An-Nahl( النحل)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ أَتىٰ أَمرُ اللَّهِ فَلا تَستَعجِلوهُ ۚ سُبحٰنَهُ وَتَعٰلىٰ عَمّا يُشرِكونَ(1)
١۔١ اس سے مراد قیامت ہے، یعنی وہ قیامت قریب آ گئی ہے جسے تم دور سمجھتے تھے، پس جلدی نہ مچاؤ، یا وہ عذاب مراد ہے جسے مشرکین طلب کرتے تھے۔ اسے مستقبل کے بجائے ماضی کے صیغے سے بیان کیا، کیونکہ کہ اس کا وقوع یقینی ہے۔(1)
يُنَزِّلُ المَلٰئِكَةَ بِالرّوحِ مِن أَمرِهِ عَلىٰ مَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ أَن أَنذِروا أَنَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا أَنا۠ فَاتَّقونِ(2)
٢۔١ رُوْح سے مراد وحی ہے جیسا کہ قرآن مجید کے دوسرے مقام پر ہے۔ (وَ کَذٰلِکَ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَاالْکتٰبُ وَلَا الْاِیْمَانُ) (الشوریٰ۔٥٢) ' اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے وحی کی، اس سے پہلے آپ کو علم نہیں تھا کہ کتاب کیا ہے، اور ایمان کیا ' ٢۔٢ مراد انبیاء علیہم السلام ہیں جن پر وحی ٰ نازل ہوتی ہے۔ جس طرح اللہ نے فرمایا (اَ للّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ) (الاَ نعام۔١٢٤) ' اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھے اور وہ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے وحی ڈالتا یعنی نازل فرماتا ہے تاکہ وہ ملاقات والے (قیامت کے) دن سے لوگوں کو ڈرائے ـ'۔(2)
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ بِالحَقِّ ۚ تَعٰلىٰ عَمّا يُشرِكونَ(3)
٣۔١ یعنی محض تماشے اور کھیل کود کے طور پر نہیں پیدا کیا بلکہ ایک مقصد پیش نظر ہے اور وہ ہے جزا و سزا، جیسا کہ ابھی تفصیل گزری ہے۔(3)
خَلَقَ الإِنسٰنَ مِن نُطفَةٍ فَإِذا هُوَ خَصيمٌ مُبينٌ(4)
٤۔١ یعنی ایک جامد چیز سے جو ایک جاندار کے اندر سے نکلتی ہے۔ جسے منی کہا جاتا ہے۔ اسے مختلف اطوار سے گزار کر ایک مکمل صورت دی جاتی ہے، پھر اس میں اللہ تعالٰی روح پھونکتا ہے اور ماں کے پیٹ سے نکال کر اس دنیا میں لاتا ہے جس میں وہ زندگی گزارتا ہے لیکن جب اسے شعور آتا ہے تو اسی رب کے معاملے میں جھگڑتا، اس کا انکار کرتا یا اس کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے۔(4)
وَالأَنعٰمَ خَلَقَها ۗ لَكُم فيها دِفءٌ وَمَنٰفِعُ وَمِنها تَأكُلونَ(5)
٥۔١ اسی احسان کے ساتھ دوسرے احسان کا ذکر فرمایا کہ چوپائے (اونٹ، گائے اور بکریاں) بھی اسی نے پیدا کئے، جن کے بالوں اور اون سے تم گرم کپڑے تیار کر کے گرمی حاصل کرتے ہو۔ اسی طرح ان سے دیگر منافع حاصل کرتے ہو، مثلاً ان سے دودھ حاصل کرتے ہو، ان پر سواری کرتے ہو اور سامان لادتے ہو، ان کے ذریعے ہل چلاتے اور کھیتوں کو سیراب کرتے ہو، وغیرہ وغیرہ۔(5)
وَلَكُم فيها جَمالٌ حينَ تُريحونَ وَحينَ تَسرَحونَ(6)
٦۔١ تریحون جب شام کو چرا کر گھر لاؤ، جب صبح چرانے کے لئے لے جاؤ، ان دونوں وقتوں میں یہ لوگوں کی نظروں میں آتے ہیں، جس سے تمہارے حسن و جمال میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان دونوں اوقات کے علاوہ وہ نظروں سے اوجھل رہتے یا باڑوں میں بند رہتے ہیں۔(6)
وَتَحمِلُ أَثقالَكُم إِلىٰ بَلَدٍ لَم تَكونوا بٰلِغيهِ إِلّا بِشِقِّ الأَنفُسِ ۚ إِنَّ رَبَّكُم لَرَءوفٌ رَحيمٌ(7)
(7)
وَالخَيلَ وَالبِغالَ وَالحَميرَ لِتَركَبوها وَزينَةً ۚ وَيَخلُقُ ما لا تَعلَمونَ(8)
٨۔١ یعنی ان کی پیدائش کا اصل مقصد اور فائدہ تو ان پر سواری کرنا ہے تاہم زینت کا بھی باعث ہیں، گھوڑے خچر، اور گدھوں کے الگ ذکر کرنے سے بعض فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ گھوڑا بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح گدھا اور خچر۔ علاوہ ازیں کھانے والے چوپاؤں کا پہلے ذکر آ چکا ہے۔ اس لئے اس آیت میں جن تین جانوروں کا ذکر ہے، یہ صرف (سواری) کے لئے ہے۔ ٨۔٢ زمین کے زیریں حصے میں، اسی طرح سمندر میں، اور بے آب وگیاہ صحراؤں اور جنگلوں میں اللہ تعالٰی مخلوق پیدا فرماتا رہتا ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں اور اسی میں انسان کی بنائی ہوئی وہ چیزیں بھی آ جاتی ہیں جو اللہ کے دیئے ہوئے دماغ اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اسی کی پیدا کردہ چیزوں کو مختلف انداز میں جوڑ کر تیار کرتا ہے، مثلاً بس، کار، ریل گاڑی، جہاز اور ہوائی جہاز اور اس طرح کی بے شمار چیزیں اور جو مستقبل میں متوقع ہیں۔(8)
وَعَلَى اللَّهِ قَصدُ السَّبيلِ وَمِنها جائِرٌ ۚ وَلَو شاءَ لَهَدىٰكُم أَجمَعينَ(9)
٩۔١ اس کے ایک دوسرے معنی ہیں ' اور اللہ ہی پر ہے سیدھی راہ ' یعنی اس کا بیان کرنا۔ چنانچہ اس نے اسے بیان فرما دیا اور ہدایت اور ضلالت دونوں کو واضح کر دیا، اسی لئے آگے فرمایا کہ بعض راہیں ٹیڑھی ہیں یعنی گمراہی کی ہیں۔ ٩۔٢ لیکن اس میں چوں کہ جبر ہوتا اور انسان کی آزمائش نہ ہوتی، اس لئے اللہ نے اپنی مشیت سے سب کو مجبور نہیں کیا، بلکہ دونوں راستوں کی نشاندہی کر کے، انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے۔(9)
هُوَ الَّذى أَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً ۖ لَكُم مِنهُ شَرابٌ وَمِنهُ شَجَرٌ فيهِ تُسيمونَ(10)
(10)
يُنبِتُ لَكُم بِهِ الزَّرعَ وَالزَّيتونَ وَالنَّخيلَ وَالأَعنٰبَ وَمِن كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ(11)
١١۔١ اس میں بارش کے وہ فوائد بیان کئے گئے ہیں، جو ہر مشاہدے اور تجربے کا حصہ ہیں وہ محتاج وضاحت نہیں۔ نیز ان کا ذکر پہلے آ چکا ہے۔(11)
وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيلَ وَالنَّهارَ وَالشَّمسَ وَالقَمَرَ ۖ وَالنُّجومُ مُسَخَّرٰتٌ بِأَمرِهِ ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَعقِلونَ(12)
١٢۔١ کس طرح رات اور دن چھوٹے بڑے ہوتے ہیں، چاند اور سورج کس طرح اپنی اپنی منزلوں کی طرف رواں دواں رہتے ہیں اور ان میں کبھی فرق واقع نہیں ہوتا، ستارے کس طرح آسمان کی زینت اور رات کے اندھیروں میں بھٹکے ہوئے مسافروں کے لئے دلیل راہ ہیں۔ یہ سب اللہ تعالٰی کی قدرت کاملہ اور سلطنت عظیمہ پر دلالت کرتے ہیں۔(12)
وَما ذَرَأَ لَكُم فِى الأَرضِ مُختَلِفًا أَلوٰنُهُ ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِقَومٍ يَذَّكَّرونَ(13)
١٣۔١ یعنی زمین میں اللہ نے جو معدنیات، نباتات، جمادات اور حیوانات اور ان کے منا فع اور خواص پیدا کئے ہیں، ان میں بھی نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔(13)
وَهُوَ الَّذى سَخَّرَ البَحرَ لِتَأكُلوا مِنهُ لَحمًا طَرِيًّا وَتَستَخرِجوا مِنهُ حِليَةً تَلبَسونَها وَتَرَى الفُلكَ مَواخِرَ فيهِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ(14)
١٤۔١ اس میں سمندری تلاطم خیز موجوں کو انسان کے تابع کر دینے کے بیان کے ساتھ، اس کے تین فوائد بھی ذکر کئے ہیں۔ ایک یہ کہ تم اس سے مچھلی کی شکل میں تازہ گوشت کھاتے ہو (مچھلی مردہ بھی ہو تب بھی حلال ہے)۔ علاوہ ازیں حالت احرام میں بھی اس کو شکار کرنا حلال ہے۔ دوسرے، اس سے تم موتی، سیپیاں اور جواہر نکالتے ہو، جن سے تم زیور بناتے ہو۔ تیسرے، اس میں تم کشتیاں اور جہاز چلاتے ہو، جن کے ذریعے سے تم ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتے ہو، تجارتی سامان بھی لاتے ہو، لے جاتے ہو، جس سے تمہیں اللہ کا فضل حاصل ہوتا ہے جس پر تمہیں اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیئے۔(14)
وَأَلقىٰ فِى الأَرضِ رَوٰسِىَ أَن تَميدَ بِكُم وَأَنهٰرًا وَسُبُلًا لَعَلَّكُم تَهتَدونَ(15)
١٥۔١ یہ پہاڑوں کا فائدہ بیان کیا جا رہا ہے اور اللہ کا ایک احسان عظیم بھی ہے، کیونکہ اگر زمین ہلتی رہتی تو اس میں سکونت ممکن ہی نہ رہتی۔ اس کا اندازہ ان زلزلوں سے کیا جا سکتا ہے جو چند سکینڈوں اور لمحوں کے لئے آتے ہیں، لیکن کس طرح بڑی بڑی مضبوط عمارتوں کو پیوند زمین اور شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ ١٥۔٢ نہروں کا سلسلہ بھی عجیب ہے، کہاں سے وہ شروع ہوتی ہیں اور کہاں کہاں، دائیں بائیں، شمال، جنوب، مشرق و مغرب ہر جہت کو سہراب کرتی ہیں۔ اس طرح راستے بنائے، جن کے ذریعے تم منزل مقصود پر پہنچتے ہو۔(15)
وَعَلٰمٰتٍ ۚ وَبِالنَّجمِ هُم يَهتَدونَ(16)
(16)
أَفَمَن يَخلُقُ كَمَن لا يَخلُقُ ۗ أَفَلا تَذَكَّرونَ(17)
١٧۔١ ان تمام نعمتوں سے توحید کی اہمیت کو اجاگر فرمایا کی اللہ تو ان چیزوں کا خالق ہے، لیکن اس کو چھوڑ کر جن کی تم عبادت کرتے ہو، انہوں نے بھی کچھ پیدا کیا ہے؟ نہیں، بلکہ وہ تو خود اللہ کی مخلوق ہیں۔ پھر بھلا خالق اور مخلوق کس طرح برابر ہو سکتے ہیں؟ جبکہ تم انہیں معبود بنا کر اللہ کا برابر ٹھہرا رکھا ہے۔ کیا تم ذرا نہیں سوچتے؟(17)
