Sad( ص)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ ص ۚ وَالقُرءانِ ذِى الذِّكرِ(1)
١۔١ جس میں تمہارے لئے ہر قسم کی نصیحت اور ایسی باتیں ہیں، جن سے تمہاری دنیا سنور جائے اور آخرت بھی بعض نے ذی الذکر کا ترجمہ شان اور مرتبت والا، کیے ہیں، امام ابن کثیر فرماتے ہیں۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ اس لئے کہ قرآن عظمت شان کا حامل بھی ہے اور اہل ایمان و تقویٰ کے لئے نصیحت اور درس عبرت بھی، اس قسم کا جواب محذوف ہے کہ بات اس طرح نہیں ہے جس طرح کفار مکہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ساحر، شاعر یا جھوٹے ہیں، بلکہ وہ اللہ کے سچے رسول ہیں جن پر یہ ذی شان قرآن نازل ہوا۔(1)
بَلِ الَّذينَ كَفَروا فى عِزَّةٍ وَشِقاقٍ(2)
٢۔١ یعنی یہ قرآن تو یقینا شک سے پاک اور ان کے لئے نصیحت ہے جو اس سے عبرت حاصل کریں البتہ ان کافروں کو اس سے فائدہ اس لئے نہیں پہنچ رہا ہے ان کے دماغوں میں استکبار اور غرور ہے اور دلوں میں مخالفت و عناد۔ عزت کے معنی ہوتے ہیں۔ حق کے مقابلے میں اکڑنا۔(2)
كَم أَهلَكنا مِن قَبلِهِم مِن قَرنٍ فَنادَوا وَلاتَ حينَ مَناصٍ(3)
٣۔١ جو ان سے زیادہ مضبوط اور قوت والے تھے لیکن کفر و جھٹلانے کی وجہ سے برے انجام سے دوچار ہوئے۔(3)
وَعَجِبوا أَن جاءَهُم مُنذِرٌ مِنهُم ۖ وَقالَ الكٰفِرونَ هٰذا سٰحِرٌ كَذّابٌ(4)
٤۔١ یعنی انہی کی طرح کا ایک انسان رسول کس طرح بن گیا۔(4)
أَجَعَلَ الءالِهَةَ إِلٰهًا وٰحِدًا ۖ إِنَّ هٰذا لَشَيءٌ عُجابٌ(5)
٥۔١ یعنی ایک ہی اللہ ساری کائنات کا نظام چلانے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی طرح عبادت اور نذر و نیاز کا مستحق بھی صرف وہی ایک ہے؟ یہ ان کے لئے تعجب انگیز بات تھی۔(5)
وَانطَلَقَ المَلَأُ مِنهُم أَنِ امشوا وَاصبِروا عَلىٰ ءالِهَتِكُم ۖ إِنَّ هٰذا لَشَيءٌ يُرادُ(6)
٦۔١ یعنی اپنے دین پر جمے رہو اور بتوں کی پوجا کرتے رہو، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بات پر کان مت دھرو! ٦۔٢ یعنی یہ ہمیں ہمارے معبودوں سے چھڑا کر دراصل اپنے پیچھے لگانا اور اپنی قیادت منوانا چاہتا ہے۔(6)
ما سَمِعنا بِهٰذا فِى المِلَّةِ الءاخِرَةِ إِن هٰذا إِلَّا اختِلٰقٌ(7)
٧۔١ پچھلے دین سے مراد تو ان کا دین قریش ہے، یا پھر دین نصاریٰ یعنی یہ جس توحید کی دعوت دے رہا ہے، اس کی بابت تو ہم نے کسی بھی دین میں نہیں سنا۔ ٧۔٢ یعنی یہ توحید صرف اس کی اپنی من گھڑت ہے، ورنہ عیسائیت میں بھی اللہ کے ساتھ دوسروں کو الوہیت میں شریک تسلیم کیا گیا ہے۔(7)
أَءُنزِلَ عَلَيهِ الذِّكرُ مِن بَينِنا ۚ بَل هُم فى شَكٍّ مِن ذِكرى ۖ بَل لَمّا يَذوقوا عَذابِ(8)
٨۔١ یعنی مکے میں بڑے بڑے چودھری اور رئیس ہیں، اگر اللہ کسی کو نبی بنانا ہی چاہتا تو ان میں سے کسی کو بناتا۔ ان سب کو چھوڑ کر وحی رسالت کے لئے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا انتخاب بھی عجیب ہے؟ یہ گویا انہوں نے اللہ کے انتخاب میں کیڑے نکالے۔ سچ ہے خوئے بد را بہانہ بسیار۔ دوسرے مقام پر بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے مثلاً سورہ زخرف۔٣١،٣٢۔ ٨۔٢ یعنی ان کا انکار اس لئے نہیں ہے کہ انہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا علم نہیں ہے یا آپ کی سلامت عقل سے انہیں انکار ہے بلکہ یہ اس وحی کے بارے میں ہی شک میں مبتلا ہیں جو آپ پر نازل ہوئی، جس میں سب سے نمایا توحید کی دعوت ہے۔(8)
أَم عِندَهُم خَزائِنُ رَحمَةِ رَبِّكَ العَزيزِ الوَهّابِ(9)
