An-Nasr( النصر)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ إِذا جاءَ نَصرُ اللَّهِ وَالفَتحُ(1)
(1)
وَرَأَيتَ النّاسَ يَدخُلونَ فى دينِ اللَّهِ أَفواجًا(2)
٢۔١ اللہ کی مدد کا مطلب، اسلام اور مسلمانوں کا کفر اور کافروں پر غلبہ ہے، اور فتح سے مراد فتح مکہ ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مولد و مسکن تھا، لیکن کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام کو وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔چنانچہ جب ۸ ہجری میں یہ مکہ فتح ہوگیا تو لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے شروع ہوگئے، جب کہ اس سے قبل ایک ایک دو دو فرد مسلمان ہوتے تھے فتح مکہ سو لوگوں پر یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے پیغمبر ہیں اور دین اسلام دین حق ہے، جس کے بغیر اب نجات اخروی ممکن نہیں، اللہ تعالٰی نے فرمایا جب ایسا ہو تو۔(2)
فَسَبِّح بِحَمدِ رَبِّكَ وَاستَغفِرهُ ۚ إِنَّهُ كانَ تَوّابًا(3)
٣۔١ یعنی یہ سمجھ لے کہ تبلیغ رسالت اور احقاق حق کا فرض، جو تیرے ذمہ تھا، پورا ہوگیا اور اب تیرا دنیا سے کوچ کرنے کا مرحلہ قریب آ گیا ہے، اس لئے حمد و تسبیح الٰہی اور استفغار کا خوب اہتمام کر۔ اس سے معلوم ہوا کہ زندگی کے آخری ایام میں ان چیزوں کا اہتمام کثرت سے کرنا چاہئے۔(3)