Nuh( نوح)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ إِنّا أَرسَلنا نوحًا إِلىٰ قَومِهِ أَن أَنذِر قَومَكَ مِن قَبلِ أَن يَأتِيَهُم عَذابٌ أَليمٌ(1)
١۔١ حضرت نوح علیہ السلام جلیل القدر پیغمبروں میں سے ہیں، صحیح مسلم وغیرہ کی حدیث شفاعت میں ہے کہ یہ پہلے رسول ہیں، نیز کہا جاتا ہے کہ انہی کی قوم سے شرک کا آغاز ہوا، چنانچہ اللہ تعالٰی نے انہیں اپنی قوم کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا۔ ١۔٢ قیامت کے دن عذاب یا دنیا میں عذاب آنے سے قبل، جیسے اس قوم پر طوفان آیا۔(1)
قالَ يٰقَومِ إِنّى لَكُم نَذيرٌ مُبينٌ(2)
۲۔۱اللہ کے عذاب سے اگر تم ایمان نہ لائے اسی لیے عذاب سے نجات کا نسخہ تمہیں بتلانے آیا ہوں جو آگے بیان ہو رہا ہے۔(2)
أَنِ اعبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقوهُ وَأَطيعونِ(3)
٢۔١ اور شرک چھوڑ دو، صرف اسی کی عبادت کرو۔ ٢۔٢ اللہ کی نافرمانیوں سے اجتناب کرو، جن سے تم عذاب الٰہی کے مستحق قرار پا سکتے ہو، ٢۔٣ یعنی میں تمہیں جن باتوں کا حکم دوں اس میں میری اطاعت کرو، اس لئے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول اور اس کا نمائندہ بن کر آیا ہوں۔(3)
يَغفِر لَكُم مِن ذُنوبِكُم وَيُؤَخِّركُم إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذا جاءَ لا يُؤَخَّرُ ۖ لَو كُنتُم تَعلَمونَ(4)
٤۔۱اس کے معنی یہ کیے گیے ہیں کہ ایمان لانے کی صورت میں تمہاری موت کی جو مدت مقرر ہے اس کو مؤخر کرکے تمہیں مذید مہلت عمر عطا فرمائے گا اور وہ عذاب تم سے دور کردے گا جو عدم ایمان کی صورت میں تمہارے لیے مقدر تھا۔ بلکہ لامحالہ واقع ہو کر رہنا ہے اسی لیے تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ ایمان واطاعت کا راستہ فورا اپنا لو تاخیر خطرہ ہے کہ وعدہ عذاب الہی کی لپیٹ میں نہ آجاؤ۔(4)
قالَ رَبِّ إِنّى دَعَوتُ قَومى لَيلًا وَنَهارًا(5)
٥۔١ یعنی تیرے حکم کی تعمیل میں، بغیر کسی کوتاہی کے رات دن میں نے تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچایا ہے۔(5)
فَلَم يَزِدهُم دُعاءى إِلّا فِرارًا(6)
٦۔١ یعنی میری پکار سے یہ ایمان سے اور زیادہ دور ہوگئے ہیں۔ جب کوئی قوم گمراہی کے آخری کنارے پر پہنچ جائے تو پھر اس کا یہی حال ہوتا ہے، اسے جتنا اللہ کی طرف بلاؤ، وہ اتنا ہی دور بھاگتی ہے۔(6)
وَإِنّى كُلَّما دَعَوتُهُم لِتَغفِرَ لَهُم جَعَلوا أَصٰبِعَهُم فى ءاذانِهِم وَاستَغشَوا ثِيابَهُم وَأَصَرّوا وَاستَكبَرُوا استِكبارًا(7)
٧۔١ یعنی ایمان اور اطاعت کی طرف، جو سبب مغفرت ہے۔ ٧۔٢ تاکہ میری آواز سن سکیں۔ تاکہ میرا چہرہ نہ دیکھ سکیں یا اپنے سروں پر کپڑے ڈال دیے تاکہ میرا کلام نہ سن سکیں ٧۔٣ یعنی کفر پر مصر رہے، اس سے باز نہ آئے اور توبہ نہیں کی۔ ٧۔٤ قبول حق اور امتثال امر سے انہوں نے سخت تکبر کیا۔(7)
ثُمَّ إِنّى دَعَوتُهُم جِهارًا(8)
(8)
ثُمَّ إِنّى أَعلَنتُ لَهُم وَأَسرَرتُ لَهُم إِسرارًا(9)
٩۔١ یعنی مختلف انداز اور طریقوں سے انہیں دعوت دی۔ بعض کہتے ہیں، کہ اجتماعات اور مجلسوں میں بھی انہیں دعوت دی اور گھروں میں فرساً فرداً بھی تیرا پیغام پہنچایا۔(9)
