As-Saffat( الصافات)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ وَالصّٰفّٰتِ صَفًّا(1)
(1)
فَالزّٰجِرٰتِ زَجرًا(2)
(2)
فَالتّٰلِيٰتِ ذِكرًا(3)
(3)
إِنَّ إِلٰهَكُم لَوٰحِدٌ(4)
٤۔١ فرشتوں کی صفات ہیں۔ آسمانوں پر اللہ کی عبادت کے لئے صف باندھنے والے، یا اللہ کے حکم کے انتظار میں صف بستہ، وعظ و نصیحت کے ذریعے سے لوگوں کو ڈانٹنے والے یا بادلوں کو جہاں اللہ کا حکم ہو وہاں ہانک کر لے جانے والے اللہ کے ذکر یا قرآن کی تلاوت کرنے والے۔ ان فرشتوں کی قسم کھا کر اللہ تعالٰی نے مضموں میں یہ فرمایا ہے کہ تمام انسانوں کا معبود ایک ہی ہے۔ متعدد نہیں جیسا کہ مشرکین بنائے ہوئے ہیں۔ عرف عام میں قسم تاکید اور شک دور کرنے کے لئے کھائی جاتی ہے، اللہ تعالٰی نے یہاں قسم اسی شک کو دور کرنے کے لئے کھائی ہے جو مشرکین اسکی واحدنیت و الوہیت کے بارے میں پھلاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہرچیز کی مخلوق اور مملوک ہے، اس لئے وہ جس چیز کو بھی گواہ بنا کر اس کی قسم کھائے، اس کے لئے جائز ہے۔ لیکن انسانوں کے لئے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھانا بالکل ناجائز اور حرام ہے۔ کیونکہ قسم میں جس کی قسم کھائی جاتی ہے، اسے گواہ بنانا مقصود ہوتا ہے۔ اور گواہ اللہ کے سوا کوئی نہیں بن سکتا، کہ عالم الغیب صرف وہی ہے، اس کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔(4)
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُما وَرَبُّ المَشٰرِقِ(5)
(5)
إِنّا زَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنيا بِزينَةٍ الكَواكِبِ(6)
(6)
وَحِفظًا مِن كُلِّ شَيطٰنٍ مارِدٍ(7)
٧۔١ یعنی آسمان دنیا پر، زینت کے علاوہ، ستاروں کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ سرکش شیاطین سے حفاظت ہو۔ چنانچہ شیطان آسمان پر کوئی بات سننے کے لئے جاتے ہیں تو ستارے ان پر ٹوٹ گرتے ہیں جس سے بالعموم شیطان جل جاتے ہیں۔ جیسا کہ اگلی آیات اور احادیث سے واضح ہے۔ ستاروں کا ایک تیسرا مقصد رات کی تاریکیوں میں رہنمائی بھی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں دوسرے مقام پر بیان فرمایا گیا ہے۔ ان مقاصد سہ گانہ کے علاوہ ستاروں کا اور کوئی مقصد بیان نہیں کیا گیا ہے۔(7)
لا يَسَّمَّعونَ إِلَى المَلَإِ الأَعلىٰ وَيُقذَفونَ مِن كُلِّ جانِبٍ(8)
(8)
دُحورًا ۖ وَلَهُم عَذابٌ واصِبٌ(9)
(9)
إِلّا مَن خَطِفَ الخَطفَةَ فَأَتبَعَهُ شِهابٌ ثاقِبٌ(10)
(10)
فَاستَفتِهِم أَهُم أَشَدُّ خَلقًا أَم مَن خَلَقنا ۚ إِنّا خَلَقنٰهُم مِن طينٍ لازِبٍ(11)
١١۔١ یعنی ہم نے جو زمین ملائکہ اور آسمان جیسی چیزیں بنائی ہیں جو اپنے حجم اور وسعت کے لحاظ سے نہایت انوکھی ہیں۔ کیا ان لوگوں کی پیدائش اور دوبارہ زندہ کرنا، ان چیزوں کی تخلیق سے زیادہ سخت اور مشکل ہے؟ یقینا نہیں۔ ١١۔٢ یعنی ان کے باپ آدم علیہ السلام کو تو ہم نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ انسان آخرت کی زندگی کو اتنا بعید کیوں سمجھتے ہیں درآں حالیکہ ان کی پیدائش ایک نہایت ہی حقیر اور کمزور چیز سے ہوئی ہے۔ جبکہ خلقت میں ان سے زیادہ قوی، عظیم اور کامل و اتم چیزوں کی پیدائش کا ان کو انکار نہیں۔ (فتح القدیر)(11)
بَل عَجِبتَ وَيَسخَرونَ(12)
١٢۔١ یعنی آپ کو تو منکرین آخرت کے انکار پر تعجب ہو رہا ہے کہ اس کے امکان بلکہ وضاحت کے اتنے واضح دلائل کے باوجود وہ اسے مان کر نہیں دے رہے اور وہ آپ کے دعوائے قیامت کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ یہ کیوں کر ممکن ہے؟(12)
وَإِذا ذُكِّروا لا يَذكُرونَ(13)
(13)
وَإِذا رَأَوا ءايَةً يَستَسخِرونَ(14)
(14)
وَقالوا إِن هٰذا إِلّا سِحرٌ مُبينٌ(15)
١٥۔١ یعنی یہ ان کا شیوہ ہے کہ نصیحت قبول نہیں کرتے اور کوئی واضح دلیل یا معجزہ پیش کیا جائے تو مذاق کرتے اور انہیں جادو باور کراتے ہیں۔(15)
أَءِذا مِتنا وَكُنّا تُرابًا وَعِظٰمًا أَءِنّا لَمَبعوثونَ(16)
(16)
أَوَءاباؤُنَا الأَوَّلونَ(17)
(17)
قُل نَعَم وَأَنتُم دٰخِرونَ(18)
١٨۔١ جس طرح دوسرے مقام پر بھی فرمایا (وَ کُلّ اَتَوْہُ دٰخِرِیْنَ) (النمل۔٨٧) 'سب اس کی بارگاہ میں ذلیل ہو کر آئیں گے(18)
فَإِنَّما هِىَ زَجرَةٌ وٰحِدَةٌ فَإِذا هُم يَنظُرونَ(19)
١٩۔١ یعنی وہ اللہ کے ایک ہی حکم اور اسرافیل علیہ السلام کی ایک ہی پھونک (نفخہ ثانیہ) سے قبروں سے زندہ ہو کر نکل کھڑے ہونگے۔ ١٩۔٢ یعنی ان کے سامنے قیامت کے ہولناک مناظر اور میدان محشر کی سختیاں ہوں گی جنہیں وہ دیکھیں گے، نفخے یا چیخ کو زجرہ (ڈانٹ) سے تعبیر کیا، کیوں کہ اس سے مقصود ڈانٹ ہی ہے(19)
وَقالوا يٰوَيلَنا هٰذا يَومُ الدّينِ(20)
(20)
هٰذا يَومُ الفَصلِ الَّذى كُنتُم بِهِ تُكَذِّبونَ(21)
٢١۔١ فرشتے اور اہل ایمان کہیں گے کہ یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم مانتے نہیں تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو کہیں گے۔(21)
۞ احشُرُوا الَّذينَ ظَلَموا وَأَزوٰجَهُم وَما كانوا يَعبُدونَ(22)
