Al-Fajr( الفجر)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ وَالفَجرِ(1)
(1)
وَلَيالٍ عَشرٍ(2)
(2)
وَالشَّفعِ وَالوَترِ(3)
(3)
وَالَّيلِ إِذا يَسرِ(4)
ف١٤ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں"عید قربان کی فجر بڑا حج ادا ہوتا ہے اور دس رات اس سے پہلے۔ اور جفت اور طاق رمضان کی آخری (عشرہ) دہائی میں ہے۔ اور جب رات کو چلے یعنی پیغمبر معراج کو"۔ یہ سب اوقات متبرک تھے اس لئے ان کی قسم کھائی (تنبیہ) "والیـــــل اذا یـــسر " کے معنی عموماً مفسرین نے رات کے گزرنے یا اس کی تاریکی پھیلنے کے لئے ہیں۔ گویا صبح کی قسم کے مقابلہ میں رات کے جانے یا آنے کی قسم کھائی۔ جیسا کہ جفت کے مقابل طاق کی قسم کھائی گئی۔ اور "ولیال عشر" سے بھی ممکن ہے مطلق دس راتیں مراد ہوں کیونکہ اس کے افراد و مصادیق میں بھی تقابل پایا جاتا ہے مہینہ کے شروع کی دس راتیں اول روشن ہوتی ہیں پھر تاریک اور اخیر کی دس راتیں ابتداء میں تاریک رہتی ہیں پھر روشن ہوتی ہیں اور درمیانی دس راتوں کا حال ان دونوں سے جداگانہ ہے گویا اس اختلاف و تقابل سے اشارہ فرما دیا کہ آدمی کو عیش وآرام یا مصیبت اور تنگی یا فراخی کی جو حالت پیش آئے مطمئن نہ ہو جائے اور یوں نہ سمجھے کہ اب اس کے خلاف دوسری حالت پیش نہ آئے گی اسے یاد رکھنا چاہیے کہ حق تعالٰی خالقِ اضداد ہے جس طرح وہ آفاق میں ایک ضد کے مقابل دوسری ضد کو لاتا ہے۔ ایسے ہی تمہارے حالات و کوائف کو بھی اپنی حکمت و مصلحت کے موافق ادل بدل کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ آگے جو واقعات ومضامین مذکور ہیں ان میں اسی اصول پر متنبہ فرمایا ہے۔ (تنبیہ دوم) اس آیت کی تفسیر میں دو حدیثیں مرفوع آئی ہیں جابر کی اور عمران بن حصین کی، حافظ ابن کثیر پہلی کی نسبت لکھتے ہیں" وھذا اسناد رجالہ لا باس بھم وعندی ان المتن فی رفعہ نکارۃ۔" اور دوسری کی نسبت فرماتے ہیں۔ وعندی ان وقفہ علی عمران بن حصین اشبہ واللّٰہ اعلم۔"(4)
هَل فى ذٰلِكَ قَسَمٌ لِذى حِجرٍ(5)
ف١    یعنی یہ قسمیں معمولی نہیں نہایت معتبر اور مہتم بالشان ہیں اور عقلمند لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ تاکید کلام کے لئے ان میں ایک خاص عظمت و وقعت پائی جاتی ہے۔(5)
أَلَم تَرَ كَيفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعادٍ(6)
(6)
إِرَمَ ذاتِ العِمادِ(7)
ف ٢    "عاد" ایک شخص کا نام ہے جس کی طرف یہ قوم منسوب ہوئی، اس کے اجداد میں سے ایک شخص "ارم"نامی تھا۔ اس کی طرف نسبت کرنے سے شاید اس طرف اشارہ ہو کہ یہاں "عاد" سے عادِ اولیٰ" مراد ہے۔ "عادِ ثانیہ" نہیں، اور بعض نے کہا " قوم عاد" میں جو شاہی خاندان تھا اسے "ارم " کہتے تھے۔ واللہ اعلم۔ ف٣    یعنی ستون کھڑے کر کے بڑی بڑی اونچی عمارتیں بناتے۔ یا مطلب ہے کہ اکثر سیرو سیاحت میں رہتے اور اونچے ستونوں پر خیمے تانتے تھے۔ اور بعض کے نزدیک "ذاتِ العماد" کہہ کر ان کے اونچے قدوقامت اور ڈیل ڈول کو ستونوں سے تشبیہ دی ہے۔ واللہ اعلم۔(7)
