An-Nisaa(النساء)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يٰأَيُّهَا النّاسُ اتَّقوا رَبَّكُمُ الَّذى خَلَقَكُم مِن نَفسٍ وٰحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنها زَوجَها وَبَثَّ مِنهُما رِجالًا كَثيرًا وَنِساءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذى تَساءَلونَ بِهِ وَالأَرحامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلَيكُم رَقيبًا(1)
ف۷ یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے اول تو حضرت حوا کو ان کی بائیں پسلی سے نکالا، پھر ان دونوں سے تمام مرد اور عورتوں کو پیدا کیا، اور دنیا میں پھیلایا تو حقیقت میں تمام آدمی ایک جان اور ایک شخص سے اللہ تعالٰی نے پیدا کئے، مطلب یہ ہے کہ جب تم سب کو عدم سے وجود میں لانے والا اور پھر تم کو باقی اور قائم رکھنے والا وہی ہے تو اس سے ڈرنا اور اس کی فرمانبرداری ضروری بات ہے، اس سے اشارہ ہوگیا دو مضمونوں کی طرف اول یہ کہ اللہ تعالٰی تم سب کا خالق اور موجد ہے، دوسرے یہ کہ تمام آدمیوں کے لئے سبب وجود کہ جس سے اللہ تعالٰی نے سب کو پیدا فرمایا، ایک ہی جان یعنی ابو البشر آدم علیہ السلام ہے جس سے معلوم ہوگیا کہ ہمارا اصلی تعلق تو اللہ سے ہے کیونکہ علت نامہ اور اس کے معلول میں جس قدر تعلق اور قرب اور علاقہ احتیاج ہوتا ہے وہ کسی میں ممکن نہیں اس کے بعد وہ تعلق اور قرب سے جو افراد انسانی میں باہم پایا جاتا ہے کیونکہ ان کا سبب وجود اور مخلوق منہ بالکل شے واحد ہے جس سے معلوم ہوگیا کہ اول تو ہمارے ذمہ پر خدا تعالٰی کی اطاعت لازم ہونی چاہیے کہ وہ ہمارا خالق ہے اس کے بعد تمام مخلوقات میں خاص اپنے بنی نوع کی رعایت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہم پر ضروری ہونا چاہئے، کیونکہ اللہ تعالٰی نے ہم سب کے لئے مخلوق منہ اور سبب وجود ایک چیز کو مقرر فرمایا تو جو قرب اور جو اتحاد افراد انسانی میں باہم موجود ہے وہ کسی دوسری چیز کے ساتھ حاصل نہیں، اسی وجہ سے شرعاً اور عقلاً آدمیوں میں باہم حسن سلوک ایسا ضروری اور بدسلوکی اس قدر مذموم ہے جو اوروں کے ساتھ نہیں، جس کی تفصیل نصوص اور احکام شرعیہ میں برابر موجود ہے۔شیخ علیہ الرحمتہ نے اسی مضمون کو بیان کیا ہے۔ قطعہ بنی آدم اعضائے یک دیگراند۔ کہ درآفرینش زیک جو ہراند چو عضوے بدردآورد روزگار۔ دگر عضوہارا نماند قرار۔ تو اس موقع میں حق تعالٰی نے اپنی خالقیت ظاہر فرما کر اپنی اطاعت کا حکم دیا اور بنی آدم کے اتحاد اصلی کو جتلا کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ باہم ایک ہو کر رہو چنانچہ آیت کے آیندہ حصہ میں اس اشارہ کو ظاہر کر دیا۔ ف۱ خالق اور رب یعنی موجد اور مبقی ہونے کے علاوہ اللہ سے ڈرنے اور اس کی اطاعت کے وجوب کی ایک یہ بھی وجہ ہے کہ تم اس کا واسطہ دیکر آپس میں ایک دوسرے سے اپنے حقوق اور فوائد طلب کر تے ہو اور آپس میں اس کی قسمیں دیتے ہو اور ان پر اطمینان حاصل کرتے کراتے ہو یعنی اپنے باہمی معاملات اور حاجات عارضہ میں بھی اسی کا ذریعہ پکڑتے ہو مطلب یہ ہوا کہ وجود اور بقا ہی میں احتیاج منحصر نہیں، بلکہ تمام حاجتوں اور کاموں میں بھی اس کے محتاج ہو اس لئے اس کی اطاعت کا ضروری ہونا اور بھی محقق ہوگیا اس کے بعد تم کو یہ حکم ہے کہ قرابت سے بھی ڈرو یعنی اہل قرابت کے حقوق ادا کرتے رہو، اور قطع رحمی اور بدسلوکی سے بچو۔ بنی نوع یعنی تمام افراد انسانی کے ساتھ علی العموم سلوک کرنا تو آیت کے پہلے حصہ میں آچکا تھا اہل قرابت کے ساتھ چونکہ قرب و اتحاد مخصوص اور بڑھا ہوا ہے اس لئے ان کی بدسلوکی سے اب خاص طور پر ڈرایا گیا، کیونکہ ان کے حقوق دیگر افراد انسانی سے بڑھے ہوئے ہیں، چنانچہ حدیث قدسی قال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ انا اللّٰہ وانا الرحمن خلقت الرحم وشققت لھا من اسمی فمن وصلہا وصلتہ ومن قطعہا قطعتہ اور حدیث خلق اللّٰہ الخلق فلما فرغ منہ قامت الرحم فاخذت بحقوی الرحمن فقال مہ قالت ھذا مقام العائذ منک من القطیعۃ قال الا ترضین ان اصل من وصلک واقطع من قطعک قالت بلےٰ یا رب قال فذاک اور حدیث الرحم شجنۃ من الرحمٰن فقال اللّٰہ من وصلک وصلتہ ومن قطعک قطعتہ اور حدیث الرحم معلقۃ بالعرش تقول من وصلنی وصلہ اللّٰہ ومن قطعنی قطعہ اللّٰہ" اس پر شاہد ہیں اور رحم کے اختصاص مذکور اور تعلق کی طرف مشیر ہیں تو اب نتیجہ یہ نکلا کہ معدن وجود اور منشائے وجود کے اتحاد کے باعث تو تمام بنی آدم میں رعایت حقوق اور حسن سلوک ضروری ہے۔ اس کے بعد اگر کسی موقع میں کسی خصوصیت کی وجہ سے اتحاد میں زیادتی ہوجائے گی جیسے اقارب میں یا کسی موقع میں شدت احتیاج پائی جائے گی، جیسے یتامیٰ اور مساکین وغیرہ تو وہاں رعایت حقوق میں بھی ترقی ہو جائے گی، ان کے علاوہ جب حکم خداوندی بھی صاف آگیا کہ ارحام کے حقوق کی رعایت اور حفاظت رکھو تو اب تو اس کی تاکید انتہا کو پہنچ گئی۔ چنانچہ اس سورت میں اکثر احکام اسی تعلق عام اور دیگر تعلقات خاصہ کے متعلق مذکور ہیں۔ گویا وہ احکام اس امر کلی کی جو کہ یہاں مذکور ہوا تفصیل ہیں۔ ف۲ یعنی تمہارے تمام احوال و اعمال سے واقف ہے اس کے حکم کی متابعت کرو گے تو ثواب پاؤ گے ورنہ مستحق عذاب ہوگے اور تمہارے تعلقات ارحام اور ان کے مراتب اور ہر ایک کے مناسب اس کے حقوق کو بھی خوب جانتا ہے اس لئے اس کے متعلق جو تم کو حکم دے اس کو حق سمجھو اور اس پر عمل کرو۔(1)
وَءاتُوا اليَتٰمىٰ أَموٰلَهُم ۖ وَلا تَتَبَدَّلُوا الخَبيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلا تَأكُلوا أَموٰلَهُم إِلىٰ أَموٰلِكُم ۚ إِنَّهُ كانَ حوبًا كَبيرًا(2)
ف۳ یعنی یتیم بچے جن کا کہ باپ مرگیا ہو ان کے متعلق ان کے ولی اور سرپرست کو یہ حکم ہے کہ جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کا مال ان کے سپرد کردے اور زمانہ تولیت میں یتیموں کی کسی اچھی چیز کو لیکر اس کے معاوضہ میں۔ بری اور گھٹیا چیز ان کے مال میں شامل نہ کردے اور ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاوے، مثلاً ولی کو اجازت ہے کہ اپنا اور یتیم کا کھانا مشترک اور شامل رکھے مگر یہ ضرور ہے کہ یتیم کا نقصان نہ ہونے پائے یہ نہ ہو کہ اس شرکت کے بہانے سے یتیم کا مال کھا جاوے اور اپنا نفع کر لے کیونکہ یتیم کا مال کھانا سخت گناہ ہے۔ احکام متعلقہ ارحام میں یتیموں کے حکم کو شاید اس لئے مقدم بیان فرمایا کہ یتیم اپنی بے سروسامانی اور مجبوری اور بیچارگی اور بے کسی کے باعث رعایت و حفاظت اور شفقت کا نہایت محتاج ہے اور اسی اہتمام کی وجہ سے تبدیل اور شرکت کے نقصان کی بھی کھول کر ممانعت فرمادی اور آئندہ متعدد آیات میں بھی یتیموں کے متعلق چند احکام ارشاد ہوئے جن سے اہتمام مذکور ظاہر و باہر معلوم ہوتا ہے اور یہ تمام احکام اور تاکیدات جملہ یتیموں کے حق میں ہیں۔ البتہ وہ یتیم جو قرابت دار ہیں ان کے بارے میں تاکید میں زیادہ شدت ہوگی اور وہی شان نزول اور سبب ربط بین الآیات ہیں اور عادت و عرف کے بھی موافق ہیں کیونکہ یتیم بچہ کا ولی اکثر اس کا کوئی قریب ہی ہوتا ہے۔(2)
وَإِن خِفتُم أَلّا تُقسِطوا فِى اليَتٰمىٰ فَانكِحوا ما طابَ لَكُم مِنَ النِّساءِ مَثنىٰ وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۖ فَإِن خِفتُم أَلّا تَعدِلوا فَوٰحِدَةً أَو ما مَلَكَت أَيمٰنُكُم ۚ ذٰلِكَ أَدنىٰ أَلّا تَعولوا(3)
ف ٤ احادیث صحیحہ میں منقول ہے کہ یتیم لڑکیاں جو اپنے ولی کی تربیت میں ہوتی تھیں اور وہ لڑکی اس ولی کے مال اور باغ میں بوجہ قرابت باہمی شریک ہوتی تو اب دو صورتیں پیش آتیں کبھی تو یہ ہوتا کہ ولی کو گو اس کا جمال اور مال دونوں مرغوب ہوتے تو وہ ولی اس سے تھوڑے سے مہر پر نکاح کر لیتا کیونکہ دوسرا شخص اس لڑکی کا حق مانگنے والا تو کوئی ہے ہی نہیں اور کبھی یہ ہوتا کہ یتیم لڑکی کی صورت تو مرغوب نہ ہوتی مگر ولی یہ خیال کرتا کہ دوسرے سے نکاح کردوں گا تو لڑکی کا مال میرے قبضہ سے نکل جائے گا اور میرے مال میں دوسرا شریک ہو جائے گا۔ اس مصلحت سے نکاح تو جوں توں کرلیتا مگر منکوحہ سے کچھ رغبت نہ رکھتا۔ اس پر یہ آیت اتری اور اولیاء کو ارشاد ہوا کہ اگر تم کو اس بات کا ڈر ہے کہ تم یتیم لڑکیوں کی بابت انصاف نہ کر سکو گے اور ان کے مہر اور ان کے ساتھ حسن معاشرت میں تم سے کوتاہی ہوگی تو تم ان سے نکاح مت کرو بلکہ اور عورتیں جو تم کو مرغوب ہوں ان سے ایک چھوڑ چار تک کی تم کو اجازت ہے، قاعدہ شریعت کے موافق ان سے نکاح کر لو تاکہ یتیم لڑکیوں کو بھی نقصان نہ پہنچے کیونکہ تم ان کے حقوق کے حامی رہوگے اور تم بھی کسی خرابی اور گناہ میں نہ پڑو۔ جاننا چاہئیے کہ مسلمان آزاد کے لئے زیادہ سے زیادہ چار نکاح تک اور غلام کے لئے دو تک کی اجازت ہے، اور حدیثوں میں بھی اس کی تصریح ہے اور آئمہء دین کا بھی اسی پر اجماع ہے اور تمام امت کے لئے یہی حکم ہے صرف رسول اللہ کی خصوصیت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتیاز ہے کہ اس سے زائد کی اجازت ہے۔ فائدہ: یتیم لڑکیوں کے نکاح کی تیسری صورت، یہ بھی ہے حدیث میں ہے کہ جس یتیم لڑکی کی طرف صورت اور مال دونوں وجہ سے بے رغبتی ہوتی تھی اس کا نکاح ولی دوسری جگہ کردیتا تھا۔ مگر ظاہر ہے کہ اس آیت کو اس صورت سے تعلق نہیں۔ ف ۵  یعنی اگر تم کو اس کاڈر ہو کہ کئی عورتوں میں انصاف اور مساوات کے مطابق معاملہ نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی نکاح پر قناعت کرو یا صرف لونڈیوں پر ایک ہو یا زیادہ بس کرو یا ایک منکوحہ کے ساتھ ایک یا چند لونڈیوں کو جمع کرلو۔ ف٦ یعنی صرف ایک عورت سے نکاح کرنے میں یا فقط اپنی لونڈی یا اپنی لونڈیوں پر قناعت کرنے میں یا ایک نکاح کے ساتھ ایک لونڈی یا چند لونڈیوں کو جمع کرنے میں اس بات کی توقع ہے کہ تم بے انصافی اور خلاف عدل سے محفوظ رہو کیونکہ زوجات کے جو حقوق ہیں وہ اپنی مملوکہ لونڈی کے نہیں کہ ان میں عدل نہ ہونے سے تم پر مواخذہ ہو نہ ان کے لئے مہر ہے نہ معاشرت کے لئے کوئی حد مقرر ہے۔ فائدہ: جس کے کئی عورتیں ہوں تو اس پر واجب ہے کہ کھانے پینے اور لینے دینے میں انکو برابر رکھے اور رات کو ان کے پاس رہنے میں باری برابر باندھے اگر برابری نہ کرے گا تو قیامت کو وہ مفلوج ہوگا۔ ایک کروٹ گھسٹتی چلے گی اور کسی کے نکاح میں ایک حرہ اور ایک لونڈی ہو تو لونڈی کو حرہ سے نصف باری ملے گی اور جو لونڈی اپنی ملک میں ہو اس کا باری میں کوئی حق مقرر نہیں مالک کی خوشی پر ہے۔(3)
وَءاتُوا النِّساءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحلَةً ۚ فَإِن طِبنَ لَكُم عَن شَيءٍ مِنهُ نَفسًا فَكُلوهُ هَنيـًٔا مَريـًٔا(4)
ف ۷ یعنی جن عورتوں سے نکاح کرو ان کے مہر خوش دلی اور رغبت کے ساتھ خود ادا کردو ان کا کوئی حامی اور تم سے تقاضا کر کے وصول کرنے والا ہو یا نہ ہو۔ ایسا کرو تو پھر یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنے میں کوئی حرج ہی نہیں، حرج تو جب ہے کہ مہر دینے میں یا ان کے کسی حق کے ادا کرنے میں گرانی ہو۔ ف۸ یعنی اگر عورت اپنی خوشی سے مہر میں سے کوئی مقدار زوج کو معاف کردے یا لے کر پھر زوج کو ہبہ کر دے تو اس میں کچھ حرج نہیں۔ زوج اس خوشی سے کھالے جو کھانا لذیذ ہو اور طبیعت اس کو رغبت کے ساتھ قبول کر لے اس کو ہنیء کہتے ہیں اور جو کھانا ہضم ہو کر بخوبی جزو بدن اور موجب صحت قوت ہو وہ مری ہے۔(4)
وَلا تُؤتُوا السُّفَهاءَ أَموٰلَكُمُ الَّتى جَعَلَ اللَّهُ لَكُم قِيٰمًا وَارزُقوهُم فيها وَاكسوهُم وَقولوا لَهُم قَولًا مَعروفًا(5)
ف ۹ یعنی بے سمجھ لڑکوں کے ہاتھ میں ان کا وہ مال مت دے دو کہ جس کو اللہ تعالٰی نے آدمیوں کے لئے سامان معیشت بنایا ہے، بلکہ اس کی پوری حفاظت رکھو اور اندیشہ ہلاکت سے بچاؤ اور جب تک ان کو نفع نقصان کا ہوش نہ آئے، اس وقت تک ان کو اس میں سے کھلاؤ پہناؤ اور تسلی کرتے رہو کہ یہ سب مال تمہارا ہی ہے، ہم تو تمہاری خیر خواہی کرتے ہیں۔ جب سمجھدار ہوجاؤ گے تم کو ہی دے دیں گے۔(5)
وَابتَلُوا اليَتٰمىٰ حَتّىٰ إِذا بَلَغُوا النِّكاحَ فَإِن ءانَستُم مِنهُم رُشدًا فَادفَعوا إِلَيهِم أَموٰلَهُم ۖ وَلا تَأكُلوها إِسرافًا وَبِدارًا أَن يَكبَروا ۚ وَمَن كانَ غَنِيًّا فَليَستَعفِف ۖ وَمَن كانَ فَقيرًا فَليَأكُل بِالمَعروفِ ۚ فَإِذا دَفَعتُم إِلَيهِم أَموٰلَهُم فَأَشهِدوا عَلَيهِم ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ حَسيبًا(6)
ف۱۰ یعنی یتیموں کو سدھاتے اور آزماتے رہو، بلوغ کے وقت تک۔ پھر بلوغ کے بعد اگر ان میں اپنے نفع نقصان کی سمجھ اور حفاظت و انتظام مال کا سلیقہ پاؤ تو ان کا مال ان کے حوالے کر دو۔ یتیموں کے سدھانے اور آزمانے کی عمدہ صورت یہی ہے کہ کم قیمت معمولی چیزوں کی ان سے خرید و فروخت کرائی جائے اور ان کا طریقہ ان کو بتایا جائے، اس سے معلوم ہوا کہ نابالغ کی بیع و شرا ولی کی اجازت سے جو ہوگی وہ درست ہوگی، امام ابوحنیفہ کا یہی مذہب ہے۔ اور اگر بالغ ہو کر بھی اس میں ہشیاری نہ آئے تو امام ابوحنیفہ کا یہ مذہب ہے کہ پچیس برس کی عمر تک انتظار کرو۔ اس درمیان میں جب اس کو سمجھ آجائے مال اس کے حوالے کردو، ورنہ پچیس سال پر ہر حال میں اس کا مال اس کو دیدو۔ پوری سمجھ آئے یا نہ آئے۔ ف۱ یعنی یتیم کے مال کو ضرورت سے زیادہ صرف کرنا منع ہے، مثلاً ایک پیسہ کی جگہ دو پیسے صرف کر دو اور یہ بھی منع ہے کہ اس بات سے گھبرا کر کہ یتیم بڑے ہو کر اپنا مال ہم سے لے لیں گے خرچ کرنے میں جلدی کرنے لگو، خلاصہ یہ ہوا کہ یتیم کے مال کو بقدر ضرورت اور بوقت ضرورت صرف کرنا چاہیئے۔ ف ۲ یعنی یتیم کا مال ولی اپنے خرچ میں نہ لائے اور اگر یتیم کی پرورش کرنے والا محتاج ہو تو البتہ اپنی خدمت کرنے کے موافق یتیم کے مال میں سے تحقیق لے لیوے مگر غنی کو کچھ لینا ہرگز جائز نہیں۔ ف ۳  جب کسی بچہ کا باپ مرجائے تو چاہئیے کہ چند مسلمانوں کے روبرو یتیم کا مال لکھ کر امانتدار کو سونپ دیں، جب یتیم بالغ ہوشیار ہوجائے تو اس تحریر کے موافق اس کا مال اس کے حوالہ کردیں اور جو کچھ خرچ ہوا ہو وہ اس کو سمجھا دیں، اور جو کچھ یتیم کے حوالے کیا جائے شاہدوں کو دکھلا کر حوالہ کریں۔ شاید کسی وقت اختلاف ہو تو بسہولت طے ہوسکے اور اللہ تعالٰی ہر ہرچیز کی حفاظت کرنے والا اور حساب سمجھنے والا کافی ہے۔ اس کو کسی حساب یا شہادت کی حاجت نہیں یہ سب باتیں تمہاری سہولت اور صفائی کی وجہ سے مقرر فرمائیں۔ جاننا چاہئیے کہ یتیم کا مال لینے اور دینے کے وقت گواہ کرنا اور اس کو لکھ لینا مستحب ہے۔(6)
لِلرِّجالِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ وَلِلنِّساءِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ مِمّا قَلَّ مِنهُ أَو كَثُرَ ۚ نَصيبًا مَفروضًا(7)
ف٤ حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے یہ رسم تھی کہ بیٹیوں کو چھوٹی ہوں یا بڑی میراث نہیں دیتے تھے اور بیٹے جو نابالغ ہوتے تھے ان کو بھی میراث نہیں ملتی تھی صرف مردوں کو جو بڑے اور دشمنوں سے مقاتلہ کے کام کے ہوتے تھے وہ وارث سمجھے جاتے تھے جس کی وجہ سے یتیم بچوں کو میراث سے کچھ بھی نہ ملتا تھا، ان کے بارے میں یہ آیت اتری جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ماں باپ اور دیگر قرابت والوں کے مال متروکہ میں سے مردوں یعنی بیٹوں کو خواہ وہ بچے ہوں یا جوان ان کا حصہ ملے گا اور عورتوں یعنی بیٹیوں کو بھی بالغ ہوں یا نابالغ ماں باپ وغیرہ اقارب کے ترکہ میں سے ان کا حصہ دیا جائے گا اور یہ حصے مقرر کئے ہوئے ہیں جن کا دینا ضروری ہے خواہ مال تھوڑا ہو یا بہت۔ اس سے اہل جاہلیت کی رسم مذموم کا ابطال ہوگیا اور یتیموں وغیرہ کے حقوق کی حفاظت فرما کر ان کی حق تلفی کو روک دیا۔ فائدہ: اس آیت میں حق والوں کا حق اور اس کا تقرر اور تعین بالاجمال بتلایا گیا آئندہ رکوع میں وارثوں کے حصہ کی تفصیل آتی ہے۔(7)
وَإِذا حَضَرَ القِسمَةَ أُولُوا القُربىٰ وَاليَتٰمىٰ وَالمَسٰكينُ فَارزُقوهُم مِنهُ وَقولوا لَهُم قَولًا مَعروفًا(8)
ف۵ یعنی تقسیم میراث کے وقت برادری اور کنبہ کے لوگ جمع ہوں تو جو رشتہ دار ایسے ہوں جن کو میراث میں حصہ نہیں پہنچتا یا جو یتیم اور محتاج ہوں ان کو کچھ کھلا کر رخصت کرو یا کوئی چیز ترکہ میں سے حسب موقع ان کو بھی دے دو کہ یہ سلوک کرنا مستحب ہے۔ اگر مال میراث میں سے کھلانے یا کچھ دینے کا موقع نہ ہو مثلاً وہ یتیموں کا مال ہے اور میت نے وصیت بھی نہیں کی تو ان لوگوں سے معقول بات کہہ کر رخصت کردو یعنی نرمی سے عذر کردو کہ یہ مال یتیموں کا ہے اور میت نے وصیت بھی نہیں کی اس لئے ہم مجبور ہیں۔ ابتدائے سورت میں بیان ہوچکا ہے کہ تمام قرابت والے درجہ بدرجہ سلوک اور مراعات کے مستحق ہیں اور یتامی اور مساکین بھی اور جو قریب یتیم یا مسکین بھی ہو تو اس کی رعایت اور بھی زیادہ ہونی چائیے۔ اس لئے تقسیم میراث کے وقت ان کو حتی الوسع کچھ نہ کچھ دینا چائیے، اگر کسی وجہ سے وارث نہ ہو تو حسن سلوک سے محروم نہ رہیں۔(8)
وَليَخشَ الَّذينَ لَو تَرَكوا مِن خَلفِهِم ذُرِّيَّةً ضِعٰفًا خافوا عَلَيهِم فَليَتَّقُوا اللَّهَ وَليَقولوا قَولًا سَديدًا(9)
ف٦ یہ ارشاد اصل میں تو یتیم کے ولی اور وصی کے لئے ہے درجہ بدرجہ اوروں کو بھی اس کا خیال رہے مطلب یہ ہے کہ اپنے مرنے کے بعد جیسا ہر کوئی اس بات سے ڈرتا ہے کہ میری اولاد کے ساتھ سختی اور برائی سے معاملہ کیا جائے ایسا ہی تم کو بھی چاہیے کہ یتیم کے ساتھ وہ معاملہ کرو جو اپنے بعد اپنی اولاد کے ساتھ پسند کرتے ہو اور اللہ سے ڈرو اور یتیموں سے سیدھی اور اچھی بات کہو، یعنی جس سے ان کا دل نہ ٹوٹے اور ان کا نقصان نہ ہو بلکہ ان کی اصلاح ہو۔(9)
إِنَّ الَّذينَ يَأكُلونَ أَموٰلَ اليَتٰمىٰ ظُلمًا إِنَّما يَأكُلونَ فى بُطونِهِم نارًا ۖ وَسَيَصلَونَ سَعيرًا(10)
ف۷ آیات متعددہ سابقہ میں یتیموں کے مال کے متعلق مختلف طرح سے احتیاط کرنے کا حکم تھا اور ان کے مال میں خیانت کو بڑا گناہ بتایا گیا ہے، اب اخیر میں مال یتیم میں خیانت کرنے پر وعید شدید بیان فرما کر اس حکم کو خوب مؤکد کر دیا کہ جو کوئی یتیم کا مال بلا استحقاق کھاتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہا ہے۔ یعنی اس کھانے کا یہ انجام ہوگا اور جملہء اخیر میں اس کو ظاہر کر دیا گیا۔(10)
يوصيكُمُ اللَّهُ فى أَولٰدِكُم ۖ لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ الأُنثَيَينِ ۚ فَإِن كُنَّ نِساءً فَوقَ اثنَتَينِ فَلَهُنَّ ثُلُثا ما تَرَكَ ۖ وَإِن كانَت وٰحِدَةً فَلَهَا النِّصفُ ۚ وَلِأَبَوَيهِ لِكُلِّ وٰحِدٍ مِنهُمَا السُّدُسُ مِمّا تَرَكَ إِن كانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَم يَكُن لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَواهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كانَ لَهُ إِخوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعدِ وَصِيَّةٍ يوصى بِها أَو دَينٍ ۗ ءاباؤُكُم وَأَبناؤُكُم لا تَدرونَ أَيُّهُم أَقرَبُ لَكُم نَفعًا ۚ فَريضَةً مِنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَليمًا حَكيمًا(11)
ف ۱ اوپر اقارب میت کے وارث ہونے کا ذکر ہوا تھا اور ان کے حصوں کے تقرر اور تعین کی طرف اجمالی اشارہ فرما دیا تھا اب اقارب اور ان کے حصوں کی تفصیل بتلائی جاتی ہے اور اس سے پہلے یتیموں کے حق میں تشدد اور تاکیدات کا ذکر چلا آرہا تھا جس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ اقارب میت میں اگر کوئی یتیم ہو تو اس کا حصہ دینے میں بہت ہی احتیاط اور اہتمام کرنا چاہئیے۔ اہل عرب کی قدیم رسم کے موافق ان کو میراث سے محروم کر دینا سخت ظلم اور بڑا گناہ ہے اب اقارب میں سب سے پہلے اولاد کے حصہ کو بیان فرمایا کہ اگر کسی میت کی اولاد بیٹا بیٹی دونوں ہوں تو انکی میراث دینے کا یہ قاعدہ ہے کہ ایک بیٹا دو بیٹیوں کے برابر حصہ پائے گا۔ مثلاً اگر ایک بیٹا اور دوبیٹیاں ہوں تو نصف مال بیٹے کا اور نصف دونوں بیٹیوں کا ہوگا، اور اگر ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہوگی تو دو ثلث بیٹے کا اور ایک ثلث بیٹی کا ہوگا۔ ف۲ یعنی اور اگر کسی میت نے اولاد میں صرف عورتیں یعنی بیٹیاں ہی چھوڑیں بیٹا نہیں چھوڑا تو وہ اگر دو سے زیادہ ہوں تب بھی ان کو دو تہائی ملے گا اور اگر صرف ایک ہی بیٹی چھوڑی تو اس کو میت کے ترکہ کا نصف ملے گا۔ جاننا چاہیے کہ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ کے ذیل میں معلوم ہو چکا ہے کہ ایک بیٹی کو ایک بیٹے کے ساتھ ایک ثلث ملے گا۔ تو اس سے معلوم ہوگیا کہ ایک بیٹی کو دوسری بیٹی کے ساتھ بطریق اولیٰ ایک ثلث ملے گا کیونکہ بیٹے کا حصہ بیٹی سے زاید ہے تو جب بیٹے کی وجہ سے اس کا حصہ ایک ثلث سے کم نہیں ہوا تو دوسری بیٹی کی وجہ سے کیسے گھٹ سکتا ہے سو دو بیٹیوں کا حکم چونکہ پہلی آیت سے معلوم ہو چکا تھا اس لئے اس آیت میں دو بیٹیوں سے زائد کا حکم بتلا دیا تاکہ کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ دو بیٹیوں کا حق جب ایک بیٹی سے زائد ہے تو شاید تین یا چار بیٹیوں کا حق دو بیٹوں سے زائد ہوگا سو یہ بات ہرگز نہیں بلکہ بیٹیاں جب ایک سے زائد ہونگی دو ہوں یا دس ان کو دو ثلث ملے گا۔ فائدہ: اولاد کے وارث ہونے کی دو صورتیں آیت میں مذکور ہوئیں اول یہ کہ لڑکا اور لڑکی دونوں طرح کی اولاد ہو۔ دوسری یہ کہ صرف دختری اولاد ہو اسکی دوصورتیں ہیں ایک لڑکی ہو یا ایک سے زائد تو اب صرف ایک صورت باقی رہ گئی وہ یہ کہ صرف پسری اولاد ہو سو اس کا حکم یہ ہے کہ تمام میراث اس کو مل جائے گی خواہ ایک بیٹا ہو یا زائد۔ ف۳ اب ماں باپ کی میراث کی تین صورتیں بیان فرماتے ہیں۔ صورت اول کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر میت کی اولاد ہو بیٹا یا بیٹی تو میت کے ماں باپ کو ترکہ میت میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ ف٤ دوسری صورت یہ ہے کہ اگر میت کی اولاد کچھ نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی وارث ہوں تو اس کی ماں کو ایک ثلث ملے گا۔ یعنی باقی دوثلث اس کے باپ کو ملیں گے۔ ف۵ تیسری صورت یہ ہے کہ اگر میت کے ایک سے زیادہ بھائی بہن ہوں خواہ حقیقی ہوں یا صرف باپ یا صرف ماں میں شریک ہوں اور اولاد کچھ بھی نہیں تو اب اس کی ماں کو چھٹا حصہ ملے گا، یعنی باقی سب اس کے باپ کو ملے گا، بھائی بہن کو کچھ نہ ملے گا۔ اور اگر صرف ایک بھائی یا ایک بہن ہوگی تو ماں کو ایک ثلث اور باپ کو دو ثلث ملیں گے جیسا کہ دوسری صورت مذکورہ بالا میں تھا۔ ف ٦ یعنی جس قدر وارثوں کے حصے گزر چکے یہ سب میت کی وصیت اور اس کے قرض کو جدا کر لینے کے بعد وارثوں کو دیے جائیں گے اور وارثوں کا مال وہی ہوگا جو مقدار وصیت و قرض کے نکال لینے کے بعد باقی رہے گا اور نصف اور ثلث وغیرہ اسی کا مراد ہے نہ تمام مال کا۔ فائدہ: میت کا مال اول اس کے کفن اور دفن کو لگایا جائے جو اس سے بچے وہ اس کے قرض میں دیا جائے پھر جو باقی رہے اس کو میت کی وصیت میں ایک تہائی تک صرف کیا جائے اس کے بعد جو رہے وارثوں پر تقسیم کیا جائے۔ ف ۷  اس آیت میں دو میراث بیان فرمائیں اولاد کی اور ماں باپ کی۔ اب فرماتے ہیں کہ چونکہ یہ بات تم کو معلوم نہیں کہ کس سے تم کو نفع پہنچے گا اور کتنا نفع پہنچے گا اس لئے تم کو اس میں دخل نہ دینا چاہئیے جو کچھ کسی کا حصہ حق تعالٰی نے مقرر فرما دیا ہے۔ اس کی پابندی کرو کہ اس کو تمام چیزوں کی خبر بھی ہے اور بڑا حکمت والا ہے۔(11)
۞ وَلَكُم نِصفُ ما تَرَكَ أَزوٰجُكُم إِن لَم يَكُن لَهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمّا تَرَكنَ ۚ مِن بَعدِ وَصِيَّةٍ يوصينَ بِها أَو دَينٍ ۚ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمّا تَرَكتُم إِن لَم يَكُن لَكُم وَلَدٌ ۚ فَإِن كانَ لَكُم وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمّا تَرَكتُم ۚ مِن بَعدِ وَصِيَّةٍ توصونَ بِها أَو دَينٍ ۗ وَإِن كانَ رَجُلٌ يورَثُ كَلٰلَةً أَوِ امرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَو أُختٌ فَلِكُلِّ وٰحِدٍ مِنهُمَا السُّدُسُ ۚ فَإِن كانوا أَكثَرَ مِن ذٰلِكَ فَهُم شُرَكاءُ فِى الثُّلُثِ ۚ مِن بَعدِ وَصِيَّةٍ يوصىٰ بِها أَو دَينٍ غَيرَ مُضارٍّ ۚ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ حَليمٌ(12)
ف۸ اب زوجین کی میراث کو بیان فرمایا جاتا ہے کہ مرد کو اس کی عورت کے مال میں سے آدھا مال ملے گا اگر عورت کے کچھ اولاد نہ ہو۔ اور اگر عورت کے اولاد ہے خواہ ایک ہی بیٹا یا بیٹی ہو اور اسی مرد سے ہو یا دوسرے مرد سے تو مرد کو عورت کے مال میں سے ایک چوتھائی مال ملے گا قرض اور وصیت کے بعد۔ ف۱ اور اسی طرح عورت کو اس کے خاوند کے مال میں سے چوتھائی حصہ ملے گا اگر مرد کی اولاد کچھ نہ ہو اور اگر مرد کے اولاد ہے خواہ اسی عورت سے یا دوسری عورت سے تو عورت کو آٹھواں حصہ ملے گا خاوند کے اس مال میں سے جو وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد بچے گا مال کی ہر قسم میں سے نقد ہو یا جنس، سلاح ہو یا زیور حویلی ہو یا باغ، باقی رہا عورت کا مہر وہ میراث سے جدا ہے وہ قرض میں داخل ہے۔ یہ کل دو صورتیں ہوئیں جیسا کہ مرد کی میراث میں بھی یہی دو صورتیں تھیں۔ ف۲ یہاں سے اخیافی بھائی بہن کے میراث کا ذکر ہے جو کہ صرف ماں میں شریک ہوں۔ سو جاننا چاہیے کہ باپ اور بیٹے کے ہوتے تو بھائی اور بہن کو کچھ نہیں پہنچتا۔ ہاں اگر باپ اور بیٹا نہ ہوگا تو بھائی اور بہن کو میراث ملے گی۔ بھائی اور بہن تین طرح کے ہیں۔ سگے جو ماں باپ دونوں میں شریک ہوں جن کو عینی کہتے ہیں، یا وہ سوتیلے جو صرف باپ میں شریک ہوں جن کو علاتی کہتے ہیں یا وہ سوتیلے جو صرف ماں میں شریک ہوں جن کو اخیافی کہتے ہیں، اس آیت میں قسم اخیر کا ذکر ہے چنانچہ متعدد صحابہ کی قرات میں ولہ اخ اواخت کے بعد من الام کا کلمہ صریح موجود ہے اور اس پر سب کا اجماع ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس میت کے خواہ وہ مرد ہو یا عورت، ماں باپ بیٹا بیٹی کچھ نہ ہو اور اس کے ایک بھائی یا ایک بہن اخیافی ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اور مرد اور عورت یعنی اخیافی بھائی اور بہن کا برابر حصہ ہے کمی زیادتی نہیں۔ باقی رہے دو قسم کے بھائی بہن یعنی عینی اور علاتی سو ان دونوں قسموں کا حکم مثل اولاد کے ہے بشرطیکہ میت کے باپ بیٹا کچھ نہ ہو۔ مقدم عینی ہے وہ نہ ہو تو پھر علاتی۔ اس سورت کے اخیر میں ان ددنوں کی میراث کا ذکر آئے گا۔ فائدہ: جاننا چاہیے کہ کلالہ کی تفسیر جو یہ کی گئی کہ اس کے باپ بیٹا نہ ہو یہ سب کو مسلم ہے مگر امام ابوحنیفہ دادی اور پوتی کی بھی نفی کرتے ہیں اور جو حکم باپ بیٹے کا ہے وہی دادی اور پوتی کا فرماتے ہیں، اور حضرات صحابہ کے وقت سے یہ اختلاف علماء میں چلا آتا ہے۔ ف۳ یعنی اگر اخیافی بھائی یا بہن ایک سے زیادہ ہوں تو ان سب کو ایک تہائی مال میراث میں ملے گا اور پہلی صورت میں سدس اور دوسری صورت میں ثلث جو دیا جائے گا تو وصیت اور دین کے بعد جو باقی رہے گا اس کا سدس اور ثلث دیا جائے گا اور وصیت میراث پر مقدم جب ہوگی جب اوروں کو نقصان نہ پہنچایا ہو اور نقصان کی دو صوتیں ہیں۔ ایک یہ کہ تہائی مال سے زیادہ کی وصیت ہو، دوسری یہ کہ جس وارث کو میراث میں سے حصہ ملے گا اس کے لئے کچھ وصیت بھی کر جائے یہ دونوں صورتیں درست نہیں۔ البتہ اگر سب وارث اس کو قبول کرلیں تو خیر ورنہ یہ وصیتیں مردود ہیں۔ فائدہ: وارثوں سے چونکہ اندیشہ تھا کہ ترکہ میت میں سے میت کا دین اور وصیت ادا نہ کریں بلکہ تمام مال آپ ہی رکھ لیں، اس لئے میراث کے ساتھ بار بار دین اور وصیت کا حکم تاکیداً بیان کیا گیا اور وصیت چونکہ تبرع اور احسان ہے اور بسا اوقات کوئی شخص معین اس کا مستحق نہیں ہوتا اور اس وجہ سے اس کے ضائع ہونے کا احتمال قوی تھا تو اس لئے بغرض اہتمام و احتیاط وصیت کو ہر جگہ دین سے پہلے ذکر فرمایا حالانکہ وصیت کا درجہ دین کے بعد ہے جیسا پہلے گزرا، نیز وصیت حق مورث ہے جیسے تجہیز و تکفین بخلاف وراثت اور دین کے کہ وہ دوسروں کا حق ہے تو اس حیثیت سے وصیت دین سے مقدم ہوگی گو دوسری وجہ سے دین وصیت پر مقدم ہے اور یہاں جو غیر مضار کی قید لگائی یہی قید مقامات سابقہ میں بھی معتبر ہوگی۔ ف ٤ شروع رکوع سے یہاں تک جو میراثیں بیان فرمائیں وہ پانچ ہیں۔ بیٹا بیٹی اور ماں باپ اور زوج اور زوجہ اور اخیافی بھائی بہن ان پانچوں کو ذوی الفروض اور حصہ دار کہتے ہیں، ان پانچوں میراث کو بیان فرما کر بطور تاکید فرما دیا کہ یہ حکم ہے اللہ کا اس کی تعمیل ضروری ہے اور اللہ تعالٰی کو سب کچھ معلوم ہے کس نے اطاعت کی اور کس نے نافرمانی کی، کس نے میراث و وصیت و دین میں حق اور انصاف کے موافق کیا، کس نے بے انصافی کی اور ضرر پہنچایا۔ باقی ظلم و بے انصافی کی سزا میں تاخیر ہونے سے کوئی دھوکہ نہ کھائے کیونکہ حق تعالٰی کا حلم بھی بہت کامل ہے۔ فائدہ: جاننا چاہیے کہ ذوی الفروض کے سوا کہ جن کا بیان اس رکوع میں گزرا ایک دوسری قسم کے وارث ہیں جن کو عصبہ کہتے ہیں۔ ان کے لئے کوئی حصہ مثل نصف ثلث وغیرہ کے مقرر نہیں بلکہ ذوی الفروض سے جو فاضل ہوگا وہ ان کو ملے گا مثلاً اگر کسی کے عصبہ ہو اور ذوی الفروض میں سے کوئی نہ ہو تو اس کا مال تمام عصبہ کو ملے گا اور جو دونوں ہوں تو ذوی الفروض کو دے کر جو مال بچے گا وہ عصبہ کو دیا جائے گا اور اگر کچھ نہ بچا تو عصبہ کو کچھ نہ ملے گا اور عصبہ اصل میں تو وہ ہے جو مرد ہو عورت نہ ہو اور اس میں میت میں اور عورت کا واسطہ بھی نہ ہو اور اس کے چار درجے ہیں اول درجہ میں بیٹا اور پوتا ہے دوسرے درجہ میں باپ اور دادا تیسرے درجہ میں بھائی اور بھتیجا چوتھے درجہ میں چچا اور بیٹا یا اس کا پوتا۔ اگر کئی شخص ہوں تو جو میت سے قریب ہے وہ مقدم ہوگا جیسے پوتے سے بیٹا، بھتیجے سے بھائی مقدم ہے، پھر سوتیلے سے سگا مقدم ہے اور ان چاروں کے سوا اولاد میں اور بھائیوں میں مرد کے ساتھ عورت بھی عصبہ ہوتی ہے یعنی بیٹے کے ساتھ بیٹی اور بھائی کے ساتھ بہن بھی عصبہ ہوگی یہ عصبہ اصلی نہیں بلکہ غیر اصلی ہیں اور اولاد اور بھائیوں کے سوا عورت عصبہ نہ ہوگی مثلاً چچا کا بیٹا عصبہ ہے مگر اس کے ساتھ ہو کر چچا زاد بہن عصبہ نہیں ہو سکتی۔ فائدہ: ان دونوں قسم مذکورہ بالا یعنی ذوی الفروض اور عصبہ کے سوا امام ابوحنیفہ کے نزدیک وارث کی تیسری قسم ذوی الارحام ہیں یعنی ایسے قرابت والے کہ ان میں اور میت میں عورت کا واسطہ ہو اور ذوی الفروض میں نہ ہو اور عصبہ بھی نہ ہو جیسے نواسہ اور نانا اور بھانجا اور ماموں اور خالہ اور پھوپھی اور ان کی اولاد۔ جب کسی میت کے ذوی الفروض اور عصبہ کوئی بھی نہ ہوگا تو اس کی میراث ذوی الارحام کو ملے گی تفصیل کتب فرائض میں مذکور ہے۔(12)
