At-Takathur( التكاثر)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ أَلهىٰكُمُ التَّكاثُرُ(1)
١۔١ الھیٰ یلھی کے معنی ہیں،غافل کردینا۔ تکاثر، زیادتی کی خواہش۔ یہ یہ عام ہے، مال، اولاد، اعوان و انصار اور خاندان و قبیلہ وغیرہ سب کو شامل ہے۔ ہر وہ چیز، جس کی کثرت انسان کو محبوب ہو اور کثرت کے حصول کی کوشش و خواش اسے اللہ کے احکام اور آخرت سے غافل کر دے۔ یہاں اللہ تعالٰی انسان کی اس کمزوری کو بیان کر رہا ہے۔ جس میں انسانوں کی اکثریت ہر دور میں مبتلا رہی ہے۔(1)
حَتّىٰ زُرتُمُ المَقابِرَ(2)
٢۔١ اس کا مطلب ہے کہ حصول کی خاطر محنت کرتے کرتے تمہیں موت آ گئی اور تم قبروں میں جا پہنچے۔(2)
كَلّا سَوفَ تَعلَمونَ(3)
٣۔١ یعنی تم جن تکاثر و تفاخر میں ہو، یہ صحیح نہیں۔(3)
ثُمَّ كَلّا سَوفَ تَعلَمونَ(4)
٤۔١ اس کا انجام عنقریب تم جان لو گے، یہ بطور تاکید دو مرتبہ فرمایا۔(4)
كَلّا لَو تَعلَمونَ عِلمَ اليَقينِ(5)
۵۔۱مطلب یہ ہے کہ اگر تم اس غفلت کا انجام اسطرح یقینی طور پر جان لو جس طرح دنیا کی کسی دیکھی بھالی چیز کا تم یقین کرتے ہو تو تم یقینا تکاثر وتفاخر میں مبتلا نہ ہو۔(5)
لَتَرَوُنَّ الجَحيمَ(6)
٦۔۱یہ قسم مخذوف کا جواب ہے یعنی اللہ کی قسم تم جہنم ضرور دیکھو گے یعنی اس کی سزا بھگتو گے(6)
ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَينَ اليَقينِ(7)
۷۔۱پہلا دیکھنا دور سے ہوگا یہ دیکھنا قریب سے ہوگا، اسی لیے اسے عین الیقین (جس کا یقین مشاہدہ عین سے حاصل ہو) کہا گیا۔(7)
ثُمَّ لَتُسـَٔلُنَّ يَومَئِذٍ عَنِ النَّعيمِ(8)
٨۔١ یہ سوال ان نعمتوں کے بارے میں ہوگا، جو اللہ نے دنیا میں عطا کی ہونگی جیسے آنکھ، کان، دل، دماغ، امن اور صحت، مال و دولت اور اولاد وغیرہ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سوال صرف کافروں سے ہوگا بعض کہتے ہیں کہ ہر ایک سے ہوگا۔ بعض سوال مستلزم عذاب نہیں۔ جنہوں نے ان نعمتوں کا استعمال اللہ کے حکم کے مطابق کیا ہوگا وہ عذاب سے محفوظ ہوں گے اور جنہوں نے کفران نعمت کا ارتکاب کیا ہوگا وہ دھر لیے جائیں گے۔(8)