سنایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے باپ تک کو کس طرح شرک و بت پرستی سے روکا۔ اور آخرکار وطن و اقارب کو چھوڑ کر خدا کے واسطے ہجرت اختیار کی۔ مشرکین مکہ کا دعویٰ تھا کہ وہ ابراہیم کی اولاد ہیں اور اسی کے دین پر ہیں۔ انہیں بتلایا گیا کہ بت پرستی کے متعلق تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کارویہ کیا رہا ہے۔ اگر آباؤ اجداد کی تقلید کرنا چاہتے ہو تو ایسے باپ کی تقلید کرو۔ اور مشرک باپ دادوں سے اسی طرح بیزار ہو جاؤ۔ جیسے ابراہیم علیہ السلام ہوگئے تھے۔ ف٣ "صدیق" کے معنی ہیں "بہت زیادہ سچ کہنے والا" جو اپنی بات کو عمل سے سچا کر دکھائے۔ یا وہ راستباز پاک طینت جس کے قلب میں سچائی کو قبول کرنے کی نہایت اعلیٰ و اکمل استعداد موجود ہو۔ جو بات خدا کی طرف سے پہنچے بلا توقف اس کے دل میں اتر جائے۔ شک و تردد کی گنجائش ہی نہ رہے۔ ابراہیم علیہ السلام ہر ایک معنی سے صدیق تھے اور چونکہ صدیقیت کے لیے نبوت لازم نہیں اس لیے آگے "صِدِّیْقًا"کے ساتھ "نَبِیًّا" فرما کر نبوت کی تصریح کر دی۔ یہیں سے معلوم ہوگیا کہ کذبات ثلاثہ کی حدیث اور "نَحْنُ اَحَقُّ بِالشَّکِّ مِنْ اِبْرَاہِیْمَ" وغیرہ روایات میں کذب و شک کے وہ معنی مراد نہیں جو سطح کلام سے مفہوم ہوتے ہیں۔(41)
إِذ قالَ لِأَبيهِ يٰأَبَتِ لِمَ تَعبُدُ ما لا يَسمَعُ وَلا يُبصِرُ وَلا يُغنى عَنكَ شَيـًٔا(42)
ف٤ یعنی جو چیزدیکھتی سنتی ہو اور مشکلات میں کچھ کام آسکے مگر واجب الوجود نہ ہو، اس کی عبادت بھی جائز نہیں۔ چہ جائیکہ ایک پتھر کی بے جان مورتی جو نہ سنے نہ دیکھے نہ ہمارے کسی کام آئے، خود ہمارے ہاتھ کی تراشی ہوئی، اس کو معبود ٹھہرا لینا کسی عاقل اور خود دار کا کام نہیں ہو سکتا۔(42)
يٰأَبَتِ إِنّى قَد جاءَنى مِنَ العِلمِ ما لَم يَأتِكَ فَاتَّبِعنى أَهدِكَ صِرٰطًا سَوِيًّا(43)
ف ٥ یعنی اللّٰہ تعالٰی نے مجھ کو توحید و معاد وغیرہ کا صحیح علم دیا اور حقائق شریعت سے آگاہ کیا ہے۔ اگر تم میری پیروی کرو گے تو سیدھی راہ پر لے چلوں گا جو رضائے حق تک پہنچانے والی ہے۔ اس کے سوا سب راستے ٹیڑھے ترچھے ہیں جن پر چل کر کوئی شخص نجات حاصل نہیں کر سکتا۔(43)
يٰأَبَتِ لا تَعبُدِ الشَّيطٰنَ ۖ إِنَّ الشَّيطٰنَ كانَ لِلرَّحمٰنِ عَصِيًّا(44)
ف ٦  بتوں کو پوجنا شیطان کے اغواء سے ہوتا ہے اور شیطان اس حرکت کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے بتوں کی پرستش گویا شیطان کی پرستش ہوئی اور نافرمان کی پرستش رحمان کی انتہائی نافرمانی ہے۔ شاید لفظ "عصٰی" میں ادھر بھی توجہ دلائی ہو کہ شیطان کی پہلی نافرمانی کا اظہار اس وقت ہوا تھا جب تمہارے باپ آدم کے سامنے سربسجود ہونے کا حکم دے دیا گیا۔ لہٰذا اولاد آدم کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ رحمٰن کو چھوڑ کر اپنے اس قدیم ازلی دشمن کو معبود بنا لیں۔(44)
يٰأَبَتِ إِنّى أَخافُ أَن يَمَسَّكَ عَذابٌ مِنَ الرَّحمٰنِ فَتَكونَ لِلشَّيطٰنِ وَلِيًّا(45)
ف٧ یعنی رحمان کی رحمت عظیمہ تو چاہتی ہے کہ تمام بندوں پر شفقت و مہربانی ہو، لیکن تیری بداعمالیوں کی شامت سے ڈر ہے کہ ایسے حلیم و مہربان خدا کو غصہ نہ آجائے اور تجھ پر کوئی سخت آفت نازل نہ کر دے جس میں پھنس کر تو ہمیشہ کے لیے شیطان کا ساتھی بن جائے یعنی کفر و شرک کی مزاولت سے آئندہ ایمان و توبہ کی توفیق نصیب نہ ہو اور اولیاء الشیطان کے گروہ میں شامل کر کے دائمی عذاب میں دھکیل دیا جائے۔ عموماً مفسرین نے یہ ہی معنی لیے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں "یعنی کفر کے وبال سے کچھ آفت آئے اور تو مدد مانگنے لگے شیطان سے یعنی بتوں سے، اکثر لوگ ایسے ہی وقت شرک کرتے ہیں۔" واللّٰہ اعلم۔(45)
قالَ أَراغِبٌ أَنتَ عَن ءالِهَتى يٰإِبرٰهيمُ ۖ لَئِن لَم تَنتَهِ لَأَرجُمَنَّكَ ۖ وَاهجُرنى مَلِيًّا(46)
ف ٨ باپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تقریر سن کر کہا "معلوم ہوتا ہے کہ تو ہمارے معبودوں سے بدعقیدہ ہے۔ بس اپنی بد اعتقادی اور وعظ و نصیحت کو رہنے دے، ورنہ تجھ کو کچھ اور سننا پڑے گا بلکہ میرے ہاتھوں سنگسار ہونا پڑے گا۔ اگر اپنی خیر چاہتا ہے تو میرے پاس سے ایک مدت (عمر بھر) کے لیے دور ہو جا۔ میں تیری صورت دیکھنا نہیں چاہتا۔ اس سے پہلے کہ میں تجھ پر ہاتھ اٹھاؤں یہاں سے روانہ ہو جا۔(46)
قالَ سَلٰمٌ عَلَيكَ ۖ سَأَستَغفِرُ لَكَ رَبّى ۖ إِنَّهُ كانَ بى حَفِيًّا(47)