تِلكَ حُدودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسولَهُ يُدخِلهُ جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها ۚ وَذٰلِكَ الفَوزُ العَظيمُ(13)
(13)
وَمَن يَعصِ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدودَهُ يُدخِلهُ نارًا خٰلِدًا فيها وَلَهُ عَذابٌ مُهينٌ(14)
ف۵ یعنی تمام احکام مذکورہ سابقہ متعلق حقوق یتامی اور وصیت اور میراث اللہ کے مقرر فرمودہ ضابطے اور قاعدے ہیں۔ اور جو کوئی اطاعت کرے گا احکام الٰہی کی جن میں حکم وصیت و میراث بھی داخل ہے اس کے لئے ہمیشہ کو جنت ہے اور جو کوئی نافرمانی کرے گا اور حدود خداوندی سے بالکل خارج ہوجائے گا۔ وہ ہمیشہ کو ذلت کے ساتھ عذاب جہنم میں گرفتار رہے گا۔(14)
وَالّٰتى يَأتينَ الفٰحِشَةَ مِن نِسائِكُم فَاستَشهِدوا عَلَيهِنَّ أَربَعَةً مِنكُم ۖ فَإِن شَهِدوا فَأَمسِكوهُنَّ فِى البُيوتِ حَتّىٰ يَتَوَفّىٰهُنَّ المَوتُ أَو يَجعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبيلًا(15)
ف٦ یتامیٰ اور مواریث کو بیان فرما کر اب دیگر احکام متعلقہ اقارب کو بتلایا جاتا ہے۔ پہلے عورتوں کے متعلق چند باتیں ارشاد ہوتی ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کی تادیب اور سیاست ضروری امر ہے اور ان پر کسی قسم کی تعدی اور ظلم بھی نہ کیا جائے۔ اہل جاہلیت کے یہاں عورتوں کی بابت دونوں باتوں میں بہت بے اعتدالیاں ہوتی تھیں اور اس آیت میں تادیب کے متعلق حکم ہے کہ اگر کسی کی زوجہ کا مرتکب زنا ہونا معلوم ہو تو اس کے لئے چار گواہ مسلمانوں میں سے عاقل بالغ آزاد قائم ہونے چاہئیں اگر چار آدمی گواہی دیں تو اس عورت کو گھر میں مقید رکھنا چاہیے گھر سے باہر جانا اور کسی سے ملنا انتظاماً بالکل روک دیا جائے یہاں تک کہ وہ عورت مر جائے یا اللہ تعالٰی اس کے لئے کوئی حکم اور سزا مقرر فرمائے اس وقت تک زانیہ کے لئے کوئی حد مقرر نہیں فرمائی بلکہ اس کا وعدہ کیا چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد سورۂ نور میں اس کی حد نازل فرما دی کہ باکرہ کے لئے سو کوڑے اور ثیبہ کے واسطے سنگسار کرنا ہے۔(15)
وَالَّذانِ يَأتِيٰنِها مِنكُم فَـٔاذوهُما ۖ فَإِن تابا وَأَصلَحا فَأَعرِضوا عَنهُما ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ تَوّابًا رَحيمًا(16)
ف۱ یعنی وہ شخص خواہ وہ ایک مرد اور ایک عورت ہو خواہ دونوں مرد ہوں اگر فعل بد کریں تو ان کی سزا مجملاً ایذا دینا ارشاد فرمایا۔ زبان سے ہاتھ سے بقدر مناسب ان کو تنبیہ و تادیب کرنے کا حکم ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت زنا اور لواطت دونوں کا یہی حکم تھا کہ حاکم اور قاضی کے نزدیک زجر وعبرت کے لئے جتنی سزا اور شتم و ضرب مناسب ہو، اتنی سزا دی جائے اس کے بعد حسب وعدہ حد زنا جب نازل ہوئی تو لواطت کیلئے کوئی جدا حد بیان نہ فرمائی اس میں علماء کا اختلاف رہا کہ لواطت کی بھی وہی حد ہے جو زنا کے لئے بیان ہوئی یا لواطت کی وہی سزا باقی رہی جو پہلے تھی یا اس کی سزا تلوار سے قتل کرنا یا کسی دوسرے طریقہ سے مار ڈالنا ہے۔ فائدہ: اس آیت کو بہت سے علماء نے زنا پر حمل کیا ہے اور بعض نے لواطت پر اور بعض نے دونوں کو شامل رکھا ہے۔ ف۲ یعنی اس کے بعد اگر وہ بدکاری سے توبہ کرلیں اور آئندہ کو اپنے اعمال کی درستی کرلیں تو اب ان کے پیچھے مت پڑو اور زجرو ملامت سے ستانا چھوڑ دو، اللہ تعالٰی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرنے والا ہے اور ان پر مہربانی فرمانے والا ہے تم کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔(16)
إِنَّمَا التَّوبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذينَ يَعمَلونَ السّوءَ بِجَهٰلَةٍ ثُمَّ يَتوبونَ مِن قَريبٍ فَأُولٰئِكَ يَتوبُ اللَّهُ عَلَيهِم ۗ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا(17)
ف۳ یعنی توبہ تو بیشک ایسی چیز ہے کہ زنا اور لواطت جیسے سنگین جرم بھی اس سے اللہ تعالٰی معاف فرما دیتا ہے جیسا کہ آیت سابقہ سے مفہوم ہوا لیکن اس کا بھی ضرور لحاظ رکھو کہ اللہ تعالٰی نے جو اپنے فضل سے قبول توبہ کا ذمہ لے لیا ہے وہ اصل میں ان لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے جو ناواقفیت اور نادانی سے کوئی صغیرہ یا کبیرہ گناہ کر لیتے ہیں مگر جب اپنی خرابی پر متنبہ اور مطلع ہوتے ہیں تو جب ہی نادم ہوتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں سو ایسوں کی خطائیں اللہ ضرور معاف فرما دیتا ہے اور اللہ تعالٰی سب کچھ جانتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کس نے نادانی سے گناہ کیا اور کس نے اخلاص سے توبہ کی، اور حکمت والا ہے جس توبہ کا قبول کرنا موافق حکمت ہوتا ہے اس کو قبول فرما لیتا ہے۔ فائدہ: قید جہالت اور قید قریب سے معلوم ہوگیا کہ جو شخص گناہ تو کرے نادانی سے اور تنبیہ کے بعد توبہ کر لے جلدی سے تو بقاعدہ عدل و حکمت اس کی توبہ مقبول ہونی ضروری ہے اور جس نے جان بوجھ کر دیدہ و دانستہ اللہ کی نافرمانی پر جرات کی یا اطلاع کے بعد اس نے توبہ میں تاخیر کی اور پہلی ہی حالت پر قائم رہا تو بقاعدہ عدل و انصاف اس کی خطا اصل میں معافی کے قابل نہیں۔ اس کا قبول کر لینا اللہ تعالٰی کا محض فضل ہے کہ اپنے فضل سے اللہ تعالٰی ان دونوں کی توبہ کو بھی قبول کر لیتا ہے۔ یہ اس کا احسان ہے مگر ذمہ داری صرف اول صورت میں ہے باقی میں نہیں۔(17)
وَلَيسَتِ التَّوبَةُ لِلَّذينَ يَعمَلونَ السَّيِّـٔاتِ حَتّىٰ إِذا حَضَرَ أَحَدَهُمُ المَوتُ قالَ إِنّى تُبتُ الـٰٔنَ وَلَا الَّذينَ يَموتونَ وَهُم كُفّارٌ ۚ أُولٰئِكَ أَعتَدنا لَهُم عَذابًا أَليمًا(18)
ف٤ یعنی اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو برابر گناہ کئے جاتے ہیں اور باز نہیں آتے یہاں تک کہ جب موت ہی نظر آگئی تو اس وقت کہنے لگا کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اور نہ ان کی توبہ قبول ہوگی جو کفر پر مر گئے اور اس کے بعد عذاب اخروی کو دیکھ کر توبہ کریں۔ ایسے لوگوں کے واسطے عذاب شدید تیار ہے۔ جاننا چاہیے کہ یہ دونوں آیتیں جو دربارہ قبول توبہ اور عدم قبول توبہ یہاں مذکور ہیں ہم نے جو ان کا مطلب بیان کیا یہ بعض اکابر محققین کی تحقیق کے موافق ہے اور اس میں یہ خوبی ہے کہ قید جہالت اور لفظ قریب دونوں اپنے ظاہری معنی پر قائم رہے اور علی اللّٰہ کے معنی بھی سہولت سے بن گئے اور اس موقع پر قبول اور عدم قبول توبہ کے ذکر فرمانے سے جو مقصد ہے یعنی توبہ کیف ما اتفق مقبول نہیں اور توبہ کی چند صورتیں ہیں اور ان کی مقبولیت میں باہم فرق ہے تاکہ کوئی توبہ کے اعتماد پر معاصی پر جری نہ ہو جائے۔ یہ مقصد بھی اس صورت میں خوب حاصل ہو جاتا ہے۔ مگر مفسرین حضرات نے علی العموم جو ان آیتوں کا مطلب ارشاد فرمایا ہے تو قید جہالت کو احترازی اور شرطی نہیں لیتے بلکہ قید واقعی فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ گناہ ہمیشہ جہل اور حماقت سے ہوتا ہے اور قریب کے معنی یہ لیتے ہیں کہ حضور موت سے پہلے جس قدر وقت ہے وہ قریب ہی ہے کیونکہ دنیا کی زندگی قلیل ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کا توبہ قبول فرمانے کا وعدہ ان سے ہے کہ سفاہت اور عدم انجام بینی سے گناہ کر لیتے ہیں اور پھر موت کے آنے سے پہلے تائب ہو جاتے ہیں اور جو لوگ کہ موت کا مشاہدہ کرچکے اور نزع کی حالت کو پہنچ چکے یا جو لوگ کہ کفر پر مر چکے ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی۔ اس تقریر کے موافق توبہ کرنے والوں کی وہ دو صورتیں ہیں جو تقریر اوّل میں مذکور ہوئیں شق اوّل یعنی قبول توبہ کے اندر شمار ہوں گی۔ فائدہ: جب موت کا یقین ہو چکے اور دوسرا عالم نظر آنے لگے تو اس وقت کی توبہ قبول نہیں اور عالم آخرت کے دیکھنے سے پہلے کی توبہ البتہ قبول ہوتی ہے، اتنا فرق ہے کہ حسب تقریر اوّل صورت اوّل میں تو قبول توبہ قاعدہ عدل وانصاف کے موافق ہے اور دوسری صورتوں میں قبول توبہ اس کامحض فضل ہے کما مر۔(18)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا يَحِلُّ لَكُم أَن تَرِثُوا النِّساءَ كَرهًا ۖ وَلا تَعضُلوهُنَّ لِتَذهَبوا بِبَعضِ ما ءاتَيتُموهُنَّ إِلّا أَن يَأتينَ بِفٰحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ۚ وَعاشِروهُنَّ بِالمَعروفِ ۚ فَإِن كَرِهتُموهُنَّ فَعَسىٰ أَن تَكرَهوا شَيـًٔا وَيَجعَلَ اللَّهُ فيهِ خَيرًا كَثيرًا(19)
ف۵ حسب بیان سابق عورتوں کی بد افعالی کی بابت تادیب و سیاست کا حکم دے کر اب اہل جاہلیت کی اس ظلم و تعدی کو روکا جاتا ہے جو تعدی عورتوں پر وہ طرح طرح سے کیا کرتے تھے سو منجملہ ان صورتوں کے ایک صورت یہ ہوتی تھی کہ جب کوئی مر جاتا تو اس کی عورت کو میت کا سوتیلا بیٹا یا بھائی یا اور کوئی وارث لے لیتا پھر چاہتا تو اس سے نکاح کرلیتا یا بغیر نکاح ہی اپنے گھر میں رکھتا یا کسی دوسرے سے نکاح کر کے اس کا مہر کل یا بعض لے لیتا یا ساری عمر اس کو اپنی قید میں رکھتا اور اس کے مال کا وارث ہوتا۔ اس کی بابت یہ آیت نازل ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی مر جائے تو اس کی عورت اپنے نکاح کی مختار ہے میت کے بھائی اور اس کے کسی وارث کو یہ اختیار نہیں کہ زبردستی اپنے نکاح میں لے لے، نہ وہ عورت کو نکاح سے روک سکتے ہیں کہ وہ مجبور ہو کر خاوند کے ورثہ سے جو اس کو ملا تھا کچھ پھیر دے۔ ہاں اگر صریح بد چلنی کریں تو ان کو روکنا چاہئے۔ ف٦ یعنی عورتوں کے ساتھ گفتگو اور معاملات میں اخلاق اور سلوک سے معاملہ رکھو۔ جاہلیت میں جیسا ذلت اور سختی کا برتاؤ عورتوں کے ساتھ کیا جاتا تھا اس کو چھوڑ دو۔ پھر اگر تم کو کسی عورت کی کوئی خو اور عادت خوش نہ آئے تو صبر کرو شاید اس میں کوئی خوبی بھی ہو اور ممکن ہے کہ تم کو ناپسندیدہ ہو کوئی چیز اور اللہ تعالٰی اس میں تمہارے لئے کوئی بڑی منفعت دینی یا دنیاوی رکھ دے سو تم کو تحمل کرنا چاہیے اور بد خو کے ساتھ بد خوئی نہ چاہئے۔(19)
وَإِن أَرَدتُمُ استِبدالَ زَوجٍ مَكانَ زَوجٍ وَءاتَيتُم إِحدىٰهُنَّ قِنطارًا فَلا تَأخُذوا مِنهُ شَيـًٔا ۚ أَتَأخُذونَهُ بُهتٰنًا وَإِثمًا مُبينًا(20)
ف١ اسلام سے پہلے یہ بھی ہوتا تھا کہ جب کوئی چاہتا کہ پہلی عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت سے نکاح کرے تو پہلی عورت پر تہمت لگاتا اور مختلف طرح سے اس پر زیادتی اور سختی کرتا کہ مجبور ہو کر مہر واپس کر دے اور نکاح جدید میں کام آئے۔ یہ آیت اس کی ممانعت میں نازل ہوئی کہ جب پہلی عورت کو چھوڑ کر دوسری کرو اور پہلی عورت کو بہت سا مال دے چکے ہو تو اب اس میں سے کچھ بھی واپس مت لو، کیا تم بہتان باندھ کر اور صریح ظلم کر کے زوجہ اولیٰ سے وہ مال لینا چاہتے ہو یہ ہرگز جائز نہیں۔(20)
وَكَيفَ تَأخُذونَهُ وَقَد أَفضىٰ بَعضُكُم إِلىٰ بَعضٍ وَأَخَذنَ مِنكُم ميثٰقًا غَليظًا(21)
ف٢ یعنی جب مرد اور عورت نکاح کے بعد مل چکے اور صحبت کی نوبت آچکی تو اس کے معاوضہ میں تمام مہر دینا مرد پر واجب ہو چکا تو اب کس وجہ سے اس مہر کو واپس لے سکتا ہے اور در صورت مہر ادانہ کرنے کے کیسے اس کے مہر کو دبا سکتا ہے اب تو بجز اس کے کہ عورت ہی اپنی خوشی سے معاف کر بیٹھے کوئی صورت رستگاری کی نہیں ہوسکتی اور وہ عورتیں تو بہت مضبوط اور گاڑھا اقرار تم سے لے چکیں جس کی وجہ سے وہ تمہارے قبضہ اور تصرف میں آچکیں اور تم ان سے پورے منتفع ہو چکے نہیں تو تم کو ان پر تصرف کا کیا اختیار تھا۔ اب اس قدر تکمیل اور قبضہء کامل اور تصرف تام کے بعد عورتوں کے مہر کو واپس لینا یا ان کا مہر نہ دینا کیسے ہو سکتا ہے۔ فائدہ: جاننا چاہیے کہ جیسا مجامعت کے بعد تمام مہر زوج کے ذمہ لازم ہو جاتا ہے، ایسا ہی اگر مجامعت کی تو نوبت نہ آئے مگر خلوت صحیحہ ہوگئی تو بھی پورا مہر واجب الادا ہوگا، ہاں اگر خلوت صحیحہ کی بھی نوبت نہ آئی اور زوج نے طلاق دے دی تو پھر نصف مہر ادا کرنا ہوگا۔(21)
وَلا تَنكِحوا ما نَكَحَ ءاباؤُكُم مِنَ النِّساءِ إِلّا ما قَد سَلَفَ ۚ إِنَّهُ كانَ فٰحِشَةً وَمَقتًا وَساءَ سَبيلًا(22)
ف٣ جاہلیت والے اپنی سوتیلی، ماں اور بعض دیگر محرمات سے بھی نکاح کر لیتے تھے جس کا تذکرہ ابھی گزرا، اس کی ممانعت کی جاتی ہے کہ جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان سے نکاح مت کرو یہ بے حیائی اور اللہ کے غضب اور نفرت کرنے کی بات ہے اور بہت برا طریقہ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی سمجھ دار لوگ اس کو مذموم سمجھتے تھے اور اس نکاح کو نکاح مقت اور اس نکاح سے جو اولاد ہوتی اس کو مقتی کہتے تھے۔ سو ایسے نکاح جو ہو چکے ہو چکے آئندہ کو ہرگز ایسا نہ ہو۔ فائدہ: باپ کی منکوحہ کا جو حکم ہے اسی حکم میں دادے اور نانے کی منکوحہ بھی داخل ہے کتنا ہی اوپر کا دادا اور نانا کیوں نہ ہو۔(22)
حُرِّمَت عَلَيكُم أُمَّهٰتُكُم وَبَناتُكُم وَأَخَوٰتُكُم وَعَمّٰتُكُم وَخٰلٰتُكُم وَبَناتُ الأَخِ وَبَناتُ الأُختِ وَأُمَّهٰتُكُمُ الّٰتى أَرضَعنَكُم وَأَخَوٰتُكُم مِنَ الرَّضٰعَةِ وَأُمَّهٰتُ نِسائِكُم وَرَبٰئِبُكُمُ الّٰتى فى حُجورِكُم مِن نِسائِكُمُ الّٰتى دَخَلتُم بِهِنَّ فَإِن لَم تَكونوا دَخَلتُم بِهِنَّ فَلا جُناحَ عَلَيكُم وَحَلٰئِلُ أَبنائِكُمُ الَّذينَ مِن أَصلٰبِكُم وَأَن تَجمَعوا بَينَ الأُختَينِ إِلّا ما قَد سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ غَفورًا رَحيمًا(23)
ف٤ سوتیلی ماں کی حرمت بیان فرما کر اب جن عورتوں سے نکاح جائز نہیں ان سب کو بیان فرماتے ہیں وہ عورتیں چند قسم ہیں۔ اوّل انکو بیان کیا جاتا ہے جو علاقہ نسب کی وجہ سے حرام ہیں اور وہ سات ہیں ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی ان میں سے کسی کے ساتھ کسی کو نکاح کرنا جائز نہیں۔ فائدہ: ماں کے حکم میں دادی، نانی، اوپر تک کی سب داخل ہیں ایسے ہی بیٹی میں پوتی اور نواسی نیچے تک کی سب داخل ہیں اور بہن میں عینی اور علاتی اور اخیافی سب داخل ہیں اور پھوپھی میں باپ دادا اور اوپر تک کی پشتوں کی بہن سگی ہو یا سوتیلی سب آگئیں اور خالہ میں ماں اور نانی اور نانی کی نانی سب کی بہن تینوں قسم کی داخل ہیں اور بھتیجی میں تینوں قسم کے بھائیوں کی اولاد اور اولادالاولاد سب داخل ہیں اور بھانجی میں تینوں قسم کی بہنوں کی اولاد اور اولادالاولاد داخل ہیں۔ ف ٥ محرمات نسبی کے بعد اب محرمات رضاعی کو بیان کیا جاتا ہے اور وہ دو ہیں، ماں اور بہن اور اس میں اشارہ ہے کہ ساتوں رشتے جو نسب میں بیان ہوئے، رضاعت میں بھی حرام ہیں، یعنی رضاعی بیٹی اور پھوپھی اور خالہ اور بھتیجی اور بھانجی بھی حرام ہیں، چنانچہ حدیثوں میں یہ حکم موجود ہے۔ ف٦ اب محرمات مصاہرت کا ذکر ہے یعنی علاقہ نکاح کی وجہ سے جن سے نکاح حرام ہوتا ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں اول وہ کہ ان سے ہمیشہ کے لئے نکاح ناجائز ہے اور وہ زوجہ کی ماں اور اس زوجہ کی بیٹی ہے جس زوجہ سے کہ تم نے صحبت کی ہو لیکن اگر صحبت سے پہلے کسی عورت کو طلاق دے دو تو اس کی بیٹی سے نکاح ہو سکتا ہے اور تمہارے بیٹوں کی عورتیں ہیں اور اس میں نیچے تک کے پوتوں اور نواسوں کی عورتیں داخل ہیں کہ ان سے کبھی تمہارا نکاح درست نہیں ہوسکتا۔ دوسری قسم وہ ہے کہ ان سے ہمیشہ کے لئے نکاح کی ممانعت نہ ہو بلکہ جب تک کوئی عورت تمہارے نکاح میں رہے اس وقت تک اس عورت کی ان قرابت والی عورتوں سے نکاح کی ممانعت رہی جب اس عورت کو طلاق دے دی یا وہ مرگئی تو ان سے نکاح درست ہو جائے گا اور وہ زوجہ کی بہن ہے کہ زوجہ کی موجودگی میں تو اس سے نکاح نہیں ہو سکتا اور بعد میں درست ہے اور یہی حکم ہے زوجہ کی پھوپھی اور خالہ اور بھتیجی اور بھانجی کا۔ فائدہ: یہ جو فرمایا کہ عورتیں تمہارے بیٹوں کی جو کہ تمہاری پشت سے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے بیٹے یا پوتے نسبی ہوں منہ بولے یعنی لے پالک نہ ہوں جس کو متبنّٰی کہتے ہیں رضاعی سے احتراز نہیں اور اِلَّامَاقَدْسَلَفَ کا یہ مطلب ہے، کہ زمانہ جاہلیت میں اس حکم سے پہلے جو دو بہنوں کو جمع کر لیتے تھے وہ معاف ہے اور فِیْ حُجُورِکُمْ فرمانے سے یہ مطلب ہے، کہ جن کو تم اپنی گود میں پالتے ہو اور ان کی پرورش کرتے ہو یعنی اولاد جیسا ان سے معاملہ کرتے ہو اور گویا اولاد ہی سمجھتے ہو اس سے ان کے نکاح کی حرمت اور ظاہر ہوگئی یہ مطلب نہیں کہ ان کی حرمت کے لئے گود میں رکھنا ضروری ہے۔(23)
۞ وَالمُحصَنٰتُ مِنَ النِّساءِ إِلّا ما مَلَكَت أَيمٰنُكُم ۖ كِتٰبَ اللَّهِ عَلَيكُم ۚ وَأُحِلَّ لَكُم ما وَراءَ ذٰلِكُم أَن تَبتَغوا بِأَموٰلِكُم مُحصِنينَ غَيرَ مُسٰفِحينَ ۚ فَمَا استَمتَعتُم بِهِ مِنهُنَّ فَـٔاتوهُنَّ أُجورَهُنَّ فَريضَةً ۚ وَلا جُناحَ عَلَيكُم فيما تَرٰضَيتُم بِهِ مِن بَعدِ الفَريضَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَليمًا حَكيمًا(24)
ف ١     محرمات کوذکر فرما کر اخیر میں اب ان عورتوں کی حرمت بیان فرمائی جو کسی کے نکاح میں ہوں یعنی جو عورت کسی کے نکاح میں ہے اس کا نکاح اور کسی سے نہیں ہو سکتا تاوقتیکہ وہ بذریعہ طلاق یا وفات زوج نکاح سے جدا نہ ہو جائے اور عدت طلاق یا عدت وفات پوری نہ کر لے اس وقت تک کوئی اس سے نکاح نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر کوئی عورت خاوند والی تمہاری ملک میں آجاوے تو وہ اس حکم حرمت سے مستشنٰی ہے اور وہ تم پر حلال ہے گو اس کا خاوند زندہ ہے اور اس نے طلاق بھی اس کو نہیں دی اور اس کی صورت یہ ہے کافر مرد اور کافر عورت میں باہم نکاح ہو اور مسلمان دار الحرب پر چڑھائی کر کے اس عورت کو قید کر کے دارالاسلام میں لے آئیں تو وہ عورت جس مسلمان کو ملے گی اس کو حلال ہے گو اس کا زوج دارالحرب میں زندہ موجود ہے اور اس نے طلاق بھی نہیں دی۔ اب سب محرمات کو بیان فرما کر اخیر میں تاکید فرمادی کہ یہ اللہ کا حکم ہے اس کی پابندی تم پر لازم ہے۔ فائدہ:   جو عورت کافرہ دارالحرب سے پکڑی ہوئی آئے اس کے حلال ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایک حیض گزر جائے اور وہ عورت مشرک بت پرست نہ ہو بلکہ اہل کتاب میں سے ہو۔ ف٢  یعنی جن عورتوں کی حرمت بیان ہو چکی ان کے سوا سب حلال ہیں۔ چار شرطوں کے ساتھ اول یہ کہ طلب کرو یعنی زبان سے ایجاب و قبول دونوں طرف سے ہو جائے۔ دوسری یہ کہ مال یعنی مہر دینا قبول کرو۔ تیسری یہ کہ ان عورتوں کو قید میں لانا اور اپنے قبضہ میں رکھنا مقصود ہو صرف مستی نکالنا اور شہوت رانی مقصود نہ ہو جیسا کہ زنا میں ہوتا ہے یعنی ہمیشہ کے لئے وہ اس کی زوجہ ہو جائے چھوڑے بغیر کبھی نہ چھوٹے۔ مطلب یہ کہ کوئی مدت مقرر نہ ہو اس سے متعہ کا حرام ہونا معلوم ہوگیا جس پر اہل حق کا اجماع ہے۔ چوتھی شرط جو دوسری آیتوں میں مذکور ہے یہ ہے کہ مخفی طور پر دوستی نہ ہو یعنی کم سے کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں اس معاملہ کی گواہ ہوں اگر بدون دو گواہوں کے ایجاب و قبول ہوگا تو وہ نکاح درست نہ ہوگا زنا سمجھا جائے گا۔ ف٣     یعنی جس عورت سے نکاح کیا اور اس کے بعد زوج نے اس سے کسی مدت معین قلیل یا طویل تک نفع بھی حاصل کر لیا کم سے کم یہ کہ ایک ہی دفعہ وطی یا خلوت صحیحہ کی نوبت آئی تو اب اس عورت کا پورا مہر دینا لازم ہے بدون عورت کے بخشے کسی طرح چھوٹ نہیں سکتا۔ البتہ جب تک عورت بالکل کام میں نہ آوے اور زوج طلاق دے دے تو مہر مقررہ کا آدھا دینا ہوگا اور اگر عورت نے انتفاع سے پہلے کوئی ایسی بات کی کہ نکاح ٹوٹ گیا تو زوج کے ذمہ سے سب مہر اتر جائے گا کچھ دینا نہ پڑے گا۔ ف٤   یعنی اگر زوجین مہر مقرر کر لینے کے بعد کسی بات پر راضی ہوجائیں مثلاً عورت اپنی خوشی سے مہر میں سے کچھ کم کر دے یا مرد اپنی رضا سے مہر مقررہ سے کچھ زیادہ دے تو وہ مختار ہیں۔ اس میں کچھ گناہ نہیں۔ یہ نہیں کہ مہر مقررہ سے زوج کچھ کم دے یا عورت اس سے کچھ زیادہ لے تو ناجائز ہے۔ ہاں رضائے باہمی ضرور ہونی چاہئے، اخیر میں فرمایا کہ اللہ تعالٰی تمہاری مصلحتوں اور ہر طرح کے نفع و نقصان کو خوب جانتا ہے اور جو حکم فرماتا ہے وہ سراسر حکمت آمیز ہوتا ہے اس کی متابعت میں تمہارے لئے دارین کی خوبی اور بہبودی ہے اور مخالفت میں سراسر نقصان اور خرابی ہے۔(24)
وَمَن لَم يَستَطِع مِنكُم طَولًا أَن يَنكِحَ المُحصَنٰتِ المُؤمِنٰتِ فَمِن ما مَلَكَت أَيمٰنُكُم مِن فَتَيٰتِكُمُ المُؤمِنٰتِ ۚ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِإيمٰنِكُم ۚ بَعضُكُم مِن بَعضٍ ۚ فَانكِحوهُنَّ بِإِذنِ أَهلِهِنَّ وَءاتوهُنَّ أُجورَهُنَّ بِالمَعروفِ مُحصَنٰتٍ غَيرَ مُسٰفِحٰتٍ وَلا مُتَّخِذٰتِ أَخدانٍ ۚ فَإِذا أُحصِنَّ فَإِن أَتَينَ بِفٰحِشَةٍ فَعَلَيهِنَّ نِصفُ ما عَلَى المُحصَنٰتِ مِنَ العَذابِ ۚ ذٰلِكَ لِمَن خَشِىَ العَنَتَ مِنكُم ۚ وَأَن تَصبِروا خَيرٌ لَكُم ۗ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ(25)
ف ٥     یعنی جس کو اس بات کا مقدور نہ ہو کہ آزاد عورت سے نکاح کر سکے اور اس کے مہر اور نفقہ کا تحمل کر سکے تو بہتر ہے کہ ایسا شخص آپس میں کسی کی مسلمان لونڈی سے نکاح کر لے کہ اس کا مہر کم ہوتا ہے اور نفقہ میں بھی یہ سہولت ہے کہ اگر مالک نے اس کو اپنے یہاں رکھا جیسا کہ اکثر ہوتا ہے تو زوج اس کے نفقہ سے فارغ البال رہے گا اور اگر زوج کے حوالہ کر دیا تو بھی بہ نسبت نفقہ حرہ تخفیف ضرور رہے گی۔ فائدہ:      جس کو آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت ہو اس کو لونڈی سے نکاح کرنا امام شافعی وغیرہ کے نزدیک حرام ہے اور امام ابوحنیفہ کے مذہب میں مکروہ تنز یہی ہے ایسے ہی صحت نکاح کے لئے لونڈی کا مسلمان ہونا اکثر علماء کے نزدیک ضروری ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک افضل ہے۔ اگر کتابیہ لونڈی سے نکاح کر لے گا تو وہ بھی امام صاحب کے نزدیک جائز ہوگا۔ ہاں اگر کسی کے نکاح میں آزاد عورت ہو تو اس کو لونڈی سے نکاح کرنا سب کے نزدیک حرام ہے۔ ف ٦      یعنی اللہ تعالٰی کو تم سب کے ایمان کی اصلی کیفیت معلوم ہے تم کو تو ظاہر پر اکتفا کرنا چاہئیے بعنی لونڈی کا ایمان اللہ کے نزدیک بعضی آزاد عورت کے ایمان سے بہتر اور افضل ہو سکتا ہے تو اب حیثیت ایمانی سے لونڈی کے ساتھ نکاح کرلینے میں قباحت اور انکار نہ ہونا چاہیے اور آپس میں تم سب ایک ہو۔ ایک اصل سے پیدا ہوئے ہو، ایک دین میں شریک ہو، پھر لونڈیوں سے نکاح کرنے کو کیوں معیوب اور ننگ و عار سمجھتے ہو اس کلام سے لونڈیوں کے نکاح کی طرف توجہ دلانا اور ان سے نفرت کو دور کرنا مطلوب ہے۔ ف۷    یعنی تو اب مناسب ہے کہ حسب بیان بالا ان لونڈیوں سے نکاح کر لیا کرو ان کے مالکوں سے اجازت لیکر اور قاعدہ اور دستور کے موافق ان کا مہر دے دیا کرو جب کہ وہ خوشی سے قید نکاح میں آئیں۔ مستی نکالنے والیاں اور چھپی اور مخفی یاری کرنے والیاں ہرگز نہ ہوں یعنی زنا نہ ہو کہ اس میں مہر ہرگز لازم نہ ہو سکے گا اس سے معلوم ہوگیا کہ زنا میں مہر لازم نہیں ہوتا اور نکاح کے لئے گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔ ف۸    یعنی جو آزاد مرد یا عورت نکاح سے فائدہ اٹھا چکے یعنی مجامعت کی نوبت آچکی ہو اور پھر وہ زنا کرے تو وہ سگنسار کیا جائے گا اور اگر نکاح نہیں ہوا بلکہ نکاح سے پہلے ہی زنا کیا تو اس کے لئے سو کوڑوں کا حکم ہے اور لونڈی اور غلام کے لئے قبل نکاح اور بعد نکاح ہر حالت میں صرف پچاس کوڑے ہیں زیادہ نہیں۔ ف۱     یعنی لونڈیوں سے نکاح کرنے کا ارشاد اور استحسان اسی کے حق میں ہے جو کوئی شخص تم میں ڈرتا ہو مشقت یعنی زنا میں مبتلا ہونے سے اور اگر تم صبر کرو اور باندیوں سے نکاح نہ کرو تو بہت اچھا ہے تمہارے حق میں کیونکہ اولاد آزاد ہوگی۔ ہاں جس کو صبر و تحمل میں کھٹکا ہو تو اس کو بہتر ہے کہ ایسی حالت میں کسی کی لونڈی سے نکاح کر لے اور اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے صبر کرنے والوں پر۔(25)
يُريدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُم وَيَهدِيَكُم سُنَنَ الَّذينَ مِن قَبلِكُم وَيَتوبَ عَلَيكُم ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ(26)
ف۲    یعنی اللہ تعالٰی کو ان احکام کے ارشاد سے مطلوب یہی ہے کہ تم کو حلال اور حرام کا حال معلوم ہو جائے اور تم کو پہلے انبیاء کا راستہ نصیب ہو جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام وغیرہ اور مغفرت کرے تمہاری اور اللہ کو تمہارے مصالح اور تمام حالات کا پورا علم ہے اور اس کے ہر حکم اور ہر تدبیر میں حکمت ہے تو اب اگر اس کے حکم کی اطاعت نہ کرو گے تو ہدایت سے بھی محروم اور پہلوں کے بھی مخالف اور اللہ کی رحمت اور مغفرت سے محروم رہو گے۔ فائدہ:   پہلے سے زنا اور لواطت کی حرمت اور ان سے توبہ کرنا اور عورتوں کے متعلق بعضے احکام اور جن عورتوں سے نکاح حرام ہے ان کا ذکر اور نکاح کے متعلق مہر وغیرہ قیودو شرائط کا تذکرہ اور بدکاری سے ممانعت اور اس پر سزا کا ذکر تھا اور بچند وجوہ لوگوں کو ان حکموں کی اطاعت دشوار تھی اس لئے اس آیت میں اور آئندہ کی دو آیتوں میں ان احکام کی پابندی کو خوب مؤکد اور مستحکم کر کے مخالفت سے روک دیا واللہ اعلم۔(26)
وَاللَّهُ يُريدُ أَن يَتوبَ عَلَيكُم وَيُريدُ الَّذينَ يَتَّبِعونَ الشَّهَوٰتِ أَن تَميلوا مَيلًا عَظيمًا(27)
ف۳    یعنی یہ مختلف قیدیں جو پہلے گزریں اس سے مطلوب تم پر رحمت فرمانا ہے۔ اس لئے اللہ تعالٰی نے ان قیدوں کی نسبت حکم فرمایا اور جو لوگ اپنی شہوتوں پر فریفتہ ہیں وہ البتہ یہی چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستہ سے دور جا پڑو یعنی انہی کی طرح تم بھی اپنی شہوات کا اتباع کرو اور گمراہ ہوجاؤ تو اب جو کچھ کرو سمجھ کر کرو۔(27)
يُريدُ اللَّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُم ۚ وَخُلِقَ الإِنسٰنُ ضَعيفًا(28)
ف٤   یعنی انسان کو اللہ نے ضعیف بنایا ہے اس کو خوب معلوم ہے کہ یہ اپنی شہوات و مرغوبات سے کہاں تک صبر کرسکتا ہے تو اس لئے ہر حکم میں تخفیف کا بھی لحاظ فرمایا گیا ہے یہ نہیں ہوا کہ انسان کے حق میں جو مفید دیکھا وہ اس کے ذمہ لگا دیا سہل ہو یا دشوار مثلاً عورتوں اور شہوت سے صبر کرنا آدمی کو بہت دشوار تھا اس لئے اس کی خواہش پورا کرنے کے لئے طریقے جائز اللہ نے بتلا دیے کہ اس سے اپنا مطلب حاصل کر سکے یہ نہیں کہ قضائے شہوت سے بالکل روک دیا گیا ہو۔ حق تعالٰی نے اپنی رحمت سے شریعت میں تنگی نہیں فرمائی کہ کوئی حلال کو چھوڑے اور حرام کی طرف دوڑے۔ خلاصہ ان آیتوں کا یہ نکلا کہ نفس کو شہوات سے بچانا اور ان تمام قیدوں کا پابند ہونا جو عورتوں کے بارے میں مذکور ہوئیں ہرگز دشوار امر نہیں اور انکی پابندی نہایت ضروری اور سراسر مفید ہے۔(28)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَأكُلوا أَموٰلَكُم بَينَكُم بِالبٰطِلِ إِلّا أَن تَكونَ تِجٰرَةً عَن تَراضٍ مِنكُم ۚ وَلا تَقتُلوا أَنفُسَكُم ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ بِكُم رَحيمًا(29)
ف۵    مطلب یہ ہے کہ کسی کو کسی کا مال ناحق کھا لینا مثلاً جھوٹ بول کر یا دغابازی سے یا چوری سے ہرگز درست نہیں ہاں اگر سوداگری یعنی بیع و شراء کرو تم باہمی رضامندی سے تو اس میں کچھ حرج نہیں اس مال کو کھالو۔ جس کا خلاصہ یہی نکلا کہ جائز طریقہ سے لینے کی ممانعت نہیں جو مال کو ترک کرنا تم پر دشوار ہو۔ ف ٦    یعنی آپس میں ایک دوسرے کو قتل بھی مت کرو بیشک اللہ تعالٰی تم پر مہربان ہے کہ بلاوجہ کسی کے مال یا جان میں تصرف کرنے کو منع فرما دیا اور تم پر ایسے احکام بھیجے جن میں سراسر تمہارے لئے بہبودی اور خیریت ہے۔(29)
وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ عُدوٰنًا وَظُلمًا فَسَوفَ نُصليهِ نارًا ۚ وَكانَ ذٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسيرًا(30)
ف۷    یعنی اور جو کوئی ظلم اور زیادتی سے باز نہ آئے بلکہ ناحق اوروں کا مال کھائے یا ظلماً کسی کو قتل کر ڈالے تو اسکا ٹھکانا دوزخ ہے اور ایسے ظالموں کو آگ میں ڈال دینا خدا تعالٰی کو دشوار نہیں بالکل سہل اور آسان ہے تو اب کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ ہم تو مسلمان ہیں دوزخ میں کیسے جاسکتے ہیں اللہ تعالٰی مالک و مختار ہے اس کو عدل و انصاف سے کونسی چیز روک سکتی ہے۔(30)