٢٢۔١ یعنی جنہوں نے کفر و شرک اور معاصی کا ارتکاب کیا۔ یہ اللہ کی طرف سے حکم ہوگا۔ ٢٢۔٢ اس سے مراد کفر و شرک اور تکذیب رسل کے ساتھ یا بعض کے نزدیک جنات و شیاطین ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ وہ بیویاں ہیں جو کفر و شرک میں ان کی ہمنوا تھیں۔ ٢٢۔٣ وہ مورتیاں ہوں یا اللہ کے نیک بندے، سب کو ان کی تذلیل کے لئے جمع کیا جائیے گا۔ تاہم نیک لوگوں کو اللہ جہنم سے دور ہی رکھے گا، اور دوسرے معبودوں کو ان کے ساتھ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ تاہم وہ دیکھ لیں کہ یہ کسی کو نقصان پہنچانے پر قادر نہیں ہیں۔(22)
مِن دونِ اللَّهِ فَاهدوهُم إِلىٰ صِرٰطِ الجَحيمِ(23)
(23)
وَقِفوهُم ۖ إِنَّهُم مَسـٔولونَ(24)
٢٤۔١ یہ حکم جہنم میں لے جانے سے قبل ہوگا، کیونکہ حساب کے بعد ہی جہنم میں جائیں گے۔(24)
ما لَكُم لا تَناصَرونَ(25)
(25)
بَل هُمُ اليَومَ مُستَسلِمونَ(26)
(26)
وَأَقبَلَ بَعضُهُم عَلىٰ بَعضٍ يَتَساءَلونَ(27)
(27)
قالوا إِنَّكُم كُنتُم تَأتونَنا عَنِ اليَمينِ(28)
٢٨۔١ اس کا مطلب ہے کہ دین اور حق کے نام سے آتے تھے یعنی باور کراتے تھے کہ یہی اصل دین اور حق ہے اور بعض کے نزدیک مطلب ہے، ہر طرف سے آتے تھے جس طرح شیطان نے کہا میں ان کے آگے، پیچھے سے، ان کے دائیں بائیں سے ہر طرف سے ان کے پاس آؤں گا اور انہیں گمراہ کروں گا (الا عراف۔١٧)(28)
قالوا بَل لَم تَكونوا مُؤمِنينَ(29)
٢٩۔١ لیڈر کہیں گے کہ ایمان تم اپنی مرضی سے نہیں لائے اور آج ذمہ دار ہمیں ٹھہرا رہے ہو؟(29)
وَما كانَ لَنا عَلَيكُم مِن سُلطٰنٍ ۖ بَل كُنتُم قَومًا طٰغينَ(30)
٣٠۔١ تابعین اور متبوعین کی یہ باہمی تکرار قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کی گئی ہے۔ ان کی ایک دوسرے کو یہ ملامت عرصہ قیامت (میدان محشر) میں ہوگی اور جہنم میں جانے کے بعد جہنم کے اندر بھی ملاحظہ ہو(30)
فَحَقَّ عَلَينا قَولُ رَبِّنا ۖ إِنّا لَذائِقونَ(31)
(31)
فَأَغوَينٰكُم إِنّا كُنّا غٰوينَ(32)
٣٢۔١ یعنی جس بات کی پہلے انہیں نفی کی، کہ ہمارا تم پر کونسا زور تھا کہ تمہیں گمراہ کرتے۔ اب اس کا یہاں اعتراف ہے کہ ہاں واقعی ہم نے تمہیں گمراہ کیا تھا۔ لیکن یہ اعتراف اس تنبیہ کے ساتھ کیا کہ ہمیں اس ضمن میں مورد طعن مت بناؤ، اس لئے کہ ہم خود بھی گمراہ ہی تھے، ہم نے تمہیں بھی اپنے جیسا ہی بنانا چاہا اور تم نے آسانی سے ہماری راہ اپنا لی۔ جس طرح شیطان بھی اس روز کہے گا(32)
فَإِنَّهُم يَومَئِذٍ فِى العَذابِ مُشتَرِكونَ(33)
٣٣۔١ اس لئے کہ ان کا جرم بھی مشترکہ ہے مشرک اور شر و فساد ان سب کا وطیرہ تھا۔(33)
إِنّا كَذٰلِكَ نَفعَلُ بِالمُجرِمينَ(34)
٣٤۔١ یعنی ہر قسم کے گناہ گاروں کے ساتھ ہمارا یہی معاملہ ہے اور اب وہ سب ہمارا عذاب بھگتیں گے(34)
إِنَّهُم كانوا إِذا قيلَ لَهُم لا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَستَكبِرونَ(35)
٣٥۔١ یعنی دنیا میں ان سے کہا جاتا تھا کہ جس طرح مسلمانوں نے یہ کلمہ پڑھ کر شرک سے توبہ کرلی ہے، تم بھی یہ پڑھ لو، تاکہ تم دنیا میں بھی مسلمانوں کے قہر و غضب سے بچ جاؤ اور آخرت میں بھی عذاب الٰہی سے تمہیں دو چار نہ ہونا پڑے، تو تکبر کرتے اور انکار کرتے۔(35)
وَيَقولونَ أَئِنّا لَتارِكوا ءالِهَتِنا لِشاعِرٍ مَجنونٍ(36)
٣٦۔١ یعنی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر اور مجنون کہا اور آپ کی دعوت کو جنون (دیوانگی) اور قرآن کو شعر سے تعبیر کیا اور کہا کہ ایک دیوانے کی دیوانگی پر ہم اپنے معبودوں کو کیوں چھوڑیں؟ حالانکہ یہ دیوانگی نہیں، دانائی تھی، شاعری نہیں، حقیقت تھی اور اس دعوت کو اپنانے میں ان کی ہلاکت نہیں، نجات تھی۔(36)
بَل جاءَ بِالحَقِّ وَصَدَّقَ المُرسَلينَ(37)
٣٧۔١ یعنی تم ہمارے پیغمبر کو شاعر اور مجنون کہتے ہو، جب کہ واقع یہ ہے وہ جو کچھ لایا اور پیش کر رہا ہے وہ سچ ہے اور وہی چیز ہے جو اس سے قبل تمام انبیاء پیش کرتے رہے ہیں۔ کیا یہ کام کسی دیوانے کا یا شاعر کے تخیلات کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔(37)
إِنَّكُم لَذائِقُوا العَذابِ الأَليمِ(38)
(38)
وَما تُجزَونَ إِلّا ما كُنتُم تَعمَلونَ(39)
٣٩۔١ یہ جہنمیوں کو اس وقت کہا جائے گا جب وہ کھڑے ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہونگے اور ساتھ ہی وضاحت کر دی جائے گی کہ یہ ظلم نہیں ہے بلکہ عین عدل ہے کیونکہ یہ سب تمہارے اپنے عملوں کا بدلہ ہے۔(39)
إِلّا عِبادَ اللَّهِ المُخلَصينَ(40)
٤٠۔١ یعنی عذاب سے محفوظ ہونگیں، ان کی کوتاہیوں سے بھی درگزر کر دیا جائے گا، اگر کچھ ہونگی اور ایک ایک نیکی کا اجر کئی کئی گنا دیا جائے گا۔(40)
أُولٰئِكَ لَهُم رِزقٌ مَعلومٌ(41)
(41)
فَوٰكِهُ ۖ وَهُم مُكرَمونَ(42)
(42)
فى جَنّٰتِ النَّعيمِ(43)
(43)
عَلىٰ سُرُرٍ مُتَقٰبِلينَ(44)
(44)
يُطافُ عَلَيهِم بِكَأسٍ مِن مَعينٍ(45)
٤٥۔١ کَاْسً شراب کے بھرے ہوئے جام کو اور قدح خالی جام کو کہتے ہیں مَعِیْن کے معنی ہیں، جاری چشمہ۔ مطلب یہ ہے کہ جاری چشمے کی طرح، جنت میں شراب ہر وقت میسر ہوگی۔(45)
بَيضاءَ لَذَّةٍ لِلشّٰرِبينَ(46)
