Al-i'Imran( آل عمران)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الم(1)
الم(1)
اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ الحَىُّ القَيّومُ(2)
ف ۱  نجران کے ساٹھ عیسائیوں کا ایک موقرو معزز وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس میں تین شخص عبدالمسیح عاقب بحیثیت امارت وسیادت کے، ایہم السید بلحاظ رائے و تدبیر کے، اور ابو حارثہ بن علقمہ باعتبار سب سے بڑے مذہبی عالم اور لاٹ پادری ہونے کے عام شہرت اور امتیاز رکھتے تھے۔ یہ تیسرا شخص اصل میں عرب کے مشہور قبیلہ "بنی بکر بن وائل" سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر پکا نصرانی بن گیا۔ سلاطین روم نے اسکی مذہبی صلابت اور مجد و شرف کو دیکھتے ہوئے بڑی تعظیم و تکریم کی۔ علاوہ بیش قرار مالی امداد کے اسکے لئے گرجے تعمیر کئے اور امور مذہبی کے اعلیٰ منصب پر مامور کیا۔ یہ وفد بارگاہ رسالت میں بڑی آن بان سے حاضر ہوا اور متنازع فیہ مسائل میں حضور سے گفتگو کی جس کی پوری تفصیل محمد بن اسحاق کی سیرۃ میں منقول ہے۔ سورہ "آل عمران" کا ابتدائی حصہ تقریباَ اسّی نوے آیات تک اسی واقعہ میں نازل ہوا عیسائیوں کا پہلا اور بنیادی عقیدہ یہ تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام بعینہٖ خدا یا خدا کے بیٹے یا تین خداؤں میں سے ایک ہیں۔ سورہ ہذا کی پہلی آیت میں توحید خالص کا دعویٰ کرتے ہوئے خدا تعالٰی کی جو صفات "حیی قیوم" بیان کی گئیں وہ عیسائیوں کے اس دعوے کو صاف طور پر باطل ٹھہراتی ہیں۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران مناظرہ میں ان سے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالٰی حییُ (زندہ) ہے جس پر کبھی موت طاری نہیں ہو سکتی۔ اسی نے تمام مخلوقات کو وجود عطا کیا اور سامان بقا پیدا کر کے انکو اپنی قدرت کاملہ سے تھام رکھا ہے۔ برخلاف اسکے عیسیٰ علیہ السلام پر یقیناَ موت و فنا آکر رہے گی۔ اور ظاہر ہے جو شخص خود اپنی ہستی کو برقرار نہ رکھ سکے دوسری مخلوقات کی ہستی کیا برقرار رکھ سکتا ہے۔ "نصاریٰ" نے سن کر اقرار کیا (کہ بیشک صحیح ہے) شاید انہوں نے غنیمت سمجھا ہوگا کہ آپ اپنے اعتقاد کے موافق "عیسیٰ یاتی علیہ الفناء" کا سوال کر رہے ہیں یعنی عیسیٰ پر فنا ضرور آئیگی، اگر جواب نفی میں دیا تو آپ ہمارے عقیدہ کے موافق کہ حضرت عیسیٰ کو عرصہ ہوا موت آچکی ہے۔ ہم کو اور زیادہ صریح طور پر ملزم اور مفحم کر سکیں گے۔ اس لئے لفظی مناقشہ میں پڑنا مصلحت نہ سمجھا۔ اور ممکن ہے یہ لوگ ان فرقوں میں سے ہوں جو عقیدہ اسلام کے موافق مسیح علیہ السلام کے قتل و صلب کا قطعاَ انکار کرتے تھے اور رفع جسمانی کے قائل تھے جیسا کہ حافظ ابن تیمیہ نے "الجواب الصحیح" میں اور "الفارق بین المخلوق و الخالق" کے مصنف نے تصریح کی ہے کہ شام و مصر کے نصاریٰ عموما اسی عقیدہ پر تھے مدت کے بعد پولوس نے عقیدہ صلب کی اشاعت کی۔ پھر یہ خیال یورپ سے مصر و شام وغیرہ پہنچا بہرحال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان عیسیٰ اتی علیہ الفناء کے بجائے یاتی علیہ الفناء فرمانا، درآں حالیکہ پہلے الفاظ تردید الوہیتہ مسیح کے موقع پر زیادہ صاف اور مسکت ہوتے۔ ظاہر کرتا ہے کہ موقع الزام میں بھی مسیح علیہ السلام پر موت سے پہلے لفظ کا اطلاق آپ نے پسند نہیں کیا۔(2)
نَزَّلَ عَلَيكَ الكِتٰبَ بِالحَقِّ مُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَيهِ وَأَنزَلَ التَّورىٰةَ وَالإِنجيلَ(3)
ف۲   یعنی قرآن کریم جو عین حکمت کے موافق نہایت بروقت سچائی اور انصاف کو اپنی آغوش میں لے کر اترا۔(3)
مِن قَبلُ هُدًى لِلنّاسِ وَأَنزَلَ الفُرقانَ ۗ إِنَّ الَّذينَ كَفَروا بِـٔايٰتِ اللَّهِ لَهُم عَذابٌ شَديدٌ ۗ وَاللَّهُ عَزيزٌ ذُو انتِقامٍ(4)
ف۳    یعنی قرآن اگلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اگلی کتابیں (تورات و انجیل وغیرہ) پہلے سے قرآن اور اسکے لانے والے کی طرف لوگوں کی راہنمائی کر رہی تھیں اور اپنے اپنے وقت میں مناسب احکام و ہدایات دیتی تھیں۔ گو یا بتلا دیا کہ "الوہیت" یا "ابنیت مسیح" کا عقیدہ کسی آسمانی کتاب میں موجود نہ تھا۔ کیونکہ اصول دین کے اعتبار سے تمام کتب سماویہ متفق و متحد ہیں۔ مشرکانہ عقائد کی تعلیم کبھی نہیں دی گئی۔ ف ٤     یعنی ہر زمانہ کے مناسب ایسی چیزیں اتاریں جو حق و باطل، حلال و حرام اور جھوٹ سچ کے درمیان فیصلہ کرنے والی ہوں۔ اس میں قرآن کریم، کتب سماویہ، معجزات انبیاء سب داخل ہوگئے اور ادھر بھی اشارہ ہو گیا کہ جن مسائل میں یہود و نصاریٰ جھگڑتے چلے آرہے ہیں ان اختلافات کا فیصلہ بھی قرآن کے ذریعہ سے کر دیا گیا۔ ف۵   یعنی ایسے مجرموں کو نہ سزا دیئے بغیر چھوڑے گا نہ وہ اسکے زبردست اقتدار سے چُھوٹ کر بھاگ سکیں گے۔ اسمیں بھی الوہیت مسیح کے ابطال کی طرف لطیف اشارہ ہو گیا۔ کیونکہ جو اختیار و اقتدار کلی خدا کے لئے ثابت کیا گیا، ظاہر ہے وہ مسیح میں نہیں پایا جاتا۔ بلکہ نصاریٰ کے نزدیک حضرت مسیح کسی کو سزا تو کیا دے سکتے خود اپنے کو باوجود سخت تضرع والحاح کے ظالموں کے پنجہ سے نہ چھڑا سکے۔ پھر خدا یا خدا کا بیٹا کیسے بن سکتے ہیں؟ بیٹا وہی کہلاتا ہے جو باپ کی نوع سے ہو۔ لہٰذا خدا کا بیٹا خدا ہی ہونا چاہیئے۔ ایک عاجز مخلوق کو حقیقتہ قادر مطلق کا بیٹا کہنا، باپ اور بیٹے دونوں پر سخت عیب لگانا ہے۔ العیاذباللہ۔(4)
إِنَّ اللَّهَ لا يَخفىٰ عَلَيهِ شَيءٌ فِى الأَرضِ وَلا فِى السَّماءِ(5)
ف ٦     یعنی جس طرح اسکا اقتدار و اختیار کامل ہے، علم بھی محیط ہے، عالم کی کوئی چھوٹی بڑی چیز ایک سیکنڈ کے لئے اس سے غائب نہیں سب مجرم و بری، اور تمام جُرموں کی نوعیت و مقدار اس کے علم میں ہے۔ مجرم بھاگ کر روپوش ہونا چاہے تو کہاں ہو سکتا ہے؟ یہیں سے تنبیہ کر دی گئی کہ مسیح علیہ السلام خدا نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ایسا علم محیط ان کو حاصل نہ تھا۔ وہ اسی قدر جانتے تھے جتنا حق تعالٰی ان کو بتلا دیتا تھا۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب میں خود نصاری نجران نے اقرار کیا اور آج بھی اناجیل مروجہ سے ثابت ہے۔(5)
هُوَ الَّذى يُصَوِّرُكُم فِى الأَرحامِ كَيفَ يَشاءُ ۚ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(6)
ف۷  یعنی اپنے علم و حکمت کے مطابق کمال قدرت سے جیسا اور جس طرح چاہا ماں کے پیٹ میں تمہارا نقشہ بنایا مذکر، مونث، خوبصورت، بدصورت، جیسا پیدا کرنا تھا کر دیا۔ ایک پانی کے قطرہ کو کتنی پلٹیاں دے کر آدمی کی صورت عطا فرمائی۔ جس کی قدرت و صنعت کا یہ حال ہے کیا اس کے علم میں کمی ہو سکتی ہے۔ یا کوئی انسان جو خود بھی بطن مادر کی تاریکیوں میں رہ کر آیا ہو اور عام بچوں کی طرح کھاتا پیتا، پیشاب پا خانہ کرتا ہو، اس خداوند قدوس کا بیٹا یا پوتا کہلایا جا سکتا ہے؟ کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ اَفَوَاھِہِمْ اِن یَّقُوْلُوْنَ اِلَّاکَذِباً۔ عیسائیوں کا سوال تھا کہ جب مسیح کا ظاہری باپ کوئی نہیں تو بجز خدا کے کس کو باپ کہیں۔ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَاءُ میں اس کا جواب بھی ہو گیا۔ یعنی خدا کو قدرت ہے رحم میں جس طرح چاہے آدمی کا نقشہ تیار کر دے۔ خواہ ماں باپ کے ملنے سے یا صرف ماں کی قوت منفعلہ سے۔ اسی لئے آگے فرمایا "ھُوَالْعَزِیْزُ ا لْحَکِیْمُ ' یعنی زبردست ہے جس کی قدرت کو کوئی محدود نہیں کر سکتا۔ اور ـ"حکیم" ہے جہاں جیسا مناسب جانتا ہے کرتا ہے۔ "حواء" کو بدون ماں کے "مسیح" کو بدون باپ کے، "آدم" کو بدون ماں باپ دونوں کے پیدا کر دیا۔ اسکی حکمتوں کا احاطہ کون کر سکے۔(6)
هُوَ الَّذى أَنزَلَ عَلَيكَ الكِتٰبَ مِنهُ ءايٰتٌ مُحكَمٰتٌ هُنَّ أُمُّ الكِتٰبِ وَأُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذينَ فى قُلوبِهِم زَيغٌ فَيَتَّبِعونَ ما تَشٰبَهَ مِنهُ ابتِغاءَ الفِتنَةِ وَابتِغاءَ تَأويلِهِ ۗ وَما يَعلَمُ تَأويلَهُ إِلَّا اللَّهُ ۗ وَالرّٰسِخونَ فِى العِلمِ يَقولونَ ءامَنّا بِهِ كُلٌّ مِن عِندِ رَبِّنا ۗ وَما يَذَّكَّرُ إِلّا أُولُوا الأَلبٰبِ(7)
ف ۱  نصاریٰ نجران نے تمام دلائل سے عاجز ہو کر بطور معارضہ کہا تھا کہ آخر آپ حضرت مسیح کو "کلمۃ اللہ" اور "روح اللہ" مانتے ہیں۔ بس ہمارے اثبات مدعا کیلئے یہ الفاظ کافی ہیں۔ یہاں اسکا تحقیقی جواب ایک عام اصول اور ضابطہ کی صورت میں دیا جس کے سمجھ لینے کے بعد ہزاروں نزاعات و مناقشات کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اسکو یوں سمجھو کہ قرآن کریم بلکہ تمام کتب الہٰیہ میں دو قسم کی آیات پائی جاتی ہیں ایک وہ جن کی مراد معلوم و متعین ہو، خواہ اس لئے کہ لغت و ترکیب وغیرہ کے لحاظ سے الفاظ میں کوئی ابہام و اجمال نہیں نہ عبارت کئی معنیٰ کا احتمال رکھتی ہے نہ جو مدلول سمجھا گیا وہ عام قواعد مسلمہ کے مخالف ہے۔ اور یا اس لئے کہ عبارت و الفاظ میں گولغۃً کئی معنیٰ کا احتمال ہو سکتا تھا، لیکن شارع کی نصوص مستفیضہ یا اجماع معصوم یا مذہب کے عام اصول مسلمہ سے قطعاَ متعین ہو چکا کہ متکلم کی مراد وہ معنیٰ نہیں، یہ ہے۔ ایسی آیات کو محکمات کہتے ہیں اور فی الحقیقت کتاب کی ساری تعلیمات کی جڑ اور اصل اصول یہ ہی آیات ہوتی ہیں۔ دوسری قسم آیات کی "متشابہات" کہلاتی ہے۔ یعنی جنکی مراد معلوم و متعین کرنے میں کچھ اشتباہ والتباس واقع ہو جائے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس دوسری قسم کی آیات کو پہلی قسم کی طرف راجع کر کے دیکھنا چاہیے جو معنیٰ اسکے خلاف پڑیں انکی قطعاَ نفی کی جائے اور متکلم کی مراد وہ سمجھی جائے جو "آیات محکمات" کے مخالف نہ ہو۔ اگر باوجود اجتہاد وسعی بلیغ کے متکلم کی مراد کی پوری پوری تعیین نہ کر سکیں تو دعویٰ ہمہ دانی کر کے ہم کو حد سے گزرنا نہیں چاہیئے۔ جہاں قلت علم اور قصور استعداد کی وجہ سے بہت سے حقائق پر ہم دسترس نہیں پا سکتے اسکو بھی اسی فہرست میں شامل کرلیں۔ مگر زنہار ایسی تاویلات اور ہیر پھیر نہ کریں جو مذہب کے اصول مسلمہ اور آیات مُحکمہ کے خلاف ہوں مثلا قرآن حکیم نے مسیح علیہ السلام کی نسبت تصریح کر دی "اِنْ ہُوَ اِلاَّ عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْہِ" یا "اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَاللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ خَلَقَہ، مِنْ تُرَابٍ الخ" یا "ذَلِکَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِی فِیْہِ یَمْتَرُوْنَ مَاکَانَ لِلّٰہِ اَنْ یَتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ سُبْحَانَہ، " اور جا بجا انکی الوہیت و ابنیت کا رد کیا۔ اب ایک شخص ان سب محکمات سے آنکھیں بند کر کے "کَلِمَتُہ، اَلْقَاھَااِلیٰ مَرْیَمَ وَرُوْحٌ مِّنْہُ" وغیرہ متشابہات کو لے دوڑے اور اسکے وہ معنیٰ چھوڑ کر جو محکمات کے موافق ہوں ایسے سطحی معنیٰ لینے لگے جو کتاب کی عام تصریحات اور متواتر بیانات کے منافی ہوں، یہ کجروی اور ہٹ دھرمی نہیں تو اور کیا ہوگی بعض قاسی القلب تو چاہتے ہیں کہ اس طرح مغالطہ دے کر لوگوں کو گمراہی میں پھنسا دیں اور بعض کمزور عقیدہ والے ڈھلمل یقین ایسے متشابہات سے اپنی رائے و ہوا کے مطابق کھینچ تان کر مطلب نکالنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کا صحیح مطلب صرف اللہ ہی کو معلوم ہے وہ ہی اپنے کرم سے جس کو جس قدر حصہ پر آگاہ کرنا چاہے کر دیتا ہے جو لوگ مضبوط علم رکھتے ہیں وہ محکمات و متشابہات سب کو حق جانتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ دونوں قسم کی آیات ایک ہی سرچشمہ سے آئی ہیں جن میں تناقض و تہافت کا امکان نہیں۔ اسی لئے وہ متشابہات کو محکمات کی طرف لوٹا کر مطلب سمجھتے ہیں۔ اور جو حصہ انکے دائرہ فہم سے باہر ہوتا ہے اسے اللہ پر چھوڑتے ہیں کہ وہ ہی بہتر جانے ہم کو ایمان سے کام ہے (تنبیہ) بندہ کے نزدیک اس آیت کا مضمون "سورہ حج" کی آیت "وَمآاَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلاَّ اِذَاتَمَنّٰی الیٰ آخرہا" کے مضمون سے بیحد مشابہ ہے جسے انشاء اللہ اسکے موقع پر بیان کیا جائے گا۔(7)
رَبَّنا لا تُزِغ قُلوبَنا بَعدَ إِذ هَدَيتَنا وَهَب لَنا مِن لَدُنكَ رَحمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الوَهّابُ(8)
ف۲    یعنی راسخین فی العلم اپنے کمال علمی اور قوت ایمانی پر مغرور و مطمئن نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ حق تعالٰی سے استقامت اور مزید فضل و عنایت کے طلبگار رہتے ہیں تاکہ کمائی ہوئی پونجی ضائع نہ ہو جائے اور خدا نکردہ دل سیدھے ہونے کے بعد کج نہ کر دیئے جائیں۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (امت کو سنانے کے لئے) اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے ــ"یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلیٰ دِیْنِکَ"(8)
رَبَّنا إِنَّكَ جامِعُ النّاسِ لِيَومٍ لا رَيبَ فيهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لا يُخلِفُ الميعادَ(9)
ف ۳   وہ دن ضرور آکر رہے گا اور "زائغین" (کجرو) جن مسائل میں جھگڑتے تھے سب کا دو ٹوک فیصلہ ہو جائے گا۔ پھر ہر ایک مجرم کو اپنی کجروی اور ہٹ دھرمی کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ اسی خوف سے ہم انکے راستہ سے بیزار اور آپ کی رحمت و استقامت کے طالب ہوتے ہیں۔ ہمارا زائغین کے خلاف راستہ اختیار کرنا کسی بدنیتی اور نفسانیت کی بنا پر نہیں محض اخروی فلاح مقصود ہے۔(9)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا لَن تُغنِىَ عَنهُم أَموٰلُهُم وَلا أَولٰدُهُم مِنَ اللَّهِ شَيـًٔا ۖ وَأُولٰئِكَ هُم وَقودُ النّارِ(10)
ف ٤     قیامت کے ذکر کے ساتھ کافروں کا انجام بھی بتلا دیا کہ ان کو کوئی چیز دنیا و آخرت میں خدائی سزا سے نہیں بچا سکتی۔ جیسا کہ میں ابتداء سورۃ میں لکھ چکا ہوں۔ ان آیات میں اصلی خطاب وفد "نجران" کو تھا جسے عیسائی مذہب و قوم کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت کہنا چاہیے۔ امام فخر الدین رازی نے محمد بن اسحاق کی سیرت سے نقل کیا ہے کہ جس وقت یہ وفد "نجران" سے بقصد مدینہ روانہ ہوا تو انکا بڑا پادری ابوحارثہ بن علقمہ خچر پر سوار تھا۔ خچر نے ٹھوکر کھائی تو اس کے بھائی کرز بن علقمہ کی زبان سے نکلا " تعس الابعد" (ابعد سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ العیاذ باللہ) ابو حارثہ نے کہا "تعست امک" کرز نے حیران ہو کر اس کلمہ کا سبب پوچھا۔ ابو حارثہ نے کہا واللہ ہم خوب جانتے ہیں کہ یہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) وہ ہی نبی منتظر ہیں جن کی بشارت ہماری کتابوں میں دی گئی تھی۔ کزر نے کہا پھر مانتے کیوں نہیں؟ بولا "لان ھٰؤلاء الملوک اعطونا اموالا کثیرۃ واکرمونا فلوامنا بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم لاخذوا مناکل ھذہ الاشیاء" (اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تو یہ بادشاہ جو بے شمار دولت ہم کو دے رہے ہیں اور اعزاز و اکرام کر رہے ہیں سب واپس کرلیں گے) کُرز نے اس کلمہ کو اپنے دل میں رکھا اور آخرکار یہ ہی کلمہ ان کے اسلام کا سبب ہوا رضی اللہ عنہ وارضاہ میرے نزدیک ان آیات میں ابو حارثہ کے ان ہی کلمات کا جواب ہے گویا دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ان کے فاسد عقیدہ کا رَد کر کے متنبہ فرما دیا کہ وضوح حق کے بعد جو لوگ محض دنیاوی متاع (اموال و اولاد وغیرہ) کی خاطر ایمان نہیں لاتے وہ خوب سمجھ لیں کہ مال و دولت اور جتھے نہ ان کو دنیا میں خدائی سزا سے بچا سکتے ہیں نہ آخرت میں عذاب سے۔ چنانچہ اس کی تازہ مثال ابھی "بدر" کے موقع پر مسلمان اور مشرکین کی لڑائی میں دیکھ چکے ہو۔ دنیا کی بہار محض چند روزہ ہے مستقبل کی کامیابی ان ہی کے لئے ہے۔ جو خدا سے ڈرتے اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ دُور تک یہ مضمون چلا گیا ہے اور عموم الفاظ کے اعتبار سے یہود و مشرکین وغیرہ دوسرے کفار کو بھی خطاب میں لپیٹ لیا گیا۔ گو اصلی مخاطب نصاریٰ نجران تھے۔ واللہ اعلم۔(10)
كَدَأبِ ءالِ فِرعَونَ وَالَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنوبِهِم ۗ وَاللَّهُ شَديدُ العِقابِ(11)
ف۵    یعنی کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتا اور جس طرح وہ پکڑے گئے تم بھی خدا کی پکڑ میں آنیوالے ہو۔(11)
قُل لِلَّذينَ كَفَروا سَتُغلَبونَ وَتُحشَرونَ إِلىٰ جَهَنَّمَ ۚ وَبِئسَ المِهادُ(12)
ف ٦    یعنی وقت آگیا ہے کہ تم سب کیا یہود، کیا نصاریٰ اور کیا مشرکین عنقریب خدائی لشکر کے سامنے مغلوب ہو کر ہتھیار ڈالو گے، یہ تو دنیا کی ذلت ہوئی اور آخرت میں جو گرم مکان تیار ہے وہ الگ رہا بعض روایات میں ہے کہ "بدر" سے فاتحانہ واپسی کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو فرمایا کہ تم حق کو قبول کر لو، ورنہ جو حال قریش کا ہوا، تمہارا ہوگا۔ کہنے لگے۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دھوکہ میں نہ رہیئے کہ تم نے قریش کے چند ناتجربہ کاروں پر فتح حاصل کرلی۔ ہم سے مقابلہ ہوا تو پتہ لگ جائے گا کہ ہم (جنگ آزمودہ سپاہی اور بہادر) آدمی ہیں اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ بعض کہتے ہیں کہ "بدر" کی فتح دیکھ کر "یہود" کچھ تصدیق کی طرف مائل ہونے لگے تھے۔ پھر کہا کہ جلدی مت کرو، دیکھو آئندہ کیا ہوتا ہے۔ دوسرے سال "احد" کی عارضی پسپائی دیکھ کر ان کے دل سخت ہوگئے اور حوصلے بڑھ گئے۔ حتیٰ کہ عہد شکنی کر کے مسلمانوں سے لڑائی کا سامان کیا۔ کعب بن اشرف ساٹھ سواروں کے ساتھ مکہ معظمہ جا کر ابُو سفیان وغیرہ سردارانِ قریش سے ملا اور کہا ہم تم ایک ہیں۔ متحدہ محاذ قائم کرکے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کرنا چاہیئے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ واللہ اعلم بہرحال تھوڑے ہی دنوں بعد خدا نے دکھلا دیا کہ جزیرۃ العرب میں مشرک کا نام نہ رہا۔ "قریظہ" کے بدعہد یہود تلوار کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ "بنی نضیر" جلا وطن ہوئے، نجران کے عیسائیوں نے ذلیل ہو کر سالانہ جزیہ دینا قبول کیا۔ اور تقریباَ ایک ہزار سال تک دنیا کی بڑی بڑی مغرور و متکبر قومیں مسلمانوں کی بلندی و برتری کا اعتراف کرتی رہیں۔ فالحمد للّٰہ علیٰ ذٰلک۔(12)
قَد كانَ لَكُم ءايَةٌ فى فِئَتَينِ التَقَتا ۖ فِئَةٌ تُقٰتِلُ فى سَبيلِ اللَّهِ وَأُخرىٰ كافِرَةٌ يَرَونَهُم مِثلَيهِم رَأىَ العَينِ ۚ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصرِهِ مَن يَشاءُ ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَعِبرَةً لِأُولِى الأَبصٰرِ(13)
ف١    جنگ بدر میں کفار تقریباً ایک ہزار تھے جن کے پاس سات سو اونٹ اور ایک سو گھوڑے تھے۔ دوسری طرف مسلمان مجاہدین تین سو سے کچھ اُوپر تھے جن کے پاس کل ستّر اُونٹ، دو گھوڑے، چھ زرہیں اور آٹھ تلواریں تھیں۔ اور تماشہ یہ تھا کہ ایک فریق کو حریف مقابل اپنے سے دو گنا نظر آتا تھا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کفار کے دل مسلمانوں کی کثرت کا تصوّر کر کے مرعوب ہوتے تھے اور مسلمان اپنے سے دوگنی تعداد دیکھ کر اور زیادہ حق تعالٰی کی طرف متوجہ ہوتے اور کامل توکّل و استقلال سے خدا کے وعدہ "اِن یَّکُن مِّنْکُمْ مِائَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوا مِائَتَیْنِ " پر اعتماد کر کے فتح و نُصرت کی امید رکھتے تھے۔ اگر انکی پوری تعداد جو تگنی تھی منکشف ہوتی تو ممکن تھا خوف طاری ہو جاتا۔ اور یہ فریقین کا دوگنی تعداد دیکھنا بعض احوال میں تھا۔ ورنہ بعض احوال وہ تھے جب ہر ایک کو دوسرے فریق کی جمعیت کم محسوس ہوتی۔ جیسا کہ سورہ انفال میں آئے گا۔ بہرحال ایک قلیل اور بے سروسامان جماعت کو ایسی مضبوط جمعیت کے مقابلہ میں ان پیشین گوئیوں کے موافق جو مکہ میں کی گئی تھیں۔ اس طرح مظفر و منصور کرنا، آنکھیں رکھنے والوں کے لئے بہت بڑا عبرتناک واقعہ ہے۔(13)
زُيِّنَ لِلنّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّساءِ وَالبَنينَ وَالقَنٰطيرِ المُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ وَالخَيلِ المُسَوَّمَةِ وَالأَنعٰمِ وَالحَرثِ ۗ ذٰلِكَ مَتٰعُ الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسنُ المَـٔابِ(14)
ف ٢    یعنی جب ان میں پھنس کر آدمی خدا سے غافل ہو جائے۔ اِسی لئے حدیث میں فرمایا۔ ماترکتُ بعدی فتنۃً اَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النَّساءِ (میرے بعد مردوں کے لئے کوئی ضرر رساں فتنہ عورتوں سے بڑھ کر نہیں) ہاں اگر عورت سے مقصود اعفاف اور کثرت اولاد ہو، تو وہ مذموم نہیں بلکہ مطلوب و مندوب ہے۔ چنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے کہ اگر اس کی طرف دیکھے تو خوش ہو، حکم دے تو فرمانبردار پائے، کہیں غائب ہو تو پیٹھ پیچھے شوہر کے مال اور اپنی عصمت کے معاملہ میں اس کی حفاظت کرے۔ اسی طرح جتنی چیزیں آگے متاع دنیا کے سلسلہ میں بیان ہوئیں سب کا محمود ومذموم ہونا نیت اور طریق کار کے تفاوت سے متفاوت ہوتا رہے گا۔ مگر چونکہ دنیا میں کثرت ایسے افراد کی ہے جو عیش و عشرت کے سامانوں میں پھنس کر خدا تعالٰی کو اور اپنے انجام کو بھول جاتے ہیں، اس لئے زُیِّنَ لِلنَّاسِ میں سطح کلام کی عام رکھی گئی ہے۔ ف٣    یعنی جن پر نمبر یا نشان لگائے جائیں یا پانچ کلیان گھوڑے جن کے ہاتھ پاؤں اور پیشانی پر قدرتی نشان ہوتے ہیں یا جو گھوڑے چراگاہ میں چرنے کے لئے چھوڑے گئے ہوں۔ ف٤    یعنی ابدی فلاح ان چیزوں سے حاصل نہیں ہوتی محض دنیا میں چند روز فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے کامیاب مستقبل اور اچھا ٹھکانا چاہتے ہو تو خدا کے پاس ملے گا۔ اس کی خوشنودی اور قرب حاصل کرنے کی فکر کرو۔ اگلی آیت میں بتلاتے ہیں کہ وہ اچھا ٹھکانا کیا ہے اور کن لوگوں کو ملتا ہے۔(14)
۞ قُل أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيرٍ مِن ذٰلِكُم ۚ لِلَّذينَ اتَّقَوا عِندَ رَبِّهِم جَنّٰتٌ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها وَأَزوٰجٌ مُطَهَّرَةٌ وَرِضوٰنٌ مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ بَصيرٌ بِالعِبادِ(15)
ف۵   یعنی ہر قسم کی صوری و معنوی گندگی سے پاک و صاف ہوں گی۔ ف ٦    کہ اس سے بڑھ کر کیا نعمت ہو سکتی ہے بلکہ جنت بھی فی الحقیقت اس لئے مطلوب ہے کہ وہ محل رضا ہے۔ ف۷   بندوں کے تمام اعمال و احوال اس کے سامنے ہیں جو جس جزا و سزا کا مستحق ہوگا۔ بلا کم و کاست دی جائے گی۔ دنیا کی بہار پر مرنے والے اور اس کے فانی مزوں سے پرہیز کرنے والے سب اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچا دیئے جائیں گے۔ یا یہ مطلب لیا جائے کہ پرہیزگار بندوں پر خدا کی نگاہِ لطف و کرم ہے جو دنیا کی ابلہ فریب سحر کاریوں سے ان کو محفوظ رکھتی ہے۔ چنانچہ حدیث میں آپ نے فرمایا کہ جب خدا کسی بندہ کو محبوب رکھتا ہے تو اسی طرح دنیا سے اس کا پرہیز کرا دیتا ہے جیسے تم اپنے مریض کو پانی (وغیرہ) سے پرہیز کراتے ہو۔(15)
الَّذينَ يَقولونَ رَبَّنا إِنَّنا ءامَنّا فَاغفِر لَنا ذُنوبَنا وَقِنا عَذابَ النّارِ(16)
ف۸    معلوم ہوا کہ گناہ معاف ہونے کے لئے ایمان لانا شرط ہے۔(16)
الصّٰبِرينَ وَالصّٰدِقينَ وَالقٰنِتينَ وَالمُنفِقينَ وَالمُستَغفِرينَ بِالأَسحارِ(17)
ف ۹     یعنی اللہ کے راستہ میں بڑی بڑی تکلیفیں اُٹھا کر بھی اس کی فرمانبرداری پر جمے رہتے اور معصیت سے رُکے رہتے ہیں۔ زبان کے، دل کے، نیت کے معاملہ کے سچے ہیں۔ پوری تسلیم وانقیاد کے ساتھ خدا کے احکام بجا لاتے ہیں۔ خدا کی دی ہوئی دولت کو اس کے بتلائے ہوئے مواقع میں خرچ کرتے ہیں۔ اور پچھلی رات میں اُٹھ کر (جو طمانیت و اجابت کا وقت ہوتا ہے لیکن اٹھنا اس وقت سہل نہیں ہوتا) اپنے رب سے گناہ اور تقصیرات معاف کراتے ہیں۔ "کَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَھْجَعُوْنَ وَ بِالْاَسْحَارِھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ (ذاریات رکوع ١'آیت نمبر ١٧'١٨) " یعنی اکثر رات عبادت میں گزارتے اور سحر کے وقت استغفار کرتے کہ خداوندا! عبادت میں جو تقصیر رہ گئی اپنے فضل سے معاف فرمانا۔(17)
شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ وَالمَلٰئِكَةُ وَأُولُوا العِلمِ قائِمًا بِالقِسطِ ۚ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(18)
ف ۱۰    ابتداء میں نصاریٰ ـ"نجران" سے خطاب تھا اور نہایت لطیف انداز سے الوہیت مسیح کے عقیدہ کا ابطال اور توحید خالص کا اعلان کر کے ایمان لانے کی ترغیب دی گئی تھی۔ درمیان میں ان موانع کا ذکر فرمایا جو انسان کو وضوح حق کے باوجود شرف ایمان سے محروم رکھتے ہیں۔ یعنی مال و اولاد اور سامان عیش و عشرت۔ ان آیات میں مومنین کی صفات بیان کرنے کے بعد پھر اصل مضمون توحید وغیرہ کی طرف عود کیا گیا ہے۔ یعنی توحید خالص کے ماننے میں کیا تردّد ہو سکتا ہے۔ جبکہ خود حق تعالٰی اپنی تمام کتابوں میں برابر اس مضمون کی گواہی دیتا رہا ہے۔ اور اس کی فعلی کتاب (صحیفہء کائنات) کا ایک ایک ورق بلکہ ایک ایک نقطہ شہادت دیتا ہے کہ بندگی کے لائق رب العالمین کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا۔ وَفِیْ کُلِّ شَئیٍ لَہ، اٰیَۃٌ تَدُل عَلی اَنَّہ، وَاحِدٌ (سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُ اَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اَنَّہُ عَلٰی کُلِّ شَیءٍ شَہِیْدٌ) (حم سجدہ رکوع٦'آیت نمبر ٥٣)۔ ف۱۱  ظاہر ہے فرشتوں کی گواہی خدا کی گواہی کے خلاف کیسے ہو سکتی ہے۔ فرشتہ تو نام ہی اس مخلوق کا ہے جو صدق و حق کے راستہ سے سرتابی نہ کر سکے۔ چنانچہ فرشتوں کی تسبیح و تمجید تمام تر توحید و تفرید باری پر مشتمل ہے۔ ف ۱۲    علم والے ہر زمانہ میں توحید کی شہادت دیتے رہے ہیں اور آج تو عام طور پر توحید کے خلاف ایک لفظ کہنا جہل محض کا مترادف سمجھا جاتا ہے، مشرکین بھی دل میں مانتے ہیں کہ علمی اصول کبھی مشرکانہ عقائد کی تائید نہیں کر سکتے۔ ف۱۳   انصاف کرنے کے لئے دو باتیں ضروری ہیں، زبردست ہو کہ اس کے فیصلہ سے کوئی سرتابی نہ کر سکے۔ اور حکیم ہو کہ حکمت و دانائی سے پوری طرح جانچ تول کر ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرے کوئی حکم بے موقع نہ دے۔ چونکہ حق تعالٰی عزیز و حکیم ہے لہٰذا اس کے منصف علی الاطلاق ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔ غالباَ اس لفظ "قائما بالقسط" میں عیسائیوں کے مسئلہ کفارہ کا بھی رد ہوگیا۔ بھلا یہ کہاں کا انصاف ہوگا کہ ساری دنیا کے جرائم ایک شخص پر لاد دیئے جائیں اور وہ تنہا سزا پا کر سب مجرموں کو ہمیشہ کے لئے بری اور پاک کر دے۔ خدائے عادل و حکیم کی بارگاہ ایسی گستاخیوں سے کہیں بالا و برتر ہے۔(18)
إِنَّ الدّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسلٰمُ ۗ وَمَا اختَلَفَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ إِلّا مِن بَعدِ ما جاءَهُمُ العِلمُ بَغيًا بَينَهُم ۗ وَمَن يَكفُر بِـٔايٰتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَريعُ الحِسابِ(19)
ف۱    "اسلام" کے اصلی معنی سونپ دینے کے ہیں۔ "مذہب اسلام" کو بھی اسی لحاظ سے اسلام کہا جاتا ہے کہ ایک مسلم اپنے کو ہمہ تن خدائے واحد کے سپرد کر دینے اور اس کے احکام کے سامنے گردن ڈال دینے کا اقرار کرتا ہے۔ گویا "اسلام" انقیاد و تسلیم کا اور "مسلمانی" حکمبرداری کا دوسرا نام ہوا۔ یوں تو شروع سے اخیر تک تمام پیغمبر یہ ہی مذہب اسلام لے کے آئے اور اپنے اپنے زمانہ میں اپنی اپنی قوم کو مناسب وقت احکام پہنچا کر طاعت و فرمانبرداری اور خالص خدائے واحد کی پرستش کی طرف بُلاتے رہے ہیں لیکن اس سلسلہ میں خاتم الانبیاء محمد رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام دنیا کو جو اکمل، جامع ترین، عالمگیر اور ناقابلِ تنسیخ ہدایات دیں، وہ تمام شرائع سابقہ حقہ پر مع شی زائد مشتمل ہونے کی وجہ سے خصوصی رنگ میں اسلام کے نام سے موسوم و ملقب ہوئیں۔ بہرحال اس آیت میں نصاریٰ نجران کے سامنے خصوصا اور تمام اقوام و ملل کے سامنے عموما اعلان کیا گیا ہے کہ دین و مذہب صرف ایک ہی چیز کا نام ہو سکتا ہے وہ یہ کہ بندہ دل و جان سے اپنے کو خداوند قدوس کے سپرد کر دے اور جس وقت جو حکم اس کی طرف سے پائے، بے چون و چرا گردن تسلیم جھکا دے اب جو لوگ خدا کے بیٹے، پوتے تجویز کریں، مسیح و مریم کی تصویروں اور صلیب کی لکڑی کو پوجیں، خنزیر کھائیں، آدمی کو خدا یا خدا کو آدمی بنا دیں۔ انبیاء و اولیاء کو قتل کر ڈالنا معمولی بات سمجھیں، دین حق کو مٹانے کی ناپاک کوششوں میں لگے رہیں۔ موسیٰ و مسیح کی بشارات کے موافق جو پیغمبر ان دونوں سے بڑھ کر شان و نشان دکھلاتا ہوا آیا، جان بوجھ کر اس کی تکذیب اور اس کے لائے ہوئے کلام و احکام سے ٹھٹھا کریں، یا جو بیوقوف پتھروں، درختوں، ستاروں اور چاند سُورج کے آگے سجدہ کریں اور حلال و حرام کا معیار محض ہوائے نفس کو ٹھہرا لیں، کیا ان میں کوئی جماعت اس لائق ہے کہ اپنے کو مسلم اور ملّت ابراہیمی کا پیرو کہہ سکے۔ العیاذ باللہ۔ "وفی روایۃ محمد بن اسحاق فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلموا۔ فقالوا قد اسلمنا۔ فقال صلی اللہ علیہ وسلم کذبتم کیف یصح اسلامکم و انتم تثبتون للہ ولدًا وتعبدون الصلیب وتاکلون الخنزیر (تفسیر کبیر)۔ ف۲    یعنی اسلام ایک واضح اور روشن چیز ہے جس قسم کے دلائل سے مُوسیٰ و مسیح کی رسالت یا تورات و انجیل کا کتاب سماوی ہونا ثابت کیا جاسکتا ہے، اس سے بہتر، مضبوط اور زندہ دلائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور قرآن کے کلام الہٰی ہونے کے موجود ہیں۔ بلکہ خود وہ کتابیں آپ کی حقانیت کی شہادت دے رہی ہیں۔ توحید خالص ایک صاف مضمون ہے جس کے خلاف باپ بیٹے کا نظریہ محض ایک بے معنی چیستاں ہو کر رہ جاتی ہے، جس کی کوئی علمی اصول تائید نہیں کرتا، اب جو اہل کتاب مخالف اسلام ہو کر ان روشن حقائق کو جھٹلائیں اور حق تعالٰی کی حکمبرداری سے سرتابی کریں بجز اس کے کیا کہا جاسکتا ہے کہ محض ضد، حسد، عناد اور جاہ و مال کی حرص میں ایسا کر رہے ہیں۔ جیسا کہ پہلے اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوالَنْ تُغْنِیَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھُمْ الخ کے فوائد میں خود ابو حارثہ بن علقمہ رئیس وفد نجران کا اقرار واعتراف نقل کیا جا چکا ہے اور یہ ان لوگوں کی قدیم عادت ہے۔ یہود و نصاریٰ کے باہم جو اختلافات ہوئے یا ہر ایک مذہب میں جو بہت سے فرقے بنے، پھر مخالفت باہمی خوفناک محاربات اور خونریزیوں پر منتہی ہوئی۔ تاریخ بتلاتی ہے کہ اس کا منشاء عموما غلط فہمی یا جہل نہ تھا، بلکہ اکثر حالات میں محض سیم وزر کی محبت اور جاہ پرستی سے یہ فرقہ وارانہ اختلافات پیدا ہوئے۔ ف ۳  دنیا میں بھی، ورنہ آخرت میں تو ضرور ہے۔(19)
فَإِن حاجّوكَ فَقُل أَسلَمتُ وَجهِىَ لِلَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ۗ وَقُل لِلَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ وَالأُمِّيّۦنَ ءَأَسلَمتُم ۚ فَإِن أَسلَموا فَقَدِ اهتَدَوا ۖ وَإِن تَوَلَّوا فَإِنَّما عَلَيكَ البَلٰغُ ۗ وَاللَّهُ بَصيرٌ بِالعِبادِ(20)
ف ٤     جیسا کہ دو فوائد پہلے نقل کیے جا چکے۔ وہ جھگڑتے تھے کہ ہم بھی مسلمان ہیں۔ یہاں ان کو بتلایا گیا کہ ایسا (فرضی) اسلام کس کام کا۔ آؤ دیکھو، اسلام اسے کہتے ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے جاں نثار ساتھیوں کے پاس ہے۔ ابھی بیان ہو چکا کہ اسلام نام ہے تسلیم و انقیاد کا یعنی بندہ ہمہ تن اپنے کو خدا کے ہاتھ میں دیدے سو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کو دیکھ لو کس طرح انہوں نے شرک، بت پرستی، بداخلاقی، فسق و فجور اور ظلم و عدوان کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جان، مال، وطن، کنبہ، بیوی بچے، غرض تمام مرغوب و محبوب چیزیں حق تعالٰی کی خوشنودی پر نثار کر دیں اور کس طرح ان کا چہرہ اور آنکھیں ہر وقت حکم الہٰی کی طرف لگی رہتی ہیں کہ اُدھر سے حکم آئے اور ہم تعمیل کریں۔ اس کے بالمقابل تم اپنا حال دیکھو کہ خود اپنی خلوتوں میں اقرار کرتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق پر ہیں، مگر ان پر ایمان لائیں تو دنیا کا مال و جاہ چھنتا ہے۔ بہرحال باوجود وضوح حق کے اسلام کی طرف نہیں آتے، تم جانو، ہم تو اپنے کو ایک خدا کے سپرد کر چکے ہیں۔ ف۵ یعنی سوچ لو، کیا تم بھی ہماری طرح خدا کے تابعدار بندے بنے ہو یا اب بنتے ہو، ایسا ہو تو سمجھ لو سیدھے راستہ پر لگ گئے اور ہمارے بھائی بن گئے ورنہ ہمارا کام سمجھا دینا اور نشیب و فراز بتلا دینا تھا، وہ کر چکے۔ آگے سب بندے اور ان کے اعمال ظاہری و باطنی خدا کی نظر میں ہیں، وہ ہر ایک کا بھگتان کر دے گا۔ (تنبیہ) اَن پڑھ کہتے تھے عرب کے مشرکوں کو کہ ان کے پاس کتب سماویہ کا علم نہ تھا۔(20)
إِنَّ الَّذينَ يَكفُرونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَيَقتُلونَ النَّبِيّۦنَ بِغَيرِ حَقٍّ وَيَقتُلونَ الَّذينَ يَأمُرونَ بِالقِسطِ مِنَ النّاسِ فَبَشِّرهُم بِعَذابٍ أَليمٍ(21)
(21)
أُولٰئِكَ الَّذينَ حَبِطَت أَعمٰلُهُم فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ وَما لَهُم مِن نٰصِرينَ(22)
ف ٦     حدیث میں ہے کہ "بنی اسرائیل" نے ایک دن میں تینتالیس نبی اور ایک سو ستّر یا ایک سو بارہ صالحین کو شہید کیا۔ یہاں نصاریٰ نجران اور دوسرے کفار کو سنایا جارہا ہے کہ احکام الہٰی سے منکر ہو کر انبیاء اور انصاف پسند ناصحین سے مقابلہ کرنا اور پرلے درجہ کی شقاوت و سنگدلی سے ان کے خون میں ہاتھ رنگنا معمولی چیز نہیں۔ ایسے لوگ سخت دردناک عذاب کے مستحق اور دونوں جہان کی کامیابی سے محروم ہیں۔ ان کی محنت برباد اور ان کی کوششیں اکارت ہوںگی اور دنیا و آخرت میں جب سزا ملے گی تو کوئی بچانے والا اور مدد کرنے والا نہ ملے گا۔(22)
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ أوتوا نَصيبًا مِنَ الكِتٰبِ يُدعَونَ إِلىٰ كِتٰبِ اللَّهِ لِيَحكُمَ بَينَهُم ثُمَّ يَتَوَلّىٰ فَريقٌ مِنهُم وَهُم مُعرِضونَ(23)
ف۷   یعنی تھوڑا بہت حصہ تورات اور انجیل وغیرہ کا جو ان کی تحریفات لفظی و معنوی سے بچ بچا کر رہ گیا ہے یا جو تھوڑا بہت حصہ فہم کتاب کا ملا۔ ف۸   یعنی جب انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ قرآن کریم کی طرف آؤ جو خود تمہاری تسلیم کردہ کتابوں کی بشارات کے موافق آیا اور تمہارے اختلافات کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے والا ہے۔ تو ان کے علماء کا ایک فریق تغافل برت کر منہ پھیر لیتا ہے۔ حالانکہ قرآن کی طرف دعوت فی الحقیقت تورات و انجیل کی طرف دعوت دینا ہے۔ بلکہ کچھ بعید نہیں کہ اس جگہ کتاب اللہ سے مراد تورات و انجیل ہی ہو۔ یعنی لو ہم تمہارے نزاعات کا فیصلہ تمہاری ہی کتاب پر چھوڑتے ہیں مگر غضب تو یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات اور پست اغراض کے سامنے خود اپنی کتاب کی ہدایات سے بھی مُنہ پھیر لیتے ہیں۔ نہ اس کی بشارات سنتے ہیں نہ احکام پر کان دھرتے ہیں۔ چنانچہ رجم زانی کے مسئلہ میں تورات کے حکم منصوص سے صریح رُو گردانی کی۔ جیسا کہ آگے سورہ مائدہ میں آئے گا۔(23)
