Abasa( عبس)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Usmani,Molvana Mahmood ul Hassan(تفسیر عثمانی,مولانا محمود الحسن)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ عَبَسَ وَتَوَلّىٰ(1)
(1)
أَن جاءَهُ الأَعمىٰ(2)
ف٩    یعنی پیغمبر نے ایک اندھے کے آنے پر چیں بجبیں ہو کر منہ پھیر لیا۔ حالانکہ اس کو اندھے کی معذوری، شکستہ حالی اور طلب صاق کا لحاظ زیادہ کرنا چاہیے تھا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ کلام گویا اوروں کے سامنے گلہ ہے رسول کا (اسی لئے بصیغہ غائب ذکر کیا) آگے خود رسول کو خطاب فرمایا ہے۔ " اور محقیقن کہتے ہیں کہ یہ غایت تکرم و استحیاء متکلم کا، اور غایت کرامت مخاطب کی ہے کہ عتاب کے وقت بھی رو در رو اس امر نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں فرمائی اور آگے خطاب کا صیغہ بطور التفات کے اس لئے اختیار کیا کہ شبہ اعراض کا نہ ہو۔ نیز وہ مضمون پہلے مضمون سے ہلکا ہے واللہ اعلم۔(2)
وَما يُدريكَ لَعَلَّهُ يَزَّكّىٰ(3)
(3)
أَو يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ الذِّكرىٰ(4)
ف ١٠     یعنی وہ اندھا طالب صادق تھا۔ تمہیں کیا معلوم کہ تمہارے فیض توجہ سے اس کا حال سنور جاتا اور اس کا نفس مزکی ہو جاتا۔ یا تمہاری کوئی بات کان میں بڑتی، اس کو اخلاص سے سوچتا سمجھتا اور آخر وہ بات کسی وقت اس کے کام آجاتی۔(4)
أَمّا مَنِ استَغنىٰ(5)
(5)
فَأَنتَ لَهُ تَصَدّىٰ(6)
(6)
وَما عَلَيكَ أَلّا يَزَّكّىٰ(7)
ف١١    یعنی جو لوگ اپنے غرور اور شیخی سے حق کی پروا نہیں کرتے اور ان کا تکبر اجازت نہیں دیتا کہ اللہ و رسول کے سامنے جھکیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ یہ کسی طرح مسلمان ہوجائیں تاکہ ان کے اسلام کا اثر دوسروں پر پڑے۔ حالانکہ اللہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی الزام نہیں کہ یہ مغرور اور شیخی باز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے درست کیوں نہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرض دعوت و تبلیغ کا تھا، وہ ادا کرچکے اور کر رہے ہیں۔ آگے ان لا پروا متکبروں کی فکر میں اس قدر انہماک کی ضرورت نہیں کہ سچے طالب اور مخلص ایماندار توجہ سے محروم ہونے لگیں۔ یا معاملہ کی ظاہری سطح دیکھ کر بے سوچے سمجھے لوگوں میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ پیغمبر صاحب کی توجہ امیروں اور تونگروں کی طرف زیادہ ہے۔ شکستہ حال غریبوں کی طرف نہیں اس مہمل خیال کے پھیلنے سے جو ضرر دعوت اسلام کے کام کو پہنچ سکتا ہے، وہ اس نفع سے کہیں بڑھ کر ہے جس کی ان چند متکبرین کے مسلمان ہونے سے توقع کی جاسکتی ہے۔(7)
وَأَمّا مَن جاءَكَ يَسعىٰ(8)
(8)
وَهُوَ يَخشىٰ(9)
ف١    یعنی اللہ سے ڈرتا ہے یا ڈر لگا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات میسر ہو یا نہ ہو۔ پھر اندھا ہے کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ اندیشہ ہے کہیں راستہ میں ٹھوکر لگے یا کسی چیز سے ٹکرا جائے یا یہ سمجھ کر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہا ہے دشمن ستانے لگیں۔ (9)
