Al-Qalam( القلم)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ ن ۚ وَالقَلَمِ وَما يَسطُرونَ(1)
(1)
ما أَنتَ بِنِعمَةِ رَبِّكَ بِمَجنونٍ(2)
ف٤    مشرکین مکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو (العیاذ باللہ) دیوانہ کہتے تھے۔ کوئی کہتا کہ شیطان کا اثر ہے جو یک بیک تمام قوم سے الگ ہو کر ایسی باتیں کرنے لگے ہیں جن کو کوئی نہیں مان سکتا، حق تعالٰی نے اس خیال باطل کی تردید اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی فرما دی۔ یعنی جس پر اللہ تعالٰی کے ایسے ایسے فضل و انعام ہوں جن کو ہر آنکھ والا مشاہدہ کر رہا ہے۔ مثلاً اعلیٰ درجہ کی فصاحت اور حکمت و دانائی کی باتیں۔ مخالف و موافق کے دل میں اس قدر قوی تاثیر اور اتنے بلند اور پاکیزہ اخلاق کیا اسے دیوانہ کہنا خود اپنی دیوانگی کی دلیل نہیں؟ دنیا میں بہت دیوانے ہوئے ہیں اور کتنے عظیم الشان مصلحین گزرے ہیں جن کو ابتداء ً قوم نے دیوانہ کہہ کر پکارا ہے۔ مگر قلم نے تاریخی معلومات کا جو ذخیرہ بطونِ اوراق میں جمع کیا ہے وہ ببانگ دہل شہادت دیتا ہے کہ واقعی دیوانوں، اور ان دیوانہ کہلانے والوں کے حالات میں کس قدر زمین و آسمان کا تفاوت ہے۔ آج آپ کو (العیاذ باللہ) مجنون کے لقب سے یاد کرنا بالکل وہی رنگ رکھتا ہے کہ جس رنگ میں دنیا کے تمام جلیل القدر اور اولوالعزم مصلحین کو ہر زمانہ کے شریروں اور بے عقلوں نے یاد کیا ہے۔ لیکن جس طرح تاریخ نے ان مصلحین کے اعلیٰ کارناموں پر بقاء و دوام کی مہر ثبت کی، اور ان مجنون کہنے والوں کا نام و نشان باقی نہ چھوڑا۔ قریب ہے کہ قلم اور اس کے ذریعہ سے لکھی ہوئی تحریریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر خیر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے مثال کارناموں اور علوم و معارف کو ہمیشہ کے لیے روشن رکھیں گی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیوانہ بتلانے والوں کا وجود صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ کر رہے گا۔ ایک وقت آئے گا جب ساری دنیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت و دانائی کی داد دے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل ترین انسان ہونے کو بطور ایک اجماعی عقیدہ کے تسلیم کرے گی۔ بھلا خداوند قدوس جس کی فضیلت و برتری کو ازل الآزال میں اپنے قلم نور سے لوحِ محفوظ کی تختی پر نقش کر چکا، کسی کی طاقت ہے کہ محض مجنون و مفتون کی پھبتیاں کس کر اس کے ایک شوشہ کو مٹا سکے؟ جو ایسا خیال رکھتا ہو پرلے درجہ کا مجنون یا جاہل ہے۔(2)
وَإِنَّ لَكَ لَأَجرًا غَيرَ مَمنونٍ(3)