الَّتى لَم يُخلَق مِثلُها فِى البِلٰدِ(8)
ف٤    یعنی اس وقت دنیا میں اس قوم جیسی کوئی قوم مضبوط و طاقتور نہ تھی، یا ان کی عمارتیں اپنا جواب نہیں رکھتی تھیں۔(8)
وَثَمودَ الَّذينَ جابُوا الصَّخرَ بِالوادِ(9)
ف ٥     "وادی القریٰ" ان کے مقام کا نام ہے جہاں پہاڑ کے پتھروں کو تراش کر نہایت محفوظ و مضبوط مکان بناتے تھے۔(9)
وَفِرعَونَ ذِى الأَوتادِ(10)
ف ٦     یعنی بڑے لاؤ لشکر والا جس کو فوجی ضروریات کے لئے بہت کثیر مقدار میں میخیں رکھنا پڑتی تھیں یا یہ مطلب ہے کہ لوگوں کو چومیخا کر کے سزا دیتا تھا۔(10)
الَّذينَ طَغَوا فِى البِلٰدِ(11)
(11)
فَأَكثَروا فيهَا الفَسادَ(12)
(12)
فَصَبَّ عَلَيهِم رَبُّكَ سَوطَ عَذابٍ(13)
ف٧    یعنی ان قوموں نے عیش و دولت اور زور و قوت کے نشہ میں مست ہو کر ملکوں میں خوب اودھم مچایا۔ بڑی بڑی شرارتیں کیں اور ایسا سر اٹھایا گویا ان کے سروں پر کوئی حاکم ہی نہیں؟ ہمیشہ اسی حال میں رہنا ہے! کبھی اس ظلم و شرارت کا خمیازہ بھگتنا نہیں پڑے گا؟ آخر جب ان کے کفر وتکبر اور جورو ستم کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ اور مہلت و درگزر کا کوئی موقع باقی نہ رہا دفعتاً خداوند قہار نے ان پر اپنے عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ ان کی سب قوت اور بڑائی خاک میں مل گئی اور وہ سازو سامان کچھ کام نہ آیا۔(13)
إِنَّ رَبَّكَ لَبِالمِرصادِ(14)
ف ٨     یعنی جیسے کوئی شخص گھات میں پوشیدہ رہ کر آنے جانے والوں کی خبر رکھتا ہے کہ فلاں کیونکر گزرا اور کیا کرتا ہوا گیا، اور فلاں کیا لایا اور کیا لے گیا، پھر وقت آنے پر اپنی ان معلومات کے موافق معاملہ کرتا ہے۔ اسی طرح سمجھ لو کہ حق تعالٰی انسانوں کی آنکھوں سے پوشیدہ رہ کر سب بندوں کے ذرہ ذرہ احوال و اعمال دیکھتا ہے، کوئی حرکت و سکون اس سے مخفی نہیں۔ ہاں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا، غافل بندے سمجھتے ہیں کہ بس کوئی دیکھنے اور پوچھنے والا نہیں جو چاہو بے دھڑک کئے جاؤ۔ حالانکہ وقت آنے پر ان کا سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیتا ہے اور ہر ایک سے انہی اعمال کے موافق معاملہ کرتا ہے جو شروع سے اس کے زیر نظر تھے۔ اس وقت پتہ لگتا ہے کہ وہ سب ڈھیل تھی اور بندوں کا امتحان تھا کہ دیکھیں کن حالات میں کیا کچھ کرتے ہیں اور ایک عارضی حالت پر نظر کر کے آخری انجام کو تو نہیں بھولتے۔(14)
فَأَمَّا الإِنسٰنُ إِذا مَا ابتَلىٰهُ رَبُّهُ فَأَكرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقولُ رَبّى أَكرَمَنِ(15)
ف٩    یعنی میں اسی لائق تھا۔ اس لیے عزت دی۔(15)
وَأَمّا إِذا مَا ابتَلىٰهُ فَقَدَرَ عَلَيهِ رِزقَهُ فَيَقولُ رَبّى أَهٰنَنِ(16)
ف١٠    یعنی میری قدر نہ کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس کی نظر صرف دنیا کی زندگی اور حالت حاضرہ پر ہے پس دنیا کی موجودہ راحت و تکلیف ہی کو عزت و ذلت کا معیار سمجھتا ہے۔ نہیں جانتا کہ دونوں حالتوں میں اس کی آزمائش ہے۔ نعمت دے کر اس کی شکر گذاری اور سختی بھیج کر اس کے صبر و رضا کو جانچا جارہا ہے۔ نہ یہاں کا عارضی عیش وآرام اللہ کے ہاں مقبول و معزز ہونے کی دلیل ہے۔ نہ محض تنگی اور سختی مردود ہونے کی علامت ہے۔ مگر انسان اپنے افعال واعمال پر نظر نہیں کرتا۔ اپنی بے عقلی یا بے حیائی سے رب پر الزام رکھتا ہے۔(16)
كَلّا ۖ بَل لا تُكرِمونَ اليَتيمَ(17)
ف١١    یعنی خدا کے ہاں تمہاری عزت کیوں ہو، جب تم بے کس یتیموں کی عزت اور خاطر مدارت نہیں کرتے۔(17)
وَلا تَحٰضّونَ عَلىٰ طَعامِ المِسكينِ(18)
ف ١٢     یعنی خود اپنے مال سے مسکینوں کی خبر گیری کرنا تو کجا دوسروں کو بھی اس طرف نہیں ابھارتے کہ بھوکے محتاجوں کی خبر لے لیا کریں۔(18)
وَتَأكُلونَ التُّراثَ أَكلًا لَمًّا(19)
ف١٣    یعنی مردے کی میراث لینے میں حلال حرام اور حق ناحق کی کچھ تمیز نہیں، جو قابو چڑھا ہضم کیا، یتیموں اور مسکینوں کے حقوق تلف ہوں، ہونے دو۔(19)
وَتُحِبّونَ المالَ حُبًّا جَمًّا(20)
ف١٤    یعنی جڑ کی بات یہ ہے کہ تمہارا دل مال کی حرص اور محبت سے بھرا ہوا ہے۔ بس کسی طرح مال ہاتھ آئے اور ایک پیسہ کسی نیک کام میں ہاتھ سے نہ نکلے خواہ آگے چل کر نتیجہ کچھ ہی کیوں نہ ہو۔ مال کی اس قدر محبت اور پرستش کہ آدمی اسی کو کعبہ مقصود ٹھہرا لے، صرف کافر کا شیوہ ہو سکتا ہے۔(20)
كَلّا إِذا دُكَّتِ الأَرضُ دَكًّا دَكًّا(21)
ف١٥    یعنی سب ٹیلے اور پہاڑ کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں اور زمین صاف چٹیل میدان ہو جائے۔(21)
وَجاءَ رَبُّكَ وَالمَلَكُ صَفًّا صَفًّا(22)
ف١٦    یعنی اپنی قہری تجلی کے ساتھ جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔ ف١٧    یعنی میدان محشر میں آئیں گے وہاں انتظامات کے لئے۔(22)
وَجِا۟يءَ يَومَئِذٍ بِجَهَنَّمَ ۚ يَومَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الإِنسٰنُ وَأَنّىٰ لَهُ الذِّكرىٰ(23)
ف١    یعنی لاکھوں فرشتے اس کی جگہ سے کھینچ کر محشر والوں کے سامنے لائیں گے۔ ف ٢    یعنی اس وقت سمجھے گا کہ میں سخت غلطی اور غفلت میں تھا۔ مگر اس وقت کا سمجھنا کس کام کا۔ سوچنے سمجھنے کا موقع ہاتھ سے نکل چکا۔ دارالعمل میں جو کام کرنا چاہیے تھا وہ دارالجزاء میں نہیں ہوسکتا۔(23)
يَقولُ يٰلَيتَنى قَدَّمتُ لِحَياتى(24)
ف٣    یعنی افسوس دنیا کی زندگی میں کچھ نیکی کر کے آگے نہ بھیجی۔ جو آج اس زندگی میں کام آتی۔ یونہی خالی ہاتھ چلا آیا۔ کاش حسنات کا کوئی ذخیرہ آگے روانہ کر دیتا جو یہاں کے لئے توشہ بنتا۔(24)