فَأَنتَ عَنهُ تَلَهّىٰ(10)
ف ٢    حالانکہ ایسے ہی لوگوں سے امید ہوسکتی ہے کہ ہدایت سے منتفع ہوں گے۔ اور اسلام کے کام آئیں گے۔ کہتے ہیں کہ یہ ہی نابینا بزرگ زرہ پہنے اور جھنڈا ہاتھ میں لئے جنگ قادسیہ میں شریک تھے۔ آخر اسی معرکہ میں شہید ہوئے۔ رضی اللہ تعالٰی عنہ،۔(10)
كَلّا إِنَّها تَذكِرَةٌ(11)
(11)
فَمَن شاءَ ذَكَرَهُ(12)
ف٣    یعنی متکبر اغنیاء اگر قرآن کو نہ پڑھیں اور اس نصیحت پر کان نہ دھریں تو اپنا ہی برا کریں گے۔ قرآن کو ان کی کچھ پروا نہیں۔ نہ آپ کو اس درجہ ان کے درپے ہونے کی ضرورت ہے۔ ایک عام نصیحت تھی سو کر دی گئی جو اپنا فائدہ چاہے اس کو پرکھے اور سمجھے۔(12)
فى صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ(13)
(13)
مَرفوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ(14)
(14)
بِأَيدى سَفَرَةٍ(15)
ف٤    یعنی کیا ان مغرور سر پھورں کے ماننے سے قرآن کی عزت و وقعت ہوگئی؟ قرآن تو وہ ہے جس کی آیتیں آسمان کے اوپر نہایت معزز، بلند مرتبہ اور صاف ستھرے ورقوں میں لکھی ہوئی ہیں اور زمین پر مخلص ایماندار بھی اس کے اوراق نہایت عزت واحترام اور تقدیس و تطہیر کے ساتھ اونچی جگہ رکھتے ہیں۔(15)
كِرامٍ بَرَرَةٍ(16)
ف ٥     یعنی وہاں فرشتے اس کو لکھتے ہیں اسی کے موافق وحی اترتی ہے۔ اور یہاں بھی اوراق میں لکھنے اور جمع کرنے والے دنیا کے بزرگ ترین پاکباز نیکوکار اور فرشتہ خصلت بندے ہیں جنہوں نے ہر قسم کی کمی بیشی اور تحریف و تبدیل سے اس کو پاک رکھا ہے۔(16)
قُتِلَ الإِنسٰنُ ما أَكفَرَهُ(17)
ف ٦     یعنی قرآن جیسی نعمت عظمیٰ کی کچھ قدر نہ کی اور اللہ کا حق کچھ نہ پہچانا۔(17)
مِن أَىِّ شَيءٍ خَلَقَهُ(18)
(18)
مِن نُطفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ(19)
ف٧    یعنی ذرا اپنی اصل پر تو غور کیا ہوتا کہ وہ پیدا کس چیز سے ہوا ہے۔ ایک ناچیز اور بے قدر قطرہ آب سے جس میں حس و شعور، حسن و جمال اور عقل و ادراک کچھ نہ تھا۔ سب کچھ اللہ نے اپنی مہربانی سے عطا فرمایا۔ جس کی حقیقت کل اتنی ہو کیا اسے یہ طمطراق زیبا ہے کہ خالق و منعم حقیقی ایسی عظیم الشان نصیحت اتارے اور یہ بے شرم اپنی اصل حقیقت اور مالک کی سب نعمتوں کو فراموش کر کے اس کی کچھ پروا نہ کرے۔ اور احسان فراوش! کچھ تو شرمایا ہوتا۔ ف ٨     یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ سب اعضاء وقویٰ ایک خاص اسلوب اور اندازے سے رکھے۔ کوئی چیزیوں ہی بے تکی اور بے ڈھنگی خلاف حکمت نہیں رکھ دی۔(19)
ثُمَّ السَّبيلَ يَسَّرَهُ(20)
ف٩    یعنی ایمان و کفر اور بھلے برے کی سمجھ دی یا ماں کے پیٹ میں سے نکالا آسانی سے۔(20)
ثُمَّ أَماتَهُ فَأَقبَرَهُ(21)
ف ١٠     یعنی مرنے کے بعد اس کی لاش کو قبر میں رکھنے کی ہدایت کر دی۔ تاکہ زندوں کے سامنے یوں ہی بے حرمت نہ ہو۔(21)