ف۵    یعنی آپ غمگین نہ ہوں۔ ان کے دیوانہ کہنے سے آپ کا اجر بڑھتا ہے اور غیر محدود فیض ہدایت بنی نوع انسان کو آپ کی ذات سے پہنچنے والا ہے اس کا بے انتہاء اجرو ثواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقیناًملنے والا ہے کیا دیوانوں اور پاگلوں کا مستقبل ایسا پائدار اور شاندار کسی نے دیکھا ہے؟ یا کسی مجنون کی اسکیم اس طرح کامیاب ہوتے سنی ہے؟ پھر جس کا رتبہ اللہ کے ہاں اتنا بڑا ہو اس کو چند احمقوں کے دیوانہ کہنے کی کیا پروا ہونی چاہیے۔(3)
وَإِنَّكَ لَعَلىٰ خُلُقٍ عَظيمٍ(4)
ف ٦     یعنی اللہ تعالٰی نے جن اعلیٰ اخلاق و ملکات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا، کیا دیوانوں میں ان اخلاق و ملکات کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ ایک دیوانے کے اقوال و افعال میں قطعاً نظم و ترتیب نہیں ہوتی، نہ اس کا کلام اس کے کاموں پر منطبق ہوتا ہے برخلاف اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان قرآن ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال و اخلاق قرآن کی خاموش تفسیر۔ قرآن جس نیکی، جس خوبی اور بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں فطرۃً موجود، اور جس بدی وزشتی سے روکتا ہے آپ طبعاً اس سے نفوروبیزار ہیں۔ پیدائشی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساخت اور تربیت ایسی واقع ہوئی ہے کہ آپ کی کوئی حرکت اور کوئی چیز حد تناسب و اعتدال سے ایک انچ ادھر ادھر ہٹنے نہیں پاتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن اخلاق اجازت نہ دیتا تھا کہ جاہلوں اور کمینوں کے طعن و تشنیع پر کان دھریں جس شخص کا خلق اس قدر عظیم اور مطمح نظر اتنا بلند ہو، بھلا وہ کسی مجنون کے مجنون کہہ دینے پر کیا التفات کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے دیوانہ کہنے والوں کی نیک خواہی اور درد مندی میں اپنے کو گھلائے ڈالتے تھے جس کی بدولت "فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ" کا خطاب سننے کی نوبت آتی تھی۔ فی الحقیقت اخلاق کی عظمت کا سب سے زیادہ عمیق پہلو یہ ہے کہ آدمی دنیا کی ان حقیر ہستیوں سے معاملہ کرتے وقت خداوند قدوس کی عظیم ہستی سے غافل و ذاہل نہ ہو۔ جب تک یہ چیز قلب میں موجود رہے گی تمام معاملات عدل و اخلاق کی میزان میں پورے اتریں گے۔ کیا خوب فرمایا شیخ جنید بغدادی نے "سمی خلقہ عظیما اذلم تکن لہ ہمۃً سوی اللّٰہ تعالٰی عاشر الخلق بِخُلْقِہٖ وزایلہم بقلبہ فکان ظاہرہ مع الخلق وباطنہ مع الحق" وفی وصیتہ بعض الحکماء "عَلَیْکَ بِالْخُلْقِ مَعَ الْخَلْقِ وَبِالصِّدْقِ مَعَ الْحَقِّ۔"(4)
فَسَتُبصِرُ وَيُبصِرونَ(5)
(5)
بِأَييِكُمُ المَفتونُ(6)
ف۷    یعنی دل میں تو پہلے سمجھتے ہیں، لیکن عنقریب فریقین کو آنکھوں سے نظر آجائے گا دونوں میں سے کون ہوشیار اور عاقبت اندیش تھا اور کس کی عقل ماری گئی تھی جس کی وجہ سے پاگلوں کی طرح بچلی بچلی باتیں کرتا تھا۔(6)
