An-Najm( النجم)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ وَالنَّجمِ إِذا هَوىٰ(1)
١۔١ بعض مفسرین نے ستارے سے ثریا ستارہ اور بعض نے زہرہ ستارہ مراد لیا ہے، یعنی جب رات کے اختتام پر فجر کے وقت وہ گرتا ہے، یا شیاطین کو مارنے کے لئے گرتا ہے یا بقول بعض قیامت والے دن گریں گے۔(1)
ما ضَلَّ صاحِبُكُم وَما غَوىٰ(2)
٢۔١ یہ جواب قسم ہے۔ صَاحِبِکُمْ (تمہارا ساتھی) کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو واضح تر کیا گیا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گزارے ہیں، اس کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں، اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے۔ راست بازی اور امانت داری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور بھی دیکھا؟ اب چالیس سال کے بعد جو وہ نبوت کا دعوی کر رہا ہے تو ذرا سوچو، وہ کس طرح جھوٹ ہو سکتا ہے؟ چنانچہ واقعہ یہ کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے نہ بہکا ہے۔ضلالت، راہ حق سے وہ انحراف ہے جو جہالت اور لاعلمی سے ہو اور غوابت، وہ کجی ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھوڑ کر اختیار کی جائے۔ اللہ تعالٰی نے دونوں قسم کی گمراہیوں سے اپنے پیغمبر کی تنزیہ بیان فرمائی۔(2)
وَما يَنطِقُ عَنِ الهَوىٰ(3)
(3)
إِن هُوَ إِلّا وَحىٌ يوحىٰ(4)
(4)
عَلَّمَهُ شَديدُ القُوىٰ(5)
(5)
ذو مِرَّةٍ فَاستَوىٰ(6)
(6)
وَهُوَ بِالأُفُقِ الأَعلىٰ(7)
(7)
ثُمَّ دَنا فَتَدَلّىٰ(8)
(8)
فَكانَ قابَ قَوسَينِ أَو أَدنىٰ(9)
(9)
فَأَوحىٰ إِلىٰ عَبدِهِ ما أَوحىٰ(10)
(10)
ما كَذَبَ الفُؤادُ ما رَأىٰ(11)
١١۔١ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو اصل شکل میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔ ایک پر مشرق و مغرب کے درمیان فاصلے جتنا تھا، اس کو آپ کے دل نے جھٹلایا نہیں، بلکہ اللہ کی اس عظیم قدرت کو تسلیم کیا۔(11)
أَفَتُمٰرونَهُ عَلىٰ ما يَرىٰ(12)
(12)
وَلَقَد رَءاهُ نَزلَةً أُخرىٰ(13)
(13)
عِندَ سِدرَةِ المُنتَهىٰ(14)
١٤۔١ یہ لیلۃ المعراج کو جب اصل شکل میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، اس کا بیان ہے۔ یہ سدرۃ المنتہیٰ، ایک بیری کا درخت ہے جو چھٹے یا ساتویں آسمان پر ہے اور یہ آخری حد ہے، اس کے اوپر کوئی فرشتہ نہیں جاسکتا۔ فرشتے اللہ کے احکام بھی یہیں سے وصول کرتے ہیں(14)
عِندَها جَنَّةُ المَأوىٰ(15)
١٥۔١ اسے جنت الماویٰ، اس لئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کا ماویٰ و مسکن یہی تھا، بعض کہتے ہیں کہ روحیں یہاں آکر جمع ہوتی ہیں (فتح القدیر)(15)
إِذ يَغشَى السِّدرَةَ ما يَغشىٰ(16)
١٦۔١ سدرۃ المنتہیٰ کی اس کیفیت کا بیان ہے جب شب معراج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مشاہدہ کیا، سونے کے پروانے اس کے گرد منڈلا رہے تھے، فرشتوں کا عکس اس پر پڑ رہا تھا، اور رب کی تجلیات کا مظہر بھی وہی تھا (ابن کثیر) اس مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزوں سے نوازا گیا، پانچ وقت کی نمازیں، سورہ بقرہ کی آخری آیات اور اس مسلمان کی مغفرت کا وعدہ جو شرک کی آلودگیوں سے پاک ہوگا۔(16)