ذٰلِكَ بِأَنَّهُم قالوا لَن تَمَسَّنَا النّارُ إِلّا أَيّامًا مَعدودٰتٍ ۖ وَغَرَّهُم فى دينِهِم ما كانوا يَفتَرونَ(24)
ف۱    یعنی ان کے تمرد و طغیان اور گناہوں پر جری ہونے کا سبب یہ ہے کہ سزا کی طرف سے بیخوف ہیں ان کے بڑے جھوٹ بنا کر کہہ گئے کہ ہم میں اگر کوئی سخت گنہگار بھی ہوگا تو گنتی کے چند روز سے زیادہ عذاب نہ پائے گا۔ جیسا کہ سورہ "بقرہ" میں گزر چکا اور اسی طرح کی بہت سی باتیں گھڑ رکھی ہیں۔ مثلا کہتے تھے کہ ہم تو اللہ کے چہیتے بیٹے ہیں یا انبیاء کی اولاد ہیں اور اللہ تعالٰی یعقوب علیہ السلام سے وعدہ کر چکا ہے کہ انکی اولاد کو سزا نہ دے گا مگر یونہی برائے نام قسم کھانے کو، اور نصاریٰ نے تو کفارہ کا مسئلہ نکال کر گناہ و معصیت کا سارا حساب ہی بیباق کر دیا۔ اللّٰھُمَ اَعِذْنَا مِنْ شُرُ و رِاَنْفُسِنَا۔(24)
فَكَيفَ إِذا جَمَعنٰهُم لِيَومٍ لا رَيبَ فيهِ وَوُفِّيَت كُلُّ نَفسٍ ما كَسَبَت وَهُم لا يُظلَمونَ(25)
ف۲   یعنی اس وقت پتہ چلے گا کہ کس اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے۔ جب محشر میں تمام اولین و آخرین اور خود اپنے بزرگوں کے سامنے رسوا ہوں گے اور ہر عمل کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ نہ کفارہ کا مسئلہ یاد آئے گا، نہ نسبی تعلقات اور من گھڑت عقیدے کام دینگے۔ ف۳   یعنی فرضی جرائم پر سزا نہ ہوگی، ان کاموں پر ہوگی جن کا جرم ہونا خود تسلیم کرینگے اور جس قدر سزا کا استحقاق ہوگا، اس سے زیادہ نہ دی جائے گی نہ کسی کی ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی ضائع ہو سکے گی۔(25)
قُلِ اللَّهُمَّ مٰلِكَ المُلكِ تُؤتِى المُلكَ مَن تَشاءُ وَتَنزِعُ المُلكَ مِمَّن تَشاءُ وَتُعِزُّ مَن تَشاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشاءُ ۖ بِيَدِكَ الخَيرُ ۖ إِنَّكَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(26)
ف ٤     جیسا کہ پہلے نقل کیا جا چکا ہے وفد نجران کے رئیس ابوحارثہ بن علقمہ نے کہا تھا کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں تو روم کے بادشاہ جو ہماری عزّت اور مالی خدمت کرتے ہیں سب بند کرلیں گے۔ شاید یہاں دعا و مناجات کے رنگ میں اس کا جواب دیا کہ بادشاہوں کی سلطنت اور ان کی دی ہوئی عزتوں پر تم مفتون ہو رہے ہو، تو خوب سمجھ لو کہ کل سلطنت و عزّت کا اصلی مالک خداوند قدوس ہے اسی کے قبضہ قدرت میں ہے جس کو چاہے دے اور جس سے چاہے سلب کر لے۔ کیا یہ امکان نہیں کہ روم وفارس کی سلطنتیں اور عزتیں چھین کر مسلمانوں کو دے دی جائیں، بلکہ وعدہ ہے، کہ ضرور دی جائینگی، آج مسلمانوں کی موجودہ بے سروسامانی اور دشمنوں کی طاقت کو دیکھتے ہوئے بیشک یہ چیز تمہاری سمجھ میں نہیں آسکتی۔ اسی لئے یہود و منافقین مذاق اڑاتے تھے کہ قریش کے حملہ سے ڈر کر مدینہ کے گرد خندق کھودنے والے مسلمان قیصر و کسریٰ کے تاج و تخت پر قبضہ پانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ مگر حق تعالٰی نے چند ہی سال میں دکھلا دیا کہ روم وفارس کے جن خزانوں کی کنجیاں اس نے اپنے پیغمبر کے ہاتھ میں دی تھیں فاروق اعظم رضی اللہ کے زمانہ میں وہ کس طرح مجاہدینِ اسلام کے درمیان تقسیم ہوئے۔ اصل یہ ہے کہ یہ مادی سلطنت و عزّت کیا چیز ہے جب خداوند قادرو حکیم نے رُوحانی سلطنت وعزّت کا آخری مقام (یعنی منصب نبوت و رسالت) بنی اسرائیل سے منتقل کر کے بنی اسماعیل میں پہنچا دیا تو روم و عجم کی ظاہری سلطنت کا عرب کے خانہ بدوشوں کی طرف منتقل کر دینا کیا مُستبعد ہے۔ گویا یہ دعا ایک طرح کی پیشنگوئی تھی کہ عنقریب دنیا کی کایا پلٹ ہونیوالی ہے۔ جو قوم دنیا سے الگ تھلگ پڑی تھی عزتوں اور سلطنتوں کی مالک ہوگی، اور جو بادشاہت کر رہے تھے ان کو اپنی بداعمالیوں کی بدولت پستی و ذلت کے غار میں گرایا جائے گا۔ (تنبیہ) بِیَدِکَ الْخَیْرَ بیشک خدا کے ہاتھ میں ہر قسم کی خیر و خوبی ہے اور "شر" کا پیدا کرنا بھی اس کے اعتبار سے خیر ہی ہے۔ کیونکہ مجموعہ عالم کے اعتبار سے اس میں ہزارہا حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ فِی الْحدیث الصحیح الخیر کلہ فی یدیک و الشر لیس الیک۔(26)
تولِجُ الَّيلَ فِى النَّهارِ وَتولِجُ النَّهارَ فِى الَّيلِ ۖ وَتُخرِجُ الحَىَّ مِنَ المَيِّتِ وَتُخرِجُ المَيِّتَ مِنَ الحَىِّ ۖ وَتَرزُقُ مَن تَشاءُ بِغَيرِ حِسابٍ(27)
ف ۵    یعنی کبھی رات کو گھٹا کر دن کو بڑھا دیتا ہے، کبھی اس کا عکس کرتا ہے۔ مثلا ایک موسم میں ١٤ گھنٹہ کی رات اور دس گھنٹہ کا دن ہے۔ چند ماہ بعد رات کے چار گھنٹہ کاٹ کر دن میں داخل کر دیئے۔ اب رات دس گھنٹہ کی رہ گئی اور دن ١٤ گھنٹہ کا ہو گیا۔ یہ سب اُلٹ پھیر تیرے ہاتھ میں ہیں۔ کیونکہ شمس و قمر وغیرہ تمام سیارات بدون تیرے ارادہ کے ذرا حرکت نہیں کر سکتے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی رات۔  ف۷   یعنی بیضہ کو مرغی سے، مرغی کو بیضہ سے آدمی کو نطفہ سے نطفہ کو آدمی سے، جاہل کو عالم سے، عالم کو جاہل سے، کامل کو ناقص سے، ناقص کو کامل سے نکالنا تیری ہی قدرت کا کام ہے۔ ف ۸   حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں"یہود جانتے تھے کہ پہلے جو بزرگی ہم میں تھی وہ ہی ہمیشہ رہے گی۔ اللہ کی قدرت سے غافل ہیں جس کو چاہے عزیز کرے اور سلطنت دے اور جس سے چاہے چھین لے اور ذلیل کر دے۔ اور جاہلوں میں کامل پیدا کرے (جیسے عرب کے اُمیوں میں سے کئے) اور کاملوں میں سے جاہل (جیسے بنی اسرائیل میں ہوا) اور جس کو چاہے (حِسّی ومعنوی) رزق بے حساب دیوے۔(27)
لا يَتَّخِذِ المُؤمِنونَ الكٰفِرينَ أَولِياءَ مِن دونِ المُؤمِنينَ ۖ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ فَلَيسَ مِنَ اللَّهِ فى شَيءٍ إِلّا أَن تَتَّقوا مِنهُم تُقىٰةً ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفسَهُ ۗ وَإِلَى اللَّهِ المَصيرُ(28)
ف۸   یعنی جب حکومت و سلطنت، جاہ و عزت، اور ہر قسم کے تقلبات و تصّرفات کی زمام اکیلے خداوند قدوس کے ہاتھ میں ہوئی تو مسلمانوں کو جو صحیح معنی میں اس پر یقین رکھتے ہیں، شایان نہیں کہ اپنے اسلامی بھائیوں کی اخوۃ و دوستی پر اکتفاء نہ کرکے خواہ مخواہ دشمنان خدا کی موالاۃ و مدارات کی طرف قدم بڑھائیں، خدا و رسُول کے دشمن ان کے دوست کبھی نہیں بن سکتے۔ جو اس خبط میں پڑے گا سمجھ لو کہ خدا کی محبت و موالات سے اُسے کچھ سروکار نہیں۔ ایک مسلمان کی سب اُمیدیں اور خوف صرف خداوند رب العزّت سے وابستہ ہونے چاہئیں۔ اور اس کے اعتماد وثوق اور محبت و مناصرت کے مستحق وہ ہی لوگ ہیں جو حق تعالٰی سے اسی قسم کا تعلق رکھتے ہوں۔ ہاں تدبیر و انتظام کے درجہ میں کفار کے ضرر عظیم سے اپنے ضروری بچاؤ کے پہلو اور حفاظت کی صورتیں معقول و مشروع طریقہ پر اختیار کرنا، ترک موالات کے حکم سے اسی طرح مستثنیٰ ہیں، جیسے سورہ انفال میں وَمَن یُّوَلِّھِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہ، سے مُتَحَرِّفاً لِّقِتَالٍ اَوْمُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ کو مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ جس طرح وہاں تحرف و تحیز کی حالت میں حقیقۃً فرار من الزحف نہیں ہوتا، محض صورۃَ ہوتا ہے۔ یہاں بھی الا ان تتقوا منھم تقٰۃً کو حقیقت موالات نہیں، فقط صورتِ موالات سمجھنا چاہیے جس کو ہم مدارات کے نام سے موسوم کرتے ہیں اس مسئلہ کی مزید تفصیل سورہ مائدہ کی آیت یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ اَمَنُوا لَا تَتَّخِذُوْ ا الْیَھُودَ وَالنَّصَارٰیٰ اَوْلِیَاءَ الخ کے فوائد میں ملاحظہ کر لی جائے۔ ف۹   یعنی مومن کے دل میں اصلی ڈر خدا کا ہونا چاہیئے۔ کوئی ایسی بات نہ کرے جو اس کی ناراضی کا سبب ہو، مثلا جماعت اسلام سے تجاوز کر کے بے ضرورت کفار کے ساتھ ظاہری یا باطنی موالات کرے یا ضرورت کے وقت صورت موالات اختیار کرنے میں حدود شرع سے گزر جائے۔ یا محض موہوم و حقیر خطرات کو یقینی اور اہم خطرات ثابت کرنے لگے۔ اور اسی قسم کی مستثنیات یا شرعی رخصتوں کو ہوائے نفس کی پیروی کا حیلہ بنا لے۔ اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ سب کو خداوند قدوس کی عدالت عالیہ میں حاضر ہونا ہے وہاں جھوٹے حیلے حوالے کچھ پیش نہ جائینگے۔ مومن قوی کی شان تو یہ ہونی چاہیے کہ رخصت سے گزر کر عزیمت پر عمل پیرا ہو۔ اور مخلوق سے زیادہ خالق سے خوف کھائے۔(28)
قُل إِن تُخفوا ما فى صُدورِكُم أَو تُبدوهُ يَعلَمهُ اللَّهُ ۗ وَيَعلَمُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(29)
ف ۱    یعنی ممکن ہے آدمی اپنی نیت اور دل کی بات آدمیوں سے چُھپالے لیکن وہ اس طرح خدا کو فریب نہیں دے سکتا۔ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ۔ ف ۲    جب علم اس قدر محیط اور قدرت ایسی عام و تام ہے تو مجرم کے لئے اخفاء جرم یا سزا سے بچ کر بھاگ جانے کی کوئی صورت نہیں۔(29)
يَومَ تَجِدُ كُلُّ نَفسٍ ما عَمِلَت مِن خَيرٍ مُحضَرًا وَما عَمِلَت مِن سوءٍ تَوَدُّ لَو أَنَّ بَينَها وَبَينَهُ أَمَدًا بَعيدًا ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفسَهُ ۗ وَاللَّهُ رَءوفٌ بِالعِبادِ(30)
ف۳  یعنی قیامت کے دن ہر نیکی بدی آدمی کے سامنے حاضر ہوگی۔ عمر بھر کا اعمال نامہ ہاتھ میں پکڑا دیا جائے گا۔ اس وقت مجرمین آرزو کریں گے کہ کاش یہ دن ہم سے دُور ہی رہتا یا ہم میں اور ان بُرے اعمال میں بڑی دُور کا فاصلہ ہوتا کہ ان کے قریب بھی نہ جاتے۔ ف ٤    یہ بھی اس کی مہربانی ہے کہ تم کو اس خوفناک دن کے آنے سے پہلے ڈراتا اور آگاہ کرتا ہے۔ تاکہ بُرائی کے طریقے خصوصا موالات کفار ترک کر کے اور بھلائی کے راستہ پر چل کر اپنے خداوند قہار کے غصہ سے بچا لینے کا قبل از وقت انتظام کر رکھو۔ قرآن کریم کا یہ خاص طرز ہے کہ عموما خوف کے ساتھ رجاء اور رجاء کے ساتھ خوف کا مضمون سناتا ہے۔ یہاں بھی مضامین ترہیب کو معتدل بنانے کے لئے اخیر میں وَاللّٰہُ رَوْفٌ م بِالْعِبَادِ فرما دیا۔ یعنی خدا سے ڈر کر اگر بُرائی چھوڑ دو گے تو اس کی مہربانی پھر تمہارا استقبال کرنے کو تیار ہے نااُمید ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ آؤ! تم کو ایسا دروازہ بتائیں جس سے داخل ہو کر مغفرت و رحمت کے پورے مستحق بلکہ خدا تعالٰی کے محبوب بن سکتے ہو۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْ نِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(30)
قُل إِن كُنتُم تُحِبّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعونى يُحبِبكُمُ اللَّهُ وَيَغفِر لَكُم ذُنوبَكُم ۗ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ(31)
ف۵   دشمنان خدا کی موالات و محبت سے منع کرنے کے بعد خدا سے محبت کرنے کا معیار بتلاتے ہیں۔ یعنی اگر دنیا میں آج کسی شخص کو اپنے مالک حقیقی کی محبت کا دعویٰ یا خیال ہو تو لازم ہے کہ اس کو اتباع محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسوٹی پر کس کر دیکھ لے، سب کھرا کھوٹا معلوم ہو جائے گا۔ جو شخص جس قدر حبیبِ خدا محمد رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ چلتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی روشنی کو مشعلِ راہ بناتا ہے۔ اسی قدر سمجھنا چاہیے کہ خدا کی محبت کے دعوے میں سچا اور کھرا ہے۔ اور جتنا اس دعوے میں سچا ہوگا، اُتنا ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں مضبوط و مستعد پایا جائے گا۔ جس کا پھل یہ ملے گا کہ حق تعالٰی اس سے محبت کرنے لگے گا۔ اور اللہ کی محبت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کی برکت سے پچھلے گناہ معاف ہو جائینگے اور آئندہ طرح طرح کی ظاہری و باطنی مہربانیاں مبذول ہونگی۔ گویا توحید وغیرہ کے بیان سے فارغ ہو کر یہاں سے نبوت کا بیان شروع کیا گیا اور پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی دعوت دی گئی۔(31)
قُل أَطيعُوا اللَّهَ وَالرَّسولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوا فَإِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الكٰفِرينَ(32)
ف ٦    یہود و نصاریٰ کہتے تھے نَحْنُ اَبْنَاءُ اللّٰہِ وَاَحِبَّاؤُہ، (ہم خدا کے بیٹے اور محبوب ہیں) یہاں بتلا دیا گیا کہ کافر کبھی خدا کا محبوب نہیں ہو سکتا۔ اگر واقعی محبوب بننا چاہتے ہو تو اسکے احکام کی تعمیل کرو، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا کہا مانو اور خدا کے سب سے بڑے محبوب کے نقشِ قدم پر چلے آؤ۔ وفد نجران نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم مسیح کی تعظیم و عبادت اللہ کی محبت و تعظیم کے لئے کرتے ہیں، اس کا بھی جواب ہو گیا۔ آگے خدا تعالٰی کے چند محب و محبوب بندوں کا حال سُنایا گیا اور وفد نجران کی رعایت سے حضرت مسیح علیہ السلام کی سوانح زیادہ شرح و بسط کے ساتھ بیان کی گئی ہے، جو تمہید ہے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر مبارک کی۔ جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہوگا۔(32)
۞ إِنَّ اللَّهَ اصطَفىٰ ءادَمَ وَنوحًا وَءالَ إِبرٰهيمَ وَءالَ عِمرٰنَ عَلَى العٰلَمينَ(33)
ف۷   "عمران" دو ہیں، ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد، دوسرے حضرت مریم کے والد، اکثر سلف و خلف نے یہاں عمران ثانی مراد لیا ہے کیونکہ آگے اذ قالت امراۃ عمران الخ سے اسی دوسرے عمران کے گھرانے کا قصہ بیان ہوا ہے اور غالباَ سورۃ کا نام "آل عمران" اسی بناء پر ہوا کہ اس میں عمران ثانی کے گھرانے (یعنی حضرت مریم و مسیح علیہ السلام) کا واقعہ بہت بسط و تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔(33)
ذُرِّيَّةً بَعضُها مِن بَعضٍ ۗ وَاللَّهُ سَميعٌ عَليمٌ(34)
ف ۸    خدا کی مخلوقات میں زمین آسمان، چاند، سُورج، ستارے، فرشتے، جِن، شجر، حجر سب ہی شامل تھے۔ مگر اس نے اپنے علم محیط اور حکمت بالغہ سے ملکات روحانیہ اور کمالات جسمانیہ کا جو مجموعہ ابوالبشر آدم علیہ السلام میں ودیعت کیا وہ مخلوقات میں سے کسی کو نہ دیا۔ بلکہ آدم کو مسجود ملائکہ بنا کر ظاہر فرما دیا کہ آدم کا اعزاز و اکرام اسکی بارگاہ میں ہر مخلوق سے زیادہ ہے۔ آدم کا یہ انتخابی اور اصطفائی فضل و شرف جسے ہم "نبوت" سے تعبیر کرتے ہیں کچھ ان کی شخصیت پر محدود و مقصود نہ تھا، بلکہ منتقل ہو کر ان کی اولاد میں نوح علیہ السلام کو ملا، پھر منتقل ہوتا ہوا نوح علیہ السلام کی اولاد حضرت ابراہیم علیہ السلام تک پہنچا۔ یہاں سے ایک نئی صورت پیدا ہوگئی۔ آدم و نوح کے بعد جتنے انسان دنیا میں آباد رہے تھے وہ سب ان دونوں کی نسل سے تھے۔ کوئی خاندان ان دونوں کی ذرّیت سے باہر نہ تھا۔ برخلاف اس کے ابراہیم علیہ السلام کے بعد ان کی نسل کے علاوہ دنیا میں دوسرے بہت خاندان موجود رہے لیکن جس خدا نے اپنی بیشمار مخلوقات میں سے منصبِ نبوت کے لئے آدم کا انتخاب کیا تھا اسی کے علم محیط اور اختیار کامل نےآئندہ کے لئے ہزاروں گھرانوں میں سے اس منصب جلیل کے واسطے ابراہیم علیہ السلام کے گھرانے کو مخصوص فرما دیا۔ جس قدر انبیاء و رسل ابراہیم علیہ السلام کے بعد آئے ان ہی کے دو صاحبزادوں اسحاق و اسماعیل کی نسل سے آئے۔ چونکہ عموما نسب کا سلسلہ باپ کی طرف سے چلتا ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے تھے اس لحاظ سے وہم ہو سکتا تھا کہ ان کو نسل ابراہیمی سے مستثنیٰ کرنا پڑے گا۔ اس لئے حق تعالٰی نے "آل عمران" اور ذریۃ بعضھا من بعض فرما کر متنبہ کر دیا کہ حضرت مسیح جب صرف ماں سے پیدا ہوئے تو ان کا سلسلہ نسب بھی ماں ہی کی طرف سے لیا جائے گا نہ کہ معاذ اللہ خدا کی طرف سے۔ اور ظاہر ہے کہ ان کی والدہ مریم صدیقہ کے باپ عمران کا سلسلہ آخر حضرت ابراہیم علیہ السلام پر منتہی ہوتا ہے تو آل عمران، آل ابراہیم کی ایک شاخ ہوئی اور کوئی پیغمبر خاندان ابراہیمی سے باہر نہ ہوا۔ ف ٦     سب کی دُعاؤں اور باتوں کو سنتا اور سب کے ظاہری و باطنی احوال و استعداد کو جانتا ہے۔ لہٰذا یہ وہم نہ کرنا چاہیے کہ یوں ہی کیف ما اتفق انتخاب کر لیا ہوگا وہاں کا ہر کام پورے علم و حکمت پر مبنی ہے۔(34)
إِذ قالَتِ امرَأَتُ عِمرٰنَ رَبِّ إِنّى نَذَرتُ لَكَ ما فى بَطنى مُحَرَّرًا فَتَقَبَّل مِنّى ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّميعُ العَليمُ(35)
ف۱۰    عمران کی عورت کا نام ہے "حنہ بنت فاقوذا" اس نے اپنے زمانہ کے رواج کے موافق منت مانی تھی کہ خدا وندا! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے میں اُسے "مُحرر" (تیرے نام پر آزاد کرتی ہوں) اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ تمام دنیاوی مشاغل اور قید نکاح وغیرہ سے آزاد رہ کر ہمیشہ خدا کی عبادت اور کلیسا کی خدمت میں لگا رہے گا۔ اے اللہ تو اپنی مہربانی سے میری نذر قبول فرما۔ تو میری عرض کو سنتا اور میری نیت و اخلاص کو جانتا ہے۔ گویا لطیف طرز میں استدعا ہوئی کہ لڑکا پیدا ہو کیونکہ لڑکیاں اس خدمت کے لئے قبول نہیں کی جاتی تھیں۔(35)
فَلَمّا وَضَعَتها قالَت رَبِّ إِنّى وَضَعتُها أُنثىٰ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِما وَضَعَت وَلَيسَ الذَّكَرُ كَالأُنثىٰ ۖ وَإِنّى سَمَّيتُها مَريَمَ وَإِنّى أُعيذُها بِكَ وَذُرِّيَّتَها مِنَ الشَّيطٰنِ الرَّجيمِ(36)
ف١۱    یہ حسرت و افسوس سے کہا، کیونکہ خلاف توقع پیش آیا۔ اور لڑکی قبول کرنے کا دستور نہ تھا۔ ف ۱   یہ درمیان میں بطور جملہ معترضہ حق تعالٰی کا کلام ہے یعنی اُسے معلوم نہیں کیا چیز جنی۔ اس لڑکی کی قدر و قیمت کو خدا ہی جانتا ہے جس طرح کے بیٹے کی اُسے خواہش تھی وہ اس بیٹی کو کہاں پہنچ سکتا تھا۔ یہ بیٹی بذاتِ خود مبارک و مسعود ہے اور اس کے وجود میں ایک عظیم الشان مبارک و مسعود بیٹے کا وجود منطوی ہے۔ ف۲ حق تعالٰی نے یہ دعا قبول فرمائی۔ حدیث میں ہے کہ آدمی کے بچہ کو ولادت کے وقت جب ماں سے جُدا ہو کر زمین پر آرہتا ہے۔ شیطان مس کرتا ہے۔ مگر عیسیٰ اور مریم مستثنیٰ ہیں۔ اس کا مطلب دوسری احادیث کے ملانے سے یہ ہوا کہ بچہ اصل فطرت صحیحہ پر پیدا کیا جاتا ہے جس کا ظہور بڑے ہو کر عقل و تمیز آنے کے بعد ہوگا۔ لیکن گردوپیش کے حالات اور خارجی اثرات کے سامنے بسا اوقات اصل فطرت دب جاتی ہے جس کو حدیث میں فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَ انِہٖ اَوْیُنَصِّرانِہٖ سے تعبیر کیا ہے پھر جس طرح ایمان و طاعت کا بیج اس کے جوہر فطرت میں غیر مرئی طور پر رکھ دیا گیا۔ حالانکہ اس وقت اس کو ایمان تو کیا موٹی موٹی محسوسات کا ادراک و شعور بھی نہیں تھا۔ اسی طرح خارجی اثراندازی کی ابتداء بھی ولادت کے بعد ایک قسم کے مسِ شیطانی سے غیر محسوس طور پر ہوگئی۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص اس مس شیطانی کا اثر قبول کرے یا قبول کرلے تو آئندہ چل کر وہ برابر باقی رہے۔ تمام انبیاء علیم السلام کی عصمت کا تکفل چونکہ حق تعالٰی نے کیا ہے اس لئے اگر فرض کرو ابتدائے ولادت میں یہ صورت ان کو پیش آئی ہو اور مریم و عیسیٰ کی طرح اس ضابطہ سے مستثنیٰ نہ ہوں تو اس میں پھر بھی کوئی شبہ نہیں کہ ان مقدس و معصوم بندوں پر شیطان کی اس حرکت کا کوئی مضر اثر قطعا نہیں پڑ سکتا۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ مریم و عیسیٰ علیہ السلام کو کسی مصلحت سے یہ صورت سرے سے پیش ہی نہ آئی ہو۔ اوروں کو پیش آئی مگر اثر نہ ہوا۔ اس قسم کے جزئی امتیازات فضیلت کلی ثابت کرنے کا موجب نہیں ہو سکتے۔ حدیث میں ہے کہ دو بچیاں کچھ اشعار گا رہی تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُدھر سے منہ پھیر لیا۔ ابوبکر آئے مگر لڑکیاں بدستور مشغول رہیں، اُسکے بعد حضرت عمر آئے۔ لڑکیاں اُٹھ کر بھاگ گئیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "عمر جس راستہ پر چلتا ہے شیطان وہ راستہ چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے" کیا اس سے کوئی خوش فہم یہ مطلب لے سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر کو اپنے سے افضل ثابت کر رہے ہیں۔ ہاں ابوہریرہ کا مسِ شیطان کی حدیث کو آیت ہذا کی تفسیر بنانا بظاہر چسپاں نہیں ہوتا۔ اِلا یہ کہ آیت وانی اعیذھا بک الخ میں واؤ عطف کو ترتیب کے لئے نہ سمجھا جائے۔ یا حدیث میں استثناء سے صرف مسیح کے مریم سے پیدا ہونے کا واقعہ مراد ہو۔ مریم و مسیح الگ الگ مراد نہ ہوں۔ چنانچہ بخاری کی ایک روایت میں صرف حضرت عیسیٰ کے ذکر پر اکتفاء کیا ہے۔ واللہ اعلم۔(36)
فَتَقَبَّلَها رَبُّها بِقَبولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَها نَباتًا حَسَنًا وَكَفَّلَها زَكَرِيّا ۖ كُلَّما دَخَلَ عَلَيها زَكَرِيَّا المِحرابَ وَجَدَ عِندَها رِزقًا ۖ قالَ يٰمَريَمُ أَنّىٰ لَكِ هٰذا ۖ قالَت هُوَ مِن عِندِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ يَرزُقُ مَن يَشاءُ بِغَيرِ حِسابٍ(37)
ف ۳   یعنی گو لڑکی تھی مگر حق تعالٰی نے لڑکے سے بڑھ کر اسے قبول فرمایا۔ بیت المقدس کے مجاورین کے دلوں میں ڈال دیا کہ عام دستور کے خلاف لڑکی کو قبول کرلیں۔ اور ویسے بھی مریم کو قبول صورت بنایا اور اپنے مقبول بندہ زکریا کی کفالت میں دیا اور اپنی بارگاہ میں حسن قبول سے سرفراز کیا۔ جسمانی، روحانی، علمی، اخلاقی ہر حیثیت سے غیر معمولی طور پر بڑھایا جب مجاورین میں اسکی پرورش کے متعلق اختلاف ہوا تو قرعہ انتخاب حضرت زکریا کے نام نکال دیا۔ تاکہ لڑکی اپنی خالہ کی آغوش شفقت میں تربیت پائے اور زکریا کے علم و دیانت سے مستفید ہو۔ زکریا علیہ السلام نے پوری مراعاۃ اور جدوجہد کی۔ جب مریم سیانی ہوئیں تو مسجد کے پاس ان کے لئے ایک حجرہ مخصوص کر دیا۔ مریم دن بھر وہاں عبادت وغیرہ میں مشغول رہتی اور رات اپنی خالہ کے گھر گزارتی۔ ف ٤    اکثر سلف کے نزدیک "رزق" سے مراد ظاہری کھانا ہے کہتے ہیں مریم کے پاس بے موسم میوے آتے گرمی کے پھل سردی میں، سردی کے گرمی میں۔ اور مجاہد سے ایک روایت ہے کہ "رزق" سے مراد علمی صحیفے ہیں جن کو روحانی غذا کہنا چاہیئے۔ بہرحال اب کھلم کھلا مریم کی برکات و کرامات اور غیر معمولی نشانات ظاہر ہونے شروع ہوئے جن کا بار بار مشاہدہ ہونے پر زکریا علیہ السلام سے نہ رہا گیا اور ازراہِ تعجب پوچھنے لگے کہ مریم! یہ چیزیں تم کو کہاں سے پہنچتی ہیں۔ ف ۵    یعنی خدا کی قدرت اسی طرح مجھ کو یہ چیزیں پہنچاتی ہے جو قیاس و گمان سے باہر ہے۔(37)
هُنالِكَ دَعا زَكَرِيّا رَبَّهُ ۖ قالَ رَبِّ هَب لى مِن لَدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَميعُ الدُّعاءِ(38)
ف ٦    حضرت زکریا علیہ السلام بالکل بوڑھے ہو چکے تھے، ان کی بیوی بانجھ تھی، اولاد کی کوئی ظاہری امید نہ تھی۔ مریم کی نیکی و برکت اور یہ غیر معمولی خوراک دیکھ کر دفعۃَ قلب میں ایک جوش اُٹھا اور فوری تحریک ہوئی کہ میں بھی اولاد کی دعا کروں۔ امید ہے مجھے بھی بے موسم میوہ مل جائے۔ یعنی بڑھاپے میں اولاد مرحمت ہو۔(38)
فَنادَتهُ المَلٰئِكَةُ وَهُوَ قائِمٌ يُصَلّى فِى المِحرابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحيىٰ مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصّٰلِحينَ(39)
ف۷   دعاء قبول ہوئی، بشارت ملی کہ لڑکا ہوگا، جس کا نام یحییٰ رکھا گیا۔ ف ۸   ایک حکم سے یہاں حضرت مسیح علیہ السلام مراد ہیں جو خدا کے حکم سے بدون باپ کے پیدا ہوئے۔ حضرت یحییٰ لوگوں کو پہلے سے خبر دیتے تھے کہ مسیح پیدا ہونے والے ہیں۔ ف۹   یعنی لذات و شہوات سے بہت زیادہ رکنے والا ہوگا، اللہ کی عبادت میں اس قدر مشغول رہے گا کہ عورت کی طرف التفات کرنے کی نوبت نہ آئے گی، یہ حضرت یحییٰ کا مخصوص حال تھا، جس سے اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کوئی ضابطہ نہیں بن سکتا۔ ہمارے پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اعلیٰ امتیاز یہ ہے کہ کمال معاشرت کے ساتھ کمال عبادت کو جمع فرمایا۔ ف۱۰   یعنی صلاح ورشد کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہوگا جسے نبوت کہتے ہیں یا "صالح" کے معنی "شائستہ" کے لئے جائیں یعنی نہایت شائستہ ہوگا۔(39)
قالَ رَبِّ أَنّىٰ يَكونُ لى غُلٰمٌ وَقَد بَلَغَنِىَ الكِبَرُ وَامرَأَتى عاقِرٌ ۖ قالَ كَذٰلِكَ اللَّهُ يَفعَلُ ما يَشاءُ(40)
ف ۱    یعنی اس کی قدرت و مشیت سلسلہ اسباب کی پابند نہیں۔ گو اس عالم میں اسکی عادت یہ ہے کہ اسباب عادیہ سے مسببات کو پیدا کرے لیکن کبھی کبھی اسباب عادیہ کے خلاف غیر معمولی طریقہ سے کسی چیز کا پیدا کر دینا بھی اس کی خاص عادت ہے، اصل یہ ہے کہ مریم صدیقہ کے پاس خارق عادت طریقہ سے رزق کا پہنچنا اور بہت سے غیر معمولی واقعات کا ظہور پذیر ہونا، یہ دیکھ کر مریم کے حجرہ میں بیساختہ حضرت زکریا کا دعا مانگنا پھر اُنکو اور انکی بانجھ عورت کو بڑھاپے میں غیر معتاد طور پر اولاد ملنا، ان سب نشانات کو قدرت کی طرف سے اس عظیم الشان آیت الہٰیہ کی تمہید سمجھنا چاہیے جو مریم کے وجود سے بدون قربان زوج مستقبل قریب میں ظاہر ہونے والی تھی گویا حضرت یحییٰ کی غیر معتاد ولادت پر کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَفْعَلُ مَایَشَآء فرمانا تمہید تھی کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخْلُقُ مَایَشَآءُ کی جو آگے حضرت مسیح کی غیر معتاد ولادت کے سلسلہ میں آیا چاہتا ہے۔(40)
قالَ رَبِّ اجعَل لى ءايَةً ۖ قالَ ءايَتُكَ أَلّا تُكَلِّمَ النّاسَ ثَلٰثَةَ أَيّامٍ إِلّا رَمزًا ۗ وَاذكُر رَبَّكَ كَثيرًا وَسَبِّح بِالعَشِىِّ وَالإِبكٰرِ(41)
ف ۲    جس سے معلوم ہو جائے کہ اب حمل قرار پا گیا ہے تاکہ قرب ولادت کے آثار دیکھ کر مسرّت تازہ حاصل ہو، اور شکر نعمت میں بیش از بیش مشغول رہوں۔ ف۳   یعنی جب تجھ کو یہ حالت پیش آئے کہ تین دن رات لوگوں سے بجُز اشارہ کے کوئی کلام نہ کر سکے اور تیری زبان خالص ذکر الہٰی کے لئے وقف ہو جائے تو سمجھ لینا کہ اب استقرار حمل ہو گیا۔ سبحان اللہ نشانی بھی ایسی مقرر کی کہ نشانی کی نشانی ہو اور اطلاع پانے سے جو غرض تھی (شکر نعمت) وہ علیٰ وجہ الکمال حاصل ہو جائے گویا خدا کے ذکر و شکر کے سوا چاہیں بھی تو زبان سے دوسری بات نہ کرسکیں۔ ف ٤    یعنی اس وقت خدا کو بہت کثرت سے یاد کرنا اور صبح و شام تسبیح و تہلیل میں لگے رہنا معلوم ہوتا ہے کہ آدمیوں سے کلام نہ کر سکنا گو اضطراری تھا تاکہ ان دِنوں میں محض ذکر و شکر کے لئے فارغ کر دیئے جائیں لیکن خود ذکر میں مشغول رہنا اضطراری نہ تھا، اسی لئے اس کا امر فرمایا گیا۔(41)
وَإِذ قالَتِ المَلٰئِكَةُ يٰمَريَمُ إِنَّ اللَّهَ اصطَفىٰكِ وَطَهَّرَكِ وَاصطَفىٰكِ عَلىٰ نِساءِ العٰلَمينَ(42)
ف۵   حضرت زکریا و یحییٰ علیہما السلام کا قصہ جو ضمنی مناسبات سے درمیان میں آگیا تھا اور جس میں اصطفاء آل عمران کی تاکید اور حضرت مسیح علیہ السلام کے قصہ کی تمہید تھی، یہاں ختم کر کے پھر مریم و مسیح کے واقعات کی طرف کلام منتقل کیا گیا ہے۔ چنانچہ مسیح سے پہلے ان کی والدہ کا فضل و شرف ذکر فرماتے ہیں یعنی فرشتوں نے مریم سے کہا کہ اللہ نے تجھے پہلے دن سے چھانٹ لیا کہ باوجود لڑکی ہونے کے اپنی نیاز میں قبول کیا، طرح طرح کے احوال رفیعہ اور کرامات سنّیہ عنایت فرمائیں۔ ستھرے اخلاق، پاک طبیعت اور ظاہری و باطنی نزاہت عطا فرما کر اپنی مسجد کی خدمت کے لائق بنایا۔ اور جہان کی عورتوں پر تجھ کو بعض وجوہ سے فضیلت بخشی۔ مثلا ایسی استعداد رکھی کہ بدون مسِ بشر تنہا اس کے وجود سے حضرت مسیح جیسے اولوالعزم پیغمبر پیدا ہوں۔ یہ امتیاز دنیا میں کسی عورت کو حاصل نہیں ہوا۔(42)
يٰمَريَمُ اقنُتى لِرَبِّكِ وَاسجُدى وَاركَعى مَعَ الرّٰكِعينَ(43)
ف ٦    یعنی خدا نے جب ایسی عزت اور بلند مرتبہ تجھ کو عطا فرمایا تو چاہیے کہ ہمیشہ اخلاص و تذلل کے ساتھ اپنے پروردگار کے آگے جھکی رہے اور وظائف عبودیت کے انجام دینے میں بیش از بیش سرگرمی دکھلائے تاکہ حق تعالٰی نے تجھے جس امر عظیم کے بروئے کار لانے کا ذریعہ تجویز کیا ہے وہ ظہور پذیر ہو۔ ف ۷   جیسے راکعین خدا کے آگے رکوع کرتے ہیں، تُو بھی اسی طرح رکوع کرتی رہ۔ یا یہ مطلب ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کر اور چونکہ کم از کم رکوع میں امام کے ساتھ شریک ہونے والا اس رکعت کو پانے والا سمجھا جاتا ہے، شاید اس لئے نماز کو بعنوان رکوع تعبیر کیا گیا ہے۔ کما یفہم من کلام ابن تیمیہ فی فتاواہ۔ واللہ اعلم۔ اس تقدیر پر اگر "ا قنتی" میں "قنوت" سے قیام مراد لیں تو قیام، رکوع، سجود تینوں ہئیات صلوٰۃ کا ذکر آیت میں ہو جائے گا۔ (تنبیہ) ممکن ہے اس وقت عورتوں کو عام طور پر جماعت میں شریک ہونا جائز یا خاص فتنہ سے مامون ہونے کی صورت میں اجازت ہو یا مریم کی خصوصیت ہو یا مریم اپنے حجرہ میں رہ کر تنہا یا دوسری عورتوں کے ہمراہ امام کی اقتداء کرتی ہوں۔ سب احتمالات ہیں۔ واللہ اعلم۔(43)
ذٰلِكَ مِن أَنباءِ الغَيبِ نوحيهِ إِلَيكَ ۚ وَما كُنتَ لَدَيهِم إِذ يُلقونَ أَقلٰمَهُم أَيُّهُم يَكفُلُ مَريَمَ وَما كُنتَ لَدَيهِم إِذ يَختَصِمونَ(44)
ف۸  یعنی ظاہری حیثیت سے آپ کچھ پڑھے لکھے نہیں، پہلے سے اہل کتاب کی کوئی معتدبہ صحبت نہیں رہی جن سے واقعات ماضیہ کی ایسی تحقیقی معلومات ہو سکیں۔ اور صحبت رہتی بھی تو کیا تھا، وہ لوگ خود ہی اوہام و خرافات کی اندھیریوں میں پڑے بھٹک رہے تھے کسی نے عداوت میں اور کسی نے حد سے زیادہ محبت میں آکر صحیح واقعات کو مسنح کر رکھا تھا، پھر اندھے کی آنکھ سے روشنی حاصل ہونے کی کیا توقع ہو سکتی تھی۔ اندریں حالات "مدنی" اور "مکی" دونوں قسم کی سورتوں میں ان واقعات کو ایسی صحت اور بسط و تفصیل سے سنانا جو بڑے بڑے مدعیانِ علم کتاب کی آنکھوں میں چکا چوند کر دیں اور کسی کو مجال انکار باقی نہ رہے اسکی کھلی دلیل ہے کہ بذریعہ وحی آپ کو یہ علم دیا گیا تھا کیونکہ آپ نے نہ بچشمِ خود ان حالات کا معائنہ کیا، اور نہ علم حاصل کرنے کا کوئی خارجی ذریعہ آپ کے پاس موجود تھا۔ ف۹   جب حضرت مریم نذر میں قبول کر لی گئیں تو مسجد کے مجاورین میں جھگڑا ہوا کہ انہیں کِس کی پرورش میں رکھا جائے، آخر قرعہ اندازی کی نوبت آئی۔ سب نے اپنے اپنے قلم جن سے تورات لکھتے تھے چلتے پانی میں چھوڑ دیئے کہ جس کا قلم پانی کے بہاؤ پر نہ بہے بلکہ اُلٹا پھر جائے اسی کو حقدار سمجھیں۔ اس میں بھی قرعہ حضرت زکریا کے نام نکلا اور حق حقدار کو پہنچ گیا۔(44)
إِذ قالَتِ المَلٰئِكَةُ يٰمَريَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِنهُ اسمُهُ المَسيحُ عيسَى ابنُ مَريَمَ وَجيهًا فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ وَمِنَ المُقَرَّبينَ(45)
ف ۱۰   حضرت مسیح علیہ السلام کو یہاں اور قرآن و حدیث میں کئی جگہ "کلمۃ اللہ" فرمایا ہے اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُولُ اللّٰہِ و کَلِمَتُہ، اَلْقَاھَا اِلٰی مَرْیَمَ وَرُوْحٌ مِّنْہُ (نساء رکوع ٢٣'آیت نمبر ١٧١) یوں تو اللہ کے کلمات بیشمار ہیں جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا (قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادً ا لِّکَلِمَاتِ رَبِّی لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمَاتُ رَبِّی وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا) (کہف رکوع ١٢'آیت نمبر ١٠٩) لیکن بالتخصیص حضرت مسیح کو "کلمۃ اللہ" (اللہ کا حکم) کہنا اس حیثیت سے ہے کہ ان کی پیدائش باپ کے توسط کے بدون عام سلسلہ اسباب کے خلاف محض خدا کے حکم سے ہوئی۔ اور جو فعل عام اسباب عادیہ کے سلسلہ سے خارج ہو، عموما اُسکی نسبت براہ راست حق تعالٰی کی طرف کر دی جاتی ہے جیسے فرمایا "وَمَارَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی" (انفال رکوع ٢'آیت نمبر ١٧) تنبیہ "مسیح" اصل عبرانی میں "ماشیح" یا "مشیحا" تھا۔ جس کے معنی مبارک کے ہیں۔ معرّب ہو کر "مسیح" بن گیا۔ باقی دجال کو جو "مسیح" کہا جاتا ہے وہ بالاجماع عربی لفظ ہے جسکی وجہ تسمیہ اپنے موقع پر کئی طرح بیان کی گئی ہے۔ "مسیح" کا دوسرا نام یا لقب "عیسیٰ" ہے یہ اصل عبرانی میں "ایشوع" تھا۔ معرّب ہو کر "عیسیٰ" بنا۔ جسکے معنی سیّد کے ہیں۔ یہ بات خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ قرآن کریم نے یہاں "ابن مریم" کو حضرت مسیح کے لئے بطور جزء عَلَم کے استعمال کیا ہے۔ کیونکہ خود مریم کو بشارت سناتے وقت یہ کہنا کہ تجھے "کلمۃ اللہ" کی خوشخبری دی جاتی ہے۔ جس کا نام "مسیح عیسیٰ ابن مریم" ہوگا۔ عیسیٰ کا پتہ بتلانے کے لئے نہ تھا بلکہ اس پر متنبہ کرنا تھا کہ باپ نہ ہونے کی وجہ سے اُسکی نسبت صرف ماں ہی کی طرف ہوا کرے گی۔ حتیٰ کہ لوگوں کو خدا کی یہ آیت عجیبہ ہمیشہ یاد دلانے اور مریم کی بزرگی ظاہر کرنے کے لئے گویا نام کا جُز بنا دی گئی۔ ممکن تھا کہ حضرت مریم کو بمقتضائے بشریت یہ بشارت سُن کر تشویش ہو کہ دنیا کس طرح باور کرے گی کہ تنہا عورت سے لڑکا پیدا ہو جائے۔ ناچار مجھ پر تہمت رکھیں گے اور بچہ کو ہمیشہ بُرے لقب سے مشہور کر کے ایذا پہنچائینگے۔ میں کس طرح براءت کرونگی۔ اس لئے آگے وَجِیْہَافِی الدُّنْیَا وَ الْاَخِرٰۃِ کہہ کر اطمینان کر دیا کہ خدا اس کو نہ صرف آخرت میں بلکہ دنیا میں بھی بڑی عزت و وجاہت عطا کرے گا اور دشمنوں کے سارے الزام جھوٹے ثابت کر دے گا۔ "وجیہ" کا لفظ یہاں ایسا سمجھو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا: یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوسیٰ فَبَرَّاہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْہًا (احزاب رکوع ٩، آیت :٦٩) گویا جو لوگ "وجیہ" کہلاتے ہیں اُنکو حق تعالٰی خصوصی طور پر جھوٹے طعن و تشنیع یا الزامات سے بَری کرتا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے نسب پر جو خبیث باطن طعن کرینگے یا خدا کو یا کسی انسان کو جھوٹ موٹ اُنکا باپ بتلائینگے یا خلاف واقعہ اُنکو مصلوب و مقتول یا بحالتِ زندگی مردہ کہیں گے یا الُوہیت و ابنیت وغیرہ کے باطل عقائد کی مشرکانہ تعلیم انکی طرف منسوب کریں گے، اس طرح کے تمام الزامات سے حق تعالٰی دنیا اور آخرت میں اعلانیہ بری ظاہر کر کے انکی وجاہت و نزاہت کا علیٰ رؤس الاشہاد اظہار فرمائے گا۔ جو وجاہت ان کو ولادت و بعثت کے بعد دنیا میں حاصل ہوئی اُسکی پوری تکمیل نزول کے بعد ہوگی جیسا کہ اہل اسلام کا اجماعی عقیدہ ہے۔ پھر آخرت میں خصوصیت کے ساتھ ان سے ءَ اَ نْتَ قُلْتَ لِلنَّا سِ اتَّخِذُونِیْ الخ کا سوال کر کے اور انعامات خصوصی یاد دلا کر تمام اولین و آخرین کے روبرو وجاہت و کرامت کا اظہار ہوگا۔ جیسا کہ سورہ "مائدہ" میں مذکور ہے اور نہ صرف یہ کہ دنیا و آخرت میں باوجاہت ہونگے بلکہ خدا تعالٰی کے اخص خواص مقربین میں ان کا شمار ہوگا۔(45)
وَيُكَلِّمُ النّاسَ فِى المَهدِ وَكَهلًا وَمِنَ الصّٰلِحينَ(46)
ف ۱۱   یعنی نہایت شائستہ اور اعلیٰ درجہ کے نیک ہونگے اور اول ماں کی گود میں پھر بڑے ہو کر عجیب و غریب باتیں کرینگے۔ ان الفاظ سے فی الحقیقت مریم کی پوری تسکین کر دی گئی۔ گزشتہ بشارات سے ممکن تھا یہ خیال کرتیں کہ وجاہت تو جب کبھی حاصل ہوگی مگر یہاں تو ولادت کے بعد ہی طعن و تشنیع کا ہدف بننا پڑے گا۔ اُسوقت براءت کی کیا صورت ہوگی۔ اس کا جواب دیدیا کہ گھبراؤ نہیں، تم کو زبان ہلانے کی ضرورت نہ پڑے گی، بلکہ تم کہہ دینا کہ میں نے آج روزہ رکھ چھوڑا ہے کلام نہیں کر سکتی۔ بچہ خود جواب دہی کرے گا جیسا کہ سورہ "مریم" میں پوری تفصیل آئے گی۔ بعض محرفین نے کہا ہے کہ "وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وْ کَہْلاً"الخ سے صرف مریم کی تسلی کرنی تھی کہ لڑکا گونگا نہ ہوگا۔ تمام لڑکوں کی طرح بچپن اور کہولت میں کلام کرلے گا۔ لیکن عجیب بات ہے کہ محشر میں بھی لوگ حضرت عیسیٰ کو یوں خطاب کرینگے یا عیِسیٰ اَنْتَ رَسُولُ اللّٰہِ وَکَلِمَتُہ، اَلْقَاھَا اِلٰی مَرْیَمَ وَرُوْحٌ مِّنْہُ وَ کَلَّمْتَ النَّاسَ فِی الْمَہْدِ صَبِیًّا" اور خود حق تعالٰی بھی قیامت کے دن فرمائینگے "اُذْکُرْ نِعْمَتِی عَلَیْکَ وَ عَلٰی وَالِدَتِکَ اِذْاَیَّدْ تُّکَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَہْدِ وَکَہْلاً" کیا وہاں بھی اس خاص نشان کا بیان فرمانا اسی لئے ہے کہ مریم کو اطمینان ہو جائے کہ لڑکا گونگا نہیں عام لڑکوں کی طرح بولنے والا ہے۔ اعاذنا اللّٰہ من الغوایۃ والضلالۃ۔(46)