ف٩ یہ رخصت یا متارکت کا سلام ہے۔ جیسے ہمارے محاورات میں ایسے موقع پر کہہ دیتے ہیں کہ "فلاں بات یوں ہے تو ہمارا سلام لو۔" دوسری جگہ فرمایا "وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوا اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَقَالُوْا لَنَا اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ لَا نبتغی الْجَاہِلِیْنَ" (القصص، رکوع٦، آیت:٥٥) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں "معلوم ہوا اگر دین کی بات سے ماں باپ ناخوش ہوں اور گھر سے نکالنے لگیں اور بیٹا ماں باپ کو میٹھی بات کہہ کر نکل جائے، وہ بیٹا عاق نہیں۔" ف١٠ امید ہے اپنی مہربانی سے میرے باپ کے گناہ معاف فرما دے گا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے استغفار کا وعدہ ابتداء کیا تھا۔ چنانچہ استغفار کرتے رہے جب اللّٰہ کی مرضی نہ دیکھی تب موقوف کیا۔ یہ بحث سورہ توبہ (برأۃ) میں "مَاکَانَ للنبی وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ الخ" کے تحت میں گزر چکی ہے۔ ملاحظہ کر لی جائے۔(47)
وَأَعتَزِلُكُم وَما تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ وَأَدعوا رَبّى عَسىٰ أَلّا أَكونَ بِدُعاءِ رَبّى شَقِيًّا(48)
ف١١ یعنی میری نصیحت کا جب کوئی اثر تم پر نہیں، بلکہ الٹا مجھے دھمکیاں دیتے ہو، تو اب میں خود تمہاری بستی میں رہنا نہیں چاہتا۔ تم کو اور تمہارے جھوٹے معبودوں کو چھوڑ کر وطن سے ہجرت کرتا ہوں تاکہ یکسو ہو کر اطمینان سے خدائے واحد کی عبادت کر سکوں۔ حق تعالٰی کے فضل و رحمت سے کامل امید ہے کہ اس کی بندگی کر کے میں محروم و ناکام نہیں رہوں گا۔ غربت و بیکسی میں جب اس کو پکاروں گا، ادھر سے ضرور اجابت ہوگی۔ میرا خدا پتھر کی مورتی نہیں کہ کتنا ہی چیخو چلاؤ سن ہی نہ سکے۔(48)
فَلَمَّا اعتَزَلَهُم وَما يَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ وَهَبنا لَهُ إِسحٰقَ وَيَعقوبَ ۖ وَكُلًّا جَعَلنا نَبِيًّا(49)
ف١ یعنی اللّٰہ کی راہ میں ہجرت کی اور اپنوں سے دور پڑے۔ اللّٰہ تعالٰی نے ان سے بہتر اپنے دیے تاکہ غریب الوطنی کی وحشت دور ہو اور انس و سکون حاصل کریں۔ شاید یہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ وہ ان کے پاس نہیں رہے۔ بچپن ہی میں جدا کر دیے گئے تھے۔ نیز ان کا مستقل تذکرہ آگے آنے والا ہے۔ (تنبیہ) حضرت اسحاق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔ ان ہی سے سلسلہ بنی اسرائیل کا چلا۔ جن میں سینکڑوں نبی ہوئے۔(49)
وَوَهَبنا لَهُم مِن رَحمَتِنا وَجَعَلنا لَهُم لِسانَ صِدقٍ عَلِيًّا(50)
ف٢ یعنی اپنی رحمت خاصہ سے ان کو بڑا حصہ عنایت فرمایا اور دنیا میں بول بالا کیا اور ہمیشہ کے لیے ان کا ذکر خیر جاری رکھا۔ چنانچہ تمام مذاہب و ملل ان کی تعظیم و توصیف کرتے ہیں اور امت محمدیہ دائماً اپنی نمازوں میں پڑھتی ہے۔ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمْدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْم وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدُ مَّجِیْدٌ" فی الحقیقت یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاء "وَاجْعَل لِّی لِسَانَ صِدْقٍ فِیْ الْاٰخِرِیْنَ" کی مقبولیت کا ثمرہ ہے۔(50)
وَاذكُر فِى الكِتٰبِ موسىٰ ۚ إِنَّهُ كانَ مُخلَصًا وَكانَ رَسولًا نَبِيًّا(51)
ف٣ یعنی قرآن کریم میں جو حال موسیٰ علیہ السلام کا بیان کیا جا رہا ہے لوگوں کے سامنے ذکر کیجئے کیونکہ اسحاق و یعقوب علیہما السلام کی نسل سے اسرائیلی سلسلہ کے اولوالعزم پیغمبر اور مشرّع اعظم ہوئے ہیں۔ اور جس طرح حضرت یحییٰ و عیسیٰ علیہما السلام کے تذکرہ میں خصوصیت کے ساتھ عیسائیوں کی اصلاح اور ابراہیم علیہ السلام کے ذکر میں مشرکین مکہ کو متنبہ کرنا مقصود تھا، حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کے تذکرہ سے شاید "یہود" کو بتانا ہو کہ قرآن کس قدر کشادہ دلی سے ان کے مقتدائے اعظم کے واقعی کمالات و محاسن کا اعلان کرتا ہے۔ یہود کو چاہیے کہ وہ بھی اپنے اس جلیل القدر پیغمبر کی صریح پیشین گوئی کے موافق اسمٰعیلی نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی رسالت و نبوت کا کھلے دل سے اعتراف کریں شاید اسی لیے حضرت موسیٰ کے بعد روئے سخن حضرت اسماعیل کی طرف پھیر دیا گیا۔ ف٤ جس آدمی کو اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے وحی آئے وہ "نبی" ہے انبیاء میں سے جن کو خصوصی امتیاز حاصل ہو، یعنی مکذبین کے مقابلہ پر جداگانہ امت کی طرف مبعوث ہوں یا نئی کتاب اور مستقل شریعت رکھتے ہوں وہ "رسول نبی" یا "نبی رسول" کہلاتے ہیں۔ شرعیات میں جزئی تصرف مثلاً کسی عام کی تخصیص یا مطلق کی تقیید وغیرہ رسول کے ساتھ مخصوص نہیں عام انبیاء بھی کر سکتے ہیں۔ باقی غیر انبیاء پر رسول یا مرسل کا اطلاق جیسا کہ قرآن کے بعض مواضع میں پایا جاتا ہے وہ اس معنی مصطلح کے اعتبار سے نہیں۔ وہاں دوسری حیثیات معتبر ہیں۔ واللّٰہ اعلم۔(51)
وَنٰدَينٰهُ مِن جانِبِ الطّورِ الأَيمَنِ وَقَرَّبنٰهُ نَجِيًّا(52)
ف ٥ یعنی موسیٰ علیہ السلام جب آگ کی چمک محسوس کر کے "طور" پہاڑ کی اس مبارک و میمون جانب میں پہنچ گئے جو ان کے دائیں ہاتھ مغرب کی طرف واقع تھی۔ تو اللہ تعالٰی نے ان کو پکارا اور ہمکلامی کا شرف بخشا۔ تفصیل سورہ "طہٰ" میں آئے گی۔ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اس وقت ہر جہت اور ہر بُن مُو سے خدا کا کلام سن رہے تھے جو بدون توسط فرشتے کے ہو رہا تھا۔ اور روحانی طور پر اس قدر قرب و علو حاصل تھا کہ غیبی قلموں کی آواز سنتے تھے جس سے تورات نقل کی جا رہی تھی۔ وحی کو "بھید" اس لیے فرمایا کہ اس وقت کوئی بشر استماع میں شریک نہ تھا۔ گو بعد میں اوروں کو بھی خبر کر دی گئی۔ واللہ اعلم۔(52)
