As-Saff( الصف)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ سَبَّحَ لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۖ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(1)
(1)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لِمَ تَقولونَ ما لا تَفعَلونَ(2)
٢۔١ یہاں ندا اگرچہ عام ہے لیکن اصل خطاب ان مومنوں سے ہے جو کہہ رہے تھے کہ اللہ کو جو سب سے زیادہ پسند عمل ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے چاہئیں تاکہ ان پر عمل کیا جاسکے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر پوچھنے کی جرت کوئی نہیں کر رہا تھا اس پر اللہ تعالٰی نے یہ سورت نازل فرمائی (مسند احمد)(2)
كَبُرَ مَقتًا عِندَ اللَّهِ أَن تَقولوا ما لا تَفعَلونَ(3)
۳۔۱ یہ اسی کی مزید تاکید ہے کہ اللہ تعالٰی ایسے لوگوں پر سخت ناراض ہوتا ہے۔(3)
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذينَ يُقٰتِلونَ فى سَبيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنيٰنٌ مَرصوصٌ(4)
٤۔١ یہ جہاد کا ایک انتہائی نیک عمل بتلایا گیا جو اللہ کو بہت محبوب ہے۔(4)
وَإِذ قالَ موسىٰ لِقَومِهِ يٰقَومِ لِمَ تُؤذونَنى وَقَد تَعلَمونَ أَنّى رَسولُ اللَّهِ إِلَيكُم ۖ فَلَمّا زاغوا أَزاغَ اللَّهُ قُلوبَهُم ۚ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الفٰسِقينَ(5)
٥۔١ یہ جانتے ہوئے بھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے سچے رسول ہیں، بنی اسرائیل انہیں اپنی زبان سے ایذا پہنچاتے تھے، حتٰی کہ بعض جسمانی عیوب ان کی طرف منسوب کرتے تھے، حالانکہ وہ بیماری ان کے اندر نہیں تھی۔ ٥۔۲ یعنی علم کے باوجود حق سے اعراض کیا اور حق کے مقابلے میں باطل کو خیر کے مقابلے میں شر کو اور ایمان کے مقابلے میں کفر کو اختیار کیا، تو اللہ تعالٰی نے اس کی سزا کے طور پر ان کے دلوں کو مستقل طور پر ہدایت سے پھیر دیا۔ کیونکہ یہی سنت اللہ چلی آرہی ہے۔ کفر وضلالات پر دوام واستمرار ہی دلوں پر مہر لگنے کا باعث ہوتا ہےپھر فسق کفر اور ظلم اس کی طبیعت اور عادت بن جاتی ہے جس کو کوئی بدلنے پر قادر نہیں ہے۔ اس لیے آگے فرمایا اللہ تعالٰی نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اس لیے کہ اللہ تعالٰی نے ایسے لوگوں کو اپنی سنت کے مطابق گمراہ کیا ہوتا ہے اب کون اسے ہدایت دے سکتا ہے جسے اس طریقے سے اللہ نے گمراہ کیا ہو۔(5)
وَإِذ قالَ عيسَى ابنُ مَريَمَ يٰبَنى إِسرٰءيلَ إِنّى رَسولُ اللَّهِ إِلَيكُم مُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَىَّ مِنَ التَّورىٰةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسولٍ يَأتى مِن بَعدِى اسمُهُ أَحمَدُ ۖ فَلَمّا جاءَهُم بِالبَيِّنٰتِ قالوا هٰذا سِحرٌ مُبينٌ(6)
٦۔١ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قصہ اس لیے بیان فرمایا کہ بنی اسرائیل نے جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نافرمانی کی، اسی طرح انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی انکار کیا، اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ یہود آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ساتھ اس طرح نہیں کر رہے ہیں، بلکہ ان کی تو ساری تاریخ ہی انبیاء علیہم السلام کی تکذیب سے بھری پڑی ہے۔ تورات کی تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ میں جو دعوت دے رہا ہوں، وہ وہی ہے جو تورات کی بھی دعوت ہے۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ جو پیغمبر مجھ سے پہلے تورات لے کر آئے اور اب میں انجیل لے کر آیا ہوں، ہم دونوں کا اصل ماخذ ایک ہی ہے۔ اس لیے جس طرح تم موسیٰ وہارون اور داوٗد وسلیمان علیہم السلام پر ایمان لائے مجھ پر بھی ایمان لاؤ، اس لیے کہ میں تورات کی تصدیق کر رہا ہوں نہ کہ اس کی تردید و تکذیب۔ ٦۔۲ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد آنے والے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشخبری سنائی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' "انا دعوۃ ابی ابراہیم وبشسارۃ عیسی" میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا مصداق ہوں۔ احمد یہ فاعل سے اگر مبالغے کا صیغہ۰ ہو تو معنی ہوں گے دوسرے تمام لوگوں سے اللہ کی زیادہ حمد کرنے والا۔ اور اگر یہ مفعول سے ہوں تو معنی ہوں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیوں اور کمالات کی وجہ سے جتنی تعریف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کی گئی اتنی کسی کی بھی نہیں کی گئی۔ (فتح القدیر) ٦۔٢ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے پیش کردہ معجزات کو جادو سے تعبیر کیا گیا، جس طرح گذشتہ قومیں بھی اپنے پیغمبروں کو اسی طرح کہتی رہیں۔ بعض نے اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم لئے ہیں جیسا کہ کفار مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے تھے۔(6)
وَمَن أَظلَمُ مِمَّنِ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ وَهُوَ يُدعىٰ إِلَى الإِسلٰمِ ۚ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ(7)
٧۔١ یعنی اللہ کی اولاد قرار دے، یا جو جانور اس نے حرام قرار نہیں دیئے ان کو حرام باور کرائے۔ ٧۔٢ جو تمام دینوں میں اشرف اور اعلٰی ہے، اس لئے جو شخص ایسا ہو، اس کو کب یہ زیب دیتا ہے یہ وہ کسی پر بھی جھوٹ گھڑے، چہ جائیکہ اللہ پر جھوٹ باندھے؟(7)
يُريدونَ لِيُطفِـٔوا نورَ اللَّهِ بِأَفوٰهِهِم وَاللَّهُ مُتِمُّ نورِهِ وَلَو كَرِهَ الكٰفِرونَ(8)
٨۔١ نور سے مراد قرآن، یا اسلام یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے، یا دلائل و براہین ہیں ' منہ سے بجھا دیں ' کا مطلب ہے، وہ طعن کی وہ باتیں ہیں جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہیں۔ ٨۔٢ یعنی اس کو آفاق میں پھیلانے والا اور دوسرے تمام دینوں پر غالب کرنے والا ہے۔ دلائل کے لحاظ سے، یا مادی غلبے کے لحاظ سے یا دونوں لحاظ سے۔(8)
هُوَ الَّذى أَرسَلَ رَسولَهُ بِالهُدىٰ وَدينِ الحَقِّ لِيُظهِرَهُ عَلَى الدّينِ كُلِّهِ وَلَو كَرِهَ المُشرِكونَ(9)
٩۔١ یہ گذشتہ بات ہی کی تاکید ہے، اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے پھر دہرایا گیا ہے۔ ٩۔١تاہم یہ لامحالہ ہو کر رہے گا۔(9)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا هَل أَدُلُّكُم عَلىٰ تِجٰرَةٍ تُنجيكُم مِن عَذابٍ أَليمٍ(10)
١٠۔١ اس عمل (یعنی ایمان اور جہاد) کو تجارت سے تعبیر کیا، اس لئے کہ اس میں بھی انہیں تجارت کی طرح ہی نفع ہوگا وہ نفع کیا ہے؟ جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات۔ اس سے بڑا نفع اور کیا ہوگا۔ اور وہ نفع کیا ہے اس بات کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا "ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسہم واموالھم بان الھم الجنۃ" اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کا سودا جنت کے بدلے میں کرلیا ہے۔(10)
تُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَرَسولِهِ وَتُجٰهِدونَ فى سَبيلِ اللَّهِ بِأَموٰلِكُم وَأَنفُسِكُم ۚ ذٰلِكُم خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم تَعلَمونَ(11)
(11)
يَغفِر لَكُم ذُنوبَكُم وَيُدخِلكُم جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فى جَنّٰتِ عَدنٍ ۚ ذٰلِكَ الفَوزُ العَظيمُ(12)
(12)
وَأُخرىٰ تُحِبّونَها ۖ نَصرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتحٌ قَريبٌ ۗ وَبَشِّرِ المُؤمِنينَ(13)
١٣۔١ یعنی جب تم اس کی راہ میں لڑو گے اور اس کے دین کی مدد کروگے، تو وہ بھی تمہیں فتح و نصرت سے نوازے گا۔ "ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم"(سورہ محمد) "ولینصرن اللہ من ینصرہ ان اللہ لقوی عزیز"(الحج) آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں اسے فتح قریب قرار دیا اور اس سے مراد فتح مکہ ہے اور بعض نے فارس و روم کی عظیم الشان سلطنتوں پر مسلمانوں کے غلبے کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ جو خلافت راشدہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوا۔ ١٣۔٢ جنت کی بھی، مرنے کے بعد اور فتح و نصرت کی بھی، دنیا میں، بشرطیکہ اہل ایمان ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہیں۔ "وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین"(ال عمران) آگے اللہ تعالٰی مؤمنوں کو اپنے دین کی نصرت کی مزید ترغیب دے رہا ہے۔(13)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كونوا أَنصارَ اللَّهِ كَما قالَ عيسَى ابنُ مَريَمَ لِلحَوارِيّۦنَ مَن أَنصارى إِلَى اللَّهِ ۖ قالَ الحَوارِيّونَ نَحنُ أَنصارُ اللَّهِ ۖ فَـٔامَنَت طائِفَةٌ مِن بَنى إِسرٰءيلَ وَكَفَرَت طائِفَةٌ ۖ فَأَيَّدنَا الَّذينَ ءامَنوا عَلىٰ عَدُوِّهِم فَأَصبَحوا ظٰهِرينَ(14)
١٤۔١ تمام حالتوں میں، اپنے اقوال وافعال کے ذریعے سے بھی اور جان ومال کے ذریعے سے بھی۔ جب بھی جس وقت بھی اور جس حالت میں بھی تمہیں اللہ اور اس کا رسول اپنے دین کے لیے پکارے تم فورا ان کی پکار پر لبیک کہو، جس طرح حواریین نے عیسیٰ علیہ السلام کی پکار پر لبیک کہا۔ ١٤۔۲ یعنی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دین کی دعوت و تبلیغ میں مددگار ہیں جس کی نشرو اشاعت کا حکم اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایام حج میں فرماتے ' کون ہے جو مجھے پناہ دے تاکہ میں لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا سکوں، اس لئے کہ قریش مجھے فریضہ رسالت ادا نہیں کرنے دیتے ' حتٰی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار پر مدینے کے اوس اور خزرج نے لبیک کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کا وعدہ کیا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیشکش کی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو وعدے کے مطابق انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے تمام ساتھیوں کی مدد کی حتی کہ اللہ اور اس کے رسول نے ان کا نام ہی انصار رکھ دیا اور اب یہ ان کا علم بن گیا۔ رضی اللہ عنہم وارضاھم۔ ١٤۔۳ یہ یہود تھے جنہوں نے نبوت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا انکار بلکہ ان پر اور ان کی ماں پر بہتان تراشی کی بعض کہتے ہیں کہ یہ اختلاف و تفرق اس وقت ہوا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ ایک نے کہا عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں اللہ تعالٰی نے ہی زمین پر ظہور فرمایا تھا، اب وہ پھر آسمان پر چلا گیا، یہ فرقہ یعقوبیہ کہلاتا ہے نسطوریہ فرقے نے کہا وہ اب اللہ کے بیٹے تھے، باپ نے بیٹے کو آسمان پر بلا لیا ہے، تیسرے فرقے نے کہا وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے، یہی فرقہ صحیح تھا۔ ١٤۔٤یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر ہم نے اسی آخری جماعت کی دوسرے باطل گروہوں کے مقابلے میں مدد کی چنانچہ یہ صحیح عقیدے کی حامل جماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئی اور یوں ہم نے ان کو دلائل کے لحاظ سے بھی سب کافروں پر غلبہ عطا فرمایا اور قوت وسلطنت کے اعتبار سے بھی۔ اس غلبے کا آخری ظہور اس وقت پھر ہوگا۔ جب قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ نزول ہوگاجیسا کہ اس نزول اور غلبے کی صراحت احادیث صحیحہ میں تواتر کے ساتھ منقول ہے۔(14)