إِن تَجتَنِبوا كَبائِرَ ما تُنهَونَ عَنهُ نُكَفِّر عَنكُم سَيِّـٔاتِكُم وَنُدخِلكُم مُدخَلًا كَريمًا(31)
ف۸ پہلی آیت میں مذکور تھا کہ جو کوئی ظلماً کسی کے مال یا جان کو نقصان پہنچائے گا تو اس کی سزا جہنم ہے جس سے معلوم ہوگیا تھا کہ حق تعالٰی کی نافرمانی بندہ کے لئے موجب عذاب ہے۔ اب اس آیت میں گناہوں سے بچنے کی ترغیب اور گناہوں سے اجتناب کرنے پر وعدہ مغفرت اور جنت کی توقع اور طمع دلائی جاتی ہے تاکہ اس کو معلوم کر کے ہر ایک آدمی گناہوں سے احتراز کرنے میں کوشش کرے اور معلوم ہو جائے کہ جو کبیرہ گناہ مثلاً کسی کا مال غصب یا سرقہ کرنے یا کسی کو ظلماً قتل کرنے سے بچ گیا جن کا ذکر ابھی گزرا تو اس کے وہ تمام صغیرہ گناہ بخشے جائیں گے جن کا مرتکب بغرض تحصیل و تکمیل سرقہ اور قتل ہوا تھا۔ اس آیت میں چند باتیں بحث طلب ہیں مگر اصل سب کی یہی ہے کہ آیت کا اصلی اور عمدہ مطلب معلوم ہو جائے جس سے تمام امور کا جان لینا سہل ہو جائے۔ سو معتزلہ اور ان کے موافقین نے سرسری طور پر اس آیت کا یہ مضمون سمجھ لیا کہ اگر کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو گے یعنی کبیرہ گناہ ایک بھی نہ کرو گے تو پھر محض صغیرہ گو کتنے ہی ہوں ضرور معاف کر دیے جائیں گے اور اگر صغائر کے ساتھ کبیرہ کیف ما اتفق ایک یا دو بھی شامل ہوگئے تو اب معافی ممکن نہیں بلکہ سب کی سزا ضروری ہوگئی اور اہل سنت فرماتے ہیں کہ ان دونوں صورتوں میں اللہ تعالٰی کو معافی اور مواخذہ کا اختیار بدستور محقق ہے اول صورت میں معافی کا لازم ہونا اور دوسری صورت میں مواخذہ کو واجب سمجھنا معتزلہ کی بدفہمی اور کم فہمی ہے۔ اور اس آیت کے ظاہری الفاظ اور سرسری مضمون سے جو معتزلہ کا مذہب راجح نظر آتا ہے۔ اس کا جواب کسی نے تو یہ دیا کہ انتفاء شرط سے انتفاء مشروط کوئی ضروری امر ہرگز نہیں۔ کسی نے یہ کہا کہ لفظ کبائر سے جو آیت میں مذکور ہے اکبرالکبائر یعنی خاص شرک مراد لے لیا اور لفظ کبائر کی جمع لانے کی وجہ تعداد انواع شرک کو قرار دیا اور اسی کے ذیل میں چند اور باتیں بھی زیر بحث آگئیں مگر ہم ان سب امور کو نظر انداز کرکے صرف اس آیت کے محقق اور عمدہ معنی ایسے بیان کئے دیتے ہیں جو نصوص اور عقل کے مطابق اور قواعد اور ارشاد محققین کے موافق ہوں اور بشرط فہم و انصاف معنی مذکور کے بعد تمام ضمنی باتیں خود بخود حل ہوجائیں اور خلاف معتزلہ خود بخود مضمحل ہو کر معتزلہ کے عدم تدبر اور کم فہمی پر حجت قوی بن جائے اور اہل حق کو اس کے ابطال و تردید کی طرف توجہ فرمانے کی حاجت ہی نہ رہے۔ سو غور سے سنئیے کہ یہ تو ظاہر ہے کہ ارشاد ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم جو کہ یہاں مذکور ہے اور ارشاد اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰائِرَ اْلاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ) جو سورہ نجم 'آیت نمبر ٣٢(میں موجود ہے ان ہر دو ارشاد کا مدعی ایک ہے صرف لفظوں میں تھوڑا سا فرق ہے تو اب جو مطلب ایک آیت کا ہوگا وہی دوسری آیت کا لیا جائے گا سو سورہ نجم کی آیت کی نسبت حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا ارشاد بخاری وغیرہ کتب حدیث میں صاف موجود ہے عن ابن عباس قال مارایت شیأ اشبہ باللمم مما قال ابوہریرہ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان اللّٰہ کتب علٰی ابن ادٰم حظہ من الزنٰی ادرک ذٰلک لا محالۃ فزنی العین النظر وزنی اللسان المنطق والنفس تمنی و تشتھی والفرج یصدق ذلک و یکذبہ انتہٰی۔ بشرط فہم اس حدیث سے ہر دو آیات سابقہ کے واقعی اور تحقیقی مطلب کا پورا سراغ لگ گیا اور حضرت ابن عباس حبرالامت اور لسان القرآن کے فرمانے سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ لمم اور علیٰ ہذا القیاس سیاٰت کے معنی اس سے بہتر نہیں ملے تو اب اس مطلب کے مقابلہ میں کوئی دوسری تقریر مضمون آیت کے متعلق کیونکر قابل ترجیح اور لائق پسند ہوسکتی ہے بالخصوص معتزلہ کی ہرزہ گوئی کیسے قابل التفات اور لائق جواب سمجھی جاسکتی ہے اور واقعی حدیث مذکور کامطلب اور حضرت ابن عباس نے جو اس سے بات نکالی ایسی عجیب اور قابل قبول تحقیق ہے کہ جس سے مضمون ہر دو آیت خوب محقق ہوگیا اور معتزلہ کے خرافات کی گنجائش اور اہل حق کو اس کی تردید کی ضرورت بھی نہ رہی اور ذیلی اور ضمنی اقوال واختلافات بھی بہت خوبی سے طے ہوگئے چنانچہ اہل فہم ادنیٰ تامل سے سمجھ سکتے ہیں بغرض توضیح ہم بھی حدیث مذکور کا خلاصہ عرض کئے دیتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آیت سورہ نجم میں جو لفظ لمم فرمایا گیا ہے جس کی کہ معافی کا وعدہ کیا ہے اس کی تعیین اور تحقیق کے متعلق حدیث ابوہریرہ سے بہتر ہم کو کوئی چیز معلوم نہیں ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے فرمایا کہ اللہ نے ابن آدم کے ذمہ پر جو زنا کا حصہ مقرر فرما دیا ہے وہ ضرور اس کو مل کر رہے گا۔ سو فعل زنا میں آنکھ کا حصہ تو دیکھنا ہے اور زبان کا حصہ یہ ہے کہ اس سے وہ باتیں کی جائیں جو فعل زنا کے لئے مقدمات اور اسباب ہوں اور نفس کا حصہ یہ ہے کہ زنا کی تمنا اور اس کی خواہش کرے لیکن فعل زنا کا تحقق اور اس کا بطلان دراصل فرج یعنی شرمگاہ پر موقوف ہے یعنی اگر فرج سے زنا کا صدور ہوگیا تو آنکھ زبان دل سب کا زانی ہونا محقق ہوگیا اور اگر باوجود تحصیل جملہ اسباب وذرائع صرف فعل فرج کا تحقق نہ ہوا بلکہ زنا سے توبہ اور اجتناب نصیب ہوگیا تو اب تمام وسائل زنا جو کہ فی نفسہ مباح تھے فقط زنا کی تبعیت کے باعث گناہ قرار دیے گئے تھے وہ سب کے سب لائق مغفرت ہوگئے یعنی ان کا زنا ہونا باطل ہوگیا اور گویا ان کا قلب ماہیت ہو کر بجائے زنا عبادت بن گئی کیونکہ فی نفسہ تو وہ افعال نہ معصیت تھے نہ عبادت بلکہ مباح تھے صرف اس وجہ سے کہ وہ زنا کے لئے وسیلہ بنتے تھے معصیت میں داخل ہوگئے تھے جب زنا کے لئے وسیلہ نہ رہے بلکہ زنا ہی بوجہ اجتناب معدوم ہو چکا تو اب ان وسائل کا زنا کے ذیل میں شمار ہونا اور ان کو معصیت قرار دینا انصاف کے صریح مخالف ہے مثلاً ایک شخص مسجد میں پہنچا چوری کے خیال سے مگر وہاں جا کر عین موقع پر تنبہ پیش آیا اور چوری سے توبہ کی اور رات بھر اللہ کے واسطے نماز پڑھتا رہا تو ظاہر ہے کہ جو رفتار سرقہ کا ذریعہ نظر آتا تھا وہ اب توبہ اور نماز کا ذریعہ ہوگیا تو اس حدیث ابوہریرہ کو سن کر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ سمجھ گئے کہ لمم وہ باتیں ہیں جو دراصل گناہ نہیں مگر گناہ کا سبب ہو کر گناہ بن جاتی ہیں۔ تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ بڑے گناہ اور کھلے گناہ سے تو بچتے ہیں ہاں صدور لمم کی نوبت آجاتی ہے مگربڑے اور اصلی گناہ کے صدور سے پہلے ہی وہ اپنے قصور سے تائب اور مجتنب ہو جاتے ہیں تو اب ابن عباس رضی اللہ نے جیسے حدیث ابوہریرہ سے آیت سورہ نجم کا مطلب سمجھ لیا ہم کو چاہیے کہ وہی معنی حسب ارشاد ابن عباس رضی اللہ ہم آیت سورہ نساء کے بے تکلف سمجھ لیں۔ جس کے بعد بحمد اللہ نہ ہم کو اس کی ضرورت ہوگی کہ اس آیت کی توضیح میں گناہ صغیرہ اور کبیرہ کی مختلف تفسیریں نقل کریں اور نہ معتزلہ کے استدلال کے جواب کا فکر ہوگا اور تکفیر سیآت کی وجہ اور دخول جنت کا سبب بھی بسہولت مطابق قواعد معلوم ہو جائے گا اور اجتناب کے معنی بھی ظاہر ہوجائیں گے اور چھوٹی چھوٹی باتیں انشاء اللہ بشرط تدبر طے ہوجائیں گی خلاصہ ہر دو آیت مذکور کا حسب ارشاد حدیث و بیان ابن عباس رضی اللہ یہ ہوا کہ جو لوگ ان گناہوں سے رکیں گے اور ان کے ارتکاب سے اپنے نفس کو ہٹاتے رہیں گے جو گناہ کہ گناہوں کے سلسلہ میں مقصود اور بڑے سمجھے جاتے ہیں تو اس اجتناب اور رک جانے کی وجہ سے ان کے وہ برے کام جو انہوں نے کسی بڑے گناہ کے حصول کی طمع میں کئے ہیں معاف کر دیے جائیں گے اور حسب ارشاد وَامَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ و نَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاوْیٰ آیت نمبر) ٤٠'٤١ (وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ مطلب نہیں کہ سلسلہ زنا کے صغائر کسی دوسرے سلسلہ کے بڑے گناہ مثلاً شراب خوری نہ کرنے سے فروگذاشت ہوجائیں گے یا شراب خواری کی وجہ سے ان کا مواخذہ لازم اور واجب ہو جائے گا۔ واللہ اعلم(31)
وَلا تَتَمَنَّوا ما فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعضَكُم عَلىٰ بَعضٍ ۚ لِلرِّجالِ نَصيبٌ مِمَّا اكتَسَبوا ۖ وَلِلنِّساءِ نَصيبٌ مِمَّا اكتَسَبنَ ۚ وَسـَٔلُوا اللَّهَ مِن فَضلِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمًا(32)
ف۹    یعنی حق تعالٰی جو کسی کو کسی پر کسی امر میں شرافت و فضلیت اور اختصاص و امتیاز عنایت فرمائے تو تم اس کی ہوس اور حرص مت کرو کیونکہ یہ بھی گویا ایسا ہی ہے کہ کسی کے خاص مال اور جان میں بلاوجہ دست اندازی کی جائے جس کی حرمت ابھی گزر چکی اور نیز اس سے باہم تحاسد و تباغض پیدا ہوتا ہے اور حکمت الٰہی کی مخالفت بھی لازم آتی ہے بعض عورتوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا سبب ہے کہ ہر جگہ حق تعالٰی مردوں کو خطاب فرماتا ہے اور ان کو حکم کرتا ہے عورتوں کا ذکر نہیں کیا جاتا اور میراث میں مرد کو دوہرا حصہ دیا جاتا ہے عورت سے۔ اس آیت میں ان سب کا جواب ہوگیا۔ ف۱   یعنی مردوں اور عورتوں کے لئے حصہ مقرر ہے جیسا کچھ وہ کام کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ پورا ملتا ہے اس میں ہرگز کمی نہیں کی جاتی جو کسی کو شکایت کا موقع ملے ہاں یہ بات دوسری ہے کہ وہ اپنی حکمت اور رحمت کے مطابق کسی کو خاص بڑائی اور فضیلت عنایت کرے اس کی حرص اور شکایت کرنی بیجا ہوس ہے۔ البتہ اپنے عمل کے معاوضہ سے اور زیادہ ثواب و انعام مانگو تو بہتر اور مناسب ہے اس میں کچھ خرابی نہیں تو اب جو فضل کا طالب ہو اس کو لازم ہے کہ عمل کے ذریعہ سے طلب کرے حسد اور تمنی سے فضل کا طالب نہ ہو اور اللہ تعالٰی کو ہر ایک چیز کا پورا علم ہے، ہر ایک کے درجے اور اس کے استحقاق کو خوب جانتا ہے اور ہر ایک کے مناسب شان اس سے معاملہ کرتا ہے تو اب جس کو فضیلت عطا کرتا ہے سراسر علم اور حکمت کے مطابق ہے۔ کوئی اپنی لاعلمی کی وجہ سے کیوں اس میں خلجان کرے۔(32)
وَلِكُلٍّ جَعَلنا مَوٰلِىَ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ ۚ وَالَّذينَ عَقَدَت أَيمٰنُكُم فَـٔاتوهُم نَصيبَهُم ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ شَهيدًا(33)
ف۲    یعنی مرد ہو یا عورت ہر ایک کے لئے تم سے اے مسلمانو! ہم نے وارث مقرر کر دیے اس مال کے جس کو چھوڑ مریں والدین اور قرابت والے، کسی کو اس سے محروم نہیں رکھا اور جن لوگوں سے تمہارا معاہدہ ہوا ہے ان کو ان کا حصہ ضرور پہنچا دو اللہ تعالٰی کو تمام امور کا علم ہے کہ وارثوں کا کیا حصہ ہونا چاہیے اور جن سے معاہدہ ہوا ہے ان کو کیا ملنا چاہیے اور ہمارے ان احکام کو کون بجا لاتا ہے اور کون نافرمانی کرتا ہے۔ فائدہ:     اکثر لوگ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اکیلے اکیلے مسلمان ہوگئے تھے اور ان کا سب کنبہ اور تمام اقربا کافر چلے آتے تھے تو اس وقت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی کر دیا تھا وہی دونوں آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے جب ان کے اقربا بھی مسلمان ہوگئے تب یہ آیت اتری کے میراث تو اقربا اور رشتہ داروں ہی کا حق ہے اب رہ گئے وہ منہ بولے بھائی تو ان کے لئے میراث نہیں ہاں زندگی میں ان کے ساتھ سلوک ہے اور مرتے وقت کچھ وصیت کر دے تو مناسب ہے مگر میراث میں کوئی حصہ نہیں۔(33)
الرِّجالُ قَوّٰمونَ عَلَى النِّساءِ بِما فَضَّلَ اللَّهُ بَعضَهُم عَلىٰ بَعضٍ وَبِما أَنفَقوا مِن أَموٰلِهِم ۚ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِلغَيبِ بِما حَفِظَ اللَّهُ ۚ وَالّٰتى تَخافونَ نُشوزَهُنَّ فَعِظوهُنَّ وَاهجُروهُنَّ فِى المَضاجِعِ وَاضرِبوهُنَّ ۖ فَإِن أَطَعنَكُم فَلا تَبغوا عَلَيهِنَّ سَبيلًا ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلِيًّا كَبيرًا(34)
ف۳    پہلی آیتوں میں مذکور تھا کہ مرد اور عورتوں کے حقوق کی پوری رعایت فرمائی گئی اگر رعایت حقوق میں فرق ہوتا تو عورتوں کو شکایت کا موقع ہوتا۔ اب اس آیت میں مرد اور عورت کے درجہ کو بتلاتے ہیں کہ مرد کا درجہ بڑھا ہوا ہے عورت کے درجہ سے۔ اس لئے فرق مدارج کے باعث جو احکام میں فرق ہوگا وہ سراسر حکمت اور قابل رعایت ہوگا اس میں عورت اور مرد باقاعدہ حکمت ہرگز برابر نہیں ہو سکتے عورتوں کو اس کی خواہش کرنی بالکل بیجا ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ مردوں کو عورتوں پر اللہ تعالٰی نے حاکم اور نگران حال بنایا دو وجہ سے اول بڑی اور وھبی وجہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے اصل سے بعضوں کو بعضوں پر یعنی مردوں کو عورتوں پر علم و عمل میں کہ جن دونوں پر تمام کمالات کا مدار ہے فضیلت اور بڑائی عطا فرمائی جس کی تشریح احادیث میں موجود ہے۔ دوسری وجہ جو کسبی ہے یہ ہے کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور مہر اور خوراک اور پوشاک جملہ ضروریات کا تکفل کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عورتوں کو مردوں کی حکم برداری چاہئے۔ فائدہ:     ایک صحابیہ نے اپنے خاوند کی نافرمانی بہت کی۔ آخر کو مرد نے ایک طمانچہ مارا۔ عورت نے اپنے باپ سے فریاد کی۔ عورت کے باپ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر احوال ظاہر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاوند سے بدلہ لیوے۔ اتنے میں یہ آیت اتری اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے کچھ چاہا اور اللہ تعالٰی نے کچھ اور چاہا اور جو کچھ اللہ نے چاہا وہی خیر ہے۔ ف٤    یعنی جو عورتیں نیک ہیں وہ مردوں کی تابعداری کرتی ہیں اور اللہ کے حکم کے موافق خاوند کے پیٹھ پیچھے اس کی رضا کے موافق اپنے نفس اور خاوند کے مال کی حفاظت کرتی ہیں۔ اپنے نفس اور مال زوج میں کسی قسم کی خیانت نہیں کرتیں۔ ف۵   یعنی اگر کوئی عورت خاوند سے بدخوئی کرے تو پہلا درجہ تو یہ ہے کہ مرد اس کو زبانی فہمایش کرے اور سمجھاوے اگر نہ مانے تو دوسرا درجہ یہ ہے کہ جدا سووے لیکن اسی گھر میں۔ اس پر بھی نہ مانے تو آخری درجہ یہ ہے کہ اس کو مارے بھی، پر نہ ایسا کہ جس کا نشان باقی رہے یا ہڈی ٹوٹے ہر تقصیر کا ایک درجہ ہے۔ اسی کے موافق تادیب اور تنبیہ کی اجازت ہے۔ جس کے تین درجے ترتیب وار آیت میں مذکور ہیں اور مارنا پیٹنا آخر کا درجہ ہے۔ سرسری قصور پر نہ مارے ہاں قصور زیادہ ہو پھر مارنے میں حرج نہیں جس قدر مناسب ہو مارے پیٹے مگر اس کا لحاظ رہے کہ ہڈی نہ ٹوٹے اور نہ ایسا زخم پہنچائے کہ جس کا نشان باقی رہ جائے۔ ف ٦   یعنی وہ عورتیں تمہاری نصیحت یا علیحدگی یاضرب و تادیب کے بعد اگر بدخوئی اور نافرمانی سے باز آجائیں اور بظاہر مطیع ہوجائیں تو تم بھی بس کر جاؤ اور ان کے قصوروں کی کھود کرید مت کرو اور خواہ مخواہ ان کے ملزم بنانے میں خدا سے ڈرو۔ بیشک اللہ تم سب سے غالب اور سب پر حاکم ہے۔ نہ عورتوں کے معاملہ میں خواہ مخواہ کی بدگمانی سے کام لو اور نہ تھوڑے قصور پر اخیر کی سزا دینے لگو بلکہ ہر قصور کی ایک حد ہے اور مارنا اخیر کا درجہ ہے۔(34)
وَإِن خِفتُم شِقاقَ بَينِهِما فَابعَثوا حَكَمًا مِن أَهلِهِ وَحَكَمًا مِن أَهلِها إِن يُريدا إِصلٰحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَينَهُما ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَليمًا خَبيرًا(35)
ف۷   یعنی اے مسلمانو اگر تم کو اندیشہ ہو کہ خاوند اور عورت میں مخالفت اور ضد ہے وہ اپنے باہمی نزاع کو خود نہ سلجھا سکیں گے تو تم کو چاہیے کہ ایک منصف مرد کے اقارب میں سے اور ایک منصف عورت کے اقارب میں سے مقرر کر کے بغرض فیصلہ زوجین کے پاس بھیجو کیونکہ اقارب کو ان کے حالات بھی زیادہ معلوم ہونگے اور ان سے خیرخواہی کی بھی زیادہ امید ہے۔ یہ دونوں منصف احوال کی تحقیق کریں گے اور جس کا جتنا قصور دیکھیں گے اس کو سمجھا کر باہم موافقت کرادیں گے۔ ف۸    یعنی اگر دونوں منصف اصلاح بین الزوجین کا قصد کریں گےتو اللہ تعالٰی ان کی حسن نیت اور حسن سعی سے زوجین میں موافقت کرادے گا بیشک اللہ تعالٰی کو تمام چیزوں کا علم اور اطلاع ہے۔ رفع نزاع اور حصول اتفاق کے اسباب اور کیفیات اس کو خوب معلوم ہیں اس لئے نزاع زوجین کے رفع ہونے میں کوئی دشواری نہ ہوگی انشاء اللہ۔(35)
۞ وَاعبُدُوا اللَّهَ وَلا تُشرِكوا بِهِ شَيـًٔا ۖ وَبِالوٰلِدَينِ إِحسٰنًا وَبِذِى القُربىٰ وَاليَتٰمىٰ وَالمَسٰكينِ وَالجارِ ذِى القُربىٰ وَالجارِ الجُنُبِ وَالصّاحِبِ بِالجَنبِ وَابنِ السَّبيلِ وَما مَلَكَت أَيمٰنُكُم ۗ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ مَن كانَ مُختالًا فَخورًا(36)
ف۱    یعنی عبادت اور نیک عمل خدا پر یقین کر کے اور ثواب آخرت کی توقع سے کرو فخر اور ریا سے مال دینا یہ بھی شرک ہے گو کم درجہ کا ہے۔ ف۲   یتامی اور نساء اور ورثاء اور زوجین کے حقوق اور ان کے ساتھ حسن معاملہ کو بیان فرما کر اب یہ ارشاد ہے کہ ہر ایک کا حق درجہ بدرجہ تعلق کے موافق اور حاجت مندی کے مناسب ادا کرو۔ سب سے مقدم اللہ تعالٰی کا حق ہے، پھر ماں باپ کا۔ پھر درجہ بدرجہ سب واسطہ داروں اور حاجت مندوں کا اور ہمسایہء قریب اور غیر قریب سے مراد قرب و بعد نسبی ہے یا قرب و بعد مکانی۔صورت اولیٰ میں یہ مطلب ہوگا کہ ہمسایہ قرابتی کا حق ہمسایہ اجنبی سے زیادہ ہوگا اور صورت ثانیہ کا مدعا یہ ہوگا کہ پاس کے ہمسایہ کا حق ہمسایہ بعید یعنی جو کہ فاصلہ سے رہتا ہے اس سے زیادہ ہے اور پاس بیٹھنے والے میں رفیق سفر اور پیشہ کے اور کام کے شریک اور ایک آقا کے دو نوکر اور ایک استاد کے دو شاگرد اور دوست اور شاگرد اور مرید وغیرہ سب داخل ہیں اور مسافر میں مہمان غیر مہمان دونوں آگئے اور مال مملوک غلام اور لونڈی کے علاوہ دیگر حیوانات کو بھی شامل ہے۔ آخر میں فرما دیا کہ جس کے مزاج میں تکبر اور خود پسندی ہوتی ہے کہ کسی کو اپنے برابر نہ سمجھے، اپنے مال پر مغرور اور عیش میں مشغول ہو وہ ان حقوق کو ادا نہیں کرتا سو اس سے احتراز رکھو اور جدا رہو۔(36)
الَّذينَ يَبخَلونَ وَيَأمُرونَ النّاسَ بِالبُخلِ وَيَكتُمونَ ما ءاتىٰهُمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ ۗ وَأَعتَدنا لِلكٰفِرينَ عَذابًا مُهينًا(37)
ف۳    یعنی اللہ تعالٰی دوست نہیں رکھتا خود پسند اور تکبر کرنے والوں کو جو کہ بخل کرتے ہیں اور اپنے مال اور علم خدا داد کو لوگوں سے چھپاتے ہیں کسی کو نفع نہیں پہنچاتے اور قولاً اور عملاً دوسروں کو بھی بُخل کی ترغیب دلاتے ہیں اور ان کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ فائدہ:     یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو فی سبیل اللہ خرچ کرنے میں خود بھی بخل کرتے تھے اور مسلمانوں کو بھی روکنا چاہتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف جو تورات میں مذکور تھے اور حقانیت اسلام کی آیات جو موجود تھیں ان کو چھپاتے تھے۔ سو مسلمانوں کو اس سے احتراز لازم ہے۔(37)
وَالَّذينَ يُنفِقونَ أَموٰلَهُم رِئاءَ النّاسِ وَلا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَلا بِاليَومِ الءاخِرِ ۗ وَمَن يَكُنِ الشَّيطٰنُ لَهُ قَرينًا فَساءَ قَرينًا(38)
ف٤   اور خود پسند متکبر وہ لوگ ہیں کہ اپنا مال لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کے لئے خرچ کرنے میں تو خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کی ترغیب دیتے ہیں لیکن لوگوں کے دکھانے کو اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں اور ان کو نہ اللہ پر ایمان ہے نہ قیامت کے دن پر کہ حصول رضائے حق تعالٰی اور تحصیل ثواب اخروی ان کو مقصود ہو۔ اور اللہ کے یہاں مقبول اور پسندیدہ یہ ہے کہ ان حقداروں کو دیا جائے جن کا اول ذکر ہو چکا ہے اور دینے میں اللہ کی خوشنودی اور آخرت کے ثواب کی توقع ہو۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ اللہ کی راہ میں جیسا بخل کرنا برا ہے ویسا ہی لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرنا برا ہے اور ایسا کام وہی کرتے ہیں جن کا رفیق شیطان ہے جو ان کو ایسے کام پر آمادہ کرتا ہے۔(38)
وَماذا عَلَيهِم لَو ءامَنوا بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ وَأَنفَقوا مِمّا رَزَقَهُمُ اللَّهُ ۚ وَكانَ اللَّهُ بِهِم عَليمًا(39)
ف۵    یعنی ان کافروں کا کچھ نقصان نہ تھا اگر وہ بجائے کفر اللہ اور دن قیامت پر ایمان لاتے اور بجائے بخل و ریا اللہ کی راہ میں مال کو خرچ کرتے بلکہ ان کا سراسر نفع تھا۔ ضرر تو اس میں ہے جس کو وہ اختیار کر رہے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا اور کس نیت سے کر رہے ہیں۔ اسی کا عوض ان کو ملے گا پہلی آیت میں یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فرمایا تھا۔ مال کو ان کی طرف منسوب کیا تھا۔ اب وَانَفَقُوا مِمَّا رَزَقَھُم اللّٰہ فرمایا اس میں لطیف اشارہ ہے کہ وہ لوگ اپنا مال سمجھ کر جس طرح جی چاہتا ہے خرچ کرتے ہیں ان کو چاہیے تھا کہ اللہ کا مال سمجھ کر اس کے حکم کے موافق خرچ کرتے۔(39)
إِنَّ اللَّهَ لا يَظلِمُ مِثقالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضٰعِفها وَيُؤتِ مِن لَدُنهُ أَجرًا عَظيمًا(40)
ف ٦    یعنی اللہ تعالٰی کسی کا حق ایک ذرہ برابر بھی ضائع نہیں فرماتا سو ان کافروں پر جو عذاب ہوگا وہ عین انصاف اور ان کی بداعمالی کا بدلہ ہے۔ اور اگر ذرہ برابر بھی کسی کی نیکی ہوگی تو اضعاف مضاعف اس کا اجر دے گا اور اپنی طرف سے ثواب عظیم بطور انعام اس کو عنایت کرے گا۔(40)
فَكَيفَ إِذا جِئنا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهيدٍ وَجِئنا بِكَ عَلىٰ هٰؤُلاءِ شَهيدًا(41)
ف۱   یعنی ان کافروں کا کیا براحال ہوگا جس وقت کہ بلائیں گے ہم ہر امت اور ہر قوم میں سے گواہ ان کے حالات بیان کرنے والا۔ اور ان کے واقعی معاملات ظاہر کرنے والا اس سے مراد ہر امت کا نبی اور ہر عہد کے صالح اور معتبر لوگ ہیں کہ وہ قیامت کو نافرمانوں کی نافرمانی اور فرمانبرداروں کی فرمانبرداری بیان کریں گے اور سب کے حالات کی گواہی دیں گے اور تم کو اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! ان پر یعنی تمہاری امت پر مثل دیگر انبیاء علیہم السلام کے احوال بتانے والا اور گواہ بنا کر لاویں گے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ھٰـــؤلاء کا اشارہ انبیائے سابقین یا کفار مذکورہ بالا کی طرف ہو۔ اول صورت میں انبیاء مراد ہوں تو مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انبیائے سابقین کی صداقت پر گواہی دیں گے جب کہ ان کی امتیں ان کی تکذیب کریں گی اور دوسرے احتمال سے کفار مراد ہوں تو مطلب یہ ہے کہ انبیائے سابقین جیسا اپنی اپنی امت کے کفار فساق کے کفر و فسق کی گواہی دیں گے تم بھی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کی بداعمالی پر گواہ ہو گے جس سے انکی خرابی اور برائی خوب محقق ہوگی۔(41)
يَومَئِذٍ يَوَدُّ الَّذينَ كَفَروا وَعَصَوُا الرَّسولَ لَو تُسَوّىٰ بِهِمُ الأَرضُ وَلا يَكتُمونَ اللَّهَ حَديثًا(42)
ف۲    یعنی جس دن ہر امت میں سے ان کے حالات بیان کرنے والا بلایا جائے گا اس دن کافر اور نافرمان لوگ اس بات کی تمنا کریں گے کہ کاش ہم زمین میں ملا دیے جاتے اور مٹی میں مل کر نیست و نابود ہو جاتے، آج پیدا نہ ہوتے اور ہم سے حساب و کتاب نہ ہوتا اور وہ لوگ اللہ تعالٰی سے کسی بات کا اخفا نہ کر سکیں گے اور ذرہ ذرہ کا حساب ہوگا۔ شروع سورت سے مسلمانوں کو اقارب اور زوجین وغیرہ کے ادائے حقوق کی تاکید اور کسی کی حق تلفی کرنے اور جانی و مالی نقصان پہنچانے کی ممانعت اور معاصی کی خرابی پر مطلع کر کے اس کے بعد وَاعْبُدُوا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُو ابِہٖ شَیْئًافرما کر اقارب اور یتامی اور مساکین اور ہمسایوں وغیرہ کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کا ارشاد کر کے اسی کے ذیل میں تکبر اور خود پسندی اور بخل و ریا سے ڈرایا تھا جو ایسے عیب ہیں کہ دوسروں کے حق ادا کرنے اور کسی کے ساتھ سلوک کرنے سے روکتے بھی ہیں اور روپیہ پیسہ دینے والوں اور لوگوں کے ساتھ سلوک کرنے والوں کی طبعیت میں خواہ مخواہ آنے بھی لگتے ہیں۔ اب ان تمام حکموں کے آخر میں پھر مسلمانوں کو صریح خطاب فرما کر خاص نماز کی بابت جو سب عبادتوں میں اعلیٰ اور افضل ہے اور شریعت میں جس قدر اسکا اہتمام کیا ہے اور اسکے ارکان و شرائط و آداب وغیرہ کو مفصل بتلایا ہے کسی عبادت کا اس قدر اہتمام نہیں کیا۔ دو باتوں کی تاکید فرمائی جو امور متعلقہ صلوٰۃ میں سب سے اہم اور نفس پر شاق ہیں اور ارکان صلوٰۃ کی صحت اور خوبی کے لئے جسم اور جان ہیں۔ اول یہ کہ نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ تاوقتیکہ جو منہ سے نکلے اس کو سمجھ بھی لو اور جنابت میں بھی نماز سے دور رہو یہاں تک کہ غسل کر کے تمام بدن کو خوب پاک کر لو کیونکہ نماز میں دو امر مہتم بالشان ہیں ایک حضور اور خشوع، دوسرے طہارت اور نظافت اور جملہ امور متعلقہ صلوٰۃ میں یہی دو امر نفس پر شاق بھی ہیں اور نشہ خشوع اور حضور کے مخالف ہے تو جنابت طہارت اور نظافت کے منافی ہے بلکہ نشہ چونکہ مثل نوم اور غشی ناقض وضو ہے تو اس لئے طہارت کے بھی مخالف ہے تو مطلب یہ ہوا کہ نماز کو پورے اہتمام سے پڑھو اور جملہ امور ظاہری اور باطنی کا لحاظ رکھو گو نفس پر شاق ہو۔ باقی اس خاص موقع پر اس تاکید اور تقیید کے ارشاد فرمانے سے دو نفعے معلوم ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ احکام کثیرہ مذکورہ بالا جن میں حقوق اور معاملات باہمی اور عبادات جانی و مالی کا ذکر تھا ان سب کو بجالانے کے ساتھ بخل اور ریا اور خودپسندی اور بڑائی سے بھی مجتنب رہنا چونکہ نفس پر شاق ہے اور سننے والوں کو خلجان کا موقع ہے تو اس دشواری اور خلجان کا علاج بتانا منظور ہے یعنی نماز کو اس کی شرائط و آداب ظاہری و باطنی کے ساتھ ادا کرو گے تو جملہ اوامر ونواہی مذکورہ بالا کی تعمیل تم پر سہل ہو جائے گی کیونکہ نماز کی وجہ سے جملہ اوامر و عبادات میں سہولت اور رغبت اور تمام منہیات اور معاصی سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ دیگر آیات و احادیث میں مذکور ہے اور علمائے محقیقن نے تصریح فرمائی ہے۔ دوسرے یہ کہ احکام کثیرہ سابقہ کو سن کر بعید نہیں جو کاہل کم ہمت اپنے آپ کو مجبور خیال کر کے ہمت ہار دیں اور اس کاہلی کا اثر نماز میں بھی ظاہر ہونے لگے جس کی شرائط و آداب بہت کچھ ہیں اور جو ہر وقت موجود ہے اس لئے نماز کا اہتمام مناسب ہوا۔ الحاصل جو کوئی اقامت صلوٰۃ کا اہتمام اور التزام رکھے گا اس کو دیگر احکام جانی و مالی میں بھی آسانی اور سہولت ہوگی اور جو کوئی دیگر احکام میں کاہلی اور بے پروائی کرتا ہے اس سے اقامت صلوٰۃ میں بھی کوتاہی کرنا بعید نہیں، واللہ اعلم(42)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَقرَبُوا الصَّلوٰةَ وَأَنتُم سُكٰرىٰ حَتّىٰ تَعلَموا ما تَقولونَ وَلا جُنُبًا إِلّا عابِرى سَبيلٍ حَتّىٰ تَغتَسِلوا ۚ وَإِن كُنتُم مَرضىٰ أَو عَلىٰ سَفَرٍ أَو جاءَ أَحَدٌ مِنكُم مِنَ الغائِطِ أَو لٰمَستُمُ النِّساءَ فَلَم تَجِدوا ماءً فَتَيَمَّموا صَعيدًا طَيِّبًا فَامسَحوا بِوُجوهِكُم وَأَيديكُم ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَفُوًّا غَفورًا(43)