فَقُلتُ استَغفِروا رَبَّكُم إِنَّهُ كانَ غَفّارًا(10)
١٠۔١ یعنی ایمان اور اطاعت کا راستہ اپنالو، اور اپنے رب سے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگ لو۔ ١٠۔٢ وہ توبہ کرنے والوں کے لئے بڑا رحیم و غفار ہے۔(10)
يُرسِلِ السَّماءَ عَلَيكُم مِدرارًا(11)
١١۔١ بعض علماء اسی آیت کی وجہ سے نماز استسقاء میں سورہ نوح کے پڑھنے کو مستحب سمجھتے ہیں۔ مروی ہے کہ حضرت عمر بھی ایک مرتبہ نماز استسقاء کے لئے منبر پر چڑھے تو صرف آیات استغفار (جن میں یہ آیت بھی تھی) پڑھ کر منبر سے اتر آئے۔ اور فرمایا کہ میں نے بارش کو، بارش کے ان راستوں سے طلب کیا ہے جو آسمانوں میں ہیں جن سے بارش زمین پر اترتی ہے (ابن کثیر)(11)
وَيُمدِدكُم بِأَموٰلٍ وَبَنينَ وَيَجعَل لَكُم جَنّٰتٍ وَيَجعَل لَكُم أَنهٰرًا(12)
۱۲۔۱یعنی ایمان و اطاعت سے تمہیں اخروی نعمتیں ملیں گی بلکہ دنیاوی مال ودولت اور بیٹوں کی کثرت سے بھی نوازے جاؤ گے۔(12)
ما لَكُم لا تَرجونَ لِلَّهِ وَقارًا(13)
۱۳۔۱یعنی جس طرح اس کی عظمت کا حق ہے تم اس سے ڈرتے کیوں نہیں؟ اور اس کو ایک کیوں نہیں مانتے اور اس کی اطاعت کیوں نہیں کرتے۔(13)
وَقَد خَلَقَكُم أَطوارًا(14)
١٤۔١ پہلے نطفہ، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر عظام اور لحم اور پھر خلق تام، جیسا کہ سورہ انبیا۔ ٥، المو منین۔ ١٤،٦٧ وغیرھا میں تفصیل گزری۔(14)
أَلَم تَرَوا كَيفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبعَ سَمٰوٰتٍ طِباقًا(15)
۱۵۔۱جو اس کی قدرت اور کمال صناعت پر دلالت کرتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عبادت کے لائق صرف وہی ایک اللہ ہے۔(15)
وَجَعَلَ القَمَرَ فيهِنَّ نورًا وَجَعَلَ الشَّمسَ سِراجًا(16)
١٦۔١ جو روئے زمین کو منور کرنے والا اور اس کے ماتھے کا جھومر ہے۔ تاکہ اس کی روشنی میں انسان معاش کے لیے جو انسانوں کی انتہائی ناگزیر ضرورت ہے کسب و محنت کر سکے۔(16)
وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِنَ الأَرضِ نَباتًا(17)
١٧۔١ یعنی تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو، جنہیں مٹی سے بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ یا اگر تمام انسانوں کو مخاطب سمجھا جائے، تو مطلب ہوگا کہ تم جس نطفے سے پیدا ہوتے ہو وہ اسی خوراک سے بنتا ہے جو زمین سے حاصل ہوتی ہے، اس اعتبار سے سب کی پیدائش کی اصل زمین ہی قرار پائی ہے۔(17)
ثُمَّ يُعيدُكُم فيها وَيُخرِجُكُم إِخراجًا(18)
١٨۔١ یعنی، مر کر پھر اسی مٹی میں دفن ہونا ہے اور پھر قیامت والے دن اسی زمین سے تمہیں زندہ کرکے نکالا جائے گا۔(18)
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الأَرضَ بِساطًا(19)
۱۹۔۱یعنی اسے فرش کی طرح بچھا دیا ہے تم اس پر اسی طرح چلتے پھرتے ہو جیسے اپنے گھر میں بچھے ہوئے فرش پر چلتے اور اٹھتے بیٹھتے ہو۔(19)
لِتَسلُكوا مِنها سُبُلًا فِجاجًا(20)
۲۰۔۱یعنی اس زمین پر اللہ تعالٰی نے بڑے بڑے کشادہ راستے بنا دیے ہیں تاکہ انسان آسانی کے ساتھ ایک دوسری جگہ، ایک شہر سے دوسرے شہر یا ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاسکے اس لیے یہ راستے بھی انسان کی کاروباری اور تمدنی ضرورت ہے جس کا انتظام کرکے اللہ نے انسانوں پر احسان عظیم کیا ہے۔(20)