وَإِن تَعُدّوا نِعمَةَ اللَّهِ لا تُحصوها ۗ إِنَّ اللَّهَ لَغَفورٌ رَحيمٌ(18)
(18)
وَاللَّهُ يَعلَمُ ما تُسِرّونَ وَما تُعلِنونَ(19)
١٩۔١ اور اس کے مطابق وہ قیامت والے دن جزا اور سزا دے گا۔ نیک کو نیکی کی جزا اور بد کو بدی کی سزا۔(19)
وَالَّذينَ يَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ لا يَخلُقونَ شَيـًٔا وَهُم يُخلَقونَ(20)
٢٠۔١ اس میں ایک چیز کا اضافہ ہے یعنی صفت (خالقیت) کی نفی کے ساتھ نقصان یعنی کمی (عدم خالقیت) کا اثبات (فتح القدیر) ُ(20)
أَموٰتٌ غَيرُ أَحياءٍ ۖ وَما يَشعُرونَ أَيّانَ يُبعَثونَ(21)
٢١۔١ مردہ سے مراد، وہ جماد (پتھر) بھی ہیں جو بے جان اور بے شعور ہیں۔ اور فوت شدہ صالحین بھی ہیں۔ کیونکہ مرنے کے بعد اٹھایا جانا (جس کا انہیں شعور نہیں وہ تو جماد کی بجائے صالحین ہی پر صادق آ سکتا ہے۔ ان کو صرف مردہ ہی نہیں کہا بلکہ مزید وضاحت فرما دی کہ ' وہ زندہ نہیں ہیں ' اللہ تعالٰی کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ موت وارد ہونے کے بعد، دنیاوی زندگی کسی کو نصیب نہیں ہو سکتی نہ دنیا سے کوئی تعلق ہی باقی رہتا ہے۔ ٢١۔٢ پھر ان سے نفع کی اور ثواب و جزا کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟(21)
إِلٰهُكُم إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۚ فَالَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ قُلوبُهُم مُنكِرَةٌ وَهُم مُستَكبِرونَ(22)
٢٢۔١ یعنی ایک اللہ کا ماننا منکرین اور مشرکین کے لئے بہت مشکل ہے وہ کہتے ہیں ' اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود کر دیا یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے ' دوسرے مقام پر فرمایا جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو منکرین آخرت کے دل تنگ ہو جاتے ہیں اور جب اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کا ذکر آ جاتا ہے تو خوش ہوتے ہیں۔(22)
لا جَرَمَ أَنَّ اللَّهَ يَعلَمُ ما يُسِرّونَ وَما يُعلِنونَ ۚ إِنَّهُ لا يُحِبُّ المُستَكبِرينَ(23)
٢٣۔١ اَ سْتِکْبَار کا مطلب ہوتا ہے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے صحیح اور حق بات کا انکار کر دینا اور دوسروں کو حقیر و کمتر سمجھنا۔ کبر کی یہی تعریف حدیث میں بیان کی گئی ـ' یہ کبر وغرور اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ حدیث میں ہے کہ، وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی کبر ہوگا۔(23)
وَإِذا قيلَ لَهُم ماذا أَنزَلَ رَبُّكُم ۙ قالوا أَسٰطيرُ الأَوَّلينَ(24)
٢٤۔١ یعنی اعراض اور استہزا کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ مکذبین جواب دیتے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے تو کچھ بھی نہیں اتارا، اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیں جو پڑھ کر سناتا ہے، وہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو کہیں سے سن کر بیان کرتا ہے۔(24)
لِيَحمِلوا أَوزارَهُم كامِلَةً يَومَ القِيٰمَةِ ۙ وَمِن أَوزارِ الَّذينَ يُضِلّونَهُم بِغَيرِ عِلمٍ ۗ أَلا ساءَ ما يَزِرونَ(25)
٢٥۔١ یعنی ان کی زبانوں سے یہ بات اللہ تعالٰی نے نکلوائی تاکہ وہ اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسروں کا بوجھ بھی اٹھائیں۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے۔ نبی نے فرمایا ' جس نے لوگوں کو ہدایت کی طرف بلایا، تو اس شخص کو ان تمام لوگوں کا اجر ملے گا جو اس کی دعوت پر ہدایت کا راستہ اپنائیں گے اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا تو اس کو تمام لوگوں کے گناہوں کا بار بھی اٹھانا پڑے گا جو اس کی دعوت پر گمراہ ہوئے۔(25)
قَد مَكَرَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم فَأَتَى اللَّهُ بُنيٰنَهُم مِنَ القَواعِدِ فَخَرَّ عَلَيهِمُ السَّقفُ مِن فَوقِهِم وَأَتىٰهُمُ العَذابُ مِن حَيثُ لا يَشعُرونَ(26)
٢٦۔١ بعض مفسرین اسرائیلی روایات کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ اس سے مراد نمرود یا بخت نصر ہے، جنہوں نے آسمان پر کسی طرح چڑھ کر اللہ کے خلاف مکر کیا، لیکن وہ ناکام واپس آئے اور بعض مفسرین کا خیال میں یہ ایک کہانی ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کے ساتھ کفر و شرک کرنے والوں کے عمل اسی طرح برباد ہونگے جس طرح کسی کے مکان کی بنیادیں متزلزل ہو جائیں اور وہ چھت سمیت گر پڑے۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مقصود ان قوموں کے انجام کی طرف اشارہ کرنا ہے، جن قوموں نے پیغمبروں کی تکذیب پر اصرار کیا اور بالآخر عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر گھروں سمیت تباہ ہوگئے، مثلاً قوم عاد وقوم لوط وغیرہ۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا من حیث لم یحتسبوا۔ ٢٦۔٢ ' پس اللہ (کا عذاب) ان کے پاس ایسی جگہ سے آیا جہاں سے ان کو وہم وگمان بھی نہ تھا ' ٢٦۔۳بس اللہ کا عذاب ان کے پاس ایسی جگہ سے آیا جہاں سے ان کو وہم وگمان بھی نہ تھا۔(26)
ثُمَّ يَومَ القِيٰمَةِ يُخزيهِم وَيَقولُ أَينَ شُرَكاءِىَ الَّذينَ كُنتُم تُشٰقّونَ فيهِم ۚ قالَ الَّذينَ أوتُوا العِلمَ إِنَّ الخِزىَ اليَومَ وَالسّوءَ عَلَى الكٰفِرينَ(27)
٢٧۔١ یعنی یہ تو وہ عذاب تھا جو دنیا میں ان پر آئے اور قیامت والے دن اللہ تعالٰی انہیں اس طرح ذلیل و رسوا کرے گا کہ ان سے پوچھے گا تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جو تم نے میرے لئے ٹھہرا رکھے تھے، اور جن کی وجہ سے تم مومنوں سے لڑتے جھگڑتے تھے۔ ٢٧۔٢ یعنی جن کو دین کا علم نہیں تھا وہ دین کے پابند تھے وہ جواب دیں گے۔(27)
الَّذينَ تَتَوَفّىٰهُمُ المَلٰئِكَةُ ظالِمى أَنفُسِهِم ۖ فَأَلقَوُا السَّلَمَ ما كُنّا نَعمَلُ مِن سوءٍ ۚ بَلىٰ إِنَّ اللَّهَ عَليمٌ بِما كُنتُم تَعمَلونَ(28)
٢٨۔١ یہ مشرک ظالموں کی موت کے وقت کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے ہیں تو وہ صلح کی بات ڈالتے ہیں یعنی سمع و طاعت اور عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو برائی نہیں کرتے تھے۔ جس طرح میدان محشر میں اللہ کے روبرو بھی جھوٹی قسمیں کھائیں گے اور کہیں گے ' اللہ کی قسم، ہم مشرک نہیں تھے ' دوسرے مقام پر فرمایا ' جس دن اللہ تعالٰی ان سب کو اٹھا کر اپنے پاس جمع کرے گا تو اللہ کے سامنے بھی یہ اسی طرح (جھوٹی) قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں۔ ٢٨۔۲فرشتے جواب دیں گے کیوں نہیں؟ یعنی تم جھوٹ بولتے ہو، تمہاری تو ساری عمر ہی برائیوں میں گزری ہے اور اللہ کے پاس تمہارے اعمال کا ریکارڈ محفوظ ہےتمہارے اس انکار سے اب کیا بنے گا۔(28)
فَادخُلوا أَبوٰبَ جَهَنَّمَ خٰلِدينَ فيها ۖ فَلَبِئسَ مَثوَى المُتَكَبِّرينَ(29)
٢٩۔١ امام ابن کثیر فرماتے ہیں، ان کی موت کے فوراً بعد سب کی روحیں جہنم میں چلی جاتی ہیں اور ان کے جسم قبر میں رہتے ہیں (جہاں اللہ تعالٰی اپنی قدرت کاملہ سے جسم و روح میں بعد کے باوجود، ان میں ایک گونہ تعلق پیدا کر کے ان کو عذاب دیتا ہے، (اور صبح شام ان پر آگ پیش کی جاتی ہے) پھر جب قیامت برپا ہوگی تو ان کی روحیں ان کے جسموں میں لوٹ آئیں گی اور ہمیشہ کے لئے یہ جہنم میں داخل کر دیئے جائیں گے۔(29)
۞ وَقيلَ لِلَّذينَ اتَّقَوا ماذا أَنزَلَ رَبُّكُم ۚ قالوا خَيرًا ۗ لِلَّذينَ أَحسَنوا فى هٰذِهِ الدُّنيا حَسَنَةٌ ۚ وَلَدارُ الءاخِرَةِ خَيرٌ ۚ وَلَنِعمَ دارُ المُتَّقينَ(30)
(30)
جَنّٰتُ عَدنٍ يَدخُلونَها تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ ۖ لَهُم فيها ما يَشاءونَ ۚ كَذٰلِكَ يَجزِى اللَّهُ المُتَّقينَ(31)
(31)
الَّذينَ تَتَوَفّىٰهُمُ المَلٰئِكَةُ طَيِّبينَ ۙ يَقولونَ سَلٰمٌ عَلَيكُمُ ادخُلُوا الجَنَّةَ بِما كُنتُم تَعمَلونَ(32)
٣٢۔١ ان آیات میں ظالم مشرکوں کے مقابلے میں اہل ایمان و تقویٰ کا کردار اور ان کا حسن انجام بیان فرمایا ہے۔ ٣٢۔٢ سورہ اعراف کی آیت ٤٣ کے تحت یہ حدیث گزر چکی ہے کہ کوئی شخص بھی محض اپنے عمل سے جنت میں نہیں جائے گا، جب تک اللہ کی رحمت نہیں ہوگی۔ لیکن یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ تم اپنے عملوں کے بدلے جنت میں داخل ہو جاؤ، تو ان میں دراصل کوئی منافقت نہیں۔ کیونکہ اللہ کی رحمت کے حصول کے لئے اعمال صالحہ ضروری ہیں، اس کے بغیر آخرت میں اللہ کی رحمت مل ہی نہیں سکتی۔ اس لئے حدیث مذکورہ کا مفہوم بھی اپنی جگہ صحیح ہے اور عمل کی اہمیت بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ اس لیے ایک اور حدیث میں فرمایا گیا ہے ان اللہ لا ینظر الی صورکم واموالکم ولکن ینظر الی قلوبکم واعمالکم۔(32)