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبيلِهِ وَهُوَ أَعلَمُ بِالمُهتَدينَ(7)
ف۸    یعنی پوری طرح علم تو اللہ ہی کو ہے کہ کون لوگ راہ پر آنے والے ہیں اور کون بھٹکنے والے لیکن نتائج جب سامنے آئیں گے تو سب کو نظر آجائے گا کہ کون کامیابی کی منزل پر پہنچا اور کون شیطان کی رہزنی کی بدولت ناکام و نامراد رہا۔(7)
فَلا تُطِعِ المُكَذِّبينَ(8)
(8)
وَدّوا لَو تُدهِنُ فَيُدهِنونَ(9)
ف۹    یعنی راہ پر آنے والے نہ آنے والے سب اللہ کے علم محیط میں طے شدہ ہیں۔ لہٰذا دعوت و تبلیغ کے معاملہ میں کچھ رو و رعایت کی ضرورت نہیں۔ جس کو راہ پر آنا ہوگا آرہے گا اور جو محروم ازلی ہے وہ کسی لحاظ و مروت سے ماننے والا نہیں۔ کفار مکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بت پرستی کی نسبت اپنا سخت رویہ ترک کر دیں اور ہمارے معبودوں کی تردید نہ کریں، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کی تعظیم کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طورو طریق اور مسلک و مشرب سے متعارض نہ ہوں گے۔ ممکن تھا کہ ایک مصلح اعظم کے دل میں جو "خلق عظیم" پر پیدا کیا گیا ہے۔ نیک نیتی سے یہ خیال آجائے کہ تھوڑی سی نرمی اختیار کرنے اور ڈھیل دینے سے کام بنتا ہے تو برائے چند نرم روش اختیار کرنے میں کیا مضائقہ ہے۔ اس پر حق تعالٰی نے متنبہ فرما دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان مکذبین کا کہنا نہ مانیے۔ ان کی غرض محض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھیلا کرنا ہے۔ ایمان لانا اور صداقت کو قبول کرنا مقصود نہیں۔ آپ کی بعثت کی اصلی غرض اس صورت میں حاصل نہیں ہوتی۔ آپ تو ہر طرف سے قطع نظر کر کے اپنا فرض ادا کرتے رہیے۔ کسی کو منوا دینے اور راہ پر لے آنے کے آپ ذمہ دار نہیں۔ (تنبیہ) "مداہنت" اور "مدارات" میں بہت باریک فرق ہے۔ اول الذکر مذموم ہے۔ اور آخرالذکر محمود۔ فلا تغفل "(9)
وَلا تُطِع كُلَّ حَلّافٍ مَهينٍ(10)
ف۱۰    یعنی جس کے دل میں خدا کے نام کی عظمت نہیں، جھوٹی قسم کھا لینا ایک معمولی بات سمجھتا ہے اور چونکہ لوگ اس کی باتوں پر اعتبار نہیں کرتے۔ اس لیے یقین دلانے کے لیے بار بار قسمیں کھا کر بے قدر اور ذلیل ہوتا ہے۔(10)
هَمّازٍ مَشّاءٍ بِنَميمٍ(11)
(11)
مَنّاعٍ لِلخَيرِ مُعتَدٍ أَثيمٍ(12)
(12)
عُتُلٍّ بَعدَ ذٰلِكَ زَنيمٍ(13)
ف۱١    یعنی ان خصلتوں کے ساتھ بدنام اور رسوائے عالم بھی ہے حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں "کہ یہ سب کافر کے وصف ہیں آدمی اپنے اندر دیکھے اور یہ خصلتیں چھوڑے۔" (تنبیہ) "زنیم" کے معنی بعض سلف کے نزدیک ولد الزنا اور حرام زادے کے ہیں۔ جس کافر کی نسبت یہ آیتیں نازل ہوئیں اور ایسا ہی تھا۔(13)
