Al-Muddathth( المدّثر)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يٰأَيُّهَا المُدَّثِّرُ(1)
ف ٦     اس کے لیے سورہ "مزمل" کا پہلا فائدہ ملاحظہ کرلیا جائے۔(1)
قُم فَأَنذِر(2)
ف۷    یعنی وحی کے ثقل اور فرشتہ کی ہیبت سے آپ کو گھبرانا اور ڈرنا نہیں چاہیے۔ آپ کا کام تو یہ ہے کہ سب آرام و چین چھوڑ کر دوسروں کو خدا کا خوف دلائیں۔ اور کفر و معصیت کے برے انجام سے ڈرائیں۔(2)
وَرَبَّكَ فَكَبِّر(3)
ف۸    کیونکہ رب کی بڑائی بولنے اور بزرگی و عظمت بیان کرنے ہی سے اس کا خوف دلوں میں پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالٰی کی تعظیم و تقدیس ہی وہ چیز ہے جس کی معرفت سب اعمال و اخلاق سے پہلے حاصل ہونی چاہیے۔ بہرحال اس کے کمالات و انعامات پر نظر کرتے ہوئے نماز میں اور نماز سے باہر اس کی بڑائی کا اقرار و اعلان کرنا تمہارا کام ہے۔(3)
وَثِيابَكَ فَطَهِّر(4)
(4)
وَالرُّجزَ فَاهجُر(5)
ف۹    اس سورت کے نازل ہونے پر حکم ہوا کہ مخلوق کو خدا کی طرف بلائیں۔ پھر نماز وغیرہ کا حکم ہوا۔ نماز کے لیے شرط ہے کہ کپڑے پاک ہوں اور گندگی سے احتراز کیا جائے۔ ان چیزوں کو یہاں بیان فرما دیا۔ یہ ظاہر ہے کہ جب کپڑوں کا حسی و معنوی نجاستوں سے پاک رکھنا ضروری ہے تو بدن کی پاکی بطریق اولیٰ ضروری ہوگی۔ اس لیے اس کے بیان کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ بعض علماء نے کپڑوں کو پاک رکھنے سے نفس کا برے اخلاق سے پاک رکھنا مراد لیا ہے۔ اور گندگی سے دور رہنے کے معنی یہ لیے ہیں کہ بتوں کی گندگی سے دور رہیے۔ جیسے اب تک دور ہیں۔ بہرحال آیہ ہذا میں طہارت ظاہری و باطنی کی تاکید مقصود ہے۔ کیونکہ بدون اس کے رب کی بڑائی کا کما حقہ دلنشین نہیں ہو سکتی۔(5)
وَلا تَمنُن تَستَكثِرُ(6)
(6)
وَلِرَبِّكَ فَاصبِر(7)
ف۱۰    یہ ہمت اور اولوالعزمی سکھلائی کہ جو کسی کو دے (روپیہ پیسہ یا علم و ہدایت وغیرہ) اس سے بدلہ نہ چاہیے۔ محض اپنے رب کے دیے پر شاکر و صابر رہ اور جو شدائد دعوت و تبلیغ کے راستہ میں پیش آئیں ان کو اللہ کے واسطے صبر و تحمل سے برداشت کر اور اسی کے حکم کی راہ دیکھ کر یہ عظیم الشان کام بدون اعلیٰ درجہ کی حوصلہ مندی اور صبر و استقلال کے انجام نہیں پائے گا۔ ان آیتوں کی تفسیر اور بھی کئی طرح کی گئی ہے لیکن احقر کے خیال میں یہی بے تکلف ہے۔(7)
فَإِذا نُقِرَ فِى النّاقورِ(8)
ف۱۱    یعنی صور پھونکا جائے۔(8)
فَذٰلِكَ يَومَئِذٍ يَومٌ عَسيرٌ(9)
ف۱۲    یعنی اس دن کے واقعات میں سے صور کا پھونکا جانا گویا ایک مستقل دن ہے جو سرتاپا مشکلات اور سختیوں سے بھرا ہوگا۔(9)
عَلَى الكٰفِرينَ غَيرُ يَسيرٍ(10)
ف۱    یعنی منکروں پر کسی طرح کی آسانی نہ ہوگی بلکہ اس دن کی سختی دم بدم ان پر بڑھتی جائے گی۔ بخلاف مومنین کے کہ اگر سختی بھی دیکھیں گے تو کچھ مدت کے بعد پھر آسانی کر دی جائے گی۔(10)
