An-Nabaa( النبأ)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ عَمَّ يَتَساءَلونَ(1)
ف ١    یعنی لوگ کس بات کا کھوج لگانے اور کس چیز کی تحقیق و تفتیش میں مشغول ہیں۔ کیا ان میں ایسی استعداد ہے کہ بہت پوچھ پاچھ کرنے سے وہ چیز ان کی سمجھ میں آجائے گی۔ ہرگز نہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ کفار جو از راہِ انکار و استہزاء آپس میں ایک دوسرے سے نیز پیغمبر اور مومنین سے سوال کرتے ہیں کہ ہاں صاحب! وہ قیامت کب آئے گی؟ ابھی کیوں نہیں آجاتی؟ جانتے ہو یہ کس چیز کی نسبت سوال کر رہے ہیں؟ وہ بہت عظیم الشان چیز ہے جس کا علم ان کو عنقریب ہو جائے گا۔ جب اپنی آنکھ سے اس کے ہولناک مناظر دیکھیں گے۔(1)
عَنِ النَّبَإِ العَظيمِ(2)
(2)
الَّذى هُم فيهِ مُختَلِفونَ(3)
ف ٢    یعنی قیامت کی خبر جس میں لوگوں کا اختلاف ہے، کوئی اس کے آنے پر یقین رکھتا ہے، کوئی منکر ہے کوئی شک میں پڑا ہے، کوئی کہتا ہے بدن اٹھے گا، کوئی کہتا ہے کہ سب عذاب و ثواب روح پر گزرے گا بدن سے کچھ تعلق نہیں۔ الیٰ غیر ذٰلک من الاختلافات۔ (3)
كَلّا سَيَعلَمونَ(4)
(4)
ثُمَّ كَلّا سَيَعلَمونَ(5)
ف٣    یعنی پیغمبروں نے ابتداءِ دنیا سے آج تک بہت کچھ سمجھایا، مگر لوگ اپنے اختلافات اور پوچھ پاچھ سے ہرگز باز آنے والے نہیں۔ اب قریب ہے کہ وہ ہولناک منظر ان کے سامنے آجائے اس وقت جان لیں گے کہ قیامت کیا چیز ہے اور ان کے سوالات و اختلافات کی حیثیت کیا تھی۔(5)
أَلَم نَجعَلِ الأَرضَ مِهٰدًا(6)
ف٤    جس پر سکون و اطمینان سے آرام کرتے اور کروٹیں بدلتے ہیں۔ (6)
وَالجِبالَ أَوتادًا(7)
ف ٥     جیسا کسی چیز میں میخ لگا دینے سے وہ چیز اپنی جگہ سے نہیں ملتی۔ ایسے ہی ابتداء میں زمین جو کانپتی اور لرزتی تھی، اللہ نے پہاڑ پیدا کر کے اس کے اضطراب اور کپکپی کو دور کیا۔گویا زمین کو ایک طرح کا سکون پہاڑوں سے حاصل ہوا۔(7)
وَخَلَقنٰكُم أَزوٰجًا(8)
ف ٦     یعنی مرد کے سکون و راحت کے لئے عورت کو اس کا جوڑا بنایا۔"و من ایاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنو ا الیھا۔" (روم۔ رکوع٣) یا ازواج سے مراد طرح طرح کی اشکال والوان وغیرہ ہوں۔(8)
وَجَعَلنا نَومَكُم سُباتًا(9)
ف٧    یعنی دن بھر کی دوڑ دھوپ سے تھک کر جب آدمی نیند لیتا ہے تو سب تعب اور تکان دور ہو جاتا ہے گویا نیند تو نام ہی سکون و استراحت کا ہے، آگے نیند کی مناسبت سے رات کا ذکر کرتے ہیں۔ (9)
وَجَعَلنَا الَّيلَ لِباسًا(10)