ما زاغَ البَصَرُ وَما طَغىٰ(17)
١٧۔١ یعنی نبی کی نگاہیں دائیں بائیں ہوئیں اور نہ حد سے بلند اور متجاوز ہوئیں جو آپ کے لئے مقرر کر دی گئی تھی۔ (ایسر التفاسیر)(17)
لَقَد رَأىٰ مِن ءايٰتِ رَبِّهِ الكُبرىٰ(18)
١٨۔١ جن میں جبرائیل علیہ السلام اور سدرۃ المنتہیٰ کا دیکھنا اور دیگر مظاہر قدرت کا مشاہدہ ہے جس کی کچھ تفصیل احادیث معراج میں بیان کی گئی ہے۔(18)
أَفَرَءَيتُمُ اللّٰتَ وَالعُزّىٰ(19)
(19)
وَمَنوٰةَ الثّالِثَةَ الأُخرىٰ(20)
٢٠۔١ یہ مشرکین کی توبیخ کے لئے کہا جا رہا ہے کہ اللہ کی یہ تو شان ہے جو مذکور ہوئی کہ جبرائیل علیہ السلام جیسے عظیم فرشتوں کا وہ خالق ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے اس کے رسول ہیں، جنہیں اس نے آسمان پر بلا کر بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ بھی کرایا اور وحی بھی ان پر نازل فرماتا ہے۔ کیا تم جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو، ان کے اندر بھی یہ یا اس قسم کی خوبیاں ہیں؟ اس ضمن میں عرب کے تین مشہور بتوں کے نام بطور مثال لیے ۔ لات، بعض کے نزدیک یہ لفظ اللہ سے ماخوذ ہے، بعض کے نزدیک لات یلیت سے ہے، جس کے معنی موڑنے کے ہیں، پجاری اپنی گردنیں اس کی طرف موڑتے اور اس کا طواف کرتے تھے۔ اس لیے یہ نام پڑگیا۔ بعض کہتے ہیں، کہ لات میں تا مشدد ہے لت یلت سے اسم فاعل (ستو گھولنے والا) یہ ایک نیک آدمی تھا، حاجیوں کو ستو گھول کر پلایا کرتا تھا، جب یہ مر گیا تو لوگوں نے اس کی قبر کو عبادت گاہ بنالیا، پھر اس کے مجسمے اور بت بن گئے۔ یہ طائف میں بنو ثقیف کا سب سے بڑا بت تھا۔ عزی کہتے ہیں یہ اللہ کے صفاتی نام عزیز سے ماخوذ ہے، اور یہ أعز کی تانیث ہے بمعنی عزیزت بعض کہتے ہیں کہ یہ غطفان میں ایک درخت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی، بعض کہتے ہیں کہ شیطاننی (بھوتنی) تھی جو بعض درختوں میں ظاہر ہوتی تھی۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سنگ ابیض تھا جس کو پوجتے تھے۔ یہ قریش اور بنو کنانہ کا خاص معبود تھا۔ منوت، منی یمنی سے ہے جس کے معنی صب (بہانے) کے ہیں۔ اس کا تقرب حاصل کرنے کے لئے لوگ کثرت سے اس کے پاس جانور ذبح کرتے اور انکا خون بہاتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک بت تھا (فتح القدیر) یہ قدید کے بالمقابل مشلل جگہ میں تھا، بنوخزاعہ کا یہ خاص بت تھا۔زمانہ جاہلیت میں اوس اور خزرج یہیں سے احرام باندھتے تھے اور اس بت کا طواف بھی کرتے تھے۔(ایسر التفاسیر وابن کثیر) ان کے علاوہ مختلف اطراف میں اور بھی بہت سے بت اور بت خانے پھیلے ہوئے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد اور دیگر مواقع پر ان بتوں اور دیگر تمام بتوں کا خاتمہ فرما دیا ان پر جو قبے اور عمارتیں بنی ہوئی تھیں، وہ مسمار کروا دیں، ان درختوں کو کٹوا دیا، جن کی تعظیم کی جاتی تھی اور وہ تمام آثار و مظاہر مٹا ڈالے گئے جو بت پرستی کی یادگار تھے، اس کام کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد، حضرت علی، حضرت عمرو بن عاص اور حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین کو، جہاں جہاں یہ بت تھے، بھیجا اور انہوں نے جاکر ان سب کو ڈھا کر سرزمین عرب سے شرک کا نام مٹا دیا۔(ابن کثیر)(20)