أَن كانَ ذا مالٍ وَبَنينَ(14)
ف۱٢    یعنی ایک شخص اگر دنیا میں طالع مند اور خوش قسمت نظر آتا ہے، مثلاً مال و اولاد وغیرہ رکھتا ہے تو محض اتنی بات سے اس لائق نہیں ہو جاتا کہ اس کی بات مانی جائے۔ اصل چیز انسان کے اخلاق و عادات ہیں، جس شخص میں شرافت اور خوش اخلاقی نہیں اللہ والوں کا کام نہیں کہ اس کی ابلہ فریب باتوں کی طرف التفات کریں۔(14)
إِذا تُتلىٰ عَلَيهِ ءايٰتُنا قالَ أَسٰطيرُ الأَوَّلينَ(15)
ف۱٣    یعنی اللہ کی باتوں کو یہ کہہ کر جھٹلاتا ہے۔(15)
سَنَسِمُهُ عَلَى الخُرطومِ(16)
ف۱    کہتے ہیں قریش کا ایک سردار ولید بن مغیرہ تھا اس میں یہ سب اوصاف مجتمع تھے اور ناک پر داغ دینے سے مراد اس کی رسوائی اور روسیاہی ہے۔ شاید دنیا میں حسی طور پر بھی کوئی داغ پڑا ہو یا آخرت میں پڑے گا۔(16)
إِنّا بَلَونٰهُم كَما بَلَونا أَصحٰبَ الجَنَّةِ إِذ أَقسَموا لَيَصرِمُنَّها مُصبِحينَ(17)
ف۲    یعنی مال و اولاد کی کثرت کوئی مقبولیت کی علامت نہیں، نہ اللہ کے ہاں اس کی کچھ قدروقیمت ہے لہٰذا کفار مکہ اس چیز پر مغرور نہ ہوں یہ تو اللہ کی طرف سے ان کی آزمائش اور جانچ ہے جیسے پہلے بعض لوگوں کی جانچ کی گئی۔(17)
وَلا يَستَثنونَ(18)
ف۳    کئی بھائی جن کے باپ نے ترکہ میں میوے کا ایک باغ چھوڑا تھا، اس میں کھیتی بھی ہوتی ہوگی۔ سارا گھر اس کی پیداوار سے آسودہ تھا، باپ کے زمانہ میں عادت تھی کہ جس دن میوہ توڑا جاتا یا کھیتی کٹتی تو شہر کے سب فقیر محتاج جمع ہو جاتے۔ یہ سب کو تھوڑا بہت دے دیتا اسی سے برکت تھی، اس کے انتقال کے بعد بیٹوں کو خیال ہوا کہ فقیر جو اتنا مال لے جاتے ہیں، وہ اپنے ہی کام آئے تو خوب ہو۔ کیونکہ ہم ایسی تدبیر نہ کریں کہ فقیروں کو کچھ دینا نہ پڑے اور ساری پیداوار گھر میں آجائے۔ پھر آپس میں مشورہ کر کے یہ رائے قرار پائی کہ صبح سویرے ہی توڑ کر گھر لے آئیں۔ فقیر جائیں گے تو وہاں کچھ نہ پائیں گے۔ اور اپنی اس تدبیر پر ایسا یقین جمایا کہ "انشاء اللہ" بھی نہ کہا۔(18)
فَطافَ عَلَيها طائِفٌ مِن رَبِّكَ وَهُم نائِمونَ(19)
(19)
فَأَصبَحَت كَالصَّريمِ(20)
ف٤    یعنی رات کو بگولا اٹھا آگ لگی یا اور کوئی آفت پڑی، سب کھیت اور باغ صاف ہو رہا۔(20)
فَتَنادَوا مُصبِحينَ(21)
(21)
أَنِ اغدوا عَلىٰ حَرثِكُم إِن كُنتُم صٰرِمينَ(22)
(22)
فَانطَلَقوا وَهُم يَتَخٰفَتونَ(23)
(23)
أَن لا يَدخُلَنَّهَا اليَومَ عَلَيكُم مِسكينٌ(24)
(24)
وَغَدَوا عَلىٰ حَردٍ قٰدِرينَ(25)
ف۵    یعنی یہ یقین کرتے ہوئے کہ اب جا کر سب پیداوار اپنے قبضہ میں کرلیں گے۔(25)
فَلَمّا رَأَوها قالوا إِنّا لَضالّونَ(26)
(26)
بَل نَحنُ مَحرومونَ(27)
ف ٦     وہ زمین کھیتی اور درختوں سے ایسی صاف ہو چکی تھی کہ وہاں پہنچ کر پہچان نہ سکے، سمجھے کہ ہم راہ بھول کر کہیں اور نکل آئے۔ پھر جب غور کیا تو سمجھے کہ نہیں، جگہ تو وہی ہے۔ مگر ہماری قسمت پھوٹ گئی اور حق تعالٰی کی درگاہ سے ہم محروم کیے گئے۔(27)