ذَرنى وَمَن خَلَقتُ وَحيدًا(11)
ف۲    ہر انسان ماں کے پیٹ سے اکیلا اور جریدہ آتا ہے۔ مال، اولاد، فوج، لشکر، سامان وغیرہ کچھ ساتھ نہیں لاتا، یا "وحید" سے مراد خاص ولید بن مغیرہ ہو جس کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں ہیں۔ وہ اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اور دنیاوی ثروت و لیاقت کے اعتبار سے عرب میں فرد اور یکتا سمجھا جاتا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے منکروں کے معاملہ میں جلدی نہ کیجیے، نہ ان کو مہلت ملنے سے تنگدل ہوں۔ بلکہ ان کا قصہ میرے سپرد کرو۔ میں سب کا بھگتان کر دوں گا۔ آپ کو غمگین و پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔(11)
وَجَعَلتُ لَهُ مالًا مَمدودًا(12)
(12)
وَبَنينَ شُهودًا(13)
ف۳    یعنی مال واولاد کا پھیلاوا بہت ہوا۔ دسوں بیٹے ہمہ وقت آنکھوں کے سامنے رہتے اور محفلوں میں باپ کی توقیر بڑھاتے اور دھاک بٹھلاتے تھے۔ تجارتی کاروبار اور دوسرے کام کاج کے لیے نوکر چاکر بہت تھے۔ ضرورت نہیں تھی کہ بیٹے باپ کی نظر سے غائب ہوں۔(13)
وَمَهَّدتُ لَهُ تَمهيدًا(14)
ف٤    یعنی دنیا میں جو خوب عزت جمادی اور مسند حکومت و ریاست اچھی طرح تیار کر دی۔ چنانچہ تمام قریش ہر مشکل میں کام میں اسی کی طرف رجوع کرتے اور اس کو اپنا حاکم جانتے تھے۔(14)
ثُمَّ يَطمَعُ أَن أَزيدَ(15)
ف۵    یعنی باوجود کثرت نعمت و ثروت کے کبھی حرف شکر زبان سے نہ نکالا۔ بلکہ ہمیشہ بت پرستی اور زیادہ مال جمع کرنے کی حرص میں منہمک رہتا اور اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اس کے سامنے بہشت کی نعمتوں کا ذکر فرماتے تو کہتا تھا کہ اگر یہ شخص اپنے بیان میں سچا ہے تو یقین کامل ہے کہ وہاں کی نعمتیں بھی مجھے ہی ملیں گی۔ اس کو فرماتے ہیں کہ باوجود اس قدر ناشکری اور حق ناشناسی کے یہ بھی توقع رکھتا ہے کہ اللہ تعالٰی اس کو دنیا و آخرت کی نعمتیں اور زیادہ دے گا۔(15)
كَلّا ۖ إِنَّهُ كانَ لِءايٰتِنا عَنيدًا(16)
ف ٦     یعنی جب وہ منعم حقیقی کی آیتوں کا مخالف ہے تو اسے ہرگز حق نہیں پہنچتا کہ ایسی توقع باندھے اور خیالی پلاؤ پکائے۔ کہتے ہیں کہ ان آیات کے نزول کے بعد پے بہ پے اس کے مال و اسباب میں نقصان ہونا شروع ہوا۔ آخر فقیر ہو کر ذلت کے ساتھ مر گیا۔(16)
سَأُرهِقُهُ صَعودًا(17)