هَل يَنظُرونَ إِلّا أَن تَأتِيَهُمُ المَلٰئِكَةُ أَو يَأتِىَ أَمرُ رَبِّكَ ۚ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ وَما ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلٰكِن كانوا أَنفُسَهُم يَظلِمونَ(33)
٣٣۔١ یعنی کیا یہ بھی اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے یا رب کا حکم (یعنی عذاب یا قیامت) آ جائے۔ ٣٣۔٢ یعنی اس طرح سرکشی اور معصیت، ان سے پہلے لوگوں نے اختیار کئے رکھی، جس پر وہ غضب الٰہی کے مستحق بنے۔ ٣٣۔٣ اس لئے اللہ نے تو ان کے لئے کوئی عذر ہی باقی نہیں چھوڑا۔ رسولوں کو بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر ان پر حجت تمام کر دی۔ ٣٣۔٤ یعنی رسولوں کی مخالفت اور ان کی تکذیب کر کے خود ہی انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔(33)
فَأَصابَهُم سَيِّـٔاتُ ما عَمِلوا وَحاقَ بِهِم ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(34)
٣٤۔١ یعنی جب رسول ان سے کہتے کہ اگر تم ایمان نہیں لاؤ گے تو اللہ کا عذاب آ جائے گا۔ تو یہ استہزا کے طور پر کہتے کہ جا اپنے اللہ سے کہہ وہ عذاب بھیج کر ہمیں تباہ کر دے۔ چنانچہ اس عذاب نے انہیں گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے، پھر اس سے بچاؤ کا کوئی راستہ ان کے پاس نہیں رہا۔(34)
وَقالَ الَّذينَ أَشرَكوا لَو شاءَ اللَّهُ ما عَبَدنا مِن دونِهِ مِن شَيءٍ نَحنُ وَلا ءاباؤُنا وَلا حَرَّمنا مِن دونِهِ مِن شَيءٍ ۚ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ فَهَل عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا البَلٰغُ المُبينُ(35)
٣٥۔١ اس آیت میں اللہ تعالٰی نے مشرکین کے ایک وہم اور مغالطے کا ازالہ فرمایا ہے وہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں یا اس کے حکم کے بغیر ہی کچھ چیزوں کو حرام کر لیتے ہیں، اگر ہماری یہ باتیں غلط ہیں تو اللہ تعالٰی اپنی قدرت کاملہ سے ہمیں ان چیزوں سے روک کیوں نہیں دیتا، وہ اگر چاہے تو ہم ان کاموں کو کر ہی نہیں سکتے۔ اگر وہ نہیں روکتا تو اس کا مطلب ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں، اس کی مشیت کے مطابق ہے۔ اللہ تعالٰی نے ان کے اس شبہے کا ازالہ ' رسولوں کا کام صرف پہنچا دینا ہے ' کہہ کر فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا یہ گمان صحیح نہیں ہے کہ اللہ تعالٰی نے تمہیں اس سے روکا نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی نے تو تمہیں ان مشرکانہ امور سے بڑی سختی سے روکا ہے۔ اسی لئے وہ ہر قوم میں رسول بھیجتا اور کتابیں نازل کرتا رہا ہے اور ہر نبی نے آ کر سب سے پہلے اپنی قوم کو شرک ہی سے بچانے کی کوشش کی ہے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالٰی ہرگز یہ پسند نہیں کرتا کہ لوگ شرک کریں کیونکہ اگر اسے یہ پسند ہوتا کہ تکذیب کر کے شرک کا راستہ اختیار کیا اور اللہ نے اپنی مشیت تکوینیہ کے تحت قہراً و جبراً تمہیں اس سے نہیں روکا، تو یہ اس کی حکمت ومصلحت کا ایک حصہ ہے، جس کے تحت اس نے انسانوں کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر ان کی آزمائش ممکن ہی نہ تھی۔ ہمارے رسول ہمارا پیغام تم تک پہنچا کر یہی سمجھاتے رہے کہ اس آزادی کا غلط استعمال نہ کرو بلکہ اللہ کی رضا کے مطابق اسے استعمال کرو۔ ہمارے رسول یہی کچھ کر سکتے تھے، جو انہوں نے کیا اور تم نے شرک کے آزادی کا غلط استعمال کیا جس کی سزا دائمی عذاب ہے۔(35)
وَلَقَد بَعَثنا فى كُلِّ أُمَّةٍ رَسولًا أَنِ اعبُدُوا اللَّهَ وَاجتَنِبُوا الطّٰغوتَ ۖ فَمِنهُم مَن هَدَى اللَّهُ وَمِنهُم مَن حَقَّت عَلَيهِ الضَّلٰلَةُ ۚ فَسيروا فِى الأَرضِ فَانظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُكَذِّبينَ(36)
٣٦۔١ مذکورہ شبہے کے ازالے کے لئے مزید فرمایا کہ ہم نے تو ہر امت میں رسول بھیجا اور یہ پیغام ان کے ذریعے سے پہنچایا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ لیکن جن پر گمراہی ثابت ہو چکی تھی، انہوں نے اس کی پرواہ ہی نہ کی۔(36)
إِن تَحرِص عَلىٰ هُدىٰهُم فَإِنَّ اللَّهَ لا يَهدى مَن يُضِلُّ ۖ وَما لَهُم مِن نٰصِرينَ(37)
٣٧۔١ اس میں اللہ تعالٰی فرما رہا ہے۔ اے پیغمبر! تیری خواہش یقیناً یہی ہے کہ یہ سب ہدایت کا راستہ اپنا لیں لیکن قوانین الہیہ کے تحت جو گمراہ ہوگئے ہیں، ان کو ہدایت کے راستے پر نہیں چلا سکتا، یہ تو اپنے آخری انجام کو پہنچ کر ہی رہیں گے، جہاں ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔(37)
وَأَقسَموا بِاللَّهِ جَهدَ أَيمٰنِهِم ۙ لا يَبعَثُ اللَّهُ مَن يَموتُ ۚ بَلىٰ وَعدًا عَلَيهِ حَقًّا وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ(38)
٣٨۔١ کیونکہ مٹی میں مل جانے کے بعد ان کا دوبارہ جی اٹھنا، انہیں مشکل اور ناممکن نظر آتا تھا۔ اسی لئے رسول جب انہیں بعث بعد الموت کی بابت کہتا تو اسے جھٹلاتے ہیں، اس کی تصدیق نہیں کرتے بلکہ اس کے برعکس یعنی دوبارہ زندہ نہ ہونے پر قسمیں کھاتے ہیں، قسمیں بھی بڑی تاکید اور یقین کے ساتھ۔ ٣٨۔٢ اس جہالت اور بے علمی کی وجہ سے رسولوں کی تکذیب و مخالفت کرتے ہوئے دریاے کفر میں ڈوب جاتے ہیں۔(38)
لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذى يَختَلِفونَ فيهِ وَلِيَعلَمَ الَّذينَ كَفَروا أَنَّهُم كانوا كٰذِبينَ(39)
٣٩۔١ یہ وقوع قیامت کی حکمت و علت بیان کی جا رہی ہے کہ اس دن اللہ تعالٰی ان چیزوں میں فیصلہ فرمائے گا جن میں لوگ دنیا میں اختلاف کرتے تھے اور اہل حق اور اہل تقویٰ کو اچھی جزا اور اہل کفر و فسق کو ان کے برے عملوں کی سزا دے گا۔ نیز اس دن اہل کفر پر بھی یہ بات واضح ہو جائے گی کہ قیامت کے عدم وقوع پر جو قسمیں کھاتے تھے ان میں وہ جھوٹے تھے۔(39)
إِنَّما قَولُنا لِشَيءٍ إِذا أَرَدنٰهُ أَن نَقولَ لَهُ كُن فَيَكونُ(40)
٤٠۔١ یعنی لوگوں کے نزدیک قیامت کا ہونا، کتنا بھی مشکل یا ناممکن ہو، مگر اللہ کے لئے تو کوئی مشکل نہیں اسے زمین اور آسمان ڈھانے کے لئے مزدوروں، انجینئروں اور مستریوں اور دیگر آلات ووسائل کی ضرورت نہیں۔ اسے تو صرف کن کہنا ہے اس کے لفظ کن سے پلک جھپکتے میں قیامت برپا ہو جائے گی۔ (وما امر الساعۃ الا کلمح البصر او ھوا اقرب) قیامت کا معاملہ پلک جھپکتے یا اس سے بھی کم مدت میں واقع ہو جائے گا۔(40)
وَالَّذينَ هاجَروا فِى اللَّهِ مِن بَعدِ ما ظُلِموا لَنُبَوِّئَنَّهُم فِى الدُّنيا حَسَنَةً ۖ وَلَأَجرُ الءاخِرَةِ أَكبَرُ ۚ لَو كانوا يَعلَمونَ(41)
٤١۔١ ہجرت کا مطلب ہے اللہ کے دین کے لئے اللہ کی رضا کی خاطر اپنا وطن، اپنے رشتہ دار اور دوست احباب چھوڑ کر ایسے علاقے میں چلے جانا جہاں آسانی سے اللہ کے دین پر عمل ہو سکے۔ اس آیت میں ان ہی مہاجرین کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے، یہ آیت عام ہے جو تمام مہاجرین کو شامل ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ ان مہاجرین کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنی قوم کی ایذاؤں سے تنگ آ کر حبشہ ہجرت کر گئے تھے۔ ان کی تعداد عورتوں سمیت ایک سو یا اس سے زیادہ تھی، جن میں حضرت عثمان غنی اور ان کی زوجہ۔ دختر رسول حضرت رقیہ بھی تھیں۔ ٤١۔٢ اس سے رزق طیب اور بعض نے مدینہ مراد لیا ہے، جو مسلمانوں کا مرکز بنا، امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ دونوں قولوں میں منافات نہیں ہے۔ اس لئے کہ جن لوگوں نے اپنے کاروبار اور گھر بار چھوڑ کر ہجرت کی تھی، اللہ تعالٰی نے دنیا میں ہی انہیں نعم البدل عطا فرما دیا۔ رزق طیب بھی دیا اور پورے عرب پر انہیں اقتدار و تمکن عطا فرمایا۔ ٤١۔ ٣ حضرت عمر نے جب مہاجرین و انصار کے وظیفے مقرر کئے تو ہر مہاجر کو وظیفہ دیتے ہوئے فرمایا۔ ھَذَا مَا وَ عَدَکَ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا ' یہ وہ ہے جس کا اللہ نے دنیا میں وعدہ کیا ہے '۔ وما ادخر لک فی الآخرۃ افضل۔ اور آخرت میں تیرے لیے جو ذخیرہ ہے وہ اس سے کہییں بہتر ہے۔(41)
الَّذينَ صَبَروا وَعَلىٰ رَبِّهِم يَتَوَكَّلونَ(42)
(42)
وَما أَرسَلنا مِن قَبلِكَ إِلّا رِجالًا نوحى إِلَيهِم ۚ فَسـَٔلوا أَهلَ الذِّكرِ إِن كُنتُم لا تَعلَمونَ(43)