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الأُنثىٰ(21)
٢١۔١ مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے، یہ اس کی تردید ہے، جیسا کہ متعدد جگہ یہ مضمون گزر چکا ہے۔(21)
تِلكَ إِذًا قِسمَةٌ ضيزىٰ(22)
٢٢۔١ ضِیْزیٰ، حق و صواب سے ہٹی ہوئی۔(22)
إِن هِىَ إِلّا أَسماءٌ سَمَّيتُموها أَنتُم وَءاباؤُكُم ما أَنزَلَ اللَّهُ بِها مِن سُلطٰنٍ ۚ إِن يَتَّبِعونَ إِلَّا الظَّنَّ وَما تَهوَى الأَنفُسُ ۖ وَلَقَد جاءَهُم مِن رَبِّهِمُ الهُدىٰ(23)
(23)
أَم لِلإِنسٰنِ ما تَمَنّىٰ(24)
٢٤۔١ یعنی یہ جو چاہتے ہیں کہ ان کے یہ معبود انہیں فائدہ پہنچائیں اور ان کی سفارش کریں یہ ممکن ہی نہیں۔(24)
فَلِلَّهِ الءاخِرَةُ وَالأولىٰ(25)
٢٥۔١ یعنی وہی ہوگا، جو وہ چاہے گا، کیونکہ تمام اختیارات اسی کے پاس ہیں۔(25)
۞ وَكَم مِن مَلَكٍ فِى السَّمٰوٰتِ لا تُغنى شَفٰعَتُهُم شَيـًٔا إِلّا مِن بَعدِ أَن يَأذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشاءُ وَيَرضىٰ(26)
٢٦۔١ یعنی فرشتے، جو اللہ کے مقرب ترین مخلوق ہے ان کو بھی شفاعت کا حق صرف انہی لوگوں کے لئے ملے گا جن کے لئے اللہ پسند کرے گا، جب یہ بات ہے تو پھر یہ پتھر کی مورتیاں کس طرح کسی کی سفارش کر سکیں گی؟ جن سے تم آس لگائے بیٹھے ہو، نیز اللہ تعالٰی مشرکوں کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کا حق بھی کب دے گا، جب کہ شرک اس کے نزدیک ناقابل معافی ہے؟(26)
إِنَّ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ لَيُسَمّونَ المَلٰئِكَةَ تَسمِيَةَ الأُنثىٰ(27)
(27)
وَما لَهُم بِهِ مِن عِلمٍ ۖ إِن يَتَّبِعونَ إِلَّا الظَّنَّ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لا يُغنى مِنَ الحَقِّ شَيـًٔا(28)
(28)
فَأَعرِض عَن مَن تَوَلّىٰ عَن ذِكرِنا وَلَم يُرِد إِلَّا الحَيوٰةَ الدُّنيا(29)
(29)
ذٰلِكَ مَبلَغُهُم مِنَ العِلمِ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبيلِهِ وَهُوَ أَعلَمُ بِمَنِ اهتَدىٰ(30)
(30)
وَلِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ لِيَجزِىَ الَّذينَ أَسٰـٔوا بِما عَمِلوا وَيَجزِىَ الَّذينَ أَحسَنوا بِالحُسنَى(31)
٣١۔١ یعنی ہدایت اور گمراہی اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے، گمراہی کے گڑھے میں ڈال دیتا ہے، تاکہ نیکوکار اس کی نیکیوں کا صلہ اور بدکار کو اس کی برائیوں کا بدلہ دے۔(31)
الَّذينَ يَجتَنِبونَ كَبٰئِرَ الإِثمِ وَالفَوٰحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ وٰسِعُ المَغفِرَةِ ۚ هُوَ أَعلَمُ بِكُم إِذ أَنشَأَكُم مِنَ الأَرضِ وَإِذ أَنتُم أَجِنَّةٌ فى بُطونِ أُمَّهٰتِكُم ۖ فَلا تُزَكّوا أَنفُسَكُم ۖ هُوَ أَعلَمُ بِمَنِ اتَّقىٰ(32)