قالَ أَوسَطُهُم أَلَم أَقُل لَكُم لَولا تُسَبِّحونَ(28)
ف۷    منجھلا بھائی ان میں زیادہ ہشیار تھا۔ اس نے مشورہ کے وقت متنبہ کیا ہوگا کہ اللہ کو مت بھولو۔ یہ سب اسی کا انعام سمجھو اور فقیر محتاج کی خدمت سے دریغ نہ کرو۔ جب کسی نے اس کی بات پر کان نہ دھرا، چپ ہو رہا اور ان ہی کا شریک حال ہوگیا۔ اب یہ تباہی دیکھ کر اس نے وہ پہلی بات یاد دلائی۔(28)
قالوا سُبحٰنَ رَبِّنا إِنّا كُنّا ظٰلِمينَ(29)
(29)
فَأَقبَلَ بَعضُهُم عَلىٰ بَعضٍ يَتَلٰوَمونَ(30)
ف۸    اب اپنی تقصیر کا اعتراف کر کے رب کی طرف رجوع ہوئے اور جیسا کہ عام مصیبت کے وقت قاعدہ ہے ایک دوسرے کو الزام دینے لگے، ہر ایک دوسرے کو اس مصیبت اور تباہی کا سبب گردانتا تھا۔(30)
قالوا يٰوَيلَنا إِنّا كُنّا طٰغينَ(31)
(31)
عَسىٰ رَبُّنا أَن يُبدِلَنا خَيرًا مِنها إِنّا إِلىٰ رَبِّنا رٰغِبونَ(32)
ف۹    آخر میں سب مل کر کہنے لگے کہ واقعی ہماری سب کی زیادتی تھی کہ ہم نے فقیروں محتاجوں کا حق مارنا چاہا اور حرص و طمع میں آکر اصل بھی کھو بیٹھے۔ یہ جو کچھ خرابی آئی اس میں ہم ہی قصور وار ہیں، مگر اب بھی ہم اپنے رب سے نا امید نہیں کیا عجب ہے وہ اپنی رحمت سے پہلے باغ سے بہتر باغ ہم کو عطا کر دے۔(32)
كَذٰلِكَ العَذابُ ۖ وَلَعَذابُ الءاخِرَةِ أَكبَرُ ۚ لَو كانوا يَعلَمونَ(33)
ف۱۰    یعنی یہ تو دنیا کے عذاب کا ایک چھوٹا سا نمونہ تھا جسے کوئی ٹال نہ سکا۔ بھلا آخرت کی اس بڑی آفت کو تو کون ٹال سکتا ہے۔ سمجھ ہو تو آدمی یہ بات سمجھے۔(33)
إِنَّ لِلمُتَّقينَ عِندَ رَبِّهِم جَنّٰتِ النَّعيمِ(34)
ف۱۱    یعنی دنیا کے باغ و بہار کو کیا لیے پھرتے ہو جنت کے باغ ان سے کہیں بہتر ہیں جن میں ہر قسم کی نعمتیں جمع ہیں۔ وہ خاص متقین کے لیے ہیں۔(34)
أَفَنَجعَلُ المُسلِمينَ كَالمُجرِمينَ(35)
(35)
ما لَكُم كَيفَ تَحكُمونَ(36)
ف۱    کفار مکہ نے غرور وتکبر سے اپنے دل میں یہ ٹھہرا رکھا تھا کہ اگر قیامت کے دن مسلمانوں پر عنایت و بخشش ہوگی تو ہم پر ان سے بہتر اور بڑھ کر ہوگی۔ اور جس طرح دنیا میں ہم کو اللہ نے عیش و رفاہیت میں رکھا ہے وہاں بھی یہ ہی معاملہ رہے گا۔ اس کو فرمایا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے اگر ایسا ہو تو یہ مطلب ہوگا کہ ایک وفادار غلام جو ہمیشہ اپنے آقا کی حکم برداری کے لیے تیار رہتا ہے، اور ایک جرائم پیشہ باغی دونوں کا انجام یکساں ہو جائے، بلکہ مجرم اور باغی، وفاداروں سے اچھے رہیں یہ وہ بات ہے جس کو عقل سلیم اور فطرتِ صحیحہ رد کرتی ہے۔(36)
أَم لَكُم كِتٰبٌ فيهِ تَدرُسونَ(37)
(37)
إِنَّ لَكُم فيهِ لَما تَخَيَّرونَ(38)
(38)