٤٣۔١ اَ ھْلُ الذِّکْر سے مراد اہل کتاب ہیں جو پچھلے انبیاء اور ان کی تاریخ سے واقف تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے، وہ انسان ہی تھے اس لئے محمد رسول اللہ بھی اگر انسان ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں کہ تم ان کی بشریت کی وجہ سے ان کی رسالت کا انکار کر دو۔ اگر تمہیں شک ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لو کہ پچھلے انبیاء بشر تھے یا ملائکہ؟ اگر وہ فرشتے تھے تو پھر بیشک انکار کر دینا، اگر وہ بھی انسان ہی تھے تو پھر محمد رسول اللہ کی رسالت کا محض بشریت کی وجہ سے انکار کیوں؟(43)
بِالبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ ۗ وَأَنزَلنا إِلَيكَ الذِّكرَ لِتُبَيِّنَ لِلنّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيهِم وَلَعَلَّهُم يَتَفَكَّرونَ(44)
(44)
أَفَأَمِنَ الَّذينَ مَكَرُوا السَّيِّـٔاتِ أَن يَخسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الأَرضَ أَو يَأتِيَهُمُ العَذابُ مِن حَيثُ لا يَشعُرونَ(45)
(45)
أَو يَأخُذَهُم فى تَقَلُّبِهِم فَما هُم بِمُعجِزينَ(46)
٤٦۔١ اس کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں، مثلًا، ١۔ جب تم تجارت اور کاروبار کے لئے سفر پر جاؤ،٢۔ جب تم کاروبار کو فروغ دینے کے لئے مختلف حیلے اور طریقے اختیار کرو،٣۔ یا رات کو آرام کرنے کے لئے اپنے بستروں پر جاؤ۔ یہ تَقَلُّب کے مختلف مفہوم ہیں۔ اللہ تعالٰی جب چاہے ان صورتوں میں بھی تمہارا مواخذا کر سکتا ہے۔(46)
أَو يَأخُذَهُم عَلىٰ تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُم لَرَءوفٌ رَحيمٌ(47)
٤٧۔١ ںخوف کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ پہلے سے ہی دل میں عذاب اور مواخذے کا ڈر ہو۔ جس طرح بعض دفعہ انسان کسی بڑے گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے، تو خوف محسوس کرتا ہے کہ کہیں اللہ میری گرفت نہ کر لے چنانچہ بعض دفعہ اس طرح مؤاخذہ ہوتا ہے۔ ٤٧۔٢ کہ وہ گناہوں پر فوراً مواخذہ نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے اور اس مہلت سے بہت سے لوگوں کو توبہ و استغفار کی توفیق بھی نصیب ہو جاتی ہے۔(47)
أَوَلَم يَرَوا إِلىٰ ما خَلَقَ اللَّهُ مِن شَيءٍ يَتَفَيَّؤُا۟ ظِلٰلُهُ عَنِ اليَمينِ وَالشَّمائِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُم دٰخِرونَ(48)
٤٨۔١ اللہ تعالٰی کی عظمت و کبریائی اور اس کی جلالت شان کا بیان ہے کہ ہرچیز اس کے سامنے جھکی ہوئی اور مطیع ہے۔ جمادات ہوں یا حیوانات یا جن و انسان اور ملائکہ۔ ہر وہ چیز جس کا سایہ ہے اور اس کا سایہ دائیں بائیں جھکتا ہے تو وہ صبح و شام اپنے سائے کے ساتھ اللہ کو سجدہ کرتی ہے۔ امام مجاہد فرماتے ہیں جب سورج ڈھلتا ہے تو ہرچیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔(48)
وَلِلَّهِ يَسجُدُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ مِن دابَّةٍ وَالمَلٰئِكَةُ وَهُم لا يَستَكبِرونَ(49)
(49)
يَخافونَ رَبَّهُم مِن فَوقِهِم وَيَفعَلونَ ما يُؤمَرونَ ۩(50)
٥٠۔١ اللہ کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ ٥٠۔٢ اللہ کے حکم سے سرتابی نہیں کرتے بلکہ جس کا حکم دیا جاتا ہے، بجا لاتے ہیں، جس سے منع کیا جاتا ہے، اس سے دور رہتے ہیں۔(50)
۞ وَقالَ اللَّهُ لا تَتَّخِذوا إِلٰهَينِ اثنَينِ ۖ إِنَّما هُوَ إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۖ فَإِيّٰىَ فَارهَبونِ(51)
٥١۔١ کیونکہ اللہ کے سوا کوئی معبود ہے ہی نہیں۔ اگر آسمان وزمین میں دو معبود ہوتے تو نظام عالم قائم ہی نہیں رہ سکتا تھا یہ فساد اور خرابی کا شکار ہو چکا ہوتا۔ جب کائنات کا خالق ایک ہے اور وہی بلا شرکت غیر تمام کائنات کا نظم و نسق چلا رہا ہے تو معبود بھی صرف وہی ہے جو اکیلا ہے۔ دو یا دو سے زیادہ نہیں ہیں۔(51)
وَلَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَلَهُ الدّينُ واصِبًا ۚ أَفَغَيرَ اللَّهِ تَتَّقونَ(52)
٥٢۔١ اسی کی عبادت و اطاعت دائمی اور لازم ہے وَاصِب کے معنی ہمیشگی کے ہیں ' ان کے لئے عذاب ہے ہمیشہ کا ' اور اس کا وہی مطلب ہے جو دوسرے مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ ' پس اللہ کی عبادت کرو، اسی کے لئے بندگی کو خالص کرتے ہوئے، خبردار! اسی کے لئے خالص بندگی ہے '۔(52)
وَما بِكُم مِن نِعمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ ثُمَّ إِذا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيهِ تَجـَٔرونَ(53)
٥٣۔١ جب سب نعمتوں کا دینے والا صرف ایک اللہ ہے تو پھر عبادت کسی اور کی کیوں؟ ٥٣۔٢ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ایک ہونے کا عقیدہ قلب و جدان کی گہرائیوں میں راسخ ہے جو اس وقت ابھر کر سامنے آ جاتا ہے جب ہر طرف سے مایوسی کے بادل گہرے ہو جاتے ہیں۔(53)
ثُمَّ إِذا كَشَفَ الضُّرَّ عَنكُم إِذا فَريقٌ مِنكُم بِرَبِّهِم يُشرِكونَ(54)
(54)
لِيَكفُروا بِما ءاتَينٰهُم ۚ فَتَمَتَّعوا ۖ فَسَوفَ تَعلَمونَ(55)
٥٥۔١ لیکن انسان بھی کتنا ناشکرا ہے کہ تکلیف (بیماری، تنگ دستی اور نقصان وغیرہ) کے دور ہوتے ہی وہ پھر رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ ٥٥۔٢ یہ اس طرح ہی ہے جیسے اس سے قبل فرمایا تھا، (قُلْ تمتعوا فَانَّ مَصِیْرَکمْ اِلَی النَّارِ) (ابراہیم۔٣٠) چند روزہ زندگی میں فائدہ اٹھالو! بالآخر تمہارا ٹھکانا جہنم ہے۔(55)
وَيَجعَلونَ لِما لا يَعلَمونَ نَصيبًا مِمّا رَزَقنٰهُم ۗ تَاللَّهِ لَتُسـَٔلُنَّ عَمّا كُنتُم تَفتَرونَ(56)
٥٦۔١ یعنی جن کو یہ حاجت روا، مشکل کشا اور معبود سمجھتے ہیں، وہ پتھر کی مورتیاں ہیں یا جنات و شیاطین ہیں، جن کی حقیقت کا ان کو علم ہی نہیں۔ اسی طرح قبروں میں مدفون لوگوں کی حقیقت بھی کوئی نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ وہاں کیا معاملہ ہو رہا ہے؟ وہ اللہ کے پسندیدہ افراد میں ہیں یا کسی دوسری فہرست میں؟ ان باتوں کو کوئی نہیں جانتا لیکن ان ظالم لوگوں نے ان کی حقیقت سے ناآشنا ہونے کے باوجود، انہیں اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے ان کے لیے بھی نذر ونیاز کے طور پر حصہ مقرر کرتے ہیں بلکہ اللہ کا حصہ رہ جائے تو بیشک رہ جائے ان کے حصے میں کمی نہیں کرتے جیسا کہ سورۃ الانعام میں بیان کیا گیا ہے۔ ٥٦۔٢ تم جو اللہ پر افترا کرتے ہو کہ اس کا شریک یا شرکا ہیں، اس کی بابت قیامت والے دن تم سے پوچھا جائے گا۔(56)
وَيَجعَلونَ لِلَّهِ البَنٰتِ سُبحٰنَهُ ۙ وَلَهُم ما يَشتَهونَ(57)
٥٧۔١ عرب کے بعض قبیلے (خزاعہ اور کنانہ) فرشتوں کی عبادت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یعنی ایک ظلم تو یہ کیا کہ اللہ کی اولاد قرار دی۔ جب کہ اس کی کوئی اولاد نہیں۔ پھر اولاد بھی مونث، جسے وہ اپنے لئے پسند ہی نہیں کرتے اللہ کے لئے اسے پسند کیا، جسے دوسرے مقام پر فرمایا ' کیا تمہارے لئے بیٹے اور اس کے لئے بیٹیاں؟ یہ تو بڑی بھونڈی تقسیم ہے ' یہاں فرمایا کہ تم تو یہ خواہش رکھتے ہو کہ بیٹے ہوں، بیٹی کوئی نہ ہو۔(57)
وَإِذا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالأُنثىٰ ظَلَّ وَجهُهُ مُسوَدًّا وَهُوَ كَظيمٌ(58)
(58)
يَتَوٰرىٰ مِنَ القَومِ مِن سوءِ ما بُشِّرَ بِهِ ۚ أَيُمسِكُهُ عَلىٰ هونٍ أَم يَدُسُّهُ فِى التُّرابِ ۗ أَلا ساءَ ما يَحكُمونَ(59)
٥٩۔١ یعنی لڑکی کی ولادت کی خبر سن کر ان کا تو یہ حال ہوتا ہے جو مذکور ہوا، اور اللہ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ کیسا برا یہ فیصلہ کرتے ہیں، یہاں یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ تعالٰی بھی لڑکوں کے مقابلے میں لڑکی کو حقیر اور کم تر سمجھتا ہے، نہیں اللہ کے نزدیک لڑکے اور لڑکی میں کوئی تمیز نہیں ہے نہ جنس کی نبیاد پر حقارت اور برتری کا تصور اس کے ہاں ہے یہاں تو صرف عربوں کی اس نا انصافی اور سراسر غیر معقول رویے کی وضاحت مقصود ہے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ اختیار کیا تھا درآں حالیکہ اللہ کی برتری اور فوقیت کے وہ بھی قائل تھے جس کا منطقی نتیجہ تو یہ تھا کہ جو چیز یہ اپنے لیے پسند نہیں کرتے، اللہ کے لیے بھی اسے تجویز نہ کرتے لیکن انہوں نے اس کے برعکس کیا۔ یہاں صرف اسی نا انصافی کی وضاحت کی گئی ہے۔(59)
لِلَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ مَثَلُ السَّوءِ ۖ وَلِلَّهِ المَثَلُ الأَعلىٰ ۚ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(60)