فَيَومَئِذٍ لا يُعَذِّبُ عَذابَهُ أَحَدٌ(25)
(25)
وَلا يوثِقُ وَثاقَهُ أَحَدٌ(26)
ف٤    یعنی اللہ تعالٰی اس دن مجرموں کو ایسی سخت سزا دے گا اور ایسی سخت قید میں رکھے گا کہ کسی دوسرے کی طرف سے اس طرح کی سختی کسی مجرم کے حق میں متصور نہیں۔ اور حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ " اس روز نہ مارے گا اس کا سا مارنا کوئی۔ نہ آگ نہ دوزخ کے موکل نہ سانپ بچھو، جو دوزخ میں ہوں گے، کیونکہ ان کا مارنا اور دکھ دینا عذاب جسمانی ہے، اور حق تعالٰی کا عذاب اس طور سے ہوگا کہ مجرم کی روح کو حسرت اور ندامت میں گرفتار کر دے گا جو عذاب روحانی ہے اور ظاہر ہے عذاب روحانی کو عذاب جسمانی سے کیا نسبت، نیز نہ باندھے گا اس کا سا کوئی باندھنا کوئی۔ کیونکہ دوزخ کے پیادے ہر چند کہ دوزخیوں کے گلے میں طوق ڈالیں گے اور زنجیروں سے جکڑیں گے اور دوزخ کے دروازے بند کر کے اوپر سے سرپوش رکھ دیں گے، لیکن ان کی عقل اور خیال کو بند نہ کر سکیں گے اور عقل و خیال کی عادت ہے کہ بہت سی باتوں کی طرف التفات کرتا ہے اور ان میں سے بعض باتیں دوسری باتوں کے لئے حجاب ہو جاتی ہیں۔ اسی لئے عین قید کی تنگی میں انسان کو عقلی اور خیالی وسعت حاصل ہوتی ہے۔ برخلاف اسی شخص کے کہ اللہ تعالٰی عقل و خیال کو اِدھر اُدھر جانے سے روک دے اور بالکل ہمہ تن دکھ درد ہی کی طرف متوجہ رکھے۔ تو ایسی قید بدنی قید سے ہزاروں درجے سخت ہے۔ اسی لئے مجنوں سو دائیوں کو عین باغوں اور جنگلوں کی سیر کے وقت تنگی اور گھبراہٹ و ہم و خیال کے سبب سے پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ باغ اور وسیع جنگل اس کی نظر میں تنگ معلوم ہوتے ہیں۔(26)
يٰأَيَّتُهَا النَّفسُ المُطمَئِنَّةُ(27)
(27)
ارجِعى إِلىٰ رَبِّكِ راضِيَةً مَرضِيَّةً(28)
(28)
فَادخُلى فى عِبٰدى(29)
(29)
وَادخُلى جَنَّتى(30)
ف ٥     پہلے مجرموں اور ظالموں کا حال بیان ہوا تھا۔ اب اس کے مقابل ان لوگوں کا انجام بتلاتے ہیں جن کے دلوں کو اللہ کے ذکر اور اس کی اطاعت سے چین اور آرام ملتا ہے ان سے محشر میں کہا جائے گا کہ اے نفس آرمیدہ بحق! جس محبوب حقیقی سے تو لو لگائے ہوئے تھا، اب ہر قسم کے جھگڑوں اور خرخشوں سے یکسو ہو کر راضی خوشی اس کے مقام قرب کی طرف چل، اور اس کے مخصوص بندوں کے زمرہ میں شامل ہو اس کی عالیشان جنت میں قیام کر۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو موت کے وقت بھی یہ بشارت سنائی جاتی ہے۔ بلکہ عارفین کا تجربہ بتلاتا ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں بھی ایسے نفوس مطمئنہ اس طرح کی بشارات کافی الجملہ حظ اٹھاتے ہیں۔ "اللّٰھم انی اسالک نفسا بک مطمئنۃ تومن بلقائک و ترضی بقضائک وتقنع بعطائک (تنبیہ) نفس مطمئنہ، نفس امارہ اور نفس لوامہ کی تحقیق سورہ "قیامہ" کے شروع میں دیکھ لی جائے۔(30)