ف۳    پہلی آیات میں مسلمانوں کو خطاب تھا واعبدوا اللّٰہ ولا تشرکوابہ شیأا الیٰ آخرہ الآیات اور اسی کے ذیل میں کفار کی مذمت بیان فرمائی تھی جو کہ امور مذکورہ سابقہ کی مخالفت کرتے تھے اب اس کے بعد پھر مسلمانوں کو دربارہ صلوٰۃ بعض خاص ہدایتیں کی جاتی ہیں اور ان ہدایات کو ماقبل کے ساتھ یہ مناسبت ہے کہ اس سے پہلے کفار اور اہل کتاب کی دو خرابیوں کا خاص طور پر ذکر تھا ایک اللہ پر ایمان نہ لانا دوسرے اپنا مال اللہ کے لئے خرچ نہ کرنا بلکہ لوگوں کے دکھانے کو اور اپنی عزت بڑھانے کو مال خرچ کرنا اور ظاہر ہے کہ پہلی خرابی کا منشاء تو علم کا نقصان اور جہل کا غلبہ ہے اور دوسری خرابی کی وجہ ہوائے نفس اور اپنی خواہش ہے جس سے معلوم ہوگیا کہ گمراہی کے بڑے سبب دو ہیں، اول جہل جس میں حق و باطل کی تمیز ہی نہیں ہوتی، دوسرے خواہش و شہوت جس سے باوجود تمیزحق و باطل حق کے موافق عمل نہیں کر سکتا کیونکہ شہوات سے قوت ملکی ضعیف اور قوت بہیمیہ قوی ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ ملائکہ سے بعد اور شیاطین سے قرب ہے جو بہت سی خرابیوں کی جڑ ہے تو اب اس مناسبت سے حق تعالٰی شانہ، نے مسلمانوں کو نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے سے اول منع فرمایا کہ یہ جہل کی حالت ہے۔ اس کے بعد جنابت میں نماز پڑھنے سے روکا کہ یہ حالت ملائکہ سے بعد اور شیاطین سے قرب کی حالت ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ جہاں جنبی ہوتا ہے وہاں ملائکہ نہیں آتے۔ واللہ اعلم۔ اب آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اے ایمان والو جب تم کو کفر اور ریا کی خرابی معلوم ہو چکی اور ان کے اضداد کی خوبی واضح ہو چکی تو اس سے نشہ اور جنابت کی حالت میں نماز پڑھنے کی خرابی کو بھی خوب سمجھ لو کہ ان کا منشا بھی وہی ہے جو کفر و ریا کا منشا تھا۔ اس لئے نشہ میں نماز کے نزدیک نہ جانا چاہیے تاوقتیکہ تم کو اس قدر ہوش نہ آجائے کہ جو منہ سے کہو اس کو سمجھ بھی سکو اور نہ حالت جنابت میں نماز کے نزدیک جانا چاہیے تاوقتیکہ غسل نہ کر لو مگر حالت سفر میں اس کا حکم آگے مذکور ہے۔ فائدہ:     یہ حکم اس وقت تھا کہ نشہ اس وقت تک حرام نہ ہوا تھا لیکن نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت کر دی گئی تھی۔ روایات میں منقول ہے کہ ایک جماعت صحابہ کی دعوت میں جمع تھی چونکہ شراب اس وقت تک حرام نہ ہوئی تھی اس لئے انہوں نے شراب پی تھی۔ مغرب کا وقت آگیا تو سب اسی حالت میں نماز کو کھڑے ہوگئے امام نے سورہ قل یایھا الکفرون میں لا اعبد ما تعبدون کی جگہ اعبد ما تعبدون بیہوشی میں پڑھ دیا جس سے معنی بالکل خلاف اور غلط ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اب اگر نیند کے غلبہ یا بیماری کی وجہ سے کسی کا ایسا حال ہو جائے کہ اس کی خبر نہ رہے کہ میں نے کیا کہا تو ایسی حالت کی نماز بھی درست نہ ہوگی جب ہوش آئے تو اس کی قضا ضرور کر لے۔ ف٤    یعنی حالت جنابت میں نماز کا نہ پڑھنا تاوقتیکہ غسل نہ کرلے یہ حکم جب ہے کہ کوئی عذر نہ ہو اور اگر کوئی ایسا عذر پیش آئے کہ پانی کے استعمال سے معذوری ہو اور طہارت کا حاصل کرنا ضروری ہو تو ایسے وقت میں زمین سے تیمم کر لینا کافی ہے۔ اب پانی کے استعمال سے معذوری کی تین صورتیں بتلائیں ایک بیماری کہ اس میں پانی ضرر کرتا ہے دوسری یہ کہ سفر درپیش ہے اور پانی اتنا موجود ہے کہ وضو کر لے تو پیاس سے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے دور تک پانی نہ ملے گا۔ تیسری یہ کہ پانی بالکل موجود ہی نہیں اس پانی موجود نہ ہونے کی صورت کے ساتھ دو صورتیں طہارت کی ضروری ہونے کی بیان فرمائیں ایک یہ کہ کوئی جائے ضرور سے فارغ ہو کر آیا اس کو وضو کی حاجت ہے دوسری یہ کہ عورت سے صحبت کی ہو تو اس کو غسل کی ضرورت ہے۔ فائدہ:     تیمم کی صورت یہ ہے کہ پاک زمین پر دونوں ہاتھ مارے پھر سارے منہ پر اچھی طرح مل لیوے پھر دونوں ہاتھ زمین پر مار کر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک مل لے مٹی طاہر ہے اور بعض چیزوں کے لئے مثل پانی کے مطہر بھی ہے مثلاً خف، تلوار، آئینہ وغیرہ اور جو نجاست زمین پر گر کر خاک ہو جاتی ہے وہ بھی پاک ہو جاتی ہے اور نیز ہاتھ اور چہرہ پر مٹی ملنے میں تذلل اور عجز بھی پورا ہے جو گناہوں سے معافی مانگنے کی اعلیٰ صورت ہے۔ سو جب مٹی ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی نجاست کو زائل کرتی ہے تو اس لئے بوقت معذوری پانی کی قائم مقام کی گئی۔ اسکے سوا مقتضائے آسانی و سہولت جس پر حکم تیمم مبنی ہے یہ ہے کہ پانی کی قائم مقام ایسی چیز کی جائے جو پانی سے زیادہ سہل الوصول ہو۔ سو زمین کا ایسا ہونا ظاہر ہے کیونکہ وہ سب جگہ موجود ہے۔ معہٰذا خاک انسان کی اصل ہے اور اپنی اصل کی طرف رجوع کرنے میں گناہوں اور خرابیوں سے بچاؤ ہے۔ کافر بھی آرزو کریں گے کہ کسی طرح خاک میں مل جائیں جیسا پہلی آیت میں مذکور ہوا۔ ف۵   یعنی اللہ تعالٰی نے ضرورت کے وقت تیمم کی اجازت دے دی اور مٹی کو پانی کے قائم مقام کر دیا اس لئے کہ وہ سہولت اور معافی دینے والا ہے اور بندوں کی خطائیں بخشنے والا ہے اپنے بندوں کے نفع اور آسائش کو پسند فرماتا ہے جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں نشہ کی حالت میں جو کچھ کا کچھ پڑھا گیا تھا وہ بھی معاف کردیا گیا جس سے یہ خلجان نہ رہا کہ آئندہ کو تو ایسی حالت میں نماز نہ پڑھیں گے مگر جو پہلے غلطی ہوگئی شاید اس کی نسبت مواخذہ ہو۔(43)
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ أوتوا نَصيبًا مِنَ الكِتٰبِ يَشتَرونَ الضَّلٰلَةَ وَيُريدونَ أَن تَضِلُّوا السَّبيلَ(44)
(44)
وَاللَّهُ أَعلَمُ بِأَعدائِكُم ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفىٰ بِاللَّهِ نَصيرًا(45)
ف ٦     ان آیات میں یہود کے بعض قبائح اور انکے مکروفریب کا بیان ہے اور ان کی ضلالت اور کفر پر خود ان کو اور نیز دوسروں کو مطلع کرنا ہے تاکہ ان سے علیحدہ رہیں چنانچہ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرًا سے لیکر یَاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ تک یہود کے قبائح مذکور ہو چکے ہیں۔ بیچ میں ایک خاص مناسبت سے نشہ اور جنابت میں نماز سے ممانعت فرما کر پھر یہود کے قبائح کا بیان ہے۔ یہود کو کتاب سے کچھ حصہ ملا یعنی لفظ پڑھنے کو ملے اور عمل کرنا جو اصل مقصود تھا نہیں ملا اور گمراہی خرید کرتے ہیں یعنی پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات اور اوصاف کو دنیا کی عزت اور رشوت کے واسطے چھپاتے ہیں اور جان بوجھ کر انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی دین سے پھر کر گمراہ ہوجائیں اور اللہ تعالٰی اے مسلمانو تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے۔ تم ایسا ہرگز نہیں جانتے سو اللہ کے فرمانے پر اطمینان کرو اور ان سے بچو اور اللہ تعالٰی تم کو نفع پہنچانے اور نقصان سے بچانے کے لئے کافی ہے اس لئے دشمنوں سے اس قسم کا اندیشہ مت کرو اور دین پر قائم رہو۔(45)
مِنَ الَّذينَ هادوا يُحَرِّفونَ الكَلِمَ عَن مَواضِعِهِ وَيَقولونَ سَمِعنا وَعَصَينا وَاسمَع غَيرَ مُسمَعٍ وَرٰعِنا لَيًّا بِأَلسِنَتِهِم وَطَعنًا فِى الدّينِ ۚ وَلَو أَنَّهُم قالوا سَمِعنا وَأَطَعنا وَاسمَع وَانظُرنا لَكانَ خَيرًا لَهُم وَأَقوَمَ وَلٰكِن لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفرِهِم فَلا يُؤمِنونَ إِلّا قَليلًا(46)
ف۷    یعنی یہود میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ تعالٰی نے جو تورات میں نازل فرمایا اس کو اپنے ٹھکانے سے پھیرتے اور بدلتے ہیں یعنی تحریف لفظی اور معنوی کرتے ہیں۔ ف۸   یعنی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کوئی حکم سناتے تو یہود جواب میں کہتے ہم نے سن لیا مطلب یہ ہوا کہ قبول کر لیا لیکن آہستہ سے کہتے تھے کہ نہ مانا یعنی ہم نے فقط کان سے سنا دل سے نہیں مانا۔ ف۹   یعنی اور جب یہود حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہیں تو کہتے ہیں سن نہ سنایا جائیو تو یعنی ایسے کلام بولتے جس کے دو معنے ہوں ایک معنی کے اعتبار سے دعاء یا تعظیم ہو تو دوسرے معنی کی رو سے بد دعاء اور تحقیر ہو سکے۔ چنانچہ یہ کلام بظاہر دعائے خیر ہے۔ مطلب یہ کہ تو ہمیشہ غالب اور معزز رہے کوئی تجھ کو برُی اور خلاف بات نہ سنا سکے اور دل میں نیت یہ رکھے کہ تو بہرا ہو جائیو۔ ف۱   یعنی حضرت کی خدمت میں آتے تو یہود رَاعِنَا کہتے اس کے بھی دو معنے ہیں ایک اچھے ایک برے جن کا بیان سورہ بقرہ میں گزر چکا۔ اچھے معنی تو یہ کہ ہماری رعایت کرو اور شفقت کی نظر کرو کہ تمہارا مطلب سمجھ لیں اور جو پوچھنا ہو پوچھ سکیں اور برے معنی یہ کہ یہود کی زبان میں یہ کلمہء تحقیر کا ہے یا زبان کو دبا کر رَاعِیْنَا کہتے یعنی تو ہمارا چرواہا ہے اور یہ ان کی محض شرارت تھی کیونکہ وہ خوب جانتے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دیگر پیغمبروں نے بھی بکریاں چرائی ہیں۔ ف۲   یعنی یہود ان کلمات کو اپنے کلام میں رلا ملا کر ایسے انداز سے کہتے کہ سننے والے اچھے ہی معنوں پر حمل کرتے اور برے معنوں کی طرف دھیان بھی نہ جاتا اور دل میں برے معنی مراد لیتے اور پھر دین میں یہ عیب لگاتے کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو ہمار فریب ضرور معلوم کر لیتا۔ سو اللہ تعالٰی نے ان کے فریب کو خوب کھول دیا۔ ف۳   حق تعالٰی یہود کے تین قول مذموم بیان فرما کر اب بطور ملامت و ہدایت ارشاد کرتے ہیں کہ اگر یہود عَصَیْنَا کی جگہ اَطَعْنَا کہتے اور بجائے اِسْمَع ْغَیْرَ مُسْمَعٍ کے صرف اِسْمَعْ کہتے اور رَاعِنَا کے عوض اُنْظُرْنَا کہتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور یہ بات درست اور سیدھی ہوتی اور اس بیہودگی اور شرارت کی گنجائش نہ ہوتی جو کلمات سابقہ سے یہود برے معنی اپنے دل میں مراد لیا کرتے تھے لیکن چونکہ اللہ تعالٰی نے ان کو ان کے کفر کے باعث اپنی رحمت اور ہدایت سے دور کر دیا اس لئے وہ مفید اور سیدھی باتوں کو نہیں سمجھتے اور ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے سے آدمی کہ وہ ان خباثتوں اور شرارتوں سے مجتنب رہے اور اس وجہ سے اللہ کی لعنت سے محفوظ رہے جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔(46)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ ءامِنوا بِما نَزَّلنا مُصَدِّقًا لِما مَعَكُم مِن قَبلِ أَن نَطمِسَ وُجوهًا فَنَرُدَّها عَلىٰ أَدبارِها أَو نَلعَنَهُم كَما لَعَنّا أَصحٰبَ السَّبتِ ۚ وَكانَ أَمرُ اللَّهِ مَفعولًا(47)
ف٤    آیات سابقہ میں یہود کی ضلالت اور مختلف قبائح کا ذکر فرما کر اب ان کو بطور خطاب ایمان اور تصدیق قرآن کا حکم کیا جاتا ہے اور اسکی مخالفت سے ڈرایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے اہل کتاب ایمان لاؤ قرآن پر جس کے احکام مصدق اور موافق ہیں تورات کے ایمان لاؤ اس سے پہلے کہ مٹا ڈالیں ہم تمہارے چہروں کے نشانات یعنی آنکھ ناک وغیرہ مطلب یہ کہ تمہاری صورتیں بدل دی جائیں پھر الٹ دیں تمہارے چہروں کو پیٹھ کی طرف یعنی چہرہ کو مطموس اور ہموار کر کے پیچھے کی طرف اور گدی کو آگے کی طرف کر دیں یا ہفتہ کے دن والوں کی طرح تم کو مسخ کر کے جانور بنا دیں۔ اصحاب سبت کا قصہ سورہ اعراف میں مذکور ہے۔(47)
إِنَّ اللَّهَ لا يَغفِرُ أَن يُشرَكَ بِهِ وَيَغفِرُ ما دونَ ذٰلِكَ لِمَن يَشاءُ ۚ وَمَن يُشرِك بِاللَّهِ فَقَدِ افتَرىٰ إِثمًا عَظيمًا(48)
ف۵    یعنی مشرک کبھی نہیں بخشاجاتا بلکہ اس کی سزا دائمی ہے البتہ شرک سے نیچے جو گناہ ہیں صغیرہ ہوں یا کبیرہ وہ سب قابل مغفرت ہیں۔ اللہ تعالٰی جس کی مغفرت چاہے اس کے صغیرہ کبیرہ گناہ بخش دیتا ہے کچھ عذاب دیکر یا بلا عذاب دیے۔ اشارہ اسکی طرف ہے کہ یہود چونکہ کفر اور شرک میں مبتلا ہیں وہ مغفرت کی توقع نہ رکھیں۔(48)
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ يُزَكّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ اللَّهُ يُزَكّى مَن يَشاءُ وَلا يُظلَمونَ فَتيلًا(49)
ف ٦     یعنی یہود باوجود اس قدر خرابیوں کے پھر بھی اپنے آپ کو پاک صاف اور مقدس کہتے ہیں حتی کہ اپنے آپ کو ابناء اللہ اور احباء اللہ بتلاتے ہیں جو بالکل لغو بات ہے بلکہ اللہ تعالٰی جس کو چاہے اس کو پاکیزہ اور مقدس کرتا ہے۔ یہود کے کہنے سے کچھ نہیں ہو سکتا اور ان جھوٹی شیخی کرنے والوں پر ادنیٰ سا ظلم بھی نہ ہوگا۔ یعنی یہ لوگ اپنے عذاب بے نہایت میں گرفتار ہونگے ان پرناحق عذاب ہرگز نہ ہوگا۔ فائدہ:     یہودی جو گوسالہ کو پوجتے تھے اور حضرت عزیر علیہ السلام کو ابن اللہ کہتے تھے انہوں نے جب آیت سابقہ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَن یُّشْرَکَ بِہٖ الخ کو سنا تو کہنے لگے کہ ہم مشرک نہیں بلکہ ہم تو خاص بندے اور پیغمبر زادے ہیں اور پیغمبری ہماری میراث ہے خدا تعالٰی کو ان کی یہ شیخی پسند نہ آئی اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔(49)
انظُر كَيفَ يَفتَرونَ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ ۖ وَكَفىٰ بِهِ إِثمًا مُبينًا(50)
ف۷   یعنی کیسی تعجب کی بات ہے کہ اللہ پر کیسی جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور باوجود ارتکاب کفر اور شرک کے اپنے آپ کو اللہ کا دوست کہتے ہیں اور اللہ کے نزدیک مقبول ہونے کے مدعی ہیں اور ایسی سخت تہمت صریح گنہگار ہونے کے لئے بالکل کافی ہے۔(50)
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ أوتوا نَصيبًا مِنَ الكِتٰبِ يُؤمِنونَ بِالجِبتِ وَالطّٰغوتِ وَيَقولونَ لِلَّذينَ كَفَروا هٰؤُلاءِ أَهدىٰ مِنَ الَّذينَ ءامَنوا سَبيلًا(51)
ف۱   اس آیت میں یہود کی شرارت اور خباثت کا اظہار ہے۔ قصہ یہ ہے کہ یہودیوں کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت بڑھی تو مشرکین مکہ سے ملے اور ان سے متفق ہوئے اور ان کی خاطر داری کی ضرورت سے بتوں کی تعظیم کی اور کہا کہ تمہارا دین مسلمانوں کے دین سے بہتر ہے اور اس کی وجہ صرف حسد تھا اس پر کہ نبوت اور دین کی ریاست ہمارے سوا دوسروں کو کیوں مل گئی۔ اس پر اللہ تعالٰی ان کو الزام دیتا ہے۔ ان آیات میں اسی کا مذکور ہے۔(51)
أُولٰئِكَ الَّذينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ ۖ وَمَن يَلعَنِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ نَصيرًا(52)
ف۲    یعنی یہ لوگ جنہوں نے اہل کتاب ہو کر اغراض نفسانی کی وجہ سے بتوں کی تعظیم کی اور طریقہء کفر کو طریقہء اسلام سے افضل بتلایا ان پر اللہ کی لعنت ہے اور جس پر لعنت کرے اللہ اس کا دنیا اور آخرت میں کوئی حامی اور مددگار نہیں ہوسکتا۔ سو اب انہوں نے اپنی اعانت کی طمع میں جو مشرکین مکہ سے موافقت کی بالکل لغو ہے۔ چنانچہ دنیا میں یہود نے از حد ذلتیں اٹھائیں اور آخرت میں بھی عذاب میں مبتلا ہونگے۔(52)
أَم لَهُم نَصيبٌ مِنَ المُلكِ فَإِذًا لا يُؤتونَ النّاسَ نَقيرًا(53)
ف۳    یہود اپنے خیال میں جانتے تھے کہ پیغمبری اور دین کی سرداری ہماری میراث ہے اور ہمیں کو لائق ہے۔ اس لئے عرب کے پیغمبر کی متابعت سے عار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آخر کو حکومت اور بادشاہت ہمیں کو پہنچ رہے گی برائے چندے اوروں کو بھی مل جائے تو کچھ مضائقہ نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ کیا یہود کا کچھ حصہ ہے سلطنت میں یعنی ہرگز نہیں۔ اگر یہ حاکم ہوجائیں تو لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیں۔ یعنی ایسے بخیل ہیں کہ بادشاہت میں فقیر کوتل برابر بھی نہ دیں۔(53)
أَم يَحسُدونَ النّاسَ عَلىٰ ما ءاتىٰهُمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ ۖ فَقَد ءاتَينا ءالَ إِبرٰهيمَ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَءاتَينٰهُم مُلكًا عَظيمًا(54)
ف٤    یعنی کیا یہود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب پر اللہ کے فضل و انعام کو دیکھ کر حسد میں مرے جاتے ہیں۔ سو یہ تو بالکل ان کی بیہودگی ہے کیونکہ ہم نے حضرت ابراہیم کے گھرانے میں کتاب اور علم اور سلطنت عظیم عنایت کی ہے۔ پھر یہود آپ کی نبوت اور عزت پر کیسے حسد اور انکار کرتے ہیں اب بھی تو ابراہیم ہی کے گھر میں ہے۔(54)
فَمِنهُم مَن ءامَنَ بِهِ وَمِنهُم مَن صَدَّ عَنهُ ۚ وَكَفىٰ بِجَهَنَّمَ سَعيرًا(55)
ف۵    یعنی حضرت ابراہیم کے گھرانے میں خدائے تعالٰی نے ہمیشہ سے بزرگی دی ہے اور اب بھی اسی کے گھرانے میں ہے۔ سو جو کوئی بلاوجہ محض حسد سے اس کو نہ مانے اس کے جلانے کے لئے دوزخ کی بھڑکتی آگ کافی ہے۔(55)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا بِـٔايٰتِنا سَوفَ نُصليهِم نارًا كُلَّما نَضِجَت جُلودُهُم بَدَّلنٰهُم جُلودًا غَيرَها لِيَذوقُوا العَذابَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَزيزًا حَكيمًا(56)
ف ٦     پہلی آیت میں مومن و کافر کا ذکر تھا اب مطلق مومن اور کافر کی جزاو سزا بطور قاعدہ کلیہ کے ذکر فرماتے ہیں تاکہ ایمان کی طرف پوری ترغیب اور کفر سے پوری ترہیب ہو جائے۔ ف۷   یعنی کافروں کے عذاب میں نقصان اور کمی نہ آنے کی غرض سے ان کی کھال کے جل جانے کے وقت دوسری کھال بدل دی جائے گی مطلب یہ ہوا کہ کافر ہمیشہ عذاب میں یکساں مبتلا رہیں گے۔ ف۸   یعنی اللہ تعالٰی بیشک زبردست اور غالب ہے کافروں کو ایسی سزا دینے میں کوئی دقت اور دشواری نہیں اور حکمت والا ہے کافروں کو یہ سزا دینی عین حکمت کے موافق ہے۔(56)
وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدخِلُهُم جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها أَبَدًا ۖ لَهُم فيها أَزوٰجٌ مُطَهَّرَةٌ ۖ وَنُدخِلُهُم ظِلًّا ظَليلًا(57)
ف١    یعنی مومن ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور ان کو عورتیں ایسی ملیں گی جو حیض اور دیگر آلائشوں سے پاک ہونگی اور ان کو گہری اور گنجان چھاؤں میں داخل کریں گے جو آفتاب کی دھوپ سے بالکل محفوظ ہوگی۔(57)
۞ إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُكُم أَن تُؤَدُّوا الأَمٰنٰتِ إِلىٰ أَهلِها وَإِذا حَكَمتُم بَينَ النّاسِ أَن تَحكُموا بِالعَدلِ ۚ إِنَّ اللَّهَ نِعِمّا يَعِظُكُم بِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ سَميعًا بَصيرًا(58)
ف ٢    یہود میں عادت تھی کہ امانت میں خیانت کرتے اور فصل خصومات میں رشوت وغیرہ کی وجہ سے کسی کی خاطر اور رعایت کر کے خلاف حق حکم دیتے اس لئے مسلمانوں کو ان دونوں باتوں سے اس آیت میں روکا گیا۔ منقول ہے کہ فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر داخل ہونا چاہا تو عثمان بن طلحہ کلید بردار خانہ کعبہ نے کنجی دینے سے انکار کیا تو حضرت علی نے اس سے چھین کر دروازہ کھول دیا۔ آپ فارغ ہو کر جب باہر تشریف لائے تو حضرت عباس نے آپ سے درخواست کی کہ یہ کنجی مجھ کو مل جائے اس پر آیت نازل ہوئی اور کنجی عثمان بن طلحہ ہی کے حوالہ کی گئی۔ ف٣    یعنی اللہ تعالٰی جو تم کو ادائے امانت اور عدل کے موافق حکم دینے کا حکم فرماتا ہے تمہارے لئے سراسر مفید ہے اور اللہ تعالٰی تمہاری کھلی اور چھپی اور موجودہ اور آئندہ باتوں کو خوب جانتا ہے تو اب اگر تم کو کہیں ادائے امانت یا عدل مفید معلوم نہ ہو تو حکم الٰہی کے مقابلہ میں اس کا اعتبار نہ ہوگا۔(58)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَأُولِى الأَمرِ مِنكُم ۖ فَإِن تَنٰزَعتُم فى شَيءٍ فَرُدّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسولِ إِن كُنتُم تُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ۚ ذٰلِكَ خَيرٌ وَأَحسَنُ تَأويلًا(59)
ف٤    پہلی آیت میں حکام کو عدل کا حکم فرما کر اب اوروں کو حکام کی متابعت کا حکم دیا جاتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام کی اطاعت جب ہی واجب ہوگی جب وہ حق کی اطاعت کریں گے۔ فائدہ:     حاکم اسلام بادشاہ یا اس کا صوبہ دار یا قاضی یا سردار لشکر اور جو کوئی کسی کام پر مقرر ہو ان کے حکم کا ماننا ضروری ہے جب تک کہ وہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حکم نہ دیں اگر خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے صریح خلاف کرے تو اس حکم کو ہرگز نہ مانے۔ ف ٥     یعنی اور اگر تم میں اور اولوالامر میں باہم اختلاف ہو جائے کہ حاکم کا یہ حکم اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے موافق ہے یا مخالف تو اس کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کر کے طے کر لیا کرو کہ وہ حکم فی الحقیقت اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے موافق ہے یا مخالف اور جو بات محقق ہو جائے اسی کو بالاتفاق مسلم اور معمول بہ سمجھنا چاہیے اور اختلاف کو دور کر دینا چاہیے اگر تم کو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان ہے کیونکہ جس کو اللہ اور قیامت پر ایمان ہوگا وہ ضرور اختلاف کی صورت میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی طرف رجوع کرے گا اور ان کے حکم کی مخالفت سے بیحد ڈرے گا۔ جس سے معلوم ہوگیا کہ جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے بھاگے گا وہ مسلمان نہیں اس لئے اگر دو مسلمان آپس میں جھگڑیں ایک نے کہا چلو شرع کی طرف رجوع کریں دوسرے نے کہا میں شرع کو نہیں سمجھتا یا مجھ کو شرع سے کام نہیں تو اس کو بیشک کافر کہیں گے۔ ف ٦     یعنی اپنے متنازعات اور اختلافات کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنا اور اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرنی مفید ہے آپس میں جھگڑنے یا اپنی رائے کے موافق فیصلہ کرنے سے اس رجوع کا انجام بہتر ہے۔(59)
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ يَزعُمونَ أَنَّهُم ءامَنوا بِما أُنزِلَ إِلَيكَ وَما أُنزِلَ مِن قَبلِكَ يُريدونَ أَن يَتَحاكَموا إِلَى الطّٰغوتِ وَقَد أُمِروا أَن يَكفُروا بِهِ وَيُريدُ الشَّيطٰنُ أَن يُضِلَّهُم ضَلٰلًا بَعيدًا(60)
ف۷  یہود فصل خصومات میں رعایت و رشوت کے عادی تھے اس لئے جو لوگ جھوٹے اور منافق اور خائن ہوتے وہ اپنا معاملہ یہودیوں کے عالموں کے پاس لے جانا پسند کرتے کہ وہ خاطر کریں گے اور آپ کے پاس ایسے لوگ اپنا معاملہ لانا پسند نہ کرتے کہ آپ حق کی رعایت کریں گے اور کسی کی اصلاً رعایت نہ کریں گے۔ سو مدینے میں ایک یہودی اور ایک منافق کہ ظاہر میں مسلمان تھا کسی امر میں دونوں جھگڑ پڑے۔ یہودی جو سچا تھا اس نے کہا کہ چل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور منافق جو جھوٹا تھا اس نے کہا کہ چل کعب بن اشرف، کے پاس جو یہودیوں میں عالم اور سردار تھا۔ آخر وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جھگڑا لیکر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کا حق ثابت فرمایا۔ منافق جو باہر نکلا تو کہنے لگا کہ اچھا حضرت عمر رضی اللہ کے پاس چلو جو وہ فیصلہ کر دیں وہی منظور اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ پر راضی نہ ہوا۔ غالباً یہ سمجھا ہوگا کہ میں مدعی اسلام ہوں اس لئے یہودی کے مقابلہ میں میری رعایت کریں گے اور حضرت عمر رضی اللہ آپ کے حکم سے مدینہ میں جھگڑے فیصل کیا کرتے تھے چنانچہ وہ دونوں حضرت عمر رضی اللہ کے پاس آئے جب حضرت عمر رضی اللہ نے یہ جھگڑا سنا اور یہودی کے بیان سے ان کو یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ قضیہ آپ کی خدمت میں جا چکا ہے اور آپ اس معاملہ میں یہودی کو سچا اور غالب کر چکے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ نے اس منافق کو قتل کر دیا اور فرمایا کہ جو کوئی ایسے قاضی کے فیصلہ کو نہ مانے اسکا فیصلہ یہی ہے۔ اس کے وارث حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور حضرت عمر رضی اللہ پر قتل کا دعویٰ کیا اور قسمیں کھانے لگے کہ حضرت عمر رضی اللہ کے پاس تو صرف اس وجہ سے گئے تھے کہ شایدوہ اس معاملہ میں باہم صلح کرادیں یہ وجہ نہ تھی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ سے انکار تھا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ان آیات میں اصل حقیقت ظاہر فرما دی گئی اور حضرت عمر رضی اللہ کا لقب فاروق فرمایا۔(60)
وَإِذا قيلَ لَهُم تَعالَوا إِلىٰ ما أَنزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسولِ رَأَيتَ المُنٰفِقينَ يَصُدّونَ عَنكَ صُدودًا(61)
ف ۱    یعنی جب کسی جھگڑے میں منافقوں سے کہا جائے کہ اللہ نے جو حکم نازل فرمایا ہے اس کی طرف آؤ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو اپنے جھگڑے کو لاؤ تو ظاہر میں چونکہ مدعی اسلام ہیں اس لئے صاف طور پر تو انکار نہیں کر سکتے مگر آپ کے پاس آنے سے اور حکم الٰہی پر چلنے سے بچتے ہیں اور رکتے ہیں کہ کسی ترکیب سے جان بچ جائے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر جہاں ہمارا جی چاہے اپنا جھگڑا لے جائیں۔(61)
فَكَيفَ إِذا أَصٰبَتهُم مُصيبَةٌ بِما قَدَّمَت أَيديهِم ثُمَّ جاءوكَ يَحلِفونَ بِاللَّهِ إِن أَرَدنا إِلّا إِحسٰنًا وَتَوفيقًا(62)
ف٣    یعنی یہ تو سب کچھ ہوا مگر یہ منافق لوگ اس وقت کیا کریں گے جس وقت پہنچنے لگے ان کو عذاب ان کے کرتوت کا یعنی فصل خصومات میں آپ کے پاس آنے سے جو رکتے اور بچتے ہیں جب اس کا عذاب ان پر آنے لگے تو پھر یہ منافق اس وقت کیا کر سکتے ہیں اس کے سواء کہ آئیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قسمیں کھاتے ہوئے کہ ہم تو حضرت عمر رضی اللہ کی خدمت میں صرف اس وجہ سے گئے تھے کہ شاید وہ باہم صلح اور ملاپ کرادیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے اعراض کرنا اور جان بچانا ہرگز ہم کو منظور نہ تھا۔(62)
أُولٰئِكَ الَّذينَ يَعلَمُ اللَّهُ ما فى قُلوبِهِم فَأَعرِض عَنهُم وَعِظهُم وَقُل لَهُم فى أَنفُسِهِم قَولًا بَليغًا(63)
ف٣    اس آیت میں حق تعالٰی نے ان کی قسم اور ان کی معذرت سابقہ کی تکذیب فرمائی کہ منافقین جو کچھ زبانی باتیں بنائیں بنانے دو اللہ تعالٰی کو ان کے دل کی باتیں خوب معلوم ہیں یعنی انکے نفاق اور ان کے جھوٹ کو خوب جانتا ہے۔ سو آپ بھی علم خداوندی پر بس کر کے منافقوں کی بات سے تغافل کیجئے اور ان کی بات کی پروا نہ کیجئے مگر ان کو نصیحت کرنے اور کام کی باتیں بتانے میں ہرگز کوتاہی نہ فرمائیں اور ان کی ہدایت سے مایوس نہ ہوجیے۔(63)
وَما أَرسَلنا مِن رَسولٍ إِلّا لِيُطاعَ بِإِذنِ اللَّهِ ۚ وَلَو أَنَّهُم إِذ ظَلَموا أَنفُسَهُم جاءوكَ فَاستَغفَرُوا اللَّهَ وَاستَغفَرَ لَهُمُ الرَّسولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوّابًا رَحيمًا(64)
ف٤    یعنی اللہ تعالٰی جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بندوں کی طرف بھیجتا ہے سو اسی غرض کیلئے بھیجتا ہے کہ اللہ کے حکم کے موافق بندے ان کے کہنے کو مانیں تو اب ضرور تھا کہ یہ لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو بلاتامل پہلے ہی سے دل و جان سے تسلیم کرتے اور اگر گناہ اور برا کرنے کے بعد بھی متنبہ ہو جاتے اور اللہ سے معافی چاہتے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی معافی کی دعا کرتا تو پھر بھی حق تعالٰی ان کی توبہ قبول فرمالیتا مگر انہوں نے تو یہ غضب کیا کہ اول تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے جو بعینہ اللہ تعالٰی کا حکم تھا ہٹے اور بچے۔ پھر جب اس کا وبال ان پر پڑا تو اب بھی متنبہ اور تائب نہ ہوئے بلکہ لگے جھوٹی قسمیں کھانے اور تاویلیں گھڑنے پھر ایسوں کی مغفرت ہو تو کیونکر ہو۔(64)
فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤمِنونَ حَتّىٰ يُحَكِّموكَ فيما شَجَرَ بَينَهُم ثُمَّ لا يَجِدوا فى أَنفُسِهِم حَرَجًا مِمّا قَضَيتَ وَيُسَلِّموا تَسليمًا(65)
ف ۵   یعنی منافق لوگ کس بیہودہ خیال میں ہیں اور کیسے بیہودہ حیلوں سے کام نکالنا چاہتے ہیں ان کو خوب سمجھ لینا چاہئے۔ ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ جب تک یہ لوگ تم کو اے رسول اپنے تمام چھوٹے بڑے مالی جانی نزاعات میں منصف اور حاکم نہ جان لیں گے کہ تمہارے فیصلہ اور حکم سے ان کے جی میں کچھ تنگی اور ناخوشی نہ آنے پائے اور تمہارے ہر ایک حکم کو خوشی کے ساتھ دل سے قبول نہ کرلیں گے اس وقت تک ہرگز ان کو ایمان نصیب نہیں ہو سکتا اب جو کرنا ہو سوچ سمجھ کر کریں۔(65)
وَلَو أَنّا كَتَبنا عَلَيهِم أَنِ اقتُلوا أَنفُسَكُم أَوِ اخرُجوا مِن دِيٰرِكُم ما فَعَلوهُ إِلّا قَليلٌ مِنهُم ۖ وَلَو أَنَّهُم فَعَلوا ما يوعَظونَ بِهِ لَكانَ خَيرًا لَهُم وَأَشَدَّ تَثبيتًا(66)
(66)
وَإِذًا لَءاتَينٰهُم مِن لَدُنّا أَجرًا عَظيمًا(67)
(67)
وَلَهَدَينٰهُم صِرٰطًا مُستَقيمًا(68)
ف۱   یعنی سب کی جانوں کا مالک چونکہ خدا تعالٰی ہے اس لئے اس کے حکم میں کسی کو جان سے بھی دریغ نہ کرنا چاہئے۔ سو اگر اللہ تعالٰی لوگوں کو کہیں اپنی جانوں کے ہلاک کر ڈالنے اور جلا وطن ہو جانے کا حکم فرما دیتا جیسے کہ بنی اسرائیل پر حکم کردیا تھا تو بجانہ لاتے اس حکم کو مگر گنے چنے صرف سچے اور پکے ایمان والے۔ یہ منافق ایسے حکم پر کیسے عمل کر سکتے تھے۔ اب ان کو سمجھنا چاہیے کہ ان کو ہم نے جو حکم دے رکھے ہیں وہ محض ان کی نصیحت اور خیر خواہی کے ہیں نہ جان کی ہلاکت کا حکم دیا گیا نہ جلا وطن ہونے کا۔ اگر انہی آسان اور سہل حکموں پر چلیں تو نفاق بالکل جاتا رہے اور خالص مسلمان ہوجائیں مگر افسوس سمجھتے نہیں اور حالت موجودہ کو غنیمت نہیں سمجھتے کہ ذرا سی بات میں دین و دنیا دونوں درست ہوئے جاتے ہیں۔(68)
وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسولَ فَأُولٰئِكَ مَعَ الَّذينَ أَنعَمَ اللَّهُ عَلَيهِم مِنَ النَّبِيّۦنَ وَالصِّدّيقينَ وَالشُّهَداءِ وَالصّٰلِحينَ ۚ وَحَسُنَ أُولٰئِكَ رَفيقًا(69)
ف۲    نبی وہ ہیں جن پر اللہ کی طرف سے وحی آئے یعنی فرشتہ ظاہر میں آکر پیغام کہہ جائے اور صدیق وہ کہ جو پیغام اور احکام خدا تعالٰی کی طرف سے پیغمبروں کو آئے ان کا جی آپ ہی اس پر گواہی دے اور بلا دلیل اس کی تصدیق کرے اور شہید وہ کہ پیغمبروں کے حکم پر جان دینے کو حاضر ہیں اور صالح اور نیک بخت وہ کہ جن کی طبعیت نیکی ہی پر پیدا ہوئی ہے۔ اور بری باتوں سے اپنے نفس اور بدن کی اصلاح اور صفائی کر چکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چار قسمیں مذکورہ جو امت کے باقی افراد سے افضل ہیں ان کے ما سواء جو مسلمان ہیں اور درجہ میں ان کے برابر نہیں لیکن اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری میں مشغول ہیں وہ لوگ بھی انہیں کی شمار اور ذیل میں لئے جائیں گے اور ان حضرات کی رفاقت بہت ہی خوبی اور فضیلت کی بات ہے۔ اس کو کوئی حقیر نہ سمجھے۔ فائدہ:     اس آیت میں اشارہ ہوگیا کہ منافقین جن کا ذکر پہلے سے ہو رہا ہے وہ اس رفاقت اور معیت سے محروم ہیں۔(69)
ذٰلِكَ الفَضلُ مِنَ اللَّهِ ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ عَليمًا(70)