٤٦۔١ دنیا میں شراب عام طور پر بدرنگ ہوتی ہے، جنت میں وہ جیسے لذیذ ہوگی خوش رنگ بھی ہوگی۔(46)
لا فيها غَولٌ وَلا هُم عَنها يُنزَفونَ(47)
(47)
وَعِندَهُم قٰصِرٰتُ الطَّرفِ عينٌ(48)
٤٨۔١ بڑی اور موٹی آنکھیں حسن کی علامت ہے یعنی حسین آنکھیں ہونگی۔(48)
كَأَنَّهُنَّ بَيضٌ مَكنونٌ(49)
٤٩۔١ یعنی شتر مرغ اپنے پروں کے نیچے چھپائے ہوئے ہوں، جس کی وجہ سے وہ ہوا اور گردو غبار سے محفوظ ہوں گے۔(49)
فَأَقبَلَ بَعضُهُم عَلىٰ بَعضٍ يَتَساءَلونَ(50)
٥٠۔١ جنتی، جنت میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہوئے دنیا کے واقعات یاد کریں گے اور ایک دوسرے کو سنائیں گے۔(50)
قالَ قائِلٌ مِنهُم إِنّى كانَ لى قَرينٌ(51)
(51)
يَقولُ أَءِنَّكَ لَمِنَ المُصَدِّقينَ(52)
٥٢۔١ یعنی یہ بات وہ مذاق کے طور پر کہا کرتا تھا، مقصد اس کا یہ تھا یہ تو نہ ممکن ہے کیا ایسی ناممکن الواقع بات پر تو یقین رکھتا ہے؟(52)
أَءِذا مِتنا وَكُنّا تُرابًا وَعِظٰمًا أَءِنّا لَمَدينونَ(53)
٥٣۔١ یعنی ہمیں زندہ کرکے ہمارا حساب لیا جائے گا اور پھر اس کے مطابق جزا دی جائے گی؟(53)
قالَ هَل أَنتُم مُطَّلِعونَ(54)
٥٤۔١ یعنی وہ جنتی اپنے جنت سے ساتھیوں سے کہے گا کیا تم پسند کرتے ہو کہ ذرا جہنم میں جھانک کر دیکھیں، شاید مجھے یہ باتیں کہنے والا وہاں نظر آجائے تو تمہیں بتلاؤں کہ یہ شخص تھا جو باتیں کرتا تھا۔(54)
فَاطَّلَعَ فَرَءاهُ فى سَواءِ الجَحيمِ(55)
(55)
قالَ تَاللَّهِ إِن كِدتَ لَتُردينِ(56)
(56)
وَلَولا نِعمَةُ رَبّى لَكُنتُ مِنَ المُحضَرينَ(57)
٥٧۔١ یعنی جھانکنے پر اسے جہنم کے وسط میں وہ شخص نظر آجائے گا اور اسے یہ جنتی کہے گا کہ مجھے بھی تو گمراہ کر کے ہلاکت میں ڈالنے لگا تھا، یہ تو مجھ پر اللہ کا احسان ہوا، ورنہ آج میں تیرے ساتھ جہنم میں ہوتا۔(57)
أَفَما نَحنُ بِمَيِّتينَ(58)
٥٨۔١ جہنمیوں کا حشر دیکھ کر جنتی کے دل میں رشک کا جذبہ مذید بیدار ہو جائے گا اور کہے گا کہ ہمیں جو جنت کی زندگی اور اس کی نعمتیں ملی ہیں کیا یہ دائمی نہیں؟ اب ہمیں موت آنے والی نہیں؟ جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور جہنمی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، نہ انہیں موت آئے گی کہ جہنم کے عذاب سے چھوٹ جائیں، اور نہ ہمیں کہ جنت کی نعمتوں سے محروم ہوجائیں۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں دوزخ اور جنت کے درمیان لا کر ذبح کر دیا جائے گا کہ اب موت کسی کو نہیں آئے گی۔(58)
إِلّا مَوتَتَنَا الأولىٰ وَما نَحنُ بِمُعَذَّبينَ(59)
٥٩۔١ جو دنیا میں آچکی۔ اب ہمارے لئے موت ہے نہ عذاب۔(59)
إِنَّ هٰذا لَهُوَ الفَوزُ العَظيمُ(60)
٦٠۔١ اس لئے کہ جہنم سے بچ جانے اور جنت کی نعمتوں کا مستحق قرار پا جانے سے بڑھ کر اور کیا کامیابی ہوگی۔(60)
لِمِثلِ هٰذا فَليَعمَلِ العٰمِلونَ(61)
٦١۔١ یعنی اس جیسی نعمت اور اس جیسے فضل عظیم ہی کے لئے محنت کرنے والوں کو محنت کرنی چاہئے، اس لئے کہ یہی سب نفع بخش تجارت ہے۔ نہ کہ دنیا کے لئے جو عارضی ہے، اور خسارے کا سودا ہے۔(61)
أَذٰلِكَ خَيرٌ نُزُلًا أَم شَجَرَةُ الزَّقّومِ(62)
٦٢۔١ زَ قوْم تَزَقْم سے نکلا ہے، جس کے معنی بدبودار اور کریہ چیز کے نکلنے کے ہیں۔ اس درخت کا پھل بھی کھانا اہل جہنم کے کے لئے سخت ناگوار ہوگا۔(62)
إِنّا جَعَلنٰها فِتنَةً لِلظّٰلِمينَ(63)
٦٣۔١ آزمائش اس لئے کہ اس کا پھل کھانا بجائے خود ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ بعض نے اسے اس اعتبار سے آزمائش کہا کہ اس کے وجود کا انہوں نے انکار کیا کہ جہنم میں جب ہر طرف آگ ہی آگ ہوگی تو وہاں درخت کس طرح موجود رہ سکتا ہے؟ یہاں ظالمین سے مراد اہل جہنم ہیں جن پر جہنم واجب ہوگی۔(63)
إِنَّها شَجَرَةٌ تَخرُجُ فى أَصلِ الجَحيمِ(64)
٦٤۔١ یعنی اس کی جڑ جہنم کی گہرائی میں ہوگی البتہ اس کی شاخیں ہر طرف پھیلی ہوں گی۔(64)
طَلعُها كَأَنَّهُ رُءوسُ الشَّيٰطينِ(65)
٦٥۔١ اسے قباحت میں شیطانوں کے سروں سے تشبیہ دی، جس طرح اچھی چیز کے بارے میں کہتے ہیں گویا کہ وہ فرشتہ ہے۔(65)
فَإِنَّهُم لَءاكِلونَ مِنها فَمالِـٔونَ مِنهَا البُطونَ(66)
٦٦۔١ یہ انہیں نہایت کراہت سے کھانا پڑے گا جس سے ظاہر بات ہے پیٹ بوجھل ہی ہونگے۔(66)
ثُمَّ إِنَّ لَهُم عَلَيها لَشَوبًا مِن حَميمٍ(67)
٦٧۔١ یعنی کھانے کے بعد انہیں پانی کی طلب ہوگی تو کھولتا ہوا پانی انہیں دیا جائے گا، جس کے پینے سے ان کی انتڑیاں کٹ جائیں گی (سورہ محمد۔١٥)(67)
ثُمَّ إِنَّ مَرجِعَهُم لَإِلَى الجَحيمِ(68)
٦٨۔١ یعنی زقوم کے کھانے اور گرم پانی کے پینے کے بعد انہیں دوبارہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔(68)
إِنَّهُم أَلفَوا ءاباءَهُم ضالّينَ(69)
(69)
فَهُم عَلىٰ ءاثٰرِهِم يُهرَعونَ(70)
٧٠۔١ یہ جہنم کی مذکورہ سزاؤں کی علت ہے کہ اپنے باپ دادوں کی گمراہی پانے کے باوجود یہ انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے اور دلیل و حجت کے مقابلے میں تقلید کو اپنائے رکھا۔(70)
وَلَقَد ضَلَّ قَبلَهُم أَكثَرُ الأَوَّلينَ(71)
٧١۔١ یعنی یہی گمراہ نہیں ہوئے، ان سے پہلے لوگ بھی اکثر گمراہی پانے کے باوجود یہ انہی کے نقشے قدم پر چلنے والے تھے۔(71)
وَلَقَد أَرسَلنا فيهِم مُنذِرينَ(72)
٧٢۔١ یعنی ان سے پہلے لوگوں میں۔ انہوں نے حق کا پیغام پہنچایا اور عدم قبول کی صورت میں انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا، لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوا اور انہیں تباہ کر دیا گیا، جیسا کہ اگلی آیت میں ان کے عبرت ناک انجام کی طرف اشارہ فرمایا۔(72)
فَانظُر كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُنذَرينَ(73)
(73)
إِلّا عِبادَ اللَّهِ المُخلَصينَ(74)
٧٤۔١ یعنی عبرت ناک انجام سے صرف وہ محفوظ رہے جن کو اللہ نے ایمان و توحید کی توفیق سے نواز کر بچا لیا۔(74)
وَلَقَد نادىٰنا نوحٌ فَلَنِعمَ المُجيبونَ(75)
٧٥۔١ یعنی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے باوجود جب قوم کی اکثریت نے ان کو جھٹلایا تو انہوں نے محسوس کرلیا کہ ایمان لانے کی کوئی امید نہیں ہے تو اپنے رب کو پکارا (فَدَعَا رَبَّہ، اِنِّیْ مَغْلُوْب فَانْتَصِرْ) (سورہ بقرہ۔ ١٠) یا اللہ میں مغلوب ہوں میری مدد فرما، چنانچہ ہم نے نوح علیہ السلام کی دعا قبول کی اور ان کی قوم کو طوفان بھیج کر ہلاک کر دیا۔(75)
وَنَجَّينٰهُ وَأَهلَهُ مِنَ الكَربِ العَظيمِ(76)
٧٦۔١ حضرت نوح پر ایمان لانے والے، جن میں ان کے گھر کے افراد بھی ہیں جو مومن تھے بعض مفسرین نے ان کی تعداد ٨٠ بتلائی ہے۔ اس میں آپ کی بیوی اور ایک لڑکا شامل نہیں، جو مومن نہیں تھے، وہ بھی طوفان میں غرق ہوگئے۔ کرب عظیم (زبردست مصیبت) سے مراد وہی سیلاب عظیم ہے جس میں یہ قوم غرق ہوئی۔(76)
وَجَعَلنا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الباقينَ(77)
٧٧۔١ اکثر مفسرین کے قول کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹے تھے۔ عام، سام، یافث۔ انہی سے بعد کی نسل انسانی چلی۔ اسی لئے حضرت نوح علیہ السلام کو آدم ثانی کہا جاتا ہے یعنی آدم علیہ السلام کیطرح، آدم علیہ السلام کے بعد یہ دوسرے ابوالبشر ہیں۔ سام کی نسل سے عرب، فارس، روم اور یہود و نصاریٰ ہیں۔ عام کی نسل سے سوڈان (مشرق سے مغرب تک) یعنی سندھ، ہند، نوب، زنج، حبشہ، قبط اور بربر وغیرہ ہیں اور یافث کی نسل سے صقالہ، ترک، خزر اور یاجوج و ماجوج وغیرہ ہیں (فتح القدیر) واللہ اعلم(77)
وَتَرَكنا عَلَيهِ فِى الءاخِرينَ(78)
٧٨۔١ یعنی قیامت تک آنے والے اہل ایمان میں ہم نے نوح علیہ السلام کا ذکر خیر باقی چھوڑ دیا ہے اور وہ سب نوح علیہ السلام پر سلام بھیجتے ہیں اور بھیجتے رہیں گے۔(78)
سَلٰمٌ عَلىٰ نوحٍ فِى العٰلَمينَ(79)
(79)
إِنّا كَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ(80)
٨٠۔١ یعنی جس طرح نوح علیہ السلام کی دعا قبول کرکے، ان کی ذریت کو باقی رکھ کے اور پچھلوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھ کے ہم نے نوح علیہ السلام کو عزت و تکریم بخشی۔ اسی طرح جو بھی اپنے اقوال و افعال میں محسن اور اس باب میں راسخ اور معروف ہوگا، اس کے ساتھ بھی ہم ایسا معاملہ کریں گے۔(80)
إِنَّهُ مِن عِبادِنَا المُؤمِنينَ(81)
(81)
ثُمَّ أَغرَقنَا الءاخَرينَ(82)
(82)
۞ وَإِنَّ مِن شيعَتِهِ لَإِبرٰهيمَ(83)
٨٣۔١ شِیْۃً کے معنی گروہ اور پیروکار کے ہیں۔ یعنی ابراہیم علیہ السلام بھی اہل دین و اہل توحید کے اسی گروہ سے ہیں جن کو نوح علیہ السلام ہی کی طرح قائم مقام الی اللہ کی توفیق خاص نصیب ہوئی۔(83)
إِذ جاءَ رَبَّهُ بِقَلبٍ سَليمٍ(84)
(84)
إِذ قالَ لِأَبيهِ وَقَومِهِ ماذا تَعبُدونَ(85)
(85)
أَئِفكًا ءالِهَةً دونَ اللَّهِ تُريدونَ(86)
٨٦۔١ یعنی اپنی طرف سے گھڑ کے کہ یہ معبود ہیں، تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو، درآں حالیکہ یہ پتھر اور مورتیاں ہیں۔(86)
فَما ظَنُّكُم بِرَبِّ العٰلَمينَ(87)
٨٧۔١ یعنی اتنی قبیح حرکت کرنے کے باوجود کیا تم پر ناراض نہیں ہوگا اور تمہیں سزا نہیں دے گا۔(87)
فَنَظَرَ نَظرَةً فِى النُّجومِ(88)
(88)
فَقالَ إِنّى سَقيمٌ(89)
٨٩۔١ آسمان پر غور و فکر کے لئے دیکھا جیسا کہ بعض لوگ ایسا کرتے ہیں۔ یا اپنی ہی قوم کے لوگوں کو مغالطے میں ڈالنے کے لئے ایسا کیا، جو کہ ستاروں کی گردش کو حوادث زمانہ میں مؤثر مانتے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ جب ان کی قوم کا وہ دن آیا، جسے وہ باہر جا کر بطور عید اور قومی تہوار منایا کرتی تھی۔ قوم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ لیکن ابراہیم علیہ السلام تنہائی اور موقعے کی تلاش میں تھے، تاکہ ان کے بتوں کا تیاپانچہ (یعنی توڑ پھوڑ دیا جاسکے)۔ چنانچہ انہوں نے یہ موقع غنیمت جانا کہ کل ساری قوم باہر میلے میں چلی جائیگی تو میں اپنا منصوبہ بروئے کار لےآؤں گا۔ اور کہہ دیا کہ میں بیمار ہوں یا آسمانوں کی گردش بتاتی ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں۔ یہ بات بالکل جھوٹی نہیں تھی، ہر انسان کچھ نہ کچھ بیمار ہوتا ہی ہے، علاوہ ازیں قوم کا شرک ابراہیم علیہ السلام کے دل کا ایک مستقل روگ تھا جسے دیکھ وہ کڑتے رہتے تھے، جیسا کہ اس کی ضروری تفصیل سورہ انبیاء۔ ٦٣ میں گزر چکی ہے۔(89)
