Ash-Shura( الشورى)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ حم(1)
حم(1)
عسق(2)
عسق(2)
كَذٰلِكَ يوحى إِلَيكَ وَإِلَى الَّذينَ مِن قَبلِكَ اللَّهُ العَزيزُ الحَكيمُ(3)
٣۔١ یعنی جس طرح یہ قرآن تیری طرف نازل کیا گیا ہے اسی طرح تجھ سے پہلے انبیاء پر آسمانی کتابیں نازل کی گئیں وحی اللہ کا کلام ہے جو فرشتے کے ذریعے سے اللہ تعالٰی اپنے پیغمبروں کے پاس بھیجتا رہا ہے ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ کبھی تو یہ میرے پاس گھنٹی کی آواز کی مثل آتی ہے اور یہ مجھ پر سب سے سخت ہوتی ہے، جب یہ ختم ہو جاتی ہے تو مجھے یاد ہوچکی ہوتی ہے اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور وہ جو کہتا ہے میں یاد کر لیتا ہوں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں، میں نے سخت سردی میں مشاہدہ کیا کہ جب وحی کی کیفیت ختم ہوتی تو آپ پسینے میں شرابور ہوتے اور آپ کی پیشانی سے پسینے کے قطرے گر رہے ہوتے۔ (صحیح بخاری(3)
لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۖ وَهُوَ العَلِىُّ العَظيمُ(4)
(4)
تَكادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرنَ مِن فَوقِهِنَّ ۚ وَالمَلٰئِكَةُ يُسَبِّحونَ بِحَمدِ رَبِّهِم وَيَستَغفِرونَ لِمَن فِى الأَرضِ ۗ أَلا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الغَفورُ الرَّحيمُ(5)
٥۔١ اللہ کی عظمت و جلال کی وجہ سے۔ ٥۔٢ یہ مضمون سورہ مومن کی آیت۔٧ میں بھی بیان ہوا ہے۔ ٥۔٣ اپنے دوستوں اور اہل اطاعت کے لئے یا تمام ہی بندوں کے لئے، کیونکہ کفار اور نافرمانوں کی فوراً گرفت نہ کرنا بلکہ انہیں ایک وقت معین تک مہلت دینا، یہ بھی اس کی رحمت و مغفرت ہی کی قسم سے ہے۔(5)
وَالَّذينَ اتَّخَذوا مِن دونِهِ أَولِياءَ اللَّهُ حَفيظٌ عَلَيهِم وَما أَنتَ عَلَيهِم بِوَكيلٍ(6)
٦۔١ یعنی ان کے عملوں کو محفوظ کر رہا ہے تاکہ اس پر ان کو جزا دے۔ ٦۔٢ یعنی آپ اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ان کو ہدایت کے راستے پر لگا دیں یا ان کے گناہوں پر ان کا مؤاخذہ فرمائیں، بلکہ یہ کام ہمارے ہیں، آپ کا مصرف پیغام (پہنچا دینا) ہے۔(6)
وَكَذٰلِكَ أَوحَينا إِلَيكَ قُرءانًا عَرَبِيًّا لِتُنذِرَ أُمَّ القُرىٰ وَمَن حَولَها وَتُنذِرَ يَومَ الجَمعِ لا رَيبَ فيهِ ۚ فَريقٌ فِى الجَنَّةِ وَفَريقٌ فِى السَّعيرِ(7)
٧۔١ یعنی جس طرح ہم نے ہر رسول اس کی قوم کی زبان میں بھیجا، اسی طرح ہم نے آپ پر عربی زبان میں قرآن نازل کیا ہے، کیونکہ آپ کی قوم یہی زبان بولتی اور سمجھتی ہے۔ ٧۔٢ قیامت والے دن کو جمع ہونے والا دن اس لئے کہا کہ اس میں اگلے پچھلے تمام انسان جمع ہونگیں علاوہ ازیں ظالم مظلوم اور مومن و کافر سب جمع ہونگے اور اپنے اپنے اعمال کے مطابق جزا و سزا سے بہرہ ور ہونگے۔(7)
