Ad-Dukhan( الدخان)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ حم(1)
(1)
وَالكِتٰبِ المُبينِ(2)
(2)
إِنّا أَنزَلنٰهُ فى لَيلَةٍ مُبٰرَكَةٍ ۚ إِنّا كُنّا مُنذِرينَ(3)
ف١    "برکت کی رات" شب قدر ہے کما قال تعالیٰ۔ "انا انزلناہ فی لیلۃ القدر" (قدر، رکوع١) اور جو رمضان میں واقع ہے لقولہ تعالٰی۔ "شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن" (بقرہ، رکوع ٢٣) اس رات میں قرآن کریم لوح محفوظ سے سمائے دنیا پر اتار گیا۔ پھر بتدریج تئیس سال میں پیغمبر پر اترا۔ نیز اسی شب میں پیغمبر پر اس کے نزول کی ابتداء ہوئی۔ ف ٢    یعنی کہہ سنایا ہمیشہ ہمارا دستور رہا ہے۔ اسی کے موافق پر قرآن اتارا۔(3)
فيها يُفرَقُ كُلُّ أَمرٍ حَكيمٍ(4)
(4)
أَمرًا مِن عِندِنا ۚ إِنّا كُنّا مُرسِلينَ(5)
ف٣    یعنی سال بھر کے متعلق قضاء و قدر کے حکیمانہ اور اٹل فیصلے اسی عظیم الشان رات میں "لوح محفوظ" سے نقل کر کے ان فرشتوں کے حوالہ کیے جاتے ہیں جو شعبہ ہائے تکوینیات میں کام کرنے والے ہیں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شعبان کی پندرھویں رات ہے جسے شب برات کہتے ہیں۔ ممکن ہے وہاں سے اس کام کی ابتداء اور شب قدر پر انتہاء ہوئی ہو۔ واللہ اعلم۔ ف٤    یعنی فرشتوں کو ہر کام پر جو ان کے مناسب ہو۔ چنانچہ جبرائیل کو قرآن دے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔(5)
رَحمَةً مِن رَبِّكَ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّميعُ العَليمُ(6)
ف ٥     یعنی تمام عالم کے حالات سے باخبر ہے اور ان کی پکار سنتا ہے۔ اسی لیے عین ضرورت کے وقت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن دے کر اور عالم کے لیے رحمت کبریٰ بنا کر بھیج دیا۔(6)
رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُما ۖ إِن كُنتُم موقِنينَ(7)
ف ٦     یعنی اگر تم میں کسی چیز پر یقین رکھنے کی صلاحیت ہے تو سب سے پہلی چیز یقین رکھنے کے قابل اللہ کی ربوبیت عامہ ہے جس کے آثار ذرہ ذرہ میں روزِ روشن سے زیادہ ہوا ہیں۔(7)
لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ يُحيۦ وَيُميتُ ۖ رَبُّكُم وَرَبُّ ءابائِكُمُ الأَوَّلينَ(8)
ف٧    یعنی جس کے قبضہ میں مارنا جلانا اور وجود و عدم کی باگ ہو۔ اور سب اولین و آخرین جس کے زیر تربیت ہوں۔ کیا اس کے سوا دوسرے کلی بندگی جائز ہوسکتی ہے؟ یہ ایک ایسی صاف حقیقت ہے جس میں شک و شبہ کی قعطاً گنجائش نہیں۔(8)
بَل هُم فى شَكٍّ يَلعَبونَ(9)
ف ٨     یعنی ان واضح نشانات اور دلائل کا اقتضاء تو یہ تھا کہ یہ لوگ مان لیتے، مگر پھر بھی نہیں مانتے، بلکہ وہ توحید وغیرہ عقائد حقہ کی طرف سے شک میں پڑے ہیں اور دنیا کے کھیل کود میں مصروف ہیں۔ آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اور اس میں غورو فکر سے کام لیں۔ یہ اس دھوکے میں ہیں کہ ہمیشہ یوں ہی رہنا ہے۔ خدا کے سامنے کبھی پیشی نہیں ہوگی۔ اس لیے نصیحت کی باتوں کو ہنسی کھیل میں اڑا دیتے ہیں۔(9)
