Al-Jumu'a( الجمعة)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يُسَبِّحُ لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ المَلِكِ القُدّوسِ العَزيزِ الحَكيمِ(1)
(1)
هُوَ الَّذى بَعَثَ فِى الأُمِّيّۦنَ رَسولًا مِنهُم يَتلوا عَلَيهِم ءايٰتِهِ وَيُزَكّيهِم وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَإِن كانوا مِن قَبلُ لَفى ضَلٰلٍ مُبينٍ(2)
ف ٦    "اُمِّیِیْنَ"' (ان پڑھ) اہل عرب کو کہا۔ جن میں علم و ہنر کچھ نہ تھا نہ کوئی آسمانی کتاب تھی۔ معمولی لکھنا پڑھنا بھی بہت کم آدمی جانتے تھے۔ ان کی جہالت و وحشت ضرب المثل تھی خدا کو بالکل بھولے ہوئے تھے، بت پرستی، اوہام پرستی، اور فسق و فجور کا نام "ملت ابراہیمی" رکھ چھوڑا تھا اور تقریباً ساری قوم صریح گمراہی میں پڑی بھٹک رہی تھی۔ ناگہاں اللہ تعالٰی نے اسی قوم میں سے ایک رسول کو اٹھایا جس کا امتیازی لقب "نبی اُمی" ہے۔ لیکن باوجود امی ہونے کے اپنی قوم کو اللہ کی سب سے زیادہ عظیم الشان کتاب پڑھ کر سناتا اور عجیب و غریب علوم و معارف اور حکمت و دانائی کی باتیں سکھلا کر ایسا حکیم و شائستہ بناتا ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے حکیم و دانا اور عالم و عارف اس کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرتے ہیں (تنبیہ) اس طرح کی آیت سورہ "بقرہ" اور "آل عمران" میں گزر چکی ہے۔ وہاں کے فوائد ملاحظہ کر لیے جائیں۔(2)
وَءاخَرينَ مِنهُم لَمّا يَلحَقوا بِهِم ۚ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(3)
ف ۷    یعنی یہ ہی رسول دوسرے آنے والے لوگوں کے واسطے بھی ہے جن کو مبدأ و معاد اور شرائع سماویہ کا پورا اور صحیح علم نہ رکھنے کی وجہ سے ان پڑھ ہی کہنا چاہیے۔ مثلاً فارس، روم، چین اور ہندوستان وغیرہ کی قومیں جو بعد کو امیین کے دین اور اسلامی برادری میں شامل ہو کر ان ہی میں سے ہوگئیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ "حق تعالٰی نے اول عرب پیدا کیے اس دین کے تھامنے والے، پیچھے عجم میں ایسے کامل لوگ اٹھے۔" حدیث میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے "وَاَخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوا بِہِمْ" کی نسبت سوال کیا گیا تو سلمان فارسی کے شانہ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اگر علم یادین ثریا پر جا پہنچے گا تو (اس کی قوم فارس کا مرد وہاں سے بھی لے آئے گا) شیخ جلال الدین سیوطی وغیرہ نے تسلیم کیا ہے کہ اس پیشین گوئی کے بڑے مصداق حضرت امام اعظم ابو حنیفتہ النعمان ہیں۔ رحمہ اللہ تعالیٰ۔ ف۸    جس کی زبردست قوت و حکمت نے اس جلیل القدر پیغمبر کے ذریعہ سے قیامت تک کے لیے عرب و عجم کی تعلیم و تزکیہ کا انتظار فرمایا۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔(3)
ذٰلِكَ فَضلُ اللَّهِ يُؤتيهِ مَن يَشاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الفَضلِ العَظيمِ(4)
ف۱   یعنی رسول کو یہ بڑائی دی اور اس امت کو اتنے بڑے مرتبہ والا رسول دیا۔ فللہ الحمد والمنۃ علی ما انعم۔ چاہیے کہ مسلمان اس انعام و اکرام کی قدر پہچانیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تعلیم و تزکیہ سے مستفید و منتفع ہونے میں کوتاہی نہ کریں۔ آگے عبرت کے لیے یہود کی مثال بیان فرماتے ہیں جنہوں نے اپنی کتاب اور پیغمبر سے استفادہ کرنے میں سخت غفلت اور کوتاہی برتی۔(4)
