Al-Gashiya( الغاشية)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ هَل أَتىٰكَ حَديثُ الغٰشِيَةِ(1)
ف١١    یعنی وہ بات سننے کے لائق ہے۔ (تنبیہ) "غاشیہ" (چھپالینے والی) سے مراد ہ۔ قیامت ہے جو تمام مخلوق پر چھا جائے گی اور جس کا اثر سارے عالم پر محیط ہوگا۔(1)
وُجوهٌ يَومَئِذٍ خٰشِعَةٌ(2)
(2)
عامِلَةٌ ناصِبَةٌ(3)
ف ١٢     یعنی آخرت میں مصیبتیں جھیلنے والے اور مصیبت جھیلنے کی وجہ سے خستہ ودرماندہ، اور بعض نے کہا کہ "عاملۃ ناصبۃ" سے دنیا کا حال مراد ہے۔ یعنی کتنے لوگ ہیں جو دنیا میں محنتیں کرتے کرتے تھک جاتے ہیں مگر ان کی سب محنتیں طریقِ حق پر نہ ہونے کی وجہ سے سب اکارت ہیں یہاں بھی تکلیفیں اٹھائیں اور وہاں بھی مصیبت میں رہے "خسر الدنیا والاخرۃ" اسی کو کہتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ "(کافر لوگ) جو دنیا میں (بڑی بڑی) ریاضت کرتے ہیں (اللہ کے ہاں) کچھ قبول نہیں ہوتی۔"(3)
تَصلىٰ نارًا حامِيَةً(4)
(4)
تُسقىٰ مِن عَينٍ ءانِيَةٍ(5)
ف١٣    یعنی جب دوزخ کی گرمی ان کے باطن میں سخت تشنگی پیدا کرے گی، بے اختیار پیاس پکاریں گے کہ شاید پانی پینے سے یہ تشنگی دور ہو۔ اس وقت ایک گرم کھولتے ہو گے چشمہ کا پانی دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ہونٹ کباب ہوجائیں گے۔ اور آنتیں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر پڑیں گی۔ پھر فوراً درست کی جائیں گی اور اسی طرح ہمیشہ عذاب میں گرفتار رہیں گے۔ العیاذباللہ۔(5)
لَيسَ لَهُم طَعامٌ إِلّا مِن ضَريعٍ(6)
ف١٤    "صریح" ایک خاردار درخت ہے دوزخ میں جو تلخی میں ایلوے سے زیادہ اور بدبو میں مردار سے بدتر اور گرمی میں آگ سے بڑھ کر ہے۔ جب دوزخی بھوک کے عذاب سے چلائیں گے تو یہ چیز کھانے کو دی جائے گی۔(6)
لا يُسمِنُ وَلا يُغنى مِن جوعٍ(7)
ف١    کھانے سے مقصود یا محض لذت حاصل کرنا ہوتا ہے یا بدن کو فربہ کرنا یا بھوک کو دفع کرنا۔ "ضریع" کے کھانے سے کوئی بات حاصل نہ ہوگی۔ لذت و مزہ کی نفی تو اس کے نام سے ظاہر ہے، رہے باقی دو فائدے ان کی نفی اس آیت میں تصریحاً کر دی۔ غرض کوئی لذیذ و مرغوب کھانا ان کو میسر نہ ہوگا۔ یہاں تک دوزخیوں کا حال تھا۔ آگے ان کے بالمقابل جنتیوں کا ذکر ہے۔(7)
وُجوهٌ يَومَئِذٍ ناعِمَةٌ(8)
(8)
لِسَعيِها راضِيَةٌ(9)
ف ٢    یعنی خوش ہوں گے کہ اپنی کوشش ٹھکانے لگی اور محنت کا پھل بہت خوب ملا۔(9)
فى جَنَّةٍ عالِيَةٍ(10)
(10)
لا تَسمَعُ فيها لٰغِيَةً(11)
ف٣    یعنی کوئی بیہودہ بات نہیں سنیں گے۔ چہ جائے کہ گالی گفتار اور ذلت کی بات ہو۔(11)
فيها عَينٌ جارِيَةٌ(12)
ف٤    یعنی ایک عجیب طرح کا چشمہ، اور بعض نے اس کو جنس پر حمل کیا ہے۔ یعنی بہت سے چشمے بہ رہے ہیں۔(12)
فيها سُرُرٌ مَرفوعَةٌ(13)
(13)
