Al-Infitar( الإنفطار)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ إِذَا السَّماءُ انفَطَرَت(1)
(1)
وَإِذَا الكَواكِبُ انتَثَرَت(2)
(2)
وَإِذَا البِحارُ فُجِّرَت(3)
ف١٣    یعنی سمندر کا پانی زمین پر زور کرے۔ آخر میٹھے اور کھاری سب پانی مل جائیں۔(3)
وَإِذَا القُبورُ بُعثِرَت(4)
ف١٤    یعنی جو چیز زمین کی تہ میں تھی اوپر آ جائے۔ اور مردے قبروں سے نکالے جائیں۔(4)
عَلِمَت نَفسٌ ما قَدَّمَت وَأَخَّرَت(5)
ف١    یعنی جو بھلے برے کام کئے یا نہیں کئے شروع عمر میں کئے یا اخیر میں۔ ان کا اثر اپنے پیچھے چھوڑا یا نہیں چھوڑا۔ سب اس وقت سامنے آجائیں گے۔(5)
يٰأَيُّهَا الإِنسٰنُ ما غَرَّكَ بِرَبِّكَ الكَريمِ(6)
ف ٢    یعنی وہ رب کریم کیا اس کا حقدار تھا کہ تو اپنے جہل و حماقت سیاس کے حلم پر مغرور ہو کر نافرمانیاں کرتا رہے؟ اور اس کے لطف وکرم کا جواب کفران و طغیان سے دے؟ اس کا کرم دیکھ کر تو اور زیادہ شرمانا اور حلیم کے غصہ سے بہت زیادہ ڈرنا چاہیے تھا۔ بیشک وہ کریم ہے لیکن منتقم اور حکیم بھی ہے۔ پھر یہ غرور اور دھوکا نہیں تو اور کیا ہوگا کہ اس کی ایک صفت کو لے کر دوسری صفات سے آنکھیں بند کر لی جائیں۔(6)
الَّذى خَلَقَكَ فَسَوّىٰكَ فَعَدَلَكَ(7)
ف٣    حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ "ٹھیک کیا بدن میں برابر کیا خصلت میں" یا یہ مطلب ہے کہ تیرے اعضاء کے جوڑ بند درست کئے اور حکمت کے موافق ان میں تناسب رکھا۔ پھر مزاج و اخلاط میں اعتدال پیدا کیا۔(7)
فى أَىِّ صورَةٍ ما شاءَ رَكَّبَكَ(8)
ف٤    یعنی سب کی صورتوں میں تھوڑا بہت تفاوت رکھا۔ ہر ایک کو الگ صورت شکل اور رنگ روپ عنایت کیا اور بحیثیت مجموعی انسان کی صورت کو تمام جانداروں کی صورت سے بہتر بنایا۔ بعض سلف اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ وہ چاہتا تو تجھے گدھے، کتے، خنزیر کی شکل و صورت میں ڈال دیتا۔ باوجود اس قدرت کے محض اپنے فضل اور مشیت سے انسانی صورت میں رکھا۔ بہرحال جس خدا کی یہ قدرت ہو اور ایسے انعامات ہوں، کیا اس کے ساتھ آدمی کو یہ ہی معاملہ کرنا چاہئے۔(8)
كَلّا بَل تُكَذِّبونَ بِالدّينِ(9)
ف ٥     یعنی بہکنے اور دھوکا کھانے کی اور کوئی وجہ نہیں۔ بات یہ ہے کہ تم انصاف کے دن پر یقین نہیں رکھتے ہو کہ جو چاہیں کرتے رہیں، آگے کوئی حساب اور باز پرس نہیں۔ یہاں جو کچھ عمل ہم کرتے ہیں کون ان کو لکھتا اور محفوظ کرتا ہوگا۔ جس کی تفصیل آگے بیان کی۔(9)
وَإِنَّ عَلَيكُم لَحٰفِظينَ(10)
(10)
كِرامًا كٰتِبينَ(11)
(11)
يَعلَمونَ ما تَفعَلونَ(12)
ف ٦     جو نہ خیانت کرتے ہیں نہ کوئی عمل لکھے بغیر چھوڑتے ہیں۔ نہ ان سے تمہارے اعمال پوشیدہ ہیں جب سب عمل ایک ایک کر کے اس اہتمام سے لکھے جا رہے ہیں تو کیا یہ سب دفتر یوںہی بیکار چھوڑ دیا جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ یقیناً ہر شخص کے اعمال اس کے آگے آئیں گے اور اس کا اچھا برا پھل چکھنا پڑے گا۔ جس کی تفصیل آگے بیان کی۔(12)
إِنَّ الأَبرارَ لَفى نَعيمٍ(13)
ف٧    جہاں ہمیشہ کے لئے ہر قسم کی نعمتوں اور راحتوں میں رہنا ہوگا، اگر نکلنے کا کھٹکا لگا رہتا تو راحت ہی کیا ہوتی۔(13)
وَإِنَّ الفُجّارَ لَفى جَحيمٍ(14)
(14)
يَصلَونَها يَومَ الدّينِ(15)
(15)
وَما هُم عَنها بِغائِبينَ(16)
ف ٨     یعنی نہ بھاگ کر اس سے الگ رہ سکتے ہیں نہ داخل ہونے کے بعد کبھی نکل کر جاسکتے ہیں۔ ہمیشہ وہیں رہنا ہے۔(16)
وَما أَدرىٰكَ ما يَومُ الدّينِ(17)
(17)
ثُمَّ ما أَدرىٰكَ ما يَومُ الدّينِ(18)
(18)
يَومَ لا تَملِكُ نَفسٌ لِنَفسٍ شَيـًٔا ۖ وَالأَمرُ يَومَئِذٍ لِلَّهِ(19)
ف٩    یعنی کتنا ہی سوچو اور غور کرو، پھر بھی اس ہولناک دن کی پوری کیفیت سمجھ میں نہیں آسکتی۔ بس مختصراً اتنا سمجھ لو کہ اس دن جتنے رشتے ناطے خویشی اور آشنائی کے ہیں سب نیست و نابود ہوجائیں گے۔ سب نفسی نفسی پکارتے ہوں گے۔ کوئی شخص بدون حکم مالک الملک کے کسی کی سفارش نہ کر سکے گا۔ عاجزی، چاپلوسی اور صبرو استقلال کچھ کام نہ دیگا۔"الا من رحم اللّٰہ"۔ ف ١٠     یعنی دنیا میں جس طرح بادشاہ کا حکم رعیت پر، ماں باپ کا اولاد پر، اور آقا کا نوکر پر جاری ہوتا ہے اس دن یہ سب حکم ختم ہوجائیں گے اور اس شہنشاہِ مطلق کے سوا کسی کو دم مارنے کی قدرت نہ ہوگی تنہا بلاشرکت غیرے ظاہر اًوباطناً اسی کا حکم چلے گا۔ اور سارے کام حساًّ و معناً اکیلے اسی کے قبضہ میں ہوں گے۔(19)