وَوَهَبنا لَهُ مِن رَحمَتِنا أَخاهُ هٰرونَ نَبِيًّا(53)
ف ٦  یعنی ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ کے کام میں مددگار ہوئے جیسے کہ انہوں نے خود درخواست کی تھی۔ وَاَخِیْ ہَارُوْنَ ہُوَاَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَاناًفَاَرْسِلْہُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِی (القصص، رکوع٤، آیت: ٣٤) اور وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًامِّنْ اَہْلِیْ ہَارُوْنَ اَخِیْ الخ(طہٰ رکوع٢، آیت:٢٩،٣٠) حق تعالٰی نے درخواست قبول فرمائی اور ہارون علیہ السلام کو نبی بنا کر ان کی اعانت وتقویت کے لیے دے دیا۔ ویسے عمر میں حضرت ہارون علیہ السلام بڑے تھے کہتے ہیں کہ دنیا میں کسی نے اپنے بھائی کے لیے اس سے بڑی شفاعت نہیں کی جو موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کے لیے کی تھی۔(53)
وَاذكُر فِى الكِتٰبِ إِسمٰعيلَ ۚ إِنَّهُ كانَ صادِقَ الوَعدِ وَكانَ رَسولًا نَبِيًّا(54)
ف٧ اس سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی فضیلت حضرت اسحاق علیہ السلام پر ظاہر ہوتی ہے کیونکہ ان کو صرف نبی فرمایا اور اسماعیل علیہ السلام کو رسول نبی کہا گیا ہے۔ صحیح مسلم میں حدیث ہے۔ "اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی مِنْ وُّلْدِ اِبْرَاہِیْمَ اِسْمَاعِیْلَ" (ابراہیم کی اولاد میں سے اللہ نے اسماعیل کو چن لیا) حضرت اسماعیل علیہ السلام عرب حجاز کے مورث اعلیٰ اور ہمارے پیغمبر علیہ السلام کی اجداد میں سے ہیں جو ابراہیمی شریعت دے کر" بنی جرہم" کی طرف مبعوث ہوئے۔ ان کا صادق الوعد ہونا مشہور تھا۔ خدا سے یا بندوں سے جو وعدہ کیا پورا کر کے دکھلایا۔ ایک شخص سے وعدہ کیا کہ جب تک تو آئے میں اسی جگہ رہوں گا۔ کہتے ہیں وہ ایک برس نہ آیا، یہ وہیں رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی منقول ہے کہ "قبل از بعثت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللّٰہ بن ابی الحمساء نے کہا کہ آپ یہاں ٹھہریے میں ابھی آتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دن تک اسی جگہ رہے۔ جب وہ واپس آیا تو فرمایا کہ تو نے ہم کو تکلیف دی۔ میں حسب وعدہ تین دن سے یہیں ہوں۔" حضرت اسماعیل علیہ السلام کے وعدہ کی انتہائی سچائی اس وقت ظاہر ہوئی جب اپنے باپ ابراہیم سے کہا تھا۔ "یَآاَبَتِ افْعَلْ مَاتُؤمَرُسَتَجِدُنِیْ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ" (صآفات، رکوع٣، آیت:١٠٢) اور اسی طرح کر کے دکھایا۔(54)
وَكانَ يَأمُرُ أَهلَهُ بِالصَّلوٰةِ وَالزَّكوٰةِ وَكانَ عِندَ رَبِّهِ مَرضِيًّا(55)
ف ٨ کیونکہ گھر والے قریب ہونے کی وجہ سے ہدایت کے اول مستحق ہیں، ان سے آگے کو سلسلہ چلتا ہے۔ اسی لیے دوسری جگہ فرمایا "وَاْمُرْ اَہْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصطبر عَلَیْہَا" (طہٰ، رکوع٨، آیت:١٣٢) اور "یَااَیُّہَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْآ اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًا"(تحریم، رکوع١، آیت:٦) خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ ہی ارشاد ہوا "وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ" (شعراء، رکوع١١، آیت:٢١٤) بعض کہتے ہیں کہ یہاں "اہل" سے ان کی ساری قوم مراد ہے۔ چنانچہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ کے مصحف میں "اَہْلَہ،" کی جگہ "قَوْمَہ،" تھا۔ واللہ اعلم۔ ف٩ یعنی دوسروں کو ہدایت کرنا اور خود اپنے اقوال و افعال میں پسندیدہ مستقیم الحال اور مرضی الخصال تھا۔(55)
وَاذكُر فِى الكِتٰبِ إِدريسَ ۚ إِنَّهُ كانَ صِدّيقًا نَبِيًّا(56)
ف١٠ راجح یہ ہے کہ ادریس علیہ السلام حضرت آدم اور نوح علیہما السلام کے درمیانی زمانہ میں گزرے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں نجوم و حساب کا علم، قلم سے لکھنا، کپڑا سینا، ناپ تول کے آلات اور اسلحہ کا بنانا اول ان سے چلا۔ واللہ اعلم۔ شبِ معراج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چوتھے آسمان پر ان سے ملاقات ہوئی۔(56)
وَرَفَعنٰهُ مَكانًا عَلِيًّا(57)
ف١١ یعنی قرب و عرفان کے بہت بلند مقام اور اونچی جگہ پر پہنچا۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کی طرح وہ بھی زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور اب تک زندہ ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ آسمان پر لے جا کر روح قبض کی گئی۔ ان کے متعلق بہت سی اسرائیلیات مفسرین نے نقل کی ہیں۔ ابن کثیر نے ان پر تنقید کی ہے۔ واللہ اعلم۔(57)