ف۳    یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم ماننے والوں کو انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کی رفاقت میسر آنی اللہ کا بڑا انعام اور اس کا محض فضل ہے ان کی اطاعت کا معاوضہ نہیں جس سے منافقین بالکل محروم ہیں اور اللہ کافی ہے جاننے والا اور خبر رکھنے والا۔ وہ ہر ایک مخلص اور منافق اور ہر مطیع کی طاعت اور اس کے استحقاق اصلی اور مقدار فضل کو بالتفصیل جانتا ہے تو اب کسی کو ان امور کی تفاصیل کی وجہ سے وعدہ الٰہی کے پورا ہونے میں خلجان پیدا نہ ہو۔(70)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا خُذوا حِذرَكُم فَانفِروا ثُباتٍ أَوِ انفِروا جَميعًا(71)
ف٤   یہاں سے جہاد کا ذکر ہے اس سے پہلی آیت میں یہ ذکر تھا کہ جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرے گا اس کو انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کی رفاقت انعام میں ملے گی اور احکام خداوندی میں حکم جہاد چونکہ شاق اور دشوار ہے خصوصاً منافقین پر جن کا ذکر اوپر سے آرہا ہے اس لئے جہاد کا حکم فرمایا کہ ہر کوئی حضرات انبیاء صدیقین و غیرہم کی رفاقت اور معیت کی امید نہ کرنے لگے۔ منقول ہے کہ شروع اسلام میں بہت سے ضعیف الاسلام بھی دعوت اسلامی کو قبول کر چکے تھے پھر جب جہاد فرض ہوگیا تو بعض متزلزل ہوگئے اور بعض کفار کے ہم زبان ہو کر آپ کی مخالفت کرنے لگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو! منافقوں کی کیفیت تو تم کو پہلے سے معلوم ہو چکی اب خیر اسی میں ہے کہ تم اپنا ہر طرح سے بچاؤ اور اپنی خبرداری اور احتیاط کر لو ہتھیاروں سے ہو یا تدبیر سے عقل سے ہو یا سامان سے اور دشمنوں کے مقابلہ اور مقاتلہ کے لئے گھر سے باہر نکلو متفرق طور پر یا سب اکٹھے ہو کر جیسا موقع ہو۔(71)
وَإِنَّ مِنكُم لَمَن لَيُبَطِّئَنَّ فَإِن أَصٰبَتكُم مُصيبَةٌ قالَ قَد أَنعَمَ اللَّهُ عَلَىَّ إِذ لَم أَكُن مَعَهُم شَهيدًا(72)
ف۵    یعنی اے مسلمانو! تمہاری جماعت میں بعضے ایسے بھی گھسے ہوئے ہیں کہ جہاد کو جانے میں دیر لگاتے ہیں اور رکتے ہیں اور حکم خداوندی کی تعمیل نہیں کرتے بلکہ نفع دنیاوی کو تکتے رہتے ہیں اور اس سے مراد منافق ہیں جیسے عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی کہ یہ لوگ گو ظاہر میں اسلام قبول کر چکے تھے مگر ان کو سب باتوں سے مقصود صرف دنیا کا نفع تھا۔ حق تعالٰی کی فرمانبرداری سے کوئی غرض ان کو نہ تھی۔ ف ٦      پہلے گزر چکا کہ منافق لوگ نکلنے میں دیر لگاتے ہیں اور جہاد میں جانے والوں کی حالت کو تکتے رہتے ہیں کہ کیا گزری۔ اب فرماتے ہیں کہ جانے کے بعد اگر مسلمانوں کو جہاد میں کوئی صدمہ پہنچ گیا مثلاً مقتول ہوگئے یا شکست پیش آگئی تو منافق بہت خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ کا بڑا فضل ہوا کہ ہم لڑائی میں ان کے ساتھ نہ تھے ورنہ ہماری بھی خیر نہ تھی الحمدللہ خوب بچے۔(72)
وَلَئِن أَصٰبَكُم فَضلٌ مِنَ اللَّهِ لَيَقولَنَّ كَأَن لَم تَكُن بَينَكُم وَبَينَهُ مَوَدَّةٌ يٰلَيتَنى كُنتُ مَعَهُم فَأَفوزَ فَوزًا عَظيمًا(73)
ف۷     یعنی اور اگر مسلمانوں پر اللہ کا فضل ہوگیا مثلاً فتح ہوگئی یا مال غنیمت بہت سا ہاتھ آگیا تو منافق سخت پچھتاتے ہیں اور دشمنوں کی طرح غلبہء حسد سے کہتے ہیں ہائے افسوس میں جہاد میں مسلمانوں کے ساتھ ہوتا تو مجھ کو بھی بڑی کامیابی نصیب ہوتی یعنی لوٹ کا مال ہاتھ آتا یعنی منافقوں کو فقط اپنی محرومی پر افسوس نہیں ہوتا بلکہ اپنی محرومی سے زیادہ مسلمانوں کی کامیابی پر حسد اور قلق ہوتا ہے۔(73)
۞ فَليُقٰتِل فى سَبيلِ اللَّهِ الَّذينَ يَشرونَ الحَيوٰةَ الدُّنيا بِالءاخِرَةِ ۚ وَمَن يُقٰتِل فى سَبيلِ اللَّهِ فَيُقتَل أَو يَغلِب فَسَوفَ نُؤتيهِ أَجرًا عَظيمًا(74)
ف١    یعنی اگر منافق لوگ جہاد سے رکیں تو رکیں اور اپنے نشیب و فراز دنیاوی کو تکتے رہیں تو تکتے رہیں مگر جو لوگ کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا پر لات مار چکے ہیں ان کو چاہیے کہ اللہ کی راہ میں بے تامل لڑیں اور دنیا کی زندگی اور اس کے مال و دولت پر نظر نہ رکھیں اور سمجھ لیں کہ اللہ تعالٰی کی اطاعت اور حکم برداری میں ہر طرح نفع ہے غالب ہوں یا مغلوب مال ملے یا نہ ملے۔(74)
وَما لَكُم لا تُقٰتِلونَ فى سَبيلِ اللَّهِ وَالمُستَضعَفينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالوِلدٰنِ الَّذينَ يَقولونَ رَبَّنا أَخرِجنا مِن هٰذِهِ القَريَةِ الظّالِمِ أَهلُها وَاجعَل لَنا مِن لَدُنكَ وَلِيًّا وَاجعَل لَنا مِن لَدُنكَ نَصيرًا(75)
ف ٢    یعنی دو وجہ سے تم کو کافروں سے لڑنا ضروری ہے، ایک تو اللہ کے دین کو بلند اور غالب کرنے کی غرض سے، دوسرے جو لوگ مظلوم مسلمان کافروں کے ہاتھ میں بے بس پڑے ہیں ان کو چھڑانے اور خلاصی دینے کی وجہ سے۔ مکہ میں بہت لوگ تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت نہ کر سکے اور ان کے اقرباء ان کو ستانے لگے کہ پھر کافر ہوجائیں، سو خدا تعالٰی نے مسلمانوں کو فرمایا کہ تم کو دو وجہ سے کافروں سے لڑنا ضرور ہے تاکہ اللہ کا دین بلند ہو اور مسلمان جو کہ مظلوم اور کمزور ہیں کفار مکہ کے ظلم سے نجات پائیں۔(75)
الَّذينَ ءامَنوا يُقٰتِلونَ فى سَبيلِ اللَّهِ ۖ وَالَّذينَ كَفَروا يُقٰتِلونَ فى سَبيلِ الطّٰغوتِ فَقٰتِلوا أَولِياءَ الشَّيطٰنِ ۖ إِنَّ كَيدَ الشَّيطٰنِ كانَ ضَعيفًا(76)
ف٣    یعنی جب یہ بات ظاہر ہے کہ مسلمان اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور کافر لوگ شیطان کی راہ میں۔ سو پھر تو مسلمانوں کو شیطان کے دوستوں یعنی کافروں کے ساتھ لڑنا بلاتامل ضروری ہوا۔ اللہ تعالٰی انکا مددگار ہے۔ کسی قسم کا تردد نہ چاہیے اور سمجھ لو کہ شیطان کا حیلہ اور فریب کمزور ہے مسلمانوں پر نہ چل سکے گا۔ اس سے مقصود مسلمانوں کو جہاد پر ترغیب دلانا اور ہمت بندھانا ہے جس کا ذکر آیات آئندہ میں بالتصریح آتا ہے۔(76)
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ قيلَ لَهُم كُفّوا أَيدِيَكُم وَأَقيمُوا الصَّلوٰةَ وَءاتُوا الزَّكوٰةَ فَلَمّا كُتِبَ عَلَيهِمُ القِتالُ إِذا فَريقٌ مِنهُم يَخشَونَ النّاسَ كَخَشيَةِ اللَّهِ أَو أَشَدَّ خَشيَةً ۚ وَقالوا رَبَّنا لِمَ كَتَبتَ عَلَينَا القِتالَ لَولا أَخَّرتَنا إِلىٰ أَجَلٍ قَريبٍ ۗ قُل مَتٰعُ الدُّنيا قَليلٌ وَالءاخِرَةُ خَيرٌ لِمَنِ اتَّقىٰ وَلا تُظلَمونَ فَتيلًا(77)
ف ٤   مکہ میں ہجرت کرنے سے پہلے کافر مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے اور ان پر ظلم کرتے تھے مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر شکایت کرتے اور رخصت مانگتے کہ ہم کفار سے مقاتلہ کریں اور ان سے ظلم کا بدلہ لیں آپ مسلمانوں کو لڑائی سے روکتے کہ مجھ کو مقاتلہ کا حکم نہیں ہوا بلکہ صبر اور درگزر کرنے کا حکم ہے اور فرماتے کہ نماز اور زکوۃ کا جو حکم تم کو ہو چکا ہے اس کو برابر کئے جاؤ کیونکہ جب تک آدمی اطاعت خداوندی میں اپنے نفس پر جہاد کرنے کا اور تکالیف جسمانی کا خوگر نہ ہو اور اپنے مال خرچ کرنے کا عادی نہ ہو تو اس کو جہاد کرنا اور اپنی جان کا دینا بہت دشوار ہے اس بات کو مسلمانوں نے قبول کر لیا تھا۔ ف ۱   یعنی ہجرت کرنے کے بعد جب مسلمانوں کو کافروں سے لڑنے کا حکم ہوا تو ان کو تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ ہماری درخواست قبول ہوئی اور مراد ملی مگر بعضے کچے مسلمان کافروں کے مقاتلہ سے ایسے ڈرنے لگے جیسا کہ اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ اور آرزو کرنے لگے کہ تھوڑی مدت اور بھی قتال کا حکم نہ آتا اور ہم زندہ رہتے تو خوب ہوتا۔ ف۲   یعنی چونکہ حیات اور منافع دنیاوی کی رغبت کے باعث ان لوگوں کو حکم جہاد بھاری معلوم ہوا تو اس لئے حق تعالٰی فرماتا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ دنیا کے تمام منافع حقیر اور سریع الزوال ہیں اور ثواب آخرت کا بہتر ہے ان کے لئے جو اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کرتے ہیں سو تم کو چاہیے کہ منافع دنیا کا لحاظ نہ کرو اور حق تعالٰی کی فرمانبرداری میں کوتاہی نہ کرو اور جہاد کرنے سے نہ ڈرو اور اطمینان رکھو کہ تمہاری محنت اور جانفشانی کا ثواب ادنیٰ سا بھی ضائع نہ ہوگا۔ سو تم کو ہمت اور شوق کے ساتھ جہاد میں مصروف ہونا چاہئے۔(77)
أَينَما تَكونوا يُدرِككُمُ المَوتُ وَلَو كُنتُم فى بُروجٍ مُشَيَّدَةٍ ۗ وَإِن تُصِبهُم حَسَنَةٌ يَقولوا هٰذِهِ مِن عِندِ اللَّهِ ۖ وَإِن تُصِبهُم سَيِّئَةٌ يَقولوا هٰذِهِ مِن عِندِكَ ۚ قُل كُلٌّ مِن عِندِ اللَّهِ ۖ فَمالِ هٰؤُلاءِ القَومِ لا يَكادونَ يَفقَهونَ حَديثًا(78)
ف۳   یعنی کیسے ہی مضبوط اور محفوظ و مامون مکان میں رہو مگر موت تم کو کسی طرح نہ چھوڑے گی کیونکہ موت ہر ایک کے واسطے مقدر اور مقرر ہو چکی ہے اپنے وقت پر ضرور آئے گی کہیں ہو۔ سو اگر جہاد میں نہ جاؤ گے تو بھی موت سے ہرگز نہیں بچ سکتے تو اب جہاد سے گھبرانا اور موت سے ڈرنا اور کافروں کے مقاتلہ سے خوف کرنا بالکل نادانی اور اسلام میں کچے ہونے کی بات ہے۔ ف ٤    یعنی ان منافقین کا اور عجیب حال سنو اگر تدبیر لڑائی کی درست آئی اور فتح ہوئی اور غنیمت کا مال ہاتھ آگیا تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے یعنی اتفاقی بات ہوگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدبیر کے قائل نہ ہوتے اور اگر تدبیر بگڑ جاتی اور ہزیمت و نقصان پیش آجاتا تو الزام رکھتے آپ کی تدبیر پر۔ ف۵   اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کو جواب دے دو کہ بھلائی اور برائی سب اللہ کی طرف سے ہے سب باتوں کا موجد اور خالق اللہ تعالٰی ہے اس میں کسی دوسرے کو دخل نہیں اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تدبیر بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے اور اللہ ہی کا الہام ہے۔ تمہارا الزام رکھنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غلط اور سراسر کم فہمی ہے اور بگڑی کو بگڑا نہ سمجھو یہ اللہ کی حکمت ہے وہ تم کو سدھاتا ہے اور آزماتا ہے تمہارے قصوروں پر۔ یہ جواب اجمالی ہوا منافقین کے الزام کا، اگلی آیت میں اس کی تفصیل آتی ہے۔(78)
ما أَصابَكَ مِن حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ وَما أَصابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَفسِكَ ۚ وَأَرسَلنٰكَ لِلنّاسِ رَسولًا ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ شَهيدًا(79)
    ف ٦  یعنی اصل بات یہ ہے کہ جملہ بھلائی اور برائی کا موجد ہر چند اللہ ہے مگر بندہ کو چاہیے کہ نیکی اور بھلائی کو حق تعالٰی کا فضل اور احسان سمجھے اور سختی اور برائی کو اپنے اعمال کی شامت جانے، اس کا الزام پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ رکھے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ان امور کے لئے نہ موجد ہے نہ سبب بلکہ موجد یعنی ان باتوں کا پیدا کرنے والا تو اللہ ہے اور سبب تمہارے عمل۔ ف۷    حق تعالٰی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے منافقوں کے الزام کو دور فرما کر ارشاد کرتا ہے کہ ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے رسول کر کے بھیجا اور ہم کو سب کچھ معلوم ہے ہم سب کے اعمال کا بدلہ دے لیں گے۔ تم کسی کے بیہودہ انکار و الزام کی پرواہ نہ کرو اپنا کار رسالت کئے جاؤ۔(79)
مَن يُطِعِ الرَّسولَ فَقَد أَطاعَ اللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلّىٰ فَما أَرسَلنٰكَ عَلَيهِم حَفيظًا(80)
ف۸   آپ کی رسالت کو محقق فرما کر اب خدا تعالٰی آپ کے متعلق یہ حکم سناتا ہے کہ جو ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرے گا وہ بیشک ہمارا تابعدار ہے اور جو اس سے روگردانی کرے گا تو ہم نے تجھ کو اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا کہ ان کو گناہ نہ کرنے دے، ہم ان کو دیکھ لیں گے۔ تیرا کام صرف پیغام پہنچانا ہے آگے ثواب یا عقاب یہ ہمارا کام ہے۔(80)
وَيَقولونَ طاعَةٌ فَإِذا بَرَزوا مِن عِندِكَ بَيَّتَ طائِفَةٌ مِنهُم غَيرَ الَّذى تَقولُ ۖ وَاللَّهُ يَكتُبُ ما يُبَيِّتونَ ۖ فَأَعرِض عَنهُم وَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ وَكيلًا(81)
ف۹    ان منافقین کی اور مکاری سنو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو آکر تو کہہ جاتے ہیں ہم نے قبول کیا حکم تیرا اور باہر جا کر مشورہ کرتے ہیں اس کے خلاف یعنی تیری نافرمانی اور مخالفت کا مشورہ کرتے ہیں اور اللہ کے یہاں ان کے سب مشورے لکھے جاتے ہیں ان کو سزا دینے کے لئے۔ سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے منہ پھیر لے اور کسی بات کی پروا مت کر اور اپنے سب کام اللہ کے حوالے کر دے وہ تیرے لئے کافی ہے۔(81)
أَفَلا يَتَدَبَّرونَ القُرءانَ ۚ وَلَو كانَ مِن عِندِ غَيرِ اللَّهِ لَوَجَدوا فيهِ اختِلٰفًا كَثيرًا(82)
ف١    پہلی آیات سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رسول اللہ ہونا اور ان کی اطاعت بعینہ خدا کی اطاعت ہونی اور ان کے نافرمانوں پر حق تعالٰی کا عذاب ہونا تو خوب ظاہر ہوگیا مگر منافق اور آپ کے مخالف یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کی گواہی اور اس کے ارشادات کی تسلیم و تصدیق میں تو ہم کو تامل ہرگز نہیں مگر یہ کیونکر معلوم ہو کہ یہ خدا کا کلام ہے بشر کا بنایا ہوا نہیں تو حق تعالٰی اس کا جواب دیتا ہے کہ یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے جس سے صاف معلوم ہو جائے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ دیکھو اگر قرآن اللہ کا کلام نہ ہوتا جیسا کہ تم گمان کرتے ہو تو ضرور قرآن میں بہت سے مواقع میں طرح طرح کے اختلافات ملتے۔ دیکھو آدمی ہر حالت میں اسی حالت کے موافق کلام کرتا ہے جو حالت پیش ہوتی ہے دوسری حالت کا دھیان نہیں ہوتا غصہ میں مہربانی والوں کا دھیان نہیں رہتا اور مہربانی میں غصہ والوں کا، دنیا کے بیان میں آخرت کا لحاظ نہ رہے اور آخرت کے بیان میں دنیا کا۔ بے پروائی میں عنایت کا ذکر نہیں اور عنایت میں بے پروائی کا۔ بالجملہ ایک حال کا کلام دوسرے حال کے کلام سے مختلف نظر آئے گا لیکن قرآن شریف چونکہ خالق کا کلام ہے یہاں ہرچیز کے بیان میں دوسری جانب بھی نظر رہتی ہے غور و فہم سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں ہرچیز کا بیان ہر مقام میں ایک انداز پر ہے دیکھئے یہاں منافقوں کا مذکور تھا جو سخت عتاب کے مستحق ہیں سو یہاں بھی ان کی باتوں پر اسی قدر الزام ہے جتنا چاہیے اور جو الزام ان کی ایک خاص جماعت پر تھا وہ خاص انہی پر لگایا گیا اور فرما دیا کہ بعضے ان میں سے ایسا کرتے ہیں یہ نہیں کہ غصہ وغیرہ کی حالت میں کلام اپنی حد سے نکل جائے اور دوسری حالت کے کلام سے مختلف نظر آئے اور نیز یہ مطلب بھی ہے کہ ہم برابردیکھتے ہیں کہ جب آدمی کوئی کلام طویل کرتا ہے تو وہ یکساں نہیں ہوتا بلکہ کوئی جملہ فصیح کوئی غیر فصیح، کوئی صحیح، کوئی غلط، کوئی سچا، کوئی کاذب، کوئی موافق کوئی باہم متناقض ضرور معلوم ہوتا ہے اور قرآن اتنی بڑی کتاب ان جملہ اختلافات سے پاک ہے جو طاقت بشر سے باہر ہے۔ فائدہ:     اس میں اس کی طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ جو تدبر اور فہم سے کام نہ لے وہ قرآن میں شبہات اور اختلافات کا وہم چلا سکتا ہے مگر فہیم ایسا نہیں کر سکتا دیکھو جو اسی مقام میں تدبر نہ کرے وہ کہہ سکتا ہے کہ اول تو فرما دیا قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِاللّٰہِ پھر فرما دیا وَمَا اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِن نّفْسِکَ سو یہ تو تناقض اور اختلاف ہوگیا۔ واللہ اعلم(82)
وَإِذا جاءَهُم أَمرٌ مِنَ الأَمنِ أَوِ الخَوفِ أَذاعوا بِهِ ۖ وَلَو رَدّوهُ إِلَى الرَّسولِ وَإِلىٰ أُولِى الأَمرِ مِنهُم لَعَلِمَهُ الَّذينَ يَستَنبِطونَهُ مِنهُم ۗ وَلَولا فَضلُ اللَّهِ عَلَيكُم وَرَحمَتُهُ لَاتَّبَعتُمُ الشَّيطٰنَ إِلّا قَليلًا(83)
ف ٢    یعنی ان منافقوں اور کم سمجھ مسلمانوں کی ایک خرابی یہ ہے کہ جب کوئی بات امن کی پیش آتی مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی سے صلح کا قصد فرمانا یا لشکر اسلام کی فتح کی خبر سننا یا کوئی خبر خوفناک سن لیتے ہیں جیسے دشمنوں کا کہیں جمع ہونا یا مسلمانوں کی شکست کی خبر آنا تو ان کو بلا تحقیق کئے مشہور کرنے لگتے ہیں اور اس میں اکثر فساد و نقصان مسلمانوں کو پیش آجاتا ہے۔ منافق ضرر رسانی کی غرض سے اور کم سمجھ مسلمان کم فہمی کی وجہ سے ایسا کرتے تھے۔ ف٣    یعنی کہیں سے کچھ خبر آئے تو چاہیے کہ اول پہنچائیں سردار تک اور اسکے نائبوں تک جب وہ اس خبر کو تحقیق اور تسلیم کر لیویں تو ان کے کہنے کے موافق اس کو کہیں نقل کریں اور اس پر عمل کریں۔ فائدہ:     حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک قوم کے یہاں زکوۃ لینے کو بھیجا وہ قوم اس کے استقبال کو باہر نکلی اس نے خیال کیا کہ میرے مارنے کو آئے ہیں لوٹ کر مدینہ میں آگیا اور مشہور کر دیا کہ فلاں قوم مرتد ہوگئی تمام شہر میں شہرت ہوگئی آخر کو غلط نکلی۔ ف٤    یعنی اگر اللہ اپنے فضل سے تمہاری اصلاح اور تربیت کے لئے احکام نہ بھیجتا اور تم کو وقتاً فوقتاً حسب ضرورت ہدایت اور تنبیہ نہ فرماتا رہتا جیسا کہ اس موقع پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سرداروں کی طرف رجوع کرنے کو فرمایا تو تم گمراہ ہو جاتے مگر چند خواص جو کامل العقل اور کامل الایمان ہیں ان تنبیہات کو اللہ تعالٰی کا انعام سمجھو اور شکر کرو اور پوری تعمیل کرو۔(83)
فَقٰتِل فى سَبيلِ اللَّهِ لا تُكَلَّفُ إِلّا نَفسَكَ ۚ وَحَرِّضِ المُؤمِنينَ ۖ عَسَى اللَّهُ أَن يَكُفَّ بَأسَ الَّذينَ كَفَروا ۚ وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأسًا وَأَشَدُّ تَنكيلًا(84)
ف ٥     یعنی اگر کافروں کی لڑائی سے یہ منافق اور کچے مسلمان جن کا ذکر اوپر گزرا ڈرتے ہیں تو اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو تنہا اپنی ذات سے جہاد کرنے میں توقف مت کر اللہ تعالٰی تیرا مددگار ہے اور مسلمانوں کو جہاد کی تاکید کردے جو ساتھ نہ دے اس کی پروا مت کر۔ امید ہے کہ اللہ تعالٰی کافروں کی لڑائی کو روک دے گا۔ فائدہ:     جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ میں ضرور جہاد کے لئے جاتا ہوں اگرچہ ایک بھی میرے ساتھ نہ ہو اور کل ستر ہمرائیوں کے ساتھ بدر صغریٰ کو بغرض جہاد تشریف لے گئے جس کا وعدہ ابوسفیان سے غزوہ احد کے بعد ہوا تھا جس کا ذکر پہلی سورت میں گزر چکا ہے حق تعالٰی نے ابوسفیان اور کفار قریش کے دل میں رعب اور خوف ڈال دیا کوئی مقابلہ میں نہ آیا اور وعدے سے جھوٹے ہوئے اور حق سبحانہ، نے اپنے ارشاد کے موافق کافروں کی لڑائی کو بند کر دیا اور آپ ہمراہیوں سمیت خیر اور سلامتی کے ساتھ واپس تشریف لے آئے۔ ف ٦     یعنی اللہ تعالٰی کی لڑائی اور اس کا عذاب کافروں کے ساتھ لڑنے سے بہت سخت ہے سو جو لوگ کافروں کے ساتھ لڑنے اور ان کو مارنے اور ان کے ہاتھ سے مارے جانے سے ڈرتے ہیں وہ اللہ تعالٰی کے غصہ اور اس کے عذاب کا کیونکر تحمل کر سکتے ہیں۔(84)
مَن يَشفَع شَفٰعَةً حَسَنَةً يَكُن لَهُ نَصيبٌ مِنها ۖ وَمَن يَشفَع شَفٰعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَهُ كِفلٌ مِنها ۗ وَكانَ اللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ مُقيتًا(85)
ف٧    یعنی اگر کوئی نیک کام میں سعی سفارش کرے جیسا نبی علیہ السلام کا مسلمانوں کو جہاد کی تاکید فرمانا یا کوئی بری بات میں ساعی ہو جیسا منافق اور سست مسلمانوں کا جہاد سے ڈر کر دوسروں کو بھی ڈرانا تو اول صورت میں ثواب کا اور دورسری صورت میں گناہ کا حصہ ملے گا ایسے ہی اگر کوئی محتاج کی سفارش کر کے دولت مند سے کچھ دلوادے تو یہ بھی خیرات کے ثواب میں شریک ہوگا اور جو کوئی کافر مفسد یا سارق کو سفارش کر کے چھڑادے پھر وہ فساد اور چوری کرے تو یہ بھی شریک ہوگا فساد اور چوری میں۔ ف ٨     یعنی خدا تعالٰی تمام چیزوں پر قادر اور ہرچیز کا حصہ بانٹنے والا ہے تو نیکی اور بدی کے حصہ دینے میں اس کو کوئی دشواری نہیں۔(85)
وَإِذا حُيّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيّوا بِأَحسَنَ مِنها أَو رُدّوها ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ حَسيبًا(86)
ف۹    یعنی کسی مسلمان کو سلام کرنا یا دعا دینا درحقیقت اللہ سے اس کی شفاعت کرنا ہے تو حق تعالٰی شفاعت حسنہ کی ایک خاص صورت کو جو مسلمانوں میں شائع ذائع ہے صراحت کے ساتھ بیان فرماتا ہے کہ جب کوئی اے مسلمانو تم کو دعا دے یا سلام کرے تو تم کو بھی اس کا جواب ضرور دینا چاہیے یا تو وہی کلمہ تم بھی اس کو کہو یا اس سے بہتر مثلاً اگر کسی نے کہا السلام علیکم تو واجب ہے تم پر کہ اس کے جواب میں وعلیکم السلام کہو اور زیادہ ثواب چاہو تو ورحمتہ اللہ بھی بڑھا دو اور اگر اس نے یہ لفظ بڑھایا ہو تو تم "وبرکاتہ" زیادہ کر دو۔ اللہ کے یہاں ہر ہرچیز کا حساب ہوگا اور اس کی جزا ملے گی سلام اور اس کا جواب بھی اس میں آگیا۔ فائدہ:     اس سے شفاعت حسنہ کی پوری ترغیب ہوگئی اور شفاعت سیہ کی خرابی اور مضرت معلوم ہوگئی کیونکہ جو شفاعت حسنہ کرے گا اس کو اللہ تعالٰی ثواب دے گا اور جس کی شفاعت کی ہے اس پر اس کے ساتھ حسن سلوک اور مکافات کا حکم فرما دیا بخلاف شفاعت سیئہ کے کہ بجز معصیت اور محرومی کے کچھ نہ ملے گا۔(86)
اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۚ لَيَجمَعَنَّكُم إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ لا رَيبَ فيهِ ۗ وَمَن أَصدَقُ مِنَ اللَّهِ حَديثًا(87)
ف ۱   یعنی قیامت کا آنا اور ثواب و عقاب کے سب وعدوں کا پورا ہونا سب سچ ہے اس میں تخلف نہیں ہوگا ان باتوں کو سرسری خیال نہ کرو۔(87)
۞ فَما لَكُم فِى المُنٰفِقينَ فِئَتَينِ وَاللَّهُ أَركَسَهُم بِما كَسَبوا ۚ أَتُريدونَ أَن تَهدوا مَن أَضَلَّ اللَّهُ ۖ وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبيلًا(88)
ف۲    ان منافقوں میں وہ لوگ داخل ہیں جو ظاہر میں بھی ایمان نہ لائے تھے بلکہ ظاہر و باطن کفر پر قائم تھے لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے ساتھ ظاہری میل جول اور محبت کا معاملہ رکھتے تھے اور غرض ان کی یہ تھی کہ مسلمانوں کی فوج ہماری قوم پر چڑھائی کرے تو ہمارے جان و مال اس حیلہ سے محفوظ رہیں۔ جب مسلمانوں کو معلوم ہوگیا کہ ان کا آنا جانا اس غرض سے ہے دل کی محبت سے نہیں تو بعض مسلمانوں نے کہا کہ ان شریروں سے ملنا ترک کر دینا چاہیے تاکہ ہم سے جدا ہوجائیں اور بعضوں نے کہا ان سے ملے جائیے شاید ایمان لے آئیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہدایت و گمراہی اللہ کے قبضہ میں ہے تم اس کا ہرگز فکر مت کرو اور ان لوگوں سے بالاتفاق وہ معاملہ کرنا چاہیے جو آئندہ مذکور ہے دو فریق مت بنو۔(88)
وَدّوا لَو تَكفُرونَ كَما كَفَروا فَتَكونونَ سَواءً ۖ فَلا تَتَّخِذوا مِنهُم أَولِياءَ حَتّىٰ يُهاجِروا فى سَبيلِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوا فَخُذوهُم وَاقتُلوهُم حَيثُ وَجَدتُموهُم ۖ وَلا تَتَّخِذوا مِنهُم وَلِيًّا وَلا نَصيرًا(89)
ف۳   یعنی یہ منافق لوگ تو کفر پر ایسے جمے ہوئے ہیں کہ خود تو اسلام کیا قبول کریں گے وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی مثل کافر ہو کر ان کے برابر ہو جاؤ۔ سو اب تم کو چاہیے کہ وہ جب تک ایمان قبول کر کے اپنا وطن چھوڑ کر تمہارے پاس نہ چلے آئیں اس وقت تک ان کو دوست نہ بناؤ نہ اپنے کسی کام میں ان کو دخل دو اور نہ ان کی حمایت اور اعانت کرو اور اگر وہ لوگ ایمان اور ہجرت کو قبول نہ کریں تو ان کو قید کرو اور قتل کرو جہاں قابو پاؤ اور اجتناب کلی رکھو اور ان سے کوئی تعلق نہ رکھو۔(89)
إِلَّا الَّذينَ يَصِلونَ إِلىٰ قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثٰقٌ أَو جاءوكُم حَصِرَت صُدورُهُم أَن يُقٰتِلوكُم أَو يُقٰتِلوا قَومَهُم ۚ وَلَو شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُم عَلَيكُم فَلَقٰتَلوكُم ۚ فَإِنِ اعتَزَلوكُم فَلَم يُقٰتِلوكُم وَأَلقَوا إِلَيكُمُ السَّلَمَ فَما جَعَلَ اللَّهُ لَكُم عَلَيهِم سَبيلًا(90)
ف۱    یعنی اس ظاہری ملنے جلنے سے ان کو قید اور قتل سے مت بچاؤ مگر کل دو طرح سے۔ ایک تو یہ کہ جن لوگوں سے تمہاری صلح ہے ان سے ان کا بھی معاہدہ اور مصالحت ہو تو وہ بھی صلح میں داخل ہوگئے۔ دوسری طرح یہ کہ جو لوگ لڑائی سے عاجز ہو کر تم سے صلح کریں اور اس بات کا عہد کریں کہ نہ اپنی قوم کے طرفدار ہو کر تم سے لڑیں گے اور نہ تمہارے ساتھ ہو کر اپنی قوم سے لڑیں گے اور اس عہد پر قائم بھی رہیں تو ایسے لوگوں سے بھی مت لڑو اور ان کی مصالحت کو منظور کر لو اور اللہ تعالٰی کا احسان سمجھو کہ تمہاری لڑائی سے باز آئے۔ اللہ چاہتا تو ان کو تم پر جری اور غالب تر کر دیتا۔(90)
سَتَجِدونَ ءاخَرينَ يُريدونَ أَن يَأمَنوكُم وَيَأمَنوا قَومَهُم كُلَّ ما رُدّوا إِلَى الفِتنَةِ أُركِسوا فيها ۚ فَإِن لَم يَعتَزِلوكُم وَيُلقوا إِلَيكُمُ السَّلَمَ وَيَكُفّوا أَيدِيَهُم فَخُذوهُم وَاقتُلوهُم حَيثُ ثَقِفتُموهُم ۚ وَأُولٰئِكُم جَعَلنا لَكُم عَلَيهِم سُلطٰنًا مُبينًا(91)
ف۲   یعنی بعضے لوگ ایسے بھی ہیں کہ تم سے عہد کر جاتے ہیں کہ نہ تم سے لڑیں گے نہ اپنی قوم سے تاکہ تم سے اور اپنی قوم دونوں سے امن میں رہیں لیکن اس عہد پر قائم نہیں رہتے بلکہ جب اپنی قوم کا غلبہ دیکھتے ہیں تو ان کے مددگار ہو جاتے ہیں تو ایسے لوگوں سے تم بھی درگزر مت کرو تمہارے ہاتھ تو صریح حجت آگئی کہ انہوں نے اپنا عہد خود توڑ ڈالا۔(91)
وَما كانَ لِمُؤمِنٍ أَن يَقتُلَ مُؤمِنًا إِلّا خَطَـًٔا ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤمِنًا خَطَـًٔا فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ إِلّا أَن يَصَّدَّقوا ۚ فَإِن كانَ مِن قَومٍ عَدُوٍّ لَكُم وَهُوَ مُؤمِنٌ فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ ۖ وَإِن كانَ مِن قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثٰقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ وَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ ۖ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ شَهرَينِ مُتَتابِعَينِ تَوبَةً مِنَ اللَّهِ ۗ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا(92)
ف ۳    اس موقع پر قتل خطا کے احکام بیان فرمائے جاتے ہیں اور یہ کہ کلمہ اسلام کہنے والے کو قتل کرنا گناہ عظیم ہے۔ ہاں اگر غلطی سے مارا گیا تو مجبوری کی بات ہے اور اس کے احکام یہ ہیں اور اسی کے ذیل میں مجاہدین کی فضیلت اور دارکفر سے دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنے کی ضرورت اور سفر اور خوف کی نماز کی کیفیت بیان فرمائی جاتی ہے۔ فائدہ:     قتل خطا یعنی مسلمان کو غلطی سے قتل کر دینے کی کئی صورتیں ہیں مثلاً غلطی سے مسلمان کو شکار سمجھ کر مار ڈالا یا تیر اور گولی شکار پر چلائی چوک کر کسی مسلمان کے جا لگی۔ ایک صورت قتل خطا کی یہ بھی ہے کہ ایک مسلمان کافروں میں ہو اور اس کو کوئی مسلمان کافر سمجھ کر بوجہ لا علمی قتل کر ڈالے اور یہاں اسی صورت کا بیان فرمانا مقصود ہے۔ مجاہدین کو یہ بات اکثر پیش آجاتی ہے اور آیات سابقہ کے یہی مناسب ہے، گو قتل خطا کی اور صورتوں کا بھی حکم یہی ہے وہ صورتیں بھی اس میں آگئیں۔ ف٤   اس آیت میں قتل خطا کے دو حکم بتلائے گئے ایک تو آزاد کرنا بردہ مسلمان کا اور اس کا مقدور نہ ہو تو دو مہینے متصل روزے رکھنا یہ کفارہ ہے خدا تعالٰی کی جناب میں اپنی خطا کا۔ دوسرے اس مقتول کے وارثوں کو خون بہا دینا یہ ان کا حق ہے۔ ان کے معاف کرنے سے معاف بھی ہو سکتا ہے اور کفارہ کسی کے معاف کرنے سے معاف نہیں ہو سکتا۔ اس کے متعلق تین صورتیں ہوسکتی ہیں کیونکہ جس مسلمان کو غلطی سے قتل کیا اس کے وارث مسلمان ہونگے یا کافر۔ اگر کافر ہیں تو ان سے مصالحت ہے یا دشمنی۔ اول دونوں صورتوں میں مقتول کے وارثوں کو خون بہا دینا پڑے گا۔ تیسری صورت میں خون بہا لازم نہ ہوگا اور کفارہ سب صورتوں میں ادا کرنا ہوگا۔ فائدہ:     خون بہا مذہب حنفی میں تخمینا دو ہزار سات سو چالیس روپے ہوتے ہیں یہ روپیہ قاتل کی برادری کو تین برس میں متفرق طور پر دینا ہوگا مقتول کے وارثوں کو۔(92)
وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا(93)
ف١    یعنی اگر ایک مسلمان دوسرے کو غلطی سے نہیں بلکہ قصداً اور مسلمان معلوم کرنے کے بعد قتل کرے گا تو اس کے لئے آخرت میں جہنم اور لعنت اور عذاب عظیم ہے کفار سے اس کی رہائی نہیں ہوگی۔ باقی رہی دنیاوی سزا وہ سورہ بقرہ میں گزر چکی۔ فائدہ:  جمہور علماء کے نزدیک خلود اس کے لئے ہے جو مسلمان کے قتل کو حلال سمجھے کیونکہ اس کے کفر میں شک نہیں یا خلود سے مراد یہ ہے کہ مدت دراز تک جہنم میں رہے گا یا وہ شخص مستحق تو اسی سزا کا ہے آگے اللہ مالک ہے جو چاہے کرے۔ واللہ اعلم(93)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا ضَرَبتُم فى سَبيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنوا وَلا تَقولوا لِمَن أَلقىٰ إِلَيكُمُ السَّلٰمَ لَستَ مُؤمِنًا تَبتَغونَ عَرَضَ الحَيوٰةِ الدُّنيا فَعِندَ اللَّهِ مَغانِمُ كَثيرَةٌ ۚ كَذٰلِكَ كُنتُم مِن قَبلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيكُم فَتَبَيَّنوا ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ بِما تَعمَلونَ خَبيرًا(94)
