Al-Insaan( الإنسان)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ هَل أَتىٰ عَلَى الإِنسٰنِ حينٌ مِنَ الدَّهرِ لَم يَكُن شَيـًٔا مَذكورًا(1)
ف١    بیشک انسان پر ایک وقت گزر چکا ہے۔ جب اس کا کچھ نام و نشان نہ تھا۔ پھر کتنے ہی دور طے کر کے نطفہ کی شکل میں آیا۔ وہ حالت بھی اس کی موجودہ شرافت و کرامت کو دیکھتے ہوئے اس قابل نہیں کہ زبان پر لائی جائے۔(1)
إِنّا خَلَقنَا الإِنسٰنَ مِن نُطفَةٍ أَمشاجٍ نَبتَليهِ فَجَعَلنٰهُ سَميعًا بَصيرًا(2)
ف ٢    یعنی مرد اور عورت کے دورنگے پانی سے پیدا کیا۔    (تنبیہ) "امشاج" کے معنی مخلوط کے ہیں۔ نطفہ جن غذاؤں کا خلاصہ ہے وہ مختلف چیزوں سے مرکب ہوتی ہیں اس لیے عورت کے پانی قطع نظر کر کے بھی اس کو "امشاج" کہہ سکتے ہیں۔ ف٣    یعنی نطفہ سے جما ہوا خون، پھر اس سے گوشت کا لوتھڑابنایا۔ اسی طرح کئی طرح کے الٹ پھیر کرنے کے بعد اس درجہ میں پہنچا دیا کہ اب وہ کانوں سے سنتا اور آنکھوں سے دیکھتا ہے اور ان قوتوں سے وہ کام لیتا ہے جو کوئی دوسرا حیوان نہیں لے سکتا۔ گویا اور سب اس کے سامنے بہرے اور اندھے ہیں (تنبیہ) "نبتلیہ" کے معنی اکثر مفسرین نے امتحان و آزمائش کے لیے ہیں۔ یعنی آدمی کا بنانا اس غرض سے تھا کہ اس کو احکام کا مکلف اور امرو نہی کا مخاطب بناکر امتحان لیا جائے اور دیکھا جائے کہ کہاں تک مالک کے احکام کی تکمیل میں وفاداری دکھلاتا ہے اسی لئے اسکو سننے، دیکھنے اور سمجھنے کی وہ قوتیں دی گئی ہیں جن پر تکلیف شرعی کا مدار ہے(2)
إِنّا هَدَينٰهُ السَّبيلَ إِمّا شاكِرًا وَإِمّا كَفورًا(3)
ف٤     یعنی اولاًاصل فطرت اور پیدائشی عقل و فہم سے، پھر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے نیکی کی راہ سمجھائی جس کا مقتضی یہ تھا کہ سب انسان ایک راہ پر چلتے لیکن گردو پیش کے حالات اور خارجی عوارض سے متاثر ہو کر سب ایک راہ پر نہ رہے۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا، اور بعض نے ناشکری اور ناحق کوشی پر کمر باندھ لی۔ آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔(3)
إِنّا أَعتَدنا لِلكٰفِرينَ سَلٰسِلَا۟ وَأَغلٰلًا وَسَعيرًا(4)
ف ٥     یعنی جو لوگ رسم و رواج اور اوہام و ظنون کی زنجیروں میں جکڑے رہے اور غیر اللہ کی حکومت و اقتدار کے طوق اپنے گلوں سے نہ نکال سکے۔ بلکہ حق و حاملین حق کے خلاف دشمنی اور لڑائی کی آگ بھڑکانے میں عمریں گزار دیں، کبھی بھول کر اللہ کی نعمتوں کو یاد نہ کیا۔ نہ اس کی سچی فرمانبرداری کا خیال دل میں لائے۔ ان کے لیے اللہ تعالٰی نے آخرت میں دوزخ کے طوق و سلاسل اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔(4)
إِنَّ الأَبرارَ يَشرَبونَ مِن كَأسٍ كانَ مِزاجُها كافورًا(5)
(5)
عَينًا يَشرَبُ بِها عِبادُ اللَّهِ يُفَجِّرونَها تَفجيرًا(6)
ف ٦     یعنی جام شراب پئیں گے جس میں تھوڑا سا کافور ملایا جائے گا۔ یہ کافور دنیا کا نہیں بلکہ جنت کا ایک خاص چشمہ ہے جو خاص طور پر اللہ کے مقرب و مخصوص بندوں کو ملے گا۔شاید اس کو ٹھنڈا، خوشبودار، مفرح اور سفید رنگ ہونے کی وجہ سے کافور کہتے ہوں گے۔ ف٧    یعنی وہ چشمہ ان بندوں کے اختیار میں ہوگا جدھر اشارہ کریں گے اسی طرف کو اس کی نالی بہنے لگے گی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کا اصل منبع حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قصر میں ہوگا۔ وہاں سے سب انبیاء و مومنین کے مکانوں تک اس کی نالیاں پہنچائی جائیں گی۔ واللہ اعلم۔ آگے ابرار کی خصلتیں بیان فرمائی ہیں۔(6)
يوفونَ بِالنَّذرِ وَيَخافونَ يَومًا كانَ شَرُّهُ مُستَطيرًا(7)
ف ٨     یعنی جو منت مانی ہو اسے پورا کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب خود اپنی لازم کی ہوئی چیز کو پورا کریں گے تو اللہ کی لازم کی ہوئی باتوں کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ ف٩    یعنی اس دن کی سختی اور برائی درجہ بدرجہ سب کو عام ہوگی۔ کوئی شخص بالکلیہ محفوظ نہ رہے گا۔ "الا من شاء اللّٰہ"(7)
وَيُطعِمونَ الطَّعامَ عَلىٰ حُبِّهِ مِسكينًا وَيَتيمًا وَأَسيرًا(8)
ف۱۰    یعنی اللہ کی محبت کے جوش میں اپنا کھانا باوجود خواہش اور احتیاج کے نہایت شوق اور خلوص سے مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھلا دیتے ہیں۔ (تنبیہ) قیدی عام ہے مسلم ہو یا کافر۔ حدیث میں ہے کہ "بدر" کے قیدیوں کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس مسلمان کے پاس کوئی قیدی رہے اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔ چنانچہ صحابہ اس حکم کی تعمیل میں قیدیوں کو اپنے سے بہتر کھانا کھلاتے تھے حالانکہ وہ قیدی مسلمان نہ تھے۔ مسلمان بھائی کا حق تو اس سے بھی زیادہ ہے۔ اگر لفظ "اسیر" میں ذرا توسع کرلیا جائے تب تو یہ آیت غلام اور مدیون کو بھی شامل ہوسکتی ہے کہ وہ بھی ایک طرح سے قید میں ہیں۔(8)
إِنَّما نُطعِمُكُم لِوَجهِ اللَّهِ لا نُريدُ مِنكُم جَزاءً وَلا شُكورًا(9)
ف۱۱    یہ کھلانے والے زبانِ حال سے کہتے ہیں اور کہیں مصلحت ہو تو زبانِ قال سے بھی کہہ سکتے ہیں۔(9)
إِنّا نَخافُ مِن رَبِّنا يَومًا عَبوسًا قَمطَريرًا(10)
ف۱۲    یعنی کیوں نہ کھلائیں اور کھلانے کے بعد کیونکر بدلہ یا شکریہ کے امید وار رہیں جبکہ ہم کو اپنے پروردگار کا اور اس دن کا خوف لگا ہوا ہے جو بہت سخت اداس اور غصّہ سے چیں بہ چیں ہوگا ہم تو اخلاص کے ساتھ کھلانے پلانے کے بعد بھی ڈرتے ہیں کہ دیکھئے ہمارا عمل مقبول ہوا یا نہیں۔ مبادا اخلاص وغیرہ میں کمی رہ گئی ہو اور الٹا منہ پر مارا جائے۔(10)
فَوَقىٰهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذٰلِكَ اليَومِ وَلَقّىٰهُم نَضرَةً وَسُرورًا(11)
ف۱    یعنی جس چیز سے وہ ڈرتے تھے۔ اللہ نے اس سے محفوظ و مامون رکھا۔ اور ان کے چہروں کو تازگی اور دلوں کو سرور عطا کیا۔(11)
وَجَزىٰهُم بِما صَبَروا جَنَّةً وَحَريرًا(12)
ف۲    یعنی ازبسکہ یہ لوگ دنیا کی تنگیوں اور سختیوں پر صبر کر کے معاصی سے رکے اور طاعت پر جمے رہے تھے۔ اس لیے اللہ نے ان کو عیش کرنے کے لیے جنت کے باغ اور لبا سہائے فاخرہ مرحمت فرمائے۔(12)
مُتَّكِـٔينَ فيها عَلَى الأَرائِكِ ۖ لا يَرَونَ فيها شَمسًا وَلا زَمهَريرًا(13)
ف۳    بادشاہوں کی طرح۔ ف٤    یعنی جنت کا موسم نہایت معتدل ہوگا نہ گرمی کی تکلیف نہ سردی کی۔(13)
وَدانِيَةً عَلَيهِم ظِلٰلُها وَذُلِّلَت قُطوفُها تَذليلًا(14)
ف۵    یعنی درختوں کی شاخیں مع اپنے پھول پھل وغیرہ کے ان پر جھکی پڑتی ہوں گی اور پھلوں کے خوشے ایسی طرح لٹکے ہوں گے اور ان کے قبضہ میں کر دیے جائیں گے جنتی جس حالت میں چاہے کھڑے بیٹھے، لیٹے بے تکلف چن سکے (تنبیہ) شاید درختوں کی شاخوں کو یہاں ظلال سے تعبیر فرمایا ہے یا واقعی سایہ ہو۔ کیونکہ آفتاب کی دھوپ نہ سہی، کوئی دوسری قسم کا نور تو وہاں ضرور ہوگا۔ اس کے سایہ میں بہشتی تفنن تفریح کی غرض سے کبھی بیٹھنا چاہیں گے۔ واللہ اعلم۔(14)
وَيُطافُ عَلَيهِم بِـٔانِيَةٍ مِن فِضَّةٍ وَأَكوابٍ كانَت قَواريرا۠(15)
(15)
قَواريرَا۟ مِن فِضَّةٍ قَدَّروها تَقديرًا(16)
ف ٦     یعنی آبخورے اصل میں چاندی کے بنے ہوں گے نہایت سفید، بے داغ اور فرحت بخش، لیکن صاف و شفاف اور چمکدار ہونے میں شیشے کی طرح معلوم ہوں گے۔ ان کے اندر کی چیز باہر سے صاف نظر آئے گی۔ ف۷    یعنی جنتی کو جس قدر پینے کی خواہش ہوگی ٹھیک اس کے اندازے کے موافق بھرے ہوں گے کہ نہ کمی رہے نہ بچے۔ یا بہشتیوں نے اپنے دل سے جیسا اندازہ کرلیا ہوگا بلا کم و کاست اسی کے موافق آئیں گے۔(16)
وَيُسقَونَ فيها كَأسًا كانَ مِزاجُها زَنجَبيلًا(17)
ف۸    یعنی ایک جام شراب وہ تھا جس کی ملونی کافور ہے۔ دوسرا وہ ہوگا۔ جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔ مگر یہ دنیا کی سونٹھ نہ سمجھے وہ ایک چشمہ ہے۔ جنت میں جس کو سلسبیل کہتے ہیں۔ سونٹھ کی تاثیر گرم ہے اور وہ حرارتِ غریزیہ میں انتعاش پیدا کرتی ہے۔ عرب کے لوگ اس کو بہت پسند کرتے تھے۔ بہرحال کسی خاص مناسبت سے اس چشمہ کو زنجبیل کا چشمہ کہتے ہیں۔ ابرار کے پیالہ میں اس کی تھوڑی سی آمیزش کی جائے گی۔ اصل میں وہ چشمہ بڑے عالی مقام مقربین کے لیے ہے۔ واللہ اعلم۔(17)
عَينًا فيها تُسَمّىٰ سَلسَبيلًا(18)
ف۹    اس نام کے معنی ہیں پانی صاف بہتا ہوا۔ کذا فی الموضح۔(18)