أُولٰئِكَ الَّذينَ أَنعَمَ اللَّهُ عَلَيهِم مِنَ النَّبِيّۦنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءادَمَ وَمِمَّن حَمَلنا مَعَ نوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبرٰهيمَ وَإِسرٰءيلَ وَمِمَّن هَدَينا وَاجتَبَينا ۚ إِذا تُتلىٰ عَلَيهِم ءايٰتُ الرَّحمٰنِ خَرّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا ۩(58)
ف ١٢ یعنی جن انبیاء کا ابتدائی سورت سے یہاں تک ذکر ہوا۔ اسی قسم کے لوگوں پر حق تعالٰی نے اپنے انعامات کی بارش کی ہے۔ یہ سب آدم کی اولاد ہیں اور ادریس علیہ السلام کے سوا باقی سب ان کی اولاد بھی ہیں جنہیں نوح علیہ السلام کے ساتھ ہم نے کشتی پر سوار کیا تھا۔ اور بعض ابراہیم علیہ السلام کی ذریت میں ہیں۔ مثلاً اسحق، یعقوب، اسماعیل علیہم السلام اور بعض اسرائیل (یعقوب) علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔ مثلاً موسیٰ، ہارون، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ علیہم السلام۔ ف١٣ یعنی طریق حق کی طرف ہدایت کی اور منصب نبوت و رسالت کے لیے پسند کر لیا۔ ف١٤ یعنی باوجود اس قدر علو مقام اور معراج کمال پر پہنچنے کے شانِ عبودیت و بندگی میں کامل ہیں۔ اللہ کا کلام سن کر اور اس کے مضامین سے متأثر ہو کر نہایت عاجزی اور خشوع کے ساتھ سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور اس کو یاد کر کے روتے ہیں۔ اسی لیے علماء کا اجماع ہے کہ اس آیت پر سجدہ کرنا چاہیے۔ تاکہ ان مقربین کے طرزِ عمل کو یاد کر کے ایک طرح کی مشابہت ان سے حاصل ہو جائے۔ روایات میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے سورہ مریم پڑھ کر سجدہ کیا اور فرمایا "ہذا السجود فاین البکی"(یہ تو سجدہ ہوا، آگے بکاء کہاں ہے) بعض مفسرین نے یہاں "آیات الرحمن"سے خاص آیات سجود اور "سجدًا"سے سجود تلاوت مراد لیا ہے۔ مگر ظاہر وہ ہی ہے جو تقریر ہم پہلے کر چکے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ قرآن کی تلاوت کرو اور روؤ، اگر رونا نہ آئے تو (کم ازکم) رونے کی صورت بنا لو۔(58)
۞ فَخَلَفَ مِن بَعدِهِم خَلفٌ أَضاعُوا الصَّلوٰةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ ۖ فَسَوفَ يَلقَونَ غَيًّا(59)
ف١ وہ تو اگلوں کا حال تھا یہ پچھلوں کا ہے کہ دنیا کے مزوں اور نفسانی خواہشات میں پڑھ کر خدا تعالٰی کی عبادت سے غافل ہوگئے۔ نماز جو اہم العبادات ہے اسے ضائع کر دیا۔ بعض تو فرضیت ہی کے منکر ہوگئے۔ بعض نے فرض جانا مگر پڑھی نہیں۔ بعض نے پڑھی تو جماعت اور وقت وغیرہ شروط و حقوق کی رعایت نہ کی ان میں سے ہر ایک درجہ بدرجہ اپنی گمراہی کو دیکھ لے گا کہ کیسے خسارہ اور نقصان کا سبب بنتی ہے اور کس طرح کی بدترین سزا میں پھنساتی ہے۔ حتی کہ ان میں سے بعض کو جہنم کی اس بدترین وادی میں دھکیلا جائے گا جس کا نام ہی" غیّ" ہے۔(59)
إِلّا مَن تابَ وَءامَنَ وَعَمِلَ صٰلِحًا فَأُولٰئِكَ يَدخُلونَ الجَنَّةَ وَلا يُظلَمونَ شَيـًٔا(60)
ف٢ یعنی توبہ کا دروازہ ایسے مجرموں کے لیے بھی بند نہیں جو گناہ گار سچے دل سے توبہ کرکے ایمان و عمل صالح کا راستہ اختیار کرلے اور اپنا چال چلن درست رکھے بہشت کے دروازے اس کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ توبہ کے بعد جو نیک اعمال کرے گا سابق جرائم کی بنا پر اس کے اجر میں کچھ کمی نہیں کی جائے گی نہ کسی قسم کا حق ضائع ہوگا۔ حدیث میں ہے۔ "اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّمنبِ کَمَن لَّا ذَمنبَ لَہ،"(گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس نے گناہ کیا ہی نہ تھا) اللّٰہم تب علینا انک انت التواب الرحیم۔(60)
جَنّٰتِ عَدنٍ الَّتى وَعَدَ الرَّحمٰنُ عِبادَهُ بِالغَيبِ ۚ إِنَّهُ كانَ وَعدُهُ مَأتِيًّا(61)
ف٣ جب یہ بندے اَن دیکھی چیزوں پر پیغمبروں کے فرمانے سے ایمان لائے، بن دیکھے خدا کی عبادت کی، تو اللّٰہ نے ان سے جنت کی اَن دیکھی نعمتوں کا وعدہ فرما لیا۔ جو ضرور بالضرور پورا ہو کر رہے گا۔ کیونکہ خدا کے وعدے بالکل حتمی اور اٹل ہوتے ہیں۔(61)
لا يَسمَعونَ فيها لَغوًا إِلّا سَلٰمًا ۖ وَلَهُم رِزقُهُم فيها بُكرَةً وَعَشِيًّا(62)
ف٤ یعنی جنت میں لغو و بیکار اور بیہودہ شورو شغب نہ ہوگا۔ ہاں فرشتوں اور مومنین کی طرف سے "سَلَامٌ عَلَیْکَ" کی آوازیں بلند ہوں گی۔ ف ٥ صبح و شام سے جنت کی صبح و شام مراد ہے۔ وہاں دنیا کی طرح طلوع و غروب نہ ہوگا جس سے رات دن اور صبح شام مقرر کی جائے۔ بلکہ خاص قسم کی انوار کا توارُد و تنوع ہوگا۔ جس کے ذریعہ سے صبح و شام کی تحدید وتعیین کی جائے گی۔ حسب عادت و معمول صبح و شام جنت کی روزی پہنچے گی۔ ایک منٹ کے لیے بھوک کی تکلیف نہیں ستائے گی۔ وہ روزی کیا ہوگی؟ اس کی کیفیت خدا ہی جانے۔ حدیث میں ہے۔ "یُسَبِّحُوْنَ اللّٰہَ بُکْرَۃً وَّعَشِیّاً" (اجنبی صبح و شام حق تعالٰی کی تسبیح کہیں گے) گویا جسمانی غذا کے ساتھ روحانی غذا بھی ملتی رہے گی۔(62)
تِلكَ الجَنَّةُ الَّتى نورِثُ مِن عِبادِنا مَن كانَ تَقِيًّا(63)