وَلَو شاءَ اللَّهُ لَجَعَلَهُم أُمَّةً وٰحِدَةً وَلٰكِن يُدخِلُ مَن يَشاءُ فى رَحمَتِهِ ۚ وَالظّٰلِمونَ ما لَهُم مِن وَلِىٍّ وَلا نَصيرٍ(8)
٨۔١ اس صورت میں قیامت والے دن صرف ایک ہی گروہ ہوتا یعنی اہل ایمان اور اہل جنت کا لیکن اللہ کی حکمت و مشیت نے اس جبر کو پسند نہیں کیا بلکہ انسانوں کو آزمانے کے لئے اس نے انسانوں کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی، جس نے آزادی کا صحیح استعمال کیا، وہ اللہ کی رحمت کا مستحق ہوگیا، اور جس نے اس کا غلط استعمال کیا، اس نے ظلم کا ارتکاب کیا کہ اللہ کی دی ہوئی آزادی اور اختیار کو اللہ ہی کی نافرمانی میں استعمال کیا۔ چنانچہ ایسے ظالموں کا قیامت والے دن کوئی مددگار نہیں ہوگا۔(8)
أَمِ اتَّخَذوا مِن دونِهِ أَولِياءَ ۖ فَاللَّهُ هُوَ الوَلِىُّ وَهُوَ يُحىِ المَوتىٰ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(9)
٩۔١ جب یہ بات ہے تو پھر اللہ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو ولی اور کار ساز مانا جائے نہ کہ ان کو جن کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے اور جو سننے اور جواب دینے کی طاقت رکھتے ہیں، نہ نفع نقصان پہنچانے کی صلاحیت۔(9)
وَمَا اختَلَفتُم فيهِ مِن شَيءٍ فَحُكمُهُ إِلَى اللَّهِ ۚ ذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبّى عَلَيهِ تَوَكَّلتُ وَإِلَيهِ أُنيبُ(10)
١٠١۔١ اس اختلاف سے مراد دین کا اختلاف ہے جس طرح یہودیت، عیسائیت اور اسلام وغیرہ میں آپس میں اختلاف ہیں اور ہر مذہب کا پیروکار دعویٰ کرتا ہے اس کا دین سچا ہے اور حق کا راستہ پہنچاننے کے لئے اللہ تعالٰی کا قرآن موجود ہے۔ لیکن دنیا میں لوگ اس کلام الٰہی کو اپنا اور ثالث ماننے کے لئے تیار نہیں۔ بالآخر پھر قیامت کا دن ہی رہ جاتا ہے جس میں اللہ تعالٰی ان اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا اور سچوں کو جنت میں اور دوسروں کو جہنم میں داخل فرمائے گا۔(10)
فاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ جَعَلَ لَكُم مِن أَنفُسِكُم أَزوٰجًا وَمِنَ الأَنعٰمِ أَزوٰجًا ۖ يَذرَؤُكُم فيهِ ۚ لَيسَ كَمِثلِهِ شَيءٌ ۖ وَهُوَ السَّميعُ البَصيرُ(11)
١١۔١ یعنی یہ اس کا احسان ہے کہ تمہاری جنس سے ہی اس نے تمہارے جوڑے بنائے ورنہ اگر تمہاری بیویاں انسانوں کی بجائے کسی اور مخلوق سے بنائی جاتیں تو تمہیں یہ سکون حاصل نہ ہوتا جو اپنی ہم جنس اور ہم شکل بیوی سے ملتا ہے۔ ١١۔٢ نہ ذات میں نہ صفات میں، پس وہ اپنی نظیر آپ ہی ہے، واحد اور بے نیاز۔(11)
لَهُ مَقاليدُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ يَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن يَشاءُ وَيَقدِرُ ۚ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ(12)
(12)