٦٠۔١ یعنی کافروں کے برے اعمال بیان کئے گئے ہیں انہیں کے لئے بری مثال یا صفت ہے یعنی جہل اور کفر کی صفت۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی جو بیوی اور اولاد یہ ٹھہراتے ہیں، یہ بری مثال ہے جو یہ منکرین آخرت اللہ کے لئے بیان کرتے ہیں۔ ٦٠۔٢ یعنی اس کی ہر صفت، مخلوق کے مقابلے میں اعلٰی و برتر ہے، مثلاً اس کا علم و سیع ہے، اس کی قدرت لا متناہی ہے، اس کی جود و عطا بے نظیر ہے۔ و علٰی ہذا القیاس یا یہ مطلب ہے کہ وہ قادر ہے، خالق ہے۔ رازق ہے اور سمیع و بصیر ہے وغیرہ (فتح القدیر) یا بری مثال کا مطلب نقص کوتاہی ہے اور مثل اعلی کا مطلب کمال مطلق ہر لحاظ سے اللہ کے لیے ہے۔(60)
وَلَو يُؤاخِذُ اللَّهُ النّاسَ بِظُلمِهِم ما تَرَكَ عَلَيها مِن دابَّةٍ وَلٰكِن يُؤَخِّرُهُم إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۖ فَإِذا جاءَ أَجَلُهُم لا يَستَـٔخِرونَ ساعَةً ۖ وَلا يَستَقدِمونَ(61)
٦١۔١ یہ اس کی نرم دلی ہے اور اس کی حکمت و مصلحت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی نافرمانیاں دیکھتا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنی نعمتیں سلب کرتا ہے نہ فوری مواخذہ ہی کرتا ہے حالاںکہ اگر ارتکاب معصیت کے ساتھ ہی وہ مواخذہ کرنا شروع کر دے تو ظلم اور معصیت اور کفر اور شرک اتنا عام ہے کہ روئے زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہے کیوں کہ جب برائی عام ہو جائے تو پھر عذاب عام میں نیک لوگ بھی ہلاک کر دیئے جاتے ہیں تاہم آخرت میں وہ عند اللہ سرخرو رہیں گے جیسا کہ حدیث میں وضاحت آتی ہے (ملاحظۃ ہو صحیح بخاری۔ نمبر ٢١١٨۔ ٦١۔٢ یہ اس کی حکمت کا بیان ہے جس کے تحت وہ ایک خاص وقت تک مہلت دیتا ہے تاکہ ایک تو ان کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ دوسرے، ان کی اولاد میں سے کچھ ایماندار نکل آئیں۔(61)
وَيَجعَلونَ لِلَّهِ ما يَكرَهونَ وَتَصِفُ أَلسِنَتُهُمُ الكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ الحُسنىٰ ۖ لا جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ النّارَ وَأَنَّهُم مُفرَطونَ(62)
٦٢۔١ یعنی بیٹیاں۔ یہ تکرار تاکید کے لئے ہے۔ ٦٢۔٢ یہ ان کی دوسری خرابی کا بیان ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ نا انصافی کا معاملہ کرتے ہیں ان کی زبانیں یہ جھوٹ بولتی ہیں کہ ان کا انجام اچھا ہے، ان کے لئے بھلائیاں ہیں اور دنیا کی طرح ان کی آخرت بھی اچھی ہوگی۔ ٦٢۔٣ یعنی یقیناً ان کا انجام ' اچھا ' ہے اور وہ ہے جہنم کی آگ، جس میں وہ دوزخیوں کے پیش رو پہلے جانے والے ہوں گے۔ فَرَط کے یہی معنی حدیث سے بھی ثابت ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' اَ نَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ ' (صحیح بخاری) ' میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا ' ایک دوسرے معنی مُفرَطُوْنَ کے یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں جہنم میں ڈال کر فراموش کر دیا جائے گا۔(62)
تَاللَّهِ لَقَد أَرسَلنا إِلىٰ أُمَمٍ مِن قَبلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيطٰنُ أَعمٰلَهُم فَهُوَ وَلِيُّهُمُ اليَومَ وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ(63)
٦٣۔١ جس کی وجہ سے انہوں نے بھی رسولوں کی تکذیب کی جس طرح پیغمبر قریش مکہ تیری تکذیب کر رہے ہیں۔ ٦٣۔٢ اَلْیَوْمَ سے یا تو زمانہ دنیا مراد ہے، جیسا کہ ترجمے سے واضح ہے، یا اس سے مراد آخرت ہے کہ وہاں بھی یہ ان کا ساتھی ہوگا۔ یعنی یہی شیطان جس نے پچھلی امتوں کو گمراہ کیا، آج وہ ان کفار مکہ کا دوست ہے اور انہیں تکذیب رسالت پر مجبور کر رہا ہے۔(63)
وَما أَنزَلنا عَلَيكَ الكِتٰبَ إِلّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِى اختَلَفوا فيهِ ۙ وَهُدًى وَرَحمَةً لِقَومٍ يُؤمِنونَ(64)
٦٤۔١ اس میں نبی کا یہ منصب بیان کیا گیا کہ عقائد و احکام شرعیہ کے سلسلے میں یہود و انصاری کے درمیان اور اسی طرح مجوسیوں اور مشرکین کے درمیان اور دیگر اہل مذاہب کے درمیان جو باہم اختلاف ہے، اس کی اس طرح تفصیل بیان فرمائیں کہ حق اور باطل واضح ہو جائے تاکہ لوگ حق کو اختیار اور باطل سے پرہیز کریں۔(64)
وَاللَّهُ أَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَحيا بِهِ الأَرضَ بَعدَ مَوتِها ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِقَومٍ يَسمَعونَ(65)
(65)
وَإِنَّ لَكُم فِى الأَنعٰمِ لَعِبرَةً ۖ نُسقيكُم مِمّا فى بُطونِهِ مِن بَينِ فَرثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خالِصًا سائِغًا لِلشّٰرِبينَ(66)
٦٦۔١ اَنْعَام (چوپائے) سے اونٹ، گائے، بکری (اور بھیڑ، دنبہ) مراد ہوتے ہیں۔ ٦٦۔٢ یہ چوپائے جو کچھ کھاتے ہیں، معدے میں جاتا ہے، اسی خوراک سے دودھ، خون، گوبر اور پیشاب بنتا ہے، خون رگوں میں اور دودھ تھنوں میں اسی طرح گوبر اور پیشاب اپنے اپنے مخرج میں منتقل ہو جاتا ہے اور دودھ میں نہ خون کی رنگت شامل ہوتی ہے اور نہ گوبر پیشاب کی بدبو۔ سفید اور شفاف دودھ باہر آتا ہے جو نہایت آسانی سے حلق سے نیچے اتر جاتا ہے۔(66)
وَمِن ثَمَرٰتِ النَّخيلِ وَالأَعنٰبِ تَتَّخِذونَ مِنهُ سَكَرًا وَرِزقًا حَسَنًا ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِقَومٍ يَعقِلونَ(67)
٦٧۔١ یہ آیت اس وقت اتری تھی جب شراب حرام نہیں تھی، اس لئے حلال چیزوں کے ساتھ اس کا بھی ذکر کیا گیا ہے، لیکن اس میں سَکَرً ا کے بعد رِزْقًا حَسَنًا ہے، جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شراب رزق حسن نہیں ہے۔ نیز یہ سورت مکی ہے۔ جس میں شراب کے بارے ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔ پھر مدنی سورتوں میں بتدریج اس کی حرمت نازل ہو گئی۔(67)
وَأَوحىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحلِ أَنِ اتَّخِذى مِنَ الجِبالِ بُيوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمّا يَعرِشونَ(68)
٦٨۔١ وَحَیً سے مراد الہام اور وہ سمجھ بوجھ ہے جو اللہ تعالٰی نے اپنی طبعی ضروریات کی تکمیل کے لئے حیوانات کو بھی عطا کی ہے۔(68)
ثُمَّ كُلى مِن كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسلُكى سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ۚ يَخرُجُ مِن بُطونِها شَرابٌ مُختَلِفٌ أَلوٰنُهُ فيهِ شِفاءٌ لِلنّاسِ ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ(69)
٦٩۔١ شہد کی مکھی پہلے پہاڑوں میں، درختوں میں انسانی عمارتوں کی بلندیوں پر اپنا مسدس خانہ اور چھتہ اس طرح بناتی ہے کہ درمیان میں کوئی شگاف نہیں رہتا۔ پھر وہ باغوں، جنگلوں، وادیوں اور پہاڑوں میں گھومتی پھرتی ہے اور ہر قسم کے پھلوں کا جوس اپنے پیٹ میں جمع کرتی ہے اور پھر انہیں راہوں سے، جہاں جہاں سے وہ گزرتی ہے، واپس لوٹتی ہے اور اپنے چھتے میں آ کر بیٹھ جاتی ہے، جہاں اس کے منہ یا دبر سے وہ شہد نکلتا ہے جسے قرآن نے ' شراب ' سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی مشروب روح افزا۔ ٦٩۔٢ کوئی سرخ، کوئی سفید، کوئی نیلا اور کوئی زرد رنگ کا، جس قسم کے پھلوں اور کھیتوں سے وہ خوراک حاصل کرتی ہے، اسی حساب سے اس کا رنگ اور ذائقہ بھی مختلف ہوتا ہے۔ ٦٩۔٣ شِفَاء میں تنکیر تعظیم کے لئے ہے۔ یعنی بہت سے امراض کے لئے شہد میں شفا ہے۔ یہ نہیں کہ مطلقًا ہر بیماری کا علاج ہے۔ علمائےطب نے تشریح کی ہے کہ شہد یقیناً ایک شفا بخش قدرتی مشروب ہے۔ لیکن مخصوص بیماریوں کے لئے نہ کہ ہر بیماری کے لئے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حلوا میٹھی چیز اور شہد پسند تھا (صحیح البخاری، کتاب الاشربہ۔ باب شراب الحلواء والعسل) ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا تین چیزوں میں شفا ہے۔ فصد کھلوانے (پچھنے لگانے) میں شہد کے پینے میں اور آگ سے داغنے میں۔ لیکن میں اپنی امت کو داغ لگونے سے منع کرتا ہوں۔ حدیث میں ایک واقعہ بھی آتا ہے اسہال (دست) کے مرض میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد پلانے کا مشورہ دیا جس سے مزید فضلات خارج ہوئے اور گھر والے سمجھے کہ شاید مرض میں اضافہ ہوگیا ہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ جا اور اسے شہد پلا چنانچہ تیسری مرتبہ میں اسے شفائے کاملہ حاصل ہو گئی۔(69)
وَاللَّهُ خَلَقَكُم ثُمَّ يَتَوَفّىٰكُم ۚ وَمِنكُم مَن يُرَدُّ إِلىٰ أَرذَلِ العُمُرِ لِكَى لا يَعلَمَ بَعدَ عِلمٍ شَيـًٔا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَليمٌ قَديرٌ(70)
٧٠۔١ جب انسان طبعی عمر سے تجاوز کر جاتا ہے تو پھر اس کا حافظہ بھی کمزور ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ عقل بھی ماؤف، اور وہ نادان بچے کی طرح ہو جاتا ہے۔ یہی طویل عمر ہے جس سے نبی نے بھی پناہ مانگی ہے۔(70)
وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعضَكُم عَلىٰ بَعضٍ فِى الرِّزقِ ۚ فَمَا الَّذينَ فُضِّلوا بِرادّى رِزقِهِم عَلىٰ ما مَلَكَت أَيمٰنُهُم فَهُم فيهِ سَواءٌ ۚ أَفَبِنِعمَةِ اللَّهِ يَجحَدونَ(71)
٧١۔١ یعنی جب تم اپنے غلاموں کو اتنا مال اسباب دنیا نہیں دیتے کہ تمہارے برابر ہو جائیں تو اللہ تعالٰی کب یہ پسند کرے گا کہ تم کچھ لوگوں کو، جو اللہ ہی کے بندے اور غلام ہیں اللہ کا شریک اور اس کے برابر قرار دے دو، اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ معاشی لحاظ سے انسانوں میں جو فرق پایا جاتا ہے وہ اللہ تعالٰی کے بنائے ہوئے فطری نظام کے مطابق ہے۔ جسے جبری قوانین کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا کہ اشتراکی نظام میں ہے یعنی معاشی مساوات کی غیر فطری کوشش کی بجائے ہر کسی کو معاشی میدان میں کسب معاش کے لئے مساوی طور پر دوڑ دھوپ کے مواقع میسر ہونے چاہیں۔ ٧١۔۲کہ اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے غیر اللہ کے لیے نذر نیاز نکالتے ہیں اور یوں کفران نعمت کرتے ہیں۔(71)
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِن أَنفُسِكُم أَزوٰجًا وَجَعَلَ لَكُم مِن أَزوٰجِكُم بَنينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُم مِنَ الطَّيِّبٰتِ ۚ أَفَبِالبٰطِلِ يُؤمِنونَ وَبِنِعمَتِ اللَّهِ هُم يَكفُرونَ(72)
٧٢۔١ یعنی اللہ تعالٰی اپنے انعامات کا تذکرہ کر کے جو آیت میں مذکور ہیں، سوال کر رہا ہے کہ سب کچھ دینے والا تو اللہ ہے، لیکن یہ اسے چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں اور دوسروں کا ہی کہنا مانتے ہیں۔(72)
وَيَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَملِكُ لَهُم رِزقًا مِنَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ شَيـًٔا وَلا يَستَطيعونَ(73)
٧٣۔١ یعنی اللہ کو چھوڑ کر عبادت بھی ایسے لوگوں کی کرتے ہیں جن کے پاس کسی چیز کا اختیار نہیں۔(73)
فَلا تَضرِبوا لِلَّهِ الأَمثالَ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَعلَمُ وَأَنتُم لا تَعلَمونَ(74)
٧٤۔١ جس طرح مشرکین مثالیں دیتے ہیں کہ بادشاہ سے ملنا ہو یا اس سے کوئی کام ہو تو کوئی براہ راست بادشاہ سے نہیں مل سکتا ہے۔ پہلے اسے بادشاہ کے مقربین سے رابطہ کرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر بادشاہ تک اس کی رسائی ہوتی ہے اسی طرح اللہ کی ذات بھی بہت اعلی اور اونچی ہے۔ اس تک پہنچنے کے لیے ہم ان معبودوں کو ذریعہ بناتے ہیں یا بزرگوں کا وسیلہ پکڑتے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا، تم اللہ کو اپنے پر قیاس مت کرو نہ اس قسم کی مثالیں دو۔ اس لیے کہ وہ تو واحد ہے، اس کی کوئی مثال ہی نہیں ہے۔ پھر بادشاہ نہ تو عالم الغیب ہے، نہ حاضر و ناظر نہ سمیع وبصیر۔ کہ وہ بغیر کسی ذریعے کے رعایا کے حالات وضروریات سے آگاہ ہو جائے جب کہ اللہ تعالٰی تو ظاہر وباطن اور حاضر غائب ہرچیز کا علم رکھتا ہے، رات کی تاریکیوں میں ہونے والے کاموں کو بھی دیکھتا ہے اور ہر ایک کی فریاد سننے پر بھی قادر ہے۔ بھلا ایک انسانی بادشاہ اور حاکم کا اللہ تعالٰی کے ساتھ کیا مقابلہ اور موازنہ؟(74)
۞ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبدًا مَملوكًا لا يَقدِرُ عَلىٰ شَيءٍ وَمَن رَزَقنٰهُ مِنّا رِزقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنفِقُ مِنهُ سِرًّا وَجَهرًا ۖ هَل يَستَوۥنَ ۚ الحَمدُ لِلَّهِ ۚ بَل أَكثَرُهُم لا يَعلَمونَ(75)
٧٥۔١ بعض کہتے ہیں کہ یہ غلام اور آزاد کی مثال ہے کہ پہلا شخص غلام اور دوسرا آزاد ہے۔ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے بعض کہتے ہیں کہ یہ مومن اور کافر کی مثال ہے۔ پہلا کافر اور دوسرا مومن ہے۔ یہ برابر نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالٰی اور بُت (معبودان باطلہ) کی مثال ہے، پہلے سے مراد بُت اور دوسرے سے اللہ ہے۔ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے مطلب یہی ہے کہ ایک غلام اور آزاد، باوجود اس بات کے کہ دونوں انسان ہیں، دونوں اللہ کی مخلوق ہیں اور بھی بہت سی چیزیں دونوں کے درمیان مشترکہ ہیں، اس کے باوجود رتبہ اور شرف اور فضل و منزلت میں تم دونوں کو برابر نہیں سمجھتے تو اللہ تعالٰی اور پتھر کی ایک مورتی یہ دونوں کس طرح برابر ہو سکتے ہیں۔(75)
وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلَينِ أَحَدُهُما أَبكَمُ لا يَقدِرُ عَلىٰ شَيءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلىٰ مَولىٰهُ أَينَما يُوَجِّههُ لا يَأتِ بِخَيرٍ ۖ هَل يَستَوى هُوَ وَمَن يَأمُرُ بِالعَدلِ ۙ وَهُوَ عَلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(76)
٧٦۔١ یہ ایک اور مثال ہے جو پہلے سے زیادہ واضح ہے۔ ٧٦۔٢ اور ہر کام کرنے پر قادر ہے کیونکہ ہر بات بولتا اور سمجھتا ہے اور ہے بھی سیدھی راہ یعنی دین اور سیرت صالحہ پر۔ یعنی کمی بیشی سے پاک۔ جس طرح یہ دونوں برابر نہیں، اسی طرح اللہ تعالٰی اور وہ چیزیں، جن کو لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، برابر نہیں ہو سکتے۔(76)
وَلِلَّهِ غَيبُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ وَما أَمرُ السّاعَةِ إِلّا كَلَمحِ البَصَرِ أَو هُوَ أَقرَبُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(77)
٧٧۔١ یعنی آسمان اور زمین میں جو چیزیں غائب ہیں اور وہ بے شمار ہیں اور انہی میں قیامت کا علم ہے۔ ان کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ اس لئے عبادت کے لائق بھی صرف ایک اللہ ہے نہ کہ وہ پتھر کے بُت جن کو کسی چیز کا علم نہیں نہ وہ کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر قادر ہیں۔ ٧٧۔٢ یعنی اس کی قدرت کاملہ کی دلیل ہے کہ وسیع وعریض کائنات اس کے حکم سے پلک جھپکنے میں بلکہ اس سے بھی کم لمحے میں تباہ برباد ہو جائے گی۔ یہ بات بطور مبالغہ نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت واقعہ ہے کیونکہ اس کی قدرت غیر متناہی ہے۔ جس کا ہم اندازہ نہیں کر سکتے، اس کے ایک لفظ کُنْ سے سب کچھ ہو جاتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ تو یہ قیامت بھی اس کے کُنْ(ہو جا) کہنے سے برپا ہو جائے گی۔(77)
وَاللَّهُ أَخرَجَكُم مِن بُطونِ أُمَّهٰتِكُم لا تَعلَمونَ شَيـًٔا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمعَ وَالأَبصٰرَ وَالأَفـِٔدَةَ ۙ لَعَلَّكُم تَشكُرونَ(78)
٧٨۔١ شَیْئًا، نکرہ ہے تم کچھ نہیں جانتے تھے، نہ نیکی و بد بختی کو، نہ فائدے اور نقصان کو۔ ٧٨۔٢ تاکہ کانوں کے ذریعے تم آوازیں سنو، آنکھوں کے ذریعے سے چیزوں کو دیکھو اور دل، یعنی عقل (کیونکہ عقل کا مرکز دل ہے) دی، جس سے چیزوں کے درمیان تمیز کر سکو اور نفع نقصان پہچان سکو، جوں جوں انسان بڑا ہوتا ہے، اس کی عقل و حواس میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب انسان شعور اور بلوغت کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس کی یہ صلاحیتیں بھی قوی ہو جاتی ہیں، حتیٰ کہ پھر کمال کو پہنچ جاتی ہیں۔ ٧٨۔٣ یعنی یہ صلاحیتیں اور قوتیں اللہ تعالٰی نے اس لئے عطا کی ہیں کہ انسان ان عضا و جوارح کو اس طرح استعمال کرے جس سے اللہ تعالٰی راضی ہو جائے۔ ان سے اللہ کی عبادت و اطاعت کرے۔ یہی اللہ کی ان نعمتوں کا عملی شکر ہے حدیث میں آتا ہے ' میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سب سے محبوب وہ چیزیں ہیں جو میں نے اس پر فرض کی ہیں۔ علاوہ ازیں نوافل کے ذریعے سے بھی وہ میرا قرب حاصل کرنے کی سعی کرتا ہے۔ حتی کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ اور جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہےآنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے پاؤں ہو جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اور مجھ سے کسی چیز سے پناہ طلب کرتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔ تنبیہ: اس حدیث کا بعض لوگ غلط مطلب لے کر اولیاء اللہ کو خدائی اختیارات کا حامل باور کراتے ہیں۔ حالانکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب بندہ اپنی اطاعت و عباد اللہ کے لیے خالص کر لیتا ہے تو اس کا ہر کام صرف اللہ کی رضا کے کے لیے ہوتا ہے، وہ اپنے کانوں سے وہی بات سنتا اور اپنی آنکھوں سے وہی چیز دیکھتا ہے جس کی اللہ نے اجازت دی ہے، جس چیز کو ہاتھ سے پکڑتا ہے یا پیروں سے چل کر اس کی طرف جاتا ہے تو وہی چیز ہوتی ہے جس کو شریعت نے روا رکھا ہے وہ ان کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہیں کرتا بلکہ صرف اطاعت میں استعمال کرتا ہے۔(78)