ف ٦  یعنی میراثِ آدم کی کہ اول ان کو بہشت ملی ہے۔ اور شاید لفظ میراث اس لیے اختیار فرمایا کہ اقسام تملیک میں یہ سب سے زیادہ اتم و احکم قسم ہے جس میں نہ فسخ کا احتمال نہ لوٹائے جانے کا نہ ابطال و اقالہ کا۔(63)
وَما نَتَنَزَّلُ إِلّا بِأَمرِ رَبِّكَ ۖ لَهُ ما بَينَ أَيدينا وَما خَلفَنا وَما بَينَ ذٰلِكَ ۚ وَما كانَ رَبُّكَ نَسِيًّا(64)
ف٧ ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام کئی روز تک نہ آئے۔ آپ منقبض تھے۔ کفار نے کہنا شروع کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے رب نے خفا ہو کر چھوڑ دیا ہے۔ اس طعن سے آپ اور زیادہ دل گیر ہوئے۔ آخر جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے۔ آپ نے اتنے روز تک نہ آنے کا سبب پوچھا۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا "مَایَمْنَعُکَ اَنْ تَزُوْرَنَا اَکْثَرَ مِمَّا تَزُوْرُنَا"(جتنا تم آتے ہو اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے؟) اللہ تعالٰی نے جبرائیل کو سکھلایا کہ جواب میں یوں کہو۔ "وَمَانَتَنَزَّلْ اِلَّا بِاَمْرِرَبِّکَ الخ" یہ کلام ہوا اللہ کا جبرائیل کی طرف سے۔ جیسا "اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ" میں ہم کو سکھلایا ہے۔ حاصل جواب یہ ہے کہ ہم خالص عبد مامور ہیں۔ بدون حکم الٰہی ایک پر نہیں ہلا سکتے۔ ہمارا چڑھنا اترنا سب اس کے حکم و اذن کے تابع ہے۔ وہ جس وقت اپنی حکمت کاملہ سے مناسب جانے ہم کو نیچے اترنے کا حکم دے۔ کیونکہ ہر زمانہ (ماضی، مستقبل، حال) اور ہر مکان (آسمان زمین اور ان کے درمیان) کا علم اسی کو ہے اور وہ ہی ہرچیز کا مالک و قابض ہے۔ وہ ہی جانتا ہے کہ فرشتوں کو پیغمبر کے پاس کس وقت بھیجنا چاہیے۔ مقرب ترین فرشتہ اور معظم ترین پیغمبر کو بھی یہ اختیار نہیں کہ جب چاہے کہیں چلا جائے یا کسی کو اپنے پاس بلالے خدا کا ہر کام برمحل اور بروقت ہے۔ بھول چوک یا نسیان و غفلت کی اس کی بارگاہ میں رسائی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جبرائیل کا جلد یا بدیر آنا بھی اس کی حکمت و مصلحت کے تابع ہے۔ (تنبیہ اول) "ہمارے آگے پیچھے" کہا آسمان و زمین کو۔ اترتے ہوئے زمین آگے، آسمان پیچھے، چڑھتے ہوئے وہ پیچھے یہ آگے۔ اور اگر "آگے پیچھے" سے تقدم و تاخر زمانی مراد ہو تو زمانہ مستقبل آگے آنے والا اور زمانہ ماضی پیچھے گزر چکا ہے اور زمانہ حال دونوں کے بیچ میں واقع ہے۔ (تنبیہ دوم) پہلے فرمایا تھا کہ جنت کے وارث اتقیاء (خداسے ڈرنے والے پرہیز گار) ہیں۔ اس آیت میں بتلا دیا کہ ڈرنے کے لائق وہ ہی ذات ہوسکتی ہے جس کے قبضہ میں تمام زمان و مکان ہیں۔ اور جس کے حکم و اجازت کے بدون بڑے سے بڑا فرشتہ بھی پر نہیں ہلا سکتا۔ انسان کو چاہیے اگر وہ جنت کی میراث لینا چاہتا ہے کہ فرشتوں کی طرح حکم الٰہی کا مطیع و منقاد بن جائے اور ادھر بھی اشارہ ہوگیا کہ جو خدا اپنے مخلص بندوں کو یہاں نہیں بھولتا، وہاں بھی نہیں بھولے گا۔ ضرور جنت میں پہنچا کر چھوڑے گا۔ ہاں ہرچیز کا ایک وقت ہے جنت میں ہر ایک کا نزول بھی اپنے اپنے وقت پر ہوگا۔ اور جیسے یہاں پیغمبر کے پاس فرشتے حکم الٰہی کے موافق وقت معین پر آتے ہیں۔ جنت میں جنتیوں کی غذائے روحانی و جسمانی بھی صبح و شام اوقات مقررہ پر آئے گی۔(64)
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُما فَاعبُدهُ وَاصطَبِر لِعِبٰدَتِهِ ۚ هَل تَعلَمُ لَهُ سَمِيًّا(65)
ف ٨ یعنی کسی کے کہنے سننے کی پروا مت کر۔ اپنے دل کو خدا کی بندگی پر جمائے رکھ جو سارے جہان کا رب ہے اور سب سے نرالی صفات رکھتا ہے۔ ف٩ اللہ کے نام اس کی صفات ہیں۔ یعنی کوئی ہے اس کی صفت کا؟ جس میں اس جیسی صفات موجود ہوں؟ جب کوئی نہیں تو بندگی کے لائق اور کون ہو سکتا ہے؟(65)
وَيَقولُ الإِنسٰنُ أَءِذا ما مِتُّ لَسَوفَ أُخرَجُ حَيًّا(66)
ف١٠ گذشتہ رکوع میں نیکوں اور بدوں کا انجام فرمایا تھا جو مرنے کے بعد ہوگا۔ جو لوگ مر کر زندہ ہونے کو محال یا مستبعد سمجھتے ہیں یہاں ان کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے۔ یعنی آدمی انکار و تعجب کی راہ سے کہتا ہے کہ مرگل کر جب ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں اور مٹی میں مل کر مٹی بن گئے۔ کیا اس کے بعد پھر ہم قبروں سے زندہ کر کے نکالے جائیں گے۔ اور پردہ عدم سے نکل کر پھر منصہ وجود پر جلوہ گر ہوں گے۔(66)
أَوَلا يَذكُرُ الإِنسٰنُ أَنّا خَلَقنٰهُ مِن قَبلُ وَلَم يَكُ شَيـًٔا(67)
ف١١ یعنی آدمی ہو کر اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتا کہ چند روز پہلے وہ کوئی چیز نہ تھا۔ حق تعالٰی نے نابود سے بود کیا۔ کیا وہ ذات جو لاشئی کو شئی اور معدوم محض کو موجود کر دے، اس پر قادر نہیں کہ ایک چیز کو فنا کر کے دوبارہ پیدا کر سکے۔ آدمی کو اپنی پہلی ہستی کی کیفیت یاد نہیں رہی جو دوسری ہستی کا مذاق اڑاتا ہے وَہُوَ الَّذِیْ یَبْدَاُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہ، وَہَو اَہْوَنُ عَلَیْہِ (الروم، رکوع٣، آیت٢٧)(67)
