Al-Lail( الليل)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ وَالَّيلِ إِذا يَغشىٰ(1)
(1)
وَالنَّهارِ إِذا تَجَلّىٰ(2)
(2)
وَما خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأُنثىٰ(3)
(3)
إِنَّ سَعيَكُم لَشَتّىٰ(4)
ف٩    یعنی جس طرح دنیا میں رات اور دن، نر اور مادہ، مختلف و متضاد چیزیں پیدا کی گئی ہیں، تمہارے اعمال اور کوششیں بھی مختلف و متضاد ہیں۔ پھر ان مختلف اعمال و مساعی پر ظاہر ہے ثمرات و نتائج بھی مختلف ہی مرتب ہوں گے جن کا ذکر آگے آتا ہے۔(4)
فَأَمّا مَن أَعطىٰ وَاتَّقىٰ(5)
(5)
وَصَدَّقَ بِالحُسنىٰ(6)
(6)
فَسَنُيَسِّرُهُ لِليُسرىٰ(7)
ف ١٠     یعنی جو شخص نیک راستہ میں مال خرچ کرتا اور دل میں خدا سے ڈرتا ہے اور اسلام کی بھلی باتوں کو سچ جانتا اور بشاراتِ ربانی کو صحیح سمجھتا ہے، اس کے لئے ہم اپنی عادت کے موافق نیکی کاراستہ آسان کر دیں گے اور انجام کار انتہائی آسانی اور راحت کے مقام پر پہنچا دیں گے جس کا نام جنت ہے۔(7)
وَأَمّا مَن بَخِلَ وَاستَغنىٰ(8)
(8)
وَكَذَّبَ بِالحُسنىٰ(9)
(9)
فَسَنُيَسِّرُهُ لِلعُسرىٰ(10)
ف١١    یعنی جس نے خدا کی راہ میں خرچ نہ کیا، اس کی خوشنودی اور آخرت کے ثواب کی پروانہ کی اور اسلام کی باتوں اور اللہ کے وعدوں کو جھوٹ جانا، اس کا دل روز بروز تنگ اور سخت ہوتا چلا جائے گا۔ نیکی کی توفیق سلب ہوتی جائے گی اور آخرکار آہستہ آہستہ عذاب الہٰی کی انتہائی سختی میں پہنچ جائے گا۔ یہی اللہ کی عادت ہے کہ سعداء جب نیک عمل اختیار کرتے ہیں اور اشقیاء جب بد عمل کی طرف چلتے ہیں تو دونوں کے لئے وہی راستہ آسان کر دیا جاتا ہے جو انہوں نے تقدیر الہٰی کے موافق اپنے ارادہ اور اختیار سے پسند کرلیا ہے۔ "کلا نمد ھولاء و ھولاء من عطاء ربک وما کان عطاء ربک محظوراً۔" (اسراء۔ رکوع٢)(10)
وَما يُغنى عَنهُ مالُهُ إِذا تَرَدّىٰ(11)
ف ١٢     یعنی جس مال و دولت پر گھمنڈ کر کے یہ آخرت کی طرف سے بے پروا ہو رہا تھا وہ ذرا بھی عذاب الہٰی سے نہ بچا سکے گا۔(11)
إِنَّ عَلَينا لَلهُدىٰ(12)
(12)
وَإِنَّ لَنا لَلءاخِرَةَ وَالأولىٰ(13)
ف١    یعنی ہماری حکمت اس کو مقتضی نہیں کہ کسی آدمی کو زبردستی نیک یا بد بننے پر مجبور کریں۔ ہاں یہ ہم نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ سب کو نیکی بدی کی راہ سجھا دیں۔ اور بھلائی برائی کو خوب کھول کر بیان کر دیں۔ پھر جو شخص جو راہ اختیار کر لے دنیا اور آخرت میں اسی کے موافق اس سے برتاؤ کریں گے۔(13)
فَأَنذَرتُكُم نارًا تَلَظّىٰ(14)
ف ٢    اس ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے شاید دوزخ کا وہ طبقہ مراد ہوگا۔ جو بڑے بھاری مجرموں اور بدبختوں کے لئے مخصوص ہے۔(14)
لا يَصلىٰها إِلَّا الأَشقَى(15)
(15)
الَّذى كَذَّبَ وَتَوَلّىٰ(16)
ف٣    یعنی ہمیشہ کے لئے وہی گرے گا کہ پھر کبھی نکلنا نصیب نہ ہوگا۔ کما تدل علیہ النصوص۔(16)
وَسَيُجَنَّبُهَا الأَتقَى(17)
ف٤    یعنی ایسے لوگوں کو اس کو ہوا تک بھی نہیں لگے گی۔ صاف بچا دیے جائیں گے۔(17)
الَّذى يُؤتى مالَهُ يَتَزَكّىٰ(18)
ف ٥     یعنی نفس کو رذیلہ بخل و طمع وغیرہ سے پاک کرنا مقصود ہے۔ کسی طرح کا ریاء اور نمودونمائش یا دنیاوی اغراض پیش نظر نہیں۔(18)
وَما لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِعمَةٍ تُجزىٰ(19)
(19)
إِلَّا ابتِغاءَ وَجهِ رَبِّهِ الأَعلىٰ(20)
(20)
وَلَسَوفَ يَرضىٰ(21)
ف ٦     یعنی خرچ کرنے سے کسی مخلوق کے احسان کا بدلہ اتارنا مقصود نہیں۔ بلکہ خالص رضاءِ مولیٰ کی طلب اور دیدارِ الہٰی کی تمنا میں گھر بار لٹا رہا ہے، تو وہ اطمینان رکھے کہ اسے ضرور خوش کر دیا جائے گا، اور اس کی یہ تمنا ضرور پوری ہو کر رہے گی۔ "ان اللّٰہ لا یضیع اجرالمحسنین۔ " (تنبیہ) اگرچہ مضمون آیات کا عام لیکن روایات کثیر شاہد ہیں کہ ان آخری آیات کا نزول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں ہوا۔ اور یہ بہت بڑی دلیل ان کی فضیلت و برتری کی ہے زہے نصیب اس بندے کے جس کے اتقاء ہونے کی تصدیق آسمان سے ہو۔ " ان اکرمکم عنداللّٰہ اتقکم" اور خود حضرت حق سے اس کو ولسوف یرضٰی کی بشارت سنائی جائے۔ فی الحقیقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حق میں ولسوف یرضیٰ کی بشارت کا ایک انعکاس ہے اس بشارت عظمیٰ کا جو آگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں آرہی ہے۔ ولسوف یعطیک ربک فترضٰی۔ "(21)