٣٢۔١ کبائر، کبیرت کی جمع ہے۔ کبیرہ گناہ کی تعریف میں اختلاف ہے ۔زیادہ اہل علم کے نزدیک ہر وہ گناہ کبرہ ہے جس پر جہنم کی وعید ہے، یا جس کے مرتکب کی سخت مذمت قرآن و حدیث میں مذکور ہے اور اہل علم یہ بھی کہتے ہیں کہ چھوٹے گناہ پر اصرار و دوام بھی اسی کبیرہ گناہ بنادیتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے معنی اور ماہیت کی تحقیق میں اختلاف کی طرح، اس کی تعداد میں بھی اختلاف ہے، بعض علماء نے انہیں کتابوں میں جمع بھی کیا ہے۔ جیسے کتاب الکبائر للذہبی اور الزواجر وغیرہ ۔فواحش، فاحشت کی جمع ہے، بے حیائی کے مظاہر چونکہ بہت عام ہوگئے ہیں، اس لیے بے حیائی کو، تہذیب، سمجھ لیا گیا، حتی کہ اب مسلمانوں نے بہی اس، تہذیب بے حیائی، کو اپنا لیا ہے ۔چناچہ گھروں میں ٹی وی، وی سی آر وغیرہ عام ہیں، عورتوں نے نہ صرف پردے کو خیرباد کہہ دیا، بلکہ بن سنور کر اور حسن وجمال کا مجسم اشتہار بن کر باہر نکلنے کو اپنا شعار اور وطیرہ بنالیا ہے۔ مخلوط تعلیم، مخلوط ادارے، مخلوط مجلسیں اور دیگر بہت سے موقعوں پر مرد و زن کا بے باکانہ اختلاط اور بے محابا گفتگو روز افزوں ہے، دراں حالیکہ یہ سب، فواحش، میں داخل ہیں، جن کی بابت یہاں بتلایا جارہا ہے کہ جن لوگوں کی مغفرت ہونی ہے، وہ کبائر فواحش سے اجتناب کرنے والے ہوں گے نہ کہ ان میں مبتلا۔ (۲) اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بڑے گناہ کے آغاز کا ارتکاب، لیکن بڑے گناہ سے پر ہیز کرنا یا کسی گناہ کا ایک دو مرتبہ کرنا پھر ہمیشہ کے لئے اسے چھوڑ دینا، یا کسی گناہ کا محض دل میں خیال کرنا لیکن عملاً اس کے قریب نہ جانا، یہ سارے صغیرہ گناہ ہوں گے، جو اللہ تعالٰی کبائر سے اجتناب کی برکت سے معاف فرمادے گا۔ (۳) جنین کی جمع ہے جو پیٹ کے بچے کو کہاجاتا ہے، اس لیے کہ یہ لوگوں کی نظروں سے مستور ہوتا ہے۔ (۳) یعنی اس سے جب تمہاری کوئی کیفیت اور حرکت مخفی نہیں، حتی کہ جب تم ماں کے پیٹ میں تھے، جہاں تمہیں کوئی دیکھنے پر قادر نہیں تھا، وہاں بھی تمہارے تمام احوال سے واقف تھا، تو بھر اپنی پاکیزگی بیان کرنے کی اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی کیا ضرورت ہے؟ مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ کرو۔ تاکہ ریاکاری سے تم بچو۔(32)
أَفَرَءَيتَ الَّذى تَوَلّىٰ(33)
(33)
وَأَعطىٰ قَليلًا وَأَكدىٰ(34)
٣٤۔١ یعنی تھوڑا سا دیکر ہاتھ روک لیا۔ یا تھوڑی سی اطاعت کی اور پیچھ ہٹ گیا، یعنی کوئی کام شروع کرے لیکن اسے پایہ تکمیل تک نہ پہنچائے۔(34)
أَعِندَهُ عِلمُ الغَيبِ فَهُوَ يَرىٰ(35)
٣٥۔١ یعنی کیا وہ دیکھ رہا ہے کہ اس نے فی سبیل اللہ خرچ کیا تو اس کا مال ختم ہو جائے گا؟ نہیں، غیب کا یہ علم اس کے پاس نہیں ہے بلکہ وہ خرچ کرنے سے گریز محض بخل، دنیا کی محبت اور آخرت پر عدم یقین کی وجہ سے کر رہا ہے اور اطاعت الٰہی سے انحراف کی وجوہات بھی یہی ہیں۔(35)
أَم لَم يُنَبَّأ بِما فى صُحُفِ موسىٰ(36)
(36)
وَإِبرٰهيمَ الَّذى وَفّىٰ(37)
(37)
أَلّا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزرَ أُخرىٰ(38)
(38)
وَأَن لَيسَ لِلإِنسٰنِ إِلّا ما سَعىٰ(39)
٣٩۔١ یعنی جس طرح کوئی کسی دوسرے کے گناہ کا ذمے دار نہیں ہوگا، اسی طرح اسے آخرت میں اجر بھی انہی چیزوں کا ملے گا، جن میں اس کی اپنی محنت ہوگی۔(39)
وَأَنَّ سَعيَهُ سَوفَ يُرىٰ(40)