قالَت رَبِّ أَنّىٰ يَكونُ لى وَلَدٌ وَلَم يَمسَسنى بَشَرٌ ۖ قالَ كَذٰلِكِ اللَّهُ يَخلُقُ ما يَشاءُ ۚ إِذا قَضىٰ أَمرًا فَإِنَّما يَقولُ لَهُ كُن فَيَكونُ(47)
ف۱   معلوم ہوا کہ وہ بشارت سے یہ ہی سمجھیں کہ لڑکا بحالتِ موجودہ ہونیوالا ہے۔ ورنہ تعجب کا کیا موقع تھا۔ ف۲   یعنی اسی طرح بدون مسِ بشر کے ہو جائے گا۔ خلاف عادت ہونے کی وجہ سے تعجب نہ کر حق تعالٰی جو چاہے اور جس طرح چاہے پیدا کر دے اُسکی قدرت کی حد بندی نہیں ہو سکتی۔ ایک کام کا ارادہ کیا اور ہوگیا۔ نہ وہ مادہ کا محتاج نہ اسباب کا پابند۔(47)
وَيُعَلِّمُهُ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَالتَّورىٰةَ وَالإِنجيلَ(48)
ف ۳    یعنی لکھنا سکھائے گا، یا عام کتب ہدایت کا عموما اور تورات و انجیل کا خصوصا علم عطا فرمائے گا اور بڑی گہری حکمت کی باتیں تلقین کرے گا۔ اور بندہ کے خیال میں ممکن ہے کتاب و حکمت سے مراد قرآن و سُنت ہو، کیونکہ حضرت مسیح نزول کے بعد قرآن و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موافق حکم کرینگے اور یہ جب ہی ہو سکتا ہے کہ ان چیزوں کا علم دیا جائے۔ واللہ اعلم۔(48)
وَرَسولًا إِلىٰ بَنى إِسرٰءيلَ أَنّى قَد جِئتُكُم بِـٔايَةٍ مِن رَبِّكُم ۖ أَنّى أَخلُقُ لَكُم مِنَ الطّينِ كَهَيـَٔةِ الطَّيرِ فَأَنفُخُ فيهِ فَيَكونُ طَيرًا بِإِذنِ اللَّهِ ۖ وَأُبرِئُ الأَكمَهَ وَالأَبرَصَ وَأُحىِ المَوتىٰ بِإِذنِ اللَّهِ ۖ وَأُنَبِّئُكُم بِما تَأكُلونَ وَما تَدَّخِرونَ فى بُيوتِكُم ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لَكُم إِن كُنتُم مُؤمِنينَ(49)
ف٤   یعنی پیغمبر ہو کر اپنی قوم بنی اسرائیل سے یہ فرمائینگے۔ ف۵   محض شکل و صورت بنانے کو "خلق" سے تعبیر کرنا صرف ظاہری حیثیت سے ہے۔ جیسے حدیث صحیح میں معمولی تصویر بنانے کو "خلق" سے تعبیر فرمایا" احیوا ماخلقتم" یا خدا کو "احسن الخالقین" فرما کر بتلا دیا کہ محض ظاہری صورت کے لحاظ سے غیر اللہ پر بھی یہ لفظ بولا جاسکتا ہے۔ اگرچہ حقیقت تخلیق کے لحاظ سے حق تعالٰی کے سوا کوئی خالق نہیں کہلا سکتا۔ شاید اسی لئے یہاں یوں نہ فرمایا "ــ اَنِّی اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ طَیْرًا" (میں مٹی سے پرندہ بنا دیتا ہوں) یوں کہا کہ میں مٹی سے پرندہ کی شکل بنا کر اس میں پھونک مارتا ہوں پھر وہ پرندہ اللہ کے حکم سے بن جاتا ہے بہرحال یہ معجزہ آپ نے دکھلایا اور کہتے ہیں بچپن میں ہی بطور "ارہاص" آپ سے یہ خرق عادت ظاہر ہوا تاکہ تہمت لگانے والوں کو ایک چھوٹا سا نمونہ قدرت خداوندی کا دکھلا دیں کہ جب میرے نفخہ (پھونکنے) پر خدا تعالٰی مٹی کی بے جان صورت کو جاندار بنا دیتا ہے اسی طرح اگر اس نے بدون مسِ بشر محض روح القدس کے نفخہ سے ایک برگزیدہ عورت کے پانی پر روح عیسوی فائض کر دی تو کیا تعجب ہے بلکہ حضرت مسیح چونکہ نفخہ جبرئیلیہ سے پیدا ہوئے ہیں اس مسیحائی نفخہ کو اسی نوعیت ولادت کا ایک اثر سمجھنا چاہیئے۔ سورہ "مائدہ" کے آخر میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ان معجزات و خوارق پر دوسرے رنگ میں کلام کیا جائے گا وہاں ملاحظہ کیا جائے۔ خلاصہ یہ کہ حضرت مسیح پر کمالات ملکیہ و روحیہ کا غلبہ تھا۔ اسی کے مناسب آثار ظاہر ہوتے تھے۔ لیکن اگر بشر کو ملک پر فضیلت حاصل ہے اور اگر ابو البشر کو مسجود ملائکہ بنایا گیا ہے تو کوئی شبہ نہیں کہ جس میں تمام کمالاتِ بشریہ (جو عبارت ہے مجموعہ کمالات روحانیہ و جسمانیہ سے) اعلیٰ درجہ پر ہوں گے اس کو حضرت مسیح سے افضل ماننا پڑے گا اور وہ ذات قدسی صفات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ ف ٦     اس زمانہ میں اطباء و حکماء کا زور تھا۔ حضرت مسیح کو ایسے معجزات مرحمت ہوئے جو لوگوں پر ان کے سب سے زیادہ مایہ ناز فن میں حضرت مسیح کا نمایاں تفوق ثابت کریں بلاشبہ مردہ کو زندہ کرنا حق تعالٰی کی صفت ہے، جیسا کہ باذن اللہ کی قید سے صاف ظاہر ہے مگر مسیح اس کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے تو سعاً اپنی طرف نسبت کر رہے ہیں۔ یہ کہنا کہ حق تعالٰی قرآن کریم میں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احادیث میں اعلان کر چکے ہیں کہ ازل سے ابد تک کسی مردہ کو دنیا میں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ نرا دعویٰ ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں۔ اگر اس نے قرآن میں فَیُمْسِکُ الَّتِی قَضٰی عَلَیْھَا الْمَوْتَ فرما کر یہ بتلایا کہ مرنے والے کی روح خدا تعالٰی روک لیتا ہے اور سونے والے کی اس طرح نہیں روکتا۔ تو یہ کب کہا ہے کہ اس روک لینے کے بعد دوبارہ اُسے چھوڑ دینے کا اختیار نہیں رہتا۔ یاد رکھو! معجزہ وہی ہے جو حق تعالٰی کی عام عادت کے خلات مدعی نبوت کی تصدیق کے لئے ظاہر کیا جائے۔ پس ایسی نصوص کو لے کر جو کسی چیز کی نسبت خدا کی عام عادت بیان کرتی ہوں یہ استدلال کرنا کہ ان سے معجزات کی نفی ہوتی ہے سرے سے معجزہ کے وجود کا انکار اور اپنی حماقت و غباوت کا اظہار ہے معجزہ اگر عام قانون عادت کے موافق آیا کرے تو اُسے معجزہ کیوں کہیں گے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کا بن باپ پیدا ہونا یا ابراء اکمہ وابرص اور احیاء موتی وغیرہ معجزات دکھلانا، اہل اسلام میں تمام سلف و خلف کے نزدیک مسلم رہا ہے۔ صحابہ و تابعین میں ایک قول بھی اس کے انکار میں دکھلایا نہیں جاسکتا آج جو ملحدیہ دعویٰ کرے کہ ان خوارق کا ماننا محکمات قرآنی کے خلاف ہے۔ گویا وہ ایسی چیزوں کو "محکمات" بتلاتا ہے، جن کا صحیح مطلب سمجھنے سے تمام امت عاجز رہی؟ یا سب کے سب محکمات کو چھوڑ کر اور" متشابہات" کے پیچھے پڑ کر" فِی قُلُوبِھِمْ زَیْغٌ" کے مصداق بن گئے؟ آجکل کے ملحدین کے سوا "متشابہات" کو "محکمات" کی طرف لوٹانے کی کسی کو توفیق نہ ہوئی۔ العیاذباللہ۔ حق یہ ہے کہ وہ آیات جن کے ظاہری معنیٰ کو ساری اُمت مانتی چلی آئی ہے۔ "محکمات" ہیں۔ اور ان کو توڑ مروڑ کر محض استعارات و تمثیلات پر حمل کرنا اور معجزات کی نفی پر عموم عادت سے دلیل لانا یہ ہی " زائغین" کا کام ہے۔ جن سے حذر کرنے کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے۔ ف ۷    آئندہ کے لئے یعنی بعض مغیبات ماضیہ ومستقبلہ پر تم کو مطلع کر دیتا ہوں۔ عملی معجزات کے بعد یہ ایک علمی معجزہ ذکر کر دیا۔(49)
وَمُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَىَّ مِنَ التَّورىٰةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعضَ الَّذى حُرِّمَ عَلَيكُم ۚ وَجِئتُكُم بِـٔايَةٍ مِن رَبِّكُم فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطيعونِ(50)
ف۸  یعنی تورات کی تصدیق کرتا ہوں کہ خدا کی کتاب ہے اور اس کے عام اصول و احکام کو بحالہ قائم رکھتے ہوئے زمانہ کے مناسب حق تعالٰی کے حکم سے چند جزئی و فرعی تغیرات کروں گا۔ مثلاً بعض احکام میں پہلے جو سختی تھی وہ اب اٹھا دی جائے گی۔ اس کا نام خواہ نسخ رکھ لو یا تکمیل اختیار ہے۔ ف۹    یعنی میری صداقت کے نشان جب دیکھ چکے تو اب خدا سے ڈر کر میری باتیں ماننی چاہئیں۔(50)
إِنَّ اللَّهَ رَبّى وَرَبُّكُم فَاعبُدوهُ ۗ هٰذا صِرٰطٌ مُستَقيمٌ(51)
ف ۱۰   یعنی سب باتوں کی ایک بات ساری جڑوں کی اصل جڑ یہ ہے کہ حق تعالٰی کو میرا اور اپنا دونوں کا یکساں رب سمجھو (باپ بیٹے کے رشتے قائم نہ کرو) اور اسی کی بندگی کرو۔ سیدھا راستہ رضائے الہٰی تک پہنچنے کا یہ ہی توحید، تقویٰ اور اطاعتِ رسُول ہے۔(51)
۞ فَلَمّا أَحَسَّ عيسىٰ مِنهُمُ الكُفرَ قالَ مَن أَنصارى إِلَى اللَّهِ ۖ قالَ الحَوارِيّونَ نَحنُ أَنصارُ اللَّهِ ءامَنّا بِاللَّهِ وَاشهَد بِأَنّا مُسلِمونَ(52)
ف۱    یعنی یہ میرا دین قبول نہ کرینگے بلکہ دشمنی اور ایذاء رسانی کے درپے رہینگے۔ ف۲    یعنی میرا ساتھ دے اور دین الہٰی کو رواج دینے میں میری مدد کرے۔ ف ۳    اللہ کی مدد کرنا یہ ہی ہے کہ اس کے دین و آئین اور پیغمبروں کی مدد کی جائے جس طرح انصار مدینہ نے اپنے پیغمبر علیہ السلام اور دین حق کی مدد کر کے دکھلائی۔ ف ٤    "حواری" کون لوگ تھے اور یہ لقب ان کا کس وجہ سے ہوا۔ اس میں علماء کے بہت اقوال ہیں مشہور یہ ہے کہ پہلے دو شخص جو حضرت عیسیٰ کے تابع ہوئے دھوبی تھے اور کپڑے صاف کرنے کی وجہ سے حواری کہلاتے تھے۔ حضرت عیسیٰ نے ان کو کہا کہ کپڑے کیا دھوتے ہو آؤ میں تم کو دل دھونے سکھا دوں۔ وہ ساتھ ہو لئے۔ پھر ایسے سب ساتھیوں کا یہ ہی لقب پڑ گیا۔(52)
رَبَّنا ءامَنّا بِما أَنزَلتَ وَاتَّبَعنَا الرَّسولَ فَاكتُبنا مَعَ الشّٰهِدينَ(53)
ف۵   پیغمبر کے سامنے اقرار کرنے کے بعد پروردگار کے سامنے یہ اقرار کیا کہ ہم انجیل پر ایمان لا کر تیرے رسُول کا اتباع کرتے ہیں۔ آپ اپنے فضل و توفیق سے ہمارا نام ماننے والوں کی فہرست میں ثبت فرما دیں۔ گو یا ایمان کی رجسٹری ہو جائے کہ پھر لوٹنے کا احتمال نہ رہے۔(53)
وَمَكَروا وَمَكَرَ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيرُ المٰكِرينَ(54)
ف ٦    "مکر" کہتے ہیں لطیف وخفیہ تدبیر کو۔ اگر وہ اچھے مقصد کے لئے ہو، اچھا ہے۔ اور بُرائی کے لئے تو بُرا ہے اسی لئے وَلاَ یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّیءُ "میں مکر کے ساتھ سیئی کی قید لگائی۔ اور یہاں خدا کو "خیرالماکرین" کہا۔ مطلب یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں اور خفیہ تدبیریں شروع کر دیں۔ حتیٰ کہ بادشاہ کے کان بھر دیے کہ یہ شخص (معاذاللہ) ملحد ہے۔ تورات کو بدلنا چاہتا ہے سب کو بددین بنا کر چھوڑے گا۔ اس نے مسیح علیہ السلام کی گرفتاری کا حکم دے دیا اُدھر یہ ہو رہا تھا اور ادھر حق تعالٰی کی لطیف و خفیہ تدبیر ان کے توڑ میں اپنا کام کر رہی تھی جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ بیشک خدا کی تدبیر سب سے بہتر اور مضبوط ہے۔ جسے کوئی نہیں توڑ سکتا۔(54)
إِذ قالَ اللَّهُ يٰعيسىٰ إِنّى مُتَوَفّيكَ وَرافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذينَ كَفَروا وَجاعِلُ الَّذينَ اتَّبَعوكَ فَوقَ الَّذينَ كَفَروا إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ ۖ ثُمَّ إِلَىَّ مَرجِعُكُم فَأَحكُمُ بَينَكُم فيما كُنتُم فيهِ تَختَلِفونَ(55)
(55)
فَأَمَّا الَّذينَ كَفَروا فَأُعَذِّبُهُم عَذابًا شَديدًا فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ وَما لَهُم مِن نٰصِرينَ(56)
(56)
وَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفّيهِم أُجورَهُم ۗ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ الظّٰلِمينَ(57)
ف۷    بادشاہ نے لوگوں کو مامُور کیا کہ مسیح علیہ السلام کو پکڑیں۔ صلیب (سُولی) پر چڑھائیں اور ایسی عبرتناک سزائیں دیں جسے دیکھ کر دوسرے لوگ اس کا اتباع کرنے سے رُک جائیں۔ فبعث فی طلبہ من یاخذہ ویصلبہ وینکل بہ (ابن کثیر) خداوند قدوس نے اس کے جواب میں مسیح علیہ السلام کو مطمئن فرما دیا کہ میں ان اشقیاء کے ارادوں اور منصوبوں کو خاک میں ملا دوں گا۔ یہ چاہتے ہیں کہ تجھے پکڑ کر قتل کر دیں اور پیدائش و بعثت سے جو مقصد ہے پورا نہ ہونے دیں اور اس طرح خدا کی نعمت عظیم کی بے قدری کریں۔ لیکن میں ان سے اپنی یہ نعمت لے لوں گا۔ تیری عمر مقدر اور جو مقصد عظیم اس سے متعلق ہے پورا کر کے رہوں گا۔ اور تجھ کو پورے کا پورا صحیح و سالم لے جاؤں گا کہ ذرا بھی تیرا بال بیگا نہ کر سکیں۔ بجائے اسکے کہ وہ لے جائیں، خدا تجھ کو اپنی پناہ میں لے جائے گا۔ وہ صلیب پر چڑھانا چاہتے ہیں خدا تجھ کو آسمان پر چڑھائے گا۔ ان کا ارادہ ہے کہ رسوا کن اور عبرتناک سزائیں دیکر لوگوں کو تیرے اتباع سے روک دیں لیکن خدا انکے ناپاک ہاتھ تیرے تک نہ پہنچنے دے گا بلکہ اس گندے اور نجس مجمع کے درمیان سے تجھ کو بالکل پاک و صاف اٹھا لے گا اور اس کے بجائے کہ تیری بے عزتی ہو اور لوگ ڈر کر تیرے اتباع سے رُک جائیں، تیرا اتباع کرنیوالوں اور نام لینے والوں کو قرب قیامت تک منکروں پر غالب و قاہر رکھے گا۔ جب تک تیرا انکار کرنے والے یہود اور اقرار کرنیوالے مسلمان یا نصاریٰ دنیا میں رہینگے ہمیشہ اقرار کرنیوالے منکرین پر فائق و غالب رہینگے۔ بعدہ، ایک وقت آئے گا جب تجھ کو اور تیرے موافق و مخالف سب لوگوں کو میرے حکم کی طرف لوٹنا ہے۔ اُسوقت میں تمہارے سب جھگڑوں کا دو ٹوک فیصلہ کر دونگا اور سب اختلافات ختم کر دیئے جائینگے۔ یہ فیصلہ کب ہوگا؟ اس کی جو تفصیل فَاَمَّاالَّذِیْنَ کَفَرُوا فَاُ عَذِّبُھُمْ عَذَابًا شَدِیدًا فِی الدُّنْیَا الخ سے بیان کی گئی ہے وہ بتلاتی ہے کہ آخرت سے پیشتر دنیا ہی میں اس کا نمونہ کر دیا جائے گا۔ یعنی اس وقت تمام کافر عذاب شدید کے نیچے ہوںگے۔ کوئی طاقت انکی مدد اور فریاد کو نہ پہنچ سکے گی۔ اس کے بالمقابل جو ایمان والے رہینگے اُنکو دنیا و آخرت میں پورا پورا اجر دیا جائے گا اور بے انصاف ظالموں کی جڑ کاٹ دیجائے گی۔ اُمت مرحومہ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ جب یہود نے اپنی ناپاک تدبیریں پختہ کرلیں تو حق تعالٰی نے حضرت مسیح علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر احادیث کے موافق قیامت کے قریب جب دنیا کفرو ضلالت اور دجل وشیطنت سے بھر جائے گی، خدا تعالٰی خاتم الانبیاء بنی اسرائیل (حضرت مسیح علیہ السلام) کو خاتم الانبیاء علی الاطلاق حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک نہایت وفادار جنرل کی حیثیت میں نازل کر کے دنیا کو دکھلا دے گا کہ انبیائے سابقین کو بارگاہ خاتم النبیین کے ساتھ کس قسم کا تعلق ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام دجال کو قتل کرینگے اور اُسکے بعد یہود کو چُن چُن کر مارینگے۔ کوئی یہودی جان نہ بچا سکے گا۔ شجر و حجر تک پکارینگے کہ ہمارے پیچھے یہ یہودی کھڑا ہے قتل کرو! حضرت مسیح صلیب کو توڑینگے۔ نصاریٰ کے باطل عقائد و خیالات کی اصلاح کر کے تمام دنیا کو ایمان کے راستہ پر ڈال دینگے۔ اُسوقت تمام جھگڑوں کا فیصلہ ہو کر اور مذہبی اختلافات مٹ مٹا کر ایک خدا کا سچا دین (اسلام) رہ جائے گا۔ اِسی وقت کی نسبت فرمایا واِن مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہ (نساء رکوع٢٢، آیت:١٥٩) جسکی پوری تقریر اور رفع مسیح کی کیفیت سورہ "نساء" میں آئے گی۔ بہرحال میرے نزدیک ثم الی مرجعکم الخ صرف آخرت سے متعلق نہیں بلکہ دنیا و آخرت دونوں سے تعلق رکھتا ہے۔ جیسا کہ آگے تفصیل کے موقع پر فی الدنیا والا خرۃ کا لفظ صاف شہادت دے رہا ہے۔ اور یہ اس کا قرینہ ہے کہ الی یوم القیامۃ کے معنیٰ قرب قیامت کے ہیں۔ چنانچہ احادیث صحیحہ میں مُصرح ہے کہ قیامت سے پہلے ایک مبارک وقت ضرور آنے والا ہے جب سب اختلافات مٹ مٹا کر ایک دین باقی رہ جائے گا۔ وللّٰہ الحمد اولًا و آخراً۔ چند امُور اس آیت کے متعلق یاد رکھنے چاہئیں۔ لفظ "توفی" کے متعلق کلیات ابو البقاء میں ہے۔ "التوفی الاماتۃ و قبض الروح علیہ استعمال العامۃ او الاستیفاء واخذ الحق و علیہ استعمال البلغاء"اھ ("توفی" کا لفظ عوام کے یہاں موت دینے اور جان لینے کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن بُلغاء کے نزدیک اس کے معنی ہیں پورا وصول کرنا اور ٹھیک لینا) گویا ان کے نزدیک موت پر بھی "توفی" کا اطلاق اسی حیثیت سے ہوا کہ موت میں کوئی عضو خاص نہیں بلکہ خدا کی طرف سے پوری جان وصول کر لی جاتی ہے۔ اب اگر فرض کرو خدا تعالٰی نے کسی کی جان بدن سمیت لے لی تو اُسے بطریق اولیٰ "توفی" کہا جائے گا۔ جن اہل لغت نے "توفی" کے معنی قبض روح کے لکھے ہیں، انہوں نے یہ نہیں کہا کہ قبض روح مع البدن کو "توفی"نہیں کہتے۔ نہ کوئی ایسا ضابطہ بتایا ہے کہ جب "توفی" کا فاعل اللہ اور مفعول ذی روح ہو تو بجز موت کے کوئی معنی نہ ہو سکیں۔ ہاں چونکہ عموماَ قبض روح کا وقوع بدن سے جُدا کر کے ہوتا ہے۔ اس لئے کثرت و عادت کے لحاظ سے اکثر موت کا لفظ اُسکے ساتھ لکھ دیتے ہیں ورنہ لفظ کا لغوی مدلول قبض روح مع البدن کو شامل ہے۔ دیکھئے۔ "اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَ نْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا وَالَّتِی لَمْ تَمُتْ فِی مَنَامِھَا" (زمر۔ رکوع ٥، آیت ٤٢) میں "توفی نفس" (قبض روح) کی دو صورتیں بتلائیں، موت اور نیند، اس تقسیم سے نیز "توفی" کو "انفس" پر وارد کر کے اور "حین موتہا" کی قید لگا کر بتلا دیا کہ "توفی" اور "موت" دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ قبض روح کے مختلف مدارج ہیں۔ ایک درجہ وہ ہے جو موت کی صورت میں پایا جائے۔ دوسرا وہ جو نیند کی صورت میں ہو۔ قرآن کریم نے بتلا دیا کہ وہ دونوں پر "توفی" کا لفظ اطلاق کرتا ہے۔ کچھ موت کی تخصیص نہیں۔ یَتَوَفّٰکُمْ بِالَّلیْلِ وَ یَعْلَمُ مَاجَرَحْتُمْ بِالنَّہارِ (انعام رکوع٧، آیت٦٠) اب جس طرح اس نے دو آیتوں میں نوم پر توفی کا اطلاق جائز رکھا حالانکہ نوم میں قبض روح بھی پورا نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر "آل عمران" اور "مائدہ" کی دو آیتوں میں "توفی" کا لفظ قبض روح مع البدن پر اطلاق کر دیا گیا تو کونسا استحالہ لازم آتا ہے۔ بالخصوص جب یہ دیکھا جائے کہ موت اور نوم میں لفظ "توفی" کا استعمال قرآن کریم ہی نے شروع کیا ہے۔ جاہلیت والے تو عموما اس حقیقت سے ہی ناآشنا تھے کہ موت یا نوم میں خدا تعالٰی کوئی چیز آدمی سے وصول کر لیتا ہے اسی لئے لفظ "توفی" کا استعمال موت اور نوم پر ان کے یہاں شائع نہ تھا قرآن کریم نے موت وغیرہ کی حقیقت پر روشنی ڈالنے کے لئے اول اس لفظ کا استعمال شروع کیا۔ تو اسی کو حق ہے کہ موت و نوم کی طرح اخذ روح مع البدن کے نادر مواقع میں بھی اسے استعمال کر لے۔ بہرحال آیت حاضرہ میں جمہور کے نزدیک "توفی" سے موت مراد نہیں۔ اور ابن عباس سے بھی صحیح ترین روایت یہ ہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے۔ کما فی روح المعانی وغیرہ زندہ اٹھائے جانے یا دوبارہ نازل ہونے کا انکار سلف میں کسی سے منقول نہیں۔ بلکہ "تلخیص العبیر" میں حافظ ابن حجر نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور ابن کثیر وغیرہ نے احادیث نزول کو متواتر کہا ہے اور "اکمال اکمال المعلم" میں امام مالک سے اس کی تصریح نقل کی ہے۔ پھر جو معجزات حضرت مسیح علیہ السلام نے دکھلائے ان میں علاوہ دوسری حکمتوں کے ایک خاص مناسبت آپ کے رفع الی السماء کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ آپ نے شروع ہی سے متنبہ کر دیا کہ جب ایک مٹی کا پتلا میرے پھونک مارنے سے باذن اللہ پرندہ بن کر اوپر اُڑا چلا جاتا ہے کیا وہ بشر جس پر خدا نے روح اللہ کا لفظ اطلاق کیا اور "روح القدس" کے نفخہ سے پیدا ہوا، یہ ممکن نہیں کہ خدا کے حکم سے اُڑ کر آسمان تک چلا جائے۔ جس کے ہاتھ لگانے یا دو لفظ کہنے پر حق تعالٰی کے حکم سے اندھے اور کوڑھی اچھے اور مردے زندہ ہوجائیں، اگر وہ اس موطن کون و فساد سے الگ ہو کر ہزاروں برس فرشتوں کی طرح آسمان پر زندہ اور تندرست رہے، تو کیا استبعاد ہے۔ قال قتادہ فطار مع الملائکۃ فھو معھم حول العرش وصارا نسیا ملکیا سماویا ارضیا (بغوی) اس موضوع پر مستقل رسالے اور کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ مگر میں اہل علم کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہمارے مخدوم علامہ فقید النظیر مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری اطال اللہ بقاہ، نے رسالہ "عقیدۃ الاسلام" میں جو علمی لعل وجواہر و دیعت کئے ہیں ان سے متمتع ہونیکی ہمت کریں میری نظر میں ایسی جامع کتاب اس موضوع پر نہیں لکھی گئی۔(57)
ذٰلِكَ نَتلوهُ عَلَيكَ مِنَ الءايٰتِ وَالذِّكرِ الحَكيمِ(58)
(58)
إِنَّ مَثَلَ عيسىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ ءادَمَ ۖ خَلَقَهُ مِن تُرابٍ ثُمَّ قالَ لَهُ كُن فَيَكونُ(59)
ف ۱   نصاریٰ اس بات پر حضرت سے بہت جھگڑے کہ عیسیٰ بندہ نہیں اللہ کا بیٹا ہے۔ آخر کہنے لگے کہ وہ اللہ کا بیٹا نہیں تو تم بتاؤ کس کا بیٹا ہے؟ اس کے جواب میں یہ آیت اُتری کہ آدم کے تو نہ باپ تھا نہ ماں۔ عیسیٰ کے باپ نہ ہو تو کیا عجب ہے (موضح القرآن) اس حساب سے تو آدم کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے پر زیادہ زور دینا چاہیئے۔ حالانکہ کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔(59)
الحَقُّ مِن رَبِّكَ فَلا تَكُن مِنَ المُمتَرينَ(60)
ف۲   یعنی مسیح علیہ السلام کے متعلق جو کچھ حق تعالٰی نے فرمایا وہ ہی حق ہے جس میں شک و شبہ کی قطعا گنجائش نہیں۔ جو بات تھی بلا کم و کاست سمجھا دی گئی۔(60)
فَمَن حاجَّكَ فيهِ مِن بَعدِ ما جاءَكَ مِنَ العِلمِ فَقُل تَعالَوا نَدعُ أَبناءَنا وَأَبناءَكُم وَنِساءَنا وَنِساءَكُم وَأَنفُسَنا وَأَنفُسَكُم ثُمَّ نَبتَهِل فَنَجعَل لَعنَتَ اللَّهِ عَلَى الكٰذِبينَ(61)
ف۳    اللہ تعالٰی نے حکم فرمایا کہ نصاریٰ نجران اس قدر سمجھانے پر بھی اگر قائل نہ ہوں تو انکے ساتھ "مباہلہ" کرو جسکی زیادہ موثر اور مکمل صورت یہ تجویز کی گئی کہ دونوں فریق اپنی جان سے اور اولاد سے حاضر ہوں اور خوب گڑ گڑا کر دعا کریں کہ جو کوئی ہم میں جھوٹا ہے اس پر خدا کی لعنت اور عذاب پڑے۔ یہ "مباہلہ" کی صورت پہلے ہی قدم پر اس بات کا اظہار کر دے گی کہ کون فریق کس حد تک خود اپنے دل میں اپنی صداقت و حقانیت پر وثوق و یقین رکھتا ہے۔ چنانچہ دعوت " مباہلہ" سُن کر وفد نجران نے مہلت لی کہ ہم آپس میں مشورہ کرکے جواب دینگے۔ آخر مجلس مشاورت میں ان کے ہوشمند تجربہ کار ذمہ داروں نے کہا کہ اے گروہِ نصاریٰ! تم یقینا دلوں میں سمجھ چکے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی مُرسل ہیں اور حضرت مسیح کے متعلق انہوں نے صاف صاف فیصلہ کُن باتیں کہی ہیں تم کو معلوم ہے کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں نبی بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔ کچھ بعید نہیں یہ وہی نبی ہوں، پس ایک نبی سے مباہلہ و ملاعنہ کرنے کا نتیجہ کسی قوم کے حق میں یہ ہی نکل سکتا ہے کہ اُنکا کوئی چھوٹا بڑا ہلاکت یا عذابِ الہٰی سے نہ بچے۔ اور پیغمبر کی لعنت کا اثر نسلوں تک پہنچ کر رہے۔ بہتر یہی ہے کہ ہم ان سے صلح کر کے اپنی بستیوں کی طرف روانہ ہوجائیں۔ کیونکہ سارے عرب سے لڑائی مول لینے کی طاقت ہم میں نہیں"۔ یہ ہی تجویز پاس کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن، حسین، فاطمہ، علی رضی اللہ عنہم کو ساتھ لئے باہر تشریف لا رہے تھے۔ یہ نورانی صورتیں دیکھ کر ان کے لاٹ پادری نے کہا کہ میں ایسے پاک چہرے دیکھ رہا ہوں جن کی دعا پہاڑوں کو انکی جگہ سے سرکا سکتی ہے، ان سے مباہلہ کر کے ہلاک نہ ہو، ورنہ ایک نصرانی زمین پر باقی نہ رہے گا۔ آخر انہوں نے مقابلہ چھوڑ کر سالانہ جزیہ دینا قبول کیا اور صلح کر کے واپس چلے گئے۔ حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مباہلہ کرتے تو وادی آگ بن کر ان پر برستی اور خدا تعالٰی نجران کا بالکل استیصال کر دیتا۔ ایک سال کے اندر اندر تمام نصاریٰ ہلاک ہو جاتے۔ (تنبیہ) قرآن نے یہ نہیں بتلایا کہ مباہلہ کی صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی اختیار کی جاسکتی ہے اور یہ کہ مباہلہ کا اثر کیا ہمیشہ وہ ہی ظاہر ہونا چاہیے جو آپ کے مباہلہ میں ظاہر ہونے والا تھا۔ بعض سلف کے طریق عمل اور بعض فقہائے حنفیہ کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ مباہلہ کی مشروعیت اب بھی باقی ہے مگر ان چیزوں میں جنکا ثبوت بالکل قطعی ہو، یہ ضروری نہیں کہ مباہلہ میں بچوں، عورتوں کو بھی شریک کیا جائے۔ نہ مباہلین پر اُس قسم کا عذاب آنا ضروری ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مباہلہ پر آتا۔ بلکہ ایک طرح کا اتمامِ حجت کر کے بحث و جدال سے الگ ہو جانا ہے۔ اور میرے خیال میں مباہلہ ہر ایک کاذب کے ساتھ نہیں صرف کاذب معاند کے ساتھ ہونا چاہیئے۔ ابن کثیر کہتے ہیں ثم قال تعالٰی اٰمراً رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم ان یباھل من عاند الحق فی امر عیسیٰ بعد ظہور البیان واللہ اعلم۔(61)
إِنَّ هٰذا لَهُوَ القَصَصُ الحَقُّ ۚ وَما مِن إِلٰهٍ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(62)
ف ٤   دعوت مباہلہ کے ساتھ بتلا دیا کہ مباہلہ اس پر کیا جاتا تھا کہ جو کچھ حضرت مسیح علیہ وسلم کے متعلق قرآن میں بیان ہوا وہ ہی سچا بیان ہے اور خدا کی بارگاہ ہر قسم کے شرک اور باپ بیٹے وغیرہ کے تعلقات سے پاک ہے۔ ف۵   اپنی زبردست قدرت و حکمت سے جھوٹے اور سچے کے ساتھ وہ ہی معاملہ کرے گا جو اس کے حسب حال ہو۔(62)
فَإِن تَوَلَّوا فَإِنَّ اللَّهَ عَليمٌ بِالمُفسِدينَ(63)
ف ٦    اگر نہ دلائل سے مانیں نہ مباہلہ پر آمادہ ہوں تو سمجھ لو کہ احقاق حق مقصود نہیں نہ دل میں اپنے عقائد کی صداقت پر وثوق ہے۔ محض فتنہ و فساد پھیلانا ہی پیشِ نظر ہے تو خوب سمجھ لیں کہ سب مفسدین اللہ کی نظر میں ہیں۔(63)
قُل يٰأَهلَ الكِتٰبِ تَعالَوا إِلىٰ كَلِمَةٍ سَواءٍ بَينَنا وَبَينَكُم أَلّا نَعبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلا نُشرِكَ بِهِ شَيـًٔا وَلا يَتَّخِذَ بَعضُنا بَعضًا أَربابًا مِن دونِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوا فَقولُوا اشهَدوا بِأَنّا مُسلِمونَ(64)
ف ۷   پہلے نقل کہا جا چکا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وفد نجران کو کہا اسلموا (مسلم بن جاؤ) تو کہنے لگے اَسْلَمْنَا (ہم مسلم ہیں) اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی طرح اُنکو بھی مسلم ہونے کا دعویٰ تھا۔ اسی طرح جب یہود ونصاریٰ کے سامنے توحید پیش کی جاتی تو کہتے کہ ہم بھی خدا کو ایک کہتے ہیں بلکہ ہر مذہب والا کسی نہ کسی رنگ میں اُوپر جاکر اقرار کرتا ہے کہ بڑا خدا ایک ہی ہے۔ یہاں اسی طرف توجہ دلائی گئی کہ بنیادی عقیدہ (خدا کا ایک ہونا اور اپنے کو مسلم ماننا) جس پر ہم دونوں متفق ہیں، ایسی چیز ہے جو ہم سب کو ایک کر سکتا ہے بشرطیکہ آگے چل کر اپنے تصرف اور تحریف سے اس کی حقیقت بدل نہ ڈالیں۔ ضرورت اسکی ہے کہ جس طرح زبان سے مسلم و موحد کہتے ہو، حقیقۃً و عملاً بھی اپنے کو تنہا خدائے وحدہ لاشریک لہ، کے سپرد کر دو۔ نہ اس کے سوا کسی کی بندگی کرو، نہ اُسکی صفاتِ خاصہ میں کسی کو شریک ٹھہراؤ، نہ کسی اور عالم، فقیر، پیر، پیغمبر کے ساتھ وہ معاملہ کرو جو صرف رب قدیر کے ساتھ کیا جانا چاہیئے۔ مثلاً کسی کو اس کا بیٹا پوتا بنانا، یا نصوصِ شریعت سے قطع نظر کر کے محض کسی کے حلال و حرام کر دینے پر اشیاء کی حلت و حرمت کا مدار رکھنا جیسا کہ اِتَّخَذُوا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ کی تفسیر سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ سب امور دعوائے اسلام و توحید کے منافی ہیں۔ ف۸     یعنی تم دعوائے اسلام و توحید کر کے پھر گئے ہم بحمدللہ اس پر قائم ہیں کہ اپنے کو محض خدائے واحد کے سپرد کر دیا ہے اور اسی کے تابع فرمان ہیں۔(64)
يٰأَهلَ الكِتٰبِ لِمَ تُحاجّونَ فى إِبرٰهيمَ وَما أُنزِلَتِ التَّورىٰةُ وَالإِنجيلُ إِلّا مِن بَعدِهِ ۚ أَفَلا تَعقِلونَ(65)
(65)
هٰأَنتُم هٰؤُلاءِ حٰجَجتُم فيما لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحاجّونَ فيما لَيسَ لَكُم بِهِ عِلمٌ ۚ وَاللَّهُ يَعلَمُ وَأَنتُم لا تَعلَمونَ(66)
ف١    جیسے دعوائے اسلام و توحید سب میں مشترک تھا اسی طرح حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی تعظیم و تکریم میں بھی سب شریک تھے اور یہود و نصاریٰ میں سے ہر ایک فرقہ دعویٰ کرتا تھا کہ ابراہیم علیہ السلام ہمارے دین پر تھے یعنی معاذ اللہ یہودی تھے یا نصرانی، اُسکا جواب دیا کہ تورات و انجیل جن کے پیرو یہودی یا نصرانی کہلائے ابراہیم علیہ السلام سے سینکڑوں برس بعد اتری۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کو نصرانی یا یہودی کیسے کہہ سکتے ہیں بلکہ جس طرح کے تم یہودی یا نصرانی ہو، اس معنی سے تو خود موسیٰ یا عیسیٰ علیہما السلام کو بھی یہودی یا نصرانی نہیں کہا جاسکتا۔ اور اگر یہ مطلب ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت ہمارے مذہب سے زیادہ قریب تھی تو یہ بھی غلط ہے۔ اس کا علم تم کو کہاں سے ہوا؟ تمہاری کتابوں میں مذکور نہیں۔ نہ خدا نے خبر دی نہ تم کوئی ثبوت پیش کر سکتے ہو پھر ایسی بات میں جھگڑنا جس کا کچھ علم آدمی کو نہ ہو حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ جن چیزوں کی تمہیں کچھ تھوڑی بہت خبر تھی گو محض ناتمام اور سرسری تھی مثلا مسیح علیہ السلام کے واقعات یا نبی آخرالزماں کی بشارات وغیرہ ان میں تم جھگڑ چکے، لیکن جس چیز سے تمہیں بالکل مس نہیں نہ اُسکی کبھی ہوا لگی، اُسے تو خدا کے سپرد کر دو۔ وہ ہی جانتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کیا تھے اور آج دنیا میں کونسی جماعت کا مسلک اس سے قریب تر ہے۔(66)
ما كانَ إِبرٰهيمُ يَهودِيًّا وَلا نَصرانِيًّا وَلٰكِن كانَ حَنيفًا مُسلِمًا وَما كانَ مِنَ المُشرِكينَ(67)
ف ٢    یعنی ابراہیم علیہ السلام نے اپنے تئیں حنیف یا مسلم کہا ہے۔ حنیف کے معنی؟ "جو کوئی ایک راہِ حق پکڑے اور سب باطل راہیں چھوڑ دےــ"۔ اور مسلم کے معنی حکمبردار، اب خود اندازہ کر لو کہ آج کس نے سب سے ٹوٹ کر خدا کی راہ پکڑی اور اپنے کو خالص اسی کے سپرد کر دیا ہے۔ وہ ہی ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ اقرب واشبہ ہوگا۔ (تنبیہ) یہاں "مسلماً" میں اسلام سے خاص شریعت محمدیہ مراد لینے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ تسلیم و تفویض اور فرمانبرداری کے معنی ہیں جو تمام انبیاء کا دین رہا ہے اور ابراہیم علیہ السلام نے خصوصیت سے اس نام و لقب کو بہت زیادہ روشن کیا۔ اِذْقَالَ لَہ رَبُّہ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (بقرہ رکوع ١٦، آیت ١٣١) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سوانح حیات کا ایک ایک حرف بتلاتا ہے کہ وہ ہمہ تن اسلام اور تسلیم و رضا کے پیکر مجسم تھے۔ ذبح اسماعیل کے واقعہ میں فَلَمَّآ اَسْلَمَا وَ تَلَّہ لِلْجَبِیْنِ کا لفظ انکی شانِ اسلام کو بہت وضاحت سے نمایاں کرتا ہے۔ صلی اللہ علیٰ نبینا و علیہ وبارک وسلم۔(67)
إِنَّ أَولَى النّاسِ بِإِبرٰهيمَ لَلَّذينَ اتَّبَعوهُ وَهٰذَا النَّبِىُّ وَالَّذينَ ءامَنوا ۗ وَاللَّهُ وَلِىُّ المُؤمِنينَ(68)
ف٣    اللہ تعالٰی نے بتلا دیا کہ زیادہ مناسبت ابراہیم علیہ السلام سے اس وقت کی اُمت کو تھی یا پچھلی اُمتوں میں اس نبی کی اُمت کو ہے تو یہ اُمت نام میں بھی اور راہ میں بھی ابراہیم علیہ السلام سے مناسبت زیادہ رکھتی ہے اور اس اُمت کا پیغمبر خلقاً و خُلقاً صورۃً و سیرۃً حضرت ابراہیم سے اشبہ ہے اور ان کی دُعا کے موافق آیا ہے جیسا کہ سورۃ "بقرہ" میں گزرا۔ رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُولًا مِّنْہُمْ یَتْلُوا عَلَیْھِمْ اٰیاتِکَ الخ اسی لئے حبشہ کا نصرانی بادشاہ (نجاشی) مسلمان مہاجرین کو "حزب ابراہیم علیہ السلام" کہتا تھا شاید اسی قسم کی مناسبات کی وجہ سے درود شریف میں کما صلیت علی ابراھیم فرمایا۔ یعنی اس نوعیت اور نمونہ کی صلوٰۃ نازل فرمائے جو ابراہیم علیہ السلام و آل ابراہیم پر کی تھی۔ جامع ترمذی میں حدیث ہے۔ اِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍّ وُّلَاۃً مِّنَ النَّبِیِیِّنَ وَاِنَّ وَلِیّٖ اَبِی وَخَلِیْلُ رَبِّی اس مضمون کی تفصیل آئندہ کسی سورت میں آئے گی انشاء اللہ۔ ف٤    یعنی اپنی راہ کے حق ہونے پر محض کسی کی موافقت و مشابہت سے دلیل جب پکڑے کہ اپنے اوپر وحی نہ آتی ہو۔ سو اللہ والی ہے مسلمانوں کا کہ (یہ براہِ راست) اس کے حکم پر چلتے ہیں (موضح القرآن)۔(68)
وَدَّت طائِفَةٌ مِن أَهلِ الكِتٰبِ لَو يُضِلّونَكُم وَما يُضِلّونَ إِلّا أَنفُسَهُم وَما يَشعُرونَ(69)
ف۵   پہلے کہا تھا "وَاللّٰہُ وَلِیُّ الْمُؤمِنِیْنَ" یہاں بتلایا کہ جب مومنین کا ولی اللہ ہے تو تمہارا داؤ ان پر کیا چل سکتا ہے۔ بیشک بعض اہلِ کتاب چاہتے ہیں کہ جس طرح خود گمراہ ہیں مسلمانوں کو بھی راہِ حق سے ہٹا دیں لیکن مسلمان تو ان کے جال میں پھنسنے والے نہیں البتہ یہ لوگ اپنی گمراہی کے وبال میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ انکی مغویانہ کوششوں کا ضرر خود ان ہی کو پہنچے گا جسے وہ فی الحال نہیں سمجھتے۔(69)
يٰأَهلَ الكِتٰبِ لِمَ تَكفُرونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَأَنتُم تَشهَدونَ(70)
ف ٦     یعنی تم تورات وغیرہ کے قائل ہو جس میں پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے متعلق بشارات موجود ہیں جن کو تمہارے دل سمجھتے ہیں اور اپنی خلوتوں میں ان چیزوں کا اقرار بھی کرتے ہو۔ پھر کھلم کھلا قرآن پر ایمان لانے اور خاتم الانبیاء کی صداقت کا اقرار کرنے سے کیا چیز مانع ہے۔ خوب سمجھ لو قرآن کا انکار کرنا تمام پچھلی کتب سماویہ کا انکار کرنا ہے۔(70)
يٰأَهلَ الكِتٰبِ لِمَ تَلبِسونَ الحَقَّ بِالبٰطِلِ وَتَكتُمونَ الحَقَّ وَأَنتُم تَعلَمونَ(71)
ف۱    تورات کے بعض احکام تو اغراض دنیاوی کی خاطر سرے سے موقوف ہی کر ڈالے تھے۔ بعض آیات میں تحریف لفظی کی تھی۔ بعض کے معنی بدل دیئے تھے اور بعض چیزیں چھپا رکھی تھیں ہر کسی کو خبر نہ کرتے تھے جیسے بشارات پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی۔(71)
وَقالَت طائِفَةٌ مِن أَهلِ الكِتٰبِ ءامِنوا بِالَّذى أُنزِلَ عَلَى الَّذينَ ءامَنوا وَجهَ النَّهارِ وَاكفُروا ءاخِرَهُ لَعَلَّهُم يَرجِعونَ(72)
ف۲   اِن آیتوں میں اہلِ کتاب کی چالاکیاں اور خیانتیں ذکر کی جا رہی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ اپنے کچھ آدمی صبح کے وقت بظاہر مسلمان بن جائیں اور مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھیں اور شام کو یہ کہہ کر کہ ہم کو اپنے بڑے بڑے علماء سے تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ وہ نبی نہیں جن کی بشارت دی گئی تھی اور تجربہ سے ان کے حالات بھی اہلِ حق کی طرح کے ثابت نہ ہوئے اسلام سے پھر جایا کریں، نتیجہ یہ ہوگا کہ بہت سے ضعیف الایمان ہماری یہ حرکت دیکھ کر اسلام سے پھر جائیں گے۔ اور سمجھ لیں گے کہ مذہب اسلام میں ضرور کوئی عیب و نقص دیکھا ہوگا جو یہ لوگ داخل ہونے کے بعد اس سے نکلے۔ نیز عرب کے جاہلوں میں اہل کتاب کے علم و فضل کا چرچا تھا۔ اس بناء پر یہ خیال پیدا ہو جائے گا کہ یہ جدید مذہب اگر سچا ہوتا تو ایسے اہل علم اُسے رَد نہ کرتے بلکہ سب سے آگے بڑھ کرقبول کرتے۔(72)