فَارتَقِب يَومَ تَأتِى السَّماءُ بِدُخانٍ مُبينٍ(10)
(10)
يَغشَى النّاسَ ۖ هٰذا عَذابٌ أَليمٌ(11)
ف٩    "دھویں" سے یہاں کیا مراد ہے؟ اس میں سلف کے دو قول ہیں۔ ابن عباس وغیرہ کہتے ہیں کہ قیامت کے قریب ایک دھواں اٹھے گا جو تمام لوگوں کو گھیر لے گا۔ نیک آدمی کو اس کا اثر خفیف پہنچے گا، جس سے زکام سا ہو جائے گا۔ اور کافر و منافق کے دماغ میں گھس کر بے ہوش کر دے گا۔ وہ یہاں مراد ہے۔ شاید یہ دھواں وہ ہی سماوات کا مادہ ہو جس کا ذکر "تم استویٰ الٰی السماء وہی دخان" میں ہوا ہے گویا آسمان تجلی تحلیل ہو کر اپنی پہلی حالت کی طرف عود کرنے لگیں گے اور یہ اس کی ابتدا ہوگی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ اور ابن مسعود زور و شور کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس آیت سے مراد وہ دھواں نہیں جو علاماتِ قیامت میں سے ہے بلکہ قریش کے تمرد وطغیان سے تنگ آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تھی کہ ان پر بھی سات سال کا قحط مسلط کر دے جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں مصریوں پر مسلط ہوا تھا۔ چنانچہ قحط پڑا جس میں مکہ والوں کو مردار اور چمڑے ہڈیاں کھانے کی نوبت آگئی غالباً اسی دوران میں "یمامہ" کے رئیس ثمامہ ابن آثال رضی اللہ عنہ مشرف با سلام ہوئے اور وہاں سے غلہ کی جو بھرتی مکہ کو جاتی تھی بند کر دی۔ غرض اہل مکہ بھوکوں مرنے لگے اور قاعدہ ہے کہ شدت کی بھوک اور مسلسل خشک سالی کے زمانہ میں جو یعنی زمین و آسمان کے درمیان دھواں سا آنکھوں کے سامنے نظر آیا کرتا ہے اور ویسے بھی مدت دراز تک بارش بند رہنے سے گردوغبار وغیرہ چڑھ کر آسمان پر دھواں سا معلوم ہونے لگتا ہے۔ اس کو یہاں دخان سے تعبیر فرمایا۔ اس تقدیر پر "یغشی الناس "میں لوگوں سے مکہ والے ہوں گے۔ گویا یہ ایک پیشین گوئی تھی (کما یدل علیہ قول "فارتقب") جو پوری ہوئی۔(11)
رَبَّنَا اكشِف عَنَّا العَذابَ إِنّا مُؤمِنونَ(12)
ف١٠    یعنی اس عذاب میں مبتلا ہو کر یوں کہیں گے کہ اب تو اس آفت سے نجات دیجئے آگے کو ہماری توبہ! ہم کو اب یقین آگیا۔ پھر شرارت نہ کریں گے۔ پکے مسلمان بن کر رہیں گے۔ آگے اس کا جواب دیا ہے۔(12)
أَنّىٰ لَهُمُ الذِّكرىٰ وَقَد جاءَهُم رَسولٌ مُبينٌ(13)
(13)
ثُمَّ تَوَلَّوا عَنهُ وَقالوا مُعَلَّمٌ مَجنونٌ(14)
ف١١    یعنی اب موقع سمجھنے اور نصیحت سے فائدہ اٹھانے کا کہاں رہا۔ اس وقت تو مانا نہیں جب ہمارا پیغمبر کھلے کھلے نشان اور کھلی کھلی ہدایات لے کر آیا تھا۔ اس وقت کہتے تھے کہ یہ باؤلا ہے۔ کبھی کہتے کہ کسی دوسرے سے سیکھ کر اس نے یہ کتاب تیار کر لی ہے (ابن عباس کی تفسیر پر یہ مطلب ہوا) اور ابن مسعود کی تفسیر کے موافق یہ معنی ہوں گے کہ اہل مکہ نے قحط وغیرہ سے تنگ آکر درخواست کی کہ یہ آفت ہم سے دور کیجیے۔ بعض روایات میں ہے کہ ابو سفیان وغیرہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فریاد کی کہ آپ تو کہتے ہیں کہ میں رحمت ہوں اور یہ آپ کی قوم قحط و خشک سالی سے تباہ ہو رہی ہے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رحم اور قرابت کا واسطہ دیتے ہیں کہ اس مصیبت کے دور ہونے کی دعا کیجیے۔ اگر ایسا ہوگیا تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ چنانچہ آپ کی دعا سے بارش ہوئی اور ثمامہ نے جو غلہ روک دیا تھا وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلوا دیا پھر بھی وہ ایمان نہ لائے۔ اسی کو فرماتے ہیں "انی لہم الذکریٰ" یعنی یہ لوگ ان باتوں سے ماننے والے کہاں ہیں، اس قسم کی چیزوں میں تو ہزار تاویلیں گھڑ لیں جو چیز بالکل کھلی ہوئی آفتاب اور زیادہ روشن تھی یعنی آپ کی پیغمبری۔ اسی کو نہ مانا۔ کوئی مجنون بتلانے لگا، کسی نے کہا کہ صاحب! فلاں رومی غلام سے کچھ مضامین سیکھ آئے ہیں ان کو اپنی عبادت میں ادا کر دیتے ہیں۔ ایسے متعصب معاندین سے سمجھنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے۔(14)
إِنّا كاشِفُوا العَذابِ قَليلًا ۚ إِنَّكُم عائِدونَ(15)
ف١    یعنی اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے عذاب ہٹا لیں، پھر وہ ہی حرکتیں کریں گے جو پہلے کرتے تھے۔ اور ابن مسعود کی تفسیر پر یہ مطلب ہوگا کہ لو! اچھا ہم تھوڑی مدت کے لیے یہ عذاب ہٹا لیتے ہیں۔ پھر دیکھ لینا، وہ ہی کریں گے جو پہلے کرتے تھے۔(15)
يَومَ نَبطِشُ البَطشَةَ الكُبرىٰ إِنّا مُنتَقِمونَ(16)
ف ٢    ابن عباس کے نزدیک بڑی پکڑ قیامت ہوگی۔ غرض یہ ہے کہ آخرت کا عذاب نہیں ٹلتا۔ اور ابن مسعود کے نزدیک "بڑی پکڑ" سے معرکہ "بدر" کا واقعہ مراد ہے۔ "بدر" میں ان لوگوں سے بدلہ لے لیا گیا۔(16)
۞ وَلَقَد فَتَنّا قَبلَهُم قَومَ فِرعَونَ وَجاءَهُم رَسولٌ كَريمٌ(17)
ف٣    یعنی حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے ان کا امتحان کیا گیا کہ اللہ کے پیغام کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔(17)
أَن أَدّوا إِلَىَّ عِبادَ اللَّهِ ۖ إِنّى لَكُم رَسولٌ أَمينٌ(18)
ف٤    یعنی خدا کے بندوں کو اپنا بندہ مت بناؤ۔ بنی اسرائیل کو غلامی سے آزادی دو اور میرے حوالہ کرو۔ میں جہاں چاہوں لے جاؤں۔(18)
وَأَن لا تَعلوا عَلَى اللَّهِ ۖ إِنّى ءاتيكُم بِسُلطٰنٍ مُبينٍ(19)
ف ٥     "کھلی سند" وہ معجزات تھے جو حضرت موسیٰ نے دکھائے۔ "عصا" اور "یدبیضا" وغیرہ۔(19)
وَإِنّى عُذتُ بِرَبّى وَرَبِّكُم أَن تَرجُمونِ(20)
ف ٦     یہ ان کی دھمکیوں کا جواب دیا۔ یعنی میں تمہارے ظلم و ایذاء سے خدا کی پناہ حاصل کر چکا ہوں وہ میری حمایت پر ہے اور اسی کی حفاظت پر مجھے بھروسہ ہے۔(20)
وَإِن لَم تُؤمِنوا لى فَاعتَزِلونِ(21)
ف٧    یعنی اگر میری بات نہیں مانتے تو کم ازکم مجھے ایذاء دے کر اپنے جرم کو سنگین مت کرو۔ "مرا بخیر تو امید نیست بدمرساں" اور حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ "یعنی اپنی قوم کو لے جاؤں تم راہ نہ روکو۔"(21)