۞ شَرَعَ لَكُم مِنَ الدّينِ ما وَصّىٰ بِهِ نوحًا وَالَّذى أَوحَينا إِلَيكَ وَما وَصَّينا بِهِ إِبرٰهيمَ وَموسىٰ وَعيسىٰ ۖ أَن أَقيمُوا الدّينَ وَلا تَتَفَرَّقوا فيهِ ۚ كَبُرَ عَلَى المُشرِكينَ ما تَدعوهُم إِلَيهِ ۚ اللَّهُ يَجتَبى إِلَيهِ مَن يَشاءُ وَيَهدى إِلَيهِ مَن يُنيبُ(13)
١٣۔١ صرف ایک اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت (یا اس کے رسول کی اطاعت جو دراصل اللہ ہی کی اطاعت ہے)، اس کی عبادت و اطاعت سے گریزاں ان میں دوسروں کو شریک کرنا، انتشار انگیزی، جس سے ' پھوٹ ڈالنا ' کہہ کر منع کیا گیا ہے۔ ١٣۔٢ اور وہی توحید اور اللہ و رسول کی اطاعت ہے۔ ١٣۔٣ یعنی جس کی ہدایت کا مستحق سمجھتا ہے، اسے ہدایت کے لئے چن لیتا ہے ١٣۔٤ یعنی اپنے دین اپنانے کی اور عبادت کو اللہ کے لئے خالص کرنے کی توفیق اس شخص کو عطا کر دیتا ہے جو اس کی اطاعت و عبادت کی طرف رجوع کرتا ہے۔(13)
وَما تَفَرَّقوا إِلّا مِن بَعدِ ما جاءَهُمُ العِلمُ بَغيًا بَينَهُم ۚ وَلَولا كَلِمَةٌ سَبَقَت مِن رَبِّكَ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى لَقُضِىَ بَينَهُم ۚ وَإِنَّ الَّذينَ أورِثُوا الكِتٰبَ مِن بَعدِهِم لَفى شَكٍّ مِنهُ مُريبٍ(14)
١٤۔١ یعنی اگر ان کی بابت عقوبیت میں تاخیر کا فیصلہ پہلے سے نہ ہوتا تو فوراً عذاب بھیج کر ان کو ہلاک کر دیا جاتا۔(14)
فَلِذٰلِكَ فَادعُ ۖ وَاستَقِم كَما أُمِرتَ ۖ وَلا تَتَّبِع أَهواءَهُم ۖ وَقُل ءامَنتُ بِما أَنزَلَ اللَّهُ مِن كِتٰبٍ ۖ وَأُمِرتُ لِأَعدِلَ بَينَكُمُ ۖ اللَّهُ رَبُّنا وَرَبُّكُم ۖ لَنا أَعمٰلُنا وَلَكُم أَعمٰلُكُم ۖ لا حُجَّةَ بَينَنا وَبَينَكُمُ ۖ اللَّهُ يَجمَعُ بَينَنا ۖ وَإِلَيهِ المَصيرُ(15)
١٥۔١ یعنی اس تفرق اور شک کی وجہ سے، جس کا ذکر پہلے ہوا، آپ ان کو توحید کی دعوت دیں اور اس پر جمے رہیں۔(15)
وَالَّذينَ يُحاجّونَ فِى اللَّهِ مِن بَعدِ مَا استُجيبَ لَهُ حُجَّتُهُم داحِضَةٌ عِندَ رَبِّهِم وَعَلَيهِم غَضَبٌ وَلَهُم عَذابٌ شَديدٌ(16)
١٦۔١ یعنی یہ مشرکین مسلمانوں سے لڑتے جھگڑتے ہیں، جنہوں نے اللہ اور رسول کی بات مان لی، تاکہ انہیں پھر راہ ہدایت سے ہٹا دیں۔ یا مراد یہود انصاریٰ ہیں جو مسلمانوں سے جھگڑتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمارا دین تمہارے دین سے بہتر ہے اور ہمارا نبی بھی تمہارے نبی سے پہلے ہوا ہے، اس لئے ہم تم سے بہتر ہیں۔(16)
اللَّهُ الَّذى أَنزَلَ الكِتٰبَ بِالحَقِّ وَالميزانَ ۗ وَما يُدريكَ لَعَلَّ السّاعَةَ قَريبٌ(17)
١٧۔١ الْکِتَابَ سے مراد جنس ہے یعنی تمام پیغمبروں پر جتنی کتابیں نازل ہوئیں، وہ سب حق اور سچی تھیں یا بطور خاص قرآن مجید مراد ہے اور اس کی صداقت کو واضح کیا جا رہا ہے۔(17)