ثُمَّ إِذا شاءَ أَنشَرَهُ(22)
ف١١    یعنی جس نے ایک مرتبہ جِلایا اور مارا۔ اسی کو اختیار ہے کہ جب چاہے دوبارہ زندہ کر کے قبر سے نکالے۔ کیونکہ اس کی قدرت اب کسی نے سلب نہیں کرلی۔ (العیاذ باللہ) بہرحال پیدا کر کے دنیا میں لانا، پھر مار کر برزخ میں لے جانا، پھر زندہ کر کے میدان حشر میں کھڑا کر دینا، یہ امور جس کے قبضہ میں ہوئے کیا اس کی نصیحت سے اعراض وانکار اور اس کی نعمتوں کا استحقار کسی آدمی کے لئے زیبا ہے۔(22)
كَلّا لَمّا يَقضِ ما أَمَرَهُ(23)
ف ١٢     یعنی انسان نے ہرگز اپنے مالک کا حق نہیں پہچانا اور جو کچھ حکم ہوا تھا ابھی تک اس کو بجا نہیں لایا (تنبیہ) ابن کثیر نے "کلا لما یقض ما امرہ " کو" ثم اذا شاء انشرہ" سے متعلق رکھا ہے یعنی جب چاہے گا زندہ کر کے اٹھائے گا۔ ابھی ایسا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ دنیا کی آبادی کے متعلق اس کا جو حکم کونی و قدری ہے وہ ابھی تک اس نے ختم نہیں کیا۔(23)
فَليَنظُرِ الإِنسٰنُ إِلىٰ طَعامِهِ(24)
ف١٣    پہلے انسان کے پیدا کرنے اور مارنے کا ذکر تھا۔ اب اس کی زندگی اور بقاء کے سامان یاد دلاتے ہیں۔(24)
أَنّا صَبَبنَا الماءَ صَبًّا(25)
(25)
ثُمَّ شَقَقنَا الأَرضَ شَقًّا(26)
ف١٤    یعنی ایک گھاس کے تنکے کی کیا طاقت تھی کہ زمین کو چیر پھاڑ کر باہر نکل آتا، یہ قدرت کا ہاتھ ہے جو زمین کو پھاڑ کر اس سے طرح طرح کے غلے، پھل اور سبزے، ترکاریاں وغیرہ باہر نکالتا ہے۔(26)
فَأَنبَتنا فيها حَبًّا(27)
(27)
وَعِنَبًا وَقَضبًا(28)
(28)
وَزَيتونًا وَنَخلًا(29)
(29)
وَحَدائِقَ غُلبًا(30)
(30)
وَفٰكِهَةً وَأَبًّا(31)
(31)
مَتٰعًا لَكُم وَلِأَنعٰمِكُم(32)
ف١٥    یعنی بعض چیزیں تمہارے کام آتی ہیں اور بعض تمہارے جانوروں کے۔(32)
فَإِذا جاءَتِ الصّاخَّةُ(33)
ف١٦    یعنی ایسی سخت آواز جس سے کان بہرے ہوجائیں۔ اس سے مراد نفخہ صور کی آواز ہے۔(33)
يَومَ يَفِرُّ المَرءُ مِن أَخيهِ(34)
(34)
وَأُمِّهِ وَأَبيهِ(35)
(35)
وَصٰحِبَتِهِ وَبَنيهِ(36)
(36)
لِكُلِّ امرِئٍ مِنهُم يَومَئِذٍ شَأنٌ يُغنيهِ(37)
ف١    یعنی اس وقت ہر ایک کو اپنی فکر پڑی ہوگی احباب و اقارب ایک دوسرے کو نہ پوچھیں گے بلکہ اس خیال سے کہ کوئی میری نیکیوں میں سے نہ مانگنے لگے یا اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے لگے ایک دوسرے سے بھاگے گا۔(37)
وُجوهٌ يَومَئِذٍ مُسفِرَةٌ(38)
(38)
ضاحِكَةٌ مُستَبشِرَةٌ(39)
ف ٢    یعنی مومنین کے چہرے نور ایمان سے روشن اور غایت مسرت سے خنداں و فرحاں ہوں گے۔(39)
وَوُجوهٌ يَومَئِذٍ عَلَيها غَبَرَةٌ(40)
(40)
تَرهَقُها قَتَرَةٌ(41)
ف٣    یعنی کافروں کے چہروں پر کفر کی کدورت چھائی ہوگی اور اوپر سے فسق و فجور کی ظلمت اور زیادہ تیرہ تاریک کر دے گی۔(41)
أُولٰئِكَ هُمُ الكَفَرَةُ الفَجَرَةُ(42)
ف٤    یعنی کافر بے حیا کو کتنا ہی سمجھاؤ ذرا نہ پسیجیں۔ نہ خدا سے ڈریں، نہ مخلوق سے شرمائیں۔(42)