وَلا تُؤمِنوا إِلّا لِمَن تَبِعَ دينَكُم قُل إِنَّ الهُدىٰ هُدَى اللَّهِ أَن يُؤتىٰ أَحَدٌ مِثلَ ما أوتيتُم أَو يُحاجّوكُم عِندَ رَبِّكُم ۗ قُل إِنَّ الفَضلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤتيهِ مَن يَشاءُ ۗ وَاللَّهُ وٰسِعٌ عَليمٌ(73)
ف ۳   یعنی جو یہود مسلمانوں کے سامنے جا کر نفاق سے اپنے کو مسلمان ظاہر کریں، انہیں یہ برابر ملحوظ رہے کہ وہ سچ مچ مسلمان نہیں بن گئے۔ بلکہ بدستور یہودی ہیں۔ اور سچے دل سے انہی کی بات مان سکتے ہیں جو ان کے دین پر چلتا ہو اور شریعت موسوی کے اتباع کا دعویٰ رکھتا ہو۔ بعض نے ولا تومنوا الا لمن تبع دینکم کے یہ معنی کئے ہیں کہ ظاہری طور پر جو ایمان لاؤ اور اپنے کو مسلمان بتاؤ، وہ محض ان لوگوں کی وجہ سے جو تمہارے دین پر چلنے والے ہیں۔ یعنی اس تدبیر سے اپنے ہم مذہبوں کی حفاظت مقصود ہونی چاہیے کہ وہ مسلمان نہ بن جائیں یا جو بن چکے ہیں اس تدبیر سے واپس آجائیں۔ ف ٤   یعنی ہدایت تو اللہ کے دینے سے ملتی ہے جس کے دل میں خدا نے ہدایت کا نور ڈال دیا تمہاری ان پُر فریب چالبازیوں سے وہ گمراہ ہونے والا نہیں۔ ف۵   یعنی یہ مکاریاں اور تدبیریں محض ازراہِ حسد اس جلن میں کی جاتی ہیں کہ دوسروں کو اس طرح کی شریعت اور نبوت و رسالت کیوں دی جا رہی ہے جیسی پہلے تم کو دی گئی تھی۔ یا مذہبی و دینی جدوجہد میں دوسرے لوگ تم پر غالب آکر کیوں آگے نکلے جا رہے ہیں اور خدا کے آگے تمہیں ملزم گردان رہے ہیں۔ یہود ہمیشہ اس خیال کی اشاعت کرتے رہے تھے کہ دنیا میں تنہا ہماری ہی قوم علم شرعیات کی اجارہ دار ہے۔ تورات ہم پر اتری۔ موسیٰ جیسے اولوالعزم پیغمبر ہم میں آئے پھر عرب کے اُمیوں کو اس فضل و کمال سے کیا واسطہ؟ لیکن تورات سفر استثناء کی عظیم الشان پیشین گوئی غلط نہیں ہو سکتی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ اللہ تعالٰی بنی اسرائیل کے بھائیوں (بنی اسماعیل) میں سے ایک موسیٰ جیسا (صاحب شریعت مستقلہ) نبی اٹھائے گا۔ اپنا کلام (قرآن کریم) اس کے منہ میں ڈالے گا۔ اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْکُمْ رَسُولًا شَاھِدًا عَلَیْکُمْ کَم ا اَرْسَلْنا اِلیٰ فِرْعَوْنَ رَسُولًا (مزمل رکوع ١'آیت نمبر ١٥) چنانچہ بنی اسماعیل کو یہ دولت ملی اور وہ علم و فضل حجت و برہان اور مذہبی جدوجہد کے میدان مقابلہ میں نہ صرف بنی اسرائیل بلکہ دنیا کی تمام اقوام سے گوئے سبقت لے گئے۔ فالحمد للّٰہ علیٰ ذلک۔ (تنبیہ) اس آیت کی تقریر کئی طرح سے کی گئی ہے لیکن ہم نے وہ ہی تقریر اختیار کی جس کی طرف مترجم محقق قدس اللہ روحہ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔(73)
يَختَصُّ بِرَحمَتِهِ مَن يَشاءُ ۗ وَاللَّهُ ذُو الفَضلِ العَظيمِ(74)
ف ٦     یعنی اللہ کے خزانوں میں کمی نہیں، اور اسی کو خبر ہے کہ کس کو کیا بڑائی ملنی چاہیئے۔ نبوّت، شریعت، ایمان و اسلام اور ہر قسم کی مادی و روحانی فضائل و کمالات کا تقسیم کرنا اسی کے ہاتھ میں ہے جس وقت جسے مناسب جانے عطا کرتا ہے۔ اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیثُ یَجْعَلُ رِسَا لَتَہ، (انعام رکوع ١٥، آیت ١٢٥)۔(74)
۞ وَمِن أَهلِ الكِتٰبِ مَن إِن تَأمَنهُ بِقِنطارٍ يُؤَدِّهِ إِلَيكَ وَمِنهُم مَن إِن تَأمَنهُ بِدينارٍ لا يُؤَدِّهِ إِلَيكَ إِلّا ما دُمتَ عَلَيهِ قائِمًا ۗ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم قالوا لَيسَ عَلَينا فِى الأُمِّيّۦنَ سَبيلٌ وَيَقولونَ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ وَهُم يَعلَمونَ(75)
ف ۷   اہل کتاب کی دینی خیانت و نفاق کے سلسلہ میں دنیاوی خیانت کا ذکر آگیا جس سے اس پر روشنی پڑتی ہے کہ جو لوگ چار پیسہ پر نیّت خراب کرلیں اور امانتداری نہ برت سکیں ان سے کیا توقع ہوسکتی ہے کہ دینی معاملات میں امین ثابت ہوں گے۔ چنانچہ ان میں بہت سے وہ ہیں جن کے پاس زیادہ تو کیا، ایک اشرفی بھی امانت رکھی جائے تو تھوڑی دیر بعد مکر جائیں۔ اور جب تک کوئی تقاضہ کے لئے ہر وقت ان کے سر پر کھڑا نہ رہے اور پیچھا کرنے والا نہ ہو، امانت ادا نہ کریں۔ بیشک ان میں سب کا حال ایسا نہیں، بعض ایسے بھی ہیں جن کے پاس اگر سونے کا ڈھیر رکھ دیا جائے تو ایک رتی خیانت نہ کریں۔ لیکن یہ ہی خوش معاملہ اور امین لوگ ہیں۔ جو یہودیت سے بیزار ہو کر اسلام کے حلقہ بگوش بنتے جا رہے ہیں۔ مثلاً حضرت عبد اللہ بن سلام وغیرہ رضی اللہ عنہ۔ ف۸   یعنی پرایا حق کھانے کو یہ مسئلہ بنا لیا کہ عرب کے اُمی جو ہمارے مذہب پر نہیں، ان کا مال جس طرح ملے روا ہے۔ غیر مذہب والوں کی امانت میں خیانت کی جائے تو کچھ گناہ نہیں خصوصاً وہ عرب جو اپنا آبائی دین چھوڑ کر مسلمان بن گئے ہیں۔ خدا نے ان کا مال ہمارے لئے حلال کر دیا ہے۔ ف۹    یعنی جان بوجھ کر خدا کی طرف جھوٹی بات منسوب کر رہے ہیں۔ امانت میں خیانت کرنے کی خدا نے ہرگز اجازت نہیں دی آج بھی اسلامی فقہ کا مسئلہ یہ ہی ہے کہ مسلم ہو یا کافر، کسی کی امانت میں خیانت جائز نہیں۔(75)
بَلىٰ مَن أَوفىٰ بِعَهدِهِ وَاتَّقىٰ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُتَّقينَ(76)
ف ۱    یعنی خیانت وبدعہدی میں گناہ کیوں نہیں، جبکہ خدا تعالٰی کا عام قانون یہ ہے کہ جو کوئی خدا کے اور بندوں کے جائز عہد پورے کرے اور خدا سے ڈر کر تقویٰ کی راہ چلے یعنی فاسد خیالات مذموم اعمال اور پست اخلاق سے پرہیز کرے، اسی سے خدا محبت کرتا ہے۔ اس میں امانتداری کی خصلت بھی آگئی۔(76)
إِنَّ الَّذينَ يَشتَرونَ بِعَهدِ اللَّهِ وَأَيمٰنِهِم ثَمَنًا قَليلًا أُولٰئِكَ لا خَلٰقَ لَهُم فِى الءاخِرَةِ وَلا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلا يَنظُرُ إِلَيهِم يَومَ القِيٰمَةِ وَلا يُزَكّيهِم وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ(77)
ف ۲    یعنی جو لوگ دنیا کی متاع قلیل لے کر خدا کے عہد اور آپس کی قسموں کو توڑ ڈالتے ہیں، نہ باہمی معاملات درست رکھتے ہیں نہ خدا سے جو قول و قرار کیا تھا اس پر قائم رہتے ہیں۔ بلکہ مال و جاہ کی حرص میں احکام شرعیہ کو بدلتے اور کتب سماویہ میں تحریف کرتے رہتے ہیں۔ ان کا انجام آگے مذکور ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ "یہ یہود میں صفت تھی کہ اللہ نے ان سے اقرار لیا تھا اور قسمیں دی تھیں کہ ہر نبی کے مددگار رہیو۔ پھر غرض دنیا کے واسطے پھر گئے اور جو کوئی جھوٹی قسم کھائے دنیا لینے کے واسطے اس کا یہ ہی حال ہے۔ ف۳   اِس قسم کی آیت سورہ "بقرہ" کے اکیسویں رکوع میں گزر چکی، وہاں کے فوائد میں الفاظ کی تشریح دیکھ لی جائے۔(77)
وَإِنَّ مِنهُم لَفَريقًا يَلوۥنَ أَلسِنَتَهُم بِالكِتٰبِ لِتَحسَبوهُ مِنَ الكِتٰبِ وَما هُوَ مِنَ الكِتٰبِ وَيَقولونَ هُوَ مِن عِندِ اللَّهِ وَما هُوَ مِن عِندِ اللَّهِ وَيَقولونَ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ وَهُم يَعلَمونَ(78)
ف٤   یہ اہل کتاب کی تحریف کا حال بیان فرمایا۔ یعنی آسمانی کتاب میں کچھ چیزیں اپنی طرف سے بڑھا گھٹا کر ایسے انداز اور لہجہ میں پڑھتے ہیں کہ ناواقف سننے والا دھوکہ میں آجائے۔ اور یہ سمجھے کہ یہ بھی آسمانی کتاب کی عبارت ہے یہ ہی نہیں بلکہ زبان سے دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ یہ سب اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے۔ حالانکہ نہ وہ مضمون کتاب میں موجود ہے اور نہ خدا کے پاس سے آیا ہے بلکہ خود اس تحریف شدہ کتاب کو بھی بہیاَتِ مجموعی خدا کی کتاب نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ اس میں طرح طرح کے تصرّفات اور جعلسازیاں کی گئی ہیں۔ آج بائبل کے جو نسخے دنیا میں موجود ہیں ان میں باہم شدید اختلاف پایا جاتا ہے اور بعض ایسے مضامین درج ہیں جو قطعاً خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتے۔ اسکی کچھ تفصیل "روح المعانی" میں موجود ہے۔ اور اثبات تحریف پر ہمارے علماء نے مبسوط بحثیں کی ہیں۔ جزاہم اللّٰہ احسن الجزاء۔(78)
ما كانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤتِيَهُ اللَّهُ الكِتٰبَ وَالحُكمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقولَ لِلنّاسِ كونوا عِبادًا لى مِن دونِ اللَّهِ وَلٰكِن كونوا رَبّٰنِيّۦنَ بِما كُنتُم تُعَلِّمونَ الكِتٰبَ وَبِما كُنتُم تَدرُسونَ(79)
ف ۵    وفد نجران کی موجودگی میں بعض یہود و نصاریٰ نے کہا تھا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم تمہاری اسی طرح پرستش کرنے لگیں، جیسے نصاریٰ عیسیٰ ابن مریم کو پوجتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ معاذ اللہ کہ ہم غیر اللہ کی بندگی کریں۔ یا دوسروں کو اسکی دعوت دیں؟ حق تعالٰی نے ہم کو اس کام کے لئے نہیں بھیجا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی جس بشر کو حق تعالٰی کتاب و حکمت اور قوتِ فیصلہ دیتا، اور پیغمبری کے منصبِ جلیل پر فائز کرتا ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک پیغامِ الہٰی پہنچا کر لوگوں کو اُسکی بندگی اور وفاداری کی طرف متوجہ کرے، اس کا یہ کام کبھی نہیں ہوسکتا کہ اُنکو خالص ایک خدا کی بندگی سے ہٹا کر خود اپنا یا کسی دوسری مخلوق کا بندہ بنانے لگے۔ اس کے تو یہ معنیٰ ہوں گے کہ خداوند قدوس نے جس کو جس منصب کا اہل جان کر بھیجا تھا، فی الواقع وہ اس کا اہل نہ تھا۔ دنیا کی کوئی گورنمنٹ بھی اگر کسی شخص کو ایک ذمہ داری کے عہدہ پر مامور کرتی ہے تو پہلے دو باتیں سوچ لیتی ہے۔ (١) یہ شخص گورنمنٹ کی پالیسی کو سمجھنے اور اپنے فرائض کو انجام دینے کی لیاقت رکھتا ہے یا نہیں (٢) گورنمنٹ کے احکام کی تعمیل کرنے اور رعایا کو جادہ وفاداری پر قائم رکھنے کی کہاں تک اس سے توقع کی جاسکتی ہے؟ کوئی بادشاہ یا پارلیمنٹ ایسے آدمی کو نائب السلطنت یا سفیر مقرر نہیں کر سکتی جس کی نسبت حکومت کے خلاف بغاوت پھیلانے یا اسکی پالیسی اور احکام سے انحراف کرنے کا ادنیٰ شبہ ہو، بیشک یہ ممکن ہے کہ ایک شخص کی قابلیت یا جذبہ وفاداری کا اندازہ حکومت صحیح طور پر نہ کر سکی ہو۔ لیکن خداوند قدوس کے یہاں یہ بھی احتمال نہیں۔ اگر فرد کی نسبت اس کو علم ہے کہ یہ میری وفاداری اور اطاعت شعاری سے بال برابر تجاوز نہ کرے گا تو محال ہے کہ وہ آگے چل کر اس کے خلاف ثابت ہو سکے۔ ورنہ علم الہٰی کا غلط ہونا لازم آتا ہے۔ العیاذ باللہ یہیں سے عصمت انبیاء علیہم السلام کا مسئلہ سمجھ میں آجاتا ہے (کما نبہ علیہ ابوحیان فی البحر وفصّلہ مولانا قاسم العلوم والخیرات فی تصانیفہ) پھر جب انبیاء علہیم السلام ادنیٰ عصیان سے پاک ہیں تو شرک اور خدا کے مقابلہ میں بغاوت کرنے کا امکان کہاں باقی رہ سکتا ہے۔ اس میں نصاریٰ کے اس دعوے کا بھی رَد ہو گیا جو کہتے تھے کہ ابنیت والوہیت مسیح کا عقیدہ ہم کو خود مسیح علیہ السلام نے تعلیم فرمایا ہے اور ان مسلمانوں کو بھی نصیحت کر دی گئی جنہوں نے رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ ہم سلام کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا کریں تو کیا حرج ہے اور اہلِ کتاب پر بھی تعریض ہوگئی جنہوں نے اپنے احبار و رہبان کو خدائی کا درجہ دے رکھا تھے (العیاذ باللہ) تنبیہ: مَاکَانَ لِبَشَرٍ الخ میں ابوحیان کے نزدیک اسی طرح کی نفی ہے جیسے مَاکَانَ لَکُمْ اَنْ تُنْبِتُوْا شَجَرَھَا میں، یا وَمَاکَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوتَ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہ میں۔ وہو اصوب عندی۔ ف ٦    موضح القرآن میں ہے "جسکو اللہ نبی بنائے اور وہ لوگوں کو کفر و شرک سے نکال کر مسلمانی میں لائے، پھر کیونکر ان کو کفر سکھلائے گا۔ ہاں تم کو (اے اہل کتاب!) یہ کہتا ہے کہ تم میں جو آگے دینداری تھی۔ کتاب کا پڑھنا اور سکھانا وہ نہیں رہی۔ اب میری صحبت میں پھر وہی کمال حاصل کرو۔ اور عالم، حکیم، عارف، مدبر، متقی اور پکے خدا پرست بن جاؤ۔ اور یہ بات اب قرآن کریم پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے سے حاصل ہو سکتی ہے۔(79)
وَلا يَأمُرَكُم أَن تَتَّخِذُوا المَلٰئِكَةَ وَالنَّبِيّۦنَ أَربابًا ۗ أَيَأمُرُكُم بِالكُفرِ بَعدَ إِذ أَنتُم مُسلِمونَ(80)
ف۱  جیسے نصاریٰ نے مسیح روح القدس کو بعض یہود نے عُزیر کو، اور بعض مشرکین نے فرشتوں کو ٹھہرا لیا تھا۔ جب فرشتے اور پیغمبر خدائی میں شریک نہیں ہو سکتے تو پتھر کے بُت اور صلیب کی لکڑی تو کس شمار میں ہے۔ ف ۲    یعنی پہلے تو "ربانی" (اللہ والا) اور مسلم موحدّ بنانے میں کوشش کی، جب لوگوں نے قبول کر لیا تو کیا پھر انہیں شرک و کفر کی طرف لیجا کر اپنی ساری محنت اور کمائی اپنے ہاتھ سے برباد کر دے گا؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آسکتی۔(80)
وَإِذ أَخَذَ اللَّهُ ميثٰقَ النَّبِيّۦنَ لَما ءاتَيتُكُم مِن كِتٰبٍ وَحِكمَةٍ ثُمَّ جاءَكُم رَسولٌ مُصَدِّقٌ لِما مَعَكُم لَتُؤمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ ۚ قالَ ءَأَقرَرتُم وَأَخَذتُم عَلىٰ ذٰلِكُم إِصرى ۖ قالوا أَقرَرنا ۚ قالَ فَاشهَدوا وَأَنا۠ مَعَكُم مِنَ الشّٰهِدينَ(81)
ف۳   یعنی کوئی نبی اپنی بندگی کی تعلیم نہیں دے سکتا۔ بندگی صرف ایک خدا کی سکھائی جاتی ہے البتہ انبیاء کا حق یہ ہے کہ لوگ ان پر ایمان لائیں، انکا کہا مانیں، اور ہر قسم کی مدد کریں۔ عام لوگوں کا تو کیا ذکر ہے، حق تعالٰی نے خود پیغمبروں سے بھی یہ پختہ عہد لے چھوڑا ہے کہ جب تم میں سے کسی نبی کے بعد دوسرا نبی آئے (جو یقیناً پہلے انبیاء اور انکی کتابوں کی اجمالاً یا تفصیلاً تصدیق کرتا ہوا آئے گا) تو ضروری ہے کہ پہلا نبی پچھلے کی صداقت پر ایمان لائے اور اس کی مدد کرے۔ اگر اس کا زمانہ پائے تو بذاتِ خود بھی اور نہ پائے تو اپنی اُمت کو پوری طرح ہدایت و تاکید کر جائے کہ بعد میں آنیوالے پیغمبر پر ایمان لا کر اس کی اعانت و نُصرت کرنا، کہ یہ وصیت کر جانا بھی اس کی مدد کرنے میں داخل ہے۔ اس عام قاعدہ سے روزِ روشن کی طرح ظاہر ہے کہ خاتم الانبیاء محمد رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور انکی مدد کرنے کا عہد بلا استثناء تمام انبیائے سابقین سے لیا گیا ہوگا اور انہوں نے اپنی اپنی اُمتّوں سے یہ ہی قول و قرار لئے ہوں گے۔ کیونکہ ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی مخزن الکمالات ہستی تھی جو عالمِ غیب میں سب سے پہلے اور عالمِ شہادت میں سب انبیاء کے بعد جلوہ افروز ہونے والی تھی، اور جس کے بعد کوئی نبی آنے والا نہ تھا، اور آپ ہی کا وجود باوجود تمام انبیائے سابقین اور کتب سماویہ کی حقانیت پر مُہر تصدیق ثبت کرنے والا تھا، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ اور ابن عباس رضی اللہ وغیرہ سے منقول ہے کہ اس قسم کا عہد انبیاء سے لیا گیا۔ اور خود آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر آج موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو اُنکو میری اتباع کے بدون چارہ نہ ہوتا۔ اور فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو کتاب اللہ (قرآن کریم) اور تمہارے نبی کی سنت پر فیصلے کریں گے۔ محشر میں شفاعت کبریٰ کے لئے پیش قدمی کرنا اور تمام بنی آدم کا آپ کے جھنڈے تلے جمع ہونا اور شبِ معراج میں بیت المقدس کے اندر تمام انبیاء کی امامت کرانا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی سیادت عامہ اور امامت عظمیٰ کے آثار میں سے ہے۔ اللّٰھم صل علیٰ سیدنا محمد و علیٰ آل سیدنا محمد و بارک و سلم۔ ف ٤   یہ الفاظ محض عہد کی تاکید و اہتمام کے لئے فرمائے کیونکہ جس عہد نامہ پر خدا تعالٰی اور پیغمبروں کی گواہی ہو اس سے زیادہ پکی دستاویز کہاں ہو سکتی ہے۔(81)
فَمَن تَوَلّىٰ بَعدَ ذٰلِكَ فَأُولٰئِكَ هُمُ الفٰسِقونَ(82)
ف۵   جس چیز کا عہد خدا نے تمام انبیاء سے لیا اور انبیاء نے اپنی اپنی اُمتوں سے اب اگر دنیا میں کوئی شخص اس سے رُوگردانی کرے تو بلاشبہ پرلے درجہ کا بدعہد اور نافرمان ہوگا۔ بائبل، اعمال رسل، باب ٣، آیت ٢١ میں ہے۔ "ضرور ہے کہ آسمان اُسے لئے رہے اس وقت تک کہ سب چیزیں جن کا ذکر خدا نے اپنے سب پاک نبیوں کی زبانی شروع سے کیا۔ اپنی حالت پر آویں کیونکہ موسیٰ علیہ السلام نے باپ دادوں سے کہا کہ خداوند جو تمہارا خدا ہے، تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے ایک نبی میری مانند اٹھائے گا۔ جو کچھ وہ تمہیں کہے اس کی سب سُنو۔(82)
أَفَغَيرَ دينِ اللَّهِ يَبغونَ وَلَهُ أَسلَمَ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ طَوعًا وَكَرهًا وَإِلَيهِ يُرجَعونَ(83)
ف ٦     یعنی ہمیشہ سے خدا کا دین اسلام رہا ہے، جس کے معنی ہیں حکمبرداری، مطلب یہ ہے جس وقت حق تعالٰی کا جو حکم کسی راستباز اور صادق القول پیغمبر کے توسط سے پہنچے اُسکے سامنے گردن جُھکا دو۔ پس آج جو احکام و ہدایات سیدالمرسلین خاتم الانبیاء لے کر آئے وہ ہی خدا کا دین ہے۔ کیا اُسے چھوڑ کر نجات و فلاح کا کوئی اور راستہ ڈھونڈتے ہیں؟ خوب سمجھ لیں کہ خدا کا دین چھوڑ کر کہیں ابدی نجات اور حقیقی کامیابی نہیں مل سکتی۔ آدمی کو سزا وار نہیں کہ اپنی خوشی اور شوق و رغبت سے اس خدا کی حکمبرداری اختیار نہ کرے جس کے حکم تکوینی کے نیچے تمام آسمان و زمین کی چیزیں ہیں خواہ وہ حکم تکوینی ان کے ارادہ اور خوشی کے توسط سے ہو جیسے فرشتے اور فرمانبردار بندوں کی اطاعت میں، یا مجبوری اور لاچاری سے، جیسے عالم کا ذرہ ذرہ ان آثار و حوادث میں جن کا وقوع و ظہور بدون مخلوق کی مشیت و ارادہ کے ہوتا ہے حق تعالٰی کی مشیت و ارادہ کا تابع ہے۔ ف ۷    سب کو آخرکار جب وہیں لوٹ کر جانا ہے تو عقلمند کو چاہیے کہ پہلے سے تیاری کر رکھے۔ یہاں نافرمانیاں کیں تو وہاں کیا منہ دکھلائے گا۔(83)
قُل ءامَنّا بِاللَّهِ وَما أُنزِلَ عَلَينا وَما أُنزِلَ عَلىٰ إِبرٰهيمَ وَإِسمٰعيلَ وَإِسحٰقَ وَيَعقوبَ وَالأَسباطِ وَما أوتِىَ موسىٰ وَعيسىٰ وَالنَّبِيّونَ مِن رَبِّهِم لا نُفَرِّقُ بَينَ أَحَدٍ مِنهُم وَنَحنُ لَهُ مُسلِمونَ(84)
ف١    یعنی جو کچھ جس زمانہ میں خدا کی طرف سے اُترا۔ یا کسی پیغمبر کو دیا گیا، ہم بلا تفریق سب کو حق مانتے ہیں۔ ایک مسلم فرمانبردار کا یہ وتیرہ نہیں کہ خدا کے بعض پیغمبروں کو مانے بعض کو نہ مانے، گویا اخیر میں ونحن لہ مسلمون کہہ کر اسلام کی حقیقت بتلا دی اور آگاہ کر دیا کہ اسلام کسی نبی برحق اور کسی آسمانی کتاب کی تکذیب کا روا دار نہیں۔ اس کے نزدیک جس طرح قرآن کریم اور پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ ماننا کفر ہے ایسے ہی کسی ایک نبی یا کتاب سماوی کا انکار کرنے سے بھی انسان کافر ہو جاتا ہے۔ بیشک پیغمبر آخر الزماں کی یہ ہی شان ہونی چاہیے کہ وہ تمام پہلی کتابوں اور نبوتوں کا مصدق ہو۔ اور اس طرح کی تمام اقوام کو جن کے پاس مقامی "نذیر" و "ہادی" آتے رہے تھے، جامعیت کُبریٰ کے سب سے بڑے جھنڈے کے نیچے جمع ہونے کا راستہ بتلائے۔ (تنبیہ) اسی قسم کی آیت پارہ الم کے آخیر میں آچکی ہے اس کے فوائد ملاحظہ کر لئے جائیں۔(84)
وَمَن يَبتَغِ غَيرَ الإِسلٰمِ دينًا فَلَن يُقبَلَ مِنهُ وَهُوَ فِى الءاخِرَةِ مِنَ الخٰسِرينَ(85)
ف ٢    یعنی جب خدا کا دین (اسلام) اپنی مکمل صورت میں آپہنچا تو کوئی جھوٹا یا نامکمل دین قبول نہیں کیا جاسکتا۔ طلوع آفتاب کے بعد مٹی کے چراغ جلانا یا گیس بجلی اور ستاروں کی روشنی تلاش کرنا محض لغو اور کھلی حماقت ہے۔ مقامی نبوتوں اور ہدایتوں کا عہد گزر چکا۔ اب سب سے بڑی آخری اور عالمگیر نبوت و ہدایت سے ہی روشنی حاصل کرنی چاہیے کہ یہ ہی تمام روشنیوں کا خزانہ ہے جس میں پہلی تمام روشنیاں مدغم ہو چکی ہیں۔ فانک شمس والملوک کواکب۔ اذاطلعت لم یبد منھن کوکب۔ ف٣    یعنی ثواب و کامیابی سے قطعاً محروم ہو۔ اس سے بڑا خسارہ کیا ہوگا کہ راس المال ہی کھو بیٹھا۔ حق تعالیٰ نے جس صحیح فطرت پر پیدا کیا تھا اپنے سوء اختیار اور غلط کاری سے اُسے بھی تباہ کر ڈالا۔(85)
كَيفَ يَهدِى اللَّهُ قَومًا كَفَروا بَعدَ إيمٰنِهِم وَشَهِدوا أَنَّ الرَّسولَ حَقٌّ وَجاءَهُمُ البَيِّنٰتُ ۚ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ(86)
ف٤    جن لوگوں نے وضوح حق کے بعد جان بوجھ کر کفر اختیار کیا۔ یعنی دل میں یقین رکھتے ہیں اور آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں بلکہ اپنی خاص مجلسوں میں اقرار کرتے ہیں کہ یہ رسُول سچّا ہے۔ اُسکی حقانیت و صداقت کے روشن دلائل، کھلے نشانات اور صاف بشارات اُنکو پہنچ چکی ہیں۔ اس پر بھی کبر وحسد اور حُب جاہ و مال، اسلام قبول کرنے اور کفر وعدوان کے چھوڑنے سے مانع ہے جیسا کہ عموماً یہود و نصاریٰ کا حال تھا، ایسے ہٹ دھرم، ضدی معاندین کی نسبت کیونکر توقع کی جاسکتی ہے کہ باوجود اس طرح کا رویہ قائم رکھنے کے خدا تعالٰی انکو نجات و فلاح اور اپنی خوشنودی کے راستہ پر لے جائے گا یا جنت تک پہنچنے کی راہ دے گا۔ اُسکی عادت نہیں کہ ایسے بے انصاف متعصب ظالموں کو حقیقی کامیابی کی راہ دے۔ اسی پر ان بدبختوں کو قیاس کرلو جو قلبی معرفت و یقین کے درجہ سے بڑھکر ایک مرتبہ مسلمان بھی ہو چکے تھے۔ پھر دنیاوی اغراض اور شیطانی اغواء سے مرتد ہوگئے۔ یہ ان پہلوں سے زیادہ کج رو اور بے حیا واقع ہوئے، اس لئے ان سے بڑھ کر لعنت و عقوبت کے مستحق ہوں گے۔(86)
أُولٰئِكَ جَزاؤُهُم أَنَّ عَلَيهِم لَعنَةَ اللَّهِ وَالمَلٰئِكَةِ وَالنّاسِ أَجمَعينَ(87)
ف ٥     یعنی خدا، فرشتے اور مسلمان لوگ سب ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔ بلکہ ہر انسان حتٰی کہ وہ خود بھی اپنے اُوپر لعنت کرتے ہیں۔ جب کہتے ہیں کہ ظالموں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت۔ گو اس وقت سمجھتے نہیں کہ یہ لعنت خود ان ہی پر واقع ہو رہی ہے۔(87)
خٰلِدينَ فيها لا يُخَفَّفُ عَنهُمُ العَذابُ وَلا هُم يُنظَرونَ(88)
ف ٦     یعنی اس لعنت کا اثر ہمیشہ رہے گا۔ دنیا میں پھٹکار اور آخرت میں خدا کی مار۔ ف٧    یعنی انہیں نہ کسی وقت عذاب کی شدت میں کمی محسوس ہوگی اور نہ ذراسی دیر کے لئے عذاب ملتوی کر کے آرام دیا جائے گا۔(88)
إِلَّا الَّذينَ تابوا مِن بَعدِ ذٰلِكَ وَأَصلَحوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ(89)
ف ٨     ایسے سخت بے حیا مجرموں اور شدید ترین باغیوں کو کون بادشاہ معافی دے سکتا ہے؟ لیکن یہ اس غفور رحیم ہی کی بارگاہ ہے کہ اس قدر شدید جرائم اور بغاوتوں کے بعد بھی اگر مجرم نادم ہو کر سچے دل سے توبہ اور نیک چال چلن اختیار کر لے تو سب گناہ یک قلم معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ اللّٰھُمَّ اغْفِرْذَنُوْبِیْ فاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔(89)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا بَعدَ إيمٰنِهِم ثُمَّ ازدادوا كُفرًا لَن تُقبَلَ تَوبَتُهُم وَأُولٰئِكَ هُمُ الضّالّونَ(90)
ف۹    یعنی جو لوگ حق کو مان کر اور سمجھ بوجھ کر منکر ہوئے پھر اخیر تک انکار میں ترقی کرتے رہے، نہ کبھی کفر سے ہٹنے کا نام لیا، نہ حق اور اہلِ حق کی عداوت ترک کی، بلکہ حق پرستوں کے ساتھ بحث و مناظرہ اور جنگ و جدل کرتے رہے۔ جب مرنے کا وقت آیا اور فرشتے جان نکالنے لگے تو توبہ کی سُوجھی۔ یا کبھی کسی مصلحت سے ظاہر طور پر رسمی الفاظ توبہ کہہ لئے یا کفر پر برابر قائم رہتے ہوئے دوسرے اعمال سے توبہ کر لی جنہیں اپنے زعم میں گناہ سمجھ رہے تھے۔ یہ توبہ کسی کام کی نہیں۔ بارگاہ رب العزت میں اس کے قبول کی کوئی امید نہ رکھیں۔ ایسے لوگوں کو سچی توبہ نصیب ہی نہ ہوگی جو قبول ہو۔ ان کا کام ہمیشہ گمراہی کی وادیوں میں پڑے بھٹکتے رہنا ہے۔(90)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا وَماتوا وَهُم كُفّارٌ فَلَن يُقبَلَ مِن أَحَدِهِم مِلءُ الأَرضِ ذَهَبًا وَلَوِ افتَدىٰ بِهِ ۗ أُولٰئِكَ لَهُم عَذابٌ أَليمٌ وَما لَهُم مِن نٰصِرينَ(91)
ف ۱۰   یعنی دنیا کی حکومتوں کی طرح وہاں سونے چاندی کی رشوت نہ چلے گی، وہاں تو صرف دولتِ ایمان کام دے سکتی ہے۔ فرض کرو ایک کافر کے پاس اگر اتنا ڈھیر سونے کا ہو جس سے ساری زمین بھر جائے اور وہ سب کا سب پُن خیرات کر دے تو خدا کے یہاں اُسکی ذرّہ برابر وقعت نہیں نہ آخرت میں یہ عمل کچھ کام دے گا۔ کیونکہ عمل کی روح ایمان ہے جو عمل روحِ ایمان سے خالی ہو مردہ عمل ہوگا۔ جو آخرت کی ابدی زندگی میں کام نہیں دے سکتا۔ ف۱۱   یعنی اگر فرض کرو کافر کے پاس وہاں اتنا مال ہوا اور خود اپنی طرف سے درخواست کر کے بطور فدیہ پیش کرے کہ یہ لے کر مجھے چھوڑ دو تب بھی قبول نہیں کیا جاسکتا اور بدون پیش کئے تو پوچھتا ہی کون ہے۔ دوسری جگہ فرمایا: اِنَّ الّذِیْنَ کَفَرُوا لَوْ اَنَّ لَھُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّمِثْلَہ، مَعَہ، لِیَفْتَدُوابِہٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَاتُقُبِّلَ مِنْھُمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (مائدہ۔ رکوع ٦'آیت نمبر ٣٦)(91)
لَن تَنالُوا البِرَّ حَتّىٰ تُنفِقوا مِمّا تُحِبّونَ ۚ وَما تُنفِقوا مِن شَيءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَليمٌ(92)
ف١ یعنی اللہ کو معلوم ہے کہ کیسی چیز خرچ کی، کہاں خرچ کی اور کس کے لئے خرچ کی۔ جتنی محبوب اور پیاری چیز جس طرح کے مصرف میں جس قدر اخلاص و حسن نیت سے خرچ کرو گے اسی کے موافق اللہ تعالٰی کے یہاں سے بدلہ ملنے کی امید رکھو اعلیٰ درجہ کی نیکی حاصل کرنا چاہو تو اپنی محبوب و عزیز ترین چیزوں میں سے کچھ خدا کے راستہ میں نکالو۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں "یعنی جس چیز سے دل بہت لگا ہو اُسکے خرچ کرنے کا بڑا درجہ ہے، یوں ثواب ہرچیز میں ہے. شاید یہود و نصاریٰ کے ذکر میں یہ آیت اس واسطے نازل فرمائی کہ ان کو اپنی ریاست بہت عزیز تھی جسکے تھامنے کو نبی کے تابع نہ ہوتے تھے۔ تو جب تک وہ ہی اللہ کے راستہ میں نہ چھوڑیں درجہ ایمان نہ پائیں گے۔" پہلی آیت سے یہ مناسبت ہوئی کہ وہاں کافر کا مال خرچ کرنا بیکار بتلایا تھا، اب اس کے بالمقابل بتلا دیا کہ مومن جو خرچ کرے اس سے نیکی میں کمال حاصل ہوتا ہے۔(92)
۞ كُلُّ الطَّعامِ كانَ حِلًّا لِبَنى إِسرٰءيلَ إِلّا ما حَرَّمَ إِسرٰءيلُ عَلىٰ نَفسِهِ مِن قَبلِ أَن تُنَزَّلَ التَّورىٰةُ ۗ قُل فَأتوا بِالتَّورىٰةِ فَاتلوها إِن كُنتُم صٰدِقينَ(93)
ف٢ یہود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے کہتے تھے کہ تم اپنے کو دین ابراہیم پر کیسے بتلاتے ہو جبکہ وہ چیزیں کھاتے ہو جو اللہ تعالٰی نے ابراہیم کے گھرانے پر حرام کی تھیں جیسے اونٹ کا گوشت اور دُودھ۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ جتنی چیزیں اب لوگ کھاتے ہیں سب ابراہیم کے وقت میں حلال تھیں جب تک تورات نازل ہوئی، بیشک تورات میں خاص بنی اسرائیل پر بعض چیزیں حرام ہوئی ہیں۔ مگر ایک اونٹ تورات سے پہلے حضرت اسرائیل (یعقوب) علیہ السلام نے اسکے کھانے سے قَسم کھائی تھی، ان کی پیروی میں ان کی اولاد نے بھی چھوڑ دیا تھا۔ اور اس قَسم کا سبب یہ تھا کہ یعقوب علیہ السلام کو "عرق النساء" کا درد تھا اس وقت نذر کی کہ اگر صحت پاؤں تو جو چیز میری رغبت کی ہے اسے چھوڑ دوں گا۔ ان کو یہ ہی اونٹ کا گوشت اور دودھ بہت مرغوب تھا، سو نذر کے سبب چھوڑ دیا۔ اس قِسم کی نذر جو تحریم حلال پر مشتمل ہو ہماری شریعت میں روا نہیں. کما قال تعالیٰ ٰیاَ یُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ(التحریم۔ رکوع ١ آیت نمبر۔١) اگر کر لی تو توڑ دے اور کفارہ ادا کرے۔ (تنبیہ) پہلی آیت میں محبوب چیز کے خرچ کرنے کا ذکر تھا۔ اس آیت میں یعقوب کا ایک محبوب چیز کو چھوڑ دینا مذکور ہے۔ اس طرح دونوں آیتوں میں لطیف مناسبت ہوگئی۔ نیز ان آیات میں متنبہ کیا گیا ہے کہ پہلی شرائع میں نسخ واقع ہوا ہے جو چیز ایک زمانہ میں حلال تھی بعد میں حرام ہوگئی۔ اگر اسی طرح اب شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم اور شرائع سابقہ میں حلال و حرام کے اعتبار سے تفاوت ہو تو انکار و استبعاد کی کوئی وجہ نہیں۔ ف٣ یعنی اگر تم سچے ہو کہ یہ چیزیں ابراہیم کے زمانہ سے حرام تھیں تو لاؤ یہ مضمون خود اپنی مسلَّم کتاب تورات میں دکھلا دو۔ اگر اس میں بھی نہ نکلا تو تمہارے کاذب و مفتری ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔ روایات میں ہے کہ یہود نے یہ زبردست چیلنج منظور نہ کیا۔ اور اس طرح نبی امیّ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر ایک اور دلیل قائم ہوگئی۔(93)
فَمَنِ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ مِن بَعدِ ذٰلِكَ فَأُولٰئِكَ هُمُ الظّٰلِمونَ(94)
ف٤ یعنی بڑی بے انصافی ہوگی اگر اس کے بعد بھی وہی مرغے کی ایک ٹانگ گاتے رہو کہ نہیں، یہ چیزیں ابراہیم کے زمانہ سے حرام ہیں اور دین ابراہیم کے اصلی پیرو ہم ہیں۔(94)
قُل صَدَقَ اللَّهُ ۗ فَاتَّبِعوا مِلَّةَ إِبرٰهيمَ حَنيفًا وَما كانَ مِنَ المُشرِكينَ(95)
ف ٥ یعنی خدا تعالٰی نے حلال و حرام کے متعلق نیز اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے باب میں سچی سچی اور کھری کھری باتیں تم کو سنا دیں جن کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ اب چاہیے کہ تم بھی مسلمانوں کی طرح اصلی دین ابراہیم کی پیروی اور اس کے اصول کا اتباع کرنے لگو جن میں سب سے بڑی چیز توحید خالص تھی۔ چاہیے کہ تم بھی عزیر و مسیح اور احبار ورہبان کی پرستش چھوڑ کر پکے موحد مسلم بن جاؤ۔(95)
إِنَّ أَوَّلَ بَيتٍ وُضِعَ لِلنّاسِ لَلَّذى بِبَكَّةَ مُبارَكًا وَهُدًى لِلعٰلَمينَ(96)
ف ٦  مسلمانوں کے اس دعوے پر کہ ہم سب سے زیادہ ابراہیم سے اشبہ و اقرب ہیں، یہود کو یہ بھی اعتراض تھا کہ ابراہیم علیہ السلام نے وطن اصلی (عراق) چھوڑ کر شام کو ہجرت کی، وہیں رہے وہیں وفات پائی، بعدہ، ان کی اولاد شام میں رہی، کتنے انبیاء اسی مقدس سرزمین میں مبعوث ہوئے سب کا قبلہ بیت المقدس رہا کیا، پھر تم حجاز کے رہنے والے جنہوں نے بیت المقدس کو چھوڑ کر کعبہ کو اپنا قبلہ بنا لیا ہے اور سرزمین شام سے دور ایک طرف پڑے ہو کس منہ سے دعویٰ کر سکتے ہو کہ ابراہیم و ملت ابراہیم سے تم کو زیادہ قرب و مناسبت حاصل ہے۔ اس آیت میں معترضین کو بتلایا گیا کہ بیت المقدس وغیرہ مقامات مقدسہ تو بعد میں تعمیر ہوئے ہیں، دنیا میں سب سے پہلا متبرک گھر جو لوگوں کی توجہ الی اللہ کے لئے مقرر کیا گیا اور بطور ایک عبادت گاہ اور نشان ہدایت کے بنایا گیا، وہ یہ ہی کعبہ شریف ہے جو اس مبارک شہر مکہ معظمہ میں واقع ہوا ہے۔(96)
فيهِ ءايٰتٌ بَيِّنٰتٌ مَقامُ إِبرٰهيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُ كانَ ءامِنًا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى النّاسِ حِجُّ البَيتِ مَنِ استَطاعَ إِلَيهِ سَبيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِىٌّ عَنِ العٰلَمينَ(97)
ف۷ حق تعالٰی نے شروع سے اس گھر کو ظاہری و باطنی، حسی و معنوی برکات سے معمور کیا اور سارے جہان کی ہدایت کا سرچشمہ ٹھہرایا ہے۔ روئے زمین پر جس کسی مکان میں برکت و ہدایت پائی جاتی ہے اسے بیت مقدس کا ایک عکس اور پر تو سمجھنا چاہیئے۔ یہیں سے رسول الثَّقَلین کو اٹھایا، مناسک حج ادا کرنے کے لئے سارے جہان کو اسی کی طرف دعوت دی۔ عالمگیر مذہب اسلام کے پَیرووں کو مشرق و مغرب میں اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔ اسکے طواف کرنے والوں پر عجیب و غریب برکات و انوار کا افاضہ فرمایا۔ انبیائے سابقین بھی حج ادا کرنے کے لئے نہایت شوق و ذوق سے تلبیہ پکارتے ہوئے اسی شمع کے پروانے بنے اور طرح طرح کی ظاہر و باہر نشانیاں قدرت نے بیت اللہ کی برکت سے اس سرزمین میں رکھ دیں۔ اسی لئے ہر زمانہ میں مختلف مذاہب والے اسکی غیر معمولی تعظیم و احترام کرتے رہے اور ہمیشہ وہاں داخل ہونے والے کو مامون سمجھا گیا، اس کے پاس مقام ابراہیم کی موجودگی پتہ دے رہی ہے کہ یہاں ابراہیم کے قدم آئے ہیں اور اسکی تاریخ جو تمام عرب کے نزدیک بلا نکیر مسلّم چلی آرہی ہے بتلاتی ہے کہ یہ وہی پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ تعمیر کیا تھا اور خدا کی قدرت سے اس پتھر میں ابراہیم کے قدم کا نشان پڑ گیا تھا جو آج تک محفوظ چلا آتا ہے گویا علاوہ تاریخی روایات کے اس مقدس پتھر کا وجود ایک ٹھوس دلیل اس کی ہے کہ یہ گھر طوفانِ نوح کی تباہی کے بعد حضرت ابراہیم کے پاک ہاتھوں سے تعمیر ہوا جن کی مدد کے لئے حضرت اسماعیل علیہ السلام شریکِ کار رہے جیسا کہ پارہ الم کے آخر میں گزر چکا۔ ف٢ اس پاک گھر میں جمالِ خداوندی کی کوئی خاص تجلی ہے جس کی وجہ سے ادائے حج کے لئے اسے مخصوص کیا گیا کیونکہ حج ایک ایسی عبادت ہے جس کی ہر ادا اس جمیل مطلق اور محبوب برحق کے عشق و محبت کے جذبہ کا اظہار کرتی ہے پس ضروری ہے کہ جسے اس کی محبت کا دعویٰ ہو اور بدنی و مالی حیثیت سے بیت اللہ تک پہنچنے کی قدرت رکھتا ہو، کم از کم عمر میں ایک مرتبہ دیارِ محبوب میں حاضری دے اور دیوانہ وار وہاں کا چکر لگائے۔ (اس مضمون کو حضرت مولانا محمد قاسم قدس اللہ سرہ، نے 'قبلہ نما" میں بڑی شرح و بسط سے لکھا ہے) جو مدعی محبت اتنی تکلیف اٹھانے سے بھی انکار کرے سمجھ لو کہ جھوٹا عاشق ہے۔ اختیار ہے جہاں چاہے دھکے کھاتا پھرے خود محروم و مہجور رہے گا۔ اس محبوب حقیقی کو کسی کی کیا پروا ہے کوئی یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر، اس کا کیا بگڑتا ہے۔) احکام حج کی تفصیل کتب فقہ میں دیکھنی چاہیئے)۔(97)
قُل يٰأَهلَ الكِتٰبِ لِمَ تَكفُرونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَاللَّهُ شَهيدٌ عَلىٰ ما تَعمَلونَ(98)
ف۱ پہلے سے خطاب یہود و نصاریٰ کو کیا جا رہا تھا۔ درمیان میں ان کے بعض شبہات کا جواب دیا گیا۔ یہاں سے پھر ان کو تنبیہ و توبیخ کی گئی۔ یعنی حق و صداقت کے واضح دلائل اور قرآن کریم کی ایسی سچی اور پکی باتیں سننے کے بعد بھی تمہیں کیا ہوا کہ باوجود اہل کتاب کہلانے کے برابر کلام اللہ اور اسکے لانے والے کے انکار پر تلے ہوئے ہو۔ یاد رکھو تمہاری سب کاروائیاں خدا کے سامنے ہیں تمہاری نیتوں اور تدبیروں کو وہ خوب جانتا ہے، جس وقت پکڑے گا، رتی رتی کا حساب لے کر چھوڑے گا۔(98)
قُل يٰأَهلَ الكِتٰبِ لِمَ تَصُدّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ مَن ءامَنَ تَبغونَها عِوَجًا وَأَنتُم شُهَداءُ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ(99)
ف۲ یعنی نہ صرف یہ کہ خود ایمانی سعادت حاصل کرنے سے محروم ہو، دوسروں کو بھی چاہتے ہو کہ اللہ کے راستہ سے روک دو اور جو سعید روحیں مشرف بایمان ہو چکی ہیں ان کو اسلام کے فرضی عیب بتلا کر دین اسلام سے واپس لے آؤ۔ پھر یہ حرکتیں محض جہل و بے خبری سے نہیں کر رہے، بلکہ سمجھ بوجھ کر سیدھی باتوں کو ٹیڑھا ثابت کرنے کی فکر میں رہتے ہو، تمہارے اس ہیر پھیر سے خدا بے خبر نہیں، مناسب وقت پر اکھٹی سزا دے گا۔(99)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِن تُطيعوا فَريقًا مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ يَرُدّوكُم بَعدَ إيمٰنِكُم كٰفِرينَ(100)
ف۳ پہلے اہل کتاب کو ڈانٹا گیا تھا کہ جان بوجھ کر کیوں لوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہو۔ یہاں مسلمانوں کو نصیحت کی گئی کہ تم ان مفسدین کے بھرّے میں نہ آنا، اگر ان کے اشاروں پر چلو گے تو اندیشہ ہے کہ آہستہ آہستہ نور ایمان سے نکل کر کفر کے تاریک گڑھے میں دوبارہ نہ جا گرو۔(100)
وَكَيفَ تَكفُرونَ وَأَنتُم تُتلىٰ عَلَيكُم ءايٰتُ اللَّهِ وَفيكُم رَسولُهُ ۗ وَمَن يَعتَصِم بِاللَّهِ فَقَد هُدِىَ إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(101)
ف٤ یعنی بہت بعید ہے کہ وہ قوم ایمان لائے پیچھے کافر بن جائے یا کافروں جیسے کام کرنے لگے، جس کے درمیان خدا کا عظیم الشان پیغمبر جلوہ افروز ہو، جو شب و روز ان کو اللہ کا روح پرور کلام اور اسکی تازہ بتازہ آیتیں پڑھ کر سناتا رہتا ہے، سچ تو یہ ہے کہ جس نے ہر طرف سے قطع نظر کر کے ایک خدا کو مضبوط پکڑ لیا اور اسی پر دل سے اعتماد و توکل کیا اسے کوئی طاقت کامیابی کے سیدھے راستہ سے اِدھر ادھر نہیں ہٹا سکتی۔ (تنبیہ) انصار مدینہ کے دو خاندانوں اَوس و خزرَج کے باہم اسلام سے قبل سخت عداوت اور دشمنی تھی، ذرا ذرا بات پر لڑائی اور خونریزی کا بازار گرم ہو جاتا تھا جو برسوں تک سرد نہ ہوتا تھا۔ چنانچہ "بعاث" کی مشہور جنگ ایک سَو بیس سال تک رہی آخر پیغمر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت پر ان کی قسمت کا ستارہ چمکا اور اسلام کی تعلیم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض صحبت نے دونوں قبیلوں کو جو صدیوں سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے رہتے تھے ملا کر شیر و شکر کر دیا اور نہایت مضبوط برادرانہ تعلقات قائم کر دیئے۔ یہود مدینہ کو ان دونوں حریف خاندانوں کا اس طرح مل بیٹھنا اور متفقہ طاقت سے اسلام کی خدمت و حمایت کرنا ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ ایک اندھے یہودی شماّس بن قیس نے کسی فتنہ پرداز شخص کو بھیجا کہ جس مجلس میں دونوں خاندان جمع ہوں وہاں کسی ترکیب سے بعاث کی لڑائی کا ذکر چھیڑ دے۔ چنانچہ اس نے مناسب موقع پا کر بعاث کی یاد تازہ کرنے والے اشعار سنانے شروع کر دیئے۔ اشعار کا سننا تھا کہ ایک مرتبہ بجھی ہوئی چنگاریاں پھر سلگ اٹھیں۔ زبانی جنگ سے گزر کر ہتھیاروں کی لڑائی شروع ہونے کو تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جماعت مہاجرین کو ہمراہ لئے ہوئے موقع پر پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گروہِ مسلمین! اللہ سے ڈرو، میں تم میں موجود ہوں۔ پھر یہ جاہلیت کی پکار کیسی؟ خدا نے تم کو ہدایت دی، اسلام سے مشرف کیا۔ جاہلیت کی تاریکیوں کو محو فرما دیا۔ کیا ان ہی کفریات کی طرف پھر الٹے پاؤں لوٹنا چاہتے ہو جن سے نکل کر آئے تھے۔ اِس پیغمبرانہ آواز کا سننا تھا کہ شیطانی جال کے سب حلقے ایک ایک کر کے ٹوٹ گئے۔ اوس و خزرج نے ہتھیار پھینک دیئے اور ایک دوسرے سے گلے مل کر رونے لگے۔ سب نے سمجھ لیا کہ یہ سب ان کے دشمنوں کی فتنہ انگیزی تھی۔ جس سے آیندہ ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیئے۔ اسی واقعہ کے متعلق یہ کئی آیتیں نازل ہوئیں۔(101)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ وَلا تَموتُنَّ إِلّا وَأَنتُم مُسلِمونَ(102)
ف۵ یعنی ہر مسلمان کے دل میں پورا ڈر خدا کا ہونا چاہیے کہ اپنے مقدور بھر پرہیزگاری و تقویٰ کی راہ سے نہ ہٹے اور ہمیشہ اس سے استقامت کا طالب رہے۔ شیاطین چاہتے ہیں کہ تمہارا قدم اسلام کے راستہ سے ڈگمگا دیں۔ تم کو چاہیے کہ انہیں مایوس کر دو۔ اور مرتے دم تک کوئی حرکت مسلمانی کے خلاف نہ کرو۔ تمہارا جینا و مرنا خالص اسلام پر ہونا چاہیئے۔(102)
وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّهِ جَميعًا وَلا تَفَرَّقوا ۚ وَاذكُروا نِعمَتَ اللَّهِ عَلَيكُم إِذ كُنتُم أَعداءً فَأَلَّفَ بَينَ قُلوبِكُم فَأَصبَحتُم بِنِعمَتِهِ إِخوٰنًا وَكُنتُم عَلىٰ شَفا حُفرَةٍ مِنَ النّارِ فَأَنقَذَكُم مِنها ۗ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُم ءايٰتِهِ لَعَلَّكُم تَهتَدونَ(103)
ف ٦  یعنی سب مل کر قرآن کو مضبوط تھامے رہو جو خدا کی مضبوط رسی ہے۔ یہ رسی ٹوٹ تو نہیں سکتی ہاں چھوٹ سکتی ہے۔ اگر سب مل کر اس کو پوری قوت سے پکڑے رہو گے، کوئی شیطان شر انگیزی میں کامیاب نہ ہو سکے گا اور انفرادی زندگی کی طرح مسلم قوم کی اجتماعی قوت بھی غیر متزلزل اور ناقابل اختلال ہو جائے گی۔ قرآن کریم سے تمسک کرنا ہی وہ چیز ہے جس سے بکھری ہوئی قوتیں جمع ہوتی ہیں اور ایک مردہ قوم حیاتِ تازہ حاصل کرتی ہے لیکن تمسک بالقرآنکا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کو اپنی آراء و اہواء کا تختہ مشق بنا لیا جائے، بلکہ قرآن کریم کا مطلب وہی معتبر ہوگا جو احادیث صحیحہ اور سلف صالحین کی متفقہ تصریحات کے خلاف نہ ہو۔ ف۷ یعنی صدیوں کی عداوتیں اور کینے نکال کر خدا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے تم کو بھائی بھائی بنا دیا۔ جس سے تمہارا دین اور دنیا دونوں درست ہوئے اور ایسی ساکھ قائم ہوگئی ہے جسے دیکھ کر تمہارے دشمن مرعوب ہوتے ہیں۔ یہ برادرانہ اتحاد خدا کی اتنی بڑی نعمت ہے جو روئے زمین کا خزانہ خرچ کر کے بھی میسّر نہ آسکتی تھی۔ ف۸ یعنی کفر و عصیان کی بدولت دوزخ کے بالکل کنارے پر کھڑے تھے کہ موت آئی اور اس میں گرے۔ خدا نے تمہارا ہاتھ پکڑ کر اس سے بچا لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ایمان و ایقان کی روشنی سینوں میں ڈالی۔ حق تعالٰی کے ان عظیم الشان دینی و دنیاوی احسانات کو یاد رکھو گے تو کبھی گمراہی کی طرف واپس نہ جاؤ گے۔ ف۹ یعنی یہ باتیں اس قدر کھول کھول کر سنانے سے مقصود یہ ہے کہ ہمیشہ ٹھیک راستہ پر چلتے رہو۔ ایسی مہلک و خطرناک غلطی کا پھر اعادہ نہ کرو اور کسی شیطان کے اغوا سے استقامت کی راہ نہ چھوڑو۔(103)
وَلتَكُن مِنكُم أُمَّةٌ يَدعونَ إِلَى الخَيرِ وَيَأمُرونَ بِالمَعروفِ وَيَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ ۚ وَأُولٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ(104)
ف١ یعنی تقویٰ، اعتصام بحبل اللّٰہ، اتحاد و اتفاق قومی زندگی، اسلامی مواخات، یہ سب چیزیں اس وقت باقی رہ سکتی ہیں جبکہ مسلمانوں میں ایک جماعت خاص دعوت و ارشاد کے لئے قائم رہے۔ اس کا وظیفہ یہ ہی ہو کہ اپنے قول و عمل سے دنیا کو قرآن و سنت کی طرف بلائے اور جب لوگوں کو اچھے کاموں میں سست یا برائیوں میں مبتلا دیکھے، اس وقت بھلائی کی طرف متوجہ کرنے اور برائی سے روکنے میں اپنے مقدور کے موافق کوتاہی نہ کرے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام وہ ہی حضرات کر سکتے ہیں جو معروف و منکر کا علم رکھنے اور قرآن و سنت سے باخبر ہونے کے ساتھ ذی ہوش اور موقع شناس ہوں، ورنہ بہت ممکن ہے کہ ایک جاہل آدمی معروف کو منکر یا منکر کو معروف خیال کر کے بجائے اصلاح کے سارا نظام ہی مختل کر دے، یا ایک منکر کی اصلاح کا ایسا طریقہ اختیار کرے جو اس سے بھی زیادہ منکرات کے حدوث کا موجب ہو جائے، یا نرمی کی جگہ سختی اور سختی کے موقع میں نرمی برتنے لگے۔ شاید اسی لئے مسلمانوں میں سے ایک مخصوص جماعت کو اس منصب پر مامور کیا گیا جو ہر طرح دعوت الی الخیر، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہل ہو۔ حدیث میں ہے جب لوگ منکرات میں پھنس جائیں اور کوئی روکنے والا نہ ہو تو عام عذاب آنے کا اندیشہ ہے۔ باقی یہ کہ کن احوال و اوقات میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ترک میں آدمی معذور سمجھا جاسکتا ہے اور کن مواقع میں واجب یا مستحب ہے اسکی تفصیل کا یہ موقع نہیں "ابو بکر رازی نے" احکام القرآن میں اس پر نہایت مبسوط کلام کیا ہے۔ فلیراجع۔(104)
وَلا تَكونوا كَالَّذينَ تَفَرَّقوا وَاختَلَفوا مِن بَعدِ ما جاءَهُمُ البَيِّنٰتُ ۚ وَأُولٰئِكَ لَهُم عَذابٌ عَظيمٌ(105)
ف٢ یعنی یہودو نصاریٰ کی طرح مت بنو جو خدا تعالٰی کے صاف احکام پہنچنے کے بعد محض اوہام و اہواء کی پیروی کر کے اصول شرع میں متفرق اور فروع میں مختلف ہوگئے۔ آخر فرقہ بندیوں نے انکے مذہب و قومیت کو تباہ کر ڈالا، اور سب کے سب عذاب الہٰی کے نیچے آگئے۔ (تنبیہ) اس آیت سے ان اختلافات اور فرقہ بندیوں کا مذموم و مہلک ہونا معلوم ہوا جو شریعت کے صاف احکام پر مطلع ہونے کے بعد پیدا کئے جائیں۔ افسوس ہے کہ آج مسلمان کہلانے والوں میں بھی سینکڑوں فرقے شریعت اسلامیہ کے صاف و صریح اور مسلَّم و محکم اصول سے الگ ہو کر اور ان میں اختلاف ڈال کر اس عذاب کے نیچے آئے ہوئے ہیں۔ تاہم اسی طوفان بے تمیزی میں اللہ و رسول کے وعدہ کے موافق ایک عظیم الشان جماعت بحمد اللہ خدا کی رسی کو مضبوط تھامے ہوئے مَا اَنَا عَلَیْہِ وَ اَصْحَابِیْ کے مسلک پر قائم ہے اور تا قیام قیامت قائم رہے گی۔ باقی فروعی اختلافات جو صحابہ رضی اللہ عنہم اور ائمہ مجتہدین میں ہوئے ہیں، انکو آیت حاضرہ سے کوئی تعلق نہیں، اس فروعی اختلاف کے اسباب پر حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ، نے اپنی تصانیف میں کافی و شافی بحث کی ہے۔(105)
يَومَ تَبيَضُّ وُجوهٌ وَتَسوَدُّ وُجوهٌ ۚ فَأَمَّا الَّذينَ اسوَدَّت وُجوهُهُم أَكَفَرتُم بَعدَ إيمٰنِكُم فَذوقُوا العَذابَ بِما كُنتُم تَكفُرونَ(106)
ف٣ یعنی بعضوں کے چہرہ پر ایمان و تقویٰ کا نور چمکتا ہوگا اور عزت و وقار کے ساتھ شاداں و فرحاں نظر آئیں گے۔ انکے برخلاف بعضوں کے منہ کفر و نفاق یا فسق و فجور سے کالے ہوں گے، صورت سے ذلت و رسوائی ٹپک رہی ہوگی۔ گویا ہر ایک کا ظاہر باطن کا آئینہ بن جائے گا۔ ف٤ یہ الفاظ مرتدین، منافقین، اہل کتاب، عام کفار یا مبتدعین و فساق و فجار سب کو کہے جاسکتے ہیں۔ "مرتد" تو اسی کو کہتے ہیں جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو جائے۔ "منافق" زبان سے اقرار کرنے کے بعد دل سے کافر رہتا ہے۔ "اہل کتاب" اپنے نبیوں اور کتابوں پر ایمان لانے کے مدعی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ انکی سب بشارتوں کو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دی گئی تھیں تسیلم کریں اور انکی ہدایات کے موافق حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں مگر وہ انکار میں سب سے آگے رہتے ہیں۔ گویا اپنے نبی اور کتاب پر ایمان لانے کے بعد کافر بن رہے ہیں۔ مبتدعین کا دعویٰ زبان سے یہ ہوتا ہے کہ ہم قرآن و سنت کے متبع ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے ہیں مگر اس کے بعد بہت سی بے اصل اور باطل چیزیں دین میں شامل کر کے یا بعض ضروریاتِ دین کا انکار کر کے اصلی دین سے نکل جاتے ہیں اس طرح وہ بھی ایک درجہ میں اَکَفَرْ تُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ کے مخاطب ہوئے۔ رہے فساق جن کا عقیدہ صحیح ہو، اگر ان سے خطاب ہوا تو یہ مطلب ہوگا کہ ایمان لانے کے بعد کافروں جیسے عمل کیوں کئے۔ گویا کفر سے عملی کفر مراد ہوگا اور اگر عام کفار کے حق میں یہ خطاب مانا جائے تو یہ حاصل ہے کہ خدا تعالٰی نے سب کو دین فطرت پر پیدا کیا۔ اس فطرت ایمانی کو ضائع کر کے کافر کیوں بنے۔ باقی سیاق آیات سے ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کفر سے کفر فعلی یعنی اختلاف و تفریق مذموم مراد ہو۔ واللہ اعلم۔(106)
وَأَمَّا الَّذينَ ابيَضَّت وُجوهُهُم فَفى رَحمَةِ اللَّهِ هُم فيها خٰلِدونَ(107)
ف ٥ یعنی جنت میں۔ کیونکہ جنت محض عمل سے نہیں ملتی۔ عمل کے بعد خدا کی رحمت سے ملتی ہے۔ اور وہی جگہ ہے جہاں اللہ تعالٰی نے ہر قسم کی رحمت کے سامان کئے ہیں۔ ع بہشت آنجا کہ آزارے نہ باشد(107)
تِلكَ ءايٰتُ اللَّهِ نَتلوها عَلَيكَ بِالحَقِّ ۗ وَمَا اللَّهُ يُريدُ ظُلمًا لِلعٰلَمينَ(108)
ف ٦  حقیقی معنیٰ میں ظلم تو وہاں ممکن ہی نہیں لیکن ظاہری طور پر جسے تم ظلم کہہ سکتے ہو۔ اس کا صدور بھی خدا تعالٰی سے نہیں ہوتا۔ مثلاَ، ایسے سخت احکام بندوں کو بھیجے جن سے غرض محض ستانا اور دق کرنا ہو، یا مستحق رحمت پر عذاب کرنے لگے یا تھوڑی سزا کی جگہ زائد سزا جاری کر دے، یا کسی کی ادنیٰ ترین نیکی کا صلہ نہ دے وغیر ذلک۔ خوب سمجھ لو، اس کا جو حکم ہے خالص بندوں کی تربیت کے لئے اور جو معاملہ کسی کے ساتھ ہے عین حکمت ومصلحت کے موافق ہے۔(108)
وَلِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۚ وَإِلَى اللَّهِ تُرجَعُ الأُمورُ(109)
ف۷ جب ہرچیز اللہ کی مخلوق و مملوک اور ہر کام کا انجام اسی کے ہاتھ میں ہے تو ظلم کیونکر اور کس لئے کیا جائے گا۔(109)
كُنتُم خَيرَ أُمَّةٍ أُخرِجَت لِلنّاسِ تَأمُرونَ بِالمَعروفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ وَتُؤمِنونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَو ءامَنَ أَهلُ الكِتٰبِ لَكانَ خَيرًا لَهُم ۚ مِنهُمُ المُؤمِنونَ وَأَكثَرُهُمُ الفٰسِقونَ(110)
ف۸ گزشتہ رکوع کے شروع میں فرمایا تھا یٰآیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہ حَقَّ تُقَاتِہٖ الخ۔ درمیان میں اسی کے مناسب کچھ اوامر و نواہی اور وعد و عید آگئی، یہاں سے پھر اسی اول مضمون کی تکمیل کی جاتی ہے۔ یعنی اے مسلمانو! خدا تعالٰی نے تم کو تمام امتوں میں بہترین اُمت قرار دیا ہے اس کے علم ازلی میں پہلے سے ہی یہ مقدر ہو چکا تھا جسکی خبر بعض انبیائے سابقین کو بھی دے دی گئی تھی کہ جس طرح نبی آخرالزماں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام نبیوں سے افضل ہوں گے۔ آپ کی اُمت بھی جملہ اُمم و اقوام پر سبقت لے جائے گی کیونکہ اس کو سب سے اشرف و اکرم پیغمبر نصیب ہوگا ادوم و اکمل شریعت ملے گی، علوم و معارف کے دروازے اس پر کھول دیئے جائیں گے، ایمان و عمل تقویٰ کی تمام شاخیں اُسکی محنت اور قربانیوں سے سرسبز و شاداب ہوں گی، وہ کسی خاص قوم و نسب یا مخصوص ملک و اقلیم میں محصور نہ ہوگی بلکہ اس کا دائرہ عمل سارے عالم کو اور انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہوگا۔ گویا اس کا وجود ہی اس لئے ہوگا کہ دوسروں کی خیر خواہی کرے اور جہاں تک ممکن ہو انہیں جنت کے دروازوں پر لا کر کھڑا کر دے۔ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ میں اسی طرف اشارہ ہے۔ (تنبیہ) اس سورت کے نویں رکوع میں وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ الخ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت و جامعیت کبریٰ کا بیان ہوا تھا۔ دسویں رکوع میں اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّ ضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ سے اس اُمت کے قبلہ کی برتری دکھلائی گئی۔ گیارہویں رکوع میں وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا الخ سے اس اُمت کی کتاب و شریعت کی مضبوطی کا اظہار فرمایا۔ اب یہاں بارہویں رکوع کے آغاز سے خود اُمت مرحومہ کی فضیلت و عظمت کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ ف۹ "منکر" (بُرے کاموں) میں کفر، شرک، بدعات، رسوم قبیحہ، فسق و فجور اور ہر قسم کی بد اخلاقی اور نامعقول باتیں شامل ہیں۔ ان سے روکنا بھی کئی طرح ہوگا۔ کبھی زبان سے، کبھی ہاتھ سے کبھی قلم سے کبھی تلوار سے، غرض ہر قسم کا جہاد اس میں داخل ہوگیا۔ یہ صفت جس قدر عموم و اہتمام سے اُمتِ محمدیہ میں پائی گئی، پہلی اُمتوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ف۱۰ اللہ پر ایمان لانے میں، اسکی توحید پر، اسکے رُسولوں پر اور کتابوں پر ایمان لانا بھی داخل ہے اور سچ تو یہ ہے کہ توحید خالص و کامل کا اتنا شیوع و اہتمام کبھی کسی اُمت میں نہیں رہا۔ جو بحمد اللہ اس اُمت میں رہا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص تم میں سے چاہتا ہے کہ اس اُمت (خیر الامم) میں شامل ہو، چاہیے کہ اللہ کی شرط پوری کرے یعنی امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور ایمان باللہ، جس کا حاصل ہے خود درست ہو کر دوسروں کو درست کرنا۔ جو شان حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کی تھی۔ ف۱ یعنی اہلِ کتاب اگر اکثر ایمان لے آتے تو وہ بھی اس خیرالامم میں شامل ہو سکتے تھے۔ جس سے دنیا میں عزت بڑھتی اور آخرت میں دوہرا اجر ملتا۔ مگر افسوس ہے ان میں چند افراد کے سوا (مثلاَ عبد اللہ بن سلام یا نجاشی وغیرہ) کسی نے حق کو قبول نہ کیا۔ باوجود وضوح حق کے نافرمانی ہی پر اڑے رہے۔(110)
لَن يَضُرّوكُم إِلّا أَذًى ۖ وَإِن يُقٰتِلوكُم يُوَلّوكُمُ الأَدبارَ ثُمَّ لا يُنصَرونَ(111)
ف۲ یعنی اگر نافرمان ہیں تو ہونے دو تمکو انکی اکثریت یا مادی سازوسامان سے خوف کھانے کی کوئی وجہ نہیں (اے خیر الامم!) خدا کا وعدہ ہے کہ یہ شیطانی لشکر تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ (بشرطیکہ تم اپنے کو خیرالامم ثابت کرو) بس یہ اتنا ہی کر سکتے ہیں کہ زبان سے گالی دیں اور نامردوں کی طرح تمکو بُرا بھلا کہتے پھریں یا کوئی چھوٹی موٹی عارضی تکلیف پہنچائیں، باقی تم پر غالب و مسلط ہوجائیں، یا کوئی بڑا قومی نقصان پہنچا سکیں، یہ کبھی نہ ہوگا۔ اگر لڑائی میں تمہارے مقابلہ پر آئے تو پیٹھ دے کر بھاگیں گے اور کسی طرف سے انکو مدد نہ پہنچے گی جو انکی ہزیمت کو روک سکے۔ یہ پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوئی صحابہ رضی اللہ عنہم کے عہد میں اہل کتاب کا یہ ہی حشر ہوا۔ اسلام اور مسلمانوں کی تباہی کے لئے انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور خرچ کر دیا مگر بال بیکا نہ کر سکے۔ جہاں مقابلہ ہوا حمرُ مستنفرہ کی طرح بھاگے۔ ہر موقع پر خدا کی نُصرت و امداد خیر الامم کے شامل حال رہی اور دشمن بدحواسی اور بیکسی کی حالت میں مقہور و مخذول ہو کر بھاگے یا قید ہوئے یا رعیّت بن کر رہے یا جہنم میں پہنچ گئے، فَلِلّٰہِ الحمد والمنہ۔(111)
ضُرِبَت عَلَيهِمُ الذِّلَّةُ أَينَ ما ثُقِفوا إِلّا بِحَبلٍ مِنَ اللَّهِ وَحَبلٍ مِنَ النّاسِ وَباءو بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَضُرِبَت عَلَيهِمُ المَسكَنَةُ ۚ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم كانوا يَكفُرونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَيَقتُلونَ الأَنبِياءَ بِغَيرِ حَقٍّ ۚ ذٰلِكَ بِما عَصَوا وَكانوا يَعتَدونَ(112)
ف۳ یہ آیتیں اہل کتاب میں سے خاص یہود کے متعلق معلوم ہوتی ہیں جیسا کہ سیاق کلام اور قرآن کی دوسری آیات سے ظاہر ہے یعنی یہود پر ہمیشہ کے لئے ذلت کی مُہر کر دی گئی۔ یہ بدبخت جہاں کہیں پائے جائیں، ذلت کا نقش ان سے محو نہیں ہو سکتا۔ بڑے بڑے کروڑ پتی یہود بھی آزادی و خودمختاری سے اپنے جان و مال کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ان کی آزاد حکومت کسی جگہ نہیں "سوائے دستاویز اللہ کے" یعنی بعض بچی کھچی رسمیں تورات کی عمل میں لاتے ہیں اُسکے طفیل سے پڑے ہیں اور "سوائے دستاویز لوگوں ں کے" یعنی کسی کی رعیّت میں اُسکی پناہ میں پڑے ہیں (کذافی الموضح) بعض مفسرین نے "حَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ" و "حَبْلِ مِّنَ النَّاسِ" سے اللہ کا ذمہ اور مسلمانوں کا عہد مُراد لیا ہے یعنی بجز اس کے کہ مسلمانوں سے عہد کر کے خدا کے ذمہ میں آجائیں۔ بعض کہتے ہیں کہ "بحبل من اللّٰہ" سے اسلام مراد ہے یعنی اسلام لا کر اس ذلت سے نکل سکتے ہیں یا معاہد بن کے، کیونکہ معاہدہ بھی جان و مال کی طرف مامون کر دیتا ہے۔ واللہ اعلم۔ ف٤ یعنی نافرمانی کرتے کرتے حد سے نکل گئے جس کا انتہائی اثر یہ تھا کہ اللہ کی صریح آیتوں کے انکار اور معصوم پیغمبروں کے قتل پر آمادہ ہوگئے۔ اسی مضمون کی آیت سورۃ بقرہ پارہ "ال م" میں گزر چکی ہے۔ وہاں کے فوائد ملاحظہ کئے جائیں۔(112)
۞ لَيسوا سَواءً ۗ مِن أَهلِ الكِتٰبِ أُمَّةٌ قائِمَةٌ يَتلونَ ءايٰتِ اللَّهِ ءاناءَ الَّيلِ وَهُم يَسجُدونَ(113)
(113)
يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ وَيَأمُرونَ بِالمَعروفِ وَيَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ وَيُسٰرِعونَ فِى الخَيرٰتِ وَأُولٰئِكَ مِنَ الصّٰلِحينَ(114)
ف۵ یعنی سب اہل کتاب کا حال یکساں نہیں۔ اتنے بُروں میں کچھ اچھے بھی ہیں۔ ان ہی ممسوخ اشقیاء کے درمیان چند سعید روحیں ہیں جن کو حق تعالٰی نے قبول حق کی توفیق دی اور وہ اسلام کی آغوش میں آگئے اور جادۂ حق پر ایسے مستقیم ہوگئے کہ کوئی طاقت ہلا نہیں سکتی۔ وہ رات کی تاریکی میں میٹھی نیند اور نرم بسترے چھوڑ کر خدا کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ اپنے مالک کے سامنے خضوع و تذلل اختیار کرتے ہیں۔ جبین نیاز زمین پر رکھتے ہیں، نماز میں اس کا کلام پڑھتے ہیں۔ اللہ پر اور یوم آخرت پر ٹھیک ٹھیک ایمان لاتے ہیں، خالص توحید کے قائل ہیں، قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں اور جب کسی نیک کام کی طرف پکارا جائے دوڑ کر دوسروں سے آگے نکلنا چاہتے ہیں، پھر نہ صرف یہ کہ خود راہِ راست پر ہیں، دوسروں کو بھی سیدھے راستے پر لانا چاہتے ہیں بلاشبہ ان یہود میں سے یہ لوگ ہیں جن کو خدا نے نیک بختی اور صلاح و رُشد کا خاص حصہ عطا فرمایا ہے۔ یہ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا ذکر ہوا۔(114)
وَما يَفعَلوا مِن خَيرٍ فَلَن يُكفَروهُ ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ بِالمُتَّقينَ(115)
ف٣ بلکہ دُگنا اجر ملے گا۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہوا۔ اُولٰئِکَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَھُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا (القصص، رکوع ٦، آیت: ٥٤) اور حدیث صحیح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تشریح فرما دی۔ ف٤ اسی لئے جب یہود کی برائیوں کا ذکر آتا ہے حق تعالٰی ان پرہیزگاروں کو مستثنیٰ کر دیتا ہے اور پرہیزگاری کے موافق دنیا و آخرت میں ان کے ساتھ معاملہ بھی بالکل ممتاز کیا جائے گا۔(115)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا لَن تُغنِىَ عَنهُم أَموٰلُهُم وَلا أَولٰدُهُم مِنَ اللَّهِ شَيـًٔا ۖ وَأُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۚ هُم فيها خٰلِدونَ(116)
(116)
مَثَلُ ما يُنفِقونَ فى هٰذِهِ الحَيوٰةِ الدُّنيا كَمَثَلِ ريحٍ فيها صِرٌّ أَصابَت حَرثَ قَومٍ ظَلَموا أَنفُسَهُم فَأَهلَكَتهُ ۚ وَما ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلٰكِن أَنفُسَهُم يَظلِمونَ(117)
ف١ صالحین و متقین کے بالمقابل یہاں کافروں کے حال و انجام کا ذکر فرماتے ہیں پہلے فرمایا تھا وَمَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّکْفَرُوْہُ یعنی مومنین کی ادنیٰ ترین نیکی بھی کام آئے گی۔ اُنکے کسی بھلے کام کی بے قدری نہیں کی جائے گی۔ اسکے برخلاف کافر جو کچھ مال و قوت دنیا میں خرچ کرے، خواہ اپنے نزدیک بڑا ثواب اور خیرات کا کام سمجھ کر کرتا ہو، آخرت میں اُسکی کوئی قدر و قیمت اور پرسش نہیں۔ کیونکہ ایمان و معرفت صحیحہ کی روح نہ ہونے سے اس کا ہر ایک عمل بے جان اور مُردہ ہے۔ اسکی جزاء بھی ایسی ہی فانی و زائل اس دارفانی میں مل ملا رہے گی۔ عمل کی ابدی حفاظت کرنے والی چیز ایمان و ایقان ہے اس کے بدون عمل کی مثال ایسی سمجھو جیسے کسی شریر ظالم نے کھیتی یا باغ لگایا، اور اُسکو برف پالے سے بچانے کا کوئی انتظام نہ کیا، چند روز اسکی سرسبزی و شادابی کو دیکھ کر خوش ہوتا اور بہت کچھ امیدیں باندھتا رہا۔ یکایک اسکی شرارت و بدبختی سے سرد ہوا چلی، برف پالا اس قدر گرا کہ ایک دم میں ساری لہلہاتی کھیتی جلا کر رکھ دی آخر اپنی کُلّی تباہی و بربادی پر کف افسوس ملتا رہ گیا، نہ امیدیں پوری ہوئیں نہ احتیاج کے وقت اسکی پیداوار سے منتفع ہوا۔ اور چونکہ یہ تباہی ظلم و شرارت کی سزا تھی، اس لئے اس مصیبت پر کوئی اجر اُخروی بھی نہ ملا، جیسا کہ مومنین کو ملتا ہے۔ بعینہٖ یہ مثال ان کفار کی ہے جو کفر و شرک پر قائم رہتے ہوئے اپنے خیال میں بہت پُن خیرات کرتے ہیں، باقی وہ بدبخت جن کا زور و قوت اور پیسہ حق اور اہل حق کی دشمنی یا فسق و فجور میں خرچ ہوتا ہو ان کا تو پوچھنا ہی کیا ہے، وہ نہ صرف بیکار خرچ کر رہے ہیں، بلکہ روپیہ خرچ کر کے اپنے لئے اور زیادہ وبال خرید رہے ہیں ان سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ مال ہو یا اولاد کوئی چیز عذاب الہٰی سے نہ بچا سکے گی اور نہ متقین کے مقابلہ پر وہ اپنی توقعات میں کامیاب ہوں گے۔ (تنبیہ) "ریح" کا لفط مفرد قرآن میں عموماَ عذاب کے موقع پر استعمال ہوا ہے۔ "رِیْحٌ فِیْھَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ" اور " وَلَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا" اور "اِنَّا اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا" اور رحمت کے موقع پر جمع کا لفظ "ریاح" لائے ہیں "یُرْسِلُ الرِّیَاحَ مُبَشِّرَاتٍ" وَاَرْسَلْنَا الرِّیَاحَ لَوَاقِحَ" یُرْسِلُ الِّریَاحَ بُشْرًا" کذا ذکرہ ابو حیان۔ ف٢ یہ نہ سمجھا جائے کہ کافر کی کوئی نیکی قبول نہیں کی جاتی تو اس پر معاذ اللہ خدا کی طرف سے ظلم ہوا، نہیں یہ ظلم تو انہوں نے اپنی جانوں پر خود اپنے ہاتھوں سے کیا ہے۔ نہ کفر اختیار کرتے نہ یہ روز بد دیکھنا پڑتا۔(117)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذوا بِطانَةً مِن دونِكُم لا يَألونَكُم خَبالًا وَدّوا ما عَنِتُّم قَد بَدَتِ البَغضاءُ مِن أَفوٰهِهِم وَما تُخفى صُدورُهُم أَكبَرُ ۚ قَد بَيَّنّا لَكُمُ الءايٰتِ ۖ إِن كُنتُم تَعقِلونَ(118)
ف٣ یہ آیتیں بعض کہتے ہیں یہود کے متعلق نازل ہوئیں کیونکہ بعض مسلمان جوار (ہمسائیگی) حَلَف (دوستانہ معاہدہ) وغیرہ کی بنا پر جو تعلقات قبل از اسلام ان سے رکھتے چلے آرہے تھے بعد از اسلام بھی بدستور ان پر قائم رہے اور دوستی پر اعتماد کر کے ان سے مسلمانوں کے بعض راز دارانہ مشوروں کے اخفاء کا بھی اہتمام نہ کیا۔ اور بعض کے نزدیک یہ آیتیں منافقین کے حق میں نازل ہوئیں، کیونکہ عام طور پر لوگ ظاہر میں مسلمان سمجھ کر ان سے پوری احتیاط نہ کرتے تھے جس سے سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا، حق تعالٰی نے یہاں صاف صاف آگاہ کر دیا کہ مسلمان اپنے اسلامی بھائیوں کے سوا کسی کو بھیدی اور راز دار نہ بنائیں۔ کیونکہ یہود ہوں یا نصاریٰ، منافقین ہوں یا مشرکین، ان میں کوئی جماعت تمہاری حقیقی خیر خواہ نہیں۔ بلکہ ہمشیہ یہ لوگ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ تمہیں پاگل بنا کر نقصان پہنچائیں اور دینی و دنیاوی خرابیوں میں مبتلا کریں، انکی خواہش اسی میں ہے کہ تم تکلیف میں رہو اور کسی نہ کسی تدبیر سے تم کو دینی یا دنیاوی ضرر پہنچ جائے۔ جو دشمنی اور بغض اُنکے دلوں میں ہے وہ تو بہت ہی زیادہ ہے۔ لیکن بسا اوقات عداوت و غیظ کے جذبات سے مغلوب ہو کر کُھلم کھلا ایسی باتیں کر گزر تے ہیں جو ان کی گہری دشمنی کا صاف پتہ دیتی ہیں۔ مارے دشمنی اور حسد کے انکی زبان قابو میں نہیں رہتی۔ پس عقلمند آدمی کا کام نہیں کہ ایسے خبیث باطن دشمنوں کو اپنا راز دار بنائے۔ خدا تعالٰی نے دوست و دشمن کے پتے اور موالات وغیرہ کے احکام کھول کر بتلا دیئے ہیں جس میں عقل ہوگی ان سے کام لے گا (موالاتِ کفار کے متعلق کچھ تفصیل پہلے اسی سورت میں گزر چکی اور کچھ "مائدہ" وغیرہ میں آئے گی)۔(118)
هٰأَنتُم أُولاءِ تُحِبّونَهُم وَلا يُحِبّونَكُم وَتُؤمِنونَ بِالكِتٰبِ كُلِّهِ وَإِذا لَقوكُم قالوا ءامَنّا وَإِذا خَلَوا عَضّوا عَلَيكُمُ الأَنامِلَ مِنَ الغَيظِ ۚ قُل موتوا بِغَيظِكُم ۗ إِنَّ اللَّهَ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ(119)
ف٤ یعنی یہ کیسی بے موقع بات ہے کہ تم انکی دوستی کا دم بھرتے ہو، اور وہ تمہارے دوست نہیں بلکہ جڑ کاٹنے والے دشمن ہیں اور طرفہ یہ ہے کہ تم تمام آسمانی کتابوں کو مانتے ہو خواہ وہ کسی قوم کی ہوں اور کسی زمانہ میں کسی پیغمبر پر نازل ہوئی ہوں (جنکے خدا نے نام بتلا دیئے ان پر علی التعیین اور جنکے نام نہیں بتلائے ان پر بالاجمال ایمان رکھتے ہو) اس کے برخلاف یہ لوگ تمہاری کتاب اور پیغمبر کو نہیں مانتے، بلکہ خود اپنی کتابوں پر بھی انکا ایمان صحیح نہیں۔ اس لحاظ سے چاہیے تھا کہ وہ تم سے قدرے محبت کرتے اور تم ان سے سخت نفور و بیزار رہتے مگر یہاں معاملہ برعکس ہو رہا ہے۔ ف ٥ منافقین تو کہتے ہی تھے، عام یہود و نصاریٰ بھی بحث و گفتگو میں "آمناّ" (ہم مسلمان ہیں) کہہ کر یہ مطلب لے لیتے تھے کہ ہم اپنی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کو تسلیم کرتے ہیں۔ ف ٦  یعنی اسلام کا عروج اور مسلمانوں کی باہمی الفت و محبت دیکھ کر یہ لوگ جلے مرتے ہیں۔ اور چونکہ اسکے خلاف کچھ بس نہیں چلتا، اس لئے فرط غیظ و غضب سے دانت پیستے اور اپنی انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔ ف٧ یعنی خدا تعالٰی اسلام اور مسلمانوں کو اور زیادہ ترقیات و فتوحات عنایت فرمائے گا۔ تم غیظ کھا کھا کر مرتے رہو۔ اگر ایڑیاں رگڑ کر مر جاؤ گے تب بھی تمہاری آرزوئیں پوری نہ ہوں گی، خدا اسلام کو غالب اور سربلند کر کے رہے گا۔ ف۸ اسی لئے مسلمانوں کو ان شریروں کے باطنی حالات اور قلبی جذبات پر مطلع کر دیا اور سزا بھی ان کو ایسی دیگا جو اندرونی شرارتوں اور خفیہ عداوتوں کے مناسب ہو۔(119)
إِن تَمسَسكُم حَسَنَةٌ تَسُؤهُم وَإِن تُصِبكُم سَيِّئَةٌ يَفرَحوا بِها ۖ وَإِن تَصبِروا وَتَتَّقوا لا يَضُرُّكُم كَيدُهُم شَيـًٔا ۗ إِنَّ اللَّهَ بِما يَعمَلونَ مُحيطٌ(120)
ف۹ اگر تمہاری ذراسی بھلائی دیکھتے ہیں مثلاَ مسلمانوں کا اتحاد و یکجہتی یا دشمنوں پر غلبہ تو حسد کی آگ میں بھننے لگتے ہیں۔ اور جہاں تم پر کوئی مصیبت نظر آئی خوشی کے مارے پھولے نہیں سماتے۔ بھلا ایسی کمینہ قوم سے ہمدردری اور خیر خواہی کی کیا توقع ہوسکتی ہے، جو دوستی کا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا جائے۔ ف۱ ممکن تھا کسی کو یہ خیال گزرے کہ جب ہم ان سے دوستانہ تعلقات نہ رکھیں گے تو وہ زیادہ غیظ و غضب میں آکر ہمارے خلاف تدبیریں کریں گے اور بیش از بیش نقصان پہنچانا چاہیں گے۔ اس کا جواب دیا کہ تم صبر و استقلال اور تقویٰ و طہارت پر ٹھیک ٹھیک قائم رہو گے تو ان کا کوئی داؤ فریب تم پر کارگر نہ ہوگا۔ جو کاروائیاں وہ کرتے ہیں سب خدا کے علم میں ہیں، اور اس کو ہر وقت قدرت حاصل ہے کہ ان کا تار پود بکھیر کر رکھ دے تم اپنا معاملہ خدا سے صاف رکھو، پھر تمہارے راستہ سے سب کانٹے صاف کر دیئے جائیں گے۔ آگے غزوۂ احد کا واقعہ یاد دلاتے ہیں کہ اس میں بعض مسلمان منافقین کی مغویانہ حرکات سے کچھ اثر پذیر ہوگئے تھے اور قریب تھا کہ مسلمانوں کے دو قبیلے صبر و تقویٰ کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھیں جس سے منافقین کو خوش ہونے کا موقع ہاتھ آئے، مگر خدا نے دستگیری فرمائی اور ان قبیلوں کو سخت مہلک ٹھوکر سے بچا لیا۔(120)
وَإِذ غَدَوتَ مِن أَهلِكَ تُبَوِّئُ المُؤمِنينَ مَقٰعِدَ لِلقِتالِ ۗ وَاللَّهُ سَميعٌ عَليمٌ(121)
(121)
إِذ هَمَّت طائِفَتانِ مِنكُم أَن تَفشَلا وَاللَّهُ وَلِيُّهُما ۗ وَعَلَى اللَّهِ فَليَتَوَكَّلِ المُؤمِنونَ(122)
(122)
وَلَقَد نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدرٍ وَأَنتُم أَذِلَّةٌ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُم تَشكُرونَ(123)
ف۲ اس آیت میں جنگ احد کا واقعہ یاد دلایا ہے۔ صورت یہ ہوئی تھی کہ رمضان المبارک ٢ ھجری میں بدر کے مقام پر قریشی فوج اور مسلمان مجاہدین میں مڈ بھیڑ ہوگئی۔ جس میں کفار مکہ کے ستّر نامور اشخاص مارے گئے اور اسی قدر گرفتار ہوئے۔ اس تباہ کن اور ذلت آمیز شکست سے قریش کا شعلہ انتقام بھڑک اٹھا، جو سردار مارے گئے تھے انکے اقارب نے تمام عرب کو غیرت دلائی اور اہل مکہ سے اپیل کی کہ تجارتی قافلہ جو مال شام سے لایا ہے (کہ وہ ہی باعث جنگِ بدر کا ہوا تھا) سب اسی مہم کی نذر کر دیں تاکہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے اپنے مقتولین کا بدلہ لے سکیں سب نے منظور کیا اور ٣ھجری میں قریش کے ساتھ بہت سے دوسرے قبائل بھی مدینہ پر چڑھائی کرنے کی غرض سے نکل پڑے حتیٰ کہ عورتیں بھی ساتھ آئیں تاکہ موقع پیش آنے پر مردوں کو غیرت دلا کر پسپائی سے روک سکیں۔ جس وقت یہ تین ہزار کا لشکر اسلحہ وغیرہ سے پوری طرح آراستہ ہو کر مدینہ سے تین چار میل ادھر جبل احد کے قریب خیمہ زن ہوا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے مشورہ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے مبارک یہ تھی کہ مدینہ کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ بہت آسانی اور کامیابی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے، اس کی تائید آپ کے ایک خواب سے ہوئی تھی، یہ پہلا موقع تھا کہ رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی سے بھی رائے لی گئی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے سے موافق تھی۔ مگر بعض پر جوش مسلمان جنہیں بدر کی شرکت نصیب نہ ہوئی تھی اور شوقِ شہادت بیچین کر رہا تھا، مصِر ہوئے کہ ہم کو باہر نکل کر مقابلہ کرنا چاہیے، تاکہ دشمن ہماری بزدلی اور کمزوری کا گمان نہ کرے، کثرت رائے اسی طرف ہوگئی۔ اسی حیص و بیص میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکان کے اندر تشریف لے گئے اور زرہ پہن کر باہر آئے اس وقت بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کے خلاف مدینہ سے باہر لڑائی کرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا نہ ہو تو یہیں تشریف رکھئے۔ فرمایا ایک پیغمبر کو سزاوار نہیں کہ جب وہ زرہ پہن لے اور ہتھیار لگا لے پھر بدون قتال کئے بدن سے اتارے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر تشریف لے گئے تقریبا ایک ہزار آدمی آپ کے ساتھ تھے مگر عبد اللہ بن ابی تقریبا تین سو آدمیوں کو (جن میں بعض مسلمان بھی تھے) ساتھ لے کر راستہ سے یہ کہتا ہوا واپس ہوگیا کہ جب میرا مشورہ نہ مانا اور دوسروں کی رائے پر عمل کیا تو ہم کو لڑنے کی ضرورت نہیں، کیوں خواہ مخواہ اپنے کو ہلاکت میں ڈالیں۔ بعض بزرگوں نے سمجھایا بھی مگر کچھ اثر نہیں ہوا، آخر آپ کل سات سو سپاہیوں کی جمعیت لیکر میدانِ جنگ میں پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفسِ نفیس فوجی قاعدہ سے صفیں ترتیب دیں۔ ہر ایک دستہ کو اسکے مناسب ٹھکانہ پر بٹھلایا۔ اور فرمایا جب تک میں حکم نہ دوں کوئی قتال نہ کرے۔ اسی اثناء میں عبد اللہ بن ابی کی علیٰحدگی سے دو قبیلے بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے دلوں میں کچھ کمزوری پیدا ہوئی۔ مسلمانوں کی قلیل جمعیت پر نظر کر کے دل چھوڑنے لگے اور خیال آیا کہ میدان سے سرک جائیں مگر حق تعالٰی نے ان کی مدد اور دستگیری فرمائی، دلوں کو مضبوط کر دیا اور سمجھا دیا کہ مسلمانوں کا بھروسہ تنہا خدائے واحد کی اعانت و نصرت پر ہونا چاہیے تعداد اور سامان وغیرہ کوئی چیز نہیں جب وہ مظفر و منصور کرنا چاہے تو سب سامان رکھے رہ جاتے ہیں اور غیبی تائید سے فتح مبین حاصل ہو جاتی ہے جیسے معرکہ بدر میں ہوا۔ پس مسلمانوں کو صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے تاکہ اس کی طرف سے مزید انعام و احسان ہو اور مزید شکر گذاری کا موقع ملے۔ (غزوہ بدر کی پوری تفصیل سورۃ الانفال میں آئے گی۔ وہاں کے فوائد ملاحظہ کئے جائیں) (تنبیہ)۔ دو فرقوں سے مراد وہی بنو سلمہ و بنو حارثہ ہیں۔ گو اس آیت میں ان پر چشمک کی گئی، لیکن ان میں کے بعض بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ اس آیت کا نازل نہ ہونا ہم کو پسند نہ تھا کیونکہ "وَاللّٰہُ وَلِیُّھُمَا" کی بشارت عتاب سے بڑھ کر ہے۔(123)
إِذ تَقولُ لِلمُؤمِنينَ أَلَن يَكفِيَكُم أَن يُمِدَّكُم رَبُّكُم بِثَلٰثَةِ ءالٰفٍ مِنَ المَلٰئِكَةِ مُنزَلينَ(124)