ف۲    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج کو ایک قوم پر جہاد کے لئے بھیجا اس قوم میں ایک شخص مسلمان تھا جو اپنا مال و اسباب اور مویشی ان میں سے نکال کر علیحدہ کھڑا ہوگیا تھا اس نے مسلمانوں کو دیکھ کر السلام علیکم کہا مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ یہ بھی کافر ہے اپنی جان اور مال بچانے کی غرض سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے اس لئے اس کو مار ڈالا اور اس کے مویشی اور اسباب سب لے لیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو تنبیہ اور تاکید فرمائی گئی کہ جب تم جہاد کے لئے سفر کرو تو تحقیق سے کام لو۔ بے سوچے سمجھے کام مت کرو جو تمہارے سامنے اسلام ظاہر کرے اس کے مسلمان ہونے کا ہرگز انکار مت کرو۔ اللہ کے پاس بہت کچھ غنیمتیں ہیں ایسے حقیر سامان پر نظر نہ کرنی چاہئے۔    ف ۳ تم ایسے ہی تھے اس سے پہلے یعنی اسلام سے پہلے دنیا کی غرض سے ناحق خون کیا کرتے تھے لیکن اب مسلمان ہو کر ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے بلکہ جس پر مسلمان ہونے کا احتمال بھی ہو تو اس کے قتل سے بچو یا یہ مطلب ہے کہ اس سے پہلے شروع زمانہء اسلام میں تم بھی کافروں کے شہر میں رہتے تھے۔ تمہاری مستقل حکومت اور مستقل بودوباش نہ تھی تو جیسا اس حالت میں تمہارا اسلام معتبر سمجھا گیا اور تمہارے جان و مال کی حفاظت و رعایت کی گئی ایسا ہی اب تم کو بھی اس طرح کے مسلمانوں کی رعایت و حفاظت لازم ہے بلا تحقیق ان کو قتل مت کرو احتیاط اور غور سے کام کرنا چاہئے۔ ف٤    یعنی اللہ تعالٰی تمہارے ظاہر اعمال اور دلی اغراض سب پر مطلع ہے تو اب جس کو قتل کرو محض اللہ کے حکم کے موافق قتل کرو۔ اپنی کسی غرض کا اصلا دخل نہ ہو اور یہ بھی مقصد ہے کہ اگر کوئی کافر فقط اپنے جان ومال کے خوف سے تمہارے روبرو اسلام ظاہر کرے اور دھوکا دے کر اپنی جان بچا لے تو اللہ تعالٰی کو سب کچھ معلوم ہے اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتا مگر تم اس کو کچھ مت کہو۔ یہ تمہارے کرنے کی بات نہیں ہم دیکھ لیں گے۔(94)
لا يَستَوِى القٰعِدونَ مِنَ المُؤمِنينَ غَيرُ أُولِى الضَّرَرِ وَالمُجٰهِدونَ فى سَبيلِ اللَّهِ بِأَموٰلِهِم وَأَنفُسِهِم ۚ فَضَّلَ اللَّهُ المُجٰهِدينَ بِأَموٰلِهِم وَأَنفُسِهِم عَلَى القٰعِدينَ دَرَجَةً ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الحُسنىٰ ۚ وَفَضَّلَ اللَّهُ المُجٰهِدينَ عَلَى القٰعِدينَ أَجرًا عَظيمًا(95)
(95)
دَرَجٰتٍ مِنهُ وَمَغفِرَةً وَرَحمَةً ۚ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا(96)
ف١    اس سے پہلے مسلمان کو نادانستگی اور چوک سے قتل کر دینے پر عتاب اور تنبیہ فرمائی تھی اس لئے یہ احتمال تھا کہ کوئی جہاد کرنے سے رک جائے کیونکہ مجاہدین کو ایسی صورت پیش آہی جاتی ہے۔ اس لئے مجاہدین کی فضیلت بیان فرما کر جہاد کی رغبت دلائی گئی خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ لنگڑے لنجے اندھے بیمار معذور لوگوں کو تو جہاد کرنے کا حکم نہیں باقی سب مسلمانوں میں جہاد کرنے والوں کے بڑے درجے ہیں جو جہاد نہ کرنے والوں کے نہیں اگرچہ جنتی وہ بھی ہیں جو جہاد نہیں کرتے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ جہاد فرض کفایہ ہے فرض عین نہیں یعنی اگر مسلمانوں کی کافی تعداد اور ضرورت کے موافق جماعت جہاد کرتی رہے تو جہاد نہ کرنے والوں پر پھر کوئی گناہ نہیں ورنہ سب گنہگار ہونگے۔ ف ٢    یعنی حق تعالٰی غفور و رحیم ہے جہاد کرنے والوں کے بارے میں اجرو مغفرت و رحمت کے جو وعدے فرمائے ہیں وہ ضرور پورے فرمائے گا یا یہ کہ مجاہد کے ہاتھ سے نادانستگی میں اگر کوئی مسلمان قتل ہوگیا تو حق تعالٰی معاف فرما دے گا اس اندیشہ سے جہاد سے مت رکو۔(96)
إِنَّ الَّذينَ تَوَفّىٰهُمُ المَلٰئِكَةُ ظالِمى أَنفُسِهِم قالوا فيمَ كُنتُم ۖ قالوا كُنّا مُستَضعَفينَ فِى الأَرضِ ۚ قالوا أَلَم تَكُن أَرضُ اللَّهِ وٰسِعَةً فَتُهاجِروا فيها ۚ فَأُولٰئِكَ مَأوىٰهُم جَهَنَّمُ ۖ وَساءَت مَصيرًا(97)
(97)
إِلَّا المُستَضعَفينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالوِلدٰنِ لا يَستَطيعونَ حيلَةً وَلا يَهتَدونَ سَبيلًا(98)
(98)
فَأُولٰئِكَ عَسَى اللَّهُ أَن يَعفُوَ عَنهُم ۚ وَكانَ اللَّهُ عَفُوًّا غَفورًا(99)
ف۳   بعضے مسلمان ایسے بھی ہیں کہ دل سے تو سچے مسلمان ہیں مگر کافروں کی حکومت میں ہیں اور ان سے مغلوب ہیں اور کافروں کے خوف سے اسلامی باتوں کو کھل کر نہیں کرسکتے نہ حکم جہاد کی تعمیل کر سکتے ہیں۔ سو ان پر فرض ہے کہ وہاں سے ہجرت کریں۔ اس رکوع میں اسی کا ذکر ہے آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں یعنی کافروں کے ساتھ مل رہے ہیں اور ہجرت نہیں کرتے تو فرشتے ان سے مرنے کے وقت پوچھتے ہیں کہ تم کس دین پر تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم تو مسلمان تھے مگر بوجہ ضعف و کمزوری کے دین کی باتیں نہ کر سکتے تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اللہ کی زمین تو بہت وسیع تھی تم یہ تو کر سکتے تھے کہ وہاں سے ہجرت کر جاتے۔ سو ایسوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ البتہ جو لوگ ضعیف ہیں اور عورتیں اور بچے کہ نہ وہ ہجرت کی تدبیر کر سکتے ہیں نہ ان کو کوئی ہجرت کا راستہ معلوم ہے وہ قابل معافی ہیں۔ فائدہ:     اس سے معلوم ہوگیا کہ مسلمان جس ملک میں کھلا نہ رہ سکے وہاں سے ہجرت فرض ہے اور سوائے ان لوگوں کے جو بالکل معذور اور بے بس ہوں اور کسی کو وہاں پڑے رہنے کی اجازت نہیں۔(99)
۞ وَمَن يُهاجِر فى سَبيلِ اللَّهِ يَجِد فِى الأَرضِ مُرٰغَمًا كَثيرًا وَسَعَةً ۚ وَمَن يَخرُج مِن بَيتِهِ مُهاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسولِهِ ثُمَّ يُدرِكهُ المَوتُ فَقَد وَقَعَ أَجرُهُ عَلَى اللَّهِ ۗ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا(100)
ف٤   اس آیت میں ہجرت کی ترغیب ہے اور مہاجرین کو تسلی دی جاتی ہے یعنی جو شخص اللہ کے واسطے ہجرت کرے گا اور اپنا وطن چھوڑے گا تو اس کو رہنے کے لئے بہت جگہ ملے گی اور اس کی روزی اور معیشت میں فراخی ہوگی تو ہجرت کرنے میں اس سے مت ڈرو کہ کہاں رہیں گے اور کیا کھائیں گے اور یہ بھی خطرہ نہ کرو کہ شاید راستہ میں موت آجائے تو ادھر کے ہوں نہ ادھر کے کیونکہ اس صورت میں بھی ہجرت کا پورا ثواب ملے گا اور موت تو اپنے وقت ہی پر آنی ہے وقت مقرر سے پہلے نہیں آسکتی۔(100)
وَإِذا ضَرَبتُم فِى الأَرضِ فَلَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ أَن تَقصُروا مِنَ الصَّلوٰةِ إِن خِفتُم أَن يَفتِنَكُمُ الَّذينَ كَفَروا ۚ إِنَّ الكٰفِرينَ كانوا لَكُم عَدُوًّا مُبينًا(101)
ف١    یعنی جب تم جہاد وغیرہ کے لئے سفر کرو اور کافروں سے جو کہ تمہارے صریح دشمن ہیں اس کا خوف ہو کہ وہ موقع پا کر ستائیں گے تو نماز کو مختصر رکھو یعنی جو نماز حضر میں چار رکعت کی ہو اس کی دو رکعت پڑھو۔ فائدہ:     ہمارے یہاں سفر تین منزل کا ہونا ضروری ہے اس سے کم ہوگا تو قصر جائز نہ ہوگا اور کافروں کے ستانے کا ڈر اس وقت موجود تھا جب یہ حکم نازل ہوا۔ جب یہ ڈر جاتا رہا تو اس کے بعد بھی آپ سفر میں دو رکعت ہی پڑھتے رہے اور صحابہ کو بھی اسی کی تاکید فرمائی۔ اب ہمیشہ سفر میں قصر کرنے کا حکم ہے خوف مذکور ہو یا نہ ہو اور یہ اللہ تعالٰی کا فضل ہے شکریہ کے ساتھ قبول کرنا لازم ہے جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہے۔(101)
وَإِذا كُنتَ فيهِم فَأَقَمتَ لَهُمُ الصَّلوٰةَ فَلتَقُم طائِفَةٌ مِنهُم مَعَكَ وَليَأخُذوا أَسلِحَتَهُم فَإِذا سَجَدوا فَليَكونوا مِن وَرائِكُم وَلتَأتِ طائِفَةٌ أُخرىٰ لَم يُصَلّوا فَليُصَلّوا مَعَكَ وَليَأخُذوا حِذرَهُم وَأَسلِحَتَهُم ۗ وَدَّ الَّذينَ كَفَروا لَو تَغفُلونَ عَن أَسلِحَتِكُم وَأَمتِعَتِكُم فَيَميلونَ عَلَيكُم مَيلَةً وٰحِدَةً ۚ وَلا جُناحَ عَلَيكُم إِن كانَ بِكُم أَذًى مِن مَطَرٍ أَو كُنتُم مَرضىٰ أَن تَضَعوا أَسلِحَتَكُم ۖ وَخُذوا حِذرَكُم ۗ إِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلكٰفِرينَ عَذابًا مُهينًا(102)
ف ٢    پہلے نماز سفر کا بیان تھا یہ نماز خوف کا بیان ہے یعنی کافروں کی فوج مقابلہ میں ہو تو مسلمانوں کی فوج دو حصے ہو جائے، ایک حصہ امام کے ساتھ آدھی نماز پڑھ کر دشمن کے مقابلہ میں جا کر کھڑا ہو جائے، دوسرا حصہ آکر امام کے ساتھ نصف باقی پڑھ لے۔ امام کے سلام کے بعد دونوں جماعتیں اپنی آدھی نماز رہی ہوئی جدا جدا پڑھ لیں۔ اگر مغرب کی نماز ہو تو اول جماعت دو رکعت اور دوسری جماعت ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھے اور اس حالت میں نماز کے اندر آمد و رفت معاف ہے اور تلوار زرہ سپر وغیرہ کے اپنے ساتھ رکھنے کا بھی ارشاد فرمایا تاکہ کفار موقع پا کر یکبارگی حملہ نہ کر دیں۔ ف٣    یعنی اگر بارش یا بیماری اور ضعف کی وجہ سے ہتھیار کا اٹھانا مشکل ہو تو ایسی حالت میں ہتھیا اتار کر رکھ دینے کی اجازت ہے لیکن اپنا بچاؤ کر لینا چاہیے مثلاً زرہ سپر خود ساتھ لے لو۔ فائدہ:      اگر دشمنوں کے خوف سے اتنی مہلت بھی نہ ملے کہ نماز خوف بصورت مذکورہ ادا کر سکیں تو جماعت موقوف کر کے تنہا تنہا نماز پڑھ لیں پیادہ ہو کر اور سواری سے اترنے کا بھی موقع نہ ملے تو سواری پر اشارہ سے نماز پڑھ لیں۔ اگر اس کی مہلت نہ ملے تو پھر نماز کو قضا کر دیں۔ ف٤    یعنی اللہ تعالٰی کے حکم کے موافق تدبیر اور احتیاط اور اہتمام کے ساتھ کام کرو اور اللہ کے فضل سے امید رکھو وہ کافروں کو تمہارے ہاتھ سے ذلیل و خوار کرادے گا، کافروں سے خوف مت کرو۔(102)
فَإِذا قَضَيتُمُ الصَّلوٰةَ فَاذكُرُوا اللَّهَ قِيٰمًا وَقُعودًا وَعَلىٰ جُنوبِكُم ۚ فَإِذَا اطمَأنَنتُم فَأَقيمُوا الصَّلوٰةَ ۚ إِنَّ الصَّلوٰةَ كانَت عَلَى المُؤمِنينَ كِتٰبًا مَوقوتًا(103)
ف۵  یعنی خوف کے وقت بوجہ تنگی اور بے اطمینانی اگر نماز میں کسی طرح کی کوتاہی ہوگئی تو نماز خوف سے فراغت کے بعد ہر وقت اور ہر حالت میں کھڑے ہو یا بیٹھے یا لیٹے اللہ کو یاد کرو حتٰی کہ عین ہجوم اور مقاتلہ کے وقت بھی کیونکہ وقت کی تعیین اور دیگر قیود کی پابندی تو بحالت نماز تھی جن کی وجہ سے تنگی اور بے اطمینانی پیش آنے کا موقع ہے۔ اس کے سوا ہر حالت میں بلا دقّت اللہ کو یاد کر سکتے ہو کسی حالت میں اس کی یاد سے غافل نہ رہو۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس آیت کے ذیل میں فرمایا کہ صرف وہ شخص کہ جس کے عقل و حواس کسی وجہ سے مغلوب ہوجائیں البتہ معذور ہے ورنہ کوئی شخص اللہ کی یاد نہ کرنے میں معذور نہیں۔ ف ۱   یعنی جب خوف مذکور جاتا رہے اور خاطر جمع ہو جائے تو پھر جو نماز پڑھو اطمینان اور تعدیل ارکان اور رعایت شروط اور محافظت آداب کے ساتھ پڑھو جیسا کہ امن کی حالت میں پڑھنی چاہیے اور جن حرکات زائدہ کی اجازت دی گئی وہ حالت خوف کے ساتھ مخصوص ہیں بیشک نماز فرض ہے وقت معین میں، سفر، حضر، اطمینان، خوف ہر حالت میں اسی وقت میں ادا کرنا ضروری ہے یہ نہیں کہ جب چاہو پڑھ لو یا یہ مطلب ہے کہ نماز کے متعلق حق تعالٰی نے پورا، ضبط اور تعین فرما دیا ہے کہ حضر میں کیا ہونا چاہیے اور سفر میں کیا، اطمینان میں کیا کرنا چاہیے اور خوف میں کیا۔ سو ہر حالت میں اس کی پابندی چاہئے۔(103)
وَلا تَهِنوا فِى ابتِغاءِ القَومِ ۖ إِن تَكونوا تَألَمونَ فَإِنَّهُم يَألَمونَ كَما تَألَمونَ ۖ وَتَرجونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرجونَ ۗ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا(104)
ف۲   یعنی کفار کی جستجو اور ان کے تعاقب میں ہمت سے کام لو اور کوتاہی نہ کرو۔ اگر تم کو ان کی لڑائی سے زخم اور درد پہنچا ہے تو اس تکلیف میں تو وہ بھی شریک ہیں اور آئندہ تم کو حق تعالٰی سے وہ امیدیں ہیں جو ان کو نہیں یعنی دنیا میں کفار پر غلبہ اور آخرت میں ثواب عظیم اور اللہ تعالٰی تمہارے مصالح اور تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے اس کا جو حکم ہے اس میں تمہارے لئے بڑے منافع اور حکمتیں ہیں دین اور دنیا دونوں کے لئے۔ سو اس کے امتثال کو غنیمت اور بڑی نعمت سمجھو۔(104)
إِنّا أَنزَلنا إِلَيكَ الكِتٰبَ بِالحَقِّ لِتَحكُمَ بَينَ النّاسِ بِما أَرىٰكَ اللَّهُ ۚ وَلا تَكُن لِلخائِنينَ خَصيمًا(105)
ف۳    منافق اور ضعیف الاسلام لوگوں میں جب کوئی کسی گناہ اور خرابی کا مرتکب ہوتا تو سزا اور بدنامی سے بچنے کے لئے حیلہ گھڑتے اور آپ کی خدمت میں ایسے انداز سے اس کا اظہار کرتے کہ آپ ان کو بری سمجھ جائیں بلکہ کسی بری الذمہ کے ذمہ تہمت لگا کر اس کے مجرم بنانے میں سعی کرتے اور رل مل کر باہم مشورہ کرتے۔ چنانچہ ایک دفعہ یہ ہوا کہ ایک ایسے ہی مسلمان نے دوسرے مسلمان کے گھر میں نقب دیا ایک تھیلا آٹے کا اور اس کے ساتھ کچھ ہتھیار چرا کر لے گیا۔ اس تھیلے میں اتفاقاً سوراخ تھا چور کے گھر تک راستہ میں آٹا گرتا گیا۔ چور نے یہ تدبیر کی کہ مال اپنے گھر میں نہ رکھا بلکہ رات ہی میں وہ مال لے جا کر ایک یہودی کے پاس امانت رکھ آیا جو اس کا واقف تھا۔ صبح کو مالک نے آٹے کے سراغ پر چور کو جا پکڑا مگر تلاشی پر اس کے گھر میں کچھ نہ نکلا۔ ادھر چور نے قسم کھا لی کہ مجھ کو کچھ خبر نہیں آٹے کا سراغ آگے کو چلتا نظر آیا تو مالک نے اسی سراغ پر یہودی کو جا پکڑا، اس نے مال کا اقرار کر لیا کہ میرے گھر میں موجود ہے مگر میرے پاس تو رات فلاں شخص امانت رکھ گیا ہے میں چور نہیں ہوں۔ مالک نے یہ قضیہ حضرت فخر عالم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچایا۔ چور کی قوم اور اس کی جماعت نے اتفاق کیا کہ جس طرح ہو سکے اس پر چوری ثابت نہ ہونے دو یہودی کو چور بناؤ۔ چنانچہ یہودی سے جھگڑے اور آپ کی خدمت میں چور کی برات پر قسمیں کھائیں گواہی دی۔ قریب تھا کہ یہودی چور سمجھا جائے اور مجرم قرار دیا جائے اس پر حق سبحانہ، نے متعدد آیتیں نازل فرمائیں اور حضرت محمد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور سب کو متنبہ فرما دیا کہ چور یہی مسلمان ہے۔ یہودی اس میں سچا اور بے قصور ہے اور ہمیشہ کے لئے ایسے لوگوں کی قلعی کھول کر سب کو متنبہ کر دیا۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے اپنی سچی کتاب تجھ پر اس لئے اتاری کہ ہمارے سمجھانے اور بتلانے کے موافق تمام لوگوں میں نیک ہوں یا بد، مومن ہوں یا کافر حکم اور انصاف کیا جائے اور جو دغا باز ہیں ان کی بات کا اعتبار اور ان کی طرف داری ہرگز مت کرو اور ان کی قسم اور ان کی گواہی پر کسی بے قصور کو مجرم مت بناؤ یعنی ان دغا بازوں کی طرف ہو کر یہودی سے مت جھگڑو۔(105)
وَاستَغفِرِ اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ كانَ غَفورًا رَحيمًا(106)
ف٤   یعنی قبل تحقیق صرف ظاہر حال کو دیکھ کر چور کو بری اور یہودی مذکور کو چور خیال کر لینا تمہاری عصمت اور عظمت شان کے مناسب نہیں اس سے استغفار چاہئے۔ اس میں کامل تنبیہ ہوگئی ان مخلصین صحابہ کو جو بوجہ تعلق اسلامی یا قومی وغیرہ چور پر حسن ظن کر کے یہودی کے چور بنانے میں ساعی ہوئے۔(106)
وَلا تُجٰدِل عَنِ الَّذينَ يَختانونَ أَنفُسَهُم ۚ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ مَن كانَ خَوّانًا أَثيمًا(107)
(107)
يَستَخفونَ مِنَ النّاسِ وَلا يَستَخفونَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُم إِذ يُبَيِّتونَ ما لا يَرضىٰ مِنَ القَولِ ۚ وَكانَ اللَّهُ بِما يَعمَلونَ مُحيطًا(108)
ف۵   پہلی آیت میں جب ان لوگوں کی دغا اور برائی صاف بتلا دی گئی تو شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بوجہ غلبہء شفقت جو آپ کو تمام خلق بالخصوص اپنی امت پر تھا حق تعالٰی سے ان خطاواروں کی معافی چاہیے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ ان دغا بازوں کی طرف ہو کر اللہ سے کیوں جھگڑتے ہو ایسے لوگ اللہ کو خوش نہیں آتے۔ یہ تو لوگوں سے چھپ چھپ کر راتوں کو ناجائز مشورہ کرتے ہیں اور اللہ سے نہیں شرماتے جو ہر وقت ان کے ساتھ ہے اور ان کے تمام امور پر حاوی ہے اور اگر آپ نے ان کی معافی نہ بھی مانگی ہو تو آپ کی معافی مانگنے کا احتمال تو بالیقین موجود تھا۔ دیکھئے دوسری جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بابت یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍ اِنَّ اِبْرٰ ہِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاہٌ مُّنِیْبٌ ارشاد صریح موجود ہے۔ سو اس کی پیش بندی کے لئے حق تعالٰی نے یہ ارشاد فرما کر ان لوگوں کی سفارش سے آپ کو روک دیا۔ واللہ اعلم۔(108)
هٰأَنتُم هٰؤُلاءِ جٰدَلتُم عَنهُم فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا فَمَن يُجٰدِلُ اللَّهَ عَنهُم يَومَ القِيٰمَةِ أَم مَن يَكونُ عَلَيهِم وَكيلًا(109)
ف ٦    اس میں خطاب ہے چور کی قوم اور ان لوگوں کو جو چور کے طرف دار ہوئے تھے یعنی اللہ تعالٰی کو سب کچھ معلوم ہے اس بیجا حمایت سے چور کو قیامت میں کوئی نفع نہیں ہو سکتا۔(109)
وَمَن يَعمَل سوءًا أَو يَظلِم نَفسَهُ ثُمَّ يَستَغفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفورًا رَحيمًا(110)
ف۱  سوء اور ظلم سے بڑے اور چھوٹے گناہ مراد ہیں یا سوء سے وہ گناہ مراد ہے جس سے دوسرے کو درد پہنچے جیسے کسی پر تہمت لگانی اور ظلم وہ ہے کہ اس کی خرابی اپنے ہی نفس تک رہے یعنی گناہ کیسا ہی ہو اس کا علاج استغفار اور توبہ ہے۔ توبہ کے بعد اللہ تعالٰی البتہ معاف فرمادیتا ہے۔ اگر آدمیوں نے جان بوجھ کر فریب سے کسی مجرم کی برات ثابت کر دی یا غلطی سے مجرم کو بے قصور سمجھ گئے تو اس سے اس کے جرم میں تخفیف بھی نہیں ہوسکتی۔ البتہ توبہ سے بالکل معاف ہو سکتا ہے۔ اس میں اس چور کو اور اس کے سب طرفداروں کو جو دیدہ دانستہ طرف دار بنے ہوں یا غلطی سے سبھی کو توبہ اور استغفار کا ارشاد ہوگیا اور اشارہ لطیف اس طرف بھی ہوگیا کہ اب بھی اگر کوئی اپنی بات پر جما رہے گا اور توبہ نہ کرے گا تو اللہ کی بخشش اور اس کی رحمت سے محروم ہوگا۔(110)
وَمَن يَكسِب إِثمًا فَإِنَّما يَكسِبُهُ عَلىٰ نَفسِهِ ۚ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا(111)
ف۲    یعنی جو اپنے قصد سے گناہ کرے گا اس کا وبال تو اسی پر پڑے گا اور اس کی سزا خاص اسی کو دی جائے گی کسی دوسرے کو سزا نہیں ہوسکتی کیونکہ ایسا تو وہ کر سکتا ہے جس کو واقعی بات کی خبر نہ ہو یا حکمت سے بے بہرہ ہو۔ مگرحق سبحانہ و تعالٰی تو بلا مبالغہ بصیغہ مبالغہ علیم و حکیم ہے وہاں اس کی گنجائش کہاں تو اب خود چوری کر کے یہودی کے سر لگانے سے کیا نفع ہو سکتا ہے۔(111)
وَمَن يَكسِب خَطيـَٔةً أَو إِثمًا ثُمَّ يَرمِ بِهِ بَريـًٔا فَقَدِ احتَمَلَ بُهتٰنًا وَإِثمًا مُبينًا(112)
ف۳   یعنی جس نے چھوٹا یا بڑا گناہ کر کے کسی بے گناہ کے ذمہ لگایا تو اس پر تو دو گناہ لازم ہوگئے، ایک جھوٹی تہمت دوسرا وہ اصلی گناہ تو ظاہر ہوگیا کہ خود چوری کر کے یہودی پر تہمت دھرنے سے اور وبال بڑھ گیا نفع خاک بھی نہ ہوا اور معلوم ہوگیا کہ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا توبہ خالص کے سوا اس کا کوئی علاج نہیں۔(112)
وَلَولا فَضلُ اللَّهِ عَلَيكَ وَرَحمَتُهُ لَهَمَّت طائِفَةٌ مِنهُم أَن يُضِلّوكَ وَما يُضِلّونَ إِلّا أَنفُسَهُم ۖ وَما يَضُرّونَكَ مِن شَيءٍ ۚ وَأَنزَلَ اللَّهُ عَلَيكَ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَعَلَّمَكَ ما لَم تَكُن تَعلَمُ ۚ وَكانَ فَضلُ اللَّهِ عَلَيكَ عَظيمًا(113)
ف ٤   اس میں خطاب ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی طرف اور اظہار ہے ان خائنوں کے فریب کا اور بیان ہے آپ کی عظمت شان اور عصمت کا اور اس کا کہ آپ کمال علمی میں جو کہ تمام کمالات سے افضل اور اول ہے سب سے فائق ہیں اور اللہ کا فضل آپ پر بے نہایت ہے جو ہمارے بیان اور ہماری سمجھ میں نہیں آسکتا اور اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ آپ کو جو چور کی براءت کا خیال ہوا تھا وہ ظاہرحال کو دیکھ کر اور اقوال و شہادات کو سن کر اور اس کو سچ سمجھ کر ہوگیا تھا میلان عن الحق یا مداہنت فی الحق ہرگز ہرگز اس کا باعث نہ تھا اور اتنی بات میں کچھ برائی نہ تھی بلکہ یہی ہونا ضروری تھا۔ جب اللہ تعالٰی کے فضل سے حقیقت الامر ظاہر ہوگئی کوئی خلجان باقی نہ رہا اور ان سب باتوں سے مقصود یہ ہے کہ آئندہ کو وہ فریب باز تو آپ کے بہکانے اور دھوکا دینے سے رک جائیں اور مایوس ہوجائیں اور آپ اپنی عظمت اور تقدس کے موافق غور اور احتیاط سے کام لیں۔ واللہ اعلم۔(113)
۞ لا خَيرَ فى كَثيرٍ مِن نَجوىٰهُم إِلّا مَن أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَو مَعروفٍ أَو إِصلٰحٍ بَينَ النّاسِ ۚ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ ابتِغاءَ مَرضاتِ اللَّهِ فَسَوفَ نُؤتيهِ أَجرًا عَظيمًا(114)
ف۵  منافق اور حیلہ گر آکر آپ سے کان میں باتیں کرتے تاکہ لوگوں میں اپنا اعتبار بڑھائیں اور مجلس میں بیٹھ کر آپس میں بیہودہ سرگوشی کیا کرتے کسی کی عیب جوئی، کسی کی غیبت، کسی کی شکایت کرتے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ جو لوگ باہم کانوں میں مشاورت کرتے ہیں اکثر مشورے خیر سے خالی ہوتے ہیں۔ صاف اور سچی باتوں کو چھپانے کی حاجت نہیں اس میں کوئی فریب ہوتا ہے۔ البتہ چھپاوے تو صدقہ اور خیرات کی بات کو چھپاوے تاکہ لینے والا شرمندہ نہ ہو یا کسی ناواقف کو غلطی سے بچائے اور اس کو اچھی بات اور صیحح مسئلہ بتائے تو چھپا کر بتائے تاکہ اس کو ندامت نہ ہو یا دو میں لڑائی ہو اور غصہ والا جوش میں صلح نہیں کرتا تو اول کوئی تدبیر بنا کر پھر اس کو سمجھائے حتیٰ کہ توریہ کی بھی اجازت ہے۔ آخر میں فرما دیا کہ جو کوئی امور مذکور کو اللہ تعالٰی کی رضامندی کے لئے کرے گا اس کو بڑا عظیم الشان ثواب عنایت ہوگا یعنی ریا کاری یا کسی اور غرض دنیاوی کے لئے نہ ہونا چاہئے۔(114)
وَمَن يُشاقِقِ الرَّسولَ مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُ الهُدىٰ وَيَتَّبِع غَيرَ سَبيلِ المُؤمِنينَ نُوَلِّهِ ما تَوَلّىٰ وَنُصلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَساءَت مَصيرًا(115)
ف١    یعنی جب کسی کو حق بات واضح ہو چکے پھر اس کے بعد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرے اور سب مسلمانوں کو چھوڑ کر اپنی جدا راہ اختیار کرے تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے جیسا کہ اس چور نے کیا جس کا ذکر ہو چکا۔ بجائے اس کے کہ قصور کا اعتراف کر کے توبہ کرتا یہ کیا کہ ہاتھ کٹنے کے خوف سے مکہ بھاگ گیا اور مشرکین میں مل گیا۔ فائدہ:     اکابر علماء نے اس آیت سے یہ مسئلہ بھی نکالا کہ اجماع امت کا مخالف اور منکر جہنمی ہے یعنی اجماع امت کو ماننا فرض ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ اللہ کا ہاتھ ہے مسلمانوں کی جماعت پر جس نے جدی راہ اختیار کی وہ دوزخ میں جا پڑا۔(115)
إِنَّ اللَّهَ لا يَغفِرُ أَن يُشرَكَ بِهِ وَيَغفِرُ ما دونَ ذٰلِكَ لِمَن يَشاءُ ۚ وَمَن يُشرِك بِاللَّهِ فَقَد ضَلَّ ضَلٰلًا بَعيدًا(116)
ف ٢    یعنی شرک سے نیچے کے گناہ جس کے چاہے گا اللہ بخش دے گا مگر شرک کو ہرگز نہیں بخشے گا۔ مشرک کے لئے عذاب ہی مقرر فرما چکا تو چوری کرنا اور تہمت جھوٹی لگانا اگرچہ کبیرہ گناہ تھے مگر یہ بھی احتمال تھا کہ اللہ تعالٰی اپنی رحمت سے اس چور کو بخش دیتا لیکن جب وہ چور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے بھاگا اور مشرکوں میں جا ملا تو اب اس کی مغفرت کا احتمال بھی نہ رہا۔ فائدہ:     اس سے یہ معلوم ہوا کہ شرک یہی نہیں کہ اللہ کے سوا کسی کی پرستش کرے بلکہ اللہ کے حکم کے مقابلہ میں کسی کے حکم کو پسند کرنا یہ بھی شرک ہے۔ ف٣    دور جا پڑا اس لئے کہ وہ شخص تو اللہ ہی سے صریح منحرف ہوگیا اور اللہ کے مقابلہ میں دوسرا معبود بنا کر شیطان کا پورا مطیع ہو چکا اللہ تعالٰی کی اطاعت اور اس کی رحمت سب سے مستغنی ہو بیٹھا اور جو اتنی دور جا پڑا تو اللہ کی رحمت اور مغفرت کا کیسے مستحق ہو سکتا ہے بلکہ ایسے شخص کی مغفرت تو خلاف حکمت ہونی چائیے یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کو مغفرت سے صاف مایوس فرما دیا گیا اور مسلمان کتنا ہی سخت گنہگار ہو چونکہ اس کی خرابی صرف اعمال تک ہے اس کا عقیدہ اور تعلق اور توقع سب جوں کی توں موجود ہیں اس کی مغفرت ضرور ہوگی جلدی یا دیر کے بعد اللہ جب چاہے گا بخش دے گا۔(116)
إِن يَدعونَ مِن دونِهِ إِلّا إِنٰثًا وَإِن يَدعونَ إِلّا شَيطٰنًا مَريدًا(117)
(117)
لَعَنَهُ اللَّهُ ۘ وَقالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِن عِبادِكَ نَصيبًا مَفروضًا(118)
ف٤    یعنی ان مشرکوں نے اللہ کے سوا جو اپنا معبود بنایا تو ان بتوں کو جن کو عورتوں کے نام سے نامزد کر رکھا ہے جیسے عزیٰ اور منات اور نائلہ وغیرہ اور حقیقۃ الامر دیکھئے تو یہ مشرکین شیطان سرکش ملعون الٰہی کی عبادت کرتے ہیں اسی نے تو بہکا کر ایسا کرایا اور بت پرستی کرنے میں اس کی اطاعت اور اس کی عین خوشی ہے۔ اس سے مشرکین کی پرلے سرے کی ضلالت اور جہالت ظاہر فرمانی مقصود ہے۔ دیکھئے اول تو اللہ کے سوا کسی کو معبود بنانا اس سے بڑھ کر ضلالت کیا ہوسکتی ہے پھر بنایا تو کس کو پتھروں کو جن میں کسی قسم کی حس و حرکت بھی نہیں اور عورتوں کے نام سے موسوم ہیں اور کس کے بتلانے سے شیطان مردود و ملعون خداوندی کے بہکانے سے۔ کیا اس ضلالت اور جہالت کی نظیر مل سکتی ہے اور کوئی احمق سے احمق بھی اس کو قبول کر سکتا ہے۔ ف ٥     یعنی جب شیطان سجدہ نہ کرنے پر ملعون اور مردود کیا گیا تو اس نے تو اسی وقت کہا تھا کہ میں تو غارت ہو ہی چکا مگر میں بھی تیرے بندوں اور اولاد آدم میں سے اپنے لئے ایک مقدار معلوم اور بڑا حصہ لوں گا یعنی ان کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ جہنم میں لے جاؤنگا جیسا کہ سورہ حجر اور بنی اسرائیل وغیرہ میں مذکور ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ متمرد اور ملعون ہونے کے علاوہ شیطان تو جملہ بنی آدم کا اول روز سے سخت دشمن اور بدخواہ ہے اور اس دشمنی کو صاف ظاہر کر چکا ہے تو اب یہ احتمال بھی نہ رہا کہ گو شیطان ہر طرح سے خبیث و گمراہ ہے مگر شاید کسی کو خیر خواہانہ کوئی نفع کی بات بتلا دے بلکہ یہ معلوم ہوگیا کہ وہ دشمن ازلی تو بنی آدم کو جو کچھ بتلائے گا ان کی گمراہی اور بربادی ہی کی بات بتلائے گا پھر ایسے گمراہ اور بدخواہ کی اطاعت کرنی کس قدر جہالت اور نادانی ہے۔ حصہ مقرر لینے کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ تیرے بندے اپنے مال میں میرا حصہ ٹھہرائیں گے جیسا کہ لوگ بت یا جن وغیرہ غیر اللہ کی نذر اور نیاز کرتے ہیں۔(118)
وَلَأُضِلَّنَّهُم وَلَأُمَنِّيَنَّهُم وَلَءامُرَنَّهُم فَلَيُبَتِّكُنَّ ءاذانَ الأَنعٰمِ وَلَءامُرَنَّهُم فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلقَ اللَّهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيطٰنَ وَلِيًّا مِن دونِ اللَّهِ فَقَد خَسِرَ خُسرانًا مُبينًا(119)
ف ٦     یعنی جو لوگ میرے حصہ میں آئیں گے ان کو طریق حق سے گمراہ کرونگا اور انکو حیات دنیاوی اور خواہشات دنیاوی کے حصول کی اور قیامت اور حساب و کتاب امور اخروی کے نہ ہونے کی آرزود لاؤنگا اور اس بات کی تعلیم دوں گا کہ جانوروں کے کان چیر کر بتوں کے نام پر ان کو چھوڑیں گے اور اللہ کی پیدا کی ہوئی صورتوں کو اور اس کی مقرر کی ہوئی باتوں کو بدل ڈالیں گے۔ فائدہ:     کافروں کا دستور تھا گائے بکری اور اونٹ کا بچہ بت کے نام کر دیتے اور اس کا کان چیر کر یا اس کے کان میں نشانی ڈال کر چھوڑ دیتے اور صورت بدلنا جیسے خوجہ کرنا یا بدن کو سوئی سے گود کر تل بنانا یا نیلا داغ دینا یا بچوں کے سر پر چوٹیاں رکھنا کسی کے نام کی۔ مسلمانوں کو ان کاموں سے بچنا ضرور ہے، داڑھی منڈوانا بھی اسی تغیر میں داخل ہے۔ اور اللہ کے جتنے احکام ہیں کسی میں تغیر کرنا بہت سخت بات ہے جو چیز اس نے حلال کر دی اس کو حرام کرنا یا حرام کو حلال کرنا اسلام سے نکال دیتا ہے تو جو کوئی ان باتوں میں مبتلا ہو اس کو یقین کر لینا چاہیے کہ میں شیطان کے مقررہ حصہ میں داخل ہوں جس کا ذکر گزرا۔(119)
يَعِدُهُم وَيُمَنّيهِم ۖ وَما يَعِدُهُمُ الشَّيطٰنُ إِلّا غُرورًا(120)
(120)
أُولٰئِكَ مَأوىٰهُم جَهَنَّمُ وَلا يَجِدونَ عَنها مَحيصًا(121)
ف۷   یعنی جب شیطان کی خباثت و شرارت اور اس کی عداوت کی کیفیت خوب معلوم ہو چکی تو اب اس میں کچھ شک نہ رہا کہ اپنے سچے معبود سے منحرف ہو کر جو کوئی اس کی موافقت کرے گا سخت نقصان میں پڑے گا۔ اس کے تمام وعدے اور امیدیں محض فریب ہیں نتیجہ یہ ہوگا کہ ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہے اس سے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی۔(121)
وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدخِلُهُم جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها أَبَدًا ۖ وَعدَ اللَّهِ حَقًّا ۚ وَمَن أَصدَقُ مِنَ اللَّهِ قيلًا(122)
ف ۱   یعنی وہ لوگ جو شیطان کی خرابی سے محفوظ ہیں اور ارشاد خداوندی کے موافق ایمان لائے اور اچھے عمل کئے وہ ہمیشہ کے لئے باغ و بہار میں رہیں گے اور یہ اللہ کا وعدہ ہے جس سے سچی کسی کی بات نہیں ہوسکتی پھر ایسے سچے وعدہ کو چھوڑ کر شیطان کی جھوٹی باتوں میں آنا کس قدر گمراہی اور کتنی بڑی مضرت کو سر پر لینا ہے۔(122)