أَلَم يَرَوا إِلَى الطَّيرِ مُسَخَّرٰتٍ فى جَوِّ السَّماءِ ما يُمسِكُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يُؤمِنونَ(79)
٧٩۔١ یہ اللہ تعالٰی ہی ہے جس نے پرندوں کو اس طرح اڑنے کی اور ہواؤں کو انہیں اپنے دوش پر اٹھائے رکھنے کی طاقت بخشی۔(79)
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِن بُيوتِكُم سَكَنًا وَجَعَلَ لَكُم مِن جُلودِ الأَنعٰمِ بُيوتًا تَستَخِفّونَها يَومَ ظَعنِكُم وَيَومَ إِقامَتِكُم ۙ وَمِن أَصوافِها وَأَوبارِها وَأَشعارِها أَثٰثًا وَمَتٰعًا إِلىٰ حينٍ(80)
٨٠۔١ یعنی چمڑے کے خیمے، جنہیں تم سفر میں آسانی کے ساتھ اٹھائے پھرتے ہو، اور جہاں ضرورت پڑتی ہے اسے تان کر موسم کی شدتوں سے اپنے کو محفوط کر لیتے ہو۔ ٨٠۔٢ اَ صْوَاف، صُوْف، کی جمع۔ بھیڑ کی اون اَوْبَار، وَبَر، کی جمع، اونٹ کے بال، اَشْعَار، شَعَر، کی جمع، دنبے اور بکری کے بال۔ ان سے کئی قسم کی چیزیں تیار ہوتی ہیں، جن سے انسان کو مال بھی حاصل ہوتا ہے اور ان سے ایک وقت تک فائدہ بھی اٹھاتا ہے۔(80)
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِمّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَجَعَلَ لَكُم مِنَ الجِبالِ أَكنٰنًا وَجَعَلَ لَكُم سَرٰبيلَ تَقيكُمُ الحَرَّ وَسَرٰبيلَ تَقيكُم بَأسَكُم ۚ كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعمَتَهُ عَلَيكُم لَعَلَّكُم تُسلِمونَ(81)
٨١۔١ یعنی درخت جن سے سایہ حاصل کیا جاتا ہے۔ ٨١۔٢ یعنی اون اور روئی کے کرتے جو عام پہننے میں آتے ہیں اور لوہے کی زرہیں اور خود جو جنگوں میں پہنی جاتی ہیں۔(81)
فَإِن تَوَلَّوا فَإِنَّما عَلَيكَ البَلٰغُ المُبينُ(82)
(82)
يَعرِفونَ نِعمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنكِرونَها وَأَكثَرُهُمُ الكٰفِرونَ(83)
٨٣۔١ یعنی اس بات کو جانتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ ساری نعمتیں پیدا کرنے والا اور ان کا استعمال میں لانے کی صلاحیتیں عطا کرنے والا صرف اللہ تعالٰی ہے، پھر بھی اللہ کا انکار کرتے ہیں اور اکثر ناشکری کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔(83)
وَيَومَ نَبعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهيدًا ثُمَّ لا يُؤذَنُ لِلَّذينَ كَفَروا وَلا هُم يُستَعتَبونَ(84)
٨٤۔١ یعنی ہر امت پر اس امت کا پیغمبر گواہی دے گا کہ انہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی ان کافروں کو عذر پیش کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی، اس لئے کہ ان کے پاس حقیقت میں کوئی عذر یا حجت ہوگی ہی نہیں۔ نہ ان سے رجوع یا عتاب دور کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ کیونکہ اس کی ضرورت بھی اس وقت پیش آتی ہے جب کسی کو گنجائش دینا مقصود ہو، ایک دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں اپنے رب کو راضی کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ وہ موقع تو دنیا میں دیا جا چکا ہے جو دارالعمل ہے۔ آخرت تو دارعمل نہیں، وہ تو دارالجزا ہے، وہاں تو اس چیز کا بدلہ ملے گا جو انسان دنیا سے کر کے گیا ہو گا، وہاں کچھ کرنے کا موقع کسی کو نہیں ملے گا۔(84)
وَإِذا رَءَا الَّذينَ ظَلَمُوا العَذابَ فَلا يُخَفَّفُ عَنهُم وَلا هُم يُنظَرونَ(85)
٨٥۔١ ہلکا نہ کرنے کا مطلب، درمیان میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا، عذاب اور مسلسل بلا توقف عذاب ہوگا۔ اور نہ ڈھیل ہی دیئے جائیں گے یعنی، ان کو فوراً لگاموں سے پکڑ کر اور زنجیروں میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا یا توبہ کا موقع نہیں دیا جائے گا، کیونکہ آخرت عمل کی جگہ نہیں، جزا کا مقام ہے۔(85)
وَإِذا رَءَا الَّذينَ أَشرَكوا شُرَكاءَهُم قالوا رَبَّنا هٰؤُلاءِ شُرَكاؤُنَا الَّذينَ كُنّا نَدعوا مِن دونِكَ ۖ فَأَلقَوا إِلَيهِمُ القَولَ إِنَّكُم لَكٰذِبونَ(86)
٨٦۔١ معبودان باطلہ کی پوجا کرنے والے اپنے اس دعوے میں جھوٹے تو نہیں ہوں گیں۔ لیکن شرکا جن کو یہ اللہ کا شریک گردانتے تھے، کہیں گے یہ جھوٹے ہیں۔ یہ یا تو شرکت کی نفی ہے ہمیں اللہ کا شریک ٹھہرانے میں یہ جھوٹے ہیں، بھلا اللہ کا شریک کوئی ہو سکتا ہے؟ یا اسلئے جھوٹا قرار دیں گے کہ وہ ان کی عبادت سے بالکل بے خبر تھے، جس طرح قرآن کریم نے متعدد جگہ اس بات کو بیان فرمایا ہے۔ ' ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ بطور گواہ کافی ہے کہ ہم اس بات سے بے خبر تھے کہ تم ہماری عبادت کرتے تھے۔ مزید دیکھیے سورہ احقاف ۵،٦،۔ سورہ مریم ۸۱،۸۲۔ سورہ عنکبوت ۲۵۔ سورہ کہف ۵۲۔ وغیرھا من الایات ایک یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہم نے تمہیں اپنی عبادت کرنے کے لیے کبھی نہیں کہا تھا اس لیے تم ہی جھوٹے ہو۔ یہ شرکا اگر حجر وشجر ہوں گے تو اللہ تعالٰی انہیں قوت گویائی عطا فرمائے گا۔ جنات وشیاطین ہوں گے تو کوئی اشکال ہی نہیں ہے اور اگر اللہ کے نیک بندے ہوں گے جس طرح کہ متعدد صلحا واتقیا اور اولیاء اللہ کو لوگ مدد کے لیے پکارتے ہیں ان کے نام کی نذر نیاز دیتے ہیں اور ان کی قبروں پر جا کر ان کی اسی طرح تعظیم کرتے ہیں جس طرح کسی معبود کی خوف ورجا کے جذبات کے ساتھ کی جاتی ہے۔ تو اللہ تعالٰی ان کو میدان محشر میں ہی بری فرما دے گا اور ان کی عبادت کرنے والوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالٰی کا سوال اور ان کا جواب سورہ مائدہ کے آخر میں مذکور ہے۔(86)
وَأَلقَوا إِلَى اللَّهِ يَومَئِذٍ السَّلَمَ ۖ وَضَلَّ عَنهُم ما كانوا يَفتَرونَ(87)
(87)
الَّذينَ كَفَروا وَصَدّوا عَن سَبيلِ اللَّهِ زِدنٰهُم عَذابًا فَوقَ العَذابِ بِما كانوا يُفسِدونَ(88)
٨٨۔١ جس طرح جنت میں اہل ایمان کے درجات مختلف ہوں گے، اسی طرح جہنم میں کفار کے عذاب میں فرق ہوگا جو گمراہ ہونے کے ساتھ دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے ہونگے، ان کا عذاب دوسروں کی نسبت شدید تر ہوگا۔(88)
وَيَومَ نَبعَثُ فى كُلِّ أُمَّةٍ شَهيدًا عَلَيهِم مِن أَنفُسِهِم ۖ وَجِئنا بِكَ شَهيدًا عَلىٰ هٰؤُلاءِ ۚ وَنَزَّلنا عَلَيكَ الكِتٰبَ تِبيٰنًا لِكُلِّ شَيءٍ وَهُدًى وَرَحمَةً وَبُشرىٰ لِلمُسلِمينَ(89)
٨٩۔١ یعنی ہر نبی اپنی امت پر گواہی دے گا اور نبی اور آپ کی امت کے لوگ انبیاء کی بابت گواہی دیں گے کہ یہ سچے ہیں، انہوں نے یقیناً تیرا پیغام پہنچا دیا تھا (صحیح بخاری) ٨٩۔٢ کتاب سے مراد اللہ کی کتاب اور نبی کی تشریحات (احادیث) ہیں۔ اپنی احادیث کو بھی اللہ کے رسول نے ' کتاب اللہ ' قرار دیا ہے۔ اور ہرچیز کا مطلب ہے، ماضی اور مستقبل کی خبریں جن کا علم ضروری اور مفید ہے، اسی طرح حرام و حلال کی تفصیلات اور وہ باتیں جن کے دین و دنیا اور معاش و معاد کے معاملات میں انسان محتاج ہیں۔ قرآن و حدیث دونوں میں یہ سب چیزیں واضح کر دی گئی ہیں۔(89)
۞ إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُ بِالعَدلِ وَالإِحسٰنِ وَإيتائِ ذِى القُربىٰ وَيَنهىٰ عَنِ الفَحشاءِ وَالمُنكَرِ وَالبَغىِ ۚ يَعِظُكُم لَعَلَّكُم تَذَكَّرونَ(90)
