Al-Baiyina( البينة)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ لَم يَكُنِ الَّذينَ كَفَروا مِن أَهلِ الكِتٰبِ وَالمُشرِكينَ مُنفَكّينَ حَتّىٰ تَأتِيَهُمُ البَيِّنَةُ(1)
ف١    اہل کتاب یہود نصاریٰ ہوئے، اور مشرکین وہ قومیں جو بت پرستی یا آتش پرستی وغیرہ میں مبتلا تھیں اور کوئی کتاب سماوی ان کے ہاتھ میں نہ تھی۔(1)
رَسولٌ مِنَ اللَّهِ يَتلوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً(2)
ف ٢    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے سب دین والے بگڑ چکے تھے۔ اور ہر ایک اپنی غلطی پر مغرور تھا۔ اب چاہیے کسی حکیم یا ولی یا بادشاہ عادل کے سمجھانے سے راہ پر آجائیں تو یہ ممکن نہ تھا جب تک ایک ایسا عظیم القدر رسول نہ آئے جس کے ساتھ اللہ کی پاک کتاب اس کی قوی مدد ہو کہ چند سال میں ایک ایک ملک کو ایمان کی روشنی سے بھر دے اور اپنی زبردست تعلیم اور ہمت و عزیمت سے دنیا کی کایا پلٹ کر دے۔ چنانچہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کی کتاب پڑھتا ہوا آیا جو پاک ورقوں میں لکھی ہوئی ہے۔(2)
فيها كُتُبٌ قَيِّمَةٌ(3)
ف٣    یعنی قرآن کی ہر سورت گویا ایک مستقل کتاب ہے۔ یا یہ مطلب ہو کہ جو عمدہ کتابیں پہلے آچکی ہیں ان سب کے ضروری خلاصے اس کتاب میں درج کر دیے گئے ہیں یا "کتب قیمۃ" سے علوم و مضامین مراد ہیں۔ یعنی اس کے علوم صحیح و راست اور مضامین نہایت مضبوط و متعدل ہیں۔(3)
وَما تَفَرَّقَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ إِلّا مِن بَعدِ ما جاءَتهُمُ البَيِّنَةُ(4)
ف٤     یعنی اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کتاب کے آئے پیچھے شبہ نہیں رہا۔ پھر اب اہلِ کتاب ضد سے مخالف ہیں۔ شبہ سے نہیں، اسی لئے ان میں دو فریق ہوگئے۔ جس نے ضد کی منکر رہا۔ جس نے انصاف کیا ایمان لے آیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ جس پیغمبر آخرالزمان کا انتظار کر رہے تھے۔ اس کے آنے پر اپنے تمام اختلافات کو ختم کر کے سب وحدت و اجتماع کو خلاف وشقاق کا ذریعہ بنا لیا۔ جب اہلِ کتاب کا یہ حال ہے تو جاہل مشرکوں کا تو پوچھنا کیا (تنبیہ) حضرت شاہ عبدالعزیز نے یہاں "الینۃ" کا مصداق حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ و السلام کو ٹھہرایا ہے۔ یعنی جب حضرت مسیح کھلے کھلے نشان لے کر آئے یہود دشمن ہوگئے۔ اور نصارٰی نے بھی دنیاوی اغراض میں پھنس کر اپنی جماعتیں اور پارٹیاں بنا لیں۔ مدعا یہ ہے کہ پیغمبر کا آنا اور کتاب کا نازل ہونا بھی بغیر حضرت حق کی توفیق کے کفایت نہیں کرتا۔ کتنے ہی سامانِ ہدایت جمع ہوجائیں جن کو توفیق نہیں ملتی وہ اسی طرح خسارے میں پڑے رہتے ہیں۔(4)
وَما أُمِروا إِلّا لِيَعبُدُوا اللَّهَ مُخلِصينَ لَهُ الدّينَ حُنَفاءَ وَيُقيمُوا الصَّلوٰةَ وَيُؤتُوا الزَّكوٰةَ ۚ وَذٰلِكَ دينُ القَيِّمَةِ(5)
ف ٥     یعنی ہر قسم کے باطل اور جھوٹ سے علیحدہ ہو کر خالص خدائے واحد کی بندگی کریں اور ابراہیم علیہ السلام حنیف کی طرح سب طرف سے ٹوٹ کر اسی ایک مالک کے غلام بن جائیں۔ نشریع وتکوین کے کسی شعبہ میں کسی دوسرے کو خود مختار نہ سمجھیں۔ ف ٦     یعنی یہ چیزیں ہر دین میں پسندیدہ رہی ہیں، انہی کی تفصیل یہ پیغمبر کرتا ہے۔ پھر خدا جانے ایسی پاکیزہ تعلیم سے کیوں وحشت کھاتے ہیں۔(5)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا مِن أَهلِ الكِتٰبِ وَالمُشرِكينَ فى نارِ جَهَنَّمَ خٰلِدينَ فيها ۚ أُولٰئِكَ هُم شَرُّ البَرِيَّةِ(6)
ف٧    یعنی علم کا دعویٰ رکھنے والے اہلِ کتاب ہوں، یا جاہل مشرک، حق کا انکار کرنے پر سب کا انجام ایک ہے وہی دوزخ جس سے کبھی چھٹکارا نہیں۔ ف ٨    یعنی بہائم سے بھی زیادہ ذلیل اور بدتر۔ کما قال فی سورۃ "الفرقان"" ان ھم الا کالانعام بل ھم اضل سبیلا۔"(6)
إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ أُولٰئِكَ هُم خَيرُ البَرِيَّةِ(7)
ف١    یعنی جو لوگ سب رسولوں اور کتابوں پر یقین لائے اور بھلے کاموں میں لگے رہے وہی بہترین، خلائق ہیں حتی کہ ان میں سے بعض افراد بعض فرشتوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔(7)
جَزاؤُهُم عِندَ رَبِّهِم جَنّٰتُ عَدنٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها أَبَدًا ۖ رَضِىَ اللَّهُ عَنهُم وَرَضوا عَنهُ ۚ ذٰلِكَ لِمَن خَشِىَ رَبَّهُ(8)
ف ٢    یعنی جنت کے باغوں اور نہروں سے بڑھ کر رضاء مولیٰ کی دولت ہے۔ بلکہ جنت کی تمام نعمتوں کی اصلی روح یہی ہے۔ ف٣ یعنی یہ مقام بلند ہر ایک کو نہیں ملتا۔ صرف ان بندوں کا حصہ ہے جو اپنے رب کی ناراضی سے ڈرتے ہیں۔ اور اس کی نافرمانی کے پاس نہیں جاتے۔(8)