لَيسَ بِأَمانِيِّكُم وَلا أَمانِىِّ أَهلِ الكِتٰبِ ۗ مَن يَعمَل سوءًا يُجزَ بِهِ وَلا يَجِد لَهُ مِن دونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلا نَصيرًا(123)
(123)
وَمَن يَعمَل مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِن ذَكَرٍ أَو أُنثىٰ وَهُوَ مُؤمِنٌ فَأُولٰئِكَ يَدخُلونَ الجَنَّةَ وَلا يُظلَمونَ نَقيرًا(124)
ف۲   کتاب والوں یعنی یہودیوں اور نصرانیوں کو خیال تھا کہ ہم خاص بندے ہیں جن گناہوں پر خلقت پکڑی جائے گی ہم نہ پکڑے جائیں گے۔ ہمارے پیغمبر حمایت کر کے ہم کو بچا لیں گے اور نادان اہل اسلام بھی اپنے حق میں یہی خیال کر لیا کرتے ہیں۔ سو فرما دیا کہ نجات اور ثواب کسی کی امید اور خیال پر موقوف اور منحصر نہیں جو برا کرے گا پکڑا جائے گا کوئی ہو اللہ کے عذاب کے وقت کسی کی حمایت کام نہیں آسکتی اللہ جس کو پکڑے وہی چھوڑے تو چھوٹے۔ دنیا کی مصیبت اور بیماری کو دھیان کر لو اور جو کوئی عمل نیک کرے گا بشرطیکہ ایمان بھی رکھتا ہو سو ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور اپنی نیکیوں کا پورا ثواب پائیں گے۔ خلاصہ یہ کہ ثواب و عقاب کا تعلق اعمال سے ہے کسی کی امید اور آرزو سے کچھ نہیں ہوتا۔ سو ان امیدوں پر لات مارو اور نیک کاموں میں ہمت کرو۔(124)
وَمَن أَحسَنُ دينًا مِمَّن أَسلَمَ وَجهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبرٰهيمَ حَنيفًا ۗ وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبرٰهيمَ خَليلًا(125)
ف ۳  پہلے معلوم ہو چکا کہ اللہ کے نزدیک اعمال کا اعتبار ہے بیہودہ آرزو کا کوئی نتیجہ نہیں۔ اہل کتاب وغیرہ سب کے لئے یہی قاعدہ مقرر ہے جس میں اشارہ تھا اہل اسلام یعنی حضرات صحابہ کی تعریف اور فضیلت کی طرف اور اہل کتاب کی مذمت اور برائی کی طرف۔ اب کھول کر فرماتے ہیں کہ دینداری میں ایسے شخص کا مقابلہ کون کر سکتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالٰی کے حکم پر سر رکھے ہوئے ہو اور نیک کاموں میں دل سے لگا ہوا ہو اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین کی سچی پیروی کرتا ہو جو سب کو چھوڑ کر اللہ کا ہوگیا تھا اور اس کو اللہ نے اپنا دوست بنا لیا۔ ظاہر ہے کہ یہ تینوں خوبیاں حضرات صحابہ میں علیٰ وجہ الکمال موجود تھیں نہ کہ اہل کتاب میں اب اس سے اہل کتاب کی وہ آرزو جو پہلے گزری لغو محض اور باطل ہوگئی۔(125)
وَلِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۚ وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ مُحيطًا(126)
ف٤    یعنی زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے سب اس کے بندے اور اس کی مخلوق اور مملوک ہیں اور اس کے قبضہ میں ہیں۔ اپنی رحمت اور حکمت سے جس کے ساتھ جیسا چاہے معاملہ کرے اس کو کسی کی حاجت نہیں۔ خلیل بنانے سے کوئی دھوکا نہ کھائے اور اہل عالم کے جملہ اعمال خیرو شر کی جزا اور سزا میں تردد نہ کرے۔(126)
وَيَستَفتونَكَ فِى النِّساءِ ۖ قُلِ اللَّهُ يُفتيكُم فيهِنَّ وَما يُتلىٰ عَلَيكُم فِى الكِتٰبِ فى يَتٰمَى النِّساءِ الّٰتى لا تُؤتونَهُنَّ ما كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرغَبونَ أَن تَنكِحوهُنَّ وَالمُستَضعَفينَ مِنَ الوِلدٰنِ وَأَن تَقوموا لِليَتٰمىٰ بِالقِسطِ ۚ وَما تَفعَلوا مِن خَيرٍ فَإِنَّ اللَّهَ كانَ بِهِ عَليمًا(127)
ف۱    اس سورت کے اول میں تاکید فرمائی تھی یتیموں کے حق ادا کرنے کی اور فرمایا تھا کہ یتیم لڑکی جس کا والی مثلاً چچا کا بیٹا ہو اگر جانے کہ میں اس کا حق پورا ادا نہ کر سکوں گا تو خود اس لڑکی سے نکاح نہ کرے بلکہ کسی اور سے اس کا نکاح کر دے اور آپ اس کا حمایتی بنا رہے۔ اس پر مسلمانوں نے ایسی عورتوں سے نکاح کرنا موقوف کر دیا تھا مگر تجربہ سے معلوم ہوا کہ بعضی جگہ لڑکی کے حق میں یہی بہتر ہے کہ اس کا ولی ہی اپنے نکاح میں لائے جیسی رعایت وہ کرے گا غیر نہ کرے گا۔ تب مسلمانوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کی اجازت مانگی اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور رخصت مل گئی اور فرمایا کہ وہ جو پہلی ممانعت سنائی گئی تھی وہ خاص اس صورت میں تھی کہ ان کا حق پورا ادا نہ کرو اور یتیموں کے حق ادا کرنے کی تاکید کی گئی تھی اور جو یتیموں کے ساتھ سلوک اور بھلائی کرنے کے ارادہ سے ایسا نکاح کیا جائے تو اجازت ہے۔ فائدہ:     عرب والے عورتوں بچوں یتیموں کو بعض حقوق میں محروم رکھتے تھے میراث نہ دیتے تھے اور کہتے تھے کہ میراث اس کا حق ہے جو دشمنوں سے لڑائی کرے یتیم لڑکیوں سے ان کے اولیاء نکاح کر کے نفقہ اور مہر میں کمی اور ان کے مال میں بیجا تصرف کرتے تھے۔ چنانچہ اس سورت کے اول میں ان باتوں کی تاکیدات گزر چکیں اب اس موقع پر چند رکوع پہلے سے جو ارشاد چلا آرہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ واجب الاتباع حکم الٰہی ہے۔ کسی کی عقل، کسی کا دستور، کسی کا حکم، کسی کی آرزو اور قیاس قابل اعتبار نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالٰی کے حکم کے سامنے کسی کی بات سننی اور اللہ کے حکم کو چھوڑ کر اس پر عمل کرنا صریح کفر اور گمراہی ہے اور اس مضمون کو طرح طرح سے تاکیدات بلیغہ کے ساتھ ظاہر کر کے دکھلایا ہے۔ اب اس کے بعد آیات سابقہ کا حوالہ دے کر بعضے اور مسائل عورتوں اور یتیم لڑکیوں کے نکاح کے متعلق بتلائے جاتے ہیں تاکہ ان تاکیدات کے بعد کسی کو عورتوں کے حقوق دینے میں کوئی بات باقی نہ رہے۔ روایت ہے کہ جب عورتوں کے متعلق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم میراث ظاہر فرمایا تو عرب کے بعض سردار آپ کی خدمت میں آئے اور تعجب سے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ بہن اور بیٹی کو میراث دلواتے ہیں حالانکہ میراث تو ان کا حق ہے جو دشمنوں سے لڑیں اور غنیمت کا مال لائیں۔ آپ نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالٰی کا یہی حکم ہے کہ انکو میراث دی جائے نیز اشارہ ہے اس طرف کہ ارشاد وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَ جْھَہ لِلّٰہٖ کے مصداق حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں کہ نکاح مہر نفقہ معاملات میں اپنے زیر دستوں کی ادنیٰ حق تلفی روا نہیں رکھتے اور حکم خداوندی کے مقابلہ میں اپنے منافع اور اغراض ذاتی اور اپنی قوم کے رسم و رواج کی اصلاً پروا نہیں کرتے۔ یہی حکم الٰہی کی مخالفت کے احتمال سے بھی پرہیز کرتے ہیں جو کرتے ہیں صاف اجازت لینے کے بعد کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ ف۲   یعنی اللہ تعالٰی کو تمہاری ذرہ ذرہ بھلائی معلوم ہے سو یتیموں اور عورتوں کے حق میں جو بھلائی کرو گے اس کا ثواب ضرور پاؤ گے۔(127)
وَإِنِ امرَأَةٌ خافَت مِن بَعلِها نُشوزًا أَو إِعراضًا فَلا جُناحَ عَلَيهِما أَن يُصلِحا بَينَهُما صُلحًا ۚ وَالصُّلحُ خَيرٌ ۗ وَأُحضِرَتِ الأَنفُسُ الشُّحَّ ۚ وَإِن تُحسِنوا وَتَتَّقوا فَإِنَّ اللَّهَ كانَ بِما تَعمَلونَ خَبيرًا(128)
ف ۳  یعنی اگر کوئی عورت خاوند کا دل اپنے سے پھرا دیکھے اور اس کو خوش اور متوجہ کرنے کو اپنے مہر یا نفقہ وغیرہ میں سے کچھ چھوڑ کر اس کو راضی کر لے تو اس مصالحت میں کسی کے ذمہ کچھ گناہ نہیں زوجین میں مصالحت اور موافقت بہت ہی اچھی بات ہے۔ البتہ بے وجہ عورت کو تنگ کرنا اور بلا رضا اس کے مال میں تصرف کرنا گناہ ہے۔ ف٤    یعنی اپنے نفع اور مال کی حرص اور بخیلی ہر ایک کے جی میں گھسی ہوئی ہے۔ سو نظر بر مصلحت اگر عورت مرد کو کچھ نفع پہنچائے گی تو مرد خوش ہو جائے گا۔ ف۵   یعنی اگر عورتوں کے ساتھ سلوک نیک کرو گے اور بد سلوکی اور لڑائی سے پرہیز رکھو گے تو اللہ تعالٰی تو تمہاری سب باتوں سے خبردار ہے اس نیکی کا ثواب ضرور عنایت کرے گا۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں نہ اعراض اور نہ خوشی کی نوبت آئے گی اور نہ راضی کرنے اور اپنے کسی حق کے چھوڑنے کی ضرورت ہوگی۔(128)
وَلَن تَستَطيعوا أَن تَعدِلوا بَينَ النِّساءِ وَلَو حَرَصتُم ۖ فَلا تَميلوا كُلَّ المَيلِ فَتَذَروها كَالمُعَلَّقَةِ ۚ وَإِن تُصلِحوا وَتَتَّقوا فَإِنَّ اللَّهَ كانَ غَفورًا رَحيمًا(129)
ف ٦     یعنی اگر کئی عورتیں نکاح میں ہوں تو یہ تو تم سے ہو سکے گا کہ محبت قلبی اور ہر ہر امر میں بالکل مساوات اور برابری رکھو مگر ایسا ظلم بھی نہ کرو کہ ایک طرف تو بالکل جھک جاؤ اور دوسری کو درمیان میں لٹکتی رکھو نہ خود ہی آرام سے رکھو نہ بالکل علیحدہ ہی کرو جو دوسرے سے نکاح کر سکے۔ ف ۷    یعنی اگر اصلاح اور مصالحت کا معاملہ کرو گے اور تعدی اور حق تلفی سے تابمقدور بچتے رہو گے تو اس کے بعد اللہ تعالٰی معاف فرمانے والا ہے۔(129)
وَإِن يَتَفَرَّقا يُغنِ اللَّهُ كُلًّا مِن سَعَتِهِ ۚ وَكانَ اللَّهُ وٰسِعًا حَكيمًا(130)
ف۸  یعنی اگر زوجین جدائی ہی کو پسند کریں اور طلاق کی نوبت آئے تو کچھ حرج نہیں۔ اللہ تعالٰی ہر ایک کا کار ساز ہے اور سب کی حاجات کا پورا کرنے والا ہے۔ اس میں اشارہ ہے اس طرف کہ زوجہ کو راحت سے رکھے اور ایذا نہ دے اور اس پر قادرنہ ہو تو پھر طلاق دے دینا مناسب ہے واللہ اعلم۔(130)
وَلِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ وَلَقَد وَصَّينَا الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ مِن قَبلِكُم وَإِيّاكُم أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ ۚ وَإِن تَكفُروا فَإِنَّ لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۚ وَكانَ اللَّهُ غَنِيًّا حَميدًا(131)
(131)
وَلِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ وَكيلًا(132)
ف١    اوپر سے ترغیب و ترہیب کا ذکر چلا آتا تھا یعنی حکم خداوندی کی اطاعت کرنا اور اس کی مخالفت سے بچنا سب کو ضرور ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی کی بات کی طرف کان رکھنا ہرگز جائز نہیں۔ بیچ میں چند حکم یتیموں اور عورتوں کے متعلق جن میں لوگ مبتلا تھے بیان فرما کر پھر اس ترغیب و ترہیب کا بیان ہے۔ ان دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ تم کو اور تم سے پہلوں کو سب کو یہ حکم سنا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہو اور اس کی نافرمانی نہ کرو تو اب اگر کوئی اس کے حکم کو نہ مانے تو وہ سب چیزوں کا مالک ہے اس کو کسی کی پروا نہیں یعنی اپنا ہی کچھ بگاڑے گا اس کا کچھ نقصان نہیں اور فرمانبرداری کرو گے تو سمجھ لو کہ وہ تمام چیزوں کا مالک ہے۔ تمہارے سب کام بنا سکتا ہے۔ تین دفعہ فرمایا کہ اللہ کا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے۔ اول سے کشائش اور وسعت مقصود ہے کہ اس کے یہاں کسی چیز کی کمی نہیں۔ دوسری سے بے نیازی اور بے پروائی کا بیان مقصود ہے کہ اس کو کسی کی پرواہ نہیں اگر تم منکر ہو۔ تیسری دفعہ میں رحمت اور کارسازی کا اظہار ہے بشرطیکہ تقویٰ کرو۔(132)
إِن يَشَأ يُذهِبكُم أَيُّهَا النّاسُ وَيَأتِ بِـٔاخَرينَ ۚ وَكانَ اللَّهُ عَلىٰ ذٰلِكَ قَديرًا(133)
ف ٢    یعنی اللہ تعالٰی اس پر قادر ہے کہ تم سب کو فنا کردے اور دنیا سے اٹھالے اور دوسرے لوگ مطیع و فرمانبردار پیدا کر دے۔ اس سے بھی حق تعالٰی کا استغنا اور بے نیازی خوب ظاہر ہوگئی اور نافرمانوں کو پوری تہدید اور تخویف بھی ہوگئی۔(133)
مَن كانَ يُريدُ ثَوابَ الدُّنيا فَعِندَ اللَّهِ ثَوابُ الدُّنيا وَالءاخِرَةِ ۚ وَكانَ اللَّهُ سَميعًا بَصيرًا(134)
ف٣    یعنی اگر اس کی تابعداری کرو تو تم کو دنیا بھی دے اور آخرت بھی پھر صرف دنیا کے پیچھے پڑنا اور اس کی نافرمانی کر کے آخرت سے محروم رہنا بڑی نادانی ہے۔ ف٤    یعنی اللہ تعالٰی تمہارے سب کام دیکھتا ہے اور سب باتیں سنتا ہے جس کے طالب ہو گے وہی ملے گا۔(134)
۞ يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كونوا قَوّٰمينَ بِالقِسطِ شُهَداءَ لِلَّهِ وَلَو عَلىٰ أَنفُسِكُم أَوِ الوٰلِدَينِ وَالأَقرَبينَ ۚ إِن يَكُن غَنِيًّا أَو فَقيرًا فَاللَّهُ أَولىٰ بِهِما ۖ فَلا تَتَّبِعُوا الهَوىٰ أَن تَعدِلوا ۚ وَإِن تَلوۥا أَو تُعرِضوا فَإِنَّ اللَّهَ كانَ بِما تَعمَلونَ خَبيرًا(135)
ف ٥     یعنی گواہی سچی اور اللہ کے حکم کے موافق دینی چاہیے اگرچہ اس میں تمہارا یا تمہارے کسی عزیز قریب کا نقصان ہوتا ہو جو حق ہو اس کو صاف ظاہر کر دینا چاہیے دنیاوی نفع کے لئے آخرت کا نقصان نہ لو۔ ف ٦    یعنی سچی گواہی دینے میں اپنی کسی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو کہ مالدار کی رعایت کر کے یا محتاج پر ترس کھا کر سچ کو چھوڑ بیٹھو جو حق ہو سو کہو۔ اللہ تعالٰی تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ اور ان کے مصالح سے واقف ہے اور اس کے یہاں کس چیز کی کمی ہے۔ ف ۷   زبان مَلنا یہ کہ سچی بات تو کہی مگر زبان داب کر اور پیچ سے کہ سننے والے کو شبہ پڑ جائے یعنی صاف صاف سچ نہ بولا اور بچا جانا یہ کہ پوری بات نہ کہی بلکہ کچھ بات کام کی رکھ لی۔ سو ان دونوں صورتوں میں گو جھوٹ تو نہیں بولا مگر بوجہ عدم اظہار حق گنہگار ہوگا۔ گواہی سچی اور صاف اور پوری دینی چاہئے۔(135)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا ءامِنوا بِاللَّهِ وَرَسولِهِ وَالكِتٰبِ الَّذى نَزَّلَ عَلىٰ رَسولِهِ وَالكِتٰبِ الَّذى أَنزَلَ مِن قَبلُ ۚ وَمَن يَكفُر بِاللَّهِ وَمَلٰئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَاليَومِ الءاخِرِ فَقَد ضَلَّ ضَلٰلًا بَعيدًا(136)
ف۱    یعنی جو اسلام قبول کرے اس کو ضرور ہے کہ اللہ تعالٰی کے تمام حکموں پر دل سے یقین لائے۔ اس کے ارشادات میں سے اگر کسی ایک ارشاد پر بھی یقین نہ لائے گا تو وہ مسلمان نہیں۔ صرف ظاہری اور زبانی بات کا اعتبار نہیں ہے۔(136)
إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا ثُمَّ كَفَروا ثُمَّ ءامَنوا ثُمَّ كَفَروا ثُمَّ ازدادوا كُفرًا لَم يَكُنِ اللَّهُ لِيَغفِرَ لَهُم وَلا لِيَهدِيَهُم سَبيلًا(137)
ف۲   یعنی ظاہر میں تو مسلمان ہوئے اور دل میں مذبذب رہے اور آخر کو بے یقین لائے ہی مر گئے ان کو نجات کا راستہ نہیں ملے گا وہ کافر ہیں۔ ظاہر کی مسلمانی کچھ کام نہ آئے گی۔ اس سے مراد منافقین ہیں اور بعض فرماتے ہیں کہ یہ آیت یہودیوں کی شان میں ہے کہ اول ایمان لائے پھر گو سالہ کی عبادت کر کے کافر ہوگئے، پھر توبہ کر کے مومن ہوئے، پھر عیسیٰ علیہ السلام سے منکر ہو کر کافر ہوئے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار کر کے کفر میں ترقی کر گئے۔(137)
بَشِّرِ المُنٰفِقينَ بِأَنَّ لَهُم عَذابًا أَليمًا(138)
(138)
الَّذينَ يَتَّخِذونَ الكٰفِرينَ أَولِياءَ مِن دونِ المُؤمِنينَ ۚ أَيَبتَغونَ عِندَهُمُ العِزَّةَ فَإِنَّ العِزَّةَ لِلَّهِ جَميعًا(139)
ف۳    یعنی منافق لوگ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا یہ خیال کہ کافروں کے پاس بیٹھ کر ہم کو دنیا میں عزت ملے گی بالکل غلط ہے۔ سب عزت اللہ تعالٰی کے واسطے ہے جو اس کی اطاعت کرے گا اس کو عزت ملے گی۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ایسے لوگ دنیا اور آخرت دونوں میں ذلیل و خوار رہیں گے۔(139)
وَقَد نَزَّلَ عَلَيكُم فِى الكِتٰبِ أَن إِذا سَمِعتُم ءايٰتِ اللَّهِ يُكفَرُ بِها وَيُستَهزَأُ بِها فَلا تَقعُدوا مَعَهُم حَتّىٰ يَخوضوا فى حَديثٍ غَيرِهِ ۚ إِنَّكُم إِذًا مِثلُهُم ۗ إِنَّ اللَّهَ جامِعُ المُنٰفِقينَ وَالكٰفِرينَ فى جَهَنَّمَ جَميعًا(140)
ف٤    یعنی اے مسلمانو! خدا تعالٰی پہلے قرآن شریف میں تم پر حکم بھیج چکا ہے کہ جس مجلس میں احکام خداوندی کا انکار اور تمسخر کیا جاتا ہو وہاں ہرگز نہ بیٹھو ورنہ تم بھی ویسے ہی سمجھے جاؤ گے البتہ جس وقت دوسری باتوں میں مشغول ہوں تو اس وقت ان کے ساتھ بیٹھنے کی ممانعت نہیں۔ منافقوں کی مجالس میں آیات و احکام الہٰی پر انکار و استہزاء ہوتا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور یہ جو فرمایا کہ حکم اتار چکا تم پر یہ اشارہ ہے آیت وَاِذَارَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْ اٰ یٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ الیٰ آخرہ کی طرف جو پہلے نازل ہو چکی تھی۔ فائدہ:     اس سے معلوم ہوگیا کہ جو شخص مجلس میں اپنے دین پر طعنہ اور عیب سنے اور پھر انہی میں بیٹھا سنا کرے اگرچہ آپ کچھ نہ کہے وہ منافق ہے۔(140)
الَّذينَ يَتَرَبَّصونَ بِكُم فَإِن كانَ لَكُم فَتحٌ مِنَ اللَّهِ قالوا أَلَم نَكُن مَعَكُم وَإِن كانَ لِلكٰفِرينَ نَصيبٌ قالوا أَلَم نَستَحوِذ عَلَيكُم وَنَمنَعكُم مِنَ المُؤمِنينَ ۚ فَاللَّهُ يَحكُمُ بَينَكُم يَومَ القِيٰمَةِ ۗ وَلَن يَجعَلَ اللَّهُ لِلكٰفِرينَ عَلَى المُؤمِنينَ سَبيلًا(141)
ف۵   یعنی یہ منافق وہ ہیں جو برابر تمہاری تاک اور انتظار میں لگے رہتے ہیں۔ پھر اگر تمہاری فتح ہو تو تم سے کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھی نہیں مال غنیمت میں ہم کو بھی شریک کرو اور اگر کافروں کو لڑائی میں کچھ حصہ مل گیا یعنی وہ غالب ہوئے تو ان سے کہتے ہیں کہ کیا ہم نے تم کو گھیر نہ لیا تھا اور تمہاری حفاظت نہیں کی اور ہم نے کیا تم کو مسلمانوں کے ضرر سے نہیں بچایا۔ لوٹ میں ہم کو بھی حصہ دو۔ فائدہ:     اس سے معلوم ہوا کہ دین حق پر ہو کر گمراہوں سے بھی بنائے رکھنا یہ بھی نفاق کی بات ہے۔ ف١    یعنی اللہ تعالٰی تم میں اور ان میں حکم فیصل فرما وے گا کہ تم کو جنت دے گا اور ان کو جہنم میں ڈالے گا دنیا میں جو کچھ ان سے ہو سکے کر دیکھیں مگر اہل ایمان کی بیخ کنی ہرگز نہ کر سکیں گے جو ان کی دلی تمنا ہے۔(141)
إِنَّ المُنٰفِقينَ يُخٰدِعونَ اللَّهَ وَهُوَ خٰدِعُهُم وَإِذا قاموا إِلَى الصَّلوٰةِ قاموا كُسالىٰ يُراءونَ النّاسَ وَلا يَذكُرونَ اللَّهَ إِلّا قَليلًا(142)
ف ٢    یعنی دل سے کافر ہیں اور ظاہر میں مسلمان تاکہ دونوں طرف کی مضرت اور ایذا سے محفوظ رہیں اور دونوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔ حق تعالٰی نے ان کی اس دغا بازی کی یہ سزادی کہ ان کی تمام شرارتوں اور مخفی خباثتوں کو اپنے نبی پر ظاہر فرما کر ایسا ذلیل کیا کہ کسی قابل نہ رہے اور سب دغا بازی مسلمانوں پر کھل گئی اور آخرت میں جو اس کی سزا ملے گی وہ بھی ظاہر فرما دی چنانچہ آیات آئندہ میں ذکر آتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان کی دھو کہ بازی سے تو کچھ نہ ہوا اور اللہ نے ان کو ایسا دھو کہ میں ڈالا کہ دنیا اور آخرت دونوں غارت ہوئیں۔ ف٣    یعنی نماز جو نہایت ضروری اور خالص عبادت ہے اور اس کے ادا کرنے میں جانی مالی کسی مضرت کا بھی اندیشہ نہیں منافق لوگ اس سے بھی جان چراتے ہیں بمجوری لوگوں کے دکھانے کو اور دھو کہ دینے کو پڑھ لیتے ہیں کہ ان کے کفر کی کسی کو اطلاع نہ ہو اور مسلمان سمجھے جاویں۔ پھر ایسوں سے اور کسی بات کی کیا توقع ہوسکتی ہے اور وہ کیسے مسلمان ہو سکتے ہیں۔(142)
مُذَبذَبينَ بَينَ ذٰلِكَ لا إِلىٰ هٰؤُلاءِ وَلا إِلىٰ هٰؤُلاءِ ۚ وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبيلًا(143)
ف٤    یعنی منافقین تو بالکل تردّد اور حیرت میں گرفتار ہیں۔ نہ ان کو اسلام پر اطمینان ہے نہ کفر پر سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔ کبھی ایک طرف جھکتے ہیں کبھی دوسری طرف اور اللہ جس کو بھٹکانا اور گمراہ کرنا چاہے اس کو نجات کا راستہ کہاں مل سکتا ہے۔(143)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذُوا الكٰفِرينَ أَولِياءَ مِن دونِ المُؤمِنينَ ۚ أَتُريدونَ أَن تَجعَلوا لِلَّهِ عَلَيكُم سُلطٰنًا مُبينًا(144)
(144)
إِنَّ المُنٰفِقينَ فِى الدَّركِ الأَسفَلِ مِنَ النّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُم نَصيرًا(145)
ف ٥     یعنی مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی کرنا دلیل ہے نفاق کی جیسا کہ منافقین کرتے ہیں۔ سو تم اے مسلمانو، ایسا ہرگز مت کرنا ورنہ خداوند تعالٰی کا صریح الزام اور پوری حجت تم پر قائم ہو جائے گی کہ تم بھی منافق ہو اور منافقوں کے لئے دوزخ کا سب سے نیچا طبقہ مقرر ہے اور کوئی ان کا مددگار بھی نہیں ہو سکتا کہ اس طبقہ سے ان کو نکالے یا عذاب میں کچھ تخفیف کرادے۔ مسلمانوں کو ایسی بات سے دور رہنا چاہئے۔(145)
إِلَّا الَّذينَ تابوا وَأَصلَحوا وَاعتَصَموا بِاللَّهِ وَأَخلَصوا دينَهُم لِلَّهِ فَأُولٰئِكَ مَعَ المُؤمِنينَ ۖ وَسَوفَ يُؤتِ اللَّهُ المُؤمِنينَ أَجرًا عَظيمًا(146)
ف ٦     یعنی جو منافق اپنے نفاق سے توبہ کرے اور اپنے اعمال کی درستی کرے اور اللہ کے پسندیدہ دین کو خوب مضبوط پکڑے اور اللہ پر توکل کرے اور ریا وغیرہ خرابیوں سے دین کو پاک و صاف رکھے تو وہ خالص مسلمان ہے۔ دین و دنیا میں ایمان والوں کے ساتھ ہوگا اور ایمان والوں کو بڑا ثواب ملنے والا ہے ان کے ساتھ ان کو بھی ملے گا جنہوں نے نفاق سے سچی توبہ کی۔(146)
ما يَفعَلُ اللَّهُ بِعَذابِكُم إِن شَكَرتُم وَءامَنتُم ۚ وَكانَ اللَّهُ شاكِرًا عَليمًا(147)
ف ۷   یعنی اللہ تعالٰی نیک کاموں کا قدرداں ہے اور بندوں کی سب باتوں کو خوب جانتا ہے۔ سو جو شخص اس کے حکم کو ممنونیت اور شکر گزاری کے ساتھ تسلیم کرتا ہے اور اس پر یقین رکھتا ہے تو اللہ تعالٰی عادل رحیم کو ایسے شخص پر عذاب کرنے سے کوئی تعلق نہیں یعنی ایسے شخص کو ہرگز عذاب نہ دے گا وہ تو سرکش اور نافرمانوں کو عذاب دیتا ہے۔(147)
۞ لا يُحِبُّ اللَّهُ الجَهرَ بِالسّوءِ مِنَ القَولِ إِلّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكانَ اللَّهُ سَميعًا عَليمًا(148)
ف١ یعنی اگر کسی میں دین یا دنیا کا عیب معلوم ہو تو اس کو مشہور نہ کرنا چاہئے۔ خدا تعالٰی سب کی بات سنتا ہے اور سب کے کام کو جانتا ہے۔ ہر ایک کو اس کے موافق جزا دے گا اسی کو غیبت کہتے ہیں۔ البتہ مظلوم کو رخصت ہے کہ ظالم کا ظلم لوگوں سے بیان کرے۔ ایسے ہی بعض اور صورتوں بھی غیبت کی ہیں اور یہ حکم یہاں شاید اس لئے فرمایا کہ مسلمان کو چاہیے کہ کسی منافق کا نام مشہور نہ کرے اور علی الاعلان اس کو بدنام نہ کرے اس میں وہ بگڑ کر شاید بے باک ہو جائے بلکہ مبہم نصیحت کرے۔ منافق آپ سمجھ لے گا یا تنہائی میں نصیحت کرے۔ اس طرح شاید ہدایت قبول کر لے۔ چنانچہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے کسی کا نام لے کر مشہور نہیں فرماتے تھے۔(148)
إِن تُبدوا خَيرًا أَو تُخفوهُ أَو تَعفوا عَن سوءٍ فَإِنَّ اللَّهَ كانَ عَفُوًّا قَديرًا(149)
ف٢ اس آیت میں مظلوم کو معافی کی رغبت دلانی منظور ہے کہ حق تعالٰی زبردست اور قدرت والا ہو کر خطا والوں کی خطا بخشتا ہے۔ بندہ زیردست عاجز کو تو بطریق اولیٰ دوسروں کا قصور معاف کر دینا چاہئے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ مظلوم کو ظالم سے بدلہ لینا جائز ہے مگر افضل یہ ہے کہ صبر کرے اور بخش دے۔ آیت میں اشارہ ہے اس طرف کہ منافقوں کی اصلاح چاہتے ہو تو ان کی ایذاء اور شرارت پر صبر کرو اور نرمی اور پردہ سے ان کو سمجھاؤ۔ ظاہر کی طعن اور لعن سے بچو اور کھلا مخالف مت بناؤ۔(149)
إِنَّ الَّذينَ يَكفُرونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُريدونَ أَن يُفَرِّقوا بَينَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقولونَ نُؤمِنُ بِبَعضٍ وَنَكفُرُ بِبَعضٍ وَيُريدونَ أَن يَتَّخِذوا بَينَ ذٰلِكَ سَبيلًا(150)
(150)
أُولٰئِكَ هُمُ الكٰفِرونَ حَقًّا ۚ وَأَعتَدنا لِلكٰفِرينَ عَذابًا مُهينًا(151)
ف٣ یہاں سے ذکر ہے یہود کا۔ چونکہ یہود میں نفاق کا مضمون بہت تھا اور آپ کے زمانہ میں جو منافق تھے وہ یہود تھے یا یہودیوں سے ربط اور محبت رکھنے والے اور ان کے مشورہ پر چلنے والے تھے اس لئے قرآن شریف میں اکثر ان دونوں فریق کا ذکر اکٹھا فرمایا ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ سے اور اسکے رسولوں سے منکر ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں میں فرق کرنا چاہتے ہیں یعنی اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور رسولوں پر ایمان نہیں لاتے اور بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور مطلب یہ ہے کہ اسلام اور کفر کے بیچ میں ایک نیا مذہب اپنے لئے نکالیں ایسے ہی لوگ اصل اور ڈھیٹ کافر ہیں۔ ان کے لئے خواری اور ذلت کا عذاب تیار ہے۔ فائدہ: اللہ کا ماننا جب ہی معتبر ہے کہ اپنے زمانہ کے پیغمبر کی تصدیق کرے اور اس کا حکم مانے بدون تصدیق نبی کے اللہ کا مانناغلط ہے اس کا اعتبار نہیں بلکہ ایک نبی کی تکذیب اللہ کی اور تمام رسولوں کی تکذیب سمجھی جاتی ہے۔ یہود نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی تو حق تعالٰی کی اور تمام انبیاء کی تکذیب کرنے والے قرار دیے گئے اور کٹے کافر سمجھے گئے۔(151)
وَالَّذينَ ءامَنوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَم يُفَرِّقوا بَينَ أَحَدٍ مِنهُم أُولٰئِكَ سَوفَ يُؤتيهِم أُجورَهُم ۗ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا(152)
ف٤ یعنی اور جن لوگوں نے کسی نبی کو جدا نہیں کیا بلکہ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے سب رسولوں پر اللہ تعالٰی اپنی رحمت سے ان کو بڑے ثواب عطا فرمائے گا۔ اس سے مراد مسلمان ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سب پر ایمان لائے۔(152)
يَسـَٔلُكَ أَهلُ الكِتٰبِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيهِم كِتٰبًا مِنَ السَّماءِ ۚ فَقَد سَأَلوا موسىٰ أَكبَرَ مِن ذٰلِكَ فَقالوا أَرِنَا اللَّهَ جَهرَةً فَأَخَذَتهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلمِهِم ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا العِجلَ مِن بَعدِ ما جاءَتهُمُ البَيِّنٰتُ فَعَفَونا عَن ذٰلِكَ ۚ وَءاتَينا موسىٰ سُلطٰنًا مُبينًا(153)
ف۱ یہودیوں کے چند سردار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا اگر تم سچے پیغمبر ہو تو ایک کتاب لکھی لکھائی یکبارگی آسمان سے لا دو جیسے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تورات لائے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس تمام رکوع میں الزامات کو ان کے جواب میں ذکر فرمایا ہے۔ اس کے بعد تحقیقی جواب دیا ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہودی جو تم سے عنادًا ایسی کتاب طلب کرتے ہیں ان کی یہ بے باکی اور سرکشی تعجب کی بات نہیں۔ ان کے بزرگوں نے تو اس سے بھی بڑی اور سخت بات اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام سے طلب کی تھی کہ خداوند تعالٰی کا آشکارا ہم کو دکھا دو ورنہ ہم تمہارا یقین نہ کریں گے جیسا کہ سورہ بقرہ میں گزرا۔ اس پر یہ ہوا کہ ان کے کہنے والوں پر بجلی آپڑی اور سب مر گئے پھر حق تعالٰی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے ان کو زندہ کر دیا۔ ایسی عظیم الشان نشانیاں دیکھ کر پھر یہ کیا کہ بچھڑے کو پوجنے لگے بالآخر حق تعالٰی نے اس سے بھی درگزر فرمائی۔ سورہ بقرہ میں کسی قدر تفصیل سے مذکور ہو چکا ہے۔ ف۲ غلبہ یہ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس بچھڑے کو تو ذبح کر کے آگ میں جلا دیا اور اس کی راکھ ہوا میں دریا پر اڑا دی اور ستر ہزار آدمی بچھڑے کو سجدہ کرنے والے قتل کئے گئے۔(153)
وَرَفَعنا فَوقَهُمُ الطّورَ بِميثٰقِهِم وَقُلنا لَهُمُ ادخُلُوا البابَ سُجَّدًا وَقُلنا لَهُم لا تَعدوا فِى السَّبتِ وَأَخَذنا مِنهُم ميثٰقًا غَليظًا(154)
ف۳ یعنی جب یہود نے کہا تھا کہ تورات کے حکم سخت ہیں ہم نہیں مانتے تو اس وقت کوہ طور کو زمین سے اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا تھا کہ ان حکموں کو قبول کرو اور مضبوطی سے پکڑو ورنہ پہاڑ ڈالا جاتا ہے۔ ف٤ یہود کو حکم ہوا تھا کہ شہر میں داخل ہوں سجدہ کر کے اور سر جھکائے ہوئے انہوں نے سجدہ کے بدلے سرین پر سرکنا اور پھسلنا شروع کیا۔ جب شہر میں پہنچے تو ان پر طاعون پڑا، دوپہر میں قریب ستر ہزار کے مر گئے۔ ف ۵  یہودیوں کو حکم تھا کہ ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار نہ کریں اور سب دنوں سے زیادہ ہفتہ ہی کے دن مچھلیاں دریا میں بکثرت نظر آتیں۔ یہودیوں نے یہ حیلہ کیا کہ دریا کے پاس حوض بنائے۔ ہفتہ کے دن جب مچھلیاں دریا سے حوضوں میں آتیں تو ان کو بند کر رکھتے پھر دوسرے دن حوضوں میں سے شکار کرتے۔ اس فریب اور عہد شکنی پر اللہ تعالٰی نے ان کو بندر کر دیا جو جانوروں میں بہت خسیس اور مکار ہے۔(154)
فَبِما نَقضِهِم ميثٰقَهُم وَكُفرِهِم بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَقَتلِهِمُ الأَنبِياءَ بِغَيرِ حَقٍّ وَقَولِهِم قُلوبُنا غُلفٌ ۚ بَل طَبَعَ اللَّهُ عَلَيها بِكُفرِهِم فَلا يُؤمِنونَ إِلّا قَليلًا(155)
ف ٦  یعنی یہود نے اس عہد کو توڑ دیا تو حق تعالٰی نے ان کی اس عہد شکنی پر اور آیات الہٰی سے منکر ہونے پر اور انبیاء علیہم السلام کے ناحق قتل کرنے پر اور ان کے اس کہنے پر کہ ہمارے دل تو غلاف میں ہیں، ان پر سخت عذاب مسلط فرمائے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو ہدایت کی تو کہنے لگے ہمارے دل پردہ میں ہیں تمہاری بات وہاں تک پہنچ نہیں سکتی۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ یہ بات نہیں بلکہ کفر کے سبب ان کے دلوں پر اللہ تعالٰی نے مہر لگا دی ہے جس کے باعث ان کو ایمان نصیب نہیں ہو سکتا مگر تھوڑے لوگ اس سے مستشنٰی ہیں جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔(155)