ف۷    یعنی ابھی اس کو بہت بڑی چڑھائی چڑھنا اور سخت ترین مصائب میں گرفتار ہونا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ "صعود" دوزخ میں ایک پہاڑ ہے جس پر کافر کو ہمیشہ چڑھائیں گے اور گرائیں گے یہ بھی عذاب کی ایک قسم ہے (تنبیہ) ولید ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پڑھ کر سنایا۔ جس سے کسی قدر متاثر ہوا۔ مگر ابوجہل نے اس کو ورغلایا اور قریش میں چرچا ہونے لگا کہ اگر ولید مسلمان ہوگیا تو بڑی خرابی ہوگی۔ غرض سب جمع ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گفتگو ہوئی کسی نے کہا شاعر ہیں کسی نے کاہن بتلایا ولید بولا کہ میں شعر میں خود بڑا ماہر ہوں اور کاہنوں کی باتیں بھی سب سنی ہیں، قرآن نہ شعر ہے نہ کہانت۔ لوگوں نے کہا کہ آخر تیری کیا رائے ہے کہنے لگا ذرا سوچ لوں۔ آخر تیوری بدل کر اور منہ بنا کر کہا کچھ نہیں جادو ہے جو بابل والوں سے نقل ہوتا چلا آیا ہے۔ حالانکہ پیشتر قرآن سن کر کہہ چکا تھا کہ یہ سحر بھی نہیں نہ دیوانے کی بڑ معلوم ہوتی ہے بلکہ اللہ کا کلام ہے مگر محض برادری کو خوش کرنے کے لیے اب یہ بات بنا دی۔ آگے اسی گفتگو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔(17)
إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ(18)
(18)
فَقُتِلَ كَيفَ قَدَّرَ(19)
(19)
ثُمَّ قُتِلَ كَيفَ قَدَّرَ(20)
ف۸     یعنی بدبخت نے دل میں سوچ کر ایک بات تجویز کی کہ قرآن جادو ہے۔ خدا غارت کرے کیسی مہمل تجویز کی پھر خدا غارت کرے کہ اپنی قوم کے جذبات کے لحاظ سے کیسی برمحل تجویز نکالی جس کو سن کر سب خوش ہوجائیں۔(20)
ثُمَّ نَظَرَ(21)
(21)
ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ(22)
(22)
ثُمَّ أَدبَرَ وَاستَكبَرَ(23)
(23)
فَقالَ إِن هٰذا إِلّا سِحرٌ يُؤثَرُ(24)
(24)
إِن هٰذا إِلّا قَولُ البَشَرِ(25)
ف۹    یعنی مجمع پر نگاہ ڈالی پھر خوب منہ بنایا۔ تاکہ دیکھنے والے سمجھیں کہ اس کو قرآن سے بہت کراہت اور انقباض ہے۔ پھر پیٹھ پھیر لی گویا بہت ہی قابل نفرت چیز کے متعلق کچھ بیان کرنا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل اس کی حقانیت کا اقرار کر چکا تھا۔ اب برادری کی خوشنودی کے لیے اس سے پھر گیا۔ آخر نہایت غرور وتکبر کے انداز میں کہنے لگا۔ بس اور کچھ نہیں یہ جادو ہے جو پہلوں سے نقل ہوتا چلا آتا ہے۔ اور یقینا یہ آدمی کا کلام ہے جو جادو بن کر باپ کو بیٹے سے، میاں کو بیوی سے، اور دوست کو دوست سے جدا کر دیتا ہے۔(25)
سَأُصليهِ سَقَرَ(26)
ف۱۰    یعنی عنقریب اس کو آگ میں ڈال کر عنادو تکبر کا مزا چکھاؤں گا۔(26)
وَما أَدرىٰكَ ما سَقَرُ(27)
(27)
لا تُبقى وَلا تَذَرُ(28)
ف۱۱    یعنی دوزخیوں کی کوئی چیز باقی نہ رہنے دے گی جو جلنے سے بچ جائے۔ پھر جلانے کے بعد اس حالت پر بھی نہ چھوڑے جائیں بلکہ دوبارہ اصلی حالت پر لوٹائے جائیں گے اور جلیں گے۔ یہی سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ (العیاذ باللہ) (تنبیہ) اکثر سلف سے یہی معنیٰ منقول ہیں۔ بعض مفسرین نے دوسری طرح توجیہ کی ہے۔(28)
لَوّاحَةٌ لِلبَشَرِ(29)
ف۱۲    یعنی بدن کی کھال جھلس کر حیثیت بگاڑ دے گی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں "جیسے دہکتا لوہا سرخ نظر آتا ہے آدمی کی پنڈلی پر وہ سرخی نظر آئے گی۔"(29)
عَلَيها تِسعَةَ عَشَرَ(30)
ف۱۳    یعنی دوزخ کے انتظام پر جو فرشتوں کا لشکر ہوگا اس کے افسر انیس فرشتے ہوں گے۔ جن میں سب سے بڑے ذمہ دار کا نام "مالک"ہے (تنبیہ) حضرت شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے نہایت تفصیل سے انیس کے عدد کی حکمتیں بیان کی ہیں جو قابل دید ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جہنم میں مجرموں کو عذاب دینے کے لیے انیس قسم کے فرائض ہیں جن میں سے ہر فرض کی انجام دہی ایک ایک فرشتہ کی سرکردگی میں ہوگی۔ کوئی شبہ نہیں کہ فرشتہ کی طاقت بہت بڑی ہے اور ایک فرشتہ وہ کام کر سکتا ہے جو لاکھوں آدمی مل کر نہیں کر سکتے۔ لیکن یاد رہے کہ ہر فرشتہ کی یہ قوت اسی دائرہ میں محدود ہے جس میں کام کرنے کے لیے وہ مامور ہوا ہے۔ مثلاً ملک الموت لاکھوں آدمیوں کی جان ایک آن میں نکال سکتا ہے۔ مگر عورت کے پیٹ میں ایک بچہ کے اندر جان نہیں ڈال سکتا۔ حضرت جبرائیل چشم زدن میں وحی لا سکتے ہیں لیکن پانی برسانا ان کا کام نہیں۔ جس طرح کان دیکھ نہیں سکتا آنکھ سن نہیں سکتی۔ اگرچہ اپنی قسم کے کام کتنے ہی سخت ہوں کر سکتے ہیں۔ مثلاً کان ہو سکتا ہے کہ ہزاروں آوازیں سن لے اور نہ تھکے، آنکھ ہزاروں رنگ دیکھ لے اور عاجز نہ ہو۔ اسی طرح اگر ایک فرشتہ عذاب کے واسطے دوزخیوں پر مقرر ہوتا اس سے ایک ہی قسم کا عذاب دوزخیوں پر ہو سکتا تھا۔ دوسری قسم کا عذاب جو اس کے دائرہ استعداد سے باہر ہے ممکن نہ تھا اس لیے انیس قسم کے عذابوں کے لیے (جن کی تفصیل تفسیر عزیزی میں ہے) انیس ذمہ دار فرشتے مقرر ہوئے ہیں۔ علماء نے اس عدد کی حکمتوں پر بہت کچھ کلام کیا ہے مگر احقر کے نزدیک حضرت شاہ صاحب کا کلام بہت عمیق و لطیف ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(30)
وَما جَعَلنا أَصحٰبَ النّارِ إِلّا مَلٰئِكَةً ۙ وَما جَعَلنا عِدَّتَهُم إِلّا فِتنَةً لِلَّذينَ كَفَروا لِيَستَيقِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ وَيَزدادَ الَّذينَ ءامَنوا إيمٰنًا ۙ وَلا يَرتابَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ وَالمُؤمِنونَ ۙ وَلِيَقولَ الَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ وَالكٰفِرونَ ماذا أَرادَ اللَّهُ بِهٰذا مَثَلًا ۚ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَن يَشاءُ وَيَهدى مَن يَشاءُ ۚ وَما يَعلَمُ جُنودَ رَبِّكَ إِلّا هُوَ ۚ وَما هِىَ إِلّا ذِكرىٰ لِلبَشَرِ(31)