٩٠۔١ عدل کے مشہور معنی انصاف کرنے کے ہیں۔ یعنی اپنوں اور بیگانوں سب کے ساتھ انصاف کیا جائے، کسی کے ساتھ دشمنی یا عناد یا محبت یا قرابت کی وجہ سے، انصاف کے تقاضے مجروح نہ ہوں۔ ایک دوسرے معنی اعتدال کے ہیں یعنی کسی معاملے میں بھی زیادتی یا کمی کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ حتیٰ کہ دین کے معاملے میں بھی۔ کیونکہ دین میں زیادتی کا نتیجہ حد سے زیادہ گزر جانا ہے، جو سخت خراب ہے اور کمی، دین میں کوتاہی ہے یہ بھی ناپسندیدہ ہے۔ ٩٠۔۲احسان کے ایک معنی حسن سلوک، عفو ودرگزر اور معاف کر دینے کے ہیں۔ دوسرے معنی تفضل کے ہیں یعنی حق واجب سے زیادہ دینا یا عمل واجب سے زیادہ عمل کرنا۔ مثلا کسی کام کی مزدوری سو روپے طے ہے لیکن دیتے وقت ۱۰،۲۰ روپے زیادہ دے دینا، طے شدہ سو روپے کی ادائیگی حق واجب ہے اور یہ عدل ہے۔ مزید ۱۰،۲۰ روپے یہ احسان ہے۔ عدل سے بھی معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے لیکن احسان سے مزید خوش گواری اور اپنائیت و فدائیت کے جذبات نشو ونما پاتے ہیں۔ اور فرائض کی ادائیگی کے ساتھ نوافل کا اہتمام، عمل واجب سے زیادہ عمل جس سے اللہ کا قرب خصوصی حاصل ہوتا ہے۔ احسان کے ایک تیسرے معنی اخلاص عمل اور حسن عبادت ہے، جس کو حدیث میں ان تعبد اللہ کانک تراہ اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایتاء ذی القربی رشتے داروں کا حق ادا کرنا یعنی ان کی امداد کرنا ہے اسے حدیث میں صلہ رحمی کہا گیا ہے اور اس کی نہایت تاکید احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ عدل واحسان کے بعد اس کا الگ سے ذکر یہ بھی صلہ رحمی کی اہمیت کو واضح کر رہا ہے۔ فحشاء سے مراد بے حیائی کے کام ہیں۔ آج کل بے حیائی اتنی عام ہوگئی ہے کہ اس کا نام تہذیب ترقی اور آرٹ قرار پا گیا ہے۔ یا تفریح کےنام پر اس کا جواز تسلیم کر لیا گیا ہے۔ تاہم محض خوشنما لیبل لگا لینے سے کسی چیز کی حقیقت نہیں بدل جاتی اسی طرح شریعت اسلامیہ نے زنا اور اس کے مقدمات کو رقص وسرود بے پردگی اور فیشن پرستی کو اور مرد و زن کے بے باکانہ اختلاط اور مخلوط معاشرت اور دیگر اس قسم کی خرافات کو بے حیائی قرار دیا ہے، ان کا کتنا بھی اچھا نام رکھ لیا جائے مغرب سے درآمد شدہ یہ خباثتیں جائز قرار نہیں پا سکتیں۔ منکر ہر وہ کام ہے جسے شریعت نے ناجائز قرار دیا ہے اور بغی کا مطلب ظلم وزیادتی کا ارتکاب۔ ایک حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ قطع رحمی اور بغی یہ دونوں جرم اللہ کو اتنے ناپسند ہیں کہ اللہ تعالٰی کی طرف سے آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی ان کی فوری سزا کا امکان غالب رہتا ہے۔(90)
وَأَوفوا بِعَهدِ اللَّهِ إِذا عٰهَدتُم وَلا تَنقُضُوا الأَيمٰنَ بَعدَ تَوكيدِها وَقَد جَعَلتُمُ اللَّهَ عَلَيكُم كَفيلًا ۚ إِنَّ اللَّهَ يَعلَمُ ما تَفعَلونَ(91)
٩١۔١ قَسَم ایک تو وہ ہے جو کسی عہد و پیمان کے وقت، اسے مزید پختہ کرنے کے لئے کھائی جاتی ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جو انسان اپنے طور پر کسی وقت کھا لیتا ہے کہ میں فلاں کام کروں گا یا نہیں کروں گا۔ یہاں آیت میں اول الذکر قسم مراد ہے کہ تم نے قسم کھا کر اللہ کو ضامن بنا لیا ہے۔ اب اسے نہیں توڑنا بلکہ عہد وپیمان کو پورا کرنا ہے جس پر تم نے قسم کھائی ہے۔ کیونکہ ثانی الذکر قسم کی بابت تو حدیث میں حکم دیا گیا ہے کہ ' کوئی شخص کسی کام کی بابت قسم کھا لے، پھر وہ دیکھے کہ زیادہ خیر دوسری چیز میں ہے (یعنی قسم کے خلاف کرنے میں ہے) تو بہتری والے کام کو اختیار کرے اور قسم کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرے، نبی کا عمل بھی یہی تھا۔ (صحیح بخاری)(91)
وَلا تَكونوا كَالَّتى نَقَضَت غَزلَها مِن بَعدِ قُوَّةٍ أَنكٰثًا تَتَّخِذونَ أَيمٰنَكُم دَخَلًا بَينَكُم أَن تَكونَ أُمَّةٌ هِىَ أَربىٰ مِن أُمَّةٍ ۚ إِنَّما يَبلوكُمُ اللَّهُ بِهِ ۚ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُم يَومَ القِيٰمَةِ ما كُنتُم فيهِ تَختَلِفونَ(92)
٩٢۔١ یعنی مؤکد بہ حلف عہد کو توڑ دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی عورت سوت کاتنے کے بعد اسے خود ہی ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ یہ تمثیل ہے۔ ٩٢۔٢ یعنی دھوکہ اور فریب دینے کا ذریعہ بناؤ۔ ٩٢۔٣ جب تم دیکھو کہ اب تم زیادہ ہوگئے ہو تو اپنے گمان سے حلف توڑ دو، جب کہ قسم اور معاہدے کے وقت وہ گروہ کمزور تھا، لیکن کمزوری کے باوجود وہ مطمئن تھا کہ معاہدے کی وجہ سے ہمیں نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ لیکن تم عذر اور نقص عہد کر کے نقصان پہنچاؤ۔ زمانہء جایلیت میں اخلاقی پستی کی وجہ سے اس قسم کی عہد شکنی عام تھی، مسلمانوں کو اس اخلاقی پستی سے روکا گیا ہے۔(92)
وَلَو شاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُم أُمَّةً وٰحِدَةً وَلٰكِن يُضِلُّ مَن يَشاءُ وَيَهدى مَن يَشاءُ ۚ وَلَتُسـَٔلُنَّ عَمّا كُنتُم تَعمَلونَ(93)
(93)
وَلا تَتَّخِذوا أَيمٰنَكُم دَخَلًا بَينَكُم فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعدَ ثُبوتِها وَتَذوقُوا السّوءَ بِما صَدَدتُم عَن سَبيلِ اللَّهِ ۖ وَلَكُم عَذابٌ عَظيمٌ(94)
٩٤۔١ مسلمانوں کو دوبارہ مذکورہ عہد شکنی سے روکا جا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری اس اخلاقی پستی سے کسی کے قدم ڈگمگا جائیں اور کافر تمہارا یہ رویہ دیکھ کر قبول اسلام سے رک جائیں اور یوں تم لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کے مجرم اور سزا کے مستحق بن جاؤ۔ بعض مفسرین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت مراد لی ہے۔ یعنی نبی کی بیعت توڑ کر پھر مرتد ہو جانا، تمہارے ارادوں کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اسلام قبول کرنے سے رک جائیں گے اور یوں تم دگنے عذاب کے مستحق قرار پاؤ گے۔ (فتح القدیر)(94)
وَلا تَشتَروا بِعَهدِ اللَّهِ ثَمَنًا قَليلًا ۚ إِنَّما عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم تَعلَمونَ(95)
(95)
ما عِندَكُم يَنفَدُ ۖ وَما عِندَ اللَّهِ باقٍ ۗ وَلَنَجزِيَنَّ الَّذينَ صَبَروا أَجرَهُم بِأَحسَنِ ما كانوا يَعمَلونَ(96)
(96)
مَن عَمِلَ صٰلِحًا مِن ذَكَرٍ أَو أُنثىٰ وَهُوَ مُؤمِنٌ فَلَنُحيِيَنَّهُ حَيوٰةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجزِيَنَّهُم أَجرَهُم بِأَحسَنِ ما كانوا يَعمَلونَ(97)
٩٧۔١ حیات طیبہ (بہتر زندگی) سے مراد دنیا کی زندگی ہے، اس لئے آخرت کی زندگی کا ذکر اگلے جملے میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایک مومن باکردار کو صالحانہ اور متقیانہ زندگی گزارنے اور اللہ کی عبادت و اطاعت اور زہد و قناعت میں جو لذت و حلاوت محسوس ہوتی ہے، وہ ایک کافر اور نافرمان کو دنیا بھر کی آسائشوں اور سہولتوں کے باوجود میسر نہیں آتی، بلکہ وہ ایک طرح کی بے چینی و اضطراب کا شکار رہتا ہے۔ "ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا" جس نے میری یاد سے اعراض کیا اس کا گزران تنگی والا ہوگا۔(97)
فَإِذا قَرَأتَ القُرءانَ فَاستَعِذ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطٰنِ الرَّجيمِ(98)
٩٨۔١ خطاب اگرچہ نبی سے ہے لیکن مخاطب ساری امت ہے۔ یعنی تلاوت کے آغاز میں اَ عُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھا جائے۔(98)
إِنَّهُ لَيسَ لَهُ سُلطٰنٌ عَلَى الَّذينَ ءامَنوا وَعَلىٰ رَبِّهِم يَتَوَكَّلونَ(99)
(99)
إِنَّما سُلطٰنُهُ عَلَى الَّذينَ يَتَوَلَّونَهُ وَالَّذينَ هُم بِهِ مُشرِكونَ(100)
(100)
وَإِذا بَدَّلنا ءايَةً مَكانَ ءايَةٍ ۙ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِما يُنَزِّلُ قالوا إِنَّما أَنتَ مُفتَرٍ ۚ بَل أَكثَرُهُم لا يَعلَمونَ(101)
١٠١۔١ یعنی ایک حکم منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا حکم نازل کرتے ہیں، جس کی حکمت و مصلحت اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے اور اس کے مطابق وہ احکام میں رد وبدل فرماتا ہے، تو کافر کہتے ہیں کہ یہ کلام اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) تیرا اپنا گھڑا ہوا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالٰی تو اس طرح نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ان کے اکثر لوگ بے علم ہیں، اس لئے یہ منسوخی کی حکمتیں اور مصلحتیں کیا جانیں۔ مزید وضاحت کیلیے ملاحظہ ہو سورہ بقرہ آیت ۱۰٦ کا حاشیہ(101)
قُل نَزَّلَهُ روحُ القُدُسِ مِن رَبِّكَ بِالحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذينَ ءامَنوا وَهُدًى وَبُشرىٰ لِلمُسلِمينَ(102)
١٠٢۔١ یعنی یہ قرآن محمد کا اپنا گھڑا ہوا نہیں بلکہ اسے حضرت جبرائیل علیہ السلام جیسے پاکیزہ ہستی نے سچائی کے ساتھ رب کی طرف سے اتارا ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر ہے، (نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ عَلی قَلْبِکَ) اسے الروح الامین (جبرائیل علیہ السلام) نے تیرے دل پر اتارا ہے '۔ ١٠٢۔٢ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ منسوخ کرنے والا اور منسوخ دونوں رب کی طرف سے ہیں۔ علاوہ ازیں منسوخی کی مصلحتیں بھی جب ان کے سامنے آتی ہیں تو ان کے اندر مزید ثبات قدمی اور ایمان میں رسوخ پیدا ہوتا ہے۔ ١٠٢۔٣ اور یہ قرآن مسلمانوں کے لئے ہدایت اور بشارت کا ذریعہ ہے، کیونکہ قرآن بھی بارش کی طرح ہے، جس سے بعض زمینیں خوب شاداب ہوتی ہیں اور بعض میں کانٹے دار جھاڑیوں کے سوا کچھ نہیں اگتا۔ مومن کا دل صاف اور شفاف ہے جو قرآن کی برکت سے اور ایمان کے نور سے منور ہو جاتا ہے اور کافر کا دل زمین شور کی طرح ہے جو کفر و ضلالت کی تاریکیوں سے بھرا ہوا ہے، جہاں قرآن کی ضیا پاشیاں بھی بے اثