At-Tariq( الطارق)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ وَالسَّماءِ وَالطّارِقِ(1)
(1)
وَما أَدرىٰكَ مَا الطّارِقُ(2)
(2)
النَّجمُ الثّاقِبُ(3)
(3)
إِن كُلُّ نَفسٍ لَمّا عَلَيها حافِظٌ(4)
(4)
فَليَنظُرِ الإِنسٰنُ مِمَّ خُلِقَ(5)
ف١    یعنی فرشتے رہتے ہیں آدمی کے ساتھ۔ بلاؤں سے بچاتے ہیں یا اس کے عمل لکھتے ہیں (موضح القرآن) اور قسم میں شاید اس طرف اشارہ ہو کر جس نے آسمان پر ستاروں کی حفاظت کے ایسے سامان کئے ہیں، اس کو زمین پر تمہاری یا تمہارے اعمال کی حفاظت کرنا کیا دشوار ہے۔ نیز جس طرح آسمان پر ستارے ہر وقت محفوظ ہیں مگر ان کا ظہور خاص شب میں ہوتا ہے۔ ایسے ہی سب اعمال نامہ اعمال میں اس وقت بھی محفوظ ہیں، مگر ظہور ان کا خاص قیامت میں ہوگا۔ جب یہ بات ہے تو انسان کو قیامت کی فکر چاہیے۔ اور اگر اس کو مستبعد سمجھتا ہے تو اس کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔(5)
خُلِقَ مِن ماءٍ دافِقٍ(6)
ف ٢    یعنی منی سے جو اچھل کر نکلتی ہے۔(6)
يَخرُجُ مِن بَينِ الصُّلبِ وَالتَّرائِبِ(7)
ف٣    کہتے ہیں کہ مرد کی منی کا انصباب پیٹھ سے ہوتا ہے اور عورت کا سینہ سے۔ اور بعض علماء نے فرمایا کہ پیٹھ اور سینہ تمام بدن سے کنایہ ہے۔ یعنی مرد کی ہو یا عورت کی تمام بدن میں پیدا ہو کر پھر جدا ہوتی ہے اور اس کنایہ میں تخصیص صلب و ترائب کی شاید اس لئے ہو کہ حصول مادہ منویہ میں اعضاء رئیسہ (قلب، دماغ، کبد) کو خاص دخل ہے جن میں سے قلب و کبد کا تعلق و تلبس ترائب سے اور دماغ کا تعلق بواسطہ تخاع (حرام مغز) کے صلب سے ظاہر ہے۔ واللہ اعلم۔(7)
إِنَّهُ عَلىٰ رَجعِهِ لَقادِرٌ(8)
ف٤    یعنی اللہ پھیر لائے گا مرنے کے بعد (موضح القرآن) حاصل یہ کہ نطفہ سے انسان بنا دینا بہ نسبت دوبارہ بنانے کے زیادہ عجیب ہے جب یہ امر عجیب اس کی قدرت سے واقع ہو رہا ہے تو جائز نہیں کہ اس سے کم عجیب چیز کے وقوع کا خواہ مخواہ انکار کیا جائے۔(8)
يَومَ تُبلَى السَّرائِرُ(9)
ف ٥     یعنی سب کی قلعی کھل جائے گی۔ اور کل باتیں جو دلوں میں پوشیدہ رکھی ہوں یا چھپ کر کی ہوں ظاہر ہوجائیں گی اور کسی جرم کا اخفاء ممکن نہ ہوگا۔(9)
فَما لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلا ناصِرٍ(10)
ف ٦     اس وقت مجرم نہ اپنے زور و قوت سے مدافعت کر سکے گا نہ کوئی حمایتی ملے گا جو مدد کر کے سزا سے بچا لے۔(10)
وَالسَّماءِ ذاتِ الرَّجعِ(11)
ف٧    یا بارش لانے والے کی۔(11)
وَالأَرضِ ذاتِ الصَّدعِ(12)
ف ٨     یعنی اس میں سے پھوٹ نکلتے ہیں کھیتی اور درخت۔(12)
إِنَّهُ لَقَولٌ فَصلٌ(13)
(13)
وَما هُوَ بِالهَزلِ(14)
ف٩    یعنی قرآن اور جو کچھ وہ معاد کے متعلق بیان کرتا ہے، کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں۔ بلکہ حق و باطل اور صدق و کذب کا دو ٹوک فیصلہ ہے۔ اور لاریب وہ سچا کلام اور ایک طے شدہ معاملہ کی خبر دینے والا ہے جو یقینا پیش آکر رہے گا۔ (تنبیہ) قسم کو اس مضمون سے یہ مناسبت ہوئی کہ قرآن آسمان سے آتا ہے اور جس میں قابلیت ہو مالا مال کر دیتا ہے جیسے بارش آسمان کی طرف سے آتی ہے اور عمدہ زمین کو فیضیاب کرتی ہے۔ نیز قیامت میں ایک غیبی بارش ہوگی جس سے مردے زندہ ہوجائیں گے جس طرح یہاں بارش کا پانی گرنے سے مردہ اور بے جان زمین سر سبز ہو کر لہلہانے لگتی ہے۔(14)
إِنَّهُم يَكيدونَ كَيدًا(15)
(15)
وَأَكيدُ كَيدًا(16)
(16)
فَمَهِّلِ الكٰفِرينَ أَمهِلهُم رُوَيدًا(17)
ف ١٠     یعنی منکرین داؤ پیچ کرتے رہتے ہیں کہ شکوک و شبہات ڈال کر یا اور کسی تدبیر سے حق کو ابھرنے اور پھیلنے نہ دیں۔ اور میری تدبیر لطیف بھی (جس کا انہیں احساس نہیں) اندر اندر کام کر رہی ہے کہ ان کے تمامی مکرو کید کا جال توڑ پھوڑ کر رکھ دیا جائے اور ان کے سب داؤ پیچ ان ہی کی طرف واپس کئے جائیں۔ اب خود سوچ لو کہ اللہ کی تدبیر کے مقابلہ میں کسی کی چالاکی اور مکاری کیا کام دے سکتی ہے لا محالہ یہ لوگ ناکام اور خائب و خاسر ہو کر رہیں گے۔ اس لئے مناسب ہے کہ آپ ان کی سزا دہی میں جلدی نہ کریں اور ان کی حرکات شنیعہ سے گھبرا کر بد دعا نہ فرمائیں بلکہ تھوڑے دن ڈھیل دیں پھر دیکھیں نتیجہ کیا ہوتا ہے۔(17)