قالَ نوحٌ رَبِّ إِنَّهُم عَصَونى وَاتَّبَعوا مَن لَم يَزِدهُ مالُهُ وَوَلَدُهُ إِلّا خَسارًا(21)
٢١۔١ لوگ میری نافرمانی پر اڑے ہوئے ہیں اور میری دعوت پر لبیک نہیں کہہ رہے۔ یعنی ان کے اپنے بڑوں اور صاحب ثروت ہی کی پیروی کی جن کے مال و اولاد نے انہیں دنیا اور آخرت کے خسارے میں ہی بڑھایا ہے۔(21)
وَمَكَروا مَكرًا كُبّارًا(22)
۲۲۔۱یہ مکر یا فریب کیا تھا بعض کہتے ہیں ان کا بعض لوگوں کو حضرت نوح علیہ السلام کے قتل پر ابھارنا تھا بعض کہتے ہیں کہ مال واولاد کی وجہ سے جس فریب نفس کا وہ شکار ہوئے حتی کہ بعض نے کہا کہ اگر یہ حق پر نہ ہوتے تو ان کو یہ نعمتیں میسر کیوں آتیں؟ بعض کے نزدیک ان کا کفر ہی بڑا مکر تھا۔(22)
وَقالوا لا تَذَرُنَّ ءالِهَتَكُم وَلا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلا سُواعًا وَلا يَغوثَ وَيَعوقَ وَنَسرًا(23)
٢٣۔١ یہ قوم نوح علیہ السلام کے وہ لوگ تھے جن کی عبادت کرتے تھے اور ان کی اتنی شہرت ہوئی کہ عرب میں بھی ان کی پوجا ہوتی رہی، یہ پانچوں قوم نوح علیہ السلام کے نیک آدمیوں کے نام تھے، جب یہ مر گئے تو شیطان نے ان کے عقیدت مندوں کو کہا کہ ان کی تصوریں بنا کر تم اپنے گھروں اور دکانوں میں رکھ لو تاکہ ان کی یاد تازہ رہے اور ان کے تصور سے تم بھی ان کی طرح نیکیاں کرتے رہو، جب یہ تصویریں رکھنے والے فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی نسلوں کو یہ کہہ کر کہ شرک میں ملوث کر دیا کہ تمہارے آباء تو ان کی عبادت کرتے تھے جن کی تصویریں تمہارے گھروں میں لٹک رہی ہیں چنانچہ انہوں نے ان کی پوجا شروع کر دی (صحیح بخاری)(23)
وَقَد أَضَلّوا كَثيرًا ۖ وَلا تَزِدِ الظّٰلِمينَ إِلّا ضَلٰلًا(24)
٢٤۔١ انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا اور اس کا مرجع یہی مذکورہ پانچ بت ہیں، اس کا مطلب ہوگا کہ ان کے سبب بہت سے لوگ گمراہی میں مبتلا ہوئے۔ جیسے ابراہیم علیہ السلام نے بھی کہا تھا۔(24)
مِمّا خَطيـٰٔتِهِم أُغرِقوا فَأُدخِلوا نارًا فَلَم يَجِدوا لَهُم مِن دونِ اللَّهِ أَنصارًا(25)
(25)
وَقالَ نوحٌ رَبِّ لا تَذَر عَلَى الأَرضِ مِنَ الكٰفِرينَ دَيّارًا(26)
٢٦۔١ یہ بددعا اس وقت کی جب حضرت نوح علیہ السلام ان کے ایمان لانے سے بالکل نا امید ہوگئے اور اللہ نے بھی اطلاع کر دی کہ اب ان میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا (ہود۔٣٦) مطلب ہے کسی کو باقی نہ چھوڑ۔(26)
إِنَّكَ إِن تَذَرهُم يُضِلّوا عِبادَكَ وَلا يَلِدوا إِلّا فاجِرًا كَفّارًا(27)
(27)
رَبِّ اغفِر لى وَلِوٰلِدَىَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيتِىَ مُؤمِنًا وَلِلمُؤمِنينَ وَالمُؤمِنٰتِ وَلا تَزِدِ الظّٰلِمينَ إِلّا تَبارًا(28)
۲۸۔۱کافروں کے لیے بدعا کی تو مومنین کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ ٢٨۔۲ یہ بددعا قیامت تک آنے والے ظالموں کے لئے ہے جس طرح مذکورہ دعا تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں کے لئے ہے۔(28)