فَدَعا رَبَّهُ أَنَّ هٰؤُلاءِ قَومٌ مُجرِمونَ(22)
(22)
فَأَسرِ بِعِبادى لَيلًا إِنَّكُم مُتَّبَعونَ(23)
ف ٨     یعنی آخر مجبور ہو کر اللہ سے فریاد کی کہ یہ لوگ اپنے جرائم سے باز آنے والے نہیں اب آپ میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کر دیجیے وہاں کیا دیر تھی۔ حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ فرعونیوں کو اطلاع کیے بدون بنی اسرائیل کو لے کر راتوں رات مصر سے چلے جاؤ۔ کیونکہ دن ہونے پر جب انہیں اطلاع ہوگی اس وقت تمہارا پیچھا کریں گے۔ لیکن یاد رہے راستہ میں سمندر پڑے گا۔ اس پر عصا مارنے سے پانی ادھر ادھر ہٹ جائے گا اور درمیان میں خشکی و صاف راستہ نکل آئے گا۔ اسی راستہ سے اپنی قوم کو لے کر گزر جاؤ۔(23)
وَاترُكِ البَحرَ رَهوًا ۖ إِنَّهُم جُندٌ مُغرَقونَ(24)
ف٩    یعنی اس کی فکر مت کرو کہ دریا میں خدا کی قدرت سے جو راستہ بن گیا وہ باقی نہ رہے۔ اس کو اسی حالت میں چھوڑ دے۔ یہ راستہ دیکھ کر تو فرعون کے لشکر اس میں گھسنے کی ہمت کریں گے۔ چنانچہ وہ سب خشک راستہ دیکھ کر اندر گھسے، اس کے بعد خدا کے حکم سے سمندر کا پانی چاروں طرف سے آکر مل گیا۔ سارا لشکر اس طرح غرقاب ہوا۔(24)
كَم تَرَكوا مِن جَنّٰتٍ وَعُيونٍ(25)
(25)
وَزُروعٍ وَمَقامٍ كَريمٍ(26)
(26)
وَنَعمَةٍ كانوا فيها فٰكِهينَ(27)
(27)
كَذٰلِكَ ۖ وَأَورَثنٰها قَومًا ءاخَرينَ(28)
ف١٠    یعنی بنی اسرائیل کے ہاتھوں میں دے دیا۔ جیسا کہ سورہ شعراء میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرعون کے غرق ہوئے بعد مصر میں نبی اسرائیل کا دخل ہوا۔ اور اگر یہ ثابت نہ ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ جس قسم کے سامان فرعونیوں نے چھوڑے تھے اسی طرح کے ہم نے بنی اسرائیل کو دیے۔ واللہ اعلم۔(28)
فَما بَكَت عَلَيهِمُ السَّماءُ وَالأَرضُ وَما كانوا مُنظَرينَ(29)
ف١١    روایات میں ہے کہ مومن کے مرنے پر آسمان کا وہ دروازہ روتا ہے جس سے اس کی روزی اترتی تھی یا جس سے اس کا عمل صالح اوپر چڑھتا تھا۔ اور زمین روتی ہے جہاں وہ نماز پڑھتا تھا یعنی افسوس وہ سعادت ہم سے چھین گئی۔ کافر کے پاس عمل صالح کا بیج ہی نہیں، پھر اس پر آسمان یا زمین کیوں روئے۔ بلکہ شاید خوش ہوتے ہوں گے کہ چلو پاپ کٹا۔ "خس کم جہاں پاک"(29)
وَلَقَد نَجَّينا بَنى إِسرٰءيلَ مِنَ العَذابِ المُهينِ(30)
(30)
مِن فِرعَونَ ۚ إِنَّهُ كانَ عالِيًا مِنَ المُسرِفينَ(31)
ف ١٢     بلکہ فرعون کا وجود ایک مجسم مصیبت تھا۔ ف١٣    یعنی بڑا متکبر اور سرکش تھا۔(31)
وَلَقَدِ اختَرنٰهُم عَلىٰ عِلمٍ عَلَى العٰلَمينَ(32)
ف١    یعنی اگرچہ بنی اسرائیل کی کمزوریاں بھی ہم کو معلوم تھیں۔ تاہم ان کو ہم نے اس زمانہ کے تمام لوگوں سے فضیلت دی۔ اور بعض فضائل جزئیہ تو وہ ہیں جو آج تک کسی قوم کو میسر نہیں ہوئے مثلاً اتنے بیشمار انبیاء کا ان میں اٹھایا جانا۔(32)
وَءاتَينٰهُم مِنَ الءايٰتِ ما فيهِ بَلٰؤٌا۟ مُبينٌ(33)
ف ٢    یعنی حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے مثلاً "من و سلویٰ" کا اتارنا، بادل کا سایہ کرنا وغیرہ ذلک۔(33)
إِنَّ هٰؤُلاءِ لَيَقولونَ(34)
(34)
إِن هِىَ إِلّا مَوتَتُنَا الأولىٰ وَما نَحنُ بِمُنشَرينَ(35)
ف٣    درمیان میں حضرت موسیٰ کی قوم کا ذکر استطرادًا آگیا تھا۔ یہاں سے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کا تذکرہ ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہتے ہیں کہ ہماری آخری حالت بس یہ ہی ہے کہ موت آجائے۔ موت کے بعد سب قصہ ختم۔ موجودہ زندگی کے سوا دوسری زندگی کوئی نہیں۔ کہاں کا حشر، اور کیسا حساب کتاب۔(35)
فَأتوا بِـٔابائِنا إِن كُنتُم صٰدِقينَ(36)
ف٤    یعنی پیغمبر اور مومنین سے کہتے ہیں کہ اگر تم اپنے عقیدہ میں سچے ہو کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے تو اچھا ہمارے مرے ہوئے باپ دادوں کو ذرا زندہ کر کے دکھا دو۔ تب ہم جانیں۔(36)
أَهُم خَيرٌ أَم قَومُ تُبَّعٍ وَالَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ أَهلَكنٰهُم ۖ إِنَّهُم كانوا مُجرِمينَ(37)
ف ٥     'تبع" لقب تھا یمن کے بادشاہ کا جس کی حکومت سبا اور حضر موت وغیرہ سب پر تھی۔ "تبع" بہت گزرے ہیں۔ اللہ جانے یہاں کون سا مراد ہے۔ بہرحال اتنا ظاہر ہوا کہ اس کی قوم بہت قوت و جبروت والی تھی جو اپنی سرکشی کی بدولت تباہ کی گئی۔ ابن کثیر نے اس سے قوم سبا مراد لی ہے جس کا ذکر سورہ سبا میں گزر چکا۔ واللہ اعلم۔ ف ٦     مثلاً عاد و ثمود وغیرہ۔ ان سب کو اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کر کے چھوڑا۔ کیا تم ان سے بہتریا ان سے زیادہ طاقتور ہو کہ تم کو ہلاک نہ کرے گا یا نہ کر سکے گا؟(37)
وَما خَلَقنَا السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما لٰعِبينَ(38)
(38)
ما خَلَقنٰهُما إِلّا بِالحَقِّ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ(39)
ف٧    یعنی اتنا بڑا کارخانہ کوئی کھیل تماشا نہیں۔ بلکہ بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے۔ جس کا نتیجہ ایک دن نکل کر رہے گا۔ وہ ہی نتیجہ آخرت ہے۔(39)
إِنَّ يَومَ الفَصلِ ميقٰتُهُم أَجمَعينَ(40)
ف ٨     یعنی اس دن سب کا حساب بیک وقت ہو جائے گا۔(40)
يَومَ لا يُغنى مَولًى عَن مَولًى شَيـًٔا وَلا هُم يُنصَرونَ(41)
ف٩    یعنی نہ کسی اور طرف سے مدد پہنچ سکے گی۔(41)
إِلّا مَن رَحِمَ اللَّهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ(42)
ف١٠    یعنی بس جس پر اللہ کی رحمت ہو جائے وہ ہی بچے گا۔ کما وردفی الحدیث۔ لا"الا ان یتغمدنی اللہ برحمتہ"(42)
إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقّومِ(43)
(43)
طَعامُ الأَثيمِ(44)