فَوَرَبِّكَ لَنَحشُرَنَّهُم وَالشَّيٰطينَ ثُمَّ لَنُحضِرَنَّهُم حَولَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا(68)
ف ١٢ یعنی یہ منکرین ان شیاطین کی معیت میں قیامت کے دن خدا کے سامنے حاضر کیے جائیں گے جو اغواء کر کے انہیں گمراہ کرتے تھے، ہر مجرم کا شیطان اس کے ساتھ پکڑا ہوا آئے گا۔ ف١ یعنی مارے دہشت کے کھڑے سے گر پڑیں گے اور چین سے بیٹھ بھی نہ سکیں گے۔ یہ ہی ہوا گھٹنوں پر گرنا۔(68)
ثُمَّ لَنَنزِعَنَّ مِن كُلِّ شيعَةٍ أَيُّهُم أَشَدُّ عَلَى الرَّحمٰنِ عِتِيًّا(69)
(69)
ثُمَّ لَنَحنُ أَعلَمُ بِالَّذينَ هُم أَولىٰ بِها صِلِيًّا(70)
ف٢ یعنی منکرین کے ہر فرقہ میں جو زیادہ بدمعاش، سرکش اور اکڑ باز تھے، انہیں عام مجرموں سے علیحدہ کر لیا جائے گا۔ پھر ان میں بھی جو بہت زیادہ سزا کے لائق اور دوزخ کا حقدار ہوگا وہ خدا کے علم میں ہے اس کو دوسرے مجرموں سے پہلے آگ میں جھونکا جائے گا۔(70)
وَإِن مِنكُم إِلّا وارِدُها ۚ كانَ عَلىٰ رَبِّكَ حَتمًا مَقضِيًّا(71)
(71)
ثُمَّ نُنَجِّى الَّذينَ اتَّقَوا وَنَذَرُ الظّٰلِمينَ فيها جِثِيًّا(72)
ف٣ یعنی ہر نیک و بد، مجرم و برَی، اور مومن و کافر کے لیے حق تعالٰی قسم کھا چکا اور فیصلہ کر چکا ہے کہ ضرور بالضرور دوزخ پر اس کا گزر ہوگا، کیونکہ جنت میں جانے کا راستہ ہی دوزخ کو گیا ہے جسے عام محاورات میں "پل صراط" کہتے ہیں، اس پر لامحالہ سب کا گزر ہوگا خدا سے ڈرنے والے مومنین اپنے اپنے درجہ کے موافق وہاں سے صحیح سلامت گزر جائیں گے اور گنہگار الجھ کر دوزخ میں گر پڑیں گے۔ (العیاذ باللہ) پھر کچھ مدت کے بعد اپنے اپنے عمل کے موافق، نیز انبیاء ملائکہ اور صالحین کی شفاعت سے، اور آخر میں براہِ راست ارحم الراحمین کی مہربانی سے وہ سب گنہگار جنہوں نے سچے اعتقاد کے ساتھ کلمہ پڑھا تھا۔ دوزخ سے نکالے جائیں گے، صرف کافر باقی رہ جائیں گے اور دوزخ کی آگ میں ہر شخص کو داخل کیا جائے گا مگر صالحین پر وہ آگ بردو سلام بن جائے گی، وہ بے کھٹکے اس میں سے گزر جائیں گے۔ واللہ اعلم۔ امام فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر میں اس دخول کی بہت سی حکمتیں بیان کی ہیں۔ فلیراجع۔(72)
وَإِذا تُتلىٰ عَلَيهِم ءايٰتُنا بَيِّنٰتٍ قالَ الَّذينَ كَفَروا لِلَّذينَ ءامَنوا أَىُّ الفَريقَينِ خَيرٌ مَقامًا وَأَحسَنُ نَدِيًّا(73)
ف٤ یعنی کفار قرآن کی آیتیں سن کر جن میں ان کا برا انجام بتلایا گیا ہے ہنستے ہیں اور بطور استہزاء و تفاخر غریب مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تمہارے زعم کے موافق آخرت میں جو کچھ پیش آئے گا دونوں فریق کی موجود حالت اور دنیاوی پوزیشن پر منطبق نہیں ہوتا۔ کیا آج ہمارے مکانات، فرنیچر، اور بودوباش کے سامان تم سے بہتر نہیں اور ہماری مجلس (یا سوسائٹی) تمہاری سوسائٹی سے معزز نہیں یقینا ہم جو تمہارے نزدیک باطل پر ہیں، تم اہل حق سے زیادہ خوشحال اور جتھے والے ہیں۔ جو لوگ آج ہم سے خوف کھا کر کوہ صفا کی گھاٹی میں نظر بند ہوں، کیا گمان کیا جا سکتا ہے کہ کل وہ چھلانگ مار کر جنت میں جا پہنچیں گے؟ اور ہم دوزخ میں پڑے جلتے رہیں گے؟(73)
وَكَم أَهلَكنا قَبلَهُم مِن قَرنٍ هُم أَحسَنُ أَثٰثًا وَرِءيًا(74)
ف ٥ یہ ان کی بات کا جواب دیا کہ پہلے ایسی بہت قومیں گزر چکی ہیں جو دنیا کے سازو سامان اور شان و ونمود میں تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں۔ لیکن جب انہوں نے انبیاء کے مقابلہ میں سرکشی کی اور تکبرو تفاخر کو اپنا شعار بنا لیا، خدا تعالٰی نے ان کی جڑ کاٹ دی اور دنیا کے نقشہ میں ان کا نشان بھی باقی نہ رہا۔ پس آدمی کو چاہیے کہ دنیا کی فانی ٹیپ ٹاپ اور عارضی بہار سے دھوکہ نہ کھائے۔ عموماً متکبر دولت مند ہی حق کو ٹھکرا کر نہنگ ہلاکت کا لقمہ بنا کرتے ہیں۔ مال اولاد یا دنیاوی خوشحالی مقبولیت اور حسن انجام کی دلیل نہیں۔(74)
قُل مَن كانَ فِى الضَّلٰلَةِ فَليَمدُد لَهُ الرَّحمٰنُ مَدًّا ۚ حَتّىٰ إِذا رَأَوا ما يوعَدونَ إِمَّا العَذابَ وَإِمَّا السّاعَةَ فَسَيَعلَمونَ مَن هُوَ شَرٌّ مَكانًا وَأَضعَفُ جُندًا(75)
ف ٦  یعنی جو خود گمراہی میں جا پڑا اسے گمراہی میں جانے دے۔ کیونکہ دنیا جانچنے کی جگہ ہے۔ یہاں ہر ایک کو عمل کی فی الجملہ آزادی دی گئی ہے، خدا تعالٰی کی عادت اور حکمت کا اقتضاء یہ ہے کہ جو اپنے کسب و ارادہ سے کوئی راستہ اختیار کر لے اس کو نیک و بد سے خبردار کر دینے کے بعد اسی راستہ پر چلنے کے لیے ایک حد تک آزاد چھوڑ دے۔ اسی لیے جو بدی کی راہ چل پڑا اس کے حق میں دنیا کی مرفّہ الحالی اور درازئی عمر وغیرہ تباہی کا پیش خیمہ سمجھنا چاہیے۔ نیک و بد یہاں رلے ملے ہیں آخرت میں پوری طرح جدا ہوں گے۔ اصلی بھلائی برائی وہاں ملے گی۔ ف٧ یعنی کفار مسلمانوں کو ذلیل و کمزور اور اپنے کو معزز و طاقتور سمجھتے ہیں۔ اپنے عالیشان محلات اور بڑی بڑی فوجوں اور جتھوں پر اتراتے ہیں۔ کیونکہ خدا نے ابھی ان کی باگ ڈھیلی چھوڑ رکھی ہے جس وقت گلا دبایا جائے گا خواہ دنیاوی عذاب کی صورت میں یا قیامت کے بعد، تب پتہ لگے گا کہ کس کا مکان برا ہے اور کس کی جمعیت کمزور ہے۔ اس موقع پر تمہارے سامان اور لشکر کچھ کام نہ آئیں گے۔(75)