ف۳ یعنی جو آسمان سے خاص اسی کام کے لئے اتارے گئے ہوں۔ اکثر علماء کے نزدیک راجح یہ ہے کہ یہ واقعہ غزوۂ بدر کا ہے جب کفار کی جمعیت اور تیاری دیکھ کر مسلمانوں کو تشویش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلّی کے لئے ایسا فرمایا۔ چنانچہ فرشتوں کی کمک آسمان سے پہنچی۔ سورۃ الانفال میں اس کا مفصل بیان آئے گا۔ وہیں نزول ملائکہ کی حکمت اور عدد ملائکہ کے ظاہری تعارض پر کلام کیا جائے گا۔(124)
بَلىٰ ۚ إِن تَصبِروا وَتَتَّقوا وَيَأتوكُم مِن فَورِهِم هٰذا يُمدِدكُم رَبُّكُم بِخَمسَةِ ءالٰفٍ مِنَ المَلٰئِكَةِ مُسَوِّمينَ(125)
ف٤ یعنی تین ہزار بیشک کافی ہیں تاہم اگر تم نے صبر و استقلال کا ثبوت دیا اور تقویٰ اختیار کر کے نافرمانی سے بچتے رہے، اور کفار کی فوج ایکدم تم پر ٹوٹ پڑی تو تین ہزار کے بجائے پانچ ہزار فرشتے بھیج دیئے جائیں گے جن کی خاص علامتیں ہونگی اور انکے گھوڑوں پر بھی خاص نشان ہوں گے۔ چونکہ بدر میں کفار کی تعداد ایک ہزار تھی اولاَ اس کے مناسب ایک ہزار فرشتوں کا وعدہ فرمایا جیسا کہ سورۂ انفال میں آئے گا۔ پھر مسلمانوں کی گھبراہٹ دور فرمانے کے لئے تعداد تگنی کر دی گئی کیونکہ کفار کی تعداد مسلمانوں سے تگنی تھی۔ اس کے بعد شعبی کی روایت کے موافق جب مسلمانوں کو یہ خبر ملی کہ کُرز بن جابر بڑی کمک لے کر مشرکین کی مدد کے لئے آرہا ہے تو ایک جدید اضطراب پیدا ہوگیا، اس وقت مزید تسکین و تقویت کے لئے وعدہ فرمایا کہ اگر تم صبر و تقویٰ سے کام لو گے تو ہم پانچ ہزار فرشتے تمہاری مدد کو بھیج دیں گے۔ اگر مشرکین کی کمک بالکل ناگہانی طور پر آپہنچے تب بھی فکر مت کرو۔ خدا تعالٰی بروقت تمہاری مدد کرے گا۔ شاید پانچ ہزار کا عدد اس لئے رکھا ہو کہ لشکر کے پانچ حصے ہوتے تھے۔ ہر ایک حصہ کو ایک ایک ہزار کی کمک پہنچا دی جائے گی۔ چونکہ کُرز بن جابر کی مدد مشرکین کو نہ پہنچی۔ اس لئے بعض کہتے ہیں کہ پانچ ہزار کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ کیونکہ وہ یَاْتُوْکُمْ مِّنْ فَوْرِھِمْ ھٰذَاٰ پر معلق تھا۔ اور بعض کا قول ہے کہ پانچ ہزار فرشتے نازل ہوئے۔ واللہ اعلم۔ اس کا مزید بیان "انفال" میں دیکھو۔(125)
وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلّا بُشرىٰ لَكُم وَلِتَطمَئِنَّ قُلوبُكُم بِهِ ۗ وَمَا النَّصرُ إِلّا مِن عِندِ اللَّهِ العَزيزِ الحَكيمِ(126)
ف۵ یعنی یہ سب غیبی سامان غیر معمولی طور پر ظاہری اسباب کی صورت میں محض اس لئے مہیا کئے گئے کہ تمہارے دلوں سے اضطراب و ہراس دُور ہو کر سکون و اطمینان نصیب ہو۔ ورنہ خدا کی مدد کچھ ان چیزوں پر محدود و مقصور نہیں، نہ اسباب کی پابند ہے وہ چاہے تو محض اپنی زبردست قدرت سے بدون فرشتوں کے تمہارا کام بنا دے۔ یا بدون تمہارے توسط کے کفار کو خائب و خاسر کر دے۔ یا ایک فرشتہ سے وہ کام لے لے جو پانچ ہزار سے لیا جاتا ہے۔ فرشتے بھی جو امداد پہنچاتے ہیں وہ اسی خداوند قدیر کی قدرت و مشیت سے پہنچا سکتے ہیں، مستقل طاقت و اختیار کسی میں نہیں۔ آگے یہ اُسکی حکمت ہے کہ کس موقع پر کس قسم کے اسباب و وسائط سے کام لینا مناسب ہے، تکوینیات کے رازوں کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ حدیث از مطرب ومے گو و راز دہر کمتر جو کہ کس نکشو دونکشاید بحکمت ایں معمارا(126)
لِيَقطَعَ طَرَفًا مِنَ الَّذينَ كَفَروا أَو يَكبِتَهُم فَيَنقَلِبوا خائِبينَ(127)
ف۱ یعنی فرشتے بھیجنے سے مقصود تمہاری مدد کرنا تھا کہ تمہارے دل مضبوط ہوں اور خدا کی طرف سے بشارت و طمانینت پا کر پوری دلجمعی اور پامردی کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرو۔ جس سے یہ غرض تھی کہ کافروں کا زور ٹوٹے۔ ان کا بازو کٹ جائے۔ پُرانے نامور مشرک کچھ مارے جائیں، کچھ ذلیل و خوار ہوں، اور بقیۃ السیف بہزار رسوائی و ناکامی واپس ہوجائیں چنانچہ ایسا ہی واقعہ ہوا۔ ستَر سردار جن میں اس اُمت کا فرعون ابوجہل بھی تھا، مارے گئے، ستر قید ہوئے۔ اور نہایت ذلیل و نامراد ہو کر مکہ واپس جانا پڑا۔(127)
لَيسَ لَكَ مِنَ الأَمرِ شَيءٌ أَو يَتوبَ عَلَيهِم أَو يُعَذِّبَهُم فَإِنَّهُم ظٰلِمونَ(128)
ف۲ احد میں ستر صحابہ شہید ہوئے تھے جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، مشرکین نے نہایت وحشیانہ طور پر شہداء کا مثلہ کیا (ناک کان وغیرہ کاٹے) پیٹ چاک کئے حتیٰ کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا جگر نکال کر ہندہ نے چبایا۔ مفصل واقعہ آگے آئے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس لڑائی میں چشم زخم پہنچا۔ سامنے کے چار دانتوں میں سے نیچے کا دایاں دانت شہید ہوا، خود کی کڑیاں ٹوٹ کر رخسار مبارک میں گھس گئیں، پیشانی زخمی ہوئی اور بدن مبارک لہو لہان تھا اسی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں لڑکھڑایا اور زمین پر گر کر بیہوش ہوگئے۔ کفار نے مشہور کر دیا۔ اِنَّ مُحَمَّدَا قَدْ قُتِلَ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم مارے گئے) اس سے مجمع بدحواس ہوگیا، تھوڑی دیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آیا۔ اس وقت زبان مبارک سے نکلا کہ "وہ قوم کیونکر فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کا چہرہ زخمی کیا جو انکو خدا کی طرف بلاتا تھا"۔ مشرکین کے وحشیانہ شدائد و مظالم کو دیکھ کر آپ سے نہ رہا گیا اور ان میں سے چند نامور اشخاص کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعاء کا ارادہ کیا یا شروع کر دی جس میں ظاہر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر طرح حق بجانب تھے مگر حق تعالٰی کو منظور تھا کہ آپ اپنے منصب جلیل کے موافق اس سے بھی بلند مقام پر کھڑے ہوں، وہ ظلم کرتے جائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہیں۔ جتنی بات کا آپ کو حکم ہے (مثلاَ دعوت و تبلیغ اور جہاد وغیرہ) اسے انجام دیتے رہیں۔ باقی انکا انجام خدا کے حوالے کریں۔ اس کی جو حکمت ہوگی کرے گا آپکی بد دعا سے وہ ہلاک کر دیئے جائیں کیا اسکی جگہ یہ بہتر نہیں کہ ان ہی دشمنوں کو اسلام کا محافظ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جاں نثار عاشق بنا دیا جائے؟ چنانچہ جن لوگوں کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بددعا کرتے تھے، چند روز کے بعد سب کو خدا تعالٰی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر لا ڈالا، اور اسلام کا جانباز سپاہی بنا دیا۔ غرض لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِشَیْءٌ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو متنبہ فرمایا کہ بندہ کو اختیار نہیں نہ اس کا علم محیط ہے اللہ تعالٰی جو چاہے سو کرے۔ اگرچہ کافر تمہارے دشمن ہیں اور ظلم پر ہیں۔ لیکن چاہے وہ ان کو ہدایت دے چاہے عذاب کرے تم اپنی طرف سے بد دعا نہ کرو۔ بعض روایات سے ان آیات کی شانِ نزول کچھ اور معلوم ہوتی ہے۔ یہاں تفصیل کی گنجائش نہیں فتح الباری میں کئی جگہ اس پر شافی کلام کیا ہے فلیر اجع۔(128)
وَلِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۚ يَغفِرُ لِمَن يَشاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشاءُ ۚ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ(129)
ف۳ یعنی تمام زمین آسمان میں خدائے واحد کا اختیار چلتا ہے سب اسی کی مملوک و مخلوق ہے۔ وہ جس کو مناسب جانے ایمان کی توفیق دیکر بخش دے اور جسے چاہے کفر کی سزا میں پکڑ لے۔ شاید اخیر میں "وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ" فرما کر اشارہ کر دیا کہ ان لوگوں کو جن کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بد دُعا کرنا چاہتے تھے، ایمان دے کر مغفرت و رحمت کا موردبنایا جائے گا۔(129)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَأكُلُوا الرِّبوٰا۟ أَضعٰفًا مُضٰعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ(130)
ف٤ جنگِ احد کے تذکرہ میں سود کی ممانعت کا ذکر بظاہر بے تعلق معلوم ہوتا ہے۔ مگر شاید یہ مناسبت ہو کہ اوپر "اِذْ ھَمَّتْ طَّائِفَتَانِ مِنْکُمْ اَنْ تَفْشَلاَ" میں "جہاد" کے موقع پر نامردی دکھلانے کا ذکر ہوا تھا۔ اور سود کھانے سے نامردی پیدا ہوتی ہے۔ دو سبب سے۔ ایک یہ کہ مال حرام کھانے سے توفیق طاعت کم ہوتی ہے اور بڑی طاعت جہاد ہے، دوسرے یہ کہ سود لینا انتہائی بخل پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ سود خوار چاہتا ہے کہ اپنا مال جتنا دیا تھا لے لے اور بیچ میں کسی کا کام نکلا، یہ بھی مفت نہ چھوڑے۔ اس کا علیٰحدہ معاوضہ وصول کرے۔ تو جس کو مال میں اتنا بخل ہو کہ خدا کے لئے کسی کی ذرہ بھر ہمدردی نہ کر سکے وہ خدا کی راہ میں جان کب دے سکے گا۔ ابو حیان نے لکھا ہے کہ اس وقت یہود وغیرہ سے مسلمانوں کے سودی معاملات اکثر ہوتے رہتے تھے۔ اسی لئے ان سے تعلقات قطع کرنا مشکل تھا چونکہ پہلے لَاتَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً کا حکم ہو چکا ہے، اور احد کے قصہ میں بھی منافقین یہود کی حرکات کو بہت دخل تھا اس لئے متنبہ فرمایا کہ سودی لین دین ترک کرو ورنہ اس کی وجہ سے خواہی نہ خواہی ان ملعونوں کے ساتھ تعلقات قائم رہیں گے جو آیندہ نقصان اٹھانے کا موجب ہوں گے۔ ف۵ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تھوڑا سود لے لیا کرو۔ دونے پر دونا مت لو۔ بات یہ ہے کہ جاہلیت میں سود اسی طرح لیا جاتا تھا جیسے ہمارے یہاں کے بنیئے لیتے ہیں۔ سَو روپے دیے اور سود در سود بڑھاتے چلے گئے یہاں تک کہ سو روپے میں ہزاروں روپیہ کی جائیدادوں کے مالک بن بیٹھے۔ اسی صورت کو یہاں اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً سے تعبیر فرمایا۔ یعنی اول تو سود مطلقاَ حرام و قبیح اور یہ صورت تو بہت ہی زیادہ شنیع و قبیح ہے جیسے کوئی کہے میاں مسجد میں گالیاں مت بکو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسجد سے باہر بکنے کی اجازت ہے بلکہ مزید تقبیح و تشنیع کے موقع پر ایسے الفاظ بولتے ہیں۔ ف ٦  یعنی سود کھانے میں بھلا نہیں، بلکہ تمہارا بھلا اس میں ہے کہ خدا سے ڈر کر سود کھانا چھوڑ دو۔(130)
وَاتَّقُوا النّارَ الَّتى أُعِدَّت لِلكٰفِرينَ(131)
ف۷ یعنی سود کھانے والا دوزخ میں جاتا ہے جو اصل میں کافروں کے واسطے بنائی گئی تھی۔(131)
وَأَطيعُوا اللَّهَ وَالرَّسولَ لَعَلَّكُم تُرحَمونَ(132)
ف۸ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننا بھی فی الحقیقت خدا ہی کا حکم ماننا ہے کیونکہ اس نے حکم دیا ہے کہ ہم پیغمبر کا حکم مانیں اور ان کی پوری اطاعت کریں۔ جن احمقوں کو اطاعت اور عبادت میں فرق نظر نہ آیا وہ اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو شرک کہنے لگے۔ چونکہ جنگ احد میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی تھی (جیسا کہ آگے آتا ہے) اس لئے آیندہ کے لئے ہوشیار کیا جاتا ہے۔ کہ خدا کی رحمت اور فلاح و کامیابی کی امید اسی وقت ہوسکتی ہے جب اللہ و رسول کے کہنے پر چلو۔(132)
۞ وَسارِعوا إِلىٰ مَغفِرَةٍ مِن رَبِّكُم وَجَنَّةٍ عَرضُهَا السَّمٰوٰتُ وَالأَرضُ أُعِدَّت لِلمُتَّقينَ(133)
ف۹ یعنی ان اعمال و اخلاق کی طرف جھپٹو جو حسبِ وعدہ خداوندی اسکی بخشش اور جنت کا مستحق بناتے ہیں۔ ف۱۰ چونکہ آدمی کے دماغ میں آسمان و زمین کی وسعت سے زیادہ اور کوئی وسعت نہیں آسکتی تھی اس لئے سمجھانے کے لئے جنت کے عرض کو اسی سے تشبیہ دی گئی۔ گویا بتلا دیا کہ جنت کا عرض زیادہ سے زیادہ سمجھو پھر جب عرض اتنا ہے تو طول کا حال خدا جانے کیا کچھ ہوگا۔(133)
الَّذينَ يُنفِقونَ فِى السَّرّاءِ وَالضَّرّاءِ وَالكٰظِمينَ الغَيظَ وَالعافينَ عَنِ النّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ المُحسِنينَ(134)
ف۱۱ یعنی نہ عیش و خوشی میں خدا کو بھولتے ہیں نہ تنگی و تکلیف کے وقت خرچ کرنے سے جان چراتے ہیں۔ ہر موقع پر اور ہر حال میں حسب مقدرت خرچ کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ سود خوروں کی طرح بخیل اور پیسہ کے پجاری نہیں۔ گویا جانی جہاد کے ساتھ مالی جہاد بھی کرتے ہیں۔ ف۱۲ غصہ کو پی جانا ہی بڑا کمال ہے اس پر مزید یہ کہ لوگوں کی زیادتی یا غلطیوں کو بالکل معاف کر دیتے ہیں، اور نہ صرف معاف کر تے ہیں، بلکہ احسان اور نیکی سے پیش آتے ہیں۔ غالباَ پہلے جن لوگوں کی نسبت بددعا کرنے سے روکا تھا، یہاں ان کے متعلق غصہ دبانے اور عفو و در گزر سے کام لینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نیز جن بعض صحابہ نے جنگِ احد میں عدول حکمی کی تھی، یا فرار اختیار کیا تھا، انکی تقصیر معاف کرنے اور شان عفوو احسان اختیار کرنے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔(134)
وَالَّذينَ إِذا فَعَلوا فٰحِشَةً أَو ظَلَموا أَنفُسَهُم ذَكَرُوا اللَّهَ فَاستَغفَروا لِذُنوبِهِم وَمَن يَغفِرُ الذُّنوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَم يُصِرّوا عَلىٰ ما فَعَلوا وَهُم يَعلَمونَ(135)
ف۱۳ یعنی کھلم کھلا کوئی بے حیائی کا کام کر گزریں جس کا اثر دوسروں تک متعدی ہو یا کسی اور بری حرکت کے مرتکب ہوجائیں جس کا ضرر ان ہی کی ذات تک محدود رہے۔(135)
أُولٰئِكَ جَزاؤُهُم مَغفِرَةٌ مِن رَبِّهِم وَجَنّٰتٌ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها ۚ وَنِعمَ أَجرُ العٰمِلينَ(136)
ف١ یعنی خدا کی عظمت و جلال، اسکے عذاب و ثواب، اسکے حقوق و احکام، اسکی عدالت کی پیشی اور وعد و عید کو دل سے یاد کر کے زبان سے بھی اسکی یاد شروع کر دی۔ خوفزدہ اور مضطرب ہو کر اسے پکارا، اسکے سامنے سر بسجود ہوئے (جیسا کہ" صلوٰۃ التوبہ" کی حدیث میں آیا ہے) پھر جو شرعی طریقہ گناہوں کے معاف کرانے کا ہے اس کے موافق معافی اور بخشش طلب کی۔ مثلاَ اہل حقوق کے حقوق ادا کئے یا ان سے معاف کرائے اور خدا کے سامنے توبہ و استغفار کیا (کیونکہ اصل بخشنے والا تو وہی ہے) جو گناہ بمقتضائے بشریت ہوگیا تھا اس پر اڑے نہیں۔ بلکہ یہ جان کر کہ حق تعالٰی بندوں کی سچی توبہ قبول کرتا ہے، ندامت و اقلاع کے ساتھ توبہ کرتے ہوئے اس کے حضور میں حاضر ہوگئے۔ یہ لوگ بھی دوسرے درجہ کے متقین میں ہیں جن کے لئے جنت تیار کی گئی ہے۔ حق تعالٰی ان تائبین کے گناہ معاف کر کے اپنی جنت میں جگہ دے گا اور جو توبہ یا اور عمل نیک کئے ہوں گے ان کا بہترین معاوضہ ملے گا۔(136)
قَد خَلَت مِن قَبلِكُم سُنَنٌ فَسيروا فِى الأَرضِ فَانظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُكَذِّبينَ(137)
ف٢ یعنی تم سے پہلے بہت قومیں اور ملتیں گزر چکیں۔ بڑے بڑے واقعات پیش آچکے، خدا تعالٰی کی عادت بھی بار بار معلوم کرا دی گئی کہ ان میں سے جنہوں نے انبیاء علیہم السلام کی عداوت اور حق کی تکذیب پر کمر باندھی اور خدا اور رسول کی تصدیق و اطاعت سے منہ پھیر کر حرام خوری اور ظلم و عصیان پر اصرار کرتے رہے، انکا کیسا برا انجام ہوا۔ یقین نہ ہو تو زمین میں چل پھر کر انکی تباہی کے آثار دیکھ لو جو آج بھی تمہارے ملک کے قریب موجود ہیں۔ ان واقعات میں غور کرنے سے معرکہ "احد" کے دونوں حریفوں کو سبق لینا چاہیئے۔ یعنی مشرکین جو پیغمبر خدا کی عداوت میں حق کو کچلنے کے لئے نکلے اپنی تھوڑی سے عارضی کامیابی پر مغرور نہ ہوں کہ انکا آخری انجام بجز ہلاکت و بربادی کے کچھ نہیں۔ اور مسلمان کفار کی سختیوں اور وحشیانہ دراز دستیوں یا اپنی ہنگامی پسپائی سے ملول و مایوس نہ ہوں کہ آخر حق غالب و منصور ہو کر رہے گا۔ قدیم سے سنت اللہ یہ ہی ہے جو ٹل نہیں سکتی۔(137)
هٰذا بَيانٌ لِلنّاسِ وَهُدًى وَمَوعِظَةٌ لِلمُتَّقينَ(138)
ف٣ یعنی عام لوگوں کے کان کھولنے کے لئے قرآن میں یہ مضامین بیان کئے جا رہے ہیں جن کو سن کر خدا سے ڈرنے والے ہدایت و نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ باقی جس کے دل میں خدا کا خوف نہ ہو ناصحانہ تنبیہات سے کیا منتفع ہو سکتا ہے۔(138)
وَلا تَهِنوا وَلا تَحزَنوا وَأَنتُمُ الأَعلَونَ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ(139)
ف٤ یہ آیات جنگ احد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ جب مسلمان مجاہدین زخموں سے چور چور ہو رہے تھے، انکے بڑے بڑے بہادروں کی لاشیں آنکھوں کے سامنے مثلہ کی ہوئی پڑی تھیں۔ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی اشقیاء نے مجروح کر دیا تھا اور بظاہر کامل ہزیمت کے سامان نظر آرہے تھے۔ اس ہجوم شدائد و یاس میں خداوند قدوس کی آواز سنائی دی۔" وَلَا تَھِنُوا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ اْلاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ" دیکھنا! سختیوں سے گھبرا کر دشمنان خدا کے مقابلہ میں نامردی اور سُستی پاس نہ آنے پائے، پیش آمدہ حوادث و مصائب پر غمگین ہو کر بیٹھ رہنا مومن کا شیوہ نہیں۔ یاد رکھو آج بھی تم ہی معزز و سر بلند ہو کہ حق کی حمایت میں تکلیفیں اٹھا رہے ہو اور جانیں دے رہے ہو اور یقینا آخری فتح بھی تمہاری ہے انجام کار تم ہی غالب ہو کر رہو گے۔ بشرطیکہ ایمان و ایقان کے راستہ پر مستقیم رہو۔ اور حق تعالٰی کے وعدوں پر کامل وثوق رکھتے ہوئے اطاعت رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے قدم پیچھے نہ ہٹاؤ اس خدائی آواز نے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیا اور پژمردہ جسموں میں حیات تازہ پھونک دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کفار جو بظاہر غالب آچکے تھے، زخم خوردہ مجاہدین کے جوابی حملہ کی تاب نہ لا سکے۔ اور سر پر پاؤں رکھ کر میدان سے بھاگے۔(139)
إِن يَمسَسكُم قَرحٌ فَقَد مَسَّ القَومَ قَرحٌ مِثلُهُ ۚ وَتِلكَ الأَيّامُ نُداوِلُها بَينَ النّاسِ وَلِيَعلَمَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا وَيَتَّخِذَ مِنكُم شُهَداءَ ۗ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ الظّٰلِمينَ(140)
ف۵ مسلمانوں کو جنگ میں جو شدید نقصان اٹھانا پڑا تھا، اس سے سخت شکستہ خاطر تھے۔ مزید برآں منافقین اور دشمنوں کے طعنے سن کر اور زیادہ اذیت پہنچتی تھی۔ کیونکہ منافقین کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے پیغمبر ہوتے تو یہ نقصانات کیوں پہنچتے یا تھوڑی دیر کے لئے بھی عارضی ہزیمت کیوں پیش آتی۔ حق تعالٰی نے ان آیات میں مسلمانوں کو تسلی دی کہ اگر اس لڑائی میں تم کو زخم پہنچا یا تکلیف اٹھانی پڑی تو اس طرح کے حوادث فریق مقابل کو پیش آچکے ہیں۔ احد میں تمہارے پچھتر آدمی شہید اور بہت سے زخمی ہوئے، تو ایک سال پہلے بدر میں انکے ستّر جہنم رسید اور بہت سے زخمی ہو چکے ہیں اور خود اس لڑائی میں بھی ابتداً انکے بہت آدمی مقتول و مجروح ہوئے جیسا کہ" وَلَقَدْ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعْدَہ، اِذْ تَحُسُّوْنَہُمْ بِاِذْنِہٖ " کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ پھر بدر میں انکے ستّر آدمی ذلت کے ساتھ قید ہوئے۔ تمہارے ایک فرد نے بھی یہ ذلت قبول نہ کی۔ بہرحال اپنے نقصان کا ان کے نقصان سے مقابلہ کرو تو غم و افسوس کا کوئی موقع نہیں۔ نہ انکے لئے کبر و غرور سے سراٹھانے کی جگہ ہے۔ باقی ہماری عادت ہمیشہ یہ رہی ہے کہ سختی نرمی، دکھ سکھ' تکلیف و راحت کے دنوں کو لوگوں میں ادل بدل کرتے رہتے ہیں جس میں بہت سی حکمتیں مضمر ہیں۔ پھر جب وہ دکھ اٹھا کر باطل کی حمایت میں ہمت نہیں ہارے، تو تم حق کی حمایت میں کیونکر ہمت ہار سکتے ہو۔ ف ٦  یعنی سچے ایمان والوں کو منافقوں سے الگ کر دے۔ دونوں کا رنگ صاف صاف اور جدا جدا نظر آنے لگے۔ ف۷ "ظالمین" سے مراد اگر مشرکین ہیں جو "اُحد" میں فریق مقابل تھے تو یہ مطلب ہوگا کہ ان کی عارضی کامیابی کا سبب یہ نہیں کہ خدا ان سے محبت کرتا ہے۔ بلکہ دوسرے اسباب ہیں۔ اور منافقین مراد ہوں جو عین موقع پر مسلمانوں سے الگ ہوگئے تھے، تو یہ بتلا دیا کہ خدا کے نزدیک مبغوض تھے، اس لئے ایمان و شہادت کے مقام سے انہیں دور پھینک دیا گیا۔(140)
وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا وَيَمحَقَ الكٰفِرينَ(141)
ف۸ یعنی فتح اور شکست بدلتی چیز ہے اور مسلمانوں کو شہادت کا مقام بلند عطا فرمانا تھا۔ مومن و منافق کا پرکھنا، مسلمانوں کو سدھانا، یا ذنوب سے پاک کرنا اور کافروں کو آہستہ آہستہ مٹا دینا منظور تھا، کہ جب وہ اپنے عارضی غلبہ اور وقتی کامیابی پر مسرور و مغرور ہو کر کفر و طغیان میں بیش از بیش غلو کریں گے۔ خدا کے قہر و غضب کے اور زیادہ مستحق ہوں گے۔ اس واسطے یہ عارضی ہزیمت مسلمانوں کو ہوئی۔ نہیں تو اللہ کافروں سے راضی نہیں ہے۔(141)
أَم حَسِبتُم أَن تَدخُلُوا الجَنَّةَ وَلَمّا يَعلَمِ اللَّهُ الَّذينَ جٰهَدوا مِنكُم وَيَعلَمَ الصّٰبِرينَ(142)
ف۱ یعنی جنت کے جن اعلیٰ مقامات اور بلند درجات پر خدا تم کو پہنچانا چاہتا ہے کیا تم سمجھتے ہو کہ بس یونہی آرام سے وہاں جا پہنچیں گے اور خدا تمہارا امتحان لیکر یہ نہ دیکھے گا کہ تم میں کتنے خدا کی راہ میں لڑنے والے اور کتنے لڑائی کے وقت ثابت قدم رہنے والے ہیں ایسا خیال نہ کرنا۔ مقامات عالیہ پر وہی لوگ فائز کئے جاتے ہیں جو خدا کے راستہ میں ہر طرح کی سختیاں جھیلنے اور قربانیاں پیش کرنے کے لئے تیار ہوں۔ یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔۔ ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں(142)
وَلَقَد كُنتُم تَمَنَّونَ المَوتَ مِن قَبلِ أَن تَلقَوهُ فَقَد رَأَيتُموهُ وَأَنتُم تَنظُرونَ(143)
ف ٦  جو صحابہ بدر کی شرکت سے محروم رہ گئے تھے شہدائے بدر کے فضائل سن سن کر تمنا کیا کرتے تھے کہ خدا پھر کوئی موقع لائے جو ہم بھی خدا کی راہ میں مارے جائیں اور شہادت کے مراتب حاصل کریں۔ انہی حضرات نے احد میں یہ مشورہ دیا تھا کہ مدینہ سے باہر نکل کر لڑنا چاہیے ان کو فرمایا کہ جس چیز کی پہلے تمنا رکھتے تھے وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آچکی اب آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے ہٹنا کیسا؟ حدیث میں ہے کہ لقاءِ عَدو کی تمنا مت کرو اور جب ایسا موقع پیش آجائے تو ثابت قدم رہو۔(143)
وَما مُحَمَّدٌ إِلّا رَسولٌ قَد خَلَت مِن قَبلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِي۟ن ماتَ أَو قُتِلَ انقَلَبتُم عَلىٰ أَعقٰبِكُم ۚ وَمَن يَنقَلِب عَلىٰ عَقِبَيهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيـًٔا ۗ وَسَيَجزِى اللَّهُ الشّٰكِرينَ(144)
ف۳ واقعہ یہ ہے کہ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس نقشۂ جنگ قائم کیا۔ تمام صفوف درست کرنے کے بعد پہاڑ کا ایک درّہ باقی رہ گیا جہاں سے اندیشہ تھا کہ دشمن لشکرِ اسلام کے عقب پر حملہ آور ہو جائے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس تیر اندازوں کو جن کے سردار حضرت عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ تھے، مامور فرما کر تاکید کر دی کہ ہم خواہ کسی حالت میں ہوں تم یہاں سے مت ٹلنا۔ مسلمان غالب ہوں یا مغلوب، حتٰی کہ اگر تم دیکھو کہ پرندے ان کا گوشت نوچ کر کھا رہے ہیں تب بھی اپنی جگہ مت چھوڑنا۔ وانا لن نزال غالبین ماثبتم مکانکم (بغوی) ہم برابر اسوقت تک غالب رہیں گے جب تک تم اپنی جگہ قائم رہو گے۔ الغرض فوج کو پوری ہدایت دینے کے بعد جنگ شروع کی گئی۔ مَیدانِ کارزار گرم تھا، غازیانِ اسلام بڑھ بڑھ کر جوہر شجاعت دکھا رہے تھے۔ ابودجانہ، علی مرتضیٰ اور دوسرے مجاہدین کی بسالت و بے جگری کے سامنے مشرکین قریش کی کمریں ٹوٹ چکی تھیں۔ ان کو راہِ فرار کے سوا اب کوئی راستہ نظر نہ آتا تھا کہ حق تعالٰی نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا۔ کفار کو شکست فاش ہوئی وہ بدحواس ہو کر بھاگے انکی عورتیں جو غیرت دلانے کو آئی تھیں، پائنچے چڑھا کر اِدھر ادھر بھاگتی نظر آئیں۔ مجاہدین نے مالِ غنیمت پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ یہ منظر جب تیر اندازوں نے دیکھا تو سمجھے کہ اب فتح کامل ہو چکی دشمن بھاگ رہا ہے۔ یہاں بے کار ٹھہرنا کیا ضروری ہے چل کر دشمن کا تعاقب کریں اور غنیمت میں حصہ لیں۔ عبد اللہ بن جبیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ان کو یاد دلایا وہ سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا اصلی منشا ہم پورا کر چکے ہیں۔ یہاں ٹھہرنے کی حاجت نہیں۔ یہ خیال کر کے سب غنیمت پر جا پڑے۔ صرف عبد اللہ بن جبیر اور ان کے گیارہ ساتھی درّہ کی حفاظت پر باقی رہ گئے۔ مشرکین کے سواروں کا رسالہ خالد بن ولید کے زیر کمان تھا (جو اس وقت تک "حضرت" اور "رضی اللہ عنہ" نہیں بنے تھے) انہوں نے پلٹ کر درّہ کی طرف سے حملہ کر دیا۔ دس بارہ تیر انداز ڈھائی سو سواروں کی یلغار کو کہاں روک سکتے تھے، تاہم عبد اللہ بن جبیر اور انکے رفقاء نے مدافعت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا اور اسی میں جان دیدی۔ مسلمان مجاہدین اپنے عقب سے مطمئن تھے کہ ناگہاں مشرکین کا رسالہ ان کے سروں پر جا پہنچا اور سامنے سے مشرکین کی فوج جو بھاگی جا رہی تھی، پیچھے پلٹ پڑی، مسلمان دونوں طرف سے گھِر گئے اور بہت زور کارن پڑا، کتنے ہی مسلمان شہید اور زخمی ہوئے۔ اسی افراتفری میں ابن قمیہ نے ایک بھاری پتھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پھینکا جس سے دندان مبارک شہید اور چہرہ انور زخمی ہوا۔ ابن قمیہ نے چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرے، مگر مصعب بن عمیر نے (جن کے ہاتھ میں اسلام کا جھنڈا تھا) مدافعت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زخم کی شدت سے زمین پر گرے۔ کسی شیطان نے آواز لگا دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے، یہ سنتے ہی مسلمانوں کے ہوش خطا ہوگئے، اور پاؤں اکھڑ گئے۔ بعض مسلمان ہاتھ پاؤں چھوڑ کر بیٹھ رہے۔ بعض ضعفاء کو خیال ہوا کہ مشرکین کے سردار ابو سفیان سے امن حاصل کرلیں۔ بعض منافقین کہنے لگے کہ جب محمد قتل کر دیئے گئے تو اسلام چھوڑ کر اپنے قدیم مذہب میں واپس چلے جانا چاہیئے۔ اس وقت انس بن مالک کے چچا انس ابن النضر نے کہا کہ اگر محمد مقتول ہوگئے تو ربِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو مقتول نہیں ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمہارا زندہ رہنا کس کام کا ہے؟ جس چیز پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قتل ہوئے تم بھی اسی پر کٹ مرو، اور جس چیز پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جان دے دی ہے اسی پر تم بھی جان دے دو۔ یہ کہہ کر آگے بڑھے، حملہ کیا، لڑے اور مارے گئے رضی اللہ عنہ۔ اسی اثناء میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی اِلَیَّ عِبَادَاللّٰہِ اَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ (اللہ کے بندوں ادھر آؤ! میں خدا کا پیغمبر ہوں) کعب بن مالک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان کر چلائے "یامعشر المسلمین" مسلمانو! بشارت حاصل کرو! رسول اللہ یہاں موجود ہیں" آواز کا سُننا تھا کہ مسلمان اُدھر ہی سمٹنا شروع ہوگئے۔ تیس صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو کر مدافعت کی اور مشرکین کی فوج کو منتشر کر دیا۔ اس موقع پر سعد بن ابی وقاص، طلحہ، ابو طلحہ اور قتادہ بن النعمان وغیرہ نے بڑی جانبازیاں دکھلائیں۔ آخر مشرکین میدان چھوڑ کر چلے جانے پر مجبور ہوئے اور یہ آیات نازل ہوئیں۔ وَمَامُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ الخ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی آخر خدا تو نہیں۔ ایک رُسول ہیں۔ ان سے پہلے کتنے رسول گزر چکے، جن کے بعد ان کے متبعین نے دین کو سنبھالا اور جان و مال فدا کر کے قائم رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا سے گزر نا بھی کچھ اچنبھا نہیں۔ اس وقت نہ سہی، اگر کسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی، یا شہید کر دیئے گئے، تو کیا تم دین کی خدمت و حفاظت کے راستہ سے اُلٹے پاؤں پھر جاؤ گے اور جہاد فی سبیل اللہ ترک کر دو گے (جیسے اس وقت محض خبر قتل سُن کر بہت سے لوگ حوصلہ چھوڑ کر بیٹھنے لگے تھے) یا منافقین کے مشورہ کے موافق العیاذباللہ سرے سے دین کو خیر باد کہہ دوگے۔ تم سے ایسی اُمید ہرگز نہیں۔ اور کسی نے ایسا کیا تو اپنا ہی نقصان کرے گا۔ خُدا کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ وہ تمہاری مدد کا محتاج نہیں بلکہ تم شکر کرو اگر اس نے اپنے دین کی خدمت میں لگا لیا منت منہ کہ خدمت سلطاں ہمی کنم منت شناس ازوکہ بخدمت گذاشتت اور شکر یہی ہے کہ ہم بیش از بیش خدمت دین میں مضبوط و ثابت قدم ہوں۔ اس میں اشارہ نکلتا ہے حضرت کی وفات پر بعضے لوگ دین سے پھر جائیں گے اور جو قائم رہیں گے ان کو بڑا ثواب ہے اسی طرح ہوا کہ بہت لوگ حضرت کے بعد مرتد ہوئے۔ صدیق اکبر نے ان کو پھر مسلمان کیا اور بعض مارے گئے۔ (تنبیہ) " قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ" میں "خلت" "خلو" سے مشتق ہے جس کے معنی "ہو چکنے" گزر نے اور چھوڑ کرچلے جانے کے ہیں۔ اس کے لئے موت لازم نہیں جیسے فرمایا وَاِذَالَقُوْکُمْ قَالُوا اٰمَنَّا وَاِذَاخَلَوْا عَضُّوا عَلَیْکُمُ الْاَنَامِلَ یعنی جب تمہیں چھوڑ کر علیٰحدہ ہوتے ہیں۔ نیز "الرُسل" میں لام استغراق نہیں، لام جنس ہے، کیونکہ اثبات مُدعا میں استغراق کو کوئی دخل نہیں۔ بعینہٖ اسی قسم کا جُملہ حضرت مسیح کی نسبت فرمایا مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ۔ کیا لام استغراق لے کر اس کے یہ معنی ہوں گے کہ تمام پیغمبر مسیح سے پہلے گزر چکے کوئی ان کے بعد آنیوالا نہ رہا۔ لامحالہ لام جنس لینا ہوگا۔ وہ ہی یہاں لیا جائے اسکی تائید اس سے ہوتی ہے کہ عبد اللہ بن مسعود کے مصحف اور ابن عباس کی قرات میں "الرسل" نہیں "رسل" نکرہ ہے باقی "خلو" کی تفصیل میں صرف موت یا قتل کا ذکر اس لئے کیا کہ موت طبعی بہرحال آنے والی تھی اور قتل کی خبر اس وقت مشہور کی گئی تھی۔ اور چونکہ صورت موت کا وقوع میں آنا مقدر تھا اسلئے اس کو قتل پر مقدم کیا گیا۔ ابُو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب صحابہ کے مجمع میں یہ پوری آیۃ "الشاکرین" تک بلکہ آیت اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّھُمْ مَیِّتُوْنَ بھی پڑھی تو لوگ "قد خلت" اور"افائن مات" اور "انک میت" سے "خلو" اور "موت" کے جواز و عدم استبعاد پر متنبہ ہوگئے، جو صدیق اکبر کی غرض تھی۔ موت کے واقع ہو چکنے پر نہ صدیق اکبر نے اس سے استدلال کیا نہ کسی اور نے سمجھا۔ اگر یہ الفاظ موت واقع ہو چکنے کی خبر دیتے تو چاہیے تھا کہ نزول آیت کے وقت یعنی وفات کے سات برس پہلے ہی سمجھ لیا جاتا کہ آپکی وفات ہو چکی ہے۔ اس تقریر سے بعض محرفین کی سب تحریفات ہباء منثوراَ ہو جاتی ہیں۔ بخوف تطویل ہم زیادہ بسط نہیں کر سکتے۔ اہل علم کے لئے اشارے کر دیئے ہیں۔(144)
وَما كانَ لِنَفسٍ أَن تَموتَ إِلّا بِإِذنِ اللَّهِ كِتٰبًا مُؤَجَّلًا ۗ وَمَن يُرِد ثَوابَ الدُّنيا نُؤتِهِ مِنها وَمَن يُرِد ثَوابَ الءاخِرَةِ نُؤتِهِ مِنها ۚ وَسَنَجزِى الشّٰكِرينَ(145)
ف٤ جب کوئی شخص بدون حکم الہٰی کے نہیں مر سکتا خواہ کتنے ہی اسباب موت کے جمع ہوں اور ہر ایک کی موت وقت مقرر پر آنی ضرور ہے خواہ بیماری یا قتل سے یا کسی اور سبب سے، تو خدا پر توکل کرنے والوں کو اس سے گھبرانا نہیں چاہیئے۔ اور نہ کسی بڑے یا چھوٹے کی موت کو سُن کر مایوس و بد دل ہو کر بیٹھ رہنا چاہیئے۔ ف۵ یعنی اگر چاہیں کَمَا قَالَ عَجَّلْنَا لَہ، فِیْہَا مَانَشَآءُ لِمَنْ نُرِیْدُ (بنی اسرائیل، رکوع ٢، آیت:١٨) ف ٦  یعنی اس کو آخرت میں یقینا بدلہ ملے گا۔ اس آیت کے پہلے جُملہ میں ان لوگوں پر تعریض ہے جنہوں نے مال غنیمت کی طمع میں عدول حکمی کی۔ اور دوسرے میں اُنکا ذکر ہے جو برابر فرمانبرداری پر ثابت قدم رہے۔ ف۷ یعنی جو لوگ اس دین پر ثابت قدم رہیں گے ان کو دین بھی ملے گا اور دنیا بھی، لیکن جو کوئی اس نعمت کی قدر جانے (کذافی الموضح)(145)
وَكَأَيِّن مِن نَبِىٍّ قٰتَلَ مَعَهُ رِبِّيّونَ كَثيرٌ فَما وَهَنوا لِما أَصابَهُم فى سَبيلِ اللَّهِ وَما ضَعُفوا وَمَا استَكانوا ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصّٰبِرينَ(146)
ف۸ یعنی تم سے پہلے بہت اللہ والوں نے نبیوں کے ساتھ ہو کر کفار سے جنگ کی ہے۔ جس میں بہت تکلیفیں اور سختیاں اٹھائیں لیکن ان شدائد و مصائب سے نہ ان کے ارادوں میں سُستی ہوئی، نہ ہمت ہارے، نہ کمزوری دکھائی، نہ دشمن کے سامنے دبے۔ اللہ تعالٰی ایسے ثابت قدم رہنے والوں سے خاص محبت کرتا ہے۔ یہ ان مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی اور غیرت دلائی جنہوں نے اُحد میں کمزوری دکھلائی تھی۔ حتیٰ کہ بعض نے یہ کہدیا تھا کہ کسی کو بیچ میں ڈال کر ابو سفیان سے امن حاصل کر لیا جائے مطلب یہ ہے کہ جب پہلی اُمتوں کے حق پرستوں نے مصائب و شدائد میں اس قدر صبر و استقلال کا ثبوت دیا اس اُمت کو (جو خیرالامم ہے) ان سے بڑھ کر صبر و استقامت کا ثبوت دینا چاہیے۔(146)
وَما كانَ قَولَهُم إِلّا أَن قالوا رَبَّنَا اغفِر لَنا ذُنوبَنا وَإِسرافَنا فى أَمرِنا وَثَبِّت أَقدامَنا وَانصُرنا عَلَى القَومِ الكٰفِرينَ(147)
ف١ یعنی مصائب و شدائد کے ہجوم میں نہ گھبراہٹ کی کوئی بات کہی نہ مقابلہ سے ہٹ جانے اور دشمن کی اطاعت قبول کرنے کا ایک لفظ زبان سے نکالا۔ بولے تو یہ ہی بولے کہ خدا وندا! تو ہم سب کی تقصیرات اور زیادتیوں کو معاف فرما دے ہمارے دلوں کو مضبوط و مستقل رکھ، تاکہ ہمارا قدم جادۂ حق سے نہ لڑکھڑائے اور ہم کو کافروں کے مقابلہ میں مدد پہنچا وہ سمجھے کہ بسا اوقات مصیبت کے آنے میں لوگوں کے گناہوں اور کوتاہیوں کو دخل ہوتا ہے اور ہم میں کون دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس سے کبھی کوئی تقصیر نہ ہوئی ہوگی۔ بہرحال بجائے اس کے کہ مصیبت سے گھبرا کر مخلوق کی طرف جھکتے اپنے خالق و مالک کی طرف جھکے۔(147)
فَـٔاتىٰهُمُ اللَّهُ ثَوابَ الدُّنيا وَحُسنَ ثَوابِ الءاخِرَةِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ المُحسِنينَ(148)
ف٢ یعنی دنیا میں ان کی فتح و ظفر کا سکہ بٹھا دیا، وجاہت و قبول عطا کیا اور آخرت کا جو بہترین ثواب ملا اس کا تو پوچھنا ہی کیا ہے۔ دیکھو جو لوگ خدا تعالٰی سے اپنا معاملہ ٹھیک رکھیں اور نیک کام کریں ان سے خدا ایسی محبت کرتا ہے اور ایسا پھل دیتا ہے۔(148)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِن تُطيعُوا الَّذينَ كَفَروا يَرُدّوكُم عَلىٰ أَعقٰبِكُم فَتَنقَلِبوا خٰسِرينَ(149)
ف٣ یعنی جنگ اُحد میں مسلمانوں کے دل ٹوٹے تو کافروں اور منافقوں نے موقع پایا۔ بعض الزام اور طعنے دینے لگے۔ بعض خیر خواہی کے پردہ میں سمجھانے لگے تاکہ آیندہ لڑائی پر دلیری نہ کریں۔ حق تعالٰی خبردار کرتا ہے کہ دشمن کا فریب مت کھاؤ اگر خدا نکردہ اُنکے چکموں میں آؤ گے تو جس ظلمت سے خدا نے نکالا ہے پھر اُلٹے پاؤں اسی میں جا گرو گے اور رفتہ رفتہ دین حق کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے گا۔ جس کا نتیجہ دنیا و آخرت کے خسارے کے سوا کچھ نہیں۔ پہلے اللہ والوں کی راہ پر چلنے کی ترغیب دی تھی۔ یہاں بد باطن شریروں کا کہا ماننے سے منع کیا تاکہ مسلمان ہوشیار رہیں، اور اپنا نفع نقصان سمجھ سکیں۔(149)
بَلِ اللَّهُ مَولىٰكُم ۖ وَهُوَ خَيرُ النّٰصِرينَ(150)
ف٤ لہٰذا اسی کا کہنا ماننا چاہیے اور اسی کی مدد پر بھروسہ رکھنا چاہیے جس کی مدد پر خدا ہو اس کو کیا حاجت ہے کہ دشمنانِ خدا کی مدد کا منتظر رہے یا ان کے سامنے گردنِ اطاعت خم کرے۔ حدیث میں ہے کہ اُحد سے واپسی کے وقت ابُوسفیان نے "ہُبل" کی جے پکاری اور کہا "لنا العزیٰ ولا عزیٰ لکم" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جواب دو۔ "اللّٰہ مولانا ولا مولٰی لکم"۔(150)
