Al-Mutaffife( المطففين)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ وَيلٌ لِلمُطَفِّفينَ(1)
(1)
الَّذينَ إِذَا اكتالوا عَلَى النّاسِ يَستَوفونَ(2)
(2)
وَإِذا كالوهُم أَو وَزَنوهُم يُخسِرونَ(3)
ف١١    گو لوگوں سے اپنا حق پورا لینا مذموم نہیں مگر یہاں اس کے لانے سے مقصود خود اس بات پر مذمت کرنا نہیں بلکہ کم دینے کی مذمت کو مؤکد کرنا ہے۔ یعنی کم دینا اگرچہ فی نفسہ مذموم ہے لیکن اس کے ساتھ اگر لیتے وقت دوسروں کی بالکل رعایت نہ کی جائے تو اور زیادہ مذموم ہے۔ بخلاف رعایت کرنے والے کے کہ اگر اس میں ایک عیب ہے تو ایک ہنر بھی ہے فتلک بتلک۔ لہٰذا پہلے شخص کا عیب زیادہ شدید ہوا اور چونکہ اصل مقصود مذمت ہے کم دینے کی، اس لئے اس میں ناپ اور تول دونوں کا ذکر کیا جائے تاکہ خوب تصریح ہو جائے کہ ناپنے میں بھی کم ناپتے ہیں اور تولنے میں بھی کم تولتے ہیں اور چونکہ پورا لینا فی مذموم نہیں اس لئے وہاں صرف ایک کے ذکر پر اکتفاء کیا پھر تخصیص ناپ کی شاید اس لئے ہو کہ عرب میں اور خصوصاً مدینہ میں زیادہ رواج کیل کا تھا۔ اس کے سوا اور بھی وجوہ تخصیص کی ہوسکتی ہے۔(3)
أَلا يَظُنُّ أُولٰئِكَ أَنَّهُم مَبعوثونَ(4)
(4)
لِيَومٍ عَظيمٍ(5)
ف١     یعنی اگر انہیں خیال ہوتا کہ مرنے کے بعد ایک دن پھر اٹھنا اور اللہ کے سامنے تمام حقوق و فرائض کا حساب دینا ہے، تو ہرگز ایسی حرکت نہ کرتے۔(5)
يَومَ يَقومُ النّاسُ لِرَبِّ العٰلَمينَ(6)
ف ٢    کہ کب تجلی فرماتا اور کب حساب کتاب کر کے ہمارے حق میں کوئی فیصلہ سناتا ہے۔(6)
كَلّا إِنَّ كِتٰبَ الفُجّارِ لَفى سِجّينٍ(7)
ف٣    یعنی ہرگز گمان نہ کیا جائے کہ ایسا دن نہیں آئے گا۔ وہ ضرور آنا ہے اور اس کے لئے سب نیکوں اور بدوں کے اعمالنامے اپنے اپنے دفتر میں مرتب کئے رکھے ہیں۔(7)
وَما أَدرىٰكَ ما سِجّينٌ(8)
(8)
كِتٰبٌ مَرقومٌ(9)
ف٤    یعنی سجین ایک دفتر ہے جس میں نام ہر ایک دوزخی کا درج ہے۔ اور" بندوں کے عمل لکھنے والے فرشتے" جن کا ذکر اس سے پہلی سورت میں آچکا، ان بدکاروں کے مرنے اور عمل منقطع ہونے کے بعد ہر شخص کے عمل علیحدہ علیحدہ فردوں میں لکھ کر اس دفتر میں داخل کرتے ہیں اور اس فرد پر یا ہر ایک دوزخی کے نام پر ایک علامت بنا دیتے ہیں جس کے دیکھتے ہی معلوم ہو جائے کہ یہ شخص دوزخی ہے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کی ارواح بھی اسی مقام میں رکھی جاتی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں "یعنی ان کے نام وہاں داخل ہوتے ہیں مر کر وہیں پہنچیں گے۔" بعض سلف نے کہا ہے کہ یہ مقام ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ واللہ اعلم۔(9)
وَيلٌ يَومَئِذٍ لِلمُكَذِّبينَ(10)
(10)
الَّذينَ يُكَذِّبونَ بِيَومِ الدّينِ(11)
(11)
وَما يُكَذِّبُ بِهِ إِلّا كُلُّ مُعتَدٍ أَثيمٍ(12)
ف ٥     جو شخص روزِ جزا کا منکر ہے فی الحقیقت اللہ کی ربوبیت، اس کی قدرت اور اس کے عدل و حکمت سب کامنکر ہے اور جو ان چیزوں کا منکر ہو وہ جس قدر گناہوں پر دلیر ہو تھوڑا ہے۔(12)