وَيَزيدُ اللَّهُ الَّذينَ اهتَدَوا هُدًى ۗ وَالبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوابًا وَخَيرٌ مَرَدًّا(76)
ف ٨ یعنی جیسے گمراہوں کو گمراہی میں لنبا چھوڑ دیتا ہے، ان کے بالمقابل جو سوجھ بوجھ کی راہِ ہدایت اختیار کرلیں ان کی سوجھ بوجھ اور فہم و بصیرت کو اور زیادہ تیز کر دیتا ہے جس سے وہ حق تعالٰی کی خوشنودی کے راستوں پر بگ ٹُٹ اڑے چلے جاتے ہیں۔ ف٩ یعنی دنیا کی رونق رب کے ہاں کام کی نہیں۔ نیکیاں سب رہیں گی اور دنیا نہ رہے گی۔ آخرت میں ہر نیکی کا بہترین بدلہ اور بہترین انجام ملے گا۔(76)
أَفَرَءَيتَ الَّذى كَفَرَ بِـٔايٰتِنا وَقالَ لَأوتَيَنَّ مالًا وَوَلَدًا(77)
ف١٠ یعنی کفر کے باوجود آپ نے یہ جرأت دیکھی، ایک کافر مالدار ایک مسلمان لوہار کو کہنے لگا تو مسلمانی سے منکر ہو تو تیری مزدوری دوں۔ اس نے کہا اگر تو مرے اور پھر جئے تو بھی میں منکر نہ ہوں۔ اس نے کہا اگر مر کر پھر جیوں گا تو یہ ہی مال و اولاد بھی ہوگا، تجھ کو مزدوری وہاں دے دوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی وہاں دولت ملتی ہے ایمان سے، کافر چاہے کہ یہاں کی دولت وہاں ملے، یا کفر کے باوجود اُخروی عیش و تنعم کے مزے اڑائے یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔(77)
أَطَّلَعَ الغَيبَ أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحمٰنِ عَهدًا(78)
ف١ یعنی ایسے یقین و وثوق سے جو دعویٰ کر رہا ہے کیا غیب کی خبر پا لی ہے؟ یا خدا سے کوئی وعدہ لے چکا ہے؟ ظاہر ہے کہ دونوں میں سے ایک بات بھی نہیں۔ ایک گندے کافر کی کیا بساط کہ وہ اس طرح کی غیبیات تک رسائی حاصل کر لے؟ رہا خدا کا وعدہ، وہ ان لوگوں سے ہو سکتا ہے جنہوں نے اپنا عہد پورا کر کے "لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ"اور عمل صالح کی امانت خدا کے پاس رکھ دی ہے۔(78)
كَلّا ۚ سَنَكتُبُ ما يَقولُ وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ العَذابِ مَدًّا(79)
ف٢ یعنی یہ قول بھی شامل مسل کر لیا جائے گا۔ اور مال و اولاد کی جگہ اس کی سزا بڑھا دی جائے گی۔(79)
وَنَرِثُهُ ما يَقولُ وَيَأتينا فَردًا(80)
ف٣ "جو بتلا رہا ہے" یعنی مال اور اولاد۔ چنانچہ اس کافر کے دونوں بیٹے مسلمان ہوئے (کذافی الموضح) یا یہ مطلب ہے کہ یہ چیزیں اس سے الگ کر لی جائیں گی۔ قیامت میں اکیلا حاضر ہوگا نہ مال کام آئے گا نہ اولاد ساتھ دے گی۔(80)
وَاتَّخَذوا مِن دونِ اللَّهِ ءالِهَةً لِيَكونوا لَهُم عِزًّا(81)
ف٤ یعنی مال واولاد سے بڑھ کر اپنے جھوٹے معبودوں کی مدد کے امیدوار ہیں کہ وہ ان کو خدا کے ہاں بڑے بڑے درجے دلائیں گے۔ حالانکہ ہرگز ایسا ہونے والا نہیں۔ محض سودائے خام ہے جو اپنے دماغوں میں پکا رہے ہیں۔(81)
كَلّا ۚ سَيَكفُرونَ بِعِبادَتِهِم وَيَكونونَ عَلَيهِم ضِدًّا(82)
ف ٥ یعنی وہ معبود مددتو کیا کرتے، خود ان کی بندگی سے بیزار ہوں گے۔ اور ان کے مدمقابل ہو کر بجائے عزت بڑھانے کے اور زیادہ ذلت و رسوائی کا سبب بنیں گے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا۔"وَاِذَا حُشِرَالنَّاسُ کَانُوْا لَہُمْ اَعْدَآئً وَّ کَانُوْا بِعِبَادَتِہِمْ کَافِرِیْنَ"(الاحقاف، رکوع١، آیت:٦)(82)
أَلَم تَرَ أَنّا أَرسَلنَا الشَّيٰطينَ عَلَى الكٰفِرينَ تَؤُزُّهُم أَزًّا(83)
(83)
فَلا تَعجَل عَلَيهِم ۖ إِنَّما نَعُدُّ لَهُم عَدًّا(84)
ف ٦  یعنی شیطان انہی بدبختوں کو گمراہی کا بڑھاوا دیتا اور انگلیوں پر نچاتا ہے جنہوں نے خود کفر وانکار کا شیوہ اختیار کر لیا۔ اگر ایسے اشقیاء شیطان کی تحریص و اغواء سے گمراہی میں لمبے جائیں تو جانے دیجئے، آپ ان کی سزا دہی میں جلدی نہ کریں۔ اللہ تعالٰی نے ان کی باگ ڈھیلی چھوڑ رکھی ہے تاکہ ان کی زندگی کے گنے ہوئے دن پورے ہوجائیں۔ ان کی ایک ایک سانس، ایک ایک لمحہ اور ایک ایک عمل ہمارے یہاں گنا جا رہا ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ حرکت بھی ہمارے احاطہ علمی اور دفاتر اعمال سے باہر نہیں ہو سکتی۔ تمام عمر کے اعمال ایک ایک کر کے ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔(84)
يَومَ نَحشُرُ المُتَّقينَ إِلَى الرَّحمٰنِ وَفدًا(85)
(85)
وَنَسوقُ المُجرِمينَ إِلىٰ جَهَنَّمَ وِردًا(86)
ف٧ جس طرح ڈھور ڈنگر پیاس کی حالت میں گھاٹ کی طرف جاتے ہیں۔ اسی طرح مجرموں کو دوزخ کے گھاٹ اتارا جائے گا۔(86)
لا يَملِكونَ الشَّفٰعَةَ إِلّا مَنِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحمٰنِ عَهدًا(87)
ف ٨ یعنی جن کو اللہ تعالٰی نے شفاعت کا وعدہ دیا مثلاً ملائکہ، انبیاء، صالحین وغیر ہم، وہ ہی درجہ بدرجہ سفارش کریں گے، بدون اجازت کسی کو زبان ہلانے کی طاقت نہ ہوگی۔ اور سفارش بھی ان ہی لوگوں کی کر سکیں گے جن کے حق میں سفارش کیے جانے کا وعدہ دے چکے ہیں۔ کافروں کے لیے شفاعت نہ ہوگی۔(87)