فَتَوَلَّوا عَنهُ مُدبِرينَ(90)
(90)
فَراغَ إِلىٰ ءالِهَتِهِم فَقالَ أَلا تَأكُلونَ(91)
٩١۔١ یعنی جو حلویات بطور تبرک وہاں پڑی ہوئی تھیں، وہ انہیں کھانے کے لئے پیش کیں، جو ظاہر بات ہے انہیں نہ کھانی تھیں نہ کھائیں بلکہ وہ جواب دینے پر بھی قادر نہ تھے، اس لئے جواب بھی نہیں دیا۔(91)
ما لَكُم لا تَنطِقونَ(92)
(92)
فَراغَ عَلَيهِم ضَربًا بِاليَمينِ(93)
٩٣۔١ مطلب یہ ہے کہ ان کو زور سے مار مار کر توڑ ڈالا۔(93)
فَأَقبَلوا إِلَيهِ يَزِفّونَ(94)
٩٤۔١ یعنی جب میلے سے آئے تو دیکھا کہ ان کے معبود ٹوٹے پھوٹے پڑے ہیں تو فوراً ان کا ذہن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف گیا، کہ یہ کام اسی نے کیا ہوگا، جیسا کہ سورہ انبیاء میں تفصیل گزر چکی ہے چنانچہ انہیں پکڑ کر عوام کی عدالت میں لے آئے۔ وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس بات کا موقع مل گیا کہ وہ ان پر ان کی بے عقلی اور ان کے معبودوں کی بے اختیاری واضح کریں۔(94)
قالَ أَتَعبُدونَ ما تَنحِتونَ(95)
(95)
وَاللَّهُ خَلَقَكُم وَما تَعمَلونَ(96)
٩٦۔١ یعنی وہ مورتیاں اور تصویریں بھی جنہیں تم اپنے ہاتھوں سے بناتے اور انہیں معبود سمجھتے ہو، یا مطلق تمہارا عمل جو بھی تم کرتے ہو، ان کا خالق بھی اللہ ہے۔ اس سے واضح ہے کہ بندوں کے افعال کا خالق اللہ ہی ہے، جیسے اہل سنت کا عقیدہ ہے۔(96)
قالُوا ابنوا لَهُ بُنيٰنًا فَأَلقوهُ فِى الجَحيمِ(97)
(97)
فَأَرادوا بِهِ كَيدًا فَجَعَلنٰهُمُ الأَسفَلينَ(98)
٩٨۔١ یعنی آگ کو گلزار بنا کر ان کے مکر و حیلے کو ناکام بنا دیا، پس پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندوں کی چارہ سازی فرماتا ہے اور آزمائش کو عطا میں اور شر کو خیر میں بدل دیتا ہے۔(98)
وَقالَ إِنّى ذاهِبٌ إِلىٰ رَبّى سَيَهدينِ(99)
٩٩۔١ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ واقعہ بابل (عراق) میں پیش آیا، بالآخر یہاں سے ہجرت کی اور شام چلے گئے اور وہاں جا کر اولاد کے لئے دعا کی (فتح القدیر)(99)
رَبِّ هَب لى مِنَ الصّٰلِحينَ(100)
(100)
فَبَشَّرنٰهُ بِغُلٰمٍ حَليمٍ(101)
١٠١۔١ حَلِیْمٍ کہہ کر اشارہ فرما دیا کہ بچہ بڑا ہو کر بردبار ہوگا۔(101)
فَلَمّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعىَ قالَ يٰبُنَىَّ إِنّى أَرىٰ فِى المَنامِ أَنّى أَذبَحُكَ فَانظُر ماذا تَرىٰ ۚ قالَ يٰأَبَتِ افعَل ما تُؤمَرُ ۖ سَتَجِدُنى إِن شاءَ اللَّهُ مِنَ الصّٰبِرينَ(102)
١٠٢۔١ یعنی دوڑ دھوپ کے لائق ہوگیا یا بلوغت کے قریب پہنچ گیا، بعض کہتے ہیں کہ اس وقت یہ بچہ ١٣ سال کا تھا۔ ١٠٢۔٢ پیغمبر کا خواب، وحی اور حکم الٰہی ہی ہوتا ہے۔ جس پر عمل ضروری ہوتا ہے۔ بیٹے سے مشورے کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ بیٹا بھی امر الٰہی کے لئے کس حد تک تیار ہے۔(102)
فَلَمّا أَسلَما وَتَلَّهُ لِلجَبينِ(103)
١٠٣۔١ ہر انسان کے منہ (چہرے) پر دو جبین (دائیں اور بائیں) ہوتی ہیں اور درمیان میں پیشانی اس لئے لِلْجَبِیْنِ کا صحیح ترجمہ (کروٹ پر) ہے یعنی اس طرح کروٹ پر لٹا لیا، جس طرح جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخ کروٹ پر لٹا یا جاتا ہے، مشہور ہے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے وصیت کی کہ انہیں اس طرح لٹایا جائے کہ چہرہ سامنے نہ رہے جس سے پیار اور شفقت کا جذبہ امر الٰہی پر غالب آنے کا امکان نہ رہے۔(103)
وَنٰدَينٰهُ أَن يٰإِبرٰهيمُ(104)
(104)
قَد صَدَّقتَ الرُّءيا ۚ إِنّا كَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ(105)
١٠٥۔١ یعنی دل کے پورے ارادے سے بچے کو ذبح کرنے کے لئے زمین پر لٹا دینے سے ہی تو نے اپنا خواب سچا کر دکھایا ہے کیونکہ اس سے واضح ہوگیا کہ اللہ کے حکم کے مقابلے میں تجھے کوئی چیز عزیز تر نہیں حتٰی کہ اکلوتا بیٹا بھی۔(105)
إِنَّ هٰذا لَهُوَ البَلٰؤُا۟ المُبينُ(106)
١٠٦۔١ یعنی لاڈلے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم یہ ایک بڑی آزمائش تھی جس پر میں تو سرخرو رہا۔(106)
وَفَدَينٰهُ بِذِبحٍ عَظيمٍ(107)
١٠٧۔١ یہ بڑا ذبیحہ ایک مینڈھا تھا جو اللہ تعالٰی نے جنت سے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے سے بھیجا (ابن کثیر) اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اسے ذبح کیا گیا اور پھر سنت ابراہیمی کو قیامت تک قرب الٰہی کے حصول کا ایک ذریعہ اور عید الاضحٰی کا سب سے پسندیدہ عمل قرار دے دیا گیا۔(107)
وَتَرَكنا عَلَيهِ فِى الءاخِرينَ(108)
(108)
سَلٰمٌ عَلىٰ إِبرٰهيمَ(109)
(109)
كَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ(110)
(110)
إِنَّهُ مِن عِبادِنَا المُؤمِنينَ(111)
(111)
وَبَشَّرنٰهُ بِإِسحٰقَ نَبِيًّا مِنَ الصّٰلِحينَ(112)
