Al-Masad( المسد)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ تَبَّت يَدا أَبى لَهَبٍ وَتَبَّ(1)
ف١    "ابو لہب" (جس کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی چچا تھا، لیکن اپنے کفرو شقاوت کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا شدید ترین دشمن تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مجمع میں پیغام حق سناتے یہ بد بخت پتھر پھینکتا۔ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پائے مبارک لہولہان ہو جاتے اور زبان سے کہتا کہ لوگو! اس کی بات مت سنو، یہ شخص (معاذاللہ) جھوٹا بے دین ہے۔ کبھی کہتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ان چیزوں کا وعدہ کرتے ہیں جو مرنے کے بعد ملیں گی۔ ہم کو تو وہ چیزیں ہوتی نظر نہیں آتیں۔ پھر دونوں ہاتھوں سے خطاب کر کے کہتا۔ "تبالکما مااریٰ فیکما شیأ اًمما یقول محمد " صلی اللہ علیہ وسلم (تم دونوں ٹوٹ جاؤ کہ میں تمہارے اندر اس میں سے کوئی چیز نہیں دیکھتا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتا ہے) ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ "صفا" پر چڑھ کر سب کو پکارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر تمام لوگ جمع ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت موثر پیرایہ میں اسلام کی دعوت دی۔ ابو لہب بھی موجود تھا (بعض روایات میں ہے کہ ہاتھ جھٹک کر) کہنے لگا۔ "تبالک سائر الیوم الھذا جمعتنا۔" (یعنی تو برباد ہو جائے کیا ہم کو اسی بات کے لئے جمع کیا تھا) اور روح المعانی میں بعض سے نقل کیا ہے کہ اس نے ہاتھوں میں پتھر اٹھایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھینکے۔ غرض اس کی شقاوت اور حق سے عداوت انتہاء کو پہنچ چکی تھی۔ اس پر جب اللہ کے عذاب سے ڈرایا جاتا تو کہتا کہ سچ مچ یہ بات ہونے والی ہے تو میرے پاس مال و اولاد بہت ہے۔ ان سب کو فدیہ میں دے کر عذاب سے چھوٹ جاؤں گا۔ اس کی بیوی الم جمیل کو بھی پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بہت ضد تھی۔ جو دشمنی کی آگ ابولہب بھڑکاتا تھا، یہ عورت گویا لکڑیاں ڈال کر اس کو اور زیادہ تیز کرتی تھی۔ سورہ ہٰذا میں دونوں کا انجام بتلا کر متنبہ کیا ہے کہ مردہ یا عورت، اپنا ہو یا بیگانہ بڑا ہو یا چھوٹا، جو حق کی عداوت پر کمر باندھے گا وہ آخرکار ذلیل اور تباہ و برباد ہو کر رہیگا۔ پیغمبر کی قرابت قریبہ بھی اس کو تباہی سے نہ بچا سکے گی۔ یہ ابولہب کیا ہاتھ جھٹک باتیں بناتا اور اپنی قوتِ بازو پر مغرور ہو کر خدا کے مقدس و معصوم رسول کی طرف دست درازی کرتا ہے، سمجھ لے کہ اب اس کے ہاتھ ٹوٹ چکے۔ اس کی سب کوششیں حق کے دبانے کی برباد ہو چکیں اس کی سرداری ہمیشہ کے لئے مٹ گئی۔ اس کے اعمال اکارت ہوئے اس کا زور ٹوٹ گیا، اور وہ خود تباہی کے گڑھے میں پہنچ چکا، یہ سورت مکی ہے۔ کہتے ہیں کہ غزوہ "بدر" سے سات روز بعد اس کے زہریلی قسم کا ایک دانہ نکلا۔ اور مرض لگ جانے کے خوف سے سب گھر والوں نے الگ ڈال دیا، وہیں مر گیا اور تین روز تک لاش یوں ہی پڑی رہی۔ کسی نے نہ اٹھائی، جب سڑنے لگی، اس وقت حبشی مزدوروں سے اٹھوا کر دبوائی۔ انہوں نے ایک گڑھا کھود کر اس کو ایک لکڑی سے اندر ڈھلکا دیا اوپر سے پتھر بھر دیے۔ یہ تو دنیا کی رسوائی اور بربادی تھی۔ "ولعذاب الاٰخرۃ اکبر لوکانوا یعلمون۔"(1)
ما أَغنىٰ عَنهُ مالُهُ وَما كَسَبَ(2)
ف ٢     یعنی مال، اور اولاد، عزت، وجاہت کوئی چیز اس کو ہلاکت سے نہ بچا سکی۔(2)
سَيَصلىٰ نارًا ذاتَ لَهَبٍ(3)
ف٣    یعنی مرنے کے بعد سخت شعلہ زن آگ میں پہنچنے والا ہے۔ شاید اسی مناسبت سے قرآن نے اس کی کنیت "ابولہب" قائم رکھی۔ دنیا تو اس کو "ابولہب " اس لئے کہتی تھی کہ اس کے رخسار آگ کے شعلے کی طرح چمکتے تھے۔ مگر قرآن نے بتلا دیا کہ وہ اپنے آخری انجام کے اعتبار سے بھی "ابولہب" کہلانے کا مستحق ہے۔(3)
وَامرَأَتُهُ حَمّالَةَ الحَطَبِ(4)
ف٤    ابولہب کی عورت ام جمیل باوجود مالدار ہونے کے سخت بخل اور خست کی بناء پر خود جنگل سے لکڑیاں چن کر لاتی، اور کانٹے حضرت کی راہ میں ڈال دیتی تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آنے والوں کو تکلیف پہنچے۔ فرماتے ہیں کہ وہ جس طرح یہاں حق کی دشمنی اور پیغمبرِ خدا کی ایذاء رسانی میں اپنے شوہر کی مددگار ہے۔ دوزخ میں بھی اسی ہئیت سے اس کے ہمراہ رہے گی۔ شاید وہاں زقوم اور صریع کی (جو جہنم کے خاردار درخت ہیں) لکڑیاں اٹھائے پھرے۔ اور ان کے ذریعہ سے اپنے شوہر پر عذاب الہٰی کی آگ کو تیز کرتی رہے۔ کما قال ابن اثیر۔ (تنبیہ) بعض نے "حمالۃ الحطب" کے معنی چغل خور کے لئے ہیں۔ اور محاورات عرب میں یہ لفظ اس معنی میں مستعمل ہوتا ہے جیسے فارسی میں بھی ایسے شخص کو "ہیزم کش" کہتے ہیں۔(4)
فى جيدِها حَبلٌ مِن مَسَدٍ(5)
ف ٥     یعنی بہت مضبوط بٹی ہوئی چھبنے والی۔ اس سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک دوزخ کے طوق سلاسل ہیں اور تشبیہ" حمالۃ الحطب" کی مناسبت سے دی گئی ہے۔ کیونکہ لکڑیوں کا بوجھ اٹھانے میں رسی کی ضرورت پڑتی ہے۔ لکھتے ہیں کہ اس عورت کے گلے میں ایک ہار بہت قیمتی تھا۔ کہا کرتی تھی کہ لات و عزیٰ کی قسم۔ اس کو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عداوت پر خرچ کر ڈالوں گی۔ ضرور تھا کہ دوزخ میں بھی اس کی گردن ہار سے خالی نہ رہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ اس بدبخت کی موت بھی اسی طرح واقع ہوئی، لکڑیوں کے گٹھے کی رسی گلے میں آپڑی جس سے گلا گھٹ کر دم نکل گیا۔(5)