أَم لَكُم أَيمٰنٌ عَلَينا بٰلِغَةٌ إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ ۙ إِنَّ لَكُم لَما تَحكُمونَ(39)
(39)
سَلهُم أَيُّهُم بِذٰلِكَ زَعيمٌ(40)
ف۲    یعنی یہ بات کہ مسلم اور مجرم دونوں برابر کر دیے جائیں ظاہر ہے عقل و فطرت کے خلاف ہے۔ پھر کیا کوئی نقلی دلیل اس کی تائید میں تمہارے پاس ہے؟ کیا کسی معتبر کتاب میں یہ مضمون پڑھتے ہو کہ جو تم اپنے لیے پسند کر لو گے وہ ہی ملے گا؟ اور تمہاری من مانی خواہشات پوری کی جائیں گی۔ یا اللہ نے قیامت تک کے لیے کوئی قسم کھالی ہے کہ تم جو کچھ اپنے دل سے ٹھہرالو گے وہ ہی دیا جائے گا؟ اور جس طرح آج عیش و رفاہیت میں ہو۔ قیامت تک اسی حال میں رکھے جاؤ گے؟ جو شخص ان میں سے ایسا دعویٰ کرے اور اس کے ثابت کرنے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے، لاؤ، اسے سامنے کرو۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ وہ کہاں سے کہتا ہے۔(40)
أَم لَهُم شُرَكاءُ فَليَأتوا بِشُرَكائِهِم إِن كانوا صٰدِقينَ(41)
ف۳    یعنی اگر عقلی و نقلی دلیل کوئی نہیں، محض جھوٹے دیوتاؤں کے بل بوتے پر یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ وہ ہم کو یوں کر دیں گے اور یوں مرتبے دلا دیں گے، کیونکہ وہ خود خدائی کے شریک اور حصہ دار ہیں تو اس دعوے میں ان کا سچا ہونا اسی وقت ثابت ہوگا جب وہ ان شرکاء کو خدا کے مقابلہ پر بلا لائیں اور اپنی من مانی کارروائی کرا دیں۔ لیکن یاد رہے کہ وہ معبود عابدوں سے زیادہ عاجز اور بے بس ہیں۔ وہ تمہاری کیا مدد کریں گے، خود اپنی مدد بھی نہیں کر سکتے۔(41)
يَومَ يُكشَفُ عَن ساقٍ وَيُدعَونَ إِلَى السُّجودِ فَلا يَستَطيعونَ(42)
ف٤    اس کا قصہ حدیث شیخین میں مرفوعاً اس طرح آیا ہے کہ حق تعالٰی میدانِ قیامت میں اپنی ساق ظاہر فرمائے گا "ساق" (پنڈلی) کو کہتے ہیں اور یہ کوئی خاص صفت یا حقیقت ہے صفات و حقائق الٰہیہ میں سے جس کو کسی خاص مناسبت سے "ساق" فرمایا۔ جیسے قرآن میں "ید" (ہاتھ) "وجہ" (چہرہ) کا لفظ آیا ہے۔ یہ مفہومات متشابہات میں سے کہلاتے ہیں۔ ان پر اسی طرح بلا کیف ایمان رکھنا چاہیے جیسے اللہ کی ذات، وجود، حیات اور سمع و بصر وغیرہ صفات پر ایمان رکھتے ہیں۔ اسی حدیث میں ہے کہ اس تجلی کو دیکھ کر تمام مومنین و مومنات سجدہ میں گر پڑیں گے۔ مگر جو شخص ریا، سے سجدہ کرتا تھا، اس کی کمر نہیں مڑے گی۔ تختہ سی ہو کر رہ جائے گی، اور جب اہل ریاء و نفاق سجدہ پر قادر نہ ہوں گے تو کفار کا اس پر قادر نہ ہونا بطریق اولیٰ معلوم ہوگیا۔ یہ سب کچھ محشر میں اس لیے کیا جائے گا کہ مومن و کافر اور مخلص و منافق صاف طور پر کھل جائیں اور ہر ایک کی اندرونی حالت حسی طور پر مشاہد ہو جائے (تنبیہ) "متشابہات" پر پہلے کلام کیا جا چکا ہے اور حضرت شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس آیت "کشف ساق" کی تفسیر میں نہایت عالی اور عجیب تبصرہ متشابہات پر کیا ہے۔ فلیراجع۔(42)