سَنُلقى فى قُلوبِ الَّذينَ كَفَرُوا الرُّعبَ بِما أَشرَكوا بِاللَّهِ ما لَم يُنَزِّل بِهِ سُلطٰنًا ۖ وَمَأوىٰهُمُ النّارُ ۚ وَبِئسَ مَثوَى الظّٰلِمينَ(151)
ف ٥ یعنی یہ تو تمہارا امتحان تھا۔ اب ہم کافروں کے دلوں میں ایسی ہیبت اور رعب ڈال دیں گے کہ وہ باوجود تمہارے زخمی اور کمزور ہونے اور نقصان اُٹھانے کے تم پر پلٹ کر حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکیں۔ چنانچہ یہ ہی ہوا۔ ابُو سفیان اپنی فوج لے کر بے نیل و مرام میدان سے بھاگا۔ راستہ میں ایک مرتبہ خیال بھی آیا کہ ایک تھکی ماندہ زخم خوردہ فوج کو ہم یوں ہی آزاد چھوڑ کر چلے آئے۔ چلو پھر واپس ہو کر ان کا کام تمام کر دیں، مگر ہیبت حق اور رعُب اسلام کے اثر سے ہمت نہ ہوئی کہ اس خیال کو عمل میں لا سکے۔ برخلاف اس کے مسلمان مجاہدین نے "حمراء الاسد" تک ان کا تعاقب کیا اور اس کے بعد کبھی موقع نہ دیا کہ اُحد کے واقعات کا اعادہ ہو سکے۔ (تنبیہ) مشرک خواہ کتنا ہی زور دکھلائے اس کا دل کمزور ہوتا ہے کیونکہ وہ کمزور مخلوق کی عبادت کرتا ہے۔ بس جیسا معبود ویسے عابد ضَعُفَ الَطالِبُ وَ الْمَطْلُوب (الحج رکوع١٠) اور ویسے بھی اصلی زور و قوت تو فی الحقیقت خدا کی تائید و امداد سے ہے جس سے کفار مشرکین یقینا محروم ہیں۔ اسی لئے جب تک مسلمان، مسلمان رہے، ہمیشہ کفار ان سے خائف و مرعوب رہے۔ بلکہ ہم آج تک مشاہدہ کرتے ہیں کہ باوجود مسلمانوں کے سخت انتشار و تشتّت اور ضعف و تنزل کے دنیا کی تمام کافر طاقتیں اس سوئے ہوئے زخمی شیر سے ڈرتی رہتی ہیں۔ اور ہمیشہ فکر رکھتی ہیں کہ یہ قوم بیدار ہونے نہ پائے۔ علمی اور مذہبی مناظروں میں بھی اسلام کا یہ ہی رعب مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا رعُب ایک مہینہ کی مسافت سے دشمنوں کے دل میں ڈال دیا جاتا ہے بیشک اسی کا اثر ہے جو اُمت مسلمہ کو ملا۔ فللّٰہ الحمدعلیٰ ذلک ولہ المنۃ۔(151)
وَلَقَد صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعدَهُ إِذ تَحُسّونَهُم بِإِذنِهِ ۖ حَتّىٰ إِذا فَشِلتُم وَتَنٰزَعتُم فِى الأَمرِ وَعَصَيتُم مِن بَعدِ ما أَرىٰكُم ما تُحِبّونَ ۚ مِنكُم مَن يُريدُ الدُّنيا وَمِنكُم مَن يُريدُ الءاخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُم عَنهُم لِيَبتَلِيَكُم ۖ وَلَقَد عَفا عَنكُم ۗ وَاللَّهُ ذو فَضلٍ عَلَى المُؤمِنينَ(152)
ف ٦  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ اگر صبرو استقلال سے کام لو گے، حق تعالٰی تم کو غالب کرے گا۔ چنانچہ خدا نے اپنا وعدہ ابتدائے جنگ میں سچا کر دکھایا، انہوں نے خدا کے حکم سے کفار کو مار مار کر ڈھیر کر دیا۔ سات یا نو آدمی جنکے ہاتھ میں مشرکین کا جھنڈا یکے بعد دیگرے دیا گیا تھا، سب وہیں کھیت ہوئے آخر بدحواس ہو کر بھاگے مسلمان فتح و کامرانی کا چہرہ صاف دیکھ رہے تھے اور اموالِ غنیمت ان کے سامنے پڑے تھے کہ تیر اندازوں کی غلطی سے خالد بن الولید نے فائدہ اٹھایا اور یک بیک لڑائی کا نقشہ بدل دیا جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ ف٧ یعنی پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو حکم تیر اندازوں کو دیا تھا اس کا خلاف کیا اور آپس میں جھگڑنے لگے، کوئی کہتا تھا کہ ہم کو یہیں جمے رہنا چاہیے، اکثر نے کہا اب یہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں چل کر غنیمت حاصل کرنی چاہیئے۔ آخر اکثر تیر انداز اپنی جگہ چھوڑ کر چلے گئے۔ مشرکین نے اسی راستہ سے دفعۃَ حملہ کر دیا۔ دوسری طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی خبر مشہور ہوگئی۔ ان چیزوں نے قلوب میں کمزوری پیدا کر دی جس کا نتیجہ فشل و جبن کی صورت میں ظاہر ہوا۔ گویا فشل کا سبب تنازع اور تنازع کا سبب عصیان تھا۔ ف۸ یعنی بعضے لوگ دنیاوی متاع (مال غنیمت) کی خوشی میں پھسل پڑے۔ جس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑا۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول سے پہلے میں نے کبھی محسوس نہ کیا تھا کہ ہم میں کوئی آدمی دنیا کا طالب بھی ہے۔ ف۹ یعنی یا تو وہ تمہارے سامنے سے بھاگ رہے تھے، اب تم ان کے آگے سے بھاگنے لگے۔ تمہاری غلطی اور کوتاہی سے معاملہ اُلٹا اور اس میں بھی تمہاری آزمائش تھی۔ تاکہ پکے اور کچے صاف ظاہر ہوجائیں۔ ف۱۰ یعنی جو غلطی ہوئی، خدا تعالٰی اُسے بالکل معاف کر چکا۔ اب کسی کو جائز نہیں کہ ان پر اس حرکت کی وجہ سے طعن و تشنیع کرے۔ ف۱۱ کہ ان کی کوتاہیوں کو معاف کر دیتا ہے اور عتاب میں بھی لطف و شفقت کا پہلو ملحوظ رکھتا ہے۔(152)
۞ إِذ تُصعِدونَ وَلا تَلوۥنَ عَلىٰ أَحَدٍ وَالرَّسولُ يَدعوكُم فى أُخرىٰكُم فَأَثٰبَكُم غَمًّا بِغَمٍّ لِكَيلا تَحزَنوا عَلىٰ ما فاتَكُم وَلا ما أَصٰبَكُم ۗ وَاللَّهُ خَبيرٌ بِما تَعمَلونَ(153)
ف۱ یعنی تم بھاگ کر پہاڑوں اور جنگلوں کو چڑھے جا رہے تھے اور گھبراہٹ میں پیچھے مُڑ کر بھی کسی کو نہ دیکھتے تھے۔ اس وقت خدا کا پیغمبر بدستور اپنی جگہ کھڑا ہوا تم کو اس قبیح حرکت سے روکتا تھا اور اپنی طرف بُلا رہا تھا۔ مگر تم تشویش و اضطراب میں آواز کہاں سننے والے تھے۔ آخر جب کعب بن مالک چلائے تب لوگوں نے سُنا اور واپس آکر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہوگئے۔ ف۲ یعنی تم نے رسُول کا دل تنگ کیا اس کے بدلے تم پر تنگی آئی۔ غم کا بدلہ غم ملا۔ تاکہ آگے کو یاد رکھو کہ ہر حالت میں رسول کے حکم پر چلنا چاہیے خواہ کوئی نفع کی چیز مثلاَ غنیمت وغیرہ ہاتھ سے جائے، یا کچھ بلا سامنے آئے۔ (تنبیہ) اکثر مفسرین نے فَاَثَابَکُمْ غَمًّابِغَمٍّ کے معنی یوں کئے ہیں کہ خدا نے تم کو غم پر غم دیا۔ یعنی ایک غم تو ابتدائی فتح و کامیابی کے فوت ہونے کا تھا۔ دوسرا اپنے آدمیوں کے مارے جانے اور زخمی ہونے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر شہادت مشہور ہونے سے پہنچا، بعض نے یہ مطلب لیا ہے کہ فتح و کامرانی کے فوت ہونے، غنیمت کے ہاتھ سے نکل جانے اور نقصان جانی و بدنی اُٹھانے کا جو غم تھا، اس کے عوض میں ایک ایسا بڑا غم دیدیا گیا۔ جس نے پہلے سب غموں کو بھلا دیا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقتول ہونے کی افواہ۔ اسی غم کی شدت میں آگے پیچھے کا کچھ ہوش نہ رہا حتٰی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بھی نہ سنی، جیسا کہ ایک طرف ہمہ تن ملتفت ہونے کے وقت دوسری طرف ذہول و غفلت پیش آجاتی ہے۔ ف۳ یعنی تمہارے احوال اور نیتوں کو جانتا ہے اور اسی کے موافق معاملہ کرتا ہے۔(153)
ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيكُم مِن بَعدِ الغَمِّ أَمَنَةً نُعاسًا يَغشىٰ طائِفَةً مِنكُم ۖ وَطائِفَةٌ قَد أَهَمَّتهُم أَنفُسُهُم يَظُنّونَ بِاللَّهِ غَيرَ الحَقِّ ظَنَّ الجٰهِلِيَّةِ ۖ يَقولونَ هَل لَنا مِنَ الأَمرِ مِن شَيءٍ ۗ قُل إِنَّ الأَمرَ كُلَّهُ لِلَّهِ ۗ يُخفونَ فى أَنفُسِهِم ما لا يُبدونَ لَكَ ۖ يَقولونَ لَو كانَ لَنا مِنَ الأَمرِ شَيءٌ ما قُتِلنا هٰهُنا ۗ قُل لَو كُنتُم فى بُيوتِكُم لَبَرَزَ الَّذينَ كُتِبَ عَلَيهِمُ القَتلُ إِلىٰ مَضاجِعِهِم ۖ وَلِيَبتَلِىَ اللَّهُ ما فى صُدورِكُم وَلِيُمَحِّصَ ما فى قُلوبِكُم ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ(154)
ف٤ یعنی اس جنگ میں جن کو شہید ہونا تھا ہو چکے اور جن کو ہٹنا تھا، ہٹ گئے اور جو میدان میں باقی رہے ان میں سے مخلص مسلمانوں پر حق تعالٰی نے ایک دم غنودگی طاری کر دی، لوگ کھڑے کھڑے اونگھنے لگے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے کئی مرتبہ تلوار چھوٹ کر زمین پر گری، یہ ایک حسی اثر اس باطنی سکون و اطمینان کا تھا جو ایسے ہنگامہ رستخیز میں مومنین کے قلوب پر محض خدا کے فضل و رحمت سے وارد ہوا اس کے بعد دشمن کا خوف و ہراس سب کافور ہوگیا۔ یہ کیفیت عین اس وقت پیش آئی جب لشکرِ مجاہدین میں نظم و ضبط قائم نہ رہا تھا۔ بیسیوں لاشیں خاک و خون میں تڑپ رہی تھیں، سپاہی زخموں سے چُور ہو رہے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی افواہ نے رہے سہے ہوش و حواس کھو دیئے تھے، گویا یہ سونا بیدار ہونے کا پیام تھا۔ غنودگی طاری کر کے ان کی ساری تھکن دُور کر دی گئی اور متنبہ فرما دیا کہ خوف و ہراس اور تشویش و اضطراب کا وقت جاچکا۔ اب مامون و مطمئن ہو کر اپنا فرض انجام دو۔ فوراَ صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو کر لڑائی کا محاذ قائم کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد مطلع صاف تھا۔ دشمن سامنے سے بھاگتا نظر آیا۔ (تنبیہ) ابن مسعود فرماتے ہیں کہ عین لڑائی کے موقع پر نُعاس (اونگھ) کا طاری ہونا اللہ کی طرف سے (فتح و ظفر کی علامت ہے) حضرت علی کی فوج کو "صفین" میں ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ ف۵ یہ بُزدل اور ڈرپوک منافقین ہیں جن کو نہ اسلام کی فکر تھی نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی، محض اپنی جان بچانے کی فکر میں ڈوبے ہوئے تھے کہ کہیں ابو سفیان کی فوج نے دوبارہ حملہ کر دیا تو ہمارا کیا حشر ہوگا۔ اس خوف و فکر میں اُونگھ یا نیند کہاں۔ ف ٦  یعنی وہ اللہ کے وعدے کہاں گئے، معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا قصہ تمام ہوا۔ اب پیغمبر اور مسلمان اپنے گھر واپس جانے والے نہیں سب یہیں کام آئیں گے۔ جیسے دوسری جگہ فرمایا۔ بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُوْمِنُونَ اِلٰی اَھْلِیْھِمْ اَبَدًا (فتح، رکوع ٢ آیت نمبر١٢) ف۷ یعنی کچھ بھی ہمارا کام بنا رہے گا یا بالکل بگڑ چکا۔ یا یہ کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والوں کے ہاتھ میں کچھ بھی فتح و ظفر آئی۔ یا یہ معنی کہ اللہ نے جو چاہا سو کیا، ہمارا یا کسی کا کیا اختیار؟ یہ تو الفاظ کے ظاہری معنی تھے لیکن جو دل میں نیت تھی وہ آگے آتی ہے۔ ف۸ یعنی منافقین کا یہ قول ھَل لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ "کلمۃ حق اریدبھا الباطل "ہے۔ بیشک یہ صحیح ہے کہ تمہارے ہاتھ میں کچھ نہیں، سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہے بنائے یا بگاڑے، غالب کرے یا مغلوب، آفت بھیجے یا راحت، کامیاب کرے یا ناکام۔ ایک ہی واقعہ کو ایک قوم کے حق میں رحمت اور دوسری کے لئے قمت بنا دے، سب اس کے قبضہ میں ہے۔ مگر تم اس قول سے اپنے دل میں جو معنی لے رہے ہو خدا تمہارے دل کے چور سے واقف ہے، جسے آگے بیان کیا جائے گا۔ ف۹ اصل چور دل کا یہ تھا ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ کہہ کر دل میں یہ مطلب لیتے تھے اور پکے مسلمانوں سے علیٰحدہ ہو کر آپس میں بھی کہتے ہونگے کہ میاں شروع میں ہماری رائے نہ مانی۔ چند جوشیلے ناتجربہ کاروں کے کہنے پر مدینہ سے باہر لڑنے چلے گئے، آخر منہ کی کھائی۔ اگر کچھ کام ہمارے اختیار میں ہوتا اور ہمارے مشورہ پر عمل کیا جاتا تو اس قدر نقصان کیوں اٹھانا پڑتا ہماری برادری کے اتنے آدمی مارے گئے، کیوں مارے جاتے اکثر منافقین نسبا انصار مدینہ کی برادری میں شامل تھے، اس لئے ما قتلنا ٰھہُنا میں ان کے مارے جانے کو اپنا مارا جانا کہا) یا یہ مطلب ہے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے کے موافق فتح و ظفر اور غلبہ مسلمانوں کے لئے ہوتا تو یہ قتل و جرح کی مصیبت ہم پر کیوں ٹوٹتی (تنبیہ) بظاہر یہ باتیں منافقین نے مدینہ میں کہیں۔ کیونکہ عبد اللہ بن ابی جنگ شروع ہونے سے پیشتر اپنی جمعیت کو ساتھ لیکر واپس ہوگیا تھا۔ اس صورت میں " ھٰھنا" کا اشارہ قرب کی وجہ سے احد کی طرف ہوگا۔ لیکن بعض روایات سے ایک منافق معتب بن قشیر کا میدان جنگ میں یہ کلمات کہنا ثابت ہوتا ہے۔ تو شاید بعض منافقین عبد اللہ بن ابی کے ہمراہ کسی مصلحت سے واپس نہ ہوئے ہوں گے۔ واللہ اعلم۔ ف۱۰ یعنی اس طعن و تشنیع یا حسرت و افسوس سے کچھ حاصل نہیں۔ اللہ تعالٰی نے ہر ایک کی جو اجل، موت کی جگہ سبب اور وقت لکھ دیا ہے کبھی ٹل نہیں سکتا۔ اگر تم گھروں میں گھسے بیٹھے رہتے اور فرض کرو تمہاری ہی رائے سنی جاتی تب بھی جن کی قسمت میں احد کے قریب جس جس پڑاؤ پر مارا جانا لکھا جا چکا تھا وہ کسی نہ کسی سبب سے ضرور ادھر نکلتے اور وہیں مارے جاتے، یہ خدا کا انعام ہے کہ جہاں ماراجانا مقدر تھا مارے گئے، مگر اللہ کے راستہ میں خوشی کے ساتھ بہادروں کی موت شہید ہوئے۔ پھر اس پر پچھتانے اور افسوس کرنے کا کیا موقع ہے؟ مردان خدا کو اپنے پر قیاس مت کرو۔ ف۱۱ یعنی اللہ تعالٰی تو دلوں کے پوشیدہ بھید جانتا ہے، اس سے کسی کی کوئی حالت پوشیدہ نہیں۔ مقصود یہ تھا کہ تم سب کو ایک آزمائش میں ڈالا جائے۔ تاکہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے وہ باہر نکل پڑے، امتحان کی بھٹی میں کھرا کھوٹا الگ ہوجائے مخلصین کامیابی کا صلہ پائیں اور ان کے قلوب آئندہ کے لئے وساوس اور کمزوریوں سے پاک و صاف ہوں۔ منافقین کا اندرونی نفاق کھل جائے اور لوگ صاف طور پر ان کے خبث باطن کو سمجھنے لگیں۔(154)
إِنَّ الَّذينَ تَوَلَّوا مِنكُم يَومَ التَقَى الجَمعانِ إِنَّمَا استَزَلَّهُمُ الشَّيطٰنُ بِبَعضِ ما كَسَبوا ۖ وَلَقَد عَفَا اللَّهُ عَنهُم ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ حَليمٌ(155)
ف۱ مخلصین سے بھی بعض اوقات کوئی چھوٹا بڑا گناہ سرزد ہو جاتا ہے اور جس طرح ایک طاعت سے دوسری طاعت کی توفیق بڑھتی ہے ایک گناہ کی نحوست سے شیطان کو موقع ملتا ہے کہ دوسری غلطیوں اور لغزشوں کی طرف آمادہ کرے۔ جنگ احد میں بھی جو مخلص مسلمان ہٹ گئے تھے، کسی پچھلے گناہ کی شامت سے شیطان نے بہکا کر ان کا قدم ڈگمگا دیا چنانچہ ایک گناہ تو یہ ہی تھا کہ تیر اندازوں کی بڑی تعداد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی پابندی نہ کی مگر خدا کا فضل دیکھو کہ اس کی سزا میں کوئی تباہ کن شکست نہیں دی بلکہ ان حضرات پر اب کوئی گناہ بھی نہیں رہا حق تعالٰی کلیۃًان کی تقصیر معاف کر چکا ہے۔ کسی کو طعن و ملامت کا حق نہیں۔(155)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَكونوا كَالَّذينَ كَفَروا وَقالوا لِإِخوٰنِهِم إِذا ضَرَبوا فِى الأَرضِ أَو كانوا غُزًّى لَو كانوا عِندَنا ما ماتوا وَما قُتِلوا لِيَجعَلَ اللَّهُ ذٰلِكَ حَسرَةً فى قُلوبِهِم ۗ وَاللَّهُ يُحيۦ وَيُميتُ ۗ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ(156)
ف۲ یعنی تم ان کافر منافقوں کی طرح ایسے لغو خیالات کو زنہار دل میں جگہ نہ دینا کہ گھر میں بیٹھے رہتے تو نہ موت آتی، نہ مارے جاتے۔ ف۳ چونکہ منافقین ظاہر میں مسلمان بنے ہوئے تھے، اس لئے مسلمانوں کو اپنا بھائی کہا، یا اس لئے کہ نسبی طور پر وہ اور انصار مدینہ برادری کے بھائی بند تھے۔ اور چونکہ یہ بات خیر خواہی و ہمدردی کے پیرایہ میں کہتے تھے اس لئے لفظ اخوان سے تعبیر کیا گیا۔ ف٤ یعنی خواہ مخواہ باہر نکل کر مرے۔ ہمارے پاس اپنے گھر پڑے رہتے تو کیوں مرتے یا کیوں مارے جا تے۔ یہ کہنا اس غرض سے تھا کہ سننے والے مسلمانوں کے دل میں حسرت و افسوس پیدا ہو کہ واقعی بے سوچے سمجھے نکل کھڑے ہونے اور لڑائی کی آگ میں کود پڑنے کا یہ نتیجہ ہوا۔گھر رہتے تو یہ مصیبت کیوں دیکھنی پڑتی، مگر مسلمان ایسے کچے نہ تھے جو ان چکموں میں آجاتے، ان باتوں سے الٹا منافقین کا بھرم کھل گیا بعض مفسرین نے لِیَجْعَلَ اللّٰہُ ذٰلِکَ حَسْرَۃً فِیْ قُلُوْبِھِمْ میں "لام عاقبت" لے کر یوں معنی کئے ہیں کہ منافقین کے زبان و دل پر یہ باتیں اس لئے جاری کی گئیں کہ خدا ان کو ہمیشہ اسی حسرت و افسوس کی آگ میں جلتا چھوڑ دے اور دوسری حسرت ان کو یہ رہے کہ مسلمان ہماری طرح نہ ہوئے اور ہماری باتوں پر کسی نے کان نہ دھرا، اس طرح لیجعل کا تعلق لا تکونوا الخ سے بھی ہوسکتا ہے۔ ف۵ یعنی مارنا جِلانا اللہ کا کام ہے۔ بہتیرے آدمی عمر بھر سفر کرتے اور لڑائیوں میں جاتے ہیں، مگر موت گھر میں بستر پر آتی ہے اور کتنے ہی آدمی گھر کے کونے میں پڑے رہنے کے خوگر ہیں، لیکن اخیر میں خدا کوئی سبب کھڑا کر دیتا ہے کہ وہ باہر نکلیں اور وہیں مریں یا مارے جائیں۔ بندہ کی روک تھام سے یہ چیز ٹلنے اور بدلنے والی نہیں۔ حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ نے و فات کے وقت فرمایا کہ میرے بدن پر ایک بالشت جگہ تلوار یا نیزہ کے زخم سے خالی نہیں، مگر آج میں ایک اونٹ کی طرح (گھر میں) مر رہا ہوں فَلَا نَامَتْ اَعْیُنُ الْجُبَنَاءِ (خدا کرے یہ دیکھ کر نامردوں کی آنکھیں کھلیں) ف ٦  کہ منافقین و کفار کس راستہ پر جا رہے ہیں اور مسلمان کہاں تک انکے تشبہ اور پیروی سے علیٰحدہ رہتے ہیں۔ ہر ایک کو اس کی حالت کے منا سب بدلہ دیگا۔(156)
وَلَئِن قُتِلتُم فى سَبيلِ اللَّهِ أَو مُتُّم لَمَغفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَحمَةٌ خَيرٌ مِمّا يَجمَعونَ(157)
۷٦ یعنی اسی کی راہ میں۔(157)
وَلَئِن مُتُّم أَو قُتِلتُم لَإِلَى اللَّهِ تُحشَرونَ(158)
ف۸ یعنی فرض کرو تم سفر یا جہاد میں نہ نکلے اور فی الحال موت سے بچ گئے مگر ضروری ہے کہ کبھی نہ کبھی مروگے یا مارے جاؤ گے پھر بہرحال خدا کے سامنے سب کو جمع ہونا ہے۔ اس وقت پتہ چل جائے گا کہ جو خوش قسمت اللہ کی راہ میں نیک کام کرتے ہوئے مرے یا مارے گئے تھے ان کو خدا تعالٰی کی بخشش و مہربانی سے کیسا وافر حصہ ملا، جس کے سامنے تمہاری دنیا کی کمائی اور جمع کی ہوئی دولت و ثروت سب ہیچ ہے۔ الحاصل اگر منافقین ہی کا قول تسلیم کر لیا جائے کہ گھر سے نہ نکلتے تو نہ مارے جاتے، تب بھی سراسر خسارہ تھا، کیونکہ اس صورت میں اس موت سے محروم رہ جاتے جس پر ایسی ایسی لا کھوں زندگیاں قربان کی جاسکتی ہیں، بلکہ جو حقیت میں موت نہیں حیات ابدی ہے فنا فی اللہ کی تہ میں بقاء کا راز مضمر ہے جو جینا ہے تو مرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔(158)
فَبِما رَحمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُم ۖ وَلَو كُنتَ فَظًّا غَليظَ القَلبِ لَانفَضّوا مِن حَولِكَ ۖ فَاعفُ عَنهُم وَاستَغفِر لَهُم وَشاوِرهُم فِى الأَمرِ ۖ فَإِذا عَزَمتَ فَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُتَوَكِّلينَ(159)
ف۹ مسلمانوں کو ان کی کوتاہیوں پر متنبہ فرمانے اور معافی کا اعلان سنانے کے بعد نصیحت کی تھی کہ آئندہ اس مار آستین جماعت کی باتوں سے فریب مت کھانا۔ اس آیت میں ان کے عفو تقصیر کی تکمیل کی گئی ہے چونکہ جنگ احد میں سخت خوفناک غلطی اور زبردست کوتاہی مسلمانوں سے ہوئی تھی، شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل خفا ہوا ہوگا اور چاہا ہوگا کہ آئندہ ان سے مشو رہ لے کر کام نہ کیا جائے، اس لئے حق تعالٰی نے نہایت عجیب و غریب پیرایہ میں ان کی سفارش کی اول اپنی طرف سے معافی کا اعلان کر دیا، کیونکہ خدا کو معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ اور رنج خالص اپنے پروردگار کے لئے ہوتا ہے، پھر فرمایا فَبِمَارَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ یعنی اللہ کی کتنی بڑی رحمت آپ پر اور ان پر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر خوش اخلاق اور نرم خو بنا دیا۔ کوئی اور ہوتا تو خدا جانے ایسے سخت معاملہ میں کیا رویہ اختیار کرتا، یہ سب کچھ اللہ ہی کی مہربانی ہے کہ تجھ جیسا شفیق، نرم دل پیغمبر ان کو مل گیا۔ فرض کیجئے اگر خدا نہ کردہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل سخت ہوتا اور مزاج میں شدت ہوتی تو یہ قوم آپ کے گرد کہاں جمع رہ سکتی تھی، ان سے کوئی غلطی ہوتی اور آپ سخت پکڑتے تو شرم و دہشت کے مارے پاس بھی نہ آسکتے اس طرح یہ لوگ بڑی خیر و سعادت سے محروم رہ جاتے اور جمعیت اسلامی کا شیرازہ بکھر جاتا، لیکن حق تعالٰی نے آپ کو نرم دل اور نرم خو بنایا۔ آپ اصلاح کے ساتھ ان کی کوتاہیوں سے اغماض کرتے رہتے ہیں۔ سو یہ کوتاہی بھی جہاں تک آپ کے حقوق کا تعلق ہے معاف کر دیجئے اور گو خدا اپنا حق معاف کرچکا ہے، تاہم ان کی مزید دلجوئی اور تطییب خاطر کے لئے ہم سے بھی ان کے لئے معافی طلب کریں تاکہ یہ شکستہ دل آپ کی خو شنودی اور انبساط محسوس کر کے بالکل مطمئن و منشرح ہوجائیں اور صرف معاف کر دینا ہی نہیں آیندہ بدستور ان سے معاملات میں مشورہ لیا کریں، مشاورت کے بعد جب ایک بات طے ہو جائے اور پختہ ارادہ کر لیا جائے، پھر خدا پر توکل کر کے اس کو بلا پس و پیش کر گزرے۔ خدا تعالٰی متوکلین کو پسند کرتا اور ان کے کام بنا دیتا ہے (تنبیہ) حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا۔ " عزم" کیا ہے؟ فرمایا مشاورۃ اہل الرائے ثم اتباعہم (ابن کثیر) اور مجمع الزوائد میں حضرت علی کی حدیث ہے یارسول اللہ جو بات ہم کتاب و سنت میں نہ پائیں اس میں کیا طریقہ استعمال کریں؟ فرمایا فقہاء عابدین (سمجھدار خدا پرستوں) سے مشورہ کرو ولاتمضوا فیہ رائیَ خَاصَّۃٍ (اور کسی اکیلے کی رائے مت جاری کرو)۔(159)
إِن يَنصُركُمُ اللَّهُ فَلا غالِبَ لَكُم ۖ وَإِن يَخذُلكُم فَمَن ذَا الَّذى يَنصُرُكُم مِن بَعدِهِ ۗ وَعَلَى اللَّهِ فَليَتَوَكَّلِ المُؤمِنونَ(160)
ف۱ پہلے آپ کو فرمایا تھا " بھروسہ کر اللہ پر" یہاں بتلایا کہ بھروسہ کے لائق ایسی ہی ذات ہوسکتی ہے جو سب سے زبردست اور غالب ہو سب مسلمانوں کو اس کی امداد پر توکل کرنا چاہئے۔ گویا مسلمانوں کی تقصیر خود معاف کرنے اور اپنے پیغمبر سے معاف کرا دینے کے بعد ان کو نصیحت کی جاتی ہے کہ کسی کے کہنے سننے میں نہ آئیں خالص خدا پر بھروسہ رکھیں، اس کی مدد ہوگی تو کوئی طاقت تم پر غالب نہیں آسکتی، جیسے "بدر"میں دیکھ چکے، اور کسی مصلحت سے وہ مدد نہ کرے تو پھر کوئی مدد نہیں کر سکتا جیسا کہ احد میں تجربہ ہوگیا۔(160)
وَما كانَ لِنَبِىٍّ أَن يَغُلَّ ۚ وَمَن يَغلُل يَأتِ بِما غَلَّ يَومَ القِيٰمَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفّىٰ كُلُّ نَفسٍ ما كَسَبَت وَهُم لا يُظلَمونَ(161)
ف۲ اس سے غرض یا تو مسلمانوں کی پوری طرح خاطر جمع کرنا ہے، تاکہ یہ وسوسہ نہ لائیں کہ شاید حضرت نے ہم کو بظاہر معاف کر دیا اور دل میں خفا ہیں پھر کبھی خفگی نکالیں گے؟ یہ کام نبیوں کا نہیں کہ دل میں کچھ اور ظاہر میں کچھ، یامسلمانوں کو سمجھانا ہے کہ حضرت کی عظمت اور عصمت و امانت کو پوری طرح مستحضر رکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کبھی کوئی لغو اور بیہودہ خیال نہ لائیں۔ مثلاً یہ گمان نہ کریں کہ غنیمت کا کچھ مال چھپا رکھیں گے؟ (العیاذ باللہ) شاید یہ اس واسطے فرمایا کہ وہ تیرانداز غنیمت کے لئے مورچہ چھوڑ کر دوڑے تھے، کیا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو حصہ نہ دیتے؟ یا بعضی چیزیں چھپا رکھتے؟ اور بعض روایات میں ہے کہ بدر کی لڑائی میں ایک چیز (چادر یا تلوار) غنیمت میں سے گم ہوگئی تھی، کسی نے کہا شاید حضرت نے اپنے واسطے رکھی ہوگی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، بہرحال مسلمانوں کو سمجھانا ہے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نرم خوئی اور خوش خلقی سے تمہاری غلطیوں کو معاف کرتے ہیں تو تم کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت شان اور عصمت و نزاہت کا بہت زیادہ پاس رکھنا چاہئے، کہ کسی قسم کا کمزور اور رکیک خیال مومنین کے پاس نہ آنے پائے۔ دوسری طرف چونکہ آپ کی شفقت و نرم دلی یاد دلا کر جنگ احد کے متعلق مسلمانوں کی کوتاہی کو معاف کرایا جا رہا تھا اسی ذیل میں ایک دوسری کوتاہی بھی یاد دلادی جو بدر سے متعلق تھی کہ آپ اپنی نرم خوئی سے اس پر بھی کچھ دھیان نہ کریں۔ (تنبیہ) " غلول " کے اصل معنی غنیمت میں خیانت کرنے کے ہیں لیکن کبھی مطلق خیانت کے معنی میں آتا ہے بلکہ بعض اوقات محض ایک چیز کے چھپا لینے پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جیسے ابن مسعود نے فرمایا غلوا مَصَاحِفَکُمْ۔(161)
أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضوٰنَ اللَّهِ كَمَن باءَ بِسَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأوىٰهُ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئسَ المَصيرُ(162)
ف۳ یعنی پیغمبر جو ہرحال میں خدا کی مرضی کا تابع بلکہ دوسروں کو بھی اس کی مرضی کا تابع بنانا چاہتا ہے کیا ان لوگوں کے ایسے کام کر سکتا ہے جو خدا کے غضب کے نیچے اور دوزخ کے مستحق ہیں؟ ممکن نہیں۔(162)
هُم دَرَجٰتٌ عِندَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ بَصيرٌ بِما يَعمَلونَ(163)
ف٤ یعنی نبی اور سب خلقت برابر نہیں، طمع وغیرہ کے پست اور ذلیل کام نبیوں سے نہیں ہوسکتے حق تعالٰی سب کو جانتا ہے کہ کون کس درجہ کا ہے اور سب کے کام دیکھتا ہے کیا وہ ایسی پست طبیعت والوں کو منصب نبوت پر سرفراز فرمائیگا؟ العیاذ باللہ:(163)
لَقَد مَنَّ اللَّهُ عَلَى المُؤمِنينَ إِذ بَعَثَ فيهِم رَسولًا مِن أَنفُسِهِم يَتلوا عَلَيهِم ءايٰتِهِ وَيُزَكّيهِم وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَإِن كانوا مِن قَبلُ لَفى ضَلٰلٍ مُبينٍ(164)
ف۵ یعنی انہی کی جنس اور قوم میں کا ایک آدمی رسول بنا کر بھیجا جس کے پاس بیٹھنا، بات چیت کرنا، زبان سمجھنا اور ہر قسم کے انوار و برکات کا استفادہ کرنا آسان ہے، اس کے احوال، اخلاق، سوانح زندگی، امانت و دیانت خدا ترسی اور پاکبازی سے وہ خوب طرح واقف ہیں اپنی ہی قوم اور کنبے کے آدمی سے جب معجزات ظاہر ہوتے دیکھتے ہیں تو یقین لانے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے، فرض کرو کوئی جن یا فرشتہ رسول بنا کر بھیجا جاتا تو معجزات دیکھ کر یہ خیال کر لینا ممکن تھا کہ چونکہ جنس بشر سے جداگانہ مخلوق ہے شاید یہ خوارق اس کی خاص صورت نوعیہ اور طبیعت ملکیہ و جِنّیّہ کا نتیجہ ہوں، ہمارا اس سے عاجز رہ جانا دلیل نبوت نہیں بن سکتا، بہرحال مومنین کو خدا کا احسان ماننا چاہیے کہ اس نے ایسا رسول بھیجا جس سے بے تکلف فیض حاصل کر سکتے ہیں اور وہ باوجود معزز ترین اور بلند ترین منصب پر فائز ہو نے کے ان ہی کے مجمع میں نہایت نرم خوئی اور ملاطفت کے ساتھ گھلا ملا رہتا ہے صلی اللہ علیہ وسلم ف ٦  اس مضمون کی آیت سورۂ بقرہ میں دو جگہ گزر چکی ہے خلاصہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چار شانیں بیان کی گئیں (١) تلاوت آیات (اللہ کی آیات پڑھ کر سنانا) جن کے ظاہری معنی وہ لوگ اہل زبان ہونے کی وجہ سے سمجھ لیتے تھے اور اس پر عمل کرتے تھے (٢) "تزکیہ نفوس" (نفسانی آلائشوں اور تمام مراتب شرک و معصیت سے ان کو پاک کرنا اور دلوں کو مانجھ کر صیقل بنانا) یہ چیز آیات اللہ کے عام مضامین پر عمل کرنے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور قلبی توجہ و تصرف سے باذن اللہ حاصل ہوتی تھی (٣) " تعلیم کتاب"(کتاب اللہ کی مراد بتلانا) اس کی ضرورت خاص خاص مواقع میں پیش آتی تھی۔ مثلاً ایک لفظ کے کچھ معنی عام تبادر اور محاورہ کے لحاظ سے سمجھ کر صحابہ کو کوئی اشکال پیش آیا، اس وقت آپ کتاب اللہ کی اصلی مراد جو قرائن مقام سے متعین ہوتی تھی بیان فرما کر شبہات کا ازالہ فرما دیتے تھے، جیسے اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْآ اِیْمَا نَھُمْ بِظُلمٍ الخ اور دوسرے مقامات میں ہوا (٤) "تعلیم حکمت"(حکمت کی گہری باتیں سکھلانا) اور قرآن کریم کے غامض اسرار و لطائف اور شریعت کی دقیق و عمیق علل پر مطلع کرنا، خواہ تصریحا ًیا اشارۃً۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی توفیق و اعانت سے علم و عمل کے ان اعلیٰ مراتب پر اس درماندہ قوم کو فائز کیا جو صدیوں سے انتہائی جہل و حیرت اور صریح گمراہی میں غرق تھی۔ آپ کی چند روزہ تعلیم و صحبت سے وہ ساری دنیا کے لئے ہادی و معلم بن گئی، لہذا انہیں چاہیے کہ اس نعمت عظمیٰ کی قدر پہچانیں اور کبھی بھولے سے ایسی حرکت نہ کریں جس سے آپ کا دل متالم ہو۔(164)
أَوَلَمّا أَصٰبَتكُم مُصيبَةٌ قَد أَصَبتُم مِثلَيها قُلتُم أَنّىٰ هٰذا ۖ قُل هُوَ مِن عِندِ أَنفُسِكُم ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(165)
ف۷ پہلے سے احد کا قصہ چلا آتا تھا، درمیان میں جو کوتاہی ہوئی تھی اس کے عفو کا ذکر ہوا اور اسی کی مناسبت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و حقوق یاد دلائے گئے۔ اب پھر احد کے قصہ کی طرف عود کیا جاتا ہے یعنی جنگ احد میں جو تکلیف اور نقصان اٹھانا پڑا کیا اس پر تم تعجب سے کہتے ہو کہ مصیبت کہاں آگئی، ہم تو مسلمان مجاہد تھے جو خدا کے راستہ میں اس کے دشمنوں سے لڑنے کے لئے نکلے تھے۔ خدا تعالٰی پیغمبر کی زبانی نصرت و امداد کا و عدہ فرما چکا، پھر یہ مصیبت ہم پر کیونکر اور کدھر سے نازل ہوئی۔ ایسا کہتے وقت سوچنا چاہئیے کہ جس قدر تکلیف تم کو پہنچی اس سے دوچند تکلیف ان کو تم سے پہنچ چکی ہے احد میں تمہارے تقریباً ستر آدمی شہید ہوئے بدر میں ان کے ستر مارے جا چکے اور ستر تمہارے ہاتھ قید ہوئے جن پر تم کو پورا قابو حاصل تھا، چاہتے تو قتل کر ڈالتے۔ پھر احد میں بھی ابتداء ان کے بیس سے زائد قتل ہو چکے ہیں۔ اگر تھوڑی دیر کے لئے تم کو ہزیمت ہوئی تو "بدر" میں ان کو تباہ کن ہزیمت مل چکی اور احد میں بھی جب تم جم کر لڑے وہ منہزم ہوئے۔ پھر آخر میں میدان چھوڑ کر چلے گئے۔ ایسی صورت میں انصافاً تم کو اپنی تکلیف کا شکوہ کرنے اور زیادہ بددل ہو نے کا موقع نہیں۔ ف۸ اگر غور کرو تو تم خود ہی اس مصیبت کا سبب بنے ہو۔ تم نے جوش میں آکر پیغمبر کی اور بہت سے تجربہ کاروں کی رائے قبول نہ کی، اپنی پسند اور اختیار سے مدینہ کے باہر محاذ جنگ قائم کیا، پھر باوجود نہی شدید کے تیر اندازوں نے اہم مورچہ چھوڑ کر مرکز خالی کر دیا اور ایک سال پہلے جب اساراء بدر کے متعلق تم کو اختیار دیا گیا تھا کہ یا انہیں قتل کردو یا فدیہ لے کر چھوڑ دو، اس شرط پر کہ آیندہ اتنے ہی آدمی تم سے لیے جائیں گے تو تم نے فدیہ کی صورت اختیار کی اور شرط کو قبول کر لیا۔ اب وہی شرط پوری کرائی گئی تو تعجب و انکار کا کیا موقع ہے یہ چیز تو خود اپنی طرف سے تم قبول کر چکے تھے (اساراء بدر کا پورا قصہ سورۂ انفال میں آئیگا)۔(165)
وَما أَصٰبَكُم يَومَ التَقَى الجَمعانِ فَبِإِذنِ اللَّهِ وَلِيَعلَمَ المُؤمِنينَ(166)
(166)
وَلِيَعلَمَ الَّذينَ نافَقوا ۚ وَقيلَ لَهُم تَعالَوا قٰتِلوا فى سَبيلِ اللَّهِ أَوِ ادفَعوا ۖ قالوا لَو نَعلَمُ قِتالًا لَاتَّبَعنٰكُم ۗ هُم لِلكُفرِ يَومَئِذٍ أَقرَبُ مِنهُم لِلإيمٰنِ ۚ يَقولونَ بِأَفوٰهِهِم ما لَيسَ فى قُلوبِهِم ۗ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِما يَكتُمونَ(167)
ف۱ جس کو جب چاہے غالب اور جب چاہے مغلوب کر دے۔ مغلوب کرنا اس لئے نہیں کہ وہ اس وقت غالب کرنے پر قادر نہ تھا، بلکہ اس لئے ہے کہ تمہارے کسب و اختیار سے صورت حال ایسی پیدا ہوگئی کہ کلی غلبہ عطا کرنے میں مصلحت نہ تھی بہرحال جو کچھ ہوا اس کے حکم و مشیت سے ہوا جس کا سبب تم تھے اور حکمت یہ تھی کہ ایک طرف ہر مومن مخلص کے ایمان و اخلاص کا اور دوسری جانب ہر منافق کے نفاق کا درجہ ظاہر ہو جائے، کھرے کھوٹے اور کچے پکے میں کسی کو کچھ التباس نہ رہے۔ ف۲ جنگ شروع ہونے سے پہلے جب رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی تین سو آدمیوں کو ساتھ لے کر واپس جانے لگا، اس وقت کہا گیا تھا کہ عین موقع پر کہاں بھاگتے ہو، آؤ اگر دعوائے اسلام میں سچے ہو تو اللہ کی راہ میں لڑو۔ ورنہ کم از کم دشمن کو دفع کرنے میں حصہ لو یعنی مجمع میں شریک رہو تاکہ کثرت تعداد کا اثر دشمن پر پڑے، یا یہ کہ خدا کی راہ میں دین کی خاطر نہیں لڑتے تو حمیت و طنی و قومی یا اپنے اموال و اولاد کی حفاظت کے لئے دشمن کی مدافعت کرو۔ کیونکہ دشمن اگر کامیاب ہوا تو انتقام لینے میں مومنین و منافقین کی تمیز نہ کریگا۔ عام مسلمانوں کی طرح تم بھی نقصان اٹھاؤ گے، غرض ان پر ہر طرح ان کے مذاج کے موافق اتمام حجت کیا گیا۔ تاکہ جو کچھ دلوں میں ہے اعلانیہ ظاہر ہو جائے۔ ف٧ یعنی لڑائی ہوتی نظر نہیں آتی، خواہ مخواہ کا ڈھونگ ہے اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ واقعی لڑائی ہونیوالی ہے تو ضرور تمہارے ساتھ چلتے، جب لڑائی دیکھیں گے شامل ہو جائینگے یا یہ مطلب تھا کہ کوئی ڈھنگ کا مقابلہ ہوتا تو ساتھ رہتے۔ بھلا یہ کوئی مقابلہ ہے کہ ایک طرف تین ہزار کا لشکر اور دوسری طرف صرف ایک ہزار بے سرو سامان آدمی۔ یہ لڑائی کیا ہے محض اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا ہے یا لَوْنَعْلَمُ قِتَالًا سے یہ ظاہر کر تے تھے کہ صاحب! ہم فنون جنگ اور لڑائی کے قاعدوں سے واقف ہوتے تو آپ کے ساتھ رہتے گویا دل میں طعنہ دیا کہ ہمارے مشورہ پر چلے نہیں اوروں کی رائے پر عمل کیا۔ تو ہم کو لڑائی کے قاعدوں سے ناواقف سمجھے اور آپ واقف بنے، پھر ہمیں ساتھ کیوں لیتے ہو؟ بہرحال جھوٹے حیلے حوالے کر کے چلے گئے۔ ف٤ منافقین دل سے کافر اور زبان سے ایمان کا اظہار کر تے تھے اور اسی زبانی اسلام کی بناء پر مسلمانوں میں ملے جلے رہتے تھے۔ اس روز عین موقع پر پیغمبر علیہ السلام اور مسلمانوں کو چھوڑ کر چلے جانے اور جھوٹے حیلے تراشنے سے اچھی طرح نفاق کی قلعی کھل گئی۔ اب ظاہر میں بھی بہ نسبت ایمان کے کفر سے زیادہ قریب ہوگئے اور اپنے فعل سے مسلمانوں کو نقصان اور کافروں کو تقویت پہنچائی۔ ف۵ یعنی زبان سے لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنَاکُمْ کہتے ہیں اور جو دل میں ہے صاف نہیں کہتے۔ دل میں یہ تھا کہ اچھا ہے مسلمان مغلوب و ذلیل ہوں اور ہم خوشی سے بغلیں بجائیں۔(167)
الَّذينَ قالوا لِإِخوٰنِهِم وَقَعَدوا لَو أَطاعونا ما قُتِلوا ۗ قُل فَادرَءوا عَن أَنفُسِكُمُ المَوتَ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(168)
ف ٦  یعنی خود نامرد بن کر بیٹھ رہے اور اپنی برادری کے بھائیوں (انصار مدینہ) کو کہتے ہیں کہ ہماری بات مان کر گھر میں بیٹھے رہتے تو مارے نہ جاتے۔ ف۷ یعنی اگر گھر میں بیٹھ رہنے سے جان بچ سکتی ہے تو دیکھیں موت کو گھر میں کس طرح نہ آنے دینگے۔ اگر یہاں رہ کر بھی موت پیچھا نہیں چھوڑتی تو پھر بہادروں کی طرح میدان میں عزت کی موت کیوں نہ مریں۔(168)
وَلا تَحسَبَنَّ الَّذينَ قُتِلوا فى سَبيلِ اللَّهِ أَموٰتًا ۚ بَل أَحياءٌ عِندَ رَبِّهِم يُرزَقونَ(169)
(169)
فَرِحينَ بِما ءاتىٰهُمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ وَيَستَبشِرونَ بِالَّذينَ لَم يَلحَقوا بِهِم مِن خَلفِهِم أَلّا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ(170)
(170)
۞ يَستَبشِرونَ بِنِعمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لا يُضيعُ أَجرَ المُؤمِنينَ(171)