ف ٨     جیسے آدمی کپڑا اوڑھ کر اپنے بدن کو چھپا لیتا ہے۔ اسی طرح رات کی تاریکی مخلوق کی پردہ داری کرتی ہے اور جو کام چھپانے کے لائق ہوں عموماً رات کے اندھیرے میں کئے جاتے ہیں۔ اور حسی طور پر بھی شب کو کپڑا اوڑھنے کی ضرورت دن سے زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ نسبتاً وہ وقت خنکی اور ٹھنڈک کا ہوتا ہے۔(10)
وَجَعَلنَا النَّهارَ مَعاشًا(11)
ف٩    یعنی عموماً کاروبار اور کمائی کے دھندے دن میں کئے جاتے ہیں جن کا مقصد یہ ہی ہے کہ اپنی اور اپنے بال بچوں کی حوائج کی طرف سے دل کو سکون و اطمینان نصیب ہو۔ آگے رات دن کی مناسبت سے آسمانوں اور سورج کا ذکر فرماتے ہیں۔ یا یوں کہو کہ زمین کے مقابل آسمان کا بیان ہے۔(11)
وَبَنَينا فَوقَكُم سَبعًا شِدادًا(12)
ف١٠    یعنی سات آسمان بہت مضبوط بنائے۔ جن میں آج تک اس قدر مدت گزرنے کے باوجود کوئی رخنہ نہیں پڑا۔ (12)
وَجَعَلنا سِراجًا وَهّاجًا(13)
ف١١    یعنی آفتاب جس میں روشنی اور گرمی دونوں وصف موجود ہیں۔ (13)
وَأَنزَلنا مِنَ المُعصِرٰتِ ماءً ثَجّاجًا(14)
ف ١٢     نچڑنے والی بدلیاں یا نچوڑنے والی ہوائیں۔(14)
لِنُخرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَباتًا(15)
(15)
وَجَنّٰتٍ أَلفافًا(16)
ف١٣    یعنی نہایت گنجان اور گھنے باغ، یا یہ مراد ہو کہ ایک ہی زمین میں مختلف قسم کے درخت اور باغ پیدا کئے۔ (تنبیہ) قدرت کی عظیم الشان نشانیاں بیان فرما کر بتلا دیا کہ جو خدا ایسی قدرت و حکمت والا ہے، کیا اسے تمہارا دوسری مرتبہ پیدا کر دینا اور حساب و کتاب کے لئے اٹھانا کچھ مشکل ہوگا؟ اور کیا اس کی حکمت کے یہ بات منافی نہ ہوگی کہ اتنے بڑے کارخانہ کو یوں ہی غلط ملط بے نتیجہ پڑا چھوڑ دیا جائے۔ یقینا دنیا کے اس طریل سلسلہ کا کوئی صاف نتیجہ اور انجام ہونا چاہیے اسی کو ہم " آخرت " کہتے ہیں۔ جس طرح نیند کے بعد بیداری اور رات کے بعد دن آتا ہے، ایسے ہی سمجھ لو کہ دنیا کے خاتمہ پر آخرت کا آنا یقینی ہے۔(16)
إِنَّ يَومَ الفَصلِ كانَ ميقٰتًا(17)
ف١٤    فیصلہ کا دن وہ ہوگا جس میں نیک کو بد سے بالکلیہ الگ کر دیا جائے کہ کسی قسم کا اشتراک و اجتماع باقی نہ رہے ہر نیکی اپنے معدن میں اور ہر بدی اپنے مرکز پر جا پہنچے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کامل امتیاز وافتراق اس دنیا میں نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہاں رہتے ہوئے زمین، آسمان، چاند، سورج، رات دن، سونا جاگنا، بارش، بادل، باغ، کھیت، اور بیوی بچے تمام نیکوں اور بدوں میں مشترک ہیں ہر کافر اور مسلم ان سامانوں سے یکساں منتفع ہوتا ہے۔ اس لئے ضرور ہے کہ "یوم الفصل"ایک دن موجودہ نظام عالم کے ختم کئے جانے کے بعد ہو۔ اس کا تعین اللہ کے علم میں ٹھہرا ہوا ہے۔(17)