إِذا تُتلىٰ عَلَيهِ ءايٰتُنا قالَ أَسٰطيرُ الأَوَّلينَ(13)
ف ٦     یعنی قرآن اور نصیحت کی باتیں سن کر کہتا ہے ایسی باتیں، لوگ پہلے بھی کرتے آئے ہیں۔ وہ ہی پرانی کہانیاں اور فرسودہ افسانے انہوں نے نقل کر دیے۔ بھلا ہم ان نقلوں اور کہانیوں سے ڈرنے والے کہاں ہیں۔(13)
كَلّا ۖ بَل ۜ رانَ عَلىٰ قُلوبِهِم ما كانوا يَكسِبونَ(14)
ف٧    یعنی ہماری آیتوں میں کچھ شک وشبہ کا موقع نہیں۔ اصل یہ ہے کہ گناہوں کی کثرت و مزاولت سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گئے ہیں۔ اس لئے حقائق صحیحہ کا انعکاس ان میں نہیں ہوتا۔ حدیث میں فرمایا کہ جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے، ایک سیاہ نقطہ اس کے دل پر لگ جاتا ہے۔ اگر توبہ کر لی تو مٹ گیا ورنہ جوں جوں گناہ کرتا جائے گا وہ نقطہ بڑھتا اور پھیلتا رہے گا۔ تاآنکہ قلب بالکل کالا سیاہ ہو جائے کہ حق و باطل کی تمیز باقی نہ رہے۔ یہ ہی حال ان مکذبین کا سمجھو کہ شرارتیں کرتے کرتے ان کے دل باکل مسخ ہو چکے ہیں۔ اسی لئے آیات اللہ کا مذاق اڑاتے ہیں۔(14)
كَلّا إِنَّهُم عَن رَبِّهِم يَومَئِذٍ لَمَحجوبونَ(15)
ف ٨     یعنی اس انکارو تکذیب کے انجام سے بے فکر نہ ہوں۔ وہ وقت ضرور آنے والا ہے جب مومنین حق سبحانہ، و تعالٰی کے دیدار کی دولت سے مشرف ہوں گے اور یہ بد بخت محروم رکھے جائیں گے۔(15)
ثُمَّ إِنَّهُم لَصالُوا الجَحيمِ(16)
(16)
ثُمَّ يُقالُ هٰذَا الَّذى كُنتُم بِهِ تُكَذِّبونَ(17)
(17)
كَلّا إِنَّ كِتٰبَ الأَبرارِ لَفى عِلِّيّينَ(18)
ف٩    یعنی ان بدمعاشوں کا اور نیکوں کا ایک انجام ہرگز نہیں ہو سکتا۔(18)
وَما أَدرىٰكَ ما عِلِّيّونَ(19)
(19)
كِتٰبٌ مَرقومٌ(20)
ف ١٠     یعنی جنتیوں کے نام درج ہیں اور ان کے اعمال کی مسلیں مرتب کر کے رکھی جاتی ہیں اور ان کی ارواح کو اول وہاں لے جا کر پھر اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچایا جاتا ہے اور قبر سے بھی ان ارواح کا ایک گونہ تعلق قائم رکھا جاتا ہے کہتے ہیں کہ یہ مقام ساتویں آسمان کے اوپر ہے اور مقربین کی ارواح اسی جگہ مقیم رہتی ہیں۔ واللہ اعلم۔(20)
يَشهَدُهُ المُقَرَّبونَ(21)
ف١١    مقرب فرشتے یا اللہ کے مقرب بندے خوش ہو کر مومنین کے اعمالنامے دیکھتے ہیں اور اس مقام پر حاضر رہتے ہیں۔(21)
إِنَّ الأَبرارَ لَفى نَعيمٍ(22)
(22)
عَلَى الأَرائِكِ يَنظُرونَ(23)
ف ١٢     یعنی مسہریوں میں بیٹھے جنت کی سیر کرتے ہوں گے اور دیدارِ الہٰی سے آنکھیں شاد کریں گے۔(23)
تَعرِفُ فى وُجوهِهِم نَضرَةَ النَّعيمِ(24)
ف١    یعنی جنت کے عیش وآرام سے ان کے چہرے ایسے پر رونق اور تروتازہ ہوں گے کہ ہر ایک دیکھنے والا دیکھتے ہی پہچان جائے کہ یہ لوگ نہایت عیش و تنعم میں ہیں۔(24)
يُسقَونَ مِن رَحيقٍ مَختومٍ(25)
ف ٢    حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ "شراب کی نہریں ہیں ہر کسی کے گھر میں۔ لیکن یہ شراب نادر ہے جو سر بمہر رہتی ہے۔ "(25)