۞ وَيَطوفُ عَلَيهِم وِلدٰنٌ مُخَلَّدونَ إِذا رَأَيتَهُم حَسِبتَهُم لُؤلُؤًا مَنثورًا(19)
ف۱۰    یعنی ہمیشہ لڑکے رہیں گے یا جنتیوں سے کبھی چھینے نہ جائیں گے۔ ف۱۱    یعنی اپنے حسن وجمال صفائی اور آب و تاب میں اِدھراُ دھر پھرتے ہوئے ایسے خوش منظر معلوم ہوں گے گویا بہت سے چمکدار خوبصورت موتی زمین پر بکھیر دیے گئے۔(19)
وَإِذا رَأَيتَ ثَمَّ رَأَيتَ نَعيمًا وَمُلكًا كَبيرًا(20)
ف۱۲    یعنی جنت کا حال کیا کہا جائے، کوئی دیکھے تو معلوم ہو کہ کیسی عظیم الشان نعمت اور کتنی بھاری بادشاہت ہے جو ادنیٰ ترین جتنی کو نصیب ہوگی۔ رَزَقْنَا اللّٰہ مِنْہَا بمنہٖ وَفَضْلہٖ۔(20)
عٰلِيَهُم ثِيابُ سُندُسٍ خُضرٌ وَإِستَبرَقٌ ۖ وَحُلّوا أَساوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقىٰهُم رَبُّهُم شَرابًا طَهورًا(21)
ف۱۳   یعنی باریک اور دبیز دونوں قسم کے ریشم کے لباس جنتیوں کو ملیں گے۔ ف۱٤    اس سورت میں تین جگہ چاندی کے برتنوں اور زیور وغیرہ کا ذکر آیا ہے۔ دوسری جگہ سونے کے بیان کیے گئے ہیں۔ ممکن ہے یہ بھی ہوں اور وہ بھی، کسی کو یہ ملیں، کسی کو وہ۔ یا کبھی یہ کبھی وہ۔ ف۱۵    یعنی سب نعمتوں کے بعد شراب طہور کا ایک جام محبوب حقیقی کی طرف سے ملے گا، جس میں نہ نجاست ہوگی نہ کدورت، نہ سرگرائی، نہ بدبو، اس کے پینے سے دل پاک اور پیٹ صاف ہوں گے، پینے کے بعد بدن سے پسینہ نکلے گا جس کی خوشبو مشک کی طرح مہکنے والی ہوگی۔(21)
إِنَّ هٰذا كانَ لَكُم جَزاءً وَكانَ سَعيُكُم مَشكورًا(22)
ف۱٦    یعنی مزید اعزازو اکرام اور تطییب قلوب کے لیے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔ تمہاری کوشش مقبول ہوئی۔ اور محنت ٹھکانے لگی۔ اس کو سن کر جنتی اور زیادہ خوش ہوں گے۔(22)
إِنّا نَحنُ نَزَّلنا عَلَيكَ القُرءانَ تَنزيلًا(23)
(23)
فَاصبِر لِحُكمِ رَبِّكَ وَلا تُطِع مِنهُم ءاثِمًا أَو كَفورًا(24)
ف۱    تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل مضبوط رہے اور لوگ بھی آہستہ آہستہ اپنے نیک و بد کو سمجھ لیں۔ اور معلوم کرلیں کہ جنت کن اعمال کی بدولت ملتی ہے۔ اگر اس طرح سمجھانے پر بھی نہ مانیں اور اپنی ضدو عناد ہی پر قائم رہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پروردگار کے حکم پر برابر جمے رہیے۔ اور آخری فیصلہ کا انتظار کیجیے۔ ف۲    عتبہ اور ولید وغیرہ کفار قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیاوی لالچ دے کر اور چکنی چپڑی باتیں بنا کر چاہتے تھے کہ فرض تبلیغ و دعوت سے باز رکھیں۔ اللہ نے متنبہ فرما دیا۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کی بات نہ مانیں۔ کیونکہ کسی گنہگار فاسق یا ناشکر کافر کا کہنا ماننے سے نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں۔ ایسے شریروں اور بدبختوں کی بات پر کان دھرنا نہیں چاہیے۔(24)
