Al-Nas( الناس)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ قُل أَعوذُ بِرَبِّ النّاسِ(1)
(1)
مَلِكِ النّاسِ(2)
(2)
إِلٰهِ النّاسِ(3)
ف ٦     اگرچہ اللہ تعالٰی کی شانِ ربوبیت اور بادشاہت وغیرہ تمام مخلوقات کو شامل ہے، لیکن ان صفات کا جیسا کامل ظہر انسانوں میں ہوا، کسی دوسری مخلوق میں نہیں ہوا۔ اس لئے "رب" اور "ملکِ" وغیرہ کی اضافت ان ہی کی طرف کی گئی۔ نیز وسواس میں مبتلا ہونا بجز انسان کے دوسری مخلوق کی شان بھی نہیں۔(3)
مِن شَرِّ الوَسواسِ الخَنّاسِ(4)
ف٧    شیطان نظروں سے غائب رہ کر آدمی کو بہکاتا پھسلاتا ہے۔ جب تک آدمی غفلت میں رہا اس کا تسلط بڑھتا رہا۔ جہاں بیدار ہو کر اللہ کو یاد کیا یہ فوراً پیچھے کو کھسکا۔(4)
الَّذى يُوَسوِسُ فى صُدورِ النّاسِ(5)
(5)
مِنَ الجِنَّةِ وَالنّاسِ(6)
ف ٨     شیطان جنوں میں بھی ہیں اور آدمیوں میں بھی۔ "وکذالک جعلنا لکل نبی عذوا شیاطین الانس والجن یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرورًا " (انعام۔ رکوع١٤) اللہ تعالٰی دونوں سے پناہ میں رکھے (تکملہ) ان دونوں سورتوں کی تفسیر میں علماء حکماء نے بہت کچھ نکتہ آفرینیاں کی ہیں۔ حافظ ابن قیم، امام رازی، ابن سینا، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے بیانات درج کرنے کی یہاں گنجائش نہیں صرف استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس اللہ روحہ، کی تقریر کا خلاصہ درج کرتا ہوں تاکہ فوائد قرآن کے حسنِ خاتمہ کے لئے ایک فال نیک ثابت ہو، " یہ ایک فطری اور عام دستور ہے کہ باغ میں جب کوئی نیا پودا زمین کو شق کرتا ہوا تخم سے باہر نکل آتا ہے تو باغبان (یا مالی) اس کے تحفظ میں پوری کوشش اور ہمت صرف کر دیتا ہے اور جب تک وہ جملہ آفات ارضی و سماوی سے محفوظ ہو کر اپنے حدِ کمال کو نہیں پہنچ جاتا اس وقت تک بہت زیادہ تردد اور عرق ریزی کرنا پڑتی ہے۔ اب غور کرنا چاہیے کہ پودے کی زندگی کو فنا کر دینے والی یا اس کے ثمرات کے تمتع سے مالک کو محروم بنا دینے والی وہ کون کون سی آفات ہیں جن کے شر اور مضرت سے بچا لینے میں باغبان کو اپنی مساعی کے کامیاب بنانے کی ہر وقت دھن لگی رہتی ہے۔ ادنیٰ تامل سے معلوم ہو جائے گا کہ ایسی آفات اکثر چار طرح سے ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ جن کے انسداد کے لئے باغبان کو چار امور کی اشد ضرورت ہے (اول) ایسے سبزہ خور جانوروں کے دندان و دہن کو اس پودے تک پہنچنے سے روکا جائے جن کی جِبِلت اور خِلقت میں سبزہ و گیاہ کا کھانا داخل ہے (دوسرے) کنویں یا نہریا بارش کا پانی اور ہوا اور حرارتِ آفتاب (غرضیکہ تمام اسباب زندگی و ترقی) کے پہنچنے کا پورا انتظام ہو۔ (تیسرے) اوپر سے برف اولہ وغیرہ جو اس کی یہ حرارت غریز کے احتقان کا باعث ہو۔ اس پر گرنے نہ پائے۔ کیونکہ یہ چیز اس کی ترقی اور نشوونما کو روکنے والی ہے (چوتھے) مالکِ باغ کا دشمن یا اور کوئی حاسد اس پودے کی شاخ و برگ وغیرہ کو نہ کاٹ ڈالے یا اس کو جڑ سے اکھاڑ کر نہ پھینک دے۔ اگر ان چار باتوں کا خاطر خواہ بندوبست باغبان نے کر لیا تو خدا سے امید رکھنا چاہیے کہ وہ پودا بڑا ہوگا۔ پھولے پھلے گا، اور مخلوق اس کی پر میوہ شاخوں سے استفادہ کرے گی۔ ٹھیک اسی طرح ہم کو خالقِ ارض وسما سے جو رب الفلق اور فالق الحب والنویٰ اور چمنستانِ عالم کا حقیقی مالک و مربی ہے اپنے شجرِ وجود اور شجر ایمان کے متعلق ان ہی چار قسم کی آفات سے پناہ مانگنا چاہیے جو اوپر مذکور ہوئیں۔ پس معلوم کرنا چاہیے کہ جس طرح اول قسم میں سبزہ خور جانوروں کی ضرر رسانی محض ان کی طبیعت کے مقتضیات میں سے تھی، اسی طرح "شر" کی اضافت "ماخلق" کی طرف سے بھی اسی جانب مشیر ہے کہ یہ شر اس مخلوق میں من حیث ہو مخلوق کے واسطے ثابت ہے اور اس کے صدور میں بجز ان کی طبعیت اور پیدائشی دواعی کے اور کسی سبب کو دخل نہیں جیسا کہ سانپ بچھو اور تمام سباع و بہائم وغیرہ میں مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ نیش عقرب نہ ازبے کین است مقتضائے طبیعتش این است    اس کے بعد دوسرے درجہ میں "غاسق اذاوقب" سے تعوذ کی تعلیم دی گئی ہے جس سے مفسرین کے نزدیک مراد یا تورات ہے جب خوب اندھیری ہو، یا آفتاب ہے جب غروب ہو جائے، یا چاند ہے جب اس کو گہن لگ جائے ان میں سے کوئی معنی لو۔ اتنی بات یقینی ہے کہ غاسق میں سے شر کا پیدا ہونا اس کے وقوب (چھپ جانے) میں اس کے سوا کوئی بات نہیں کہ ایک چیز کا علاقہ ہم سے منقطع ہو جائے اور جو فوائد اس کے ظہور کے وقت ہم کو حاصل ہوتے تھے وہ اب ہاتھ نہ آئیں۔ لیکن جب یہ ہے تو یہ تمثیل اسباب و مسببات سے زیادہ اور کسی چیز پر چسپاں نہیں ہوتی۔ کیونکہ مسبب کا وجود اسباب و معدات کے وجود پر موقوف ہوتا ہے۔ اور جب تک اسباب کا علاقہ مسببات کے ساتھ قائم نہ ہو، ہرگز کوئی مسبب اپنی ہستی میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اور یہی وہ بات ہے جس کو ہم نے آفت کی دوسری قسم میں یہ کہہ کر بیان کیا تھا کہ پانی، ہوا اور حرارت آفتاب (غرض کل اسباب زندگی و ترقی) کا اگر خاطر خواہ انتظام نہ ہو تو وہ پودا کملا کر خشک ہو جائے گا اب اس کے بعد تیسرا تعوذ "نفاثاتِ فی العقد" سے کیا گیا، جس سے میں کہہ چکا ہوں ساحرانہ اعمال مراد ہیں۔ جو لوگ سحر کا وجود تسلیم کرتے ہیں وہ یہ مانتے ہیں کہ سحر کے اثر سے مسحور کو ایسے امور عارض ہو جاتے ہیں جن سے طبیعت کے اصلی آثار مغلوب ہو کر دب جائیں تو سحر کی یہ آفت اس آفت سے بہت ہی مشابہ ہوئی جو پودے پر برف وغیرہ گرنے اور حرارت غریزیہ کے محتقن (بند) ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی تھی جس سے اس کا نشوونما رک جاتا تھا۔ لید بن اعصم کے قصہ میں جو الفاظ آئے ہیں۔" فقام علیہ الصلوٰۃ والسلام کانما انشط من عقال" ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی چیز نے مستولی ہو کر آپ کے مقتضیاتِ طبیعت کو چھپا لیا تھا جو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے تعوذ سے باذن اللہ دفع ہوگئی۔ اب ان آفات میں سے جن سے تحرز کرنا ضروری قرار دیا گیا تھا صرف ایک آخری درجہ باقی ہے۔ یعنی کوئی مالکِ باغ کا دشمن بربناءِ عداوت وحسد پودے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے یا اس کی شاخ وبرگ کاٹ ڈالے۔ "شر" کے اس مرتبہ کو "من شر حاسد اذا حسد" نے بہت ہی وضاحت کے ساتھ ادا کر دیا ہاں اس تقریر میں اگر کچھ کمی ہے تو صرف اتنی کہ کبھی کبھی تحم کو ان چاروں آفات میں سے کسی کا سامنا کرنا نہیں پڑتا، بلکہ روئیدگی سے پہلے ہی یا تو بعض چیونٹیاں اس تحم کے باطن میں سے وہ خاص جوہر چوس لیتی ہیں جس سے تخم کی روئیدگی ہوتی ہے اور جس کو ہم "قلب الحبوب" یا "سویدائے تخم" سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ یا اندر ہی اندر گھن لگ کر کھوکھلا ہو جاتا ہے اور قابل نشوونما نہیں رہتا۔     شاید اسی سرسری کمی کی تلافی کے لئے دوسری سورت میں "الوسواس الخناس" کے شر سے استعاذہ کی تعلیم فرمائی گئی۔ کیونکہ "وسواس" ان ہی فاسد خطرات کا نام ہے جو ظاہر ہو کر نہیں، بلکہ اندرونی طور پر ایمان کی قوت میں رخنہ ڈالتے ہیں۔ اور جن کا علاج عالم الخفیات والسرائر کے سوا کسی کے قبضہ میں نہیں۔ لیکن جب وساوس کا مقابلہ ایمان سے ٹھہرا تو دفعِ وسواس کے واسطے انہی صفات سے تمسک کرنے کی ضرورت ہوئی جو ایمان کے اصل مبادی و مناشی گنے جاتے ہیں اور جن سے ایمان کو مدد پہنچتی ہے۔ اب تجربہ سے معلوم ہوا کہ سب سے اول ایمان (انقیاد و تسلیم) کا نشوونما حق تعالٰی کی تربیت ہائے بے پایاں اور انعامات بے غایت ہی کو دیکھ کر حاصل ہوتا ہے۔ پھر جب ہم ان کس ربوبیتِ مطلقہ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمارا ذہن ادھر منتقل ہوتا ہے کہ وہ رب العزت مالک الملک اور شہنشاہِ مطلق بھی ہے کیونکہ تربیتِ مطلقہ کے معنی ہر قسم کی جسمانی وروحانی ضروریات بہم پہنچانے کے ہیں اور یہ کام بجز ایسی ذات منبع الکمالات کے اور کسی سے بن نہیں پڑ سکتا۔ جو ہر قسم کی ضروریات کی مالک ہو اور دنیا کی کوئی ایک چیز بھی اس کے قبضہء اقتدار سے خارج نہ ہو سکے۔ ایسی ہی ذات کو ہم "مالک الملک" اور "شہنشاہِ مطلق" کہہ سکتے ہیں۔ اور لاریب اسی کی یہ شان ہونی چاہئے۔ "لمن الملک الیوم للہ الواحد القھار" گویا "مالکیت" یا "ملکیت" ایک ایسی قوت کا نام ہے جس کی فعلیت کا مرتبہ "ربوبیت" سے موسوم ہوتا ہیں کیونکہ ربوبیت کا کل خلاصہ اعطاءِ منفعت اور دفعِ مضرت ہے اور ان دونوں چیزوں پر قادر ہونا ہی ملک علی الاطلاق کا منصب ہے۔ پھر ذرا اور آگے بڑھتے ہیں تو ملک علی الاطلاق ہونے ہی سے ہم کو اس کی معبودیت (الٰہیت) کا سراغ ملتا ہے۔ کیونکہ معبود اسی کو کہتے ہیں جس کے حکم کے سامنے گردن ڈال دی جائے اور اس کے حکم کے مقابلہ میں کسی دوسرے کے حکم کی اصلا پروانہ کی جائے۔ تو ظاہر ہے کہ یہ انقیا دو بندگی بجز محبت کاملہ اور حکومت مطلقہ کے اور کسی کے سامنے سزاوار نہیں اور ان دونوں چیزوں کا اصلی مستحق اللہ تعالٰی کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ اس لئے معبودیت والٰہیت کی صفت بھی تنہا اسی وحدہ لاشریک لہ، کے لئے ثابت ہوگئی۔ پڑھو "اتعبدون من دون اللہ مالا یملک لکم ضرا ولا نفعا" غرض سب سے اول جو صفت ایمان کا مبداء بنتی ہے وہ ربوبیت ہے اس کے بعد صفت ملکیت اور سب کے بعد الوہیت کا مرتبہ ہے۔ پس جو شخص اپنے ایمان کو وسواس شیطانی کی مضرت سے بچانے کے لئے حق تعالٰی کی بارگاہ میں چارہ جوئی کرے گا اس کو اسی طرح درجہ بدرجہ نیچے کی عدالت سے اوپر کی عدالت میں جانا مناسب ہوگا جس طرح خود اس نے بالترتیب اپنی صفات (رب الناس، ملک الناس، الہ الناس) کو سورہ "الناس" میں بیان فرما دیا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ جس طرح مستعاذبہ کی جانب میں یہاں تین صفتیں بغیر واؤ عطف اور بغیر اعادہ باء جارہ کے مذکور ہیں اسی طرح مستعاذ منہ کی جانب بھی تین چیزیں نظر آتی ہیں جو صفت در صفت کر کے بیان کی گئی ہیں۔     اس کو یوں سمجھ سکتے ہو کہ لفظ وسواس کو صفت الوہیت کے مقابلہ میں رکھو، کیونکہ جس طرح مستعاذبہ حقیقی "الہ الناس" ہے اور "ملک" و "رب" اسی تک رسائی حاصل کرانے کے عنوان قرار دیے گئے ہیں، اسی طرح مستعاذ منہ کی حقیقت یہ ہی وسواس ہے جس کی صفت آگے "خناس" بیان فرمائی ہے۔ "خناس" سے مراد یہ ہے کہ شیطان بحالت غفلت آدمی کے دل میں وسواس ڈالتا رہتا ہے، اور جب کوئی بیدار ہو جائے تو چوروں کی طرح پیچھے کو کھسک آتا ہے ایسے چوروں اور بدمعاشوں کا بندوبست اور ان کے دستِ تعدی سے رعایا کو مصؤن و مامون بنانا بادشاہانِ وقت کا خاص فریضہ ہوتا ہے اس لیے مناسب ہوگا کہ اس صفت کے مقابل "ملک الناس" کو رکھا جائے۔ اور "الذی یوسوس فی صدور الناس" جو "خناس" کی فعلیت کا درجہ ہے اور جس کو ہم چور کے نقب لگانے سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔ اس کو "رب الناس" کے مقابلہ میں (جو حسب تحریر سابق "ملک الناس" کی فعلیت کا مرتبہ ہے) شمار کیا جائے۔ پھر دیکھئے کہ مستعاذ منہ اور مستعاذبہ میں کس قدر تام اور کامل تقابل ظاہر ہوتا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم باسرار کلامہ۔ (تنبیہ) کئی صحابہ (مثلاً عائشہ صدیقہ، ابن عباس زید بن ارقم رضی اللہ عنہم) سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض یہود نے سحر کیا۔ جس کے اثر سے ایک طرح کا مرض سا بدن مبارک کو لاحق ہوگیا۔ اس دوران میں کبھی ایسا بھی ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دنیاوی کام کر چکے ہیں، مگر خیال گزرتا تھا کہ نہیں کیا۔ یا ایک کام نہیں کیا اور خیال ہوتا تھا کہ کر چکے ہیں۔ اس کے علاج کے واسطے اللہ تعالٰی نے یہ دو سورتیں نازل فرمائیں اور ان کی تاثیر سے وہ اثر باذن اللہ زائل ہوگیا۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ صحیحین میں موجود ہے جس پر آج تک کسی محدث نے جرح نہیں کی۔ اور اس طرح کی کیفیت منصبِ رسالت کے قطعاً منافی نہیں۔ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی بیمار ہوئے۔ بعض اوقات غشی طاری ہوگئی یا کئی مرتبہ نماز میں سہو ہوگیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "انما انا بشر انسی کما تنسون فاذا نسیت فذکرونی" (میں بھی ایک بشر ہی ہوں جیسے تم بھولتے ہو، میں بھی بھولتا ہوں، میں بھول جاؤں تو یاد دلا دیا کرو) کیا اس غشی کی کیفیت اور سہود نسیان کو پڑھ کر کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اب وحی پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری باتوں پر کیسے یقین کریں، ممکن ہے ان میں بھی سہو و نسیان اور بھول چوک ہوگئی ہو۔ اگر وہاں سہوو نسیان کے ثبوت سے یہ لازم نہیں آتا کہ وحی الہٰی اور فرائض تبلیغ میں شکوک و شبہات پیدا کرنے لگیں، تو اتنی بات سے کہ احیاناً آپ ایک کام کر چکے ہوں اور خیال گزرے کہ نہیں کیا، کس طرح لازم آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام تعلیمات اور فرائض بعثت سے اعتبار اٹھ جائے۔ یاد رکھیے سہوو نسیان، مرض اور غشی وغیرہ عوارض خواصِ بشریت سے ہیں۔ اگر انبیاء بشر ہیں، تو ان خواص کا پایا جانا اس کے رتبہ کو کم نہیں کرتا۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ جب ایک شخص کی نسبت دلائل قطیعہ اور براہین نیرہ سے ثابت ہو جائے کہ وہ یقینا اللہ کا سچا رسول ہے، تو ماننا پڑے گا کہ اللہ نے اس کی عصمت کا تکفل کیا ہے اور وہی اس کو اپنی وحی کے یاد کرانے سمجھانے اور پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔ ناممکن ہے کہ اس کے فرائض دعوت و تبلیغ کی انجام دہی میں کوئی طاقت خلل ڈال سکے۔     نفس ہو، یا شیطان، مرض ہو، یا جادو، کوئی چیز ان امور میں رخنہ اندازی نہیں کر سکتی، جو مقصد بعثت کے متعلق ہیں۔ کفار جو انبیاء کو "مسحور" کہتے تھے، چونکہ ان کا مطلب نبوت کا ابطال اور یہ ظاہر کرنا تھا کہ جادو کے اثر سے ان کی عقل ٹھکانے نہیں رہی، گویا "مسحور" کے معنی "مجنون" کے لیتے تھے اور وحی الہٰی کو جوشِ جنون قرار دیتے تھے (العیاذ باللہ) اس لئے قرآن میں ان کی تکذیب و تردید ضروری ہوئی۔ یہ دعویٰ کہیں نہیں کیا گیا کہ انبیاء علیہم السلام لوازم بشریت سے مستشنٰی ہیں۔ اور کسی وقت ایک آن کے لئے کسی نبی پر سحر کا معمولی اثر جو فرائضِ بعثت میں اصلا خلل اندازہ ہو نہیں ہو سکتا۔ (تنبیہ دوم) معوذتین کے قرآن ہونے پر تمام صحابہ کا اجماع ہے اور ان کے عہد سے آج تک بتواتر ثابت ہے۔ صرف ابنِ مسعود سے نقل کرتے ہیں کہ وہ ان دو سورتوں کو اپنے مصحف میں نہیں لکھتے تھے۔ لیکن واضح رہے کہ ان کو بھی ان سورتوں کے کلام اللہ ہونے میں شبہ نہ تھا۔ وہ مانتے تھے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور لاریب آسمان سے اترا ہے۔ مگر ان کے نازل کرنے کا مقصد رقیہ اور علاج تھا۔ معلوم نہیں کہ تلاوت کی غرض سے اتاری گئی یا نہیں اس لئے ان کو مصحف میں درج کرنا اور اس قرآن میں شامل کرنا جس کی تلاوت نماز وغیرہ میں مطلوب ہے، خلاف احتیاط ہے۔ روح البیان میں ہیں۔ "انہ کان لا یعد المعوذتین من القرآن وکان لا یکتبھما فی مصحفہ یقول انھما منزلتان من السماء و ھما من کلام رب انھما من القرآن اولیستا منہ فلم یکتبھما فی المصحف" (صفحہ ٧٢٣ جلد ٤) قاضی ابوبکر با قلانی لکھتے ہیں۔ "لم ینکر ابن مسعود کو نھما من القرآن و انما انکر اثباتھما فی المصحف فانہ کان یری ان لا یکتب فی المصحف شیأا الا ان کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذن فی کتابتہ فیہ و کانہ لم یبلغہ الاذن" (فتح الباری صفحہ ٥٧١ جلد ٨) حافظ نے ایک اور عالم کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں لم یکن اختلاف ابن مسعود مع غیرہ فی قرآنیتھما وانما کان فی صفتہ من صفاتھما۔ (فتح الباری صفحہ ٥٧١ جلد ٥) بہرحال ان کی یہ رائے بھی شخصی اور انفرادی تھی اور جیسا کہ بزار نے تصریح کی ہے۔ کسی ایک صحابی نے ان سے اتفاق نہیں کیا اور بہت ممکن ہے کہ جب تواتر سے ان کو ثابت ہوگیا ہو کہ یہ بھی قرآن متلو ہے تو اپنی رائے پر قائم نہ رہے ہوں۔ اس کے علاوہ ان کی یہ انفرادی رائے بھی محض خبر واحد سے معلوم ہوئی ہے جو تواتر قرآن کے مقابلہ میں قابل سماعت نہیں ہو سکتی۔ شرح مواقف میں ہے۔ ان اختلاف الصحابۃ فی بعض سورالقرآن مروی بالاحاد المفیدۃ للظن و مجموع القرآن منقول بالتواتر المفید الیقین الذی یضمحل الظن فی مقابلتہ فتلک الا حا دمما لا یلتفتِ الیہ ثم ان سلمنا اختلافھم فیما ذکر قلنا انھم لم یختلفوا فی نزولہ علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا فی بلوغہ فی البلاغۃ حد الاعجازبل فی مجرد کونہ من القرآن و ذٰلک لا یضر فیما نحن بصددہ ١ھ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔ واجیب باحتمال انہ کان متواتر افی عصر ابن مسعود لکن لم یتواتر عند ابن مسعود فانحلت العقدۃ بعون اللّٰہ تعالٰی الخ اور صاحب المعانی کہتے ہیں۔ ولعل ابن مسعود رجع عن ذٰلک۔ ١ھ(6)