خِتٰمُهُ مِسكٌ ۚ وَفى ذٰلِكَ فَليَتَنافَسِ المُتَنٰفِسونَ(26)
ف٣    جیسے دنیا میں مہر لاکھ یا مٹی پر جمائی جاتی، وہاں کی مٹی مشک ہے اسی پر جمائی جائے گی، شیشہ ہاتھ میں لیتے ہی دماغ معطر ہو جائے گا اور اخیر تک خوشبو مہکتی رہے گی۔ ف٤    یعنی دنیا کی ناپاک شراب اس لائق نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں۔ ہاں یہ شرابِ طہور ہے جس کے لئے لوگوں کو ٹوٹ پڑنا چاہیے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش ہونی چاہئے۔(26)
وَمِزاجُهُ مِن تَسنيمٍ(27)
(27)
عَينًا يَشرَبُ بِهَا المُقَرَّبونَ(28)
ف ٥     یعنی مقرب لوگ اس چشمہ کی شراب خالص پیتے ہیں اور ابرار کو اس شراب کی ملونی دی جاتی ہے جو بطور گلاب عغبرہ کے ان کی شراب میں ملاتے ہیں۔(28)
إِنَّ الَّذينَ أَجرَموا كانوا مِنَ الَّذينَ ءامَنوا يَضحَكونَ(29)
ف ٦     کہ ان بیوقوفوں کو کیا خیال فاسد دامن گیر ہوا ہے کہ محسوس و موجود لذتوں کو جنت کی خیالی لذتوں کی توقع پر چھوڑتے ہیں۔(29)
وَإِذا مَرّوا بِهِم يَتَغامَزونَ(30)
ف٧    کہ دیکھو یہ ہی بے عقل اور احمق لوگ ہیں جنہوں نے اپنے کو جنت کے ادھار پر دنیا کے نقد سے محروم کر رکھا ہے۔(30)
وَإِذَا انقَلَبوا إِلىٰ أَهلِهِمُ انقَلَبوا فَكِهينَ(31)
ف ٨     یعنی خوش طبعی کرتے اور مسلمانوں پر پھبتیاں کستے تھے اور اپنے عیش وآرام پر مفتون و مغرور ہو کر سمجھتے کہ ہمارے ہی عقیدے اور خیالات درست ہیں ورنہ یہ نعمتیں ہم کو کیوں ملتیں۔(31)
وَإِذا رَأَوهُم قالوا إِنَّ هٰؤُلاءِ لَضالّونَ(32)
ف٩    کہ خواہ مخواہ زہدو ریاضت کر کے اپنی جانیں کھپاتے اور موہوم لذتوں کو موجودہ لذتوں پر ترجیح دیتے ہیں اور لا حاصل مشقتوں کا کمالاتِ حقیقی نام رکھا ہے۔ کیا کھلی ہوئی گمراہی نہیں کہ سب گھر بار اور عیش و آرام چھڑ کر ایک شخص کے پیچھے ہو لئے اور اپنے آبائی دین کو بھی ترک کر بیٹھے۔(32)
وَما أُرسِلوا عَلَيهِم حٰفِظينَ(33)
ف١٠    یہ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ ان کافروں کو ان مسلمانوں پر کچھ نگہبان نہیں بنایا گیا کہ احمق اپنی تباہ کاریوں سے آنکھیں بند کر کے ان کی حرکات کی نگرانی کیا کریں۔ اپنی اصلاح کی فکر نہ ہو۔ اور سیدھی راہ چلنے والوں کو گمراہ اور احمق بنائیں۔(33)
فَاليَومَ الَّذينَ ءامَنوا مِنَ الكُفّارِ يَضحَكونَ(34)
ف١١    یعنی قیامت کے دن مسلمان ان کافروں پر ہنستے ہیں کہ یہ لوگ کیسے کوتاہ اندیش اور احمق تھے جو خسیس اور فانی چیز کو نفیس اور باقی نعمتوں پر ترجیح دی۔ آخر آج دوزخ میں کس طرح عذابِ دائم کا مزہ چکھ رہے ہیں۔(34)
عَلَى الأَرائِكِ يَنظُرونَ(35)
ف ١٢     یعنی اپنی خوشحالی اور کافروں کی بدحالی کا نظارہ کر رہے ہیں۔(35)
هَل ثُوِّبَ الكُفّارُ ما كانوا يَفعَلونَ(36)
ف١٣    یعنی جو دنیا میں مسلمانوں کی ہنسی اڑاتے تھے، آج ان کا حال قابلِ مضحکہ ہو رہا ہے اور مسلمان ان کی گزشتہ حماقتوں کا خیال کر کے ہنستے ہیں۔(36)