٩۔١ کہ جس کو چاہیں دیں اور جس چاہیں نہ دیں، انہی خزانوں میں نبوت بھی ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے، بلکہ رب کے خزانوں کا مالک وہی وہاب ہے جو بہت دینے والا ہے، تو پھر انہیں نبوت محمدی سے انکار کیوں ہے؟ جسے اس نوازنے والے رب نے اپنی رحمت خاص سے نوازا ہے۔(9)
أَم لَهُم مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُما ۖ فَليَرتَقوا فِى الأَسبٰبِ(10)
١٠۔١ یعنی آسمان پر چڑھ کر اس وحی کا سلسلہ منقطع کر دیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتی ہے۔(10)
جُندٌ ما هُنالِكَ مَهزومٌ مِنَ الأَحزابِ(11)
١١۔١ یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد اور کفار کی شکست کا وعدہ ہے۔ یعنی کفار کا یہ لشکر جو باطل لشکروں میں سے ایک لشکر ہے، بڑا ہے، یا حقیر، اس کی قطعًا پروا نہ کریں نہ اس سے خوف کھائیں، شکست ان کا مقدر ہے، ھُنَالِکَ مکان بعید کی طرف اشارہ ہے جو جنگ بدر اور یوم فتح مکہ کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔ جہاں کافر عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئے۔(11)
كَذَّبَت قَبلَهُم قَومُ نوحٍ وَعادٌ وَفِرعَونُ ذُو الأَوتادِ(12)
١٢۔١ فرعون کو میخوں والا اس لئے کہا کہ وہ ظالم جب کسی پر غضبناک ہوتا تو اس کے ہاتھوں پیروں اور سر میں میخیں گاڑ دیتا تھا۔(12)
وَثَمودُ وَقَومُ لوطٍ وَأَصحٰبُ لـَٔيكَةِ ۚ أُولٰئِكَ الأَحزابُ(13)
١٣۔١ اَ صْحَابُ الاَیْکۃِ کے لئے دیکھئے سورہ شعراء١٧٦ کا حاشیہ(13)
إِن كُلٌّ إِلّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقابِ(14)
(14)
وَما يَنظُرُ هٰؤُلاءِ إِلّا صَيحَةً وٰحِدَةً ما لَها مِن فَواقٍ(15)
١٥۔١ یعنی صور پھونکنے کا جس سے قیامت برپا ہو جائے گی۔ ١٥۔٢ صور پھونکنے کی دیر ہوگی کہ قیامت کا زلزلہ برپا ہو جائے گا۔(15)
وَقالوا رَبَّنا عَجِّل لَنا قِطَّنا قَبلَ يَومِ الحِسابِ(16)
١٦۔١ یعنی ہمارے نامہ اعمال کے مطابق ہمارے حصے میں اچھی یا بری سزا جو بھی ہے، یوم حساب آنے سے پہلے ہی دنیا میں دے دے۔ یہ و قوع قیامت کو ناممکن سمجھتے ہوئے انہوں نے تمسخر کے طور پر کہا۔(16)
اصبِر عَلىٰ ما يَقولونَ وَاذكُر عَبدَنا داوۥدَ ذَا الأَيدِ ۖ إِنَّهُ أَوّابٌ(17)
١٧۔١ قوت و شدت۔ اسی سے تائید بمعنی تقویت ہے۔ اس قوت سے مراد دینی قوت و صلاحیت ہے، جس طرح حدیث میں آتا ہے ' کہ اللہ کو سب سے زیادہ محبوب نماز، داؤد علیہ السلام کی نماز اور سب سے زیادہ محبوب روزے، داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں، وہ نصف رات سوتے، پھر اٹھ کر رات کا تہائی حصہ قیام کرتے اور پھر اس کے چھٹے حصے میں سو جاتے۔ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے اور جنگ میں فرار نہ ہوتے (صحیح بخاری)(17)
إِنّا سَخَّرنَا الجِبالَ مَعَهُ يُسَبِّحنَ بِالعَشِىِّ وَالإِشراقِ(18)
(18)
وَالطَّيرَ مَحشورَةً ۖ كُلٌّ لَهُ أَوّابٌ(19)
١٩۔١ یعنی اشراق کے وقت اور آخر دن کو پہاڑ بھی داؤد علیہ السلام کے ساتھ مصروف تسبیح ہوتے اور اڑتے جانور بھی زبور کی قرأت سن کر ہوا ہی میں جمع ہو جاتے اور ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح کرتے۔(19)
وَشَدَدنا مُلكَهُ وَءاتَينٰهُ الحِكمَةَ وَفَصلَ الخِطابِ(20)
٢٠۔١ ہر طرح کی مادی اور روحانی اسباب کے ذریعے سے۔ ٢٠۔٢ یعنی، نبوت، اصبات رائے، قول سداد اور نیک کام۔ ٢٠۔٣ یعنی مقدمات کے فیصلے کرنے کی صلاحیت، بصیرت اور استدلال و بیان کی قوت۔(20)