ف ١ یعنی گھر میں بیٹھے رہنے سے موت تو رک نہیں سکتی، ہاں آدمی اس موت سے محروم رہتا ہے جس کو موت کے بجائے حیات جاودانی کہنا چاہئے۔ شہیدوں کو مرنے کے بعد ایک خاص طرح کی زندگی ملتی ہے جو اور مردوں کو نہیں ملتی، ان کو حق تعالٰی کا ممتاز قرب حاصل ہوتا ہے۔ بڑے عالی درجات و مقامات پر فائز ہوتے ہیں۔ جنت کا رزق آزادی سے پہنچتا ہے جس طرح ہم اعلیٰ درجہ کے ہوائی جہازوں میں بیٹھ کر ذرا سی دیر میں جہاں چاہیں اڑے چلے جاتے ہیں، شہداء کی ارواح " حواصل طیور خضر " میں داخل ہو کر جنت کی سیر کرتی رہتی ہیں۔ ان "طیور خضر"کی کیفیت و کلانی کو اللہ ہی جانے، وہاں کی چیزیں ہمارے احاطۂ خیال میں کہاں آسکتی ہیں۔ اس وقت شہداء بیحد مسرور ومبتہج ہوتے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل سے دولت شہادت عنایت فرمائی، اپنی عظیم نعمتوں سے نوازا اور اپنے فضل سے ہر آن مزید انعامات کا سلسلہ قائم کردیا، جو وعدے شہیدوں کے لئے پیغمبر علیہ السلام کی زبانی کئے گئے تھے انہیں آنکھوں سے مشاہدہ کر کے بے انتہا خوش ہوتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالٰی ایمان والوں کی محنت ضائع نہیں کرتا۔ بلکہ خیال و گمان سے بڑھ کر بدلہ دیتا ہے پھر نہ صرف یہ کہ اپنی حالت پر شاداں و فرحاں ہوتے ہیں بلکہ اپنے ان مسلمان بھائیوں کا تصور کر کے بھی انہیں ایک خاص خوشی حاصل ہوتی ہے جن کو اپنے پیچھے جہاد فی سبیل اللہ اور دوسرے امور خیر میں مشغول چھوڑ آئے ہیں کہ وہ بھی اگر ہماری طرح اللہ کی راہ میں مارے گئے یا کم از کم ایمان پر مرے تو اپنی اپنی حیثیت کے موافق ایسی ہی پر لطف اور بے خوف زندگی کے مزے لوٹیں گے۔ نہ ان کو اپنے آگے کاڈر ہوگا نہ پیچھے کا غم، مامون و مطمئن سیدھے خدا کی رحمت میں داخل ہوجائیں گے۔ بعض روایات میں ہے کہ شہدائے احد یا شہدائے بیر معونہ نے خدا کے ہاں پہنچ کر تمنا کی تھی کاش ہمارے اس عیش وتنعم کی خبر کوئی ہمارے بھائیوں کو پہنچادے تاکہ وہ بھی اس زندگی کی طرف جھپٹیں اور جہاد سے جان نہ چرائیں حق تعالٰی نے فرمایا کہ میں پہنچاتا ہوں۔ اس پر یہ آیات نازل کیں اور ان کو مطلع کر دیا گیا کہ ہم نے تمہاری تمنا کے موافق خبر پہنچا دی اس پر وہ اور زیادہ خوش ہوئے۔(171)
الَّذينَ استَجابوا لِلَّهِ وَالرَّسولِ مِن بَعدِ ما أَصابَهُمُ القَرحُ ۚ لِلَّذينَ أَحسَنوا مِنهُم وَاتَّقَوا أَجرٌ عَظيمٌ(172)
(172)
الَّذينَ قالَ لَهُمُ النّاسُ إِنَّ النّاسَ قَد جَمَعوا لَكُم فَاخشَوهُم فَزادَهُم إيمٰنًا وَقالوا حَسبُنَا اللَّهُ وَنِعمَ الوَكيلُ(173)
ف٢ ابو سفیان جب احد سے مکہ کو واپس گیا تو راستہ میں خیال آیا کہ ہم نے بڑی غلطی کی، ہزیمت یافتہ اور زخم خوردہ مسلمانوں کو یونہی چھوڑ کر چلے آئے، مشورے ہو نے لگے کہ پھر مدینہ واپس چل کر ان کا قصہ تمام کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو اعلان فرما دیا کہ جو لوگ کل ہمارے ساتھ لڑائی میں حاضر تھے آج دشمن کا تعاقب کرنے کیلئے تیار ہوجائیں۔ مسلمان مجاہدین باوجودیکہ تازہ زخم کھائے ہوئے تھے، اللہ اور رسول کی پکار پر نکل پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان مجاہدین کی جمعیت لے کر مقام حمراء الاسد تک (جو مدینہ سے آٹھ میل ہے) پہنچے۔ ابو سفیان کے دل میں یہ سن کر کہ مسلمان اس کے تعاقب میں چلے آرہے ہیں، سخت رعب و دہشت طاری ہوگئی، دوبارہ حملہ کا ارادہ فسخ کر کے مکہ کی طرف بھاگا۔ عبدالقیس کا ایک تجارتی قافلہ مدینہ آرہا تھا۔ ابو سفیان نے ان لوگوں کو کچھ دے کر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ پہنچ کر ایسی خبریں شائع کریں جن کو سن کر مسلمان ہماری طرف سے مرعوب و خوفزدہ ہوجائیں۔ انہوں نے مدینہ پہنچ کر کہنا شروع کیا کہ مکہ والوں نے بڑا بھاری لشکر اور سامان مسلمانوں کے استیصال کی غرض سے تیار کیا ہے۔ یہ سن کر مسلمانوں کے دلوں میں خوف کی جگہ جوش ایمان بڑھ گیا اور کفار کی جمیعت کا حال سن کر کہنے لگے۔ "حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ "ساری دنیا کے مقابلہ میں اکیلا خدا ہم کو کافی ہے۔ اسی پر یہ آیات نازل ہوئیں، بعض کہتے ہیں کہ جنگ احد تمام ہو نے پر ابو سفیان نے اعلان کیا تھا کہ اگلے سال بدر پر پھر لڑائی ہے، حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کر لیا۔ جب اگلا سال آیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ جہاد کیلئے چلو۔ اگر کوئی نہ جائیگا تب بھی اللہ کا رسول تنہا جائیگا۔ ادھر سے ابو سفیان فوج لیکر مکہ سے نکلا تھوڑی دور چل کر کمر ہمت ٹوٹ گئی، رعب چھا گیا، قحط سالی کا عذر کر کے چاہا مکہ واپس جائے، مگر صورت ایسی ہو کہ الزام مسلمانوں پر رہے، ایک شخص مدینہ جاتا تھا، اس کو کچھ دینا کیا کہ وہاں پہنچ کر اس طرف کی ایسی خبریں مشہور کرنا جن کو سن کر مسلمان خوف کھائیں اور جنگ کو نہ نکلیں وہ مدینہ پہنچ کر کہنے لگا کہ مکہ والوں نے بڑی بھاری جمعیت اکٹھی کی ہے تم کو لڑنا بہتر نہیں مسلمانوں کو حق تعالٰی نے استقلال دیا۔ انہوں نے یہ ہی کہا کہ ہم کو اللہ کافی ہے۔ آخرمسلمان حسب وعدہ بدر پہنچے، وہاں بڑا بازار لگتا تھا، تین روز رہ کر تجارت کر کے خوب نفع کما کر مدینہ واپس آئے اس غزوہ کو بدر صغریٰ کہتے ہیں۔ اس وقت جن لوگوں نے رفاقت کی اور تیار ہوئے ان کو بشارت ہے کہ احد میں رحم کھا کر اور نقصان اٹھا کر پھر ایسی جرات کی۔ مسلمانوں کی اس جرات و مستعدی کی خبر سن کر مشرکین راستہ سے لوٹ گئے چنانچہ مکہ والوں نے اس مہم کا نام "جیش السویق"رکھ دیا۔ یعنی وہ لشکر جو محض ستو پینے گیا تھا پی کر واپس آگیا (تنبیہ) یہ جو فرمایا لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا محض ان کی مدح سرائی اور تنویہ شان کیلئے ہے ور نہ وہ سب کے سب ایسے ہی تھے۔(173)
فَانقَلَبوا بِنِعمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضلٍ لَم يَمسَسهُم سوءٌ وَاتَّبَعوا رِضوٰنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ ذو فَضلٍ عَظيمٍ(174)
ف ۳ یعنی اللہ کا فضل دیکھو نہ کچھ لڑائی کرنی پڑی نہ کانٹا چبھا، مفت میں ثواب کمایا، تجارت میں نفع حاصل کر کے اور دشمنوں پر دھاک بٹھلا کر خدا تعالٰی کی خوشنودی لئے ہوئے صیحح سلامت گھر واپس آگئے۔ (تنبیہ) بدر صغریٰ کی طرح غزوہ حمراء الاسد میں بھی ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ سامان کی خرید و فروخت ہوئی تھی اور مسلمانوں نے بھاری نفع کمایا تھا غا لباً فضل سے یہ ہی مالی نفع مراد ہے۔(174)
إِنَّما ذٰلِكُمُ الشَّيطٰنُ يُخَوِّفُ أَولِياءَهُ فَلا تَخافوهُم وَخافونِ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ(175)
ف٤ یعنی جو ادھر سے آکر مرعوب کن خبریں پھیلاتا ہے وہ شیطان ہے یا شیطان کے اغواء سے ایسا کر رہا ہے جس کی غرض یہ ہے کہ اپنے چیلے چانٹوں اور بھائی بندوں کا رعب تم پر بٹھلا کر خوفزدہ کردے، سو تم اگر ایمان رکھتے ہو (اور ضرور رکھتے ہو جس کا ثبوت عملا ً دے چکے) تو ان شیطانوں سے اصلا مت ڈرو صرف مجھ سے ڈرتے رہو کہ ہر کہ ترسید از حق و تقویٰ گزید ترسدازوے جن وانس و ہرکہ دید(175)
وَلا يَحزُنكَ الَّذينَ يُسٰرِعونَ فِى الكُفرِ ۚ إِنَّهُم لَن يَضُرُّوا اللَّهَ شَيـًٔا ۗ يُريدُ اللَّهُ أَلّا يَجعَلَ لَهُم حَظًّا فِى الءاخِرَةِ ۖ وَلَهُم عَذابٌ عَظيمٌ(176)
ف١ یعنی شیطان کی دھمکیوں سے مومن نہیں ڈرتے ہاں منافق اس کی باتیں سن کر کفر کی طرف دوڑتے ہیں آپ ان ملعون منافقوں کی حرکات سے کچھ غمگین اور فکرمند نہ ہوں یہ اللہ کے دین اور اس کے پیغمبر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اپنا ہی نقصان کر تے ہیں ان کا حد سے زیادہ نفاق و شقاق پتہ دے رہا ہے کہ حق تعالٰی انہیں انجام کار حقیقی کامیابی اور فوائد سے محروم رکھے گا اور بہت سخت سزا دیگا۔ جو لوگ ایسے معاند اور شریر کجرو ہوں اللہ کی عادت ان کے ساتھ یہ ہی ہے۔ ایسوں کے غم میں اپنے کو زیادہ گھلانے کی ضرورت نہیں۔(176)
إِنَّ الَّذينَ اشتَرَوُا الكُفرَ بِالإيمٰنِ لَن يَضُرُّوا اللَّهَ شَيـًٔا وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ(177)
ف٢ یعنی جنہوں نے ایمانی فطرت کو بدل کر کفر اختیار کیا، خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین، یا منافقین، یا کوئی اور وہ سب مل کر بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ہاں اپنے پاؤں پر خود اپنے ہاتھ سے کلہاڑی مار رہے ہیں جس کا نتیجہ دردناک عذاب کی صورت میں بھگتنا پڑیگا۔(177)
وَلا يَحسَبَنَّ الَّذينَ كَفَروا أَنَّما نُملى لَهُم خَيرٌ لِأَنفُسِهِم ۚ إِنَّما نُملى لَهُم لِيَزدادوا إِثمًا ۚ وَلَهُم عَذابٌ مُهينٌ(178)
ف٣ یعنی ممکن ہے کافروں کو اپنی لمبی عمریں خو شحالی اور دولت و ثروت وغیرہ کی فراوانی دیکھ کر خیال گزرے کہ ایسے مغضوب و مطرود ہوتے تو ہم کو اتنی فراخی اور مہلت کیوں دی جاتی اور ایسی بھلی حالت میں کیوں رکھے جاتے؟ سو واضح رہے کہ یہ مہلت دینا ان کے حق میں کچھ بھلی بات نہیں مہلت دینے کا نتیجہ تو یہ ہی ہوگا کہ جن کو گناہ سمیت کفر پر مرنا ہے وہ اپنے اختیار اور آزادی سے خوب جی بھر کر ارمان نکال لیں اور گناہوں کا ذخیرہ فراہم کرلیں۔ وہ سمجھتے رہیں کہ ہم بڑی عزت سے ہیں حالانکہ ذلیل و خوار کرنیوالا عذاب ان کے لئے تیار ہے اب سوچ لیں کہ مہلت دینا ان جیسوں کے حق میں بھلا ہو یا برا۔ نعوذ باللّٰہِ من شرور انفسنا۔(178)
ما كانَ اللَّهُ لِيَذَرَ المُؤمِنينَ عَلىٰ ما أَنتُم عَلَيهِ حَتّىٰ يَميزَ الخَبيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۗ وَما كانَ اللَّهُ لِيُطلِعَكُم عَلَى الغَيبِ وَلٰكِنَّ اللَّهَ يَجتَبى مِن رُسُلِهِ مَن يَشاءُ ۖ فَـٔامِنوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ وَإِن تُؤمِنوا وَتَتَّقوا فَلَكُم أَجرٌ عَظيمٌ(179)
ف٤ یعنی جس طرح خو شحالی اور مہلت دینا کفار کے حق میں مقبولیت کی دلیل نہیں، اسی طرح اگر مخلص مسلمانوں کو مصائب اور ناخوشگوار حوادث پیش آئیں (جیسے جنگ احد میں آئے) یہ اس کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کے نزدیک مغضوب ہیں، بات یہ ہے کہ اللہ تعالٰی مسلمانوں کو اس گول مول حالت پر چھوڑنا نہیں چاہتا جس پر اب تک رہے ہیں۔ یعنی بہت سے کافر ازراہ نفاق کلمہ پڑھ کر دھوکہ دینے کے لئے ان میں ملے جلے رہتے تھے جن کے ظاہر حال پر منافق کا لفظ کہنا مشکل تھا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ خدا تعالٰی ایسے واقعات و حالات بروئے کار لائے جو کھرے کو کھوٹے سے اور پاک کو ناپاک سے کھلے طور پر جدا کر دیں۔ بیشک خدا کو آسان تھا کہ تمام مسلمانوں کو بدون امتحان میں ڈالے منافقوں کے ناموں اور کاموں سے مطلع کر دیتا لیکن اس کی حکمت و مصلحت مقتضی نہیں کہ سب لوگوں کو اس قسم کے غیوب سے آگاہ کر دیا کرے۔ ہاں وہ اپنے رسولوں کا انتخاب کر کے جس قدر غیوب کی یقینی اطلاع دینا چاہے دے دیتا ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ عام لوگوں کو بلاواسطہ کسی غیب کی یقینی اطلاع نہیں دیجاتی انبیاء علیہم السلام کو دیجاتی ہے۔ مگر جس قدر خدا چاہے۔ ف۵ یعنی خدا کا جو خاص معاملہ پیغمبروں سے ہے اور پاک و ناپاک کو جدا کرنے کی نسبت جو عام عادت حق تعالٰی کی رہی ہے، اس میں زیادہ کاوش کی ضرورت نہیں، تمہارا کام یہ ہے کہ اللہ و رسول کی باتوں پر یقین رکھو اور تقو یٰ و پر ہیز گاری پر قائم رہو، یہ کر لیا تو سب کچھ کما لیا۔(179)
وَلا يَحسَبَنَّ الَّذينَ يَبخَلونَ بِما ءاتىٰهُمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ هُوَ خَيرًا لَهُم ۖ بَل هُوَ شَرٌّ لَهُم ۖ سَيُطَوَّقونَ ما بَخِلوا بِهِ يَومَ القِيٰمَةِ ۗ وَلِلَّهِ ميرٰثُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۗ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ خَبيرٌ(180)
ف٦ ابتدائے سورت کا بڑا حصہ اہل کتاب (یہود نصاریٰ) سے متعلق تھا۔ درمیان میں خاص مناسبات و وجوہ کی بنا پر غزوۂ احد کی تفصیلات آگئیں۔ انہیں بقدر کفایت تمام کر کے یہاں سے پھر اہل کتاب کی شنائع بیان کی جاتی ہیں، چونکہ ان میں سے یہود کا معاملہ بہت مضرت رساں اور تکلیف دہ تھا، منافقین بھی اکثر ان ہی میں کے تھے، اور اوپر کی آیت میں آگاہ کیا گیا تھا کہ خدا تعالٰی اب خبیث کو طیب سے جدا کر کے رہیگا۔ سو یہ جدائی جس طرح جانی و بدنی جہاد کے وقت ظاہر ہوتی تھی اسی طرح مالی جہاد کے وقت بھی کھرا کھوٹا اور کچا پکا صاف طور پر الگ ہو جاتا تھا اس لئے بتلا دیا کہ یہود منافقین جیسے جہاد کے موقع سے بھاگتے ہیں، مال خرچ کرنے سے بھی جی چراتے ہیں لیکن جس طرح جہاد سے بچ کر دنیا میں چند روز کی مہلت حاصل کر لینا ان کے حق میں کچھ بہتر نہیں، ایسے ہی بخل کر کے بہت مال اکٹھا کر لینا بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ اگر دنیا میں فرض کرو کوئی مصیبت پیش نہ بھی آئی تو قیامت کے دن یقینا یہ جمع کیا ہوا مال عذاب کی صورت میں ان کے گلے کا ہار بن کر رہیگا۔ اس میں مسلمانوں کو بھی کھٹکھٹا دیا کہ زکوۃ دینے اور ضروری مصارف میں خرچ کرنے سے کبھی جی نہ چرائیں، ورنہ جو شخص بخل و حرص و غیرہ رذیل خصلتوں میں یہود منافقین کی روش اختیار کر یگا، اسے بھی اپنے درجہ کے موافق اسی طرح کی سزا کا منتظر رہنا چاہیئے۔ چنانچہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، کہ مانعین زکوۃ کا مال سخت زہریلے اژد ہے کی صورت میں متمثل کر کے ان کے گلے میں ڈالا جائیگا۔ نعوذباللّٰہ منہ۔ ف۷ یعنی آخر تم مر جاؤ گے اور سب مال اسی کا ہو رہیگا۔ جس کا حقیقت میں پہلے سے تھا۔ انسان اپنے اختیار سے دے تو ثواب پائے۔ ف۸ یعنی بخل یا سخاوت جو کچھ کرو گے اور جیسی نیت کرو گے خدا تعالٰی سب کی خبر رکھتا ہے اسی کے موافق بدلہ دیگا۔(180)
لَقَد سَمِعَ اللَّهُ قَولَ الَّذينَ قالوا إِنَّ اللَّهَ فَقيرٌ وَنَحنُ أَغنِياءُ ۘ سَنَكتُبُ ما قالوا وَقَتلَهُمُ الأَنبِياءَ بِغَيرِ حَقٍّ وَنَقولُ ذوقوا عَذابَ الحَريقِ(181)
ف ۱ یعنی محض اتنا ہی نہیں کہ یہود انتہائی بخل کی وجہ سے پیسہ خرچ کرنا نہیں جانتے، بلکہ جب خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم سنتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں اور حق تعالٰی کی جناب میں گستاخانہ کلمات بکنے سے بھی نہیں شرماتے۔ چنانچہ جب آیت مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضاًحَسَناً نازل ہوئی، کہنے لگے اللہ ہم سے قرض مانگتا ہے تو اللہ فقیر محتاج ہے اور ہم غنی مالدار ہیں، حالانکہ ایک غبی اور کوڑھ مغز بھی سمجھ سکتا ہے کہ انفاق فی وجوہ الخیر کو قرض سے تعبیر فرمانے میں انتہائی رحمت و شفقت کا اظہار تھا۔ ظاہر ہے کہ خدا اپنا دیا ہوا مال ہم سے ہماری مصالح میں ہمارے ہی دنیاوی و اخروی فائدہ کے لئے خرچ کراتا ہے، اس کو ہمارے خرچ سے کوئی نفع نہیں پہنچ سکتا اور بفرض محال پہنچے بھی تو مال اور ہرچیز اسی کی مملوک ہے۔ پھر حقیقی معنی میں اس کو قرض کیسے کہہ سکتے ہیں۔ یہ اس کا کمال کرم و احسان ہے کہ اس خرچ کا بہترین معاوضہ دینا بھی اپنے ذمہ لازم کر لیا اور اس کو لفظ قرض سے ادا کر کے اس لزوم کو بھی حد موکدہ مسجل کر دیا۔ مگر یہود اپنی کور چشمی اور خبث باطن سے احسان ماننے کے بجائے ان لفظوں کی ہنسی اڑانے لگے اور اللہ تعالٰی کی جانب رفیع میں مسخراپن کرنے سے باز نہ رہے، اس کو فرمایا کہ اللہ نے تمہاری یہ باتیں سن لیں۔ اس پر جو کارروائی ہوگی اس کے منتظر رہو۔ ف ۲  یعنی عام ضابطہ کے موافق یہ ملعون اور ناپاک اقوال تمہارے دفتر سیأت میں درج کرائے دیتے ہیں۔ جہاں تمہاری قوم کے دوسرے ملعون اور ناپاک افعال درج ہیں۔ مثلا معصوم نبیوں کا ناحق خون بہانا کیونکہ جس طرح یہ نالائق جملہ ایک نمونہ ہے تمہاری خدا شناسی کا، وہ نالائق کام نمونہ ہے تمہاری تعظیم انبیاء کا، جب یہ پوری مسل پیش ہوگی اس وقت کہا جائیگا کہ لو اپنی شرارتوں کا مزہ چکھو۔ اور جس طرح تم نے طعن و تمسخر سے اولیاء اللہ کے دل جلائے تھے، اب عذاب الٰہی کی بھٹی میں جلتے رہو۔(181)
ذٰلِكَ بِما قَدَّمَت أَيديكُم وَأَنَّ اللَّهَ لَيسَ بِظَلّامٍ لِلعَبيدِ(182)
ف۳ یعنی جو کمایا تھا سامنے آیا۔ خدا کے یہاں ذرہ برابر ظلم نہیں۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ (نساء رکوع ٦، آیت :٤٠) اگر بفرض محال ظلم کرنا خدا کی صفت ہوتی تو اس کی دوسری صفات کی طرح وہ بھی کامل ہی ہوتی اس لئے اگر معاذ اللہ خدا کو ظالم فرض کیا جائے تو پھر " ظالم"کیا" ظلام " ہی کہنا پڑیگا۔ اس کا ایک رتی ظلم بھی پہاڑوں سے کم نہیں ہوسکتا گویا " ظلام " کا صیغہ لا کر متنبہ کر دیا کہ اس کی بارگاہ میں ادنیٰ سے ادنیٰ ظلم تجویز کرنا، انتہائی ظالم قرار دینے کا مرادف ہے (تَعَالَی اللّٰہُ عَمَّا یَقُوْلُ الظَّالِمُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا)۔(182)
الَّذينَ قالوا إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَينا أَلّا نُؤمِنَ لِرَسولٍ حَتّىٰ يَأتِيَنا بِقُربانٍ تَأكُلُهُ النّارُ ۗ قُل قَد جاءَكُم رُسُلٌ مِن قَبلى بِالبَيِّنٰتِ وَبِالَّذى قُلتُم فَلِمَ قَتَلتُموهُم إِن كُنتُم صٰدِقينَ(183)
ف٤ بعضے رسولوں سے یہ معجزہ ظاہر ہوا تھا کہ قربانی یا کوئی چیز اللہ نام کی نیاز کی تو آسمان سے آگ آکر اس کو کھا گئی، یہ علامت تھی اس کے قبول ہونے کی، چنانچہ موجودہ"بائبل" میں بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق ایسا واقعہ مذکور ہے۔ اب یہود بہانہ پکڑتے تھے کہ ہم کو یہ حکم ہے کہ جس سے یہ معجزہ نہ دیکھیں اس پر یقین نہ لائیں اور یہ محض جھوٹے بہانے تھے اس قسم کا کوئی حکم ان کی کتابوں میں موجود نہ تھا، نہ آج موجود ہے اور نہ ہر ایک نبی کی نسبت یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ اس کو یہ معجزہ ملا تھا۔ ہر پیغمبر کو حق تعالٰی نے اوقات و احوال کے مناسب معجزات دئیے ہیں۔ لازم نہیں کہ ہر نبی ایک ہی معجزہ دکھلائے تو سچا ثابت ہو۔ ف۵ یعنی اگر واقعی اپنے دعوے میں سچے ہو اور اسی خاص معجزہ کے دکھلانے پر تمہارا ایمان لانا موقوف ہے تو پہلے ایسے نبیوں کو تم نے کیوں قتل کیا جو اپنی صداقت کی کھلی نشانیوں کے ساتھ خاص یہ معجزہ بھی لیکر آئے تھے تمہارے اسلاف کا یہ فعل جس پر تم بھی آج تک راضی ہو، کیا اس کی دلیل نہیں کہ یہ سب تمہاری حیلہ سازی اور ہٹ دھرمی ہے کہ کوئی پیغمبر جب تک خاص یہ ہی معجزہ نہ دکھلائیگا ہم نہ مانیں گے۔(183)
فَإِن كَذَّبوكَ فَقَد كُذِّبَ رُسُلٌ مِن قَبلِكَ جاءو بِالبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ وَالكِتٰبِ المُنيرِ(184)
ف٦ آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ ان ملعونوں کی کج بحثی اور ہٹ دھرمی سے ملول و دلگیر نہ ہوں اور نہ دوسرے مکذبین کی پروا کریں۔ آپ سے پہلے کتنے رسول جھٹلائے جاچکے ہیں جو صاف نشانیاں (معجزات) چھو ٹے صحیفے اور بڑی روشن کتابیں لے کر آئے تھے۔ انبیائے صادقین کی تکذیب معاندین کی قدیم عادت رہی ہے۔ آپ کو کچھ انوکھی بات پیش نہیں آئی۔(184)
كُلُّ نَفسٍ ذائِقَةُ المَوتِ ۗ وَإِنَّما تُوَفَّونَ أُجورَكُم يَومَ القِيٰمَةِ ۖ فَمَن زُحزِحَ عَنِ النّارِ وَأُدخِلَ الجَنَّةَ فَقَد فازَ ۗ وَمَا الحَيوٰةُ الدُّنيا إِلّا مَتٰعُ الغُرورِ(185)
ف۷ یعنی موت کا مزہ سب کو چکھنا ہے، اس کے بعد قیامت کے دن ہر جھوٹے سچے اور مصدق و مکذب کو اپنے اپنے کئے کا پورا بدلہ مل رہیگا " پورے کا یہ مطلب کہ کچھ تھوڑا سا ممکن ہے قیامت سے پہلے ہی مل جائے مثلا دنیا میں یا قبر میں"۔ ف ۸ یعنی دنیا کی عارضی بہار اور ظاہری ٹیپ ٹاپ بہت دھوکہ میں ڈالنے والی چیز ہے جس پر مفتون ہو کر اکثر بے وقوف آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ انسان کی اصلی کامیابی یہ ہے کہ یہاں رہ کر انجام کو سو چے اور وہ کام کرے جو عذاب الٰہی سے بچانے والا اور جنت تک پہنچا نے والا ہو۔ (تنبیہ) آیت میں ان بعض متصوفین کا بھی رد ہوگیا جو دعوے کیا کر تے ہیں کہ ہمیں نہ جنت کی طلب، نہ دوزخ کا ڈر، معلوم ہوا کہ دوزخ سے دور رہنا اور جنت میں داخل ہو جانا ہی اصل کامیابی ہے۔ کوئی اعلیٰ ترین کامیابی جنت سے باہر رہ کر نصیب نہیں ہوسکتی۔ وفی الحدیث وَحَوْلَھَا نُدْنِدن اللہ تعالٰی اپنے فضل و رحمت سے ہم کو بھی یہ کامیابی عنایت فرمائے۔(185)
۞ لَتُبلَوُنَّ فى أَموٰلِكُم وَأَنفُسِكُم وَلَتَسمَعُنَّ مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ مِن قَبلِكُم وَمِنَ الَّذينَ أَشرَكوا أَذًى كَثيرًا ۚ وَإِن تَصبِروا وَتَتَّقوا فَإِنَّ ذٰلِكَ مِن عَزمِ الأُمورِ(186)
ف١ یہ خطاب مسلمانوں کو ہے کہ آیندہ بھی جان و مال میں تمہاری آزمائش ہوگی اور ہر قسم کی قربانیاں کرنی پڑینگی قتل کیا جانا زخمی ہونا، قیدو بند کی تکلیف اٹھانا، بیمار پڑنا، اموال کا تلف ہونا اقارب کا چھوٹنا، اس طرح کی سختیاں پیش آئینگی، نیز اہل کتاب اور مشرکین کی زبانوں سے بہت جگر خراش اور دل آزار باتیں سننا پڑینگی۔ ان سب کا علاج صبر و تقویٰ ہے۔ اگر صبر و استقلال اور پرہیزگاری سے ان سختیوں کا مقابلہ کرو گے تو یہ بڑی ہمت اور اولوالعزمی کا کام ہوگا۔ جس کی تاکید حق تعالٰی نے فرمائی ہے۔ (تنبیہ) بخاری کی ایک حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آیت بدر سے پہلے نازل ہوئی، قتال کا حکم اس کے بعد ہوا، تاہم صبر و تقویٰ کا حکم مشروعیت قتال کے باوجود بھی فی الجملہ باقی ہے جس پر اخیر تک عمل ہوتا رہا ہے۔ ہاں صبر و عفو اور تغلیظ و تشدید کے مواقع کا پہچاننا ضروری ہے۔ جو نصوص شرعیہ سے معلوم ہوسکتے ہیں۔ اس آیت کو یہاں رکھنے سے شاید یہ غرض ہے کہ تم ان کفار و منافقین کی گستاخیوں اور شرارتوں پر حد سے زیادہ طیش مت کھاؤ۔ ابھی بہت کچھ سننا پڑے گا۔ تکلیفیں اٹھانی پڑیں گی۔صبر و استقلال سے ان کا مقابلہ کر نیکے لئے تیار رہو۔ نیز دنیا کی زندگانی میں پڑ کر جو محض دھوکہ کی ٹٹی ہے، اس بات سے غافل نہ ہونا کہ خدا تعالٰی جان اور مال دونوں میں تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔(186)
وَإِذ أَخَذَ اللَّهُ ميثٰقَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنّاسِ وَلا تَكتُمونَهُ فَنَبَذوهُ وَراءَ ظُهورِهِم وَاشتَرَوا بِهِ ثَمَنًا قَليلًا ۖ فَبِئسَ ما يَشتَرونَ(187)
ف٢ یعنی علمائے اہل کتاب سے عہد لیا گیا تھا کہ جو احکام و بشارات کتاب اللہ میں ہیں انہیں صاف صاف لوگوں کے سامنے بیان کرینگے اور کوئی بات نہیں چھپائیں گے نہ ہیر پھیر کر کے ان کے معنی بدلیں گے، مگر انہوں نے ذرہ برابر پروا نہ کی اور دنیا کے تھوڑے سے نفع کی خاطر سب عہد و پیمان توڑ کر احکام شریعت بدل ڈالے آیات اللہ میں لفظی و معنوی تحریفات کیں جس چیز کا ظاہر کرنا سب سے زیادہ ضروری تھا یعنی پیغمبر آخرالزماں کی بشارت، اسی کو سب سے زیادہ چھپایا، جس قدر مال خرچ کرنے میں بخل کرتے اس سے بڑھ کر علم خرچ کرنے میں کنجوسی دکھائی۔ اور اس کنجوسی کا منشاء بھی مال و جاں اور متاع دنیا کی محبت کے سوا کچھ نہ تھا، یہاں ضمنا مسلمان اہل علم کو متنبہ فرما دیا کہ تم دنیا کی محبت میں پھنس کر ایسا نہ کرنا۔(187)
لا تَحسَبَنَّ الَّذينَ يَفرَحونَ بِما أَتَوا وَيُحِبّونَ أَن يُحمَدوا بِما لَم يَفعَلوا فَلا تَحسَبَنَّهُم بِمَفازَةٍ مِنَ العَذابِ ۖ وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ(188)
ف٣ یہود مسئلے غلط بتاتے، رشوتیں کھاتے اور پیغمبر علیہ الصلوٰۃ و السلام کی صفات و بشارات جان بوجھ کر چھپاتے تھے پھر خوش ہوتے کہ ہماری چالاکیوں کو کوئی پکڑ نہیں سکتا اور امید رکھتے کہ لوگ ہماری تعریف کریں کہ بڑے عالم اور دیندار حق پرست ہیں۔ دوسری طرف منافقین کا حال بھی ان کے مشابہ تھا۔ جب جہاد کا موقع آتا گھر میں چھپ کر بیٹھ رہتے اور اپنی اس حرکت پر خوش ہوتے کہ دیکھو کیسے جان بچائی۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم جہاد سے واپس تشریف لاتے تو غیر حاضری کے جھوٹے عذرپیش کر کے چاہتے کہ آپ سے اپنی تعریف کرائیں، ان سب کو بتلا دیا گیا کہ یہ باتیں دنیا و آخرت میں خدا کے عذاب سے نہیں چھڑا سکتیں۔ اول تو ایسے لوگ دنیا ہی میں فضیحت ہوتے ہیں اور کسی وجہ سے یہاں بچ گئے تو وہاں کسی تدبیر سے نہیں چھوٹ سکتے (تنبیہ) آیت میں گو تذکرہ یہود یا منافقین کا ہے لیکن مسلمانوں کو بھی سنانا ہے کہ برا کام کر کے خوش نہ ہوں، بھلا کر کے اترائیں نہیں اور جو اچھا کام کیا نہیں اس پر تعریف کے امیدوار نہ رہیں۔ بلکہ کرنے کے بعد بھی مدح سرائی کی ہوس نہ رکھیں۔(188)
وَلِلَّهِ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۗ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(189)
ف٤ جب آسمان و زمین میں اسی کی سلطنت ہے تو مجرم بھاگ کر پناہ کہاں لے سکتا ہے اور جو ہرچیز پر قادر ہے اس کے نفوذ و اختیار سے کون باہر ہو سکتا ہے۔(189)
إِنَّ فى خَلقِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَاختِلٰفِ الَّيلِ وَالنَّهارِ لَءايٰتٍ لِأُولِى الأَلبٰبِ(190)
ف۵ یعنی عقلمند آدمی جب آسمان و زمین کی پیدائش اور ان کے عجیب و غریب احوال و روابط اور دن رات کے مضبوط و محکم نظام میں غور کرتا ہے تو اس کو یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ سارا مرتب و منظم سلسلہ ضرور کسی ایک مختار کل اور قادر مطلق فرمانروا کے ہاتھ میں ہے جس نے اپنی عظیم قدرت و اختیار سے ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی حد بندی کر رکھی ہے۔ کسی چیز کی مجال نہیں کہ اپنے محدود وجود اور دائرۂ عمل سے باہر قدم نکال سکے۔ اگر اس عظیم الشان مشین کا ایک پرزہ یا اس کارخانہ کا ایک مزدور بھی مالک علی الاطلاق کی قدرت و اختیار سے باہر ہوتا تو مجموعہ عالم کا یہ مکمل و محکم نظام ہرگز قائم نہ رہ سکتا۔(190)
الَّذينَ يَذكُرونَ اللَّهَ قِيٰمًا وَقُعودًا وَعَلىٰ جُنوبِهِم وَيَتَفَكَّرونَ فى خَلقِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ رَبَّنا ما خَلَقتَ هٰذا بٰطِلًا سُبحٰنَكَ فَقِنا عَذابَ النّارِ(191)
ف٦ یعنی کسی حال خدا سے غافل نہیں ہوتے۔ اس کی یاد ہمہ وقت ان کے دل میں اور زبان پر جاری رہتی ہے جیسے حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت عائشہ صدیقہ نے فرمایا کَانَ یَذْکُرُ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ اَحْیَانِہٖ نماز بھی خدا کی بہت بڑی یاد ہے، اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کھڑا ہو کر نہ پڑھ سکے بیٹھ کر اور جو بیٹھ نہ سکے لیٹ کر پڑھ لے بعض روایات میں ہے کہ جس رات میں یہ آیات نازل ہوئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے، بیٹھے، لیٹے، ہر حالت میں اللہ کو یاد کر کے روتے رہے۔ ف۱ یعنی ذکر و فکر کے بعد کہتے ہیں کہ خداوندا ! یہ عظیم الشان کارخانہ آپ نے بیکار پیدا نہیں کیا، جس کا کوئی مقصد نہ ہو یقیناً ان عجیب و غریب حکیمانہ انتظامات کا سلسلہ کسی عظیم و جلیل نتیجہ پر منتہی ہونا چاہئے۔گویا یہاں سے ان کا ذہن تصور آخرت کی طرف منتقل ہوگیا جو فی الحقیقت دنیا کی موجودہ زندگی کا آخری نتیجہ ہے اسی لئے آگے دوزخ کے عذاب سے محفوظ رہنے کی دعاء کی، اور درمیان میں خدا تعالٰی کی تسبیح و تنزیہ بیان کر کے اشارہ کر دیا کہ جو احمق قدرت کے ایسے صاف و صریح نشان دیکھتے ہوئے تجھ کو نہ پہچانیں یا تیری شان کو گھٹائیں یا کار خانہ عالم کو محض عبث و لعب سمجھیں، تیری بارگاہ ان سب کی ہزلیات و خرافات سے پاک ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین اور دیگر مصنوعات الٰہیہ میں غور و فکر کرنا وہی محمود ہوسکتا ہے جس کا نتیجہ خدا کی یاد اور آخرت کی طرف توجہ ہو باقی جو مادہ پرست ان مصنوعات کے تاروں میں الجھ کر رہ جائیں اور صانع کی صحیح معرفت تک نہ پہنچ سکیں، خواہ دنیا انہیں بڑا محقق اور سائنسداں کہا کرے، مگر قرآن کی زبان میں وہ اولو الالباب نہیں ہوسکتے، بلکہ پرلے درجہ کے جاہل و احمق ہیں۔(191)
رَبَّنا إِنَّكَ مَن تُدخِلِ النّارَ فَقَد أَخزَيتَهُ ۖ وَما لِلظّٰلِمينَ مِن أَنصارٍ(192)
ف۲ جو شخص جتنی دیر دوزخ میں رہے گا اسی قدر رسوائی سمجھو۔ اس قاعدہ سے دائمی رسوائی صرف کفار کے لئے ہے جن آیات میں عامہ مومنین سے خزی (رسوائی) کی نفی کی گئی ہے و ہاں یہ ہی معنی سمجھنے چاہیئں۔ ف ۳ یعنی جس کو خدا دوزخ میں ڈالنا چاہے، کوئی حمایت کر کے بچا نہیں سکتا، ہاں جن کو ابتداء میں یا آخر میں چھوڑنا اور معاف کر دینا ہی منظور ہوگا (جیسے عصاۃ مومنین) ان کے لئے شفعاء کو اجازت دی جائیگی کہ سفارش کر کے بخشوائیں۔ وہ اس کے مخالف نہیں، بلکہ آیات و احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔(192)
رَبَّنا إِنَّنا سَمِعنا مُنادِيًا يُنادى لِلإيمٰنِ أَن ءامِنوا بِرَبِّكُم فَـٔامَنّا ۚ رَبَّنا فَاغفِر لَنا ذُنوبَنا وَكَفِّر عَنّا سَيِّـٔاتِنا وَتَوَفَّنا مَعَ الأَبرارِ(193)
ف ٤  یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے بڑی اونچی آواز سے دنیا کو پکارا۔ یا قرآن کریم جس کی آواز گھر گھر میں پہنچ گئی۔ ف۵ پہلے ایمان عقلی کا ذکر تھا، یہ ایمان سمعی ہوا جس میں ایمان بالرسول اور ایمان بالقرآن بھی درج ہوگیا۔ ف ٦ یعنی ہمارے بڑے گناہ بخش دے، اور چھوٹی موٹی برائیوں پر پردہ ڈال دے اور جب اٹھانا ہو نیک بندوں کے زمرہ میں شامل کر کے دنیا سے اٹھالے۔(193)
رَبَّنا وَءاتِنا ما وَعَدتَنا عَلىٰ رُسُلِكَ وَلا تُخزِنا يَومَ القِيٰمَةِ ۗ إِنَّكَ لا تُخلِفُ الميعادَ(194)
ف۷ یعنی پیغمبروں کی زبانی، ان کی تصدیق کرنے پر جو وعدے آپ نے کئے ہیں (مثلا ًدنیا میں آخرکار اعداء اللہ پر غالب و منصور کرنا اور آخرت میں جنت و رضوان سے سرفراز فرمانا) ان سے ہم کو اس طرح بہرہ اندوز کیجئے کہ قیامت کے دن ہماری کسی قسم کی ادنیٰ سے ادنیٰ رسوائی بھی نہ ہو۔ ف۸ یعنی آپ کے ہاں تو وعدہ خلافی کا احتمال نہیں، ہم میں احتمال ہے کہ مبادا ایسی غلطی نہ کر بیٹھیں جو آپ کے وعدوں سے مستفید نہ ہوسکیں۔ اس لئے درخواست ہے کہ ہم کو ان اعمال پر مستقیم رہنے کی توفیق دیجئے جن کی آپ کے وعدوں سے متمتع ہونیکے لئے ضرورت ہے۔(194)
فَاستَجابَ لَهُم رَبُّهُم أَنّى لا أُضيعُ عَمَلَ عٰمِلٍ مِنكُم مِن ذَكَرٍ أَو أُنثىٰ ۖ بَعضُكُم مِن بَعضٍ ۖ فَالَّذينَ هاجَروا وَأُخرِجوا مِن دِيٰرِهِم وَأوذوا فى سَبيلى وَقٰتَلوا وَقُتِلوا لَأُكَفِّرَنَّ عَنهُم سَيِّـٔاتِهِم وَلَأُدخِلَنَّهُم جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ ثَوابًا مِن عِندِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسنُ الثَّوابِ(195)
ف۹ یعنی مرد ہو یا عورت ہمارے ہاں کسی کی محنت ضائع نہیں جاتی۔ جو کام کریگا اس کا پھل پائیگا، یہاں عمل شرط ہے۔ نیک عمل کر کے ایک عورت بھی اپنی استعداد کے موافق آخرت کے وہ درجات حاصل کرسکتی ہے جو مرد حاصل کرسکتے ہیں۔ جب تم مرد و عورت ایک نوع انسانی کے افراد ہو، ایک آدم سے پیدا ہوئے ہو، ایک رشتہ اسلامی میں منسلک ہو، ایک اجتماعی زندگی اور امور معاشرت میں شریک رہتے ہو تو اعمال اور ان کے ثمرات میں بھی اپنے کو ایک ہی سمجھو۔ روایت میں ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا تھا! یا رسول اللہ! قرآن میں کہیں ہم عورتوں کی ہجرت و غیرہ اعمال حسنہ کا بالتحضیص ذکر نہیں آتا اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا۔ ف۱۰ یعنی جب کسی عمل کرنیوالے کا چھوٹا موٹا عمل بھی ضائع نہیں ہوتا، پھر ان مردان خدا کا تو پوچھنا ہی کیا ہے جنہوں نے کفر و عصیان چھوڑنے کے ساتھ دار الکفر بھی چھوڑ دیا۔ وطن، خویش و اقارب، اہل و عیال اور مال و منال سب کو خیر باد کہہ کر دارالاسلام کی طرف نکل کھڑے ہوئے کفار نے ان پر وہ ظلم و ستم توڑے کہ گھروں میں ٹھہرنا محال ہوگیا۔ وطن چھوڑنے اور گھر بار ترک کرنے پر بھی دشمنوں نے چین نہ لینے دیا۔ طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے رہے اور یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ وہ میرا نام لیتے تھے اور میرا کلمہ پڑھتے تھے یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِیَّاکُمْ اَنْ تُؤْمِنُوا بِاللّٰہِ رَبِّکُمْ (الممتحنہ رکوع ١، آیت:١) وَمَا نَقَمُوْا مِنْھُمْ اِلَّا اَنْ یُوْمِنُوا بِا للّٰہِ الْعَزِیْز الْحَمِیْد (بروج رکوع ١، آیت:٨) آخر وہ میرے راستہ میں لڑے اور لڑ کر جان دے دی۔ یہ بندے ہیں جن کی تمام تقصیرات معاف کر دی گئیں اور جنت انکا انتظار کر رہی ہے۔ ف۱۱ یعنی اچھا بدلہ تو خدا ہی کے پاس ہے اور کہیں سے نہیں مل سکتا۔ یا یہ مطلب ہو کہ اس بدلہ سے بھی اچھا بدلہ خدا کے پاس ہے۔ یعنی اس کا دیدار مبارک۔ رزقنا اللّٰہ وسائرالمومنین۔(195)
لا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذينَ كَفَروا فِى البِلٰدِ(196)
(196)
مَتٰعٌ قَليلٌ ثُمَّ مَأوىٰهُم جَهَنَّمُ ۚ وَبِئسَ المِهادُ(197)
ف۱ یعنی کفار جو اِدھر ادُھر تجارت و غیرہ کر کے دولت کماتے اور اکڑتے پھرتے ہیں، مسلمان کو چاہیے کہ ان سے دھوکہ نہ کھائے یہ محض چند روز کی بہار ہے۔ اگر ایک شخص کو چار دن پلاؤ، قورمے کھلانے کے بعد پھا نسی یا حبس دوام کی سزا دی جائے تو وہ کیا خوش عیش ہوا، خوش عیش وہ ہے جو تھوڑی سی محنت اور تکلیف اٹھا کر ہمیشہ کے لئے اعلیٰ درجہ کی راحت و آسائش کا سامان مہیا کر لے۔(197)
لٰكِنِ الَّذينَ اتَّقَوا رَبَّهُم لَهُم جَنّٰتٌ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها نُزُلًا مِن عِندِ اللَّهِ ۗ وَما عِندَ اللَّهِ خَيرٌ لِلأَبرارِ(198)
ف۲ اب اس عیش و کامیابی کا اس چند روزہ بہار سے مقابلہ کرو کہ یہ بہتر ہے یا وہ؟ ف۳ مہمان اس لئے کہا کہ مہمان کو اپنے کھانے پینے کی کچھ فکر کرنی نہیں پڑتی۔ عزت اور آرام سے بیٹھے بٹھائے ہرچیز تیار ملتی ہے۔(198)
وَإِنَّ مِن أَهلِ الكِتٰبِ لَمَن يُؤمِنُ بِاللَّهِ وَما أُنزِلَ إِلَيكُم وَما أُنزِلَ إِلَيهِم خٰشِعينَ لِلَّهِ لا يَشتَرونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَليلًا ۗ أُولٰئِكَ لَهُم أَجرُهُم عِندَ رَبِّهِم ۗ إِنَّ اللَّهَ سَريعُ الحِسابِ(199)
ف٤ اوپر عام متقین کا حال بیان ہوا تھا۔ اب اہل کتاب میں جو متقی ہوں ان کا خصوصیت سے ذکر فرماتے ہیں۔ یعنی جو اہل کتاب اللہ پر ٹھیک ٹھیک ایمان لائے، قرآن کو مانا اور چونکہ خود قرآن تورات و انجیل کی تصدیق کرتا ہے ان کو بھی مانا، مگر اس طرح نہیں، جیسے دنیا پرست احبار مانتے تھے کہ تھوڑے سے دنیاوی فائدہ کی خاطر آیات اللہ کو چھپا لیا یا بدل ڈالا، بلکہ خدا کے آگے عاجزی اور اخلاص سے گرے اور جس طرح اس نے کتابیں اتاری تھیں ٹھیک ٹھیک اسی اصلی رنگ میں ان کو تسلیم کیا۔ نہ بشارات کو چھپایا، نہ احکام کو بدلا۔ ایسے پاکباز حق پرست اہل کتاب کے لئے اللہ کے ہاں مخصوص اجر ہے۔ چنانچہ قرآن و حدیث کی تصریحات سے ثابت ہے کہ ایسے اہل کتاب کو دوہرا اجر ملے گا۔ ف۵ یعنی حساب کا دن کچھ دور نہیں، جلد آنے و الا ہے اور جب حساب شروع ہوگا تمام دنیا کا پائی پائی حساب بہت جلد بے باق کر دیا جائیگا۔(199)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اصبِروا وَصابِروا وَرابِطوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ(200)
ف ٦ خاتمہ پر مسلمانوں کو ایک نہایت جامع و مانع نصیحت فرما دی، جو گویا ساری سورت کا ماحصل ہے، یعنی اگر کامیاب ہونا اور دنیا و آخرت میں مراد کو پہنچنا چاہتے ہو تو سختیاں اٹھا کر بھی طاعت پر جمے رہو، معصیت سے رکو، دشمن کے مقابلہ میں مضبوطی اور ثابت قدمی دکھلاؤ، اسلام اور حدود اسلام کی حفاظت میں لگے رہو، جہاں سے دشمن کے حملہ آور ہونے کا خطرہ ہو وہاں آہنی دیوار کی طرح سینہ سپرہو کر ڈٹ جاؤ۔وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّاللّٰہِ وَعَدُوّکُمْ(انفال رکوع ٨، آیت:٦٠) اور ہر وقت ہر کام میں خدا سے ڈرتے رہو۔ یہ کر لیا تو سمجھو کہ مراد کو پہنچ گئے۔ اللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مُفْلِحِیْنَ وَفَائِزیْنَ بِفَضْلِکَ وَرَحْمَتِکَ فِی الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃِ اٰمین۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے لئے اٹھتے تو آسمان کی طرف نظر اٹھاکر یہ دس آیتیں ان فی خلق السمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ سے ختم سورۃ تک تلاوت کرتے تھے۔ تم سورۃ آل عمران بمنہ وحسن توفیقہ۔ فلہ الحمد والمنۃ وعلیٰ رسولہ الف الف سلام وتحیۃ۔(200)