Al-Sharh( الشرح)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ أَلَم نَشرَح لَكَ صَدرَكَ(1)
ف٤     کہ اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیے اور لوازم نبوت اور فرائض رسالت برداشت کرنے کو بڑا وسیع حوصلہ دیا کہ بے شمار دشمنوں کی عداوت اور مخالفوں کی مزاحمت سے گھبرانے نہ پائیں (تنبیہ) احادیث و سیر سے ثابت ہے کہ ظاہری طور پر بھی فرشتوں نے متعدد مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ چاک کیا۔ لیکن مدلول آیت کا بظاہر وہ معلوم نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم۔(1)
وَوَضَعنا عَنكَ وِزرَكَ(2)
(2)
الَّذى أَنقَضَ ظَهرَكَ(3)
ف ٥     وحی کا اترنا اول سخت مشکل تھا۔ پھر آسان ہوگیا۔ یا منصبِ رسالت کی ذمہ داریوں کو محسوس کر کے خاطر شریف پر گرانی گزرتی ہوگی۔ وہ رفع کر دی گئی۔ یا "وزر" سے وہ امورِ مباحہ مراد ہوں جو گاہ بگاہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرین حکمت و صواب سمجھ کر لیتے تھے۔ اور بعد میں ان کا خلافِ حکمت یا خلاف اولیٰ ہونا ظاہر ہوتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوجہ علو شان اور غایت قرب کے اس سے ایسے ہی مغموم ہوتے تھے جس طرح کوئی گناہ سے مغموم ہوتا ہے تو اس آیت میں ان پر مواخذہ نہ ہونے کی بشارت ہوئی۔ کذاروی عن بعض السلف۔ اور حضرت شاہ عبدالعزیز لکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمتِ عالی اور پیدایشی استعداد جن کمالات و مقامات پر پہنچنے کا تقاضا کرتی تھی۔ قلب مبارک کو جسمانی ترکیب یا نفسانی تشویشات کی وجہ سے ان پر فائز ہونا دشوار معلوم ہوتا ہوگا۔ اللہ نے جب سینہ کھول دیا اور حوصلہ کشادہ کر دیا، وہ دشواریاں جاتی رہیں اور سب بوجھ ہلکا ہوگیا۔(3)
وَرَفَعنا لَكَ ذِكرَكَ(4)
ف ٦     یعنی پیغمبروں اور فرشتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بلند ہے۔ دنیا میں تمام سمجھدار انسان نہایت عزت و وقعت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہیں۔ اذان، اقامت، خطبہ، کلمہ وطیبہ اور التحیات وغیرہ میں اللہ کے نام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا جاتا ہے اور خدا نے جہاں بندوں کو اپنی اطاعت کا حکم دیا ہے وہیں ساتھ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کی تاکید کی ہے۔(4)
فَإِنَّ مَعَ العُسرِ يُسرًا(5)
(5)
إِنَّ مَعَ العُسرِ يُسرًا(6)
ف٧    یعنی اللہ کی رضا جوئی میں جو سختیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برداشت کیں اور رنج و تعب کھینچے۔ ان میں سے ہر ایک سختی کے ساتھ کئی کئی آسانیاں ہیں۔ مثلاً حوصلہ فراخ کر دینا جس سے ان مشکلات کا اٹھانا سہل ہوگیا، اور ذکر کا بلند کرنا، جس کا تصور بڑی بڑی مصیبتوں کے تحمل کو آسان کر دیتا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روحانی راحت دی اور روحانی کلفت رفع کر دی جیسا کہ "الم نشرح" الخ سے معلوم ہوا تو اس سے دنیاوی راحت و محنت میں بھی ہمارے فضل و کرم کا امیدوار رہنا چاہیے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ بیشک موجودہ مشکلات کے بعد آسانی ہونے والی ہے اور تاکید مزید کے لئے پھر کہتے ہیں کہ ضرور موجودہ سختی کے بعد آسانی ہو کر رہے گی۔ چنانچہ احادیث و سیر سے معلوم ہو چکا کہ وہ سب مشکلات ایک ایک کر کے دور کر دی گئیں۔ اور ہر ایک سختی اپنے بعد کئی کئی آسانیاں لے کر آئی۔ اب بھی عادۃ اللہ یہی ہے کہ جو شخص سختی پر صبر کرے اور سچے دل سے اللہ پر اعتماد رکھے اور ہر طرف سے ٹوٹ کر اسی سے لو لگائے۔ اسی کے فضل و رحمت کا امیدوار رہے، امتدادِ زمانہ سے گھبرا کر آس نہ توڑ بیٹھے ضرور اللہ اس کے حق میں آسانی کرے گا۔ ایک طرح کی نہیں، کئی طرح کی، وفی الحدیث "لن یغلب عسر یسرین" وفیہ ایضا "لوجاالعسر فدخل ھٰذا الحجر لجاء الیسر حتی ید خل علیہ فیخرجہ"(6)
فَإِذا فَرَغتَ فَانصَب(7)
(7)
وَإِلىٰ رَبِّكَ فَارغَب(8)
ف ٨     یعنی جب خلق کے سمجھانے سے فراغت پائے تو خلوت میں بیٹھ کر محنت کر، تاکہ مزید یسر کا سبب بنے۔ اور اپنے رب کی طرف (بلاواسطہ) متوجہ ہو (تنبیہ) خلق کو سمجھانا اور نصیحت کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ ترین عبادت تھی۔ لیکن اس میں فی الجملہ مخلوق کا توسط ہوتا تھا۔ مطلوب یہ ہے کہ ادھر سے ہٹ کر بلاواسطہ بھی متوجہ ہونا چاہئے۔ اس کی تفسیر اور کئی طرح کی گئی ہے۔ مگر اقرب یہی معلوم ہوتی ہے۔(8)