وَأَكوابٌ مَوضوعَةٌ(14)
ف ٥     کہ جب پینے کو جی چاہے دیر نہ لگے۔(14)
وَنَمارِقُ مَصفوفَةٌ(15)
ف ٦     یعنی نہایت قرینے اور ترتیب سے بچھے ہوئے، اور گاؤ تکیے لگے ہوئے۔(15)
وَزَرابِىُّ مَبثوثَةٌ(16)
ف٧    تاکہ جس وقت جہاں چاہیں آرام کریں۔ اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی کلفت نہ اٹھائیں۔(16)
أَفَلا يَنظُرونَ إِلَى الإِبِلِ كَيفَ خُلِقَت(17)
ف ٨     کہ ہیئت اور خاصیت دونوں اور جانوروں کی نسبت اس میں عجیب ہیں جن کی تفصیل تفسیر عزیزی میں دیکھنے کے قابل ہے۔(17)
وَإِلَى السَّماءِ كَيفَ رُفِعَت(18)
ف٩    بدون ظاہری ستون اور کھمبے کے۔(18)
وَإِلَى الجِبالِ كَيفَ نُصِبَت(19)
ف ١٠     کہ ذرا اپنی جگہ سے جنبش نہیں کرتے۔(19)
وَإِلَى الأَرضِ كَيفَ سُطِحَت(20)
ف١١    کہ اپنی کلانی کے سبب باوجود کروی الشکل ہونے کے مسطح معلوم ہوتی ہے۔ اسی لئے اس پر رہنا سہنا آسان ہوگیا۔ یہ سب دلائل قدرت بیان ہوئے۔ یعنی تعجب ہے، ان چیزوں کو دیکھ کر اللہ تعالٰی کی قدرت اور حکیمانہ انتظامات کو نہیں سمجھتے جس سے بعثت بعدالموت پر اس کا قادر ہونا اور عالم آخرت کے عجیب وغریب انتظامات کاممکن ہونا سمجھ میں آجاتا اور تخصیص ان چیزوں کی بقول ابن کثیر اس لئے ہے کہ عرب کے لوگ اکثر جنگلوں میں چلتے پھرتے تھے اس وقت ان کے سامنے بیشتر یہی چار چیزیں ہوتی تھیں۔ سواری میں اونٹ، اوپر آسمان نیچے زمین، اردگرد پہاڑ، اس لئے انہی علامات میں غور کرنے کے لئے ارشاد ہوا۔(20)
فَذَكِّر إِنَّما أَنتَ مُذَكِّرٌ(21)
(21)
لَستَ عَلَيهِم بِمُصَيطِرٍ(22)
ف ١٢     یعنی جب یہ لوگ باوجود قیام دلائل واضحہ غور نہیں کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی فکر میں زیادہ نہ پڑیے بلکہ صرف نصیحت کر دیا کیجئے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت کرنے اور سمجھانے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ اگر یہ نہیں سمجھتے تو کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر داروغہ بنا کر مسلط نہیں کئے گئے کہ زبردستی منوا کر چھوڑیں، اور ان کے دلوں کو بدل ڈالیں، یہ کام مقلب القلوب ہی کا ہے۔(22)
إِلّا مَن تَوَلّىٰ وَكَفَرَ(23)
(23)
فَيُعَذِّبُهُ اللَّهُ العَذابَ الأَكبَرَ(24)
(24)
إِنَّ إِلَينا إِيابَهُم(25)
(25)
ثُمَّ إِنَّ عَلَينا حِسابَهُم(26)
ف١٣    یعنی جس نے اللہ کی طاعت سے روگردانی کی اور اس کی آیتوں کا انکار کیا وہ آخرت کے بڑے عذاب اور اللہ کی سخت ترین سزا سے بچ نہیں سکتا۔ یقینا ان کو ایک روز ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے اور ہم کو ان سے رتی رتی کا حساب لینا ہے۔ غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا فرض ادا کئے جائیے اور ان کا مستقبل ہمارے سپرد کیجئے۔(26)