١١٢۔١ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مذکورہ واقعے کے بعد اب ایک بیٹے اسحاق علیہ السلام کی اور اس کے نبی ہونے کی خوشخبری دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ اسماعیل علیہ السلام تھے۔ جو اس وقت ابراہیم علیہ السلام کے اکلوتے بیٹے تھے اسحاق علیہ السلام کی ولادت ان کے بعد ہوئی ہے۔ مفسرین کے درمیان اس کی بابت اختلاف۔ ہے کہ ذبح کون ہے، اسماعیل علیہ السلام یا اسحاق علیہ السلام؟ امام ابن جریر نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو اور ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح قرار دیا ہے اور یہی بات صحیح ہے۔ امام شوکانی نے اس میں تو قف اختیار کیا (تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر فتح القدیر اور تفسیر ابن کثیر(112)
وَبٰرَكنا عَلَيهِ وَعَلىٰ إِسحٰقَ ۚ وَمِن ذُرِّيَّتِهِما مُحسِنٌ وَظالِمٌ لِنَفسِهِ مُبينٌ(113)
١١٣۔١ یعنی ان دونوں کی اولاد کو بہت پھیلایا اور انبیاء و رسل کی زیادہ تعداد انہی کی نسل سے ہوئی۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے یعقوب علیہ السلام ہوئے، جن کے بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے ١٢ قبیلے بنے اور ان سے بنی اسرائیل کی قوم بڑھی اور پھیلی اور اکثر انبیاء ان ہی میں سے ہوئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے اسماعیل علیہ السلام سے عربوں کی نسل چلی اور ان میں آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ وسلم ہوئے۔ ١١٣۔٢ شرک اور معصیت، ظلم و فساد کا ارتکاب کرکے خاندان ابراہیمی میں برکت کے باوجود نیک و بد کے ذکر سے اس طرف اشارہ کر دیا کہ خاندان اور آبا کی نسبت، اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ وہاں تو ایمان اور عمل صالح کی اہمیت ہے، یہود و نصاریٰ اگرچہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد سے ہیں۔ اس طرح مشرکین عرب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ہیں۔ لیکن ان کے جو اعمال ہیں وہ کھلی گمراہی یا شرک و معصیت پر مبنی ہیں۔ اس لئے یہ اونچی نسبتیں ان کے لئے عمل کا بدل نہیں ہو سکتیں۔(113)
وَلَقَد مَنَنّا عَلىٰ موسىٰ وَهٰرونَ(114)
١١٤۔١ یعنی انہیں نبوت و رسالت اور دیگر انعامات سے نوازا۔(114)
وَنَجَّينٰهُما وَقَومَهُما مِنَ الكَربِ العَظيمِ(115)
١١٥۔١ یعنی فرعون کی غلامی اور اس کے ظلم وستم سے نجات۔(115)
وَنَصَرنٰهُم فَكانوا هُمُ الغٰلِبينَ(116)
(116)
وَءاتَينٰهُمَا الكِتٰبَ المُستَبينَ(117)
(117)
وَهَدَينٰهُمَا الصِّرٰطَ المُستَقيمَ(118)
(118)
وَتَرَكنا عَلَيهِما فِى الءاخِرينَ(119)
(119)
سَلٰمٌ عَلىٰ موسىٰ وَهٰرونَ(120)
(120)
إِنّا كَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ(121)
(121)
إِنَّهُما مِن عِبادِنَا المُؤمِنينَ(122)
(122)
وَإِنَّ إِلياسَ لَمِنَ المُرسَلينَ(123)
١٢٣۔١ یہ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک اسرائیلی نبی تھے۔ یہ جس علاقے میں بھیجے گئے تھے اس کا نام بعلبک تھا، بعض کہتے ہیں اس جگہ کا نام سامرہ ہے جو فلسطین کا مغربی وسطی علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگ بعل نامی بت کے پجاری تھے (بعض کہتے ہیں یہ دیوی کا نام تھا(123)
إِذ قالَ لِقَومِهِ أَلا تَتَّقونَ(124)
١٢٤۔١ یعنی اس کے عذاب اور گرفت سے، کہ اسے چھوڑ کر تم غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو۔(124)
أَتَدعونَ بَعلًا وَتَذَرونَ أَحسَنَ الخٰلِقينَ(125)
(125)
اللَّهَ رَبَّكُم وَرَبَّ ءابائِكُمُ الأَوَّلينَ(126)
١٢٦۔١ یعنی اس کی عبادت پرستش کرتے ہو، اس کے نام کی نذر نیاز دیتے اور اس کو حاجت روا سمجھتے ہو، جو پتھر کی مورتی ہے اور جو ہرچیز کا خالق اور اگلوں پچھلوں سب کا رب ہے، اس کو تم نے فراموش کر رکھا ہے۔(126)
فَكَذَّبوهُ فَإِنَّهُم لَمُحضَرونَ(127)
١٢٧۔١ یعنی توحید و ایمان سے انکار کی پاداش میں جہنم کی سزا بھگتیں گے۔(127)
إِلّا عِبادَ اللَّهِ المُخلَصينَ(128)
(128)
وَتَرَكنا عَلَيهِ فِى الءاخِرينَ(129)
(129)
سَلٰمٌ عَلىٰ إِل ياسينَ(130)
١٣٠۔١ الیاسین، الیاس علیہ السلام کا ہی ایک تلفظ ہے، جیسے طور سینا کو طور سینین بھی کہتے ہیں، حضرت الیاس علیہ السلام کو دوسری کتابوں میں (ایلیا) بھی کہا گیا ہے۔(130)
إِنّا كَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ(131)
(131)
إِنَّهُ مِن عِبادِنَا المُؤمِنينَ(132)
(132)
وَإِنَّ لوطًا لَمِنَ المُرسَلينَ(133)
(133)
إِذ نَجَّينٰهُ وَأَهلَهُ أَجمَعينَ(134)
(134)
إِلّا عَجوزًا فِى الغٰبِرينَ(135)
١٣٥۔١ اس سے مراد حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی ہے جو کافرہ تھی، یہ اہل ایمان کے ساتھ اس بستی سے باہر نہیں گئی تھی، کیونکہ اسے اپنی قوم کے ساتھ ہلاک ہونا تھا، چنانچہ وہ بھی ہلاک کردی گئی۔(135)
ثُمَّ دَمَّرنَا الءاخَرينَ(136)
(136)
وَإِنَّكُم لَتَمُرّونَ عَلَيهِم مُصبِحينَ(137)
(137)
وَبِالَّيلِ ۗ أَفَلا تَعقِلونَ(138)