۞ وَهَل أَتىٰكَ نَبَؤُا۟ الخَصمِ إِذ تَسَوَّرُوا المِحرابَ(21)
٢١۔١ مِحْرَاب سے مراد کمرہ ہے جس میں سب سے علیحدہ ہو کر یکسوئی کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے۔ دروازے پر پہرے دار ہوتے، تاکہ کوئی اندر آکر عبادت میں مخل نہ ہو۔ جھگڑا کرنے والے پیچھے سے دیوار پھاند کر اندر آگئے۔(21)
إِذ دَخَلوا عَلىٰ داوۥدَ فَفَزِعَ مِنهُم ۖ قالوا لا تَخَف ۖ خَصمانِ بَغىٰ بَعضُنا عَلىٰ بَعضٍ فَاحكُم بَينَنا بِالحَقِّ وَلا تُشطِط وَاهدِنا إِلىٰ سَواءِ الصِّرٰطِ(22)
٢٢۔١ آنے والوں نے تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے درمیان ایک جھگڑا ہے، ہم آپ سے فیصلہ کرانے آئے ہیں، آپ حق کے ساتھ فیصلہ بھی فرمائیں اور سیدھے راستے کی طرف ہماری رہنمائی بھی۔(22)
إِنَّ هٰذا أَخى لَهُ تِسعٌ وَتِسعونَ نَعجَةً وَلِىَ نَعجَةٌ وٰحِدَةٌ فَقالَ أَكفِلنيها وَعَزَّنى فِى الخِطابِ(23)
٢٣۔١ بھائی سے مراد دینی بھائی یا شریک کاروبار یا دوست ہے۔ سب پر بھائی کا اطلاق صحیح ہے۔ ٢٣۔٢ یعنی ایک دنبی بھی میری دنبیوں میں شامل کر دے تاکہ میں ہی اس کا بھی ضامن اور کفیل ہو جاؤں۔ ٢٣۔٣ دوسرا ترجمہ ہے ' اور یہ گفتگو میں بھی مجھ پر غالب آگیا ' یعنی جس طرح اس کے پاس مال زیادہ ہے، زبان کا بھی مجھ سے زیادہ تیز ہے اور اس تیزی و طراری کی وجہ سے لوگوں کو قائل کر لیتا ہے۔(23)
قالَ لَقَد ظَلَمَكَ بِسُؤالِ نَعجَتِكَ إِلىٰ نِعاجِهِ ۖ وَإِنَّ كَثيرًا مِنَ الخُلَطاءِ لَيَبغى بَعضُهُم عَلىٰ بَعضٍ إِلَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَليلٌ ما هُم ۗ وَظَنَّ داوۥدُ أَنَّما فَتَنّٰهُ فَاستَغفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ راكِعًا وَأَنابَ ۩(24)
٢٤۔١ یعنی انسانوں میں یہ کوتاہی عام ہے کہ ایک شریک دوسرے پر زیادتی کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ دوسرے کا حصہ بھی خود ہی ہڑپ کر جائے۔ ٢٤۔٢ البتہ اس اخلاقی کوتاہی سے اہل ایمان محفوظ ہیں، کیونکہ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے اور عمل صالح کے پابند ہوتے ہیں اس لئے کسی پر زیادتی کرنا اور دوسروں کا مال ہڑپ کر جانے کی سعی کرنا، ان کے مزاج میں شامل نہیں ہوتا۔ وہ تو دینے والے ہوتے ہیں، لینے والے نہیں۔ تاہم ایسے بلند کردار لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔(24)
فَغَفَرنا لَهُ ذٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُ عِندَنا لَزُلفىٰ وَحُسنَ مَـٔابٍ(25)
(25)
يٰداوۥدُ إِنّا جَعَلنٰكَ خَليفَةً فِى الأَرضِ فَاحكُم بَينَ النّاسِ بِالحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الهَوىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذينَ يَضِلّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ لَهُم عَذابٌ شَديدٌ بِما نَسوا يَومَ الحِسابِ(26)
(26)
وَما خَلَقنَا السَّماءَ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما بٰطِلًا ۚ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذينَ كَفَروا ۚ فَوَيلٌ لِلَّذينَ كَفَروا مِنَ النّارِ(27)
٢٧۔١ بلکہ ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ یہ کہ میرے بندے میری عبادت کریں، جو ایسا کرے گا، میں اسے بہترین جزا سے نوازوں گا اور جو میری عبادت و اطاعت سے سرتابی کرے گا، اس کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔(27)
أَم نَجعَلُ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالمُفسِدينَ فِى الأَرضِ أَم نَجعَلُ المُتَّقينَ كَالفُجّارِ(28)
(28)
كِتٰبٌ أَنزَلنٰهُ إِلَيكَ مُبٰرَكٌ لِيَدَّبَّروا ءايٰتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُوا الأَلبٰبِ(29)
(29)
وَوَهَبنا لِداوۥدَ سُلَيمٰنَ ۚ نِعمَ العَبدُ ۖ إِنَّهُ أَوّابٌ(30)
(30)
إِذ عُرِضَ عَلَيهِ بِالعَشِىِّ الصّٰفِنٰتُ الجِيادُ(31)
٣١۔١ یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام نے بغرض جہاد جو گھوڑے پالے ہوئے تھے، وہ عمدہ نسل تیز رو گھوڑے حضرت سلیمان علیہ السلام پر معائنے کے لئے پیش کئے گئے، ظہر یا عصر سے لے کر آخر دن تک کے وقت کو کہتے ہیں، جسے شام سے تعبیر کرتے ہیں۔(31)
فَقالَ إِنّى أَحبَبتُ حُبَّ الخَيرِ عَن ذِكرِ رَبّى حَتّىٰ تَوارَت بِالحِجابِ(32)
(32)
رُدّوها عَلَىَّ ۖ فَطَفِقَ مَسحًا بِالسّوقِ وَالأَعناقِ(33)
٣٣۔١ اس آیت کا مفہوم۔ مطلب ہوگا کہ گھوڑوں کے معانیہ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی عصر کی نماز یا وظیفہ خاص رہ گیا جو اس وقت کرتے تھے جس پر انہیں سخت صدمہ ہوا اور کہنے لگے کہ میں گھوڑوں کی محبت میں اتنا گم ہوگیا کہ سورج کا پردہ مغرب میں چھپ گیا اور اللہ کی یاد، نماز یا وظیفہ رہ گیا۔ چنانچہ اس کی تلافی اور ازالے کے لئے انہوں نے سارے گھوڑے اللہ کی راہ میں قتل کر ڈالے، امام شوکانی اور ابن کثیر وغیرہ نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے(33)
وَلَقَد فَتَنّا سُلَيمٰنَ وَأَلقَينا عَلىٰ كُرسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنابَ(34)
٣٤۔١ یہ آزمائش کیا تھی، کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی بھی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ البتہ بعض مفسرین نے صحیح حدیث سے ثابت ایک واقعہ کو اس پر چسپاں کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ میں آج کی رات اپنی تمام بیویوں سے (جن کی تعداد ٧٠ یا ٩٠ تھی) ہم بستری کرونگا تاکہ ان سے شاہ سوار پیدا ہوں جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ اور اس پر انشاء اللہ نہیں کہا تھا (یعنی صرف اپنی ہی تدبیر پر سارا اعتماد کیا) نتیجہ یہ ہوا کہ سوائے ایک بیوی کے کوئی بیوی حاملہ نہیں ہوئی۔ اور حاملہ بیوی نے جو بچہ جنا، وہ ناقص یعنی آدھا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر سلیمان علیہ السلام انشاء اللہ کہہ لیتے تو سب سے مجاہد پیدا ہوتے (صحیح بخاری)(34)
قالَ رَبِّ اغفِر لى وَهَب لى مُلكًا لا يَنبَغى لِأَحَدٍ مِن بَعدى ۖ إِنَّكَ أَنتَ الوَهّابُ(35)
٣٥۔١ یعنی شاہ سواروں کی فوج پیدا ہونے کی آرزو، تیری حکمت و مشیت کے تحت پوری نہیں ہوئی، لیکن اگر مجھے ایسی با اختیار بادشاہت عطا کر دے کہ ویسی بادشاہت میرے سوا یا میرے بعد کسی کے پاس نہ ہو، تو پھر اولاد کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ یہ دعا بھی اللہ کے دین کے غلبے کے لئے ہی تھی۔(35)
فَسَخَّرنا لَهُ الرّيحَ تَجرى بِأَمرِهِ رُخاءً حَيثُ أَصابَ(36)
٣٦۔١ ہم نے سلیمان علیہ السلام کی دعا قبول کرلی اور ایسی بادشاہی عطا کی جس میں ہوا بھی ان کے ماتحت تھی، جہاں ہوا کو نرمی سے چلنے والا بتایا ہے، جب کہ دوسرے مقام پر اسے تند و تیز کہا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا پیدائشی قوت کے لحاظ سے تند ہے۔ لیکن سلیمان علیہ السلام کے لئے اسے نرم کر دیا گیا یا حسب ضرورت وہ کبھی تند ہوتی کبھی نرم، جس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام چاہتے (فتح القدیر)(36)
وَالشَّيٰطينَ كُلَّ بَنّاءٍ وَغَوّاصٍ(37)
(37)
وَءاخَرينَ مُقَرَّنينَ فِى الأَصفادِ(38)
٣٨۔١ جنات میں سے جو سرکش یا کافر ہوتے، انہیں بیڑیوں میں جکڑ دیا جاتا، تاکہ وہ اپنے کفر یا سرکشی کی وجہ سے سرتابی نہ کرسکیں۔(38)
هٰذا عَطاؤُنا فَامنُن أَو أَمسِك بِغَيرِ حِسابٍ(39)
٣٩۔١ یعنی تیری دعا کے مطابق ہم نے تجھے عظیم بادشاہی سے نواز دیا، اب انسانوں میں سے جس کو چاہے دے، جسے چاہے نہ دے، تجھ سے ہم حساب بھی نہیں لیں گے۔(39)
وَإِنَّ لَهُ عِندَنا لَزُلفىٰ وَحُسنَ مَـٔابٍ(40)
٤٠۔١ یعنی دنیاوی جاہ و مرتبت عطا کرنے کے باوجود آخرت میں بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کو قرب خاص اور مقام خاص حاصل ہوگا۔(40)
وَاذكُر عَبدَنا أَيّوبَ إِذ نادىٰ رَبَّهُ أَنّى مَسَّنِىَ الشَّيطٰنُ بِنُصبٍ وَعَذابٍ(41)
٤١۔١ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری اور اس میں ان کا صبر مشہور ہے جس کے مطابق اللہ تعالٰی نے اہل و مال کی تباہی اور بیماری کے ذریعے سے ان کی آزمائش کی جس میں وہ کئی سال مبتلا رہے۔ حتٰی کہ صرف ایک بیوی ان کے ساتھ رہ گئی جو صبح شام ان کی خدمت کرتی اور ان کو کہیں کام کاج کرکے بقدر کفالت رزق کا انتظام بھی کرتی۔ اس کی نسبت شیطان کی طرف اس لئے کی گئی ہے درآں حالیکہ سب کچھ کرنے والا صرف اللہ ہی ہے، کہ ممکن ہے شیطان کے وسوسے ہی کسی ایسے عمل کا سبب بنے ہوں جس پر یہ آزمائش آئی یا پھر بطور ادب کے ہے کہ خیر کا اللہ تعالٰی کی طرف اور شر کو اپنی یا شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔(41)
اركُض بِرِجلِكَ ۖ هٰذا مُغتَسَلٌ بارِدٌ وَشَرابٌ(42)
٤٢۔١ اللہ تعالٰی نے حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور ان سے کہا کہ زمین پر پاؤں مارو، جس سے ایک چشمہ جاری ہوگیا۔ اس کے پانی پینے سے اندرونی بیماریاں اور غسل کرنے سے ظاہری بیماریاں دور ہوگئیں بعض کہتے ہیں کہ یہ دو چشمے تھے، ایک سے غسل فرمایا اور دوسرے سے پانی پیا۔ لیکن قرآن کے الفاظ سے پہلی بات کی تائید ہوتی ہے، یعنی ایک ہی چشمہ تھا۔(42)
وَوَهَبنا لَهُ أَهلَهُ وَمِثلَهُم مَعَهُم رَحمَةً مِنّا وَذِكرىٰ لِأُولِى الأَلبٰبِ(43)
٤٣۔١ بعض کہتے ہیں کہ پہلا کنبہ جو بطور آزمائش ہلاک کر دیا گیا تھا، اسے زندہ کر دیا گیا اور اس کی مثل اور مذید کنبہ عطا کر دیا گیا۔ لیکن یہ بات کسی مستند ذریعے سے ثابت نہیں ہے، زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اللہ نے پہلے سے زیادہ مال و اولاد سے انہیں نواز دیا جو پہلے سے دگنا تھا۔ ٤٣۔٢ یعنی ایوب علیہ السلام کو سب کچھ دوبارہ عطا کیا، تو اپنی رحمت خاص کے اظہار کے علاوہ اس کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ اہل دانش اس سے نصیحت حاصل کریں اور وہ بھی ابتلاء و شدائد پر اسی طرح صبر کریں جس طرح ایوب علیہ السلام نے کیا۔(43)
وَخُذ بِيَدِكَ ضِغثًا فَاضرِب بِهِ وَلا تَحنَث ۗ إِنّا وَجَدنٰهُ صابِرًا ۚ نِعمَ العَبدُ ۖ إِنَّهُ أَوّابٌ(44)
٤٤۔١ بیماری کے ایام میں خدمت گزار بیوی کسی بات سے ناراض ہو کر حضرت ایوب علیہ السلام نے اسے سو کوڑے مارنے کی قسم کھائی تھی، صحت یاب ہونے کے بعد اللہ تعالٰی نے فرمایا، سو تنکوں والی جھاڑو لے کر ایک مرتبہ اسے مار دے، تیری قسم پوری ہو جائیگی۔(44)
وَاذكُر عِبٰدَنا إِبرٰهيمَ وَإِسحٰقَ وَيَعقوبَ أُولِى الأَيدى وَالأَبصٰرِ(45)
٤٥۔١ یعنی عبادت الٰہی اور نصرت دین میں بڑے قوی اور دینی و علمی نصیرت میں ممتاز تھے بعض کہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالٰی کا خاص انعام و احسان ہوا یا یہ لوگوں پر احسان کرنے والے تھے۔(45)
إِنّا أَخلَصنٰهُم بِخالِصَةٍ ذِكرَى الدّارِ(46)
٤٦۔١ یعنی ہم نے ان کو آخرت کی یاد کے لئے چن لیا تھا، چنانچہ آخرت ہر وقت ان کے سامنے رہتی تھی (آخرت کا ہر وقت استحضار، یہ بھی اللہ کی ایک بڑی نعمت اور زاہد و تقویٰ کی بنیاد) یا وہ لوگوں کو آخرت اور اللہ کی طرف بلانے میں کوشاں رہتے تھے۔(46)
وَإِنَّهُم عِندَنا لَمِنَ المُصطَفَينَ الأَخيارِ(47)
(47)
وَاذكُر إِسمٰعيلَ وَاليَسَعَ وَذَا الكِفلِ ۖ وَكُلٌّ مِنَ الأَخيارِ(48)
٤٨۔١ یسع علیہ السلام کہتے ہیں، حضرت الیاس علیہ السلام کے جانشین تھے، ال تعریف کے لئے ہے اور عجمی نام ہے ذوالکفل کے لئے دیکھئے سورہ انبیاء آیت ٨٥ کا حاشیہ۔(48)
هٰذا ذِكرٌ ۚ وَإِنَّ لِلمُتَّقينَ لَحُسنَ مَـٔابٍ(49)
(49)
جَنّٰتِ عَدنٍ مُفَتَّحَةً لَهُمُ الأَبوٰبُ(50)
(50)
مُتَّكِـٔينَ فيها يَدعونَ فيها بِفٰكِهَةٍ كَثيرَةٍ وَشَرابٍ(51)
(51)
۞ وَعِندَهُم قٰصِرٰتُ الطَّرفِ أَترابٌ(52)
٥٢۔١ یعنی جن کی نگاہیں اپنے خاوندوں سے حد سے بڑھنے والی نہیں ہونگی۔ اَتْرَاب تِرْب کی جمع ہے، ہم عمر لا زوال حسن و جمال کی حامل (فتح القدیر)(52)
هٰذا ما توعَدونَ لِيَومِ الحِسابِ(53)
(53)
إِنَّ هٰذا لَرِزقُنا ما لَهُ مِن نَفادٍ(54)
٥٤۔١ رزق، بمعنی عطیہ ہے اور ھٰذَا سے ہر قسم کی مذکور نعمتیں اور وہ اکرام و اعزاز مراد ہے جن سے اہل جنت بہرہ یاب ہوں گے۔ نفاد کے معنی خاتمے کے ہیں یہ نعمتیں بھی غیر فانی ہوں گی اور اعزاز و اکرام بھی دائمی۔(54)
هٰذا ۚ وَإِنَّ لِلطّٰغينَ لَشَرَّ مَـٔابٍ(55)
٥٥۔١یعنی مذکورہ اہل خیر کا معاملہ ہوا۔ اس کے بعد اہل شر کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔ ٥٥۔٢ طَاغِیْنَ جنہوں نے اللہ کے احکام سے سرکشی اور رسولوں کو جھٹلایا یَصْلُوْنَ کے معنی ہیں یَدْخُلُونَ داخل ہونگے۔(55)
جَهَنَّمَ يَصلَونَها فَبِئسَ المِهادُ(56)
(56)
هٰذا فَليَذوقوهُ حَميمٌ وَغَسّاقٌ(57)
٥٧۔١ یہ ہے پینے گرم پانی اور پیپ، اسے چکھو، گرم کھولتا ہو پانی، جو ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا، جہنمیوں کی کھالوں سے جو پیپ اور گندا لہو نکلے گا یا نہایت ٹھنڈا پانی، جس کا پینا نہایت مشکل ہوگا۔(57)
وَءاخَرُ مِن شَكلِهِ أَزوٰجٌ(58)
(58)
هٰذا فَوجٌ مُقتَحِمٌ مَعَكُم ۖ لا مَرحَبًا بِهِم ۚ إِنَّهُم صالُوا النّارِ(59)
٥٩۔١ جہنم کے دروازوں پر کھڑے فرشتے ائمہء کفر اور پیشوایان ضلالت سے کہیں گے، جب پیروکار قسم کے کافر جہنم میں جائیں گے یا ائمہ کفر و ضلالت آپس میں یہ بات، پیروکاروں کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے۔ ٥٩۔٢ یہ لیڈر، جہنم میں داخل ہونے والے کافروں کے لئے، فرشتوں کے جواب میں یا آپس میں کہیں گے رَحْبَۃکے معنی وسعت و فراخی کے ہیں۔(59)
قالوا بَل أَنتُم لا مَرحَبًا بِكُم ۖ أَنتُم قَدَّمتُموهُ لَنا ۖ فَبِئسَ القَرارُ(60)
٦٠۔١ یعنی تم ہی کفر و ضلالت کے راستے ہمارے سامنے مزین کرکے پیش کرتے تھے، یوں گویا اس عذاب جہنم کے پیش کار تم ہی ہو۔ یہ پیروکار، اپنے پیروی کرنے والوں سے کہیں گے۔(60)
قالوا رَبَّنا مَن قَدَّمَ لَنا هٰذا فَزِدهُ عَذابًا ضِعفًا فِى النّارِ(61)