ف۱٤    انیس کا عدد سن کر مشرکین ٹھٹھا کرنے لگے کہ ہم ہزاروں ہیں۔ انیس ہمارا کیا کرلیں گے۔ بہت ہوا ہم میں سے دس دس ان کے ایک ایک کے مقابلہ میں ڈٹ جائیں گے۔ ایک پہلوان بولا کہ سترہ کو تو میں اکیلا کافی ہوں، دو کا تم مل کر تیاپانچا کر لینا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ یعنی وہ انیس تو ہیں مگر آدمی نہیں فرشتہ ہیں۔ جن کی قوت کا یہ حال ہے کہ ایک فرشتہ نے قوم لوط کی ساری بستی کو ایک بازو پر اٹھا کر پٹک دیا تھا۔ ف۱۵    یعنی کافروں کو عذاب دینے کے لیے انیس کی گنتی خاص حکمت سے رکھی ہے جس کی طرف "علیہا تسعۃً عشر" کے فائدہ میں اشارہ کیا جا چکا ہے اور اس گنتی کے بیان کرنے میں منکروں کی جانچ ہے۔ دیکھتے ہیں کہ کون اس کو سن کر ڈرتا ہے اور کون ہنسی مذاق اڑاتا ہے۔ ف۱٦    اہل کتاب کو پہلے سے یہ عدد معلوم ہوگا جیسا کہ ترمذی کی ایک روایت میں ہے یا کم ازکم کتب سماویہ کے ذریعہ اتنا تو جانتے تھے کہ فرشتوں میں کس قدر طاقت ہے۔ انیس بھی تھوڑے نہیں۔ اور یہ کہ انواع تعذیب کے اعتبار سے مختلف فرشتے دوزخ پر مامور ہونے چاہیں یہ کام تنہا ایک کا نہیں۔ بہرحال اس بیان سے اہل کتاب کے دلوں میں قرآن کی حقیقت کا یقین پیدا ہوگا۔ اور یہ دیکھ کر مومنین کا ایمان بڑھے گا اور ان دونوں جماعتوں کو قرآن کے بیان میں کوئی شک و تردد نہیں رہے گا۔ نہ مشرکین کے استہزاء و تمسخر سے وہ کچھ دھوکا کھائیں گے۔ ف١    "اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ" سے منافقین یا ضعیف الایمان مراد ہیں اور "اَلْکَافِرُوْنَ" سے کھلے ہوئے منکر۔ ف ٢    یعنی انیس کے بیان سے کیا غرض تھی۔ بھلا ایسی بے تکی اور غیر موزوں بات کو کون مان سکتا ہے۔ (العیاذ باللہ) ف٣ یعنی ایک ہی چیز سے بداستعداد آدمی گمراہ ہو جاتا ہے اور سلیم الطبع راہ پا لیتا ہے جسے ماننا مقصود نہ ہو وہ کام کی بات کو ہنسی مذاق میں اڑا دیتا ہے اور جس کے دل میں خوفِ خدا اور نورِ توفیق ہو اس کے ایمان و یقین میں ترقی ہوتی ہے۔ ف٤ یعنی اللہ کے بے شمار لشکروں کی تعداد اسی کو معلوم ہے۔ انیس تو صرف کارکنان جہنم کے افسر بتلائے ہیں۔ ف ٥ یعنی دوزخ کا ذکر صرف عبرت و نصیحت کے لیے ہے کہ اس کا حال سن کر لوگ غضب الٰہی سے ڈریں اور نافرمانی سے باز آئیں۔(31)
كَلّا وَالقَمَرِ(32)
(32)
وَالَّيلِ إِذ أَدبَرَ(33)
(33)
وَالصُّبحِ إِذا أَسفَرَ(34)
(34)
إِنَّها لَإِحدَى الكُبَرِ(35)
ف ٦     یعنی جو بڑی بڑی ہولناک اور عظیم الشان چیزیں ظاہر ہونے والی ہیں دوزخ ان میں کی ایک چیز ہے۔(35)
نَذيرًا لِلبَشَرِ(36)
(36)
لِمَن شاءَ مِنكُم أَن يَتَقَدَّمَ أَو يَتَأَخَّرَ(37)