يَومَ يُنفَخُ فِى الصّورِ فَتَأتونَ أَفواجًا(18)
ف١٥    یعنی کثرت سے الگ الگ جماعتیں اور ٹولیاں بن کر جن کی تقسیم ان کے ممتاز عقائد و اعمال کی بناء پر ہوگی۔(18)
وَفُتِحَتِ السَّماءُ فَكانَت أَبوٰبًا(19)
ف١٦    یعنی آسمان پھٹ کر ایسا ہو جائے گا گویا دروازے ہی دروازے ہیں۔ شاید اس کی طرف اشارہ ہے جو دوسری جگہ فرمایا۔ ویوم تشقق السماء بالغمام ونزل الملائکۃ تنزیلا۔ (فرقان۔ رکوع٣)۔(19)
وَسُيِّرَتِ الجِبالُ فَكانَت سَرابًا(20)
ف١    جیسے چمکتی ریت پر دور سے پانی کا گمان ہو جاتا ہے، ایسے ہی ان پر پہاڑوں کا گمان ہوگا۔ حالانکہ واقع میں وہ پہاڑ نہیں رہیں گے محض ریت کے تودے رہ جائیں گے۔(20)
إِنَّ جَهَنَّمَ كانَت مِرصادًا(21)
(21)
لِلطّٰغينَ مَـٔابًا(22)
ف ٢    یعنی دوزخ شریروں کی تاک میں ہے اور ان ہی کا ٹھکانا ہے،(22)
لٰبِثينَ فيها أَحقابًا(23)
ف٣    جن کا کوئی شمار نہیں۔ قرن پہ قرن گزرتے چلے جائیں گے۔ اور ان کی مصیبت کا خاتمہ نہ ہوگا۔(23)
لا يَذوقونَ فيها بَردًا وَلا شَرابًا(24)
(24)
إِلّا حَميمًا وَغَسّاقًا(25)
ف٤    یعنی نہ ٹھنڈک کی راحت پائیں گے، نہ کوئی خوشگوار چیز پینے کو ملے گی۔ ہاں گرم پانی ملے گا جس کی سوزش سے منہ جھلس جائیں گے اور آنتیں کٹ کر پیٹ سے باہر آپڑیں گیں اور دوسری چیز پیپ ملے گی جو دوزخیوں کے زخموں سے نکل کر بہے گی۔ اعاذنا اللّٰہ منھا و من سائر انواع العذاب فی الدنیا والاخرۃ۔(25)
جَزاءً وِفاقًا(26)
(26)
إِنَّهُم كانوا لا يَرجونَ حِسابًا(27)
(27)
وَكَذَّبوا بِـٔايٰتِنا كِذّابًا(28)
ف ٥     یعنی جس چیز کی امید ان کو نہ تھی وہ ہی سامنے آئی۔ اور جس بات کو جھٹلاتے تھے آنکھوں سے دیکھ لی۔ اب دیکھیں کیسے جھٹلاتے اور مکرتے ہیں۔(28)
وَكُلَّ شَيءٍ أَحصَينٰهُ كِتٰبًا(29)
ف ٦     یعنی ہرچیز اللہ کے علم میں ہے اور اسی علم محیط کے موافق دفاتر میں باقاعدہ مندرج ہے۔ کوئی نیک و بد عمل اس کے احاطہ سے باہر نہیں۔ رتی رتی کا بھگتان کیا جائے گا۔(29)
فَذوقوا فَلَن نَزيدَكُم إِلّا عَذابًا(30)
ف٧    یعنی جیسے تم تکذیب و انکار میں برابر بڑھتے چلے گئے اور اگر بے اختیار موت نہ آجاتی تو ہمیشہ بڑھتے ہی چلے جاتے۔ اب بڑے عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔ ہم بھی عذاب بڑھاتے ہی چلے جائیں گے۔ جس میں کبھی تخفیف نہ ہوگی۔(30)