يَستَعجِلُ بِهَا الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِها ۖ وَالَّذينَ ءامَنوا مُشفِقونَ مِنها وَيَعلَمونَ أَنَّهَا الحَقُّ ۗ أَلا إِنَّ الَّذينَ يُمارونَ فِى السّاعَةِ لَفى ضَلٰلٍ بَعيدٍ(18)
١٨۔١ یعنی استہزاد کے طور پر یہ سمجھتے ہوئے کہ اس کو آنا ہی کہاں سے ہے؟ اس لئے کہتے ہیں کہ قیامت جلدی آئے۔ ١٨۔٢ اس لئے کہ وہ ان دلائل پر غور و فکر ہی نہیں کرتے جو ایمان لانے کے موجب بن سکتے ہیں حالانکہ یہ دلائل روز و شب ان کے مشاہدے میں آتے ہیں۔ ان کی نظروں سے گزرتے ہیں اور ان کی عقل و فہم میں آسکتے ہیں۔ اس لئے وہ حق سے بہت دور جا پڑے ہیں۔(18)
اللَّهُ لَطيفٌ بِعِبادِهِ يَرزُقُ مَن يَشاءُ ۖ وَهُوَ القَوِىُّ العَزيزُ(19)
اور جس کا ارادہ آخر کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے (١) اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس دنیا میں سے ہی کچھ دے دیں گے ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔(19)
مَن كانَ يُريدُ حَرثَ الءاخِرَةِ نَزِد لَهُ فى حَرثِهِ ۖ وَمَن كانَ يُريدُ حَرثَ الدُّنيا نُؤتِهِ مِنها وَما لَهُ فِى الءاخِرَةِ مِن نَصيبٍ(20)
(20)
أَم لَهُم شُرَكٰؤُا۟ شَرَعوا لَهُم مِنَ الدّينِ ما لَم يَأذَن بِهِ اللَّهُ ۚ وَلَولا كَلِمَةُ الفَصلِ لَقُضِىَ بَينَهُم ۗ وَإِنَّ الظّٰلِمينَ لَهُم عَذابٌ أَليمٌ(21)
(21)
تَرَى الظّٰلِمينَ مُشفِقينَ مِمّا كَسَبوا وَهُوَ واقِعٌ بِهِم ۗ وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فى رَوضاتِ الجَنّاتِ ۖ لَهُم ما يَشاءونَ عِندَ رَبِّهِم ۚ ذٰلِكَ هُوَ الفَضلُ الكَبيرُ(22)
٢٢۔١ یعنی قیامت والے دن۔ ٢٢۔٢ حالانکہ ڈرنا بے فائدہ ہوگا کیوں کہ اپنے کئے کی سزا تو انہیں بہرحال بھگتنی ہوگی۔(22)
ذٰلِكَ الَّذى يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبادَهُ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۗ قُل لا أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ أَجرًا إِلَّا المَوَدَّةَ فِى القُربىٰ ۗ وَمَن يَقتَرِف حَسَنَةً نَزِد لَهُ فيها حُسنًا ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ شَكورٌ(23)
٢٣۔١ یعنی اجر و ثواب میں اضافہ کریں گے یا نیکی کے بعد اس کا بدلہ مزید نیکی کی توفیق کی صورت میں دیں گے جس طرح بدی کا بدلہ مذید بدیوں کا ارتکاب ہے۔ ٢٣۔٢ اس لئے وہ پردہ پوشی فرماتا اور معاف کر دیتا ہے اور زیادہ سے زیادہ اجر دیتا ہے۔(23)
أَم يَقولونَ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ۖ فَإِن يَشَإِ اللَّهُ يَختِم عَلىٰ قَلبِكَ ۗ وَيَمحُ اللَّهُ البٰطِلَ وَيُحِقُّ الحَقَّ بِكَلِمٰتِهِ ۚ إِنَّهُ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ(24)