وَبِكُفرِهِم وَقَولِهِم عَلىٰ مَريَمَ بُهتٰنًا عَظيمًا(156)
(156)
وَقَولِهِم إِنّا قَتَلنَا المَسيحَ عيسَى ابنَ مَريَمَ رَسولَ اللَّهِ وَما قَتَلوهُ وَما صَلَبوهُ وَلٰكِن شُبِّهَ لَهُم ۚ وَإِنَّ الَّذينَ اختَلَفوا فيهِ لَفى شَكٍّ مِنهُ ۚ ما لَهُم بِهِ مِن عِلمٍ إِلَّا اتِّباعَ الظَّنِّ ۚ وَما قَتَلوهُ يَقينًا(157)
ف۷ یعنی اور نیز اس وجہ سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منکر ہو کر دوسرا کفر کمایا اور حضرت مریم پر طوفان عظیم باندھا اور ان کے اس قول پر کہ فخر سے کہتے تھے ہم نے مار ڈالا عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول اللہ تھا ان تمام وجوہ سے یہود پر عذاب اور مصیبتیں نازل ہوئیں۔(157)
بَل رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيهِ ۚ وَكانَ اللَّهُ عَزيزًا حَكيمًا(158)
ف۱ اللہ تعالٰی ان کے قول کی تکذیب فرماتا ہے کہ یہودیوں نے نہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا نہ سولی چڑھایا۔ یہود جو مختلف باتیں اس بارے میں کہتے ہیں اپنی اپنی اٹکل سے کہتے ہیں اللہ نے ان کو شبہ میں ڈال دیا۔ خبر کسی کو بھی نہیں واقعی بات یہ ہے اللہ تعالٰی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور اللہ تعالٰی سب چیزوں پر قادر ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ قصہ یہ ہوا کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح کے قتل کا عزم کیا تو پہلے ایک آدمی ان کے گھر میں داخل ہوا حق تعالٰی نے ان کو تو آسمان پر اٹھا لیا اور اس شخص کی صورت حضرت مسیح علیہ السلام کی صورت کے مشابہ کر دی جب باقی لوگ گھر میں گھسے تو اسکو میسح سمجھ کر قتل کر دیا پھر خیال آیا تو کہنے لگے کہ اس کا چہرہ تو مسیح کے چہرہ کے مشابہ ہے اور باقی بدن ہمارے ساتھی کا معلوم ہوتا ہے کسی نے کہا کہ یہ مقتول مسیح ہے تو ہمارا آدمی کہاں گیا اور ہمارا آدمی ہے تو مسیح کہاں ہے اب صرف اٹکل سے کسی نے کچھ کہا علم کسی کو بھی نہیں حق یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہرگز مقتول نہیں ہوئے بلکہ آسمان پر اللہ نے اٹھا لیا اور یہود کو شبہ میں ڈال دیا۔(158)
وَإِن مِن أَهلِ الكِتٰبِ إِلّا لَيُؤمِنَنَّ بِهِ قَبلَ مَوتِهِ ۖ وَيَومَ القِيٰمَةِ يَكونُ عَلَيهِم شَهيدًا(159)
ف۲ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ موجود ہیں آسمان پر جب دجال پیدا ہوگا تب اس جہان میں تشریف لا کر اسے قتل کریں گے اور یہود اور نصاریٰ ان پر ایمان لائیں گے کہ بیشک عیسیٰ زندہ ہیں مرے نہ تھے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے حالات اور اعمال کو ظاہر کریں گے کہ یہود نے میری تکذیب اور مخالفت کی اور نصاریٰ نے مجھ کو خدا کا بیٹا کہا۔(159)
فَبِظُلمٍ مِنَ الَّذينَ هادوا حَرَّمنا عَلَيهِم طَيِّبٰتٍ أُحِلَّت لَهُم وَبِصَدِّهِم عَن سَبيلِ اللَّهِ كَثيرًا(160)
(160)
وَأَخذِهِمُ الرِّبوٰا۟ وَقَد نُهوا عَنهُ وَأَكلِهِم أَموٰلَ النّاسِ بِالبٰطِلِ ۚ وَأَعتَدنا لِلكٰفِرينَ مِنهُم عَذابًا أَليمًا(161)
ف۳ یہود کی اگلی پچھلی سخت شرارتیں ذکر فرما کر جس سے ان کی سرکشی اور ان کا گناہوں پر دلیر ہونا ظاہر ہوگیا اب فرماتے ہیں کہ اسی واسطے ہم نے ان پر شریعت بھی سخت رکھی کہ ان کی سرکشی ٹوٹے تو اب یہ شبہ نہ رہا کہ تحریم طیبات تو ان پر تورات میں کی گئی تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مخالفت کرنا اور حضرت مریم پر تہمت لگانا نزول تورات کے بہت بعد میں ہوا تو سزا جرم سے مقدم کیسے ہو گئی اس تمام رکوع کا خلاصہ یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ سے اہل کتاب برابر ایک سے ایک زائد شرارت اور نافرمانی اور عہد شکنی اور حضرات انبیاء کو ایذاء رسانی کرتے چلے آئے ہیں اب اگر اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے عنادا تورات جیسی کتاب دفعتاً واحدۃً طلب کریں اور قرآن شریف جو سب کتابوں سے افضل ہے اس پر کفایت نہ کریں تو ان متعصب نالائقوں سے کیا مستبعد ہے ان کی اس قسم کی ناشائستہ حرکات سے تعجب مت کرو اور متحیر نہ ہو ان کی تمام حرکات چھوٹی بڑی اگلی پچھلی ہم کو خوب معلوم ہیں ہم نے بھی شریعت سخت ان کے لئے دنیا میں رکھی اور آخرت میں عذاب شدید ان کے واسطے تیار کر رکھا ہے۔(161)
لٰكِنِ الرّٰسِخونَ فِى العِلمِ مِنهُم وَالمُؤمِنونَ يُؤمِنونَ بِما أُنزِلَ إِلَيكَ وَما أُنزِلَ مِن قَبلِكَ ۚ وَالمُقيمينَ الصَّلوٰةَ ۚ وَالمُؤتونَ الزَّكوٰةَ وَالمُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ أُولٰئِكَ سَنُؤتيهِم أَجرًا عَظيمًا(162)
ف٤ یعنی بنی اسرائیل میں جن کا علم مضبوط ہے جیسے عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اور جو لوگ کہ صاحب ایمان ہیں وہ مانتے ہیں قرآن اور تورات و انجیل سب کو اور نماز کو قائم رکھنے والوں کا تو کیا کہنا ہے اور دینے والے زکوۃ کے اور ایمان رکھنے والے اللہ پر اور قیامت پر ایسے لوگوں کو ہم دیں گے بڑا ثواب بخلاف اول فریق کے کہ ان کے لئے عذاب سخت موجود ہے۔(162)
۞ إِنّا أَوحَينا إِلَيكَ كَما أَوحَينا إِلىٰ نوحٍ وَالنَّبِيّۦنَ مِن بَعدِهِ ۚ وَأَوحَينا إِلىٰ إِبرٰهيمَ وَإِسمٰعيلَ وَإِسحٰقَ وَيَعقوبَ وَالأَسباطِ وَعيسىٰ وَأَيّوبَ وَيونُسَ وَهٰرونَ وَسُلَيمٰنَ ۚ وَءاتَينا داوۥدَ زَبورًا(163)
ف۵ اہل کتاب اور مشرکین مکہ جملہ کفار قرآن مجید کی حقانیت اور صداقت میں طرح طرح سے بیہودہ شبہ پیدا کرتے۔ دیکھیئے اس موقع میں یہی کہہ دیا کہ جیسے تورات سب کی سب ایک دفعہ اتری تھی ایسے ہی تم بھی ایک کتاب آسمان سے لا دو تو ہم تم کو سچا جانیں بقول شخصے خوئے بدرا بہانہ بسیار۔ سو حق تعالٰی نے اس جگہ چند آیتیں نازل فرما کر اس کی حقیقت واضح کر دی اور وحی کی عظمت اور کفار کے سب خیالات اور شبہات بیہودہ کو رد کر دیا اور وحی الہٰی کی متابعت کو عامۃ اور قرآن مجید کی اطاعت کو تخصیص کے ساتھ بیان فرما کر بتلا دیا کہ حکم الہٰی کا ماننا سب پر فرض ہے کسی کا کوئی عذر اس میں نہیں چل سکتا۔ جو اس کے تسلیم کرنے میں تردد یا تامل یا انکار کرے وہ گمراہ اور بے دین ہے۔ اب یہاں سے تحقیقی جواب دیا جاتا ہے۔ ف ٦  اس سے معلوم ہوگیا کہ وحی خاص اللہ کا حکم اور اس کا پیام ہے جو پیغمبروں پر بھیجا جاتا ہے اور انبیائے سابقین پر جیسے وحی الہٰی نازل ہوئی ویسے ہی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالٰی نے اپنی وحی بھیجی تو جس نے اس کو مانا اس کو بھی ضرور ماننا چاہیے اور جس نے اس کا انکار کیا گویا ان سب کا منکر ہوگیا اور حضرت نوح علیہ السلام اور ان سے پچھلوں کے ساتھ مشابہت کی وجہ شاید یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے جو وحی شروع ہوئی تو اس وقت بالکل ابتدائی حالت تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام پر اس کی تکمیل ہوگئی گویا اوّل حالت محض تعلیمی حالت تھی حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں وہ حالت پوری ہو کر اس قابل ہوگئی کہ ان کا امتحان لیا جائے اور فرمانبرداروں کو انعام اور نافرمانوں کو سزا دی جائے۔ چنانچہ انبیائے اولوالعزم کا سلسلہ بھی حضرت نوح علیہ السلام سے ہی شروع ہوا اور وحی الہٰی سے سرتابی کرنے والوں پر بھی اوّل عذاب حضرت نوح علیہ السلام کے وقت سے شروع ہوا خلاصہ یہ کہ پہلے حکم الہٰی اور انبیاء کی مخالفت پر عذاب نازل نہیں ہوتا تھا بلکہ ان کو معذور سمجھ کر ان کو ڈھیل دی جاتی تھی اور سمجھانے ہی میں کوشش کی جاتی تھی حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں جب مذہبی تعلیم خوب ظاہر ہو چکی اور لوگوں کو حکم خداوندی کی متابعت کرنے میں کوئی خفا باقی نہ رہا تو اب نافرمانوں پر عذاب نازل ہوا۔ اوّل حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں طوفان آیا اس کے بعد حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت شعیب علیہم السلام وغیرہ کے زمانہ میں کافروں پر قسم قسم کے عذاب آئے تو آپ کی وحی کو حضرت نوح علیہ السلام اور ان سے پچھلوں کی وحی کے ساتھ تشبیہ دینے میں اہل کتاب اور مشرکین مکہ کو پوری تنبیہ کر دی گئی کہ جو آپ کی وحی یعنی قرآن کو نہ مانے گا وہ عذاب عظیم کا مستحق ہوگا ۔(163)
وَرُسُلًا قَد قَصَصنٰهُم عَلَيكَ مِن قَبلُ وَرُسُلًا لَم نَقصُصهُم عَلَيكَ ۚ وَكَلَّمَ اللَّهُ موسىٰ تَكليمًا(164)
ف١ حضرت نوح علیہ السلام کے بعد جو انبیاء ہوئے ان سب کو بالاجمال ذکر فرما کر جو ان میں اولوالعزم ہیں اور جو مشہور اور جلیل القدر ہیں ان کو تخصیص اور تفصیل کے ساتھ ذکر فرما دیا جس سے خوب معلوم ہوگیا کہ آپ کے اوپر جو وحی نازل ہوئی اس کا حق ہونا اور اس کا ماننا ایسا ہی ضروری ہے جیسا تمام اولوالعزم اور مشاہیر انبیاء کی وحی کو اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ انبیاء پر جو وحی آتی ہے کبھی فرشتہ پیغام لے کر آتا ہے کبھی کتاب لکھی ہوئی مل جاتی ہے کبھی بغیر پیغام اور بدون واسطہ کے خود اللہ تعالٰی اپنے رسول سے بات کرتا ہے مگر ان سب صورتوں میں چونکہ وہ اللہ کا ہی حکم ہے کسی دوسرے کا حکم نہیں تو بندوں پر اس کی اطاعت یکساں فرض ہے۔ بندوں تک پہنچنے کا طریقہ تحریر ہو خواہ تقریر ہو، خواہ پیغام ہو تو اب یہود کا یہ کہنا کہ تورات کی طرح پوری کتاب ایک دفعہ میں آسمان سے لاؤ گے تو ہم تم کو سچا جانیں گے ورنہ نہیں کتنی بے ایمانی اور حماقت ہے۔ جب وحی حکم الہٰی ہے اور اس کے نازل ہونے کی صورتیں البتہ متعدد ہیں تو پھر کسی صورت میں اس کے ماننے میں تردد اور انکار کرنا یا یہ کہنا کہ فلاں خاص طریقہ سے آئے گی تو مانوں گا ورنہ نہیں صریح کفر ہے اور کھلی حماقت۔(164)
رُسُلًا مُبَشِّرينَ وَمُنذِرينَ لِئَلّا يَكونَ لِلنّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعدَ الرُّسُلِ ۚ وَكانَ اللَّهُ عَزيزًا حَكيمًا(165)
ف٢ اللہ تعالٰی نے پیغمبروں کو برابر بھیجا کہ مومنوں کو خوشخبری سنائیں اور کافروں کو ڈرائیں تاکہ لوگوں کو قیامت کے دن اس عذر کی جگہ نہ رہے کہ ہم کو تیری مرضی اور غیر مرضی معلوم نہ تھی معلوم ہوتی تو ضرور اس پر چلتے۔ سو جب اللہ تعالٰی نے پیغمبروں کو معجزے دے کر بھیجا اور پیغمبروں نے راہ حق بتلائی تو اب دین حق کے قبول نہ کرنے میں کسی کا کوئی عذر نہیں سنا جاسکتا۔ وحی الہٰی ایسی قطعی حجت ہے کہ اس کے رو برو کوئی حجت نہیں چل سکتی بلکہ سب حجتیں قطع ہو جاتی ہیں اور یہ اللہ کی حکمت اور تدبیر ہے اور اگر زبردستی کرے تو کون روک سکتا ہے مگر اس کو پسند نہیں۔(165)
لٰكِنِ اللَّهُ يَشهَدُ بِما أَنزَلَ إِلَيكَ ۖ أَنزَلَهُ بِعِلمِهِ ۖ وَالمَلٰئِكَةُ يَشهَدونَ ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ شَهيدًا(166)
ف٣ یعنی وحی ہر پیغمبر کو آتی رہی یہ کچھ نئی بات نہیں سب کو معلوم ہے لیکن اس قرآن میں اللہ نے اپنا خاص علم اتارا اور اللہ اس حق کو ظاہر کر دے گا۔ چنانچہ جاننے والے جانتے ہیں کہ جو علوم اور حقائق قرآن مجید میں سے حاصل ہوئے اور برابر حاصل ہوتے رہیں گے وہ کسی کتاب سے نہیں ہوئے اور جس قدر ہدایت لوگوں کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی اور کسی سے نہیں ہوئی۔(166)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا وَصَدّوا عَن سَبيلِ اللَّهِ قَد ضَلّوا ضَلٰلًا بَعيدًا(167)
(167)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا وَظَلَموا لَم يَكُنِ اللَّهُ لِيَغفِرَ لَهُم وَلا لِيَهدِيَهُم طَريقًا(168)
(168)
إِلّا طَريقَ جَهَنَّمَ خٰلِدينَ فيها أَبَدًا ۚ وَكانَ ذٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسيرًا(169)
ف٤ قرآن مجید اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق اور توثیق کے بعد فرماتے ہیں کہ اب جو لوگ آپ سے منکر ہوئے اور تورات میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اور حالات موجود تھے ان کو چھپا لیا اور لوگوں پر کچھ کا کچھ ظاہر کر کے ان کو بھی دین حق سے باز رکھا۔ سو ایسوں کو نہ مغفرت نصیب ہوئی نہ ہدایت جس سے خوب واضح ہوگیا کہ ہدایت آپ کی مخالفت کا نام ہے جس سے یہود کو پوری سرزنش ہوگئی اور ان کے خیالات کی تغلیط واضح ہو گئی۔(169)
يٰأَيُّهَا النّاسُ قَد جاءَكُمُ الرَّسولُ بِالحَقِّ مِن رَبِّكُم فَـٔامِنوا خَيرًا لَكُم ۚ وَإِن تَكفُروا فَإِنَّ لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا(170)
ف۵ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب کی تصدیق اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین یعنی اہل کتاب کی تغلیط اور تضلیل بیان فرما کر اب عام سب لوگوں کو منادی کی جاتی ہے کہ اے لوگوں ہمارا رسول سچی کتاب اور سچا دین لیکر تمہارے پاس پہنچ چکا اب تمہاری خیریت اسی میں ہے کہ اس کی بات مانو اور نہ مانو گے تو خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالٰی ہی کا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اور تمہارے تمام احوال اور افعال سے خبردار ہے، تمہارے اعمال کا پورا حساب و کتاب ہو کر اس کا بدلہ ملے گا۔ فائدہ: اس ارشاد سے بھی صاف معلوم ہوگیا کہ وحی جو پیغمبر پر نازل ہو اس کا ماننا فرض اور اس کا انکار کفر ہے۔(170)
يٰأَهلَ الكِتٰبِ لا تَغلوا فى دينِكُم وَلا تَقولوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الحَقَّ ۚ إِنَّمَا المَسيحُ عيسَى ابنُ مَريَمَ رَسولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلقىٰها إِلىٰ مَريَمَ وَروحٌ مِنهُ ۖ فَـٔامِنوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۖ وَلا تَقولوا ثَلٰثَةٌ ۚ انتَهوا خَيرًا لَكُم ۚ إِنَّمَا اللَّهُ إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۖ سُبحٰنَهُ أَن يَكونَ لَهُ وَلَدٌ ۘ لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ وَكَفىٰ بِاللَّهِ وَكيلًا(171)
ف١ اہل کتاب اپنے انبیاء کی تعریف میں غلو سے کام لیتے اور حد سے نکل جاتے خدا اور خدا کا بیٹا کہنے لگتے۔ سو خدا تعالٰی فرماتا ہے کہ دین کی بات میں مبالغہ مت کرو اور جس سے اعتقاد ہو اس کی تعریف میں حد سے نہ بڑھنا چاہئے۔ جتنی بات تحقیق ہو اس سے زیادہ نہ کہے اور حق تعالٰی کی شان مقدس میں بھی وہی بات کہو جو سچی اور محقق ہو اپنی طرف سے کچھ مت کہو۔ تم نے یہ کیا غضب کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو کہ رسول اللہ ہیں اور اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے تھے ان کو وحی کے خلاف خدا کا بیٹا کہنے لگے اور تین خدا کے معتقد ہوگئے۔ ایک خدا، دوسرے عیسیٰ، تیسرے حضرت مریم۔ ان باتوں سے باز آؤ اللہ تعالٰی واحد اور یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور نہ کوئی اس کا بیٹا ہو سکتا ہے۔ اس کی ذات پاک اور اس سے منزہ اور مقدس ہے۔ یہ تمام خرابی اس کی ہے کہ تم نے وحی کی اطاعت اور پابندی نہ کی۔ وحی کی متابعت کرتے تو خدا کے لئے بیٹا نہ مانتے اور تین خدا کے قائل ہو کر صریح مشرک نہ ہوتے اور محمد رسول اللہ سید الرسل اور قرآن مجید افضل الکتب کی تکذیب کر کے آج ڈبل کافر نہ بنتے۔ فائدہ: اہل کتاب کے ایک فریق نے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رسول بھی نہ مانا اور قتل کرنا پسند کیا، جن کا ذکر پہلے گزرا۔ دوسرے فریق نے ان کو خدا کا بیٹا کہا دونوں کافر ہوگئے دونوں فریق کی گمراہی کا سبب یہی ہوا کہ وحی کےخلاف کیا۔ اس سے ظاہر ہوگیا کہ نجات وحی کی متابعت میں منحصر ہے۔ ف٢ یعنی آسمانوں اور زمین میں نیچے سے اوپر تک جو کچھ ہے سب اس کی مخلوق اور اس کی مملوک اور اس کے بندے ہیں پھر کہیے اس کا شریک یا اس کا بیٹا کون اور کیونکر ہو سکتا ہے اور اللہ تعالٰی سب کام بنانے والا ہے اور سب کی کار سازی کے لئے وہی کافی ہے اور کسی دوسرے کی حاجت نہیں، پھر بتلائیے اس کو شریک یا بیٹے کی حاجت کیسے ہو سکتی ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ نہ کسی مخلوق میں اس کے شریک بننے کی قابلیت اور لیاقت اور نہ اس کی ذات پاک میں اس کی گنجائش اور نہ اس کو اس کی حاجت جس سے معلوم ہو گیا کہ مخلوقات میں سے کسی کو خدا تعالٰی کا شریک یا بیٹا کہنا اس کا کام ہے جو ایمان اور عقل دونوں سے محروم ہو۔ فائدہ: مضمون بالا سے یہ سمجھ میں آگیا کہ جو کوئی حق تعالٰی کے لئے بیٹا یا کسی کو اس کا شریک مانتا ہے وہ حقیقت میں جمیع موجودات کو مخلوق باری اور باری تعالٰی کو خالق جملہ موجودات نہیں مانتا اور نیز اللہ تعالٰی کو سب کی حاجت براری اور کارسازی کے لئے کافی نہیں جانتا۔ گویا خدا کو خدائی سے نکال کر مخلوقات اور ممکنات میں داخل کر دیا تو اب ارشاد ( سبحانہ ان یکون لہ ولد) میں جس ناپاکی کی طرف اشارہ خفی تھا اس کا پتہ چل گیا اور فرزند حقیقی اور فرزند مجازی اور ظاہری دونوں میں وہ ناپاکی چونکہ برابر موجود ہے تو خوب سمجھ میں آگیا کہ اس کی ذات مقدس جیسے اس سے پاک ہے کہ اس کے بیٹا پیدا ہو ایسا ہی اس سے بھی پاک اور برتر ہے کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو بیٹا بنائے۔(171)
لَن يَستَنكِفَ المَسيحُ أَن يَكونَ عَبدًا لِلَّهِ وَلَا المَلٰئِكَةُ المُقَرَّبونَ ۚ وَمَن يَستَنكِف عَن عِبادَتِهِ وَيَستَكبِر فَسَيَحشُرُهُم إِلَيهِ جَميعًا(172)
ف٣ یعنی اللہ کا بندہ ہونا اور اس کی عبادت کرنا اور اس کے حکموں کو بجا لانا تو اعلیٰ درجہ کی شرافت اور عزت ہے حضرت مسیح علیہ السلام اور ملائکہ مقربین سے اس نعمت کی قدر اور ضرورت پوچھیے ان کو اس سے کیسے ننگ اور عار آسکتا ہے۔ البتہ ذلت اور غیرت تو اللہ کے سوا کسی دوسرے کی بندگی میں ہے جیسے نصاریٰ نے حضرت مسیح کو ابن اللہ اور معبود مان لیا اور مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں مان کر ان کی اور بتوں کی عبادت کرنے لگے سو ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب اور ذلت ہے۔(172)
فَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفّيهِم أُجورَهُم وَيَزيدُهُم مِن فَضلِهِ ۖ وَأَمَّا الَّذينَ استَنكَفوا وَاستَكبَروا فَيُعَذِّبُهُم عَذابًا أَليمًا وَلا يَجِدونَ لَهُم مِن دونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلا نَصيرًا(173)
ف٤ یعنی جو شخص اللہ تعالٰی کی بندگی سے ناک چڑھاوے گا اور سرکشی کرے گا تو وہ یونہی نہ چھوڑ دیا جائے گا بلکہ ایک روز سب کو اللہ کے سامنے جمع ہونا ہے اور حساب دینا ہے۔ سو جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے یعنی اللہ کی بندگی پوری بجا لائے ان کو ان کے کاموں کا پورا ثواب ملے گا بلکہ اللہ کے فضل سے بڑی بڑی نعمتیں ان کے ثواب سے زیادہ بھی ان کو عنایت ہوں گی اور جنہوں نے اللہ تعالٰی کی بندگی سے ناک چڑھائی اور سرکشی کی وہ عذاب عظیم میں گرفتار ہونگے اور کوئی ان کا خیر خواہ اور مددگار نہ ہوگا۔ جن کو اللہ کی بندگی میں شریک کر کے عذاب میں پڑے وہ بھی کام نہ آئیں گے۔ سو اب نصاریٰ خوب سمجھ لیں کہ ان دونوں صورتوں میں سے ان کے مناسب حال کیا ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کے موافق شان کیا ہے۔(173)
يٰأَيُّهَا النّاسُ قَد جاءَكُم بُرهٰنٌ مِن رَبِّكُم وَأَنزَلنا إِلَيكُم نورًا مُبينًا(174)
(174)
فَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا بِاللَّهِ وَاعتَصَموا بِهِ فَسَيُدخِلُهُم فى رَحمَةٍ مِنهُ وَفَضلٍ وَيَهديهِم إِلَيهِ صِرٰطًا مُستَقيمًا(175)
ف١ پہلے وحی الہٰی اور بالخصوص قرآن مجید کی عظمت اور اسکی حقانیت کا بیان اور اس کی متابعت اور اتباع کی تاکیدات کا ذکر تھا۔ اسی کے ذیل میں حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت اور ان کے ابن اللہ ہونے کا ذکر کیا تھا جس کے قائل نصاریٰ تھے۔ اس کی تردید اور ابطال کے بعد اب اخیر میں پھر اسی اصلی اور ضروری بات کی سب کو تاکید فرمائی جاتی ہے کہ اے لوگوں تمہارے پاس رب العالمین کی طرف سے حجت کامل اور نور روشن پہنچ چکا جو ہدایت کے لئے کافی اور وافی ہے یعنی قرآن مجید، اب کسی تامل اور تردد کی گنجائش نہیں۔ سو جو کوئی اللہ پر ایمان لائے گا اور اس مقدس کتاب کو مضبوط پکڑے گا وہ اللہ کی رحمت اور فضل میں داخل ہوگا اور براہ راست اس تک پہنچے گا اور جو اس کے خلاف کرے گا اس کی گمراہی اور خرابی اسی سے سمجھ لیجئے.(175)
يَستَفتونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفتيكُم فِى الكَلٰلَةِ ۚ إِنِ امرُؤٌا۟ هَلَكَ لَيسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُختٌ فَلَها نِصفُ ما تَرَكَ ۚ وَهُوَ يَرِثُها إِن لَم يَكُن لَها وَلَدٌ ۚ فَإِن كانَتَا اثنَتَينِ فَلَهُمَا الثُّلُثانِ مِمّا تَرَكَ ۚ وَإِن كانوا إِخوَةً رِجالًا وَنِساءً فَلِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ الأُنثَيَينِ ۗ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُم أَن تَضِلّوا ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ(176)
ف٢ شروع سورت میں آیت میراث میں کلالہ کی میراث کا ذکر گزر چکا ہے۔ اس کے بعد جو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے متعلق زیادہ تفصیل پوچھنی چاہی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ کلالہ کے معنی ہیں کمزور اور ضعیف۔ یہاں وہ شخص مراد ہے جس کے وارثوں میں باپ اور اولاد میں سے کوئی نہ ہو جیسا کہ پہلے بیان ہوا کیونکہ اصلی وارث والد اور ولد ہی ہیں جس کے یہ نہیں تو اس کے حقیقی بھائی بہن کو بیٹا بیٹی کا حکم ہے اور اگر حقیقی نہ ہوں تو یہی حکم سوتیلوں کا ہے جو کہ باپ میں شریک ہوں ایک بہن ہو تو آدھا اور دو بہنیں ہوں تو دو تہائی اور اگر بھائی اور بہن دونوں ہیں تو مرد کو دوہرا حصہ اور عورت کو اکہرا ملے گا اور اگر فقط بھائی ہوں بہن کوئی نہ ہو تو وہ بہن کے مال کے وارث ہونگے یعنی ان کا کوئی حصہ معین نہیں کیونکہ وہ عصبہ ہیں جیسا کہ آیت میں آگے یہ سب صورتیں مذکور ہیں۔ اب باقی رہ گئے وہ بھائی بہن جو صرف ماں میں شریک ہوں جن کو اخیافی کہتے ہیں سو ان کا حکم شروع سورت میں فرما دیا گیا ان کا حصہ معین ہے۔ ف٣ یعنی اگر کوئی مرد مر گیا اور اس نے ایک بہن چھوڑی نہ بیٹا چھوڑا نہ باپ تو اس کو میراث میں نصف مال ملے گا۔ ف٤ یعنی اور اگر اس کے برعکس ہو یعنی کوئی عورت لا ولد مر گئی اور اس نے بھائی اعیانی یا علاتی چھوڑا تو وہ بہن کے مال کا وارث ہوگا کیونکہ وہ عصبہ ہے اور اگر اس نے لڑکا چھوڑا تو بھائی کو کچھ نہ ملے گا اور لڑکی چھوڑی تو لڑکی سے جو بچے گا وہ اس بھائی کو ملے گا اور بھائی یا بہن اخیافی چھوڑے گی تو اس کے لئے چھٹا حصہ معین ہے جیسا کہ ابتداء سورت میں ارشاد ہوا۔ ف ٥ اور اگر دو سے زیادہ بہنیں چھوڑے تو ان کو بھی دو تہائی دیا جائیگا۔ ف ٦  کچھ مرد اور کچھ عورتیں یعنی کچھ بھائی اور کچھ بہنیں چھوڑیں تو بھائی کا دوہرا اور بہن کا اکہرا حصہ ہے جیسا کہ اولاد کا حکم ہے۔ ف٧ یعنی اللہ رحیم و کریم محض اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے اور انکو گمراہی سے بچانے کی غرض سے اپنے احکام حقہ صادقہ بیان فرماتا ہے جیسے یہاں میراث کلالہ کو بیان فرما دیا۔ اس کی اس میں کوئی غرض نہیں وہ سب سے غنی اور بے نیاز ہے تو اب جو اس مہربانی کی قدر نہ کرے بلکہ اس کے حکم سے انحراف کرے اس کی شقاوت کا کیا ٹھکانہ۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ بندہ کو جملہ احکام کی تابعداری لازم ہے۔ اگر ایک معمولی اور جزوی امر میں بھی خلاف کرے گا تو گمراہی ہے پھر جو لوگ اس کی ذات پاک اور اس کی صفات کمال میں اس کے حکم کا خلاف کرتے ہیں اور اپنی عقل اور اپنی خواہش کو اس کے مقابلہ میں اپنا مقتدا بناتے ہیں ان کی ضلالت اور خباثت کو اسی سے سمجھ لیجئے کہ کس درجہ کی ہوگی۔ ف ٨ اس سے پہلے معلوم ہوا تھا کہ حق سبحانہ اپنے بندوں کی ہدایت کو پسند فرماتا ہے۔ اب فرمایا کہ اس کو سب چیزیں معلوم ہیں تو مطلب یہ نکلا کہ مسائل دینیہ میں جو ضرورت پیش آئے اس کو پوچھ لو سو اس ارشاد میں صحابہ نے جو کلالہ کے مسئلہ میں استفسار فرمایا تھا اس کی تحسین کی طرف اور آئندہ کو ایسے سوالات کرنے کی ترغیب کی طرف اشارہ سمجھ میں آتا ہے اور یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے یعنی تم نہیں جانتے۔ تم تو یہ بھی نہیں بتلا سکتے کہ کلالہ اور اس کے سوا دیگر صورتوں میں جو حصہ مقرر فرمایا گیا اس کی وجہ حقیقت میں کیا ہے۔ پھر آدمی کی عقل اس قابل کب ہو سکتی ہے کہ اس کے بھروسے حق سبحانہ و تعالٰی کی ذات و صفات میں وحی کے خلاف پر جرأت کرے جو اپنے تعلقات اور اپنے اقارب کے فرق اور امتیاز سے عاجز ہو وہ ذات بے چون و بے چگوں اور اس کی صفات کو بدون اس کے بتلائے کیا سمجھ سکتا ہے۔ فائدہ: اس جگہ کلالہ کے حکم اور اس کے سبب نزول کو بیان فرمانے سے چند باتیں معلوم ہوئیں اوّل یہ کہ جیسے پہلے وَاِنْ تَکْفُرُوا فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِ فرما کر اس کے بعد بطریق تمثیل اہل کتاب کا حال ذکر فرمایا تھا ایسے ہی ارشاد فاما الذین اٰمَنُو بِاللّٰہِ وَاعْتَصَمُوا بہ الیٰ آخر الآیۃ کے بعد اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجمعین کو بطریق تمثیل ذکر فرمایا تاکہ وحی سے انحراف کرنے والوں کی گمراہی اور برائی اور وحی کا اتباع کرنے والوں کی حقانیت اور بھلائی خوب سمجھ میں آجائے۔ اسی کے ذیل میں دوسری بات یہ بھی ظاہر ہوگئی کہ اہل کتاب نے تو یہ غضب کیا کہ ذات اقدس سبحانہ و تعالٰی کے لئے شریک اور اولاد جیسے شنیع امر کو اپنا ایمان بنا لیا اور وحی الہٰی کا خم ٹھونک کر خلاف کیا اور اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت ہے کہ اصول ایمان اور عبادات تو درکنار معاملات جزئیہ اور معمولی مسائل متعلقہ میراث نکاح وغیرہ میں بھی وحی کے متجسس اور منتظر رہتے ہیں اور ہر امر میں رسول علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے منہ کو تکتے ہیں اپنی عقل اور خواہش کو حاکم نہیں سمجھتے۔ اگر ایک دفعہ میں تشفی نہ ہوئی تو مکرر حاضر خدمت ہو کر دریافت کرتے ہیں۔ مصرعہ: ۔ ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا۔ اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت سید المرسلین بھی بلا حکم وحی اپنی طرف سے حکم نہ فرماتے تھے اگر کسی امر میں حکم وحی موجود نہ ہوتا تو حکم فرمانے میں نزول وحی کا انتظار فرماتے جب وحی آتی تب حکم فرماتے۔ اس سے صاف معلوم ہوگیا کہ ذات پاک وحدہ لاشریک لہ کے سوا کوئی حاکم نہیں۔ چنانچہ آیات متعددہ میں ان الحکم الا للّٰہ وغیرہ صاف مذکور ہے باقی جو ہیں وہ سب واسطہ ہیں ان کے ذریعہ سے اوروں کو حکم الہٰی پہنچایا جاتا ہے البتہ اتنا فرق ہے کوئی واسطہ قریب ہے کوئی بعید جیسا حکم سلطانی پہنچانے کے لئے وزیراعظم اور دیگر مقربین شاہی اور حکام اعلیٰ اور ادنیٰ درجہ بدرجہ سب واسطہ ہوتے ہیں پھر اس سے زیادہ گمراہی کیا ہوگی کہ کسی امر میں وحیء الہٰی کے مقابلہ میں کوئی گمراہ کسی کی بات سنے اور اس پر عمل کرے۔ آنانکہ بجز روئے تو جائے نگر انند کو تہ نظر انند چہ کو تہ نظر انند نیز اشارہ ہے اس طرف کہ ایک دفعہ تمام کتاب کے نازل ہونے میں جیسا کہ اہل کتاب درخواست کرتے ہیں وہ خوبی نہیں جو حسب حاجت اور حسب موقع متفرق نازل ہونے میں ہے کیونکہ ہر کوئی اپنی ضرورت کے موافق اس صورت میں سوال کر سکتا ہے اور بذریعہ وحی متلو اس کو جواب مل سکتا ہے جیسا کہ اس موقع میں اور قرآن مجید کے بہت سے مواقع میں موجود ہے اور یہ صورت مفید تر ہونے کے علاوہ بوجہ شرافت ذکر خداوندی و عزت خطاب حق عزوجل ایسے فخر عظیم پر مشتمل ہے جو کسی امت کو نصیب نہیں ہوا۔ واللّٰہ ذوالفضل العظیم جس صحابی کی بھلائی میں یا اس کے سوال کے جواب میں کوئی آیت نازل ہوئی وہ اس کے مناقب میں شمار ہوتی ہے اور اختلاف کے موقع میں جس کی رائے یا جس کے قول کے موافق وحی متلو اتری قیامت تک ان کی خوبی اور نام نیک باقی رہے گا سو کلالہ کے متعلق سوال و جواب کا ذکر فرما کر اس طرح کے بالعموم سوالات اور جوابات کی طرف اشارہ فرما دیا اور شاید اسی اشارہ کی غرض سے سوال کو مطلق رکھا مسؤل عنہ کو سوال کے ساتھ ذکر نہ فرمایا بلکہ جواب میں اس کی تصریح فرمائی جس کی دوسری نظیر قرآن شریف میں نہیں اور نیز جواب کو بالتصریح حق تعالٰی کی طرف منسوب فرمایا واللہ اعلم واللہ الہادی۔ الحاصل جملہ احکام کے لئے وحی الہٰی منشا اور اصل ہے اور ہدایت اسی کی متابعت پر موقوف ہے اور کفر و ضلالت اسی کی مخالفت میں منحصر ہے اور چونکہ آپ کے زمانہ میں یہود و نصاریٰ اور جملہ مشرکین اور جملہ اہل ضلالت کی گمراہی کی جڑ یہی مخالفت تھی اس لئے حق تعالٰی نے اپنے کلام پاک میں بہت جگہ وحی کی متابعت کی خوبی اور اس کی مخالفت کی خرابی پر متنبہ فرمایا بالخصوص اس موقع میں تو دو رکوع اس مہتم بالشان مضمون کے لئے نازل فرمائے اور تفصیل اور تمثیل کے ساتھ بیان فرمایا شاید اسی وجہ سے امام بخاری رحمتہ اللہ نے اپنی کتاب میں باب " کَیْفَ کَانَ بَدْءُ الْوَحْی اِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلیَ اللّٰہ عَلَیْہَ وَسَلَّمَ " منعقد فرما کر آیت اِنَّا اَوْ حَیْنَا اِلَیْکَ کَمَا اَوْحَیْنَا اِلٰی نُوْحٍ وَّالنَّبِیِّیِنَ مِنْ بَعْدِہٖ کو ترجمۃ الباب میں داخل کیا اور ان دونوں رکوع کی طرف اشارہ کر گئے گویا مطلب یہ ہے وقولہ تعالےٰ انا او حینا الیک کما او حینا الٰی نوح والنبیین من بعدہ الٰی آخر مضمون الوحی واللہ اعلم۔(176)