١٣٨۔١ یہ اہل مکہ سے خطاب ہے جو تجارتی سفر میں ان تباہ شدہ علاقوں سے آتے جاتے، گزرتے تھے ان کو کہا جارہا ہے کہ تم صبح کے وقت بھی اور رات کے وقت بھی ان بستیوں سے گزرتے ہو، جہاں اب مردار بحیرہ ہے، جو دیکھنے میں بھی نہایت کریہ ہے اور سخت متعفن اور بدبودار۔ کیا تم انہیں دیکھ کر یہ بات نہیں سمجھتے کہ رسولوں کے جھٹلانے کی وجہ سے ان کا یہ بد انجام ہوا، تو تمہاری اس روش کا انجام بھی اس سے مختلف کیوں کر ہوگا؟ جب تم بھی وہی کام کر رہے ہو، جو انہوں نے کیا تو پھر اللہ کے عذاب سے کیوں کر محفوظ رہو گے۔(138)
وَإِنَّ يونُسَ لَمِنَ المُرسَلينَ(139)
(139)
إِذ أَبَقَ إِلَى الفُلكِ المَشحونِ(140)
(140)
فَساهَمَ فَكانَ مِنَ المُدحَضينَ(141)
(141)
فَالتَقَمَهُ الحوتُ وَهُوَ مُليمٌ(142)
١٤٢۔١ حضرت یونس علیہ السلام عراق کے علاقے نینوی (موجودہ موصل) میں نبی بنا کر بھیجے گئے، یہ آشوریوں کا پایہ تخت تھا، انہوں نے ایک لاکھ بنواسرائیلیوں کو قیدی بنایا ہوا تھا،چنانچہ ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ تعالٰی نے ان کی طرف حضرت یونس علیہ السلام کو بھیجا، لیکن یہ قوم آپ پر ایمان نہ لائی۔ بالآخر اپنی قوم کو ڈرایا کہ عنقریب تم عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاؤ گے۔ عذاب میں تاخیر ہوئی تو اللہ کی اجازت کے بغیر ہی اپنے طور پر وہاں سے نکل گئے اور سمندر پر جا کر ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ اپنے علاقے سے نکل کر جانے کو ایسے لفظ سے تعبیر کیا جس طرح ایک غلام اپنے آقا سے بھاگ کر چلا جاتا ہے۔ کیونکہ آپ بھی اللہ کی اجازت کے بغیر ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ کشتی سواروں اور سامان سے بھری ہوئی تھی۔ کشتی سمندر کی موجوں میں گھر گئی اور کھڑی ہوگئی۔ چنانچہ اس کا وزن کم کرنے کے لئے ایک آدھ آدمی کو کشتی سے سمندر میں پھینکنے کی تجویز سامنے آئی تاکہ کشتی میں سوار دیگر انسانوں کی جانیں بچ جائیں۔ لیکن قربانی دینے کے لئے کوئی تیار نہیں تھا اس لئے قرعہ اندازی کرنی پڑی، جس میں حضرت یونس علیہ السلام کا نام آیا۔ اور وہ مغلوبین میں سے ہوگئے، یعنی طوحًا و کرھًا اپنے آپ کو بھاگے ہوئے غلام کی طرح سمندر کی موجوں کے سپرد کرنا پڑا۔ ادھر اللہ تعالٰی نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیں ثابت نگل لے اور یوں حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے حکم سے مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے(142)
فَلَولا أَنَّهُ كانَ مِنَ المُسَبِّحينَ(143)
(143)
لَلَبِثَ فى بَطنِهِ إِلىٰ يَومِ يُبعَثونَ(144)
١٤٤۔١ یعنی توبہ استغفار اور اللہ کی تسبیح بیان نہ کرتے، (جیسا کہ انہوں نے کہا (لَاَ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَنَکَ اِنِّی کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ) (الا نبیاء۔ ٨٧) تو قیامت تک وہ مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے۔(144)
۞ فَنَبَذنٰهُ بِالعَراءِ وَهُوَ سَقيمٌ(145)
١٤٥۔١ جیسے ولادت کے وقت بچہ یا جانور کا چوزہ ہوتا ہے، کمزور اور ناتواں۔(145)
وَأَنبَتنا عَلَيهِ شَجَرَةً مِن يَقطينٍ(146)
١٤٦۔١ یَقْطِیْنِ ہر اس بیل کو کہتے ہیں جو اپنے تنے پر کھڑی نہیں ہوتی، جیسے لوکی، کدو وغیرہ کی بیل اس چٹیل میدان میں جہاں کوئی درخت تھا نہ عمارت۔ ایک سایہ دار بیل اگا کر ہم نے ان کی حفاظت فرمائی۔(146)
وَأَرسَلنٰهُ إِلىٰ مِا۟ئَةِ أَلفٍ أَو يَزيدونَ(147)
(147)
فَـٔامَنوا فَمَتَّعنٰهُم إِلىٰ حينٍ(148)
١٤٨۔١ ان کے ایمان لانے کی کیفیت کا بیان سورہ یونس۔٩٨ میں گزر چکا ہے۔(148)
فَاستَفتِهِم أَلِرَبِّكَ البَناتُ وَلَهُمُ البَنونَ(149)
(149)
أَم خَلَقنَا المَلٰئِكَةَ إِنٰثًا وَهُم شٰهِدونَ(150)
١٥٠۔١ یعنی فرشتوں کو جو یہ اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں تو کیا جب ہم نے فرشتے پیدا کئے تھے، یہ اس وقت وہاں موجود تھے اور انہوں نے فرشتوں کو عورتوں والی خصوصیات کا مشاہدہ کیا تھا۔(150)
أَلا إِنَّهُم مِن إِفكِهِم لَيَقولونَ(151)
(151)
وَلَدَ اللَّهُ وَإِنَّهُم لَكٰذِبونَ(152)
(152)
أَصطَفَى البَناتِ عَلَى البَنينَ(153)
١٥٣۔١ جب کہ یہ خود اپنے لئے بیٹیاں نہیں، بیٹے پسند کرتے ہیں۔(153)
ما لَكُم كَيفَ تَحكُمونَ(154)
(154)
أَفَلا تَذَكَّرونَ(155)
١٥٥۔١ کہ اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو ان کا کہیں ذکر ہوتا، جس کو تم بھی پسند کرتے اور بہتر سمجھتے ہو، نہ کہ بیٹیاں، جو تمہاری نظروں میں کمتر اور حقیر ہیں۔(155)
أَم لَكُم سُلطٰنٌ مُبينٌ(156)
(156)
فَأتوا بِكِتٰبِكُم إِن كُنتُم صٰدِقينَ(157)
١٥٧۔١ یعنی عقل تو اس عقیدے کی صحت کو تسلیم نہیں کرتی کہ اللہ کی اولاد ہے، اور وہ بھی مؤنث، چلو کوئی نقلی دلیل ہی دکھا دو، کوئی کتاب جو اللہ نے اتاری ہو، اس میں اللہ کی اولاد کا اعتراف یا حوالہ ہو؟(157)
وَجَعَلوا بَينَهُ وَبَينَ الجِنَّةِ نَسَبًا ۚ وَلَقَد عَلِمَتِ الجِنَّةُ إِنَّهُم لَمُحضَرونَ(158)
١٥٨۔١ یہ اشارہ ہے مشرکین کے اس عقیدے کی طرف کہ اللہ نے جنات کے ساتھ رشتہ ازدواج قائم کیا، جس سے لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ یہی اللہ کی بیٹیاں، فرشتے ہیں۔ یوں اللہ تعالٰی اور جنوں کے درمیان قرابت داری (سسرالی رشتہ) قائم ہوگیا۔ ١٥٨۔٢ حالانکہ یہ بات کیوں کر صحیح ہو سکتی ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالٰی جنات کو عذاب میں کیوں ڈالتا؟ کیا وہ اپنی قرابت داری کا لحاظ نہ کرتا؟ اور اگر ایسا نہیں ہے بلکہ خود جنات بھی جانتے ہیں کہ انہیں عتاب و عذاب الٰہی بھگتنے کے لئے ضرور جہنم میں جانا ہوگا، تو پھر اللہ اور جنوں کے درمیان قرابت داری کس طرح ہوسکتی ہے۔(158)
سُبحٰنَ اللَّهِ عَمّا يَصِفونَ(159)
(159)
إِلّا عِبادَ اللَّهِ المُخلَصينَ(160)
١٦٠۔١ یعنی اللہ کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کہتے جن سے وہ پاک ہے۔ یہ مشرکین ہی کا شیوہ ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جہنم میں جنات اور مشرکین ہی حاضر کئے جائیں گے، اللہ کے مخلص (چنے ہوئے) بندے نہیں۔ ان کے لئے تو اللہ نے جنت تیار کر رکھی ہے۔(160)
فَإِنَّكُم وَما تَعبُدونَ(161)
(161)
ما أَنتُم عَلَيهِ بِفٰتِنينَ(162)
(162)
إِلّا مَن هُوَ صالِ الجَحيمِ(163)
١٦٣۔١ یعنی تم اور تمہارے معبودان باطلہ کسی کو گمراہ کرنے پر قادر نہیں ہیں، سوائے ان کے جو اللہ کے علم میں پہلے ہی جہنمی ہیں۔ اور اسی وجہ سے وہ کفر و شرک پر مصر ہیں۔(163)
وَما مِنّا إِلّا لَهُ مَقامٌ مَعلومٌ(164)
١٦٤۔١ یعنی اللہ کی عبادت کے لئے۔ یہ فرشتوں کا قول ہے۔(164)
وَإِنّا لَنَحنُ الصّافّونَ(165)
(165)
وَإِنّا لَنَحنُ المُسَبِّحونَ(166)
١٦٦۔١ مطلب یہ کہ فرشتے بھی اللہ کی مخلوق اور اس کے خاص بندے ہیں جو ہر وقت اللہ کی عبادت میں اور اس کی تسبیح میں مصروف رہتے ہیں، نہ کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں۔(166)
وَإِن كانوا لَيَقولونَ(167)
(167)
لَو أَنَّ عِندَنا ذِكرًا مِنَ الأَوَّلينَ(168)
(168)
لَكُنّا عِبادَ اللَّهِ المُخلَصينَ(169)
١٦٩۔١ ذکر سے مراد کوئی کتاب الٰہی یا پیغمبر ہے، یعنی یہ کفار نزول قرآن سے پہلے کہا کرتے تھے کہ ہمارے پاس بھی کوئی آسمانی کتاب ہوتی، جس طرح پہلے لوگوں پر تورات وغیرہ نازل ہوئیں یا کوئی ہاوی ہمیں وعظ و نصیحت کرنے والا ہوتا، تو ہم بھی اللہ کے خالص بندے بن جاتے۔(169)
فَكَفَروا بِهِ ۖ فَسَوفَ يَعلَمونَ(170)
١٧٠۔١ یہ تنبہہ ہے کہ جھٹلانے کا انجام عنقریب ان کو معلوم ہو جائے گا۔(170)
وَلَقَد سَبَقَت كَلِمَتُنا لِعِبادِنَا المُرسَلينَ(171)
(171)
إِنَّهُم لَهُمُ المَنصورونَ(172)
(172)
وَإِنَّ جُندَنا لَهُمُ الغٰلِبونَ(173)
١٧٣۔١ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا، (کَتَبَ اللّٰہُ لَاَ غْلَبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ) (المجادلۃ۔٢١)۔(173)
فَتَوَلَّ عَنهُم حَتّىٰ حينٍ(174)
١٧٤۔١ یعنی ان کی باتوں اور ایذاؤں پر صبر کیجئے۔(174)
وَأَبصِرهُم فَسَوفَ يُبصِرونَ(175)
١٧٥۔١ کہ کب ان پر اللہ کا عذاب آتا ہے؟(175)
أَفَبِعَذابِنا يَستَعجِلونَ(176)
(176)
فَإِذا نَزَلَ بِساحَتِهِم فَساءَ صَباحُ المُنذَرينَ(177)
١٧٧۔١ مسلمان جب خیبر پر حملہ کرنے گئے، تو یہودی انہیں دیکھ کر گھبرا گئے، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اللہ اکبر کہ کر فرمایا (خَربَتْ خیبرُ، اِنَّا اِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ فَوْمِ فَسَاءَ صَبَاحْ الْمُنْذَرِیْنَ) (صحیح بخاری)(177)
وَتَوَلَّ عَنهُم حَتّىٰ حينٍ(178)
(178)
وَأَبصِر فَسَوفَ يُبصِرونَ(179)
١٧٩۔١ یہ بطور تاکید دوبارہ فرمایا۔ یا پہلے جملے سے مراد دنیا کا وہ عذاب ہے جو اہل مکہ پر بدر و احد اور دیگر جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کے قتل و سلب کی صورت میں آیا۔ اور دوسرے جملے میں اس عذاب کا ذکر ہے جس سے یہ کفار و مشرکین آخرت میں دوچار ہوں گے۔(179)
سُبحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ العِزَّةِ عَمّا يَصِفونَ(180)
١٨٠۔١ اس میں عیوب و نقائص سے اللہ کے پاکیزہ ہونے کا بیان ہے جو مشرکین اللہ کے لئے بیان کرتے ہیں، مثلًا اس کی اولاد ہے، یا اس کا کوئی شریک ہے۔ یہ کوتاہیاں بندوں کے اندر ہیں اور اولاد یا شریکوں کے ضرورت مند بھی وہی ہیں، اللہ ان سب باتوں سے بہت بلند اور پاک ہے۔ کیونکہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے کہ اسے اولاد کی یا کسی شریک کی ضرورت پیش آئے۔(180)
وَسَلٰمٌ عَلَى المُرسَلينَ(181)
١٨١۔١ کہ انہوں نے اللہ کا پیغام اہل دنیا کی طرف پہنچایا، جس پر یقینا وہ سلام کے مستحق ہیں۔(181)
وَالحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ العٰلَمينَ(182)
١٨٢۔١ یہ بندوں کو سمجھایا جارہا ہے کہ اللہ نے تم پر احسان کیا ہے، پیغمبر بھیجے، کتابیں نازل کیں اور پیغمبروں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچایا، اس لئے تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ بعض کہتے ہیں کہ کافروں کو ہلاک کرکے اہل ایمان اور پیغمبروں کو بچایا، اس پر شکر الٰہی کرو۔ حمد کے معنی ہیں بہ قصد تعظیم ثناء جمیل، ذکر خیر اور عظمت شان بیان کرنا۔(182)