٦١۔١ یعنی جنہوں نے ہمیں کفر کی دعوت دی اور اسے حق و صواب باور کرایا۔ یا جنہوں نے ہمیں کفر کی طرف بلا کر ہمارے لئے یہ عذاب آگے بھیجا۔ ٦١۔٢ یہ وہی بات ہے جسے اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے مثلًا سورہ الاعراف۔ ٣٨ سورہ الاحزاب۔٦٨۔(61)
وَقالوا ما لَنا لا نَرىٰ رِجالًا كُنّا نَعُدُّهُم مِنَ الأَشرارِ(62)
٦٢۔١ اَ شْرَار سے مراد فقراء مومنین ہیں، جیسے عمار، جناب، بلال و سلیمان وغیرہم رضی اللہ عنہم، انہیں رؤسائے مکہ ازراہ خبث برے لوگ کہتے تھے اور اب بھی اہل باطل حق پر چلنے والوں کو بنیاد پرست، دہشت گرد، انتہا پسند وغیرہ القاب سے نوازتے ہیں۔(62)
أَتَّخَذنٰهُم سِخرِيًّا أَم زاغَت عَنهُمُ الأَبصٰرُ(63)
٦٣۔١ یعنی دنیا میں، جہاں ہم غلطی پر تھے؟ ٦٣۔٢ یا وہ بھی ہمارے ساتھ ہی یہیں کہیں ہیں، ہماری نظریں انہیں نہیں دیکھ پا رہی ہیں۔(63)
إِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخاصُمُ أَهلِ النّارِ(64)
٦٤۔١ یعنی آپس میں ان کی تکرار اور ایک دوسرے کو مورد طعن بنانا، ایک ایسی حقیقت ہے جس میں تکلف نہیں ہوگا۔(64)
قُل إِنَّما أَنا۠ مُنذِرٌ ۖ وَما مِن إِلٰهٍ إِلَّا اللَّهُ الوٰحِدُ القَهّارُ(65)
(65)
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُمَا العَزيزُ الغَفّٰرُ(66)
(66)
قُل هُوَ نَبَؤٌا۟ عَظيمٌ(67)
٦٧۔١ یعنی میں تمہیں جس عذاب اخروی سے ڈرا رہا اور توحید کی دعوت دے رہا ہوں یہ بڑی خبر ہے، جس سے اعراض و غفلت نہ برتو، بلکہ اس پر توجہ دینے اور سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔(67)
أَنتُم عَنهُ مُعرِضونَ(68)
(68)
ما كانَ لِىَ مِن عِلمٍ بِالمَلَإِ الأَعلىٰ إِذ يَختَصِمونَ(69)
٦٩۔١ ملاء اعلٰی سے مراد فرشتے ہیں، یعنی وہ کس بات پر بحث کر رہے ہیں؟ میں نہیں جانتا۔ ممکن ہے، اس اختصام (بحث و تکرار) سے مراد وہ گفتگو ہو جو تخلیق آدم علیہ السلام کے وقت ہوئی۔ جیسا کہ آگے اس کا ذکر آرہا ہے۔(69)
إِن يوحىٰ إِلَىَّ إِلّا أَنَّما أَنا۠ نَذيرٌ مُبينٌ(70)
٧٠۔١ یعنی میری ذمہ داری یہی ہے کہ میں وہ فرائض و پیغام تمہیں بتادوں جن کے اختیار کرنے سے تم عذاب الٰہی سے بچ جاؤ گے۔(70)
إِذ قالَ رَبُّكَ لِلمَلٰئِكَةِ إِنّى خٰلِقٌ بَشَرًا مِن طينٍ(71)
٧١۔١ یہ قصہ اس سے قبل سورۃ بقرہ، سورہ اعراف، سورہ حجر، سورہ بنی اسرائیل اور سورہ کہف میں بیان ہو چکا ہے اب اسے یہاں بھی اجمالاً بیان کیا جا رہا ہے۔ ٧١۔٢ یعنی ایک جسم، جنس بشر سے بنانے والا ہوں۔ انسان کو بشر، زمین سے اس کی مباشرت کی وجہ سے کہا۔ یعنی زمین سے ہی اس کی ساری وابستگی ہے اور وہ سب کچھ اسی زمین پر کرتا ہے۔ یا اس لئے کہ وہ بادی البشرۃ ہے۔ یعنی اس کا جسم یا چہرہ ظاہر ہے(71)
فَإِذا سَوَّيتُهُ وَنَفَختُ فيهِ مِن روحى فَقَعوا لَهُ سٰجِدينَ(72)
٧٢۔١ یعنی اسے انسانی پیکر میں ڈھال لوں اور اس کے تمام اجزا درست اور برابر کر لوں۔ ٧٢۔٢ یعنی وہ روح، جس کا میں ہی مالک ہوں، میرے سوا اس کا کوئی اختیار نہیں رکھتا اور جس کےپھونکتے ہی یہ پیکر خاکی، زندگی، حرکت اور توانائی سے بہرہ یاب ہو جائے گا۔ انسان کے شرف و عظمت کے لئے یہی بات کافی ہے کہ اس میں وہ روح پھونکی گئی ہے جس کو اللہ تعالٰی نے اپنی روح قرار دیا ہے۔ ٧٢۔٣ یہ سجدہ تحیہ یا سجدہ تعظیم ہے، سجدہ عبادت نہیں۔ یہ تعظیمی سجدہ پہلے جائز تھا، اسی لئے اللہ نے آدم علیہ السلام کے لئے فرشتوں کو اس کا حکم دیا۔ اب اسلام میں تعظیمی سجدہ بھی کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر یہ جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے (مشکوٰۃ، کتاب النکاح(72)