وَاذكُرِ اسمَ رَبِّكَ بُكرَةً وَأَصيلًا(25)
ف۳    یعنی ہمہ وقت اس کو یاد رکھو خصوصاً ان دو وقتوں میں سب خرخشوں کا علاج یہی ذکر خدا ہے۔(25)
وَمِنَ الَّيلِ فَاسجُد لَهُ وَسَبِّحهُ لَيلًا طَويلًا(26)
ف٤    یعنی نماز پڑھ، شاید مغرب و عشاء مراد ہو یا تہجد۔ ف۵    اگر "وَمِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْلَہ،" سے تہجد مراد لیا جائے تو یہاں تسبیح ہے اس کے معنیٰ متبادل مراد لیں گے۔ یعنی شب کو تہجد کے علاوہ بہت زیادہ تسبیح و تہلیل میں مشغول رہیے اور اگر پہلے مغرب و عشاء مراد تھی تو یہاں تسبیح سے تہجد مراد لے سکتے ہیں۔(26)
إِنَّ هٰؤُلاءِ يُحِبّونَ العاجِلَةَ وَيَذَرونَ وَراءَهُم يَومًا ثَقيلًا(27)
ف ٦     یعنی یہ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت و ہدایت قبول نہیں کرتے اس کا سبب حب دنیا ہے۔ دنیا چونکہ جلد ہاتھ آنے والی چیز ہے اسی کو یہ چاہتے ہیں اور قیامت کے بھاری دن سے غفلت میں ہیں اس کی کچھ فکر نہیں۔ بلکہ اس کے آنے کا یقین بھی نہیں۔ سمجھتے ہیں کہ مر کر جب گل سڑ گئے پھر کون دوبارہ ہم کو ایسا ہی بنا کر کھڑا کر دے گا؟ آگے اس کا جواب دیا ہے۔(27)
نَحنُ خَلَقنٰهُم وَشَدَدنا أَسرَهُم ۖ وَإِذا شِئنا بَدَّلنا أَمثٰلَهُم تَبديلًا(28)
ف۷    یعنی اول پیدا ہم نے کیا اور سب جوڑ بند درست کیے۔ آج ہماری وہ قدرت سلب نہیں ہوگئی۔ ہم جب چاہیں ان کی موجودہ ہستی کو ختم کر کے دوبارہ ایسی ہی ہستی بنا کر کھڑی کر دیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ یہ لوگ نہ مانیں گے تو ہم قادر ہیں کہ جب چاہیں ان کی جگہ دوسرے ایسے ہی آدمی لے آئیں جو ان کی طرح سرکش نہ ہوں گے۔(28)
إِنَّ هٰذِهِ تَذكِرَةٌ ۖ فَمَن شاءَ اتَّخَذَ إِلىٰ رَبِّهِ سَبيلًا(29)
ف۸    یعنی جبرو زور سے منوا دینا آپ کا کام نہیں، قرآن کے ذریعہ نصیحت کر دیجئے۔ آگے ہر ایک کو اختیار ہے جس کا جی چاہے اپنے رب کی خوشنودی تک پہنچنے کا راستہ بنا رکھے۔(29)
وَما تَشاءونَ إِلّا أَن يَشاءَ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَليمًا حَكيمًا(30)
ف۹    یعنی تمہارا چاہنا بھی اللہ کے چاہے بدون نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ بندہ کی مشیت اللہ کی مشیت کے تابع ہے وہ جانتا ہے کہ کس کی استعداد وقابلیت کس قسم کی ہے اسی کے موافق اس کی مشیت کام کرتی ہے۔ پھر وہ جس کو اپنی مشیت سے راہِ راست پر لائے، اور جس کو گمراہی میں پڑا چھوڑ دے عین صواب و حکمت ہے۔(30)
يُدخِلُ مَن يَشاءُ فى رَحمَتِهِ ۚ وَالظّٰلِمينَ أَعَدَّ لَهُم عَذابًا أَليمًا(31)
ف۱۰    یعنی جن کی استعداد اچھی ہوگی ان کو نیکی پر چلنے کی توفیق دے گا۔ اور اپنی رحمت و فضل کا مستوجب بنائے گا،(31)