إِنَّ لِلمُتَّقينَ مَفازًا(31)
(31)
حَدائِقَ وَأَعنٰبًا(32)
(32)
وَكَواعِبَ أَترابًا(33)
ف ٨     یعنی نو خاستہ عورتیں جن کی جوانی پورے ابھار پر ہوگی، اور سب ایک ہی سن و سال کی ہوں گی۔(33)
وَكَأسًا دِهاقًا(34)
ف٩    یعنی شرابِ طہور کے لبریز جام۔(34)
لا يَسمَعونَ فيها لَغوًا وَلا كِذّٰبًا(35)
ف١٠    یعنی جنت میں بیہودہ بکواس یا جھوٹ فریب کچھ نہ ہوگا۔ نہ کوئی کسی سے جھگڑے گا کہ جھوٹ بولنے اور مکرنے کی ضرورت پیش آئے۔(35)
جَزاءً مِن رَبِّكَ عَطاءً حِسابًا(36)
ف١١    یعنی رتی رتی کا حساب ہو کر بدلہ ملے گا اور بہت کافی بدلہ ملے گا،(36)
رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُمَا الرَّحمٰنِ ۖ لا يَملِكونَ مِنهُ خِطابًا(37)
ف ١٢     یہ بدلہ بھی محض بخشش اور رحمت سے ہے ورنہ ظاہر ہے، اللہ پر کسی کا قرض یا جبر نہیں۔ آدمی اپنے عمل کی بدولت عذاب سے بچ جائے یہ ہی مشکل ہے، رہی جنت، وہ تو خالص اس کے فضل ورحمت سے ملتی ہے اس کو ہمارے عمل کا بدلہ قرار دینا یہ دوسری ذرہ نوازی اور عزت افزائی ہے۔ ف١٣    یعنی باوجود اس قدر لطف ورحمت کے عظمت و جلال ایسا ہے کہ کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا۔(37)
يَومَ يَقومُ الرّوحُ وَالمَلٰئِكَةُ صَفًّا ۖ لا يَتَكَلَّمونَ إِلّا مَن أَذِنَ لَهُ الرَّحمٰنُ وَقالَ صَوابًا(38)
ف١٤    روح فرمایا جانداروں کو یا " روح القدس" ( جبرائیل) مراد ہوں اور بعض مفسرین کے نزدیک وہ روح اعظم مراد ہے جس سے بے شمار روحوں کا انشعاب ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔ ف١٥    یعنی اس کے دربار میں جو بولے گا اس کے حکم سے بولے گا۔ اور بات بھی وہ ہی کہے گا، جو ٹھیک اور معقول ہو مثلاً کسی غیر مستحق کی سفارش نہ کرے گا۔ مستحق سفارش کے وہ ہی ہیں جنہوں نے دنیا میں سب باتوں سے زیادہ سچی اور ٹھیک بات کہی تھی یعنی لا الہٰ الا اللّٰہ۔(38)
ذٰلِكَ اليَومُ الحَقُّ ۖ فَمَن شاءَ اتَّخَذَ إِلىٰ رَبِّهِ مَـٔابًا(39)
ف١    یعنی وہ دن آنا تو ضروری ہے۔ اب جو کوئی اپنی بہتری چاہے اس وقت کی تیاری کر رکھے۔(39)
إِنّا أَنذَرنٰكُم عَذابًا قَريبًا يَومَ يَنظُرُ المَرءُ ما قَدَّمَت يَداهُ وَيَقولُ الكافِرُ يٰلَيتَنى كُنتُ تُرٰبًا(40)
ف ٢    یعنی سب اچھے برے، اگلے پچھلے اعمال سامنے ہوں گے۔ ف٣    یعنی مٹی ہی رہتا آدمی نہ بنتا کہ آدمی بن کر ہی اس حساب و کتاب کی مصیبت میں گرفتار ہونا پڑا۔(40)