فَسَجَدَ المَلٰئِكَةُ كُلُّهُم أَجمَعونَ(73)
٧٣۔١ یہ انسان کا دوسرا شرف ہے کہ اسے مسجود ملائک بنایا۔ یعنی فرشتے جیسی مقدس مخلوق نے تعظیماً سجدہ کیا۔(73)
إِلّا إِبليسَ استَكبَرَ وَكانَ مِنَ الكٰفِرينَ(74)
٧٤۔١ اگر ابلیس کو صفات ملائکہ سے متصف مانا جائے تو یہ استثنا متصل ہوگا یعنی ابلیس اس حکم سجدہ میں داخل ہوگا بصورت دیگر یہ استثنا منقطع ہے یعنی وہ اس حکم میں داخل نہیں تھا لیکن آسمان پر رہنے کی وجہ سے اسے بھی حکم دیا گیا۔ مگر اس نے تکبر کی وجہ سے انکار کر دیا۔ ٧٤۔٢ یعنی اللہ تعالٰی کے حکم کی مخالفت اور اس کی اطاعت سے استکبار کی وجہ سے وہ کافر ہوگیا۔ یا اللہ کے علم میں وہ کافر تھا۔(74)
قالَ يٰإِبليسُ ما مَنَعَكَ أَن تَسجُدَ لِما خَلَقتُ بِيَدَىَّ ۖ أَستَكبَرتَ أَم كُنتَ مِنَ العالينَ(75)
٧٥۔١ یہ بھی انسان کے شرف و عظمت کے اظہار کے لئے فرمایا، ورنہ ہرچیز کا خالق اللہ ہی ہے۔(75)
قالَ أَنا۠ خَيرٌ مِنهُ ۖ خَلَقتَنى مِن نارٍ وَخَلَقتَهُ مِن طينٍ(76)
٧٦۔١ یعنی شیطان نے یہ سمجھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ حالانکہ یہ سب جواہر (ہم جنس یا قریب قریب ایک ہی درجے میں) ہیں۔ اس میں سے کسی کو دوسرے پر شرف کسی عارض(خارجی سبب) ہی کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے اور یہ عارض، آگ کے مقابلے میں، مٹی کے حصے میں آیا، کہ اللہ نے اسی سے آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ پھر اس میں اپنی روح پھونکی اس لحاظ سے مٹی ہی کو آگ کے مقابلے میں شرف و عظمت حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آگ کا کام جلا کر خاکستر کر دینا، جب کہ مٹی اس کے برعکس انواع و اقسام کی پیداوار کا مأخذ ہے۔(76)
قالَ فَاخرُج مِنها فَإِنَّكَ رَجيمٌ(77)
(77)
وَإِنَّ عَلَيكَ لَعنَتى إِلىٰ يَومِ الدّينِ(78)
(78)
قالَ رَبِّ فَأَنظِرنى إِلىٰ يَومِ يُبعَثونَ(79)
(79)
قالَ فَإِنَّكَ مِنَ المُنظَرينَ(80)
(80)
إِلىٰ يَومِ الوَقتِ المَعلومِ(81)
(81)
قالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغوِيَنَّهُم أَجمَعينَ(82)
(82)
إِلّا عِبادَكَ مِنهُمُ المُخلَصينَ(83)
(83)
قالَ فَالحَقُّ وَالحَقَّ أَقولُ(84)
(84)
لَأَملَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنهُم أَجمَعينَ(85)
(85)
قُل ما أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ مِن أَجرٍ وَما أَنا۠ مِنَ المُتَكَلِّفينَ(86)
٨٦۔١ یعنی اس دعوت و تبلیغ سے میرا مقصد صرف امر الٰہی ہے، دنیا کمانا نہیں۔ ٨٦۔٢ یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کردوں جو اس نے نہ کہی ہو یا میں تمہیں ایسی بات کی طرف دعوت دوں جس کا حکم اللہ نے مجھے نہ دیا ہو بلکہ کوئی کمی بیشی کئے بغیر میں اللہ کے احکام تم تک پہنچا رہا ہوں۔(86)
إِن هُوَ إِلّا ذِكرٌ لِلعٰلَمينَ(87)
٨٧۔١ یعنی یہ قرآن، وحی یا وہ دعوت، جو میں پیش کر رہا ہوں، دنیا بھر کے انسانوں اور جنات کے لئے نصیحت ہے۔ بشرطیکہ کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنے کا قصد کرے۔(87)
وَلَتَعلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعدَ حينٍ(88)
٨٨۔١ یعنی قرآن نے جن چیزوں کو بیان کیا ہے، جو وعدے وعید ذکر کئے ہیں، ان کی حقیقت و صداقت بہت جلد تمہارے سامنے آجائے گی۔ چنانچہ اس کی صداقت یوم بدر کو واضح ہوئی، فتح مکہ کے دن ہوئی یا پھر موت کے وقت تو سب پر ہی واضح ہو جاتی ہے۔(88)