ف٧    آگے بڑھے نیکی یا بہشت کی طرف اور پیچھے رہے بدی میں پھنسا ہوا یا دوزخ میں پڑا ہوا۔ بہرحال مقصود یہ ہے کہ دوزخ سب مکلفین کے حق میں بڑے ڈراوے کی چیز ہے اور چونکہ اس ڈرانے کے عواقب و نتائج قیامت میں ظاہر ہوں گے۔ اس لیے قسم ایسی چیزوں کی کھائی جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے۔ چنانچہ چاند کا اول بڑھنا پھر گھٹنا نمونہ ہے اس عالم کے نشوونما اور اضمحلال و فنا کا اسی طرح اس عالم دنیا کو عالم آخرت کے ساتھ حقائق کے اختفاء و اکتشاف میں ایسی نسبت ہے جیسے رات کو دن کے ساتھ۔ گویا اس عالم کا ختم ہو جانا رات کے گزر جانے اور اس عالم کا ظہور نورِ صبح کے پھیل جانے کے مشابہ ہے۔ واللہ اعلم۔(37)
كُلُّ نَفسٍ بِما كَسَبَت رَهينَةٌ(38)
(38)
إِلّا أَصحٰبَ اليَمينِ(39)
(39)
فى جَنّٰتٍ يَتَساءَلونَ(40)
(40)
عَنِ المُجرِمينَ(41)
ف ٨     یعنی جو لوگ میثاق کے دن حضرت آدم کی پشت سے داہنی طرف سے نکلے تھے اور دنیا میں بھی سیدھی چال چلتے رہے اور موقف میں بھی عرش کے داہنی طرف جدھر بہشت ہے کھڑے ہوئے اور اسی طرف روانہ ہوئے اور ان کے نامہ اعمال بھی داہنے ہاتھ میں آئے وہ لوگ البتہ قید میں پھنسے ہوئے نہیں بلکہ جنت کے باغوں میں آزاد ہیں اور نہایت بے فکر اور فارغ البال ہو کر آپس میں ایک دوسرے سے یا فرشتوں سے گنہگاروں کا حال پوچھتے ہیں کہ وہ لوگ کہاں گئے جو نظر نہیں پڑتے۔(41)
ما سَلَكَكُم فى سَقَرَ(42)
ف٩    یعنی جب سنیں گے کہ گنہگاروں کو دوزخ میں داخل کیا گیا ہے، تب ان گنہگاروں کی طرف متوجہ ہو کر یہ سوال کریں گے کہ باوجود عقل و دانائی کے تم اس دوزخ کی آگ میں کیسے آپڑے۔(42)
قالوا لَم نَكُ مِنَ المُصَلّينَ(43)
(43)
وَلَم نَكُ نُطعِمُ المِسكينَ(44)
(44)
وَكُنّا نَخوضُ مَعَ الخائِضينَ(45)
(45)
وَكُنّا نُكَذِّبُ بِيَومِ الدّينِ(46)
(46)
حَتّىٰ أَتىٰنَا اليَقينُ(47)
ف۱۰    یعنی نہ اللہ کا حق پہچانا نہ بندوں کی خبر لی۔ البتہ دوسرے لوگوں کی طرح حق کے خلاف بحثیں کرتے رہے اور بدصحبتوں میں رہ کر شکوک و شبہات کی دلدل میں دھنستے چلے گئے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہم کو یقین نہ ہوا کہ انصاف کا دن بھی آنے والا ہے۔ ہمیشہ اس بات کو جھٹلایا کیسے یہاں تک کہ موت کی گھڑی سر پر آن پہنچی اور آنکھوں سے دیکھ کر ان باتوں کا یقین حاصل ہوا جن کی تکذیب کیا کرتے تھے۔(47)
فَما تَنفَعُهُم شَفٰعَةُ الشّٰفِعينَ(48)
ف۱۱    کافر کے حق میں کوئی سفارش نہ کرے گا اور کرے گا تو قبول نہ ہوگی۔(48)
فَما لَهُم عَنِ التَّذكِرَةِ مُعرِضينَ(49)
ف۱۲    یعنی یہ مصیبتیں سامنے ہیں۔ مگر نصیحت سن کر ٹس سے مس نہیں ہوتے بلکہ سننا بھی نہیں چاہتے۔(49)
كَأَنَّهُم حُمُرٌ مُستَنفِرَةٌ(50)
(50)
فَرَّت مِن قَسوَرَةٍ(51)
ف۱۳    یعنی حق کا شورو غل اور شیرانِ خدا کی آوازیں سن کر جنگلی گدھوں کی طرح بھاگے جاتے ہیں۔(51)
بَل يُريدُ كُلُّ امرِئٍ مِنهُم أَن يُؤتىٰ صُحُفًا مُنَشَّرَةً(52)