مَثَلُ الَّذينَ حُمِّلُوا التَّورىٰةَ ثُمَّ لَم يَحمِلوها كَمَثَلِ الحِمارِ يَحمِلُ أَسفارًا ۚ بِئسَ مَثَلُ القَومِ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِ اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ(5)
ف۲    یعنی یہود پر "تورات" کا بوجھ رکھا گیا تھا اور وہ اس کے ذمہ دار ٹھہرائے گئے تھے۔ لیکن انہوں نے اس کی تعلیمات و ہدایات کی کچھ پروانہ کی، نہ اس کو محفوظ رکھا، نہ دل میں جگہ دی، نہ اس پر عمل کر کے اللہ کے فضل و انعام سے بہرہ ور ہوئے۔ بلاشبہ تورات جس کے لوگ حامل بنائے گئے تھے حکمت و ہدایت کا ایک ربانی خزینہ تھا مگر جب اس سے منتفع نہ ہوئے تو وہ یہ مثال ہوگئی۔     نہ محقق شدی نہ دانشمند چار پائے بروکتابے چند     ایک گدھے پر علم و حکمت کی پچاسوں کتابیں لاد دو،     اس کو بوجھ میں دبنے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ تو صرف ہری گھاس کی تلاش میں ہے۔ اس بات سے کچھ سروکار نہیں رکھتا کہ پیٹھ پر لعل و جواہر لدھے ہوئے ہیں یا خزف وسنگریزے۔ اگر محض اسی پر فخر کرنے لگے کہ دیکھو! میری پیٹھ پر کیسی کیسی عمدہ اور قیمتی کتابیں لدی ہوئیں ہیں لہٰذا میں بڑا عالم اور معزز ہوں تو یہ اور زیادہ گدھا پن ہوگا۔ ف ۳   یعنی بری قوم ہے وہ جس کی مثال یہ ہے۔ اللہ ہم کو پناہ میں رکھے۔ ف٤   یعنی اللہ تعالٰی نے تورات وغیرہ میں جو بشارات نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی دی تھیں اور جو دلائل وبراہین کی رسالت پر قائم کیں، ان کو جھٹلانا آیات اللہ کو جھٹلانا۔ ف۵   یعنی ایسے معاند، ہٹ دھرم و بے انصاف لوگوں کو ہدایت کی توفیق نہیں دیتا۔(5)
قُل يٰأَيُّهَا الَّذينَ هادوا إِن زَعَمتُم أَنَّكُم أَولِياءُ لِلَّهِ مِن دونِ النّاسِ فَتَمَنَّوُا المَوتَ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(6)
(6)
وَلا يَتَمَنَّونَهُ أَبَدًا بِما قَدَّمَت أَيديهِم ۚ وَاللَّهُ عَليمٌ بِالظّٰلِمينَ(7)
ف ٦     یعنی اس گدھے پن اور جہل و حماقت کے باوجود دعویٰ یہ ہے کہ بلا شرکت غیرے ہم ہی اللہ کے دوست اور ولی، اور تنہا جنت کے حق دار ہیں بس دنیا سے چلے اور جنت میں پہنچے۔ لیکن اگر واقعی دل میں یہ ہی یقین ہے اور اپنے دعوے میں سچے ہیں تو ضروری تھا کہ دنیا کے مکدر عیش سے دل برداشتہ ہو کر محبوب حقیقی کے اشتیاق اور جنت الفردوس کی تمنا میں مرنے کی آرزو کرتے۔ جس کو یقینا معلوم ہو جائے کہ میرا اللہ کے ہاں بڑا درجہ ہے اور کوئی خطرہ نہیں۔ وہ بیشک مرنے سے خوش ہوگا اور موت کو ایک پل سمجھے گا جو دوست کو دوست سے ملاتا ہے اس کی زبان پر تو یہ الفاظ ہوں گے۔ "غَدًا نَلْقَی اِلَّاحِبَّۃٌ، مُحَمَّدًا وَحِزْبَہ، اور یَا حَبَّذَا الْجَنَّۃُ وَاقترابہا طیبۃ وبارد شرابہا اور حبیب جاء علی فاقۃٍ اور یا بنی لا یُبَالِی ابوک سقط علی الموت ام سقط علیہ الموت" وغیر ذلک۔ یہ ان اولیاء اللہ کے کلمات ہیں جو دنیا کی کسی سختی یا مصیبت سے گھبرا کر نہیں، خالص لقاء اللہ اور جنت کے اشتیاق میں موت کی تمنا رکھتے تھے، اور ان کے افعال و حرکات خود شہادت دیتے تھے کہ موت ان کو دنیا کی تمام لذائذ سے زیادہ لذیذ ہے۔ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم "لَوَدِدْتُّ اِنِّی اُقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ اُحیٰی ثُمَّ اُقْتَلُ" اس کے بالمقابل ان جھوٹے مدعیوں کے افعال و حرکات پر نظر ڈالو کہ ان سے بڑھ کر موت سے ڈرنے والا کوئی نہیں۔ وہ مرنے کا نام سن کر گھبراتے اور بھاگتے ہیں، اس لیے نہیں کہ زیادہ دن زندہ رہیں تو زیادہ نیکیاں کمائیں گے۔ محض اس لیے کہ دنیا کی حرص سے ان کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا اور دل میں سمجھتے ہیں کہ جو کرتوت کیے ہیں، یہاں سے چھوٹتے ہی ان کی سزا میں پکڑے جائیں گے۔ غرض ان کے تمام افعال و اطوار سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ وہ ایک لمحہ کے لیے موت کی آرزو نہیں کر سکتے۔ اور ممکن تھا کہ اس زمانہ کے پہلو قرآن کے اس دعویٰ کو جھٹلانے کے لیے جھوٹ مونٹ زبان سے موت کی تمنا کرنے لگتے۔ مگر اللہ تعالٰی نے یہ قدرت بھی ان کو نہ دی۔ روایات میں ہے کہ اگر (ان میں سے) کوئی یہودی موت کی تمنا کر گزرتا تو اسی وقت گلے میں اچھو لگ کر ہلاک ہو جاتا (تنبیہ) اس مضمون کی آیت سورہ "بقرہ" میں گزر چکی ہے، اس کے فوائد دیکھ لیے جائیں۔ بعض سلف کے نزدیک "تمنی موت" کا مطلب مباہلہ تھا۔ یعنی معاند یہود سے کہا گیا کہ اگر وہ واقعی اپنے اولیاء ہونے کا یقین رکھتے ہیں اور مسلمانوں کو باطل پر سمجھتے ہیں تو تمنا کریں کہ فریقین میں جو جھوٹا ہو، مر جائے۔ لیکن وہ کبھی ایسا نہ کریں گے کیونکہ ان کو اپنے کذب و ظلم کا یقین حاصل ہے۔ ابن کثیر اور ابن قیم وغیرہ نے یہ ہی توجیہ اختیار کی ہے۔ واللہ اعلم۔(7)
قُل إِنَّ المَوتَ الَّذى تَفِرّونَ مِنهُ فَإِنَّهُ مُلٰقيكُم ۖ ثُمَّ تُرَدّونَ إِلىٰ عٰلِمِ الغَيبِ وَالشَّهٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم تَعمَلونَ(8)
ف ۷    یعنی موت سے ڈر کر کہاں بھاگ سکتے ہو۔ ہزار کوشش کرو، مضبوط قلعوں میں دروازے بند کر کے بیٹھ رہو، وہاں بھی موت چھوڑنے والی نہیں۔ اور موت کے بعد پھر وہی اللہ کی عدالت ہے اور تم ہو (ربط) یہود کی بڑی خرابی یہ تھی کہ کتابیں پیٹھ پر لدی ہوئی ہیں، لیکن ان سے منتفع نہیں ہوتے دین کی بہت سی باتیں سمجھتے بوجھتے، پر دنیا کے واسطے چھوڑ بیٹھتے۔ دنیا کے دھندوں میں منہمک ہو کر اللہ کی یاد اور آخرت کے تصور کو فراموش کر دیتے، ایسی روش سے ہم کو منع کیا گیا۔ جمعہ کا تقید بھی ایسا ہی ہے کہ اس وقت دنیا کے کام میں نہ لگو بلکہ پوری توجہ اور خاموشی سے خطبہ سنو اور نماز ادا کرو۔ حدیث میں ہے کہ "جو کوئی خطبہ کے وقت بات کرے وہ اس گدھے کی طرح ہے جس پر کتابیں لدی ہوں۔" یعنی اس کی مثال یہود کی سی ہوئی۔ العیاذ باللہ۔(8)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا نودِىَ لِلصَّلوٰةِ مِن يَومِ الجُمُعَةِ فَاسعَوا إِلىٰ ذِكرِ اللَّهِ وَذَرُوا البَيعَ ۚ ذٰلِكُم خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم تَعلَمونَ(9)