٢٤۔١ یعنی اس الزام میں اگر صداقت ہوتی تو ہم آپ کے دل پر مہر لگا دیتے، جس سے وہی محو ہو جاتا جس کے گھڑنے کا انتساب آپ کی طرف کیا جاتا ہے، مطلب یہ ہے کہ ہم آپ کو اس کی سخت ترین سزا دیتے۔ ٢٤۔٢ یہ قرآن بھی اگر باطل ہوتا (جیسا کہ مکذبین کا دعویٰ ہے) تو یقینا اللہ تعالٰی اس کو بھی مٹا ڈالتا، جیسا کہ اس کی عادت ہے۔(24)
وَهُوَ الَّذى يَقبَلُ التَّوبَةَ عَن عِبادِهِ وَيَعفوا عَنِ السَّيِّـٔاتِ وَيَعلَمُ ما تَفعَلونَ(25)
٢٥۔١ توبہ کا مطلب ہے، معصیت پر ندامت کا اظہار اور آئندہ اس کو نہ کرنے کا عزم محض زبان سے توبہ توبہ کر لینا یا اس گناہ اور معصیت کے کام کو تو نہ چھوڑنا اور توبہ کا اظہار کئے جانا، توبہ نہیں ہے۔ یہ استہزاء اور مذاق ہے۔ تاہم خالص اور سچی توبہ اللہ تعالٰی یقینا قبول فرماتا ہے۔(25)
وَيَستَجيبُ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَيَزيدُهُم مِن فَضلِهِ ۚ وَالكٰفِرونَ لَهُم عَذابٌ شَديدٌ(26)
٢٦۔١ یعنی ان کی دعائیں سنتا ہے اور ان کی خواہشیں اور آرزوئیں پوری فرماتا ہے۔ بشرطیکہ دعا کے آداب و شرائط کا بھی پورا اہتمام کیا گیا ہو، اور حدیث میں آتا ہے ' اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی سواری مع کھانے پینے کے سامان کے، صحرا، بیابان میں گم ہو جائے اور وہ نا امید ہو کر کسی درخت کے نیچے لیٹ جائے کہ اچانک اسے اپنی سواری مل جائے اور فرط مسرت میں اس کے منہ سے نکل جائے، اے اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب یعنی شدت فرحت میں غلطی کر جائے (صحیح مسلم(26)
۞ وَلَو بَسَطَ اللَّهُ الرِّزقَ لِعِبادِهِ لَبَغَوا فِى الأَرضِ وَلٰكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ ما يَشاءُ ۚ إِنَّهُ بِعِبادِهِ خَبيرٌ بَصيرٌ(27)
٢٧۔١ یعنی اللہ ہر شخص کی حاجت و ضرورت سے زیادہ یکساں طور پر وسائل رزق عطا فرما دیتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ کوئی کسی کی ماتحتی قبول نہ کرتا، ہر شخص شرو فساد اور دشمنی میں ایک سے بڑھ کر ایک ہوتا، جس سے زمین فساد سے بھر جاتی۔(27)
وَهُوَ الَّذى يُنَزِّلُ الغَيثَ مِن بَعدِ ما قَنَطوا وَيَنشُرُ رَحمَتَهُ ۚ وَهُوَ الوَلِىُّ الحَميدُ(28)
٢٨۔١ کار ساز ہے، اپنے نیک بندوں کی چارہ سازی فرماتا ہے، انہیں منافع سے نوازتا ہے اور شرور اور مہلکات سے ان کی حفاطت فرماتا ہے۔ اپنے ان انعامات بے پایاں اور احسنات فراواں پر قابل حمد و ثنا ہے۔(28)
وَمِن ءايٰتِهِ خَلقُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَثَّ فيهِما مِن دابَّةٍ ۚ وَهُوَ عَلىٰ جَمعِهِم إِذا يَشاءُ قَديرٌ(29)
٢٩۔١ یعنی روئے زمین پر پھیلے ہوئے، جن و انس تمام جاندار حیوانات شامل ہیں ان سب کو اللہ تعالٰی قیامت والے دن ایک ہی میدان میں جمع فرما دے گا۔(29)
وَما أَصٰبَكُم مِن مُصيبَةٍ فَبِما كَسَبَت أَيديكُم وَيَعفوا عَن كَثيرٍ(30)