خٰشِعَةً أَبصٰرُهُم تَرهَقُهُم ذِلَّةٌ ۖ وَقَد كانوا يُدعَونَ إِلَى السُّجودِ وَهُم سٰلِمونَ(43)
ف۵    یعنی ندامت اور شرمندگی کے مارے آنکھ اوپر نہ اٹھ سکے گی۔ ف ٦     یعنی دنیا میں سجدہ کا حکم دیا گیا تھا جس وقت اچھے خاصے تندرست تھے اور باختیار خود سجدہ کر سکتے تھے وہاں کبھی اخلاص سے سجدہ نہ کیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ استعداد ہی باطل ہوگئی۔ اب چاہیں بھی تو سجدہ نہیں کر سکتے۔(43)
فَذَرنى وَمَن يُكَذِّبُ بِهٰذَا الحَديثِ ۖ سَنَستَدرِجُهُم مِن حَيثُ لا يَعلَمونَ(44)
ف۷    یعنی ان کو عذاب ہونا تو یقینی ہے لیکن چندے عذاب کے توقف سے رنج نہ کیجیے اور ان کا معاملہ میرے اوپر چھوڑ دیجیے۔ میں خود ان سے نبٹ لوں گا اور اس طرح بتدریج آہستہ آہستہ دوزخ کی طرف لے جاؤں گا کہ ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ یہ اپنی حالت پر مگن رہیں گے اور اندر ہی اندر سکھ کی جڑیں کٹتی چلی جائیں گیں۔(44)
وَأُملى لَهُم ۚ إِنَّ كَيدى مَتينٌ(45)
ف۸    یعنی میری لطیف اور خفیہ تدبیر ایسی پکی ہے، جس کو یہ لوگ سمجھ بھی نہیں سکتے بھلا اس کا توڑ تو کیا کر سکتے ہیں۔(45)
أَم تَسـَٔلُهُم أَجرًا فَهُم مِن مَغرَمٍ مُثقَلونَ(46)
(46)
أَم عِندَهُمُ الغَيبُ فَهُم يَكتُبونَ(47)
ف۹    یعنی افسوس اور تعجب کا مقام ہے کہ یہ لوگ اس طرح تباہی کی طرف چلے جا رہے ہیں لیکن آپ کی بات نہیں مانتے۔ آخر نہ ماننے کی وجہ کیا ہے؟ کیا آپ ان سے کچھ معاوضہ (تنخواہ یا کمیشن وغیرہ) طلب کرتے ہیں؟ جس کے بوجھ میں وہ دبے جا رہے ہیں۔ یا خود ان کے پاس غیب کی خبریں اور اللہ کی وحی آتی ہے؟ جسے وہ حفاظت کے لیے قرآن کی طرح لکھ لیتے ہیں۔ اس لیے آپ کی اتباع کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ آخر کچھ سبب تو ہونا چاہیے۔ جب ان پر کچھ بار بھی ڈالا نہیں جاتا اس چیز سے استغنا بھی نہیں تو نہ ماننے کا سبب بجزعناد اور ہٹ دھرمی کے اور کیا ہو سکتا ہے۔(47)
فَاصبِر لِحُكمِ رَبِّكَ وَلا تَكُن كَصاحِبِ الحوتِ إِذ نادىٰ وَهُوَ مَكظومٌ(48)
ف۱۰    یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے والے پیغمبر (حضرت یونس علیہ السلام) کی طرح مکذبین کے معاملہ میں تنگ دلی اور گھبراہٹ کا اظہار نہ کیجیے۔ ان کا قصہ پہلے کئی جگہ تھوڑا تھوڑا گزر چکا ہے۔ ف۱۱    یعنی قوم کی طرف سے غصہ میں بھرے ہوئے تھے جھنجھلا کر شتابی عذاب کی دعا بلکہ پیشن گوئی کر بیٹھے (تنبیہ) "مکظوم" کے معنی بعض مفسرین نے یہ کیے ہیں کہ وہ غم سے گھٹ رہے تھے اور یہ غم مجموعہ تھا کئی غموں کا۔ قوم کے ایمان نہ لانے کا، ایک عذاب کے ٹل جانے کا، ایک بلا اذانِ صریح شہر چھوڑ کر چلے آنے کا، ایک مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کا۔ اس وقت اللہ کو پکارا اور یہ دعاء کی "لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ۔" اس پر اللہ کا فضل ہوا اور مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی۔(48)