ف۸   حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ "ہر اذان کا یہ حکم نہیں، کیونکہ جماعت پھر بھی ملے گی۔ اور جمعہ ایک ہی جگہ ہوتا تھا۔ پھر کہاں ملے گا۔" اور اللہ کی یاد سے مراد خطبہ ہے اور نماز بھی اس کے عموم میں داخل ہے۔ یعنی ایسے وقت جائے کہ خطبہ سنے۔ اس وقت خرید و فروخت حرام ہے۔ اور "دوڑنے" سے مراد پورے اہتمام اور مستعدی کے ساتھ جانا ہے۔ بھاگنا مراد نہیں۔ (تنبیہ) "نودی" سے مراد قرآن میں وہ اذان ہے جو نزول آیت کے وقت تھی یعنی جو امام کے سامنے ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے پہلی اذان بعد کو حضرت عثمان رضی اللہ کے عہد میں صحابہ کے اجماع سے مقرر ہوئی ہے۔ لیکن حرمت بیع میں اس اذان کا حکم بھی اذان قدیم کے ہے کیونکہ اشتراک علت سے حکم میں اشتراک ہوتا ہے۔ البتہ اذان قدیم میں یہ حکم منصوص و قطعی ہوگا اور اذان حادث میں یہ حکم مجتہد فیہ اور ظنی رہے گا۔ اس تقریر سے تمام علمی اشکالات مرتفع ہوگئے۔ نیز واضح رہے کہ "یا ایہا الذین اٰمنوا" یہاں "عام مخصوص منہ البعض" ہے۔ کیونکہ بالاجماع بعض مسلمانوں (مثلاً مسافر و مریض وغیرہ) پر جمعہ فرض نہیں۔ ف۹   ظاہر ہے کہ منافع آخرت کے سامنے دنیاوی فوائد کیا حقیقت رکھتے ہیں۔(9)
فَإِذا قُضِيَتِ الصَّلوٰةُ فَانتَشِروا فِى الأَرضِ وَابتَغوا مِن فَضلِ اللَّهِ وَاذكُرُوا اللَّهَ كَثيرًا لَعَلَّكُم تُفلِحونَ(10)
ف ۱۰   حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ "یہود کے ہاں عبادت کا دن ہفتہ تھا، سارا دن سودا منع تھا اس لیے فرما دیا کہ تم نماز کے بعد روزی تلاش کرو، اور روزی کی تلاش میں بھی اللہ کی یاد نہ بھولو۔"(10)
وَإِذا رَأَوا تِجٰرَةً أَو لَهوًا انفَضّوا إِلَيها وَتَرَكوكَ قائِمًا ۚ قُل ما عِندَ اللَّهِ خَيرٌ مِنَ اللَّهوِ وَمِنَ التِّجٰرَةِ ۚ وَاللَّهُ خَيرُ الرّٰزِقينَ(11)
ف۱   ایک مرتبہ جمعہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ فرما رہے تھے، اسی وقت تجارتی قافلہ باہر سے غلہ لے کر آپہنچا۔ اس کے ساتھ اعلان کی غرض سے نقارہ بجتا تھا۔ پہلے سے شہر میں اناج کی کمی تھی۔ لوگ دوڑے کہ اس کو ٹھہرائیں (خیال کیا ہوگا کہ خطبہ کا حکم عام وعظوں کی طرح ہے جس میں سے ضرورت کے لیے اٹھ سکتے ہیں۔ نماز پھر آکر پڑھ لیں گے۔ یا نماز ہو چکی ہوگی جیسا کہ بعض کا قول ہے کہ اس وقت نماز جمعہ خطبہ سے پہلے ہوتی تھی۔ بہرحال خطبہ کا حکم معلوم نہ تھا) اکثر لوگ چلے گئے حضرت کے ساتھ بارہ آدمی (جن میں خلفائے راشدین بھی تھے) باقی رہ گئے۔ اس پر یہ آیت اتری۔ یعنی سوداگری اور دنیا کا کھیل تماشا کیا چیز ہے، وہ ابدی دولت حاصل کرو جو اللہ کے پاس ہے اور جو پیغمبر کی صحبت اور مجالس ذکر و عبادت میں ملتی ہے۔ باقی قحط کی وجہ سے روزی کا کھٹکا جس کی بناء پر تم اٹھ کر چلے گئے، سو یاد رکھو روزی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہی بہترین روزی دینے والا ہے اس مالک کے غلام کو یہ اندیشہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس تنبیہ و تادیب کے بعد صحابہ کی شان وہ تھی جو سورہ "نور" میں ہے۔ "رِجَالٌ لَا تُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَلَابَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ" (تنبیہ) "لھو" کہتے ہیں ہر اس چیز کو اللہ کی یاد سے مشغول (غافل) کر دے جیسے کھیل تماشا۔ شاید اس نقارہ کی آواز کو لھو" سے تعبیر فرمایا ہو۔ تم سورۃ الجمعۃ فللہ الحمد والمنۃ۔(11)