٣٠۔١ بعض گناہوں کا کفارہ تو وہ مصائب بن جاتے ہیں، جو تمہیں گناہوں کی پاداش میں پہنچتے ہیں اور کچھ گناہ وہ ہیں جو اللہ تعالٰی یوں ہی معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کی ذات بڑی کریم ہے، معاف کرنے کے بعد آخرت میں اس پر مؤاخذہ نہیں فرمائے گا۔(30)
وَما أَنتُم بِمُعجِزينَ فِى الأَرضِ ۖ وَما لَكُم مِن دونِ اللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلا نَصيرٍ(31)
٣١۔١ یعنی تم بھاگ کر کسی ایسی جگہ نہیں جاسکتے کہ جہاں تم ہماری گرفت میں نہ آسکو یا جو مصیبت ہم تم پر نازل کرنا چاہیں، اس سے تم بچ جاؤ۔(31)
وَمِن ءايٰتِهِ الجَوارِ فِى البَحرِ كَالأَعلٰمِ(32)
٣٢۔١ سمندروں میں پہاڑوں جیسی کشتیاں اور جہاز اس کے حکم سے چلتے ہیں، ورنہ اگر وہ حکم دے تو سمندروں میں ہی کھڑے رہیں۔(32)
إِن يَشَأ يُسكِنِ الرّيحَ فَيَظلَلنَ رَواكِدَ عَلىٰ ظَهرِهِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِكُلِّ صَبّارٍ شَكورٍ(33)
(33)
أَو يوبِقهُنَّ بِما كَسَبوا وَيَعفُ عَن كَثيرٍ(34)
٣٤۔١ یعنی سمندر کو حکم دے اور اس کی موجوں میں طغیانی آجائے اور یہ ان میں ڈوب جائیں۔ ٣٤۔٢ ورنہ سمندر میں سفر کرنے والا کوئی بھی سلامتی کے ساتھ واپس نہ آسکے۔(34)
وَيَعلَمَ الَّذينَ يُجٰدِلونَ فى ءايٰتِنا ما لَهُم مِن مَحيصٍ(35)
٣٥۔١ یعنی اللہ کے عذاب سے وہ کہیں بھاگ کر چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔(35)
فَما أوتيتُم مِن شَيءٍ فَمَتٰعُ الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَما عِندَ اللَّهِ خَيرٌ وَأَبقىٰ لِلَّذينَ ءامَنوا وَعَلىٰ رَبِّهِم يَتَوَكَّلونَ(36)
٣٦۔١ یعنی معمولی اور حقیر ہے، چاہے قارون کا خزانہ ہی کیوں نہ ہو، اس لئے اس سے دھوکے میں مبتلا نہ ہونا کہ یہ عارضی اور فانی ہے۔ ٣٦۔٢ یعنی نیکیوں کا جو اجر و ثواب اللہ کے ہاں ملے گا وہ متاع دنیا سے کہیں بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی، کیوں کہ اس کو زوال اور فنا نہیں، مطلب ہے دنیا کو آخرت پر ترجیح مت دو، ایسا کرو گے تو پچھتاؤ گے۔(36)
وَالَّذينَ يَجتَنِبونَ كَبٰئِرَ الإِثمِ وَالفَوٰحِشَ وَإِذا ما غَضِبوا هُم يَغفِرونَ(37)
٣٧۔١ یعنی لوگوں سے عفو و درگزر کرنا ان کے مزاج و طبیعت کا حصہ ہے نہ کہ انتقام اور بدلہ لینا جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے ' نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے کبھی بدلہ نہیں لیا، ہاں اللہ تعالٰی کی حرمتوں کا توڑا جانا آپ کے لئے ناقابل برداشت تھا۔(37)
وَالَّذينَ استَجابوا لِرَبِّهِم وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ وَأَمرُهُم شورىٰ بَينَهُم وَمِمّا رَزَقنٰهُم يُنفِقونَ(38)
٣٨۔١ یعنی اس کے حکم کی اطاعت، اس کے رسول کا اتباع اور اسکے حکم کو نہ ماننے سے پرہیز کرتے ہیں ٣٨۔٢ نماز کی پابندی اور اقامت کا بطور خاص ذکر کیا کہ عبادت میں اس کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔(38)