لَولا أَن تَدٰرَكَهُ نِعمَةٌ مِن رَبِّهِ لَنُبِذَ بِالعَراءِ وَهُوَ مَذمومٌ(49)
ف۱    یعنی اگر قبولِ توبہ کے بعد اللہ کا مزید فضل و احسان دستگیری نہ کرتا تو اسی چٹیل میدان میں جہاں مچھلی کے پیٹ سے نکال کر ڈالے گئے تھے الزام کھائے ہوئے پڑے رہتے اور وہ کمالات و کرامات باقی نہ رہنے دیے جاتے جو محض خدا کی مہربانی سے اس ابتلاء کے وقت بھی باقی رہے۔(49)
فَاجتَبٰهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصّٰلِحينَ(50)
ف۲    یعنی پھر ان کا اور زیادہ رتبہ بڑھایا۔ اور اعلیٰ درجہ کے نیک و شائستہ لوگوں میں داخل رکھا۔ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص نہ کہے کہ میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) یونس بن متّٰی سے بہتر ہوں۔(50)
وَإِن يَكادُ الَّذينَ كَفَروا لَيُزلِقونَكَ بِأَبصٰرِهِم لَمّا سَمِعُوا الذِّكرَ وَيَقولونَ إِنَّهُ لَمَجنونٌ(51)
ف۳    یعنی قرآن سن کر غیظ و غضب میں بھر جاتے ہیں اور اس قدر تیز نظروں سے تیری طرف گھورتے ہیں جانے تجھ کو اپنی جگہ سے ہٹا دیں گے۔ زبان سے بھی آوازے کستے ہیں کہ یہ شخص تو مجنون ہوگیا ہے۔ اس کی کوئی بات قابل التفات نہیں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس طرح آپ کو گھبرا کر مقام صبرو استقلال سے ڈگمگا دیں۔ مگر آپ برابر اپنے مسلک پر جمے رہیے۔ اور تنگدل ہو کر کسی معاملہ میں گھبراہٹ یا جلدی یا مداہنت اختیار نہ کیجیے۔ (تنبیہ) بعض نے "لیزلقونک بابصارہم" سے یہ مطلب لیا ہے کہ کفار نے بعض لوگوں کو جو نظر لگانے میں مشہور تھے اس پر آمادہ کیا تھا کہ وہ آپ کو نظر لگائیں۔ چنانچہ جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم قرآن تلاوت فرما رہے تھے، ان میں سے ایک آیا اور پوری ہمت سے نظر لگانے کی کوشش کی۔ آپ نے "لاحول ولا قوۃ الا باللہ" پڑھا اور وہ ناکام و نامراد واپس چلا گیا۔ باقی نظر لگنے یا لگانے سے مسئلہ پر بحث کرنے کا یہ موقع نہیں۔ اور آجکل جبکہ "مسمریزم" ایک باقاعدہ فن بن چکا ہے، اس میں مزید ردوکد کرنا بیکار سا معلوم ہوتا ہے۔(51)
وَما هُوَ إِلّا ذِكرٌ لِلعٰلَمينَ(52)
ف٤    یعنی قرآن میں جنون اور باؤلے پن کی بات کون سی ہے جس کو تم جنون کہہ رہے ہو وہ تو تمام عالم کے لیے اعلیٰ ترین پندو نصیحت کا ذخیرہ ہے۔ اسی سے بنی نوع انسان کی اصلاح اور دنیا کی کایا پلٹ ہوگی۔ اور وہ ہی لوگ دیوانے قرار پائیں گے جو اس کلام کے دیوانے نہیں ہیں۔(52)