وَقالُوا اتَّخَذَ الرَّحمٰنُ وَلَدًا(88)
ف٩ بہت آدمیوں نے تو غیر اللہ کو معبود ہی ٹھہرایا تھا، لیکن ایک جماعت وہ ہے جس نے خدا تعالٰی کے لیے اولاد تجویز کی۔ مثلاً نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کو۔ بعض یہود نے عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہا اور بعض مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ العیاذ باللہ۔(88)
لَقَد جِئتُم شَيـًٔا إِدًّا(89)
(89)
تَكادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرنَ مِنهُ وَتَنشَقُّ الأَرضُ وَتَخِرُّ الجِبالُ هَدًّا(90)
(90)
أَن دَعَوا لِلرَّحمٰنِ وَلَدًا(91)
ف١٠ یعنی یہ ایسی بھاری بات کہی گئی اور ایسا سخت گستاخانہ کلمہ منہ سے نکالا گیا جسے سن کر اگر آسمان زمین اور پہاڑ مارے ہول کے پھٹ پڑیں اور ٹکڑیں ٹکڑے ہوجائیں تو کچھ بعید نہیں۔ اس گستاخی پر اگر غضب الٰہی بھڑک اٹھے تو عالم تہ و بالا ہو جائے اور آسمان و زمین تک کے پرخچے اڑ جائیں۔ محض اس کا حلم مانع ہے کہ ان بیہودگیوں کو دیکھ کر دنیا کو ایک دم تباہ نہیں کرتا۔ جس خداوند قدوس کی توحید پر آسمان، زمین، پہاڑ، غرض ہر علوی و سفلی چیز شہادت دے رہی ہے، انسان کی یہ جسارت کہ اس کے لیے اولاد کی احتیاج ثابت کرنے لگے۔ العیاذ باللہ۔(91)
وَما يَنبَغى لِلرَّحمٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا(92)
ف١١ اس کی شانِ تقدیس و تنزیہ اور کمال غنا کے منافی ہے کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔ نصاریٰ جس غرض کے لیے اولاد کے قائل ہوئے ہیں یعنی کفارہ کے مسئلہ، خدا تعالٰی کو "رحمان" مان کر اس کی ضرورت نہیں رہتی۔(92)
إِن كُلُّ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ إِلّا ءاتِى الرَّحمٰنِ عَبدًا(93)
ف١ یعنی سب خدا کی مخلوق اور اس کے بندے ہیں اور بندے ہی بن کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے پھر بندہ بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟ اور جس کے سامنے سب محکوم و محتاج ہوں اسے بیٹا بنانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔(93)
لَقَد أَحصىٰهُم وَعَدَّهُم عَدًّا(94)
(94)
وَكُلُّهُم ءاتيهِ يَومَ القِيٰمَةِ فَردًا(95)
ف٢ یعنی ایک فرد بشر بھی اس کی بندگی سے باہر نہیں ہو سکتا۔ سب کو خدا کے سامنے جریدہ حاضر ہونا ہے اس وقت تمام تعلقات اور سازو سامان علیحدہ کر لیے جائیں گے فرضی معبود اور بیٹے، پوتے کام نہ دیں گے۔(95)
إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجعَلُ لَهُمُ الرَّحمٰنُ وُدًّا(96)
ف٣ یعنی ان کو اپنی محبت دے گا، یا خود ان سے محبت کرے گا، یا خلق کے دل میں ان کی محبت ڈالے گا۔ احادیث میں ہے کہ جب حق تعالٰی کسی بندہ کو محبوب رکھتا ہے تو اول جبرائیل کو آگاہ کرتا ہے کہ میں فلاں بندہ سے محبت کرتا ہوں تو بھی کر، وہ آسمانوں میں اس کا اعلان کرتے ہیں۔ آسمانوں سے اترتی ہوئی اس کی محبت زمین پر پہنچ جاتی ہے اور زمین والوں میں اس بندہ کو حسن قبول حاصل ہوتا ہے۔ یعنی بے تعلق لوگ جن کا کوئی خاص نفع و ضرر اس کی ذات سے وابستہ نہ ہو، اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس قسم کے حسن قبول کی ابتداء مومنین صالحین اور خدا پرست لوگوں سے ہوتی ہے، ان کے قلوب میں اول اس کی محبت ڈالی جاتی ہے، بعدہ' قبول عام حاصل ہو جاتا ہے۔ ورنہ ابتداء محض طبقہ عوام میں حسنِ قبول حاصل ہونا اور بعد میں بعض خدا پرست صالحین کا بھی کسی غلط فہمی وغیرہ سے اس کی طرف جھکنا، مقبولیت عند اللہ کی دلیل نہیں، خوب سمجھ لو۔ (تنبیہ) یہ آیت مکی ہے اور مکہ میں جن مسلمانوں سے یہ وعدہ کیا گیا تھا، تھوڑے دنوں بعد اسی طرح پورا ہوا کہ دنیا حیرت زدہ ہوگئی۔ حق تعالٰی نے ان کی وہ محبت و الفت اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کر دی جس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔(96)
فَإِنَّما يَسَّرنٰهُ بِلِسانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ المُتَّقينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَومًا لُدًّا(97)
ف٤ یعنی قرآن کریم نہایت سہل و صاف زبان میں کھول کھول کر پرہیزگاروں کو بشارت سناتا اور جھگڑالو لوگوں کو بد کرداریوں کے خراب نتائج سے خبردار کرتا ہے۔(97)
وَكَم أَهلَكنا قَبلَهُم مِن قَرنٍ هَل تُحِسُّ مِنهُم مِن أَحَدٍ أَو تَسمَعُ لَهُم رِكزًا(98)
ف ٥ یعنی کتنی ہی بدبخت قومیں اپنے جرائم کی پاداش میں ہلاک کی جا چکیں۔ جن کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ آج ان کے پاؤں کی آہٹ یا ان کی لن ترانیوں کی ذرا سی بھٹک بھی سنائی نہیں دیتی۔ پس جو لوگ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے برسر مقابلہ ہو کر آیات اللہ کا انکار و استہزاء کر رہے ہیں، وہ بے فکر نہ ہوں۔ ممکن ہے ان کو بھی کوئی ایسا ہی تباہ کن عذاب آگھیرے جو چشم زدن میں تہس نہس کر ڈالے۔ تم سورت مریم بحسن توفیقہ ونصرہ فللہ الحمدوالمنہ۔(98)