وَالَّذينَ إِذا أَصابَهُمُ البَغىُ هُم يَنتَصِرونَ(39)
(39)
وَجَزٰؤُا۟ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثلُها ۖ فَمَن عَفا وَأَصلَحَ فَأَجرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظّٰلِمينَ(40)
٤٠۔١ یہ (قصاص(بدلہ لینے) کی اجازت ہے۔ برائی کا بدلہ اگرچہ برائی نہیں ہے لیکن مشکلات کی وجہ سے اسے بھی برائی ہی کہا گیا ہے۔(40)
وَلَمَنِ انتَصَرَ بَعدَ ظُلمِهِ فَأُولٰئِكَ ما عَلَيهِم مِن سَبيلٍ(41)
(41)
إِنَّمَا السَّبيلُ عَلَى الَّذينَ يَظلِمونَ النّاسَ وَيَبغونَ فِى الأَرضِ بِغَيرِ الحَقِّ ۚ أُولٰئِكَ لَهُم عَذابٌ أَليمٌ(42)
(42)
وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذٰلِكَ لَمِن عَزمِ الأُمورِ(43)
(43)
وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن وَلِىٍّ مِن بَعدِهِ ۗ وَتَرَى الظّٰلِمينَ لَمّا رَأَوُا العَذابَ يَقولونَ هَل إِلىٰ مَرَدٍّ مِن سَبيلٍ(44)
(44)
وَتَرىٰهُم يُعرَضونَ عَلَيها خٰشِعينَ مِنَ الذُّلِّ يَنظُرونَ مِن طَرفٍ خَفِىٍّ ۗ وَقالَ الَّذينَ ءامَنوا إِنَّ الخٰسِرينَ الَّذينَ خَسِروا أَنفُسَهُم وَأَهليهِم يَومَ القِيٰمَةِ ۗ أَلا إِنَّ الظّٰلِمينَ فى عَذابٍ مُقيمٍ(45)
٤٥۔١ یعنی دنیا میں یہ کافر ہمیں بیوقوف اور دنیاوی خسارے کا حامل سمجھتے تھے، جب کہ ہم دنیا میں صرف آخرت کو ترجیح دیتے تھے اور دنیا کے خساروں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ آج دیکھ لو حقیقی خسارے سے کون دو چار ہے۔ وہ جنہوں نے دنیا کے عارضی خسارے کو نظر انداز کیے رکھا اور آج جنت کے مزے لوٹ رہے ہیں یا وہ جنہوں نے دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا تھا اور آج ایسے عذاب میں گرفتار ہیں جس سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں۔(45)
وَما كانَ لَهُم مِن أَولِياءَ يَنصُرونَهُم مِن دونِ اللَّهِ ۗ وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن سَبيلٍ(46)
(46)
استَجيبوا لِرَبِّكُم مِن قَبلِ أَن يَأتِىَ يَومٌ لا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ ۚ ما لَكُم مِن مَلجَإٍ يَومَئِذٍ وَما لَكُم مِن نَكيرٍ(47)
٤٧۔١ یعنی جس کو روکنے اور ٹالنے کی کوئی طاقت نہیں رکھے گا۔ ٤٧۔٢ یعنی تمہارے لئے کوئی ایسی جگہ نہیں ہوگی، کہ جس میں تم چھپ کر انجان بن جاؤ اور پہنچانے نہ جاسکو یا نظر میں نہ آسکو جیسے فرمایا ' اس دن انسان کہے گا، کہیں بھاگنے کی جگہ ہے، ہرگز نہیں، کوئی راہ فرار نہیں ہوگی، اس دن تیرے رب کے پاس ہی ٹھکانا ہوگا ۔(47)
فَإِن أَعرَضوا فَما أَرسَلنٰكَ عَلَيهِم حَفيظًا ۖ إِن عَلَيكَ إِلَّا البَلٰغُ ۗ وَإِنّا إِذا أَذَقنَا الإِنسٰنَ مِنّا رَحمَةً فَرِحَ بِها ۖ وَإِن تُصِبهُم سَيِّئَةٌ بِما قَدَّمَت أَيديهِم فَإِنَّ الإِنسٰنَ كَفورٌ(48)