ف۱    یعنی پیغمبر کی بات ماننا نہیں چاہتے بلکہ ان میں ہر شخص کی آرزو یہ ہے کہ خود اس پر اللہ کے کھلے ہوئے صحیفے اتریں اور پیغمبر بنایا جائے۔ "حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰہ" (انعام، رکوع١٥، آیت: ١٢٤) یا یہ کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس براہِ راست ایک نوشتہ خدا کی طرف سے آئے جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا حکم دیا گیا ہو۔ "حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتَاباً نَقْرَؤُہ،" (بنی اسرائیل، رکوع١٠، آیت:٩٣)(52)
كَلّا ۖ بَل لا يَخافونَ الءاخِرَةَ(53)
ف۱۵    یعنی ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کیونکہ نہ ان میں لیاقت نہ اس کی ضرورت۔ ف۱    یعنی یہ بیہودہ درخواستیں بھی کچھ اس لیے نہیں کہ ایسا کر دیا جائے تو واقعی مان جائیں گے بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت کے عذاب سے نہیں ڈرتے اس لیے حق کی طلب نہیں، اور یہ درخواستیں محص تعنت سے ہیں۔ اگر یہ درخواستیں بالفرض پوری کر دی جائیں تب بھی اتباع نہ کریں۔ کما قال تعالٰی "وَلَوْنَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتَاباً فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْہُ بِاَیْدِیْہِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُو ا اِنْ ہٰذَا اِلَّا سِحْرٌمُّبِیْن" (انعام، رکوع١، آیت:٧)(53)
كَلّا إِنَّهُ تَذكِرَةٌ(54)
ف۲    یعنی ہر ایک کو الگ الگ کتاب دی جائے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک کتاب (قرآن کریم) ہی نصیحت کے لیے کافی ہے۔(54)
فَمَن شاءَ ذَكَرَهُ(55)
ف۳    حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ "یعنی (یہ کتاب) ایک پر اتری تو کیا ہوا، کام تو سب کے آتی ہے۔"(55)
وَما يَذكُرونَ إِلّا أَن يَشاءَ اللَّهُ ۚ هُوَ أَهلُ التَّقوىٰ وَأَهلُ المَغفِرَةِ(56)
ف٤    اور اللہ کا چاہنا نہ چاہنا سب حکمتوں پر مبنی ہے۔ جن کا احاطہ کوئی بشر نہیں کر سکتا۔ وہی ہر شخص کی استعداد و لیاقت کو کما حقہ جانتا ہے اور اس کے موافق معاملہ کرتا ہے۔ ف۵    یعنی آدمی کتنے ہی گناہ کرے۔ لیکن پھر جب تقویٰ کی راہ چلے گا اور اس سے ڈرے گا، وہ اس کے سب گناہ بخش دے گا، اور اس کی توبہ کو قبول کرے گا۔ انس ابن مالک سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام پر بطور حاشیہ منہیہ کے، ایک عبارت اس آیت کی تلاوت کے بعد نقل فرمائی۔ جس کے الفاظ یہ ہیں۔ "قال ربکم عزوجل انا اہل ان اتقی فلایشرک بی شی ءٌ فاذا اتقانی العبد فانا اہل ان اغفرلہ۔" "یعنی میں اس لائق ہوں کہ بندہ مجھ سے ڈرے اور میرے ساتھ کسی کو کسی کام میں شریک نہ کرے، پھر جب بندہ مجھ سے ڈرا (اور شرک سے پاک ہوا) تو میری شان یہ ہے کہ میں اس کے گناہوں کو بخش دوں۔" حق تعالٰی اپنے فضل و رحمت سے ہم کو توحید ایمان پر ہمیشہ قائم رکھے۔ اور اپنی مہربانی سے ہمارے گناہ معاف فرمائے۔ آمین۔(56)