ف١١    کسی ادنیٰ مشابہت کی وجہ سے اس کو زقوم (سیہنڈ) کہا گیا ہے ورنہ دوزخ کے سیہنڈ کی کیفیت اللہ ہی کو معلوم ہے جیسے بعض نعمائے جنت اور نعمائے دنیاوی میں اشتراک اسمی ہے۔ اسی طرح جہنم کے متعلق سمجھ لو۔(44)
كَالمُهلِ يَغلى فِى البُطونِ(45)
(45)
كَغَلىِ الحَميمِ(46)
(46)
خُذوهُ فَاعتِلوهُ إِلىٰ سَواءِ الجَحيمِ(47)
ف ١٢     یہ حکم فرشتوں کو ہوگا جو تعذیب مجرمین پر مامور ہیں۔(47)
ثُمَّ صُبّوا فَوقَ رَأسِهِ مِن عَذابِ الحَميمِ(48)
ف١٣    وہ پانی دماغ سے اتر کے آنتوں کو کاٹتا ہوا باہر نکل آئے گا۔ (اعاذنا اللہ منہ)(48)
ذُق إِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الكَريمُ(49)
ف١٤    یعنی تو وہ ہی ہے جو دنیا میں بڑا معزز و مکرم سمجھا جاتا اور اپنے کو سردار ثابت کیا کرتا تھا۔ اب وہ عزت اور سرداری کہاں گئی۔(49)
إِنَّ هٰذا ما كُنتُم بِهِ تَمتَرونَ(50)
ف١٥    یعنی تم کو کہاں یقین تھا کہ یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا۔ اسی دھوکہ میں تھے کہ بس زندگی یونہی کھیلتے کودتے گزر جائے گی۔ آخر مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں گے، آگے کچھ بھی نہیں۔ اب دیکھ لیا کہ وہ باتیں سچی تھیں جو پیغمبروں نے بیان کی تھیں۔(50)
إِنَّ المُتَّقينَ فى مَقامٍ أَمينٍ(51)
ف١    یعنی جو یہاں اللہ سے ڈرتے ہیں وہاں امن چین سے ہوں گے۔ کسی طرح کا خوف اور غم پاس نہ آئے گا۔(51)
فى جَنّٰتٍ وَعُيونٍ(52)
(52)
يَلبَسونَ مِن سُندُسٍ وَإِستَبرَقٍ مُتَقٰبِلينَ(53)
ف ٢    یعنی ان کی پوشاک باریک اور دبیز ریشم کی ہوگی۔ اور ایک جنتی دوسرے سے اعراض نہ کرے گا بے تکلف دوستوں کی طرح آمنے سامنے بیٹھیں گے۔(53)
كَذٰلِكَ وَزَوَّجنٰهُم بِحورٍ عينٍ(54)
ف٣    یعنی ان سے جوڑے ملا دیں گے۔(54)
يَدعونَ فيها بِكُلِّ فٰكِهَةٍ ءامِنينَ(55)
ف٤    یعنی جس میوے کو جی چاہے گا فوراً حاضر کرا دیا جائے گا۔ کوئی فکر نہ ہوگی۔ پوری دلجمعی سے کھائیں پئیں گے۔(55)
لا يَذوقونَ فيهَا المَوتَ إِلَّا المَوتَةَ الأولىٰ ۖ وَوَقىٰهُم عَذابَ الجَحيمِ(56)
ف ٥     یعنی جو موت پہلے آچکی وہ آچکی، اب آگے کبھی موت نہیں دائماً اسی عیش و نشاط میں رہنا ہے نہ ان کو فنا، نہ ان کے سامانوں کو۔(56)
فَضلًا مِن رَبِّكَ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الفَوزُ العَظيمُ(57)
ف ٦     اس سے بڑی کامیابی کیا ہوسکتی ہے کہ عذاب الٰہی سے محفوظ و مامون رہے اور ابدالآباد کے لیے موردِ الطاف و افضال بنے۔(57)
فَإِنَّما يَسَّرنٰهُ بِلِسانِكَ لَعَلَّهُم يَتَذَكَّرونَ(58)
ف٧    یعنی اپنی مادری زبان میں آسانی سمجھ لیں اور یاد رکھیں۔(58)
فَارتَقِب إِنَّهُم مُرتَقِبونَ(59)
ف ٨     یعنی اگر نہ سمجھیں تو آپ چندے انتظار کیجیے۔ ان کا بدانجام سامنے آجائے گا۔ یہ تو منتظر ہیں کہ آپ پر کوئی افتاد پڑے۔ لیکن آپ دیکھتے جائیے کہ ان کا کیا حال بنتا ہے۔ تم سورۃ الدخان بفضل اللہ رحمتہ فللہ الحمد والمنۃ۔(59)