٤٨۔١ یعنی وسائل رزق کی فروانی، صحت و عافیت، اولاد کی کثرت، جاہ و منصب وغیرہ۔ ٤٨۔٢ یعنی تکبر اور غرور کا اظہار کرتا ہے، ورنہ اللہ کی نعمتوں پر خوش ہونا یا اس کا اظہار ہونا، ناپسندیدہ امر نہیں، لیکن وہ تحدیث نعمت اور شکر کے طور پر نہ کہ فخر و ریا اور تکبر کے طور پر۔ ٤٨۔٣ مال کی کمی، بیماری، اولاد سے محرومی وغیرہ۔(48)
لِلَّهِ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ يَخلُقُ ما يَشاءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشاءُ إِنٰثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشاءُ الذُّكورَ(49)
(49)
أَو يُزَوِّجُهُم ذُكرانًا وَإِنٰثًا ۖ وَيَجعَلُ مَن يَشاءُ عَقيمًا ۚ إِنَّهُ عَليمٌ قَديرٌ(50)
(50)
۞ وَما كانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلّا وَحيًا أَو مِن وَرائِ حِجابٍ أَو يُرسِلَ رَسولًا فَيوحِىَ بِإِذنِهِ ما يَشاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِىٌّ حَكيمٌ(51)
٥١۔١ اس آیت میں وحی الٰہی کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں پہلی یہ کہ دل میں کسی بات کا ڈال دینا یا خواب میں بتلا دینا اور یقین کے ساتھ کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ دوسری، پردے کے پیچھے سے کلام کرنا، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کوہ طور پر کیا گیا، تیسری، فرشتے کے ذریعے اپنی وحی بھیجنا، جیسے جبرائیل علیہ السلام اللہ کا پیغام لے کر آتے اور پیغمبروں کو سناتے رہے۔(51)
وَكَذٰلِكَ أَوحَينا إِلَيكَ روحًا مِن أَمرِنا ۚ ما كُنتَ تَدرى مَا الكِتٰبُ وَلَا الإيمٰنُ وَلٰكِن جَعَلنٰهُ نورًا نَهدى بِهِ مَن نَشاءُ مِن عِبادِنا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهدى إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(52)
٥٢۔١ روح سے مراد ْقرآن ہے۔ یعنی جس طرح آپ سے پہلے اور رسولوں پر ہم وحی کرتے رہے، اسطرح ہم نے آپ پر قرآن کی وحی کی ہے قرآن کو روح اس لئے تعبیر کیا ہے کہ قرآن سے دلوں کو زندگی حاصل ہوتی ہے جیسے روح میں انسانی زندگی کا راز مضمر ہے۔ ٥٢۔٢ کتاب سے مراد قرآن ہے، یعنی نبوت پہلے قرآن کا بھی کوئی علم آپ کو نہیں تھا اور اسی طرح ایمان کی ان تفصیلات سے بھی بے خبر تھے جو شریعت میں مطلوب ہیں۔(52)
صِرٰطِ اللَّهِ الَّذى لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ أَلا إِلَى اللَّهِ تَصيرُ الأُمورُ(53)
٥٣۔١ یہ صراط مستقیم، اسلام ہے۔ اس کی اضافت اللہ نے اپنی طرف فرمائی ہے جس سے اس راستے کی عظمت و شان واضح ہوتی ہے اور اس کے واحد راہ نجات ہونے کی طرف اشارہ بھی۔ ٥٣۔٢ یعنی قیامت والے دن تمام معاملات کا فیصلہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہوگا، اس میں سخت وعید ہے۔(53)