٤٠۔١ یعنی دنیا میں اس نے اچھا یا برا جو بھی کیا، چھپ کر کیا یا اعلانیہ کیا، قیامت والے دن سامنے آجائے گا اور اس پر اسے پوری جزا دی جائے گی۔(40)
ثُمَّ يُجزىٰهُ الجَزاءَ الأَوفىٰ(41)
(41)
وَأَنَّ إِلىٰ رَبِّكَ المُنتَهىٰ(42)
(42)
وَأَنَّهُ هُوَ أَضحَكَ وَأَبكىٰ(43)
(43)
وَأَنَّهُ هُوَ أَماتَ وَأَحيا(44)
(44)
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوجَينِ الذَّكَرَ وَالأُنثىٰ(45)
(45)
مِن نُطفَةٍ إِذا تُمنىٰ(46)
(46)
وَأَنَّ عَلَيهِ النَّشأَةَ الأُخرىٰ(47)
(47)
وَأَنَّهُ هُوَ أَغنىٰ وَأَقنىٰ(48)
٤٨۔١ یعنی کسی کو اتنی تونگری دیتا ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہوتا اور اسکی تمام حاجتیں پوری ہو جاتی ہیں اور کسی کو اتنا سرمایا دے دیتا ہے کہ اس کے پاس ضرورت سے زائد بچ رہتا ہے اور وہ اس کو جمع کرکے رکھتا ہے۔(48)
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعرىٰ(49)
٤٩۔١ رب تو وہ ہرچیز کا ہے، یہاں ستارے کا نام اس لئے لیا ہے کہ بعض عرب قبائل اس کی پوجا کرتے ہیں۔(49)
وَأَنَّهُ أَهلَكَ عادًا الأولىٰ(50)
٥٠۔١ قوم عاد اول اس لئے کہا کہ یہ ثمود سے پہلے ہوئی، یا اس لئے کہ قوم نوح کے بعد سب سے پہلے یہ قوم ہلاک کی گئی۔ بعض کہتے ہیں، عاد نامی دو قومیں گزری ہیں، یہ پہلی ہے جسے باد تند سے ہلاک کیا گیا جب کہ دوسری زمانے کی گردشوں کے ساتھ مختلف ناموں سے چلتی اور بکھرتی ہوئی موجود رہی ۔(50)
وَثَمودَا۟ فَما أَبقىٰ(51)
(51)
وَقَومَ نوحٍ مِن قَبلُ ۖ إِنَّهُم كانوا هُم أَظلَمَ وَأَطغىٰ(52)
(52)
وَالمُؤتَفِكَةَ أَهوىٰ(53)
٥٣۔١ اس سے مراد حضرت لوط علیہ السلام کی بستیاں ہیں، جن کو الٹ دیا گیا۔(53)
فَغَشّىٰها ما غَشّىٰ(54)
٥٤۔١ یعنی اس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔(54)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكَ تَتَمارىٰ(55)
٥٥۔١ یا شک کرے گا اور ان کو جھٹلائے گا، جب کہ وہ اتنی عام اور واضح ہیں کہ ان کا انکار ممکن ہے اور نہ چھپانا ہی۔(55)
هٰذا نَذيرٌ مِنَ النُّذُرِ الأولىٰ(56)
(56)
أَزِفَتِ الءازِفَةُ(57)
(57)
لَيسَ لَها مِن دونِ اللَّهِ كاشِفَةٌ(58)
(58)
أَفَمِن هٰذَا الحَديثِ تَعجَبونَ(59)
٥٩۔١ بات سے مراد قرآن کریم ہے، یعنی اس سے تم تعجب کرتے اور اس کا مذاق کرتے ہو، حالانکہ اس میں نہ تعجب والی کوئی بات ہے نہ مذاق اور جھٹلانے والی۔(59)
وَتَضحَكونَ وَلا تَبكونَ(60)
(60)
وَأَنتُم سٰمِدونَ(61)
(61)
فَاسجُدوا لِلَّهِ وَاعبُدوا ۩(62)
٦٢۔١ یہ مشرکین اور مکذبین کی توبیخ کے لئے حکم دیا۔ یعنی جب ان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ قرآن کو ماننے کی بجائے، اس کا مذاق و استخفاف کرتے ہیں اور ہمارے پیغمبر کے وعظ و نصیحت کا کوئی اثر ان پر نہیں ہو رہا ہے، تو اے مسلمانو! تم اللہ کی بارگاہ میں جھک کر اور اس کی عبادت و اطاعت کا مظاہرہ کرکے قرآن کی تعظیم و توقیر کا اہتمام کرو۔چنانچہ اس حکم کی تعمیل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور صحابہ نے سجدہ کیا، حتی کہ اس وقت مجلس میں موجود کفار نے بھی سجدہ کیا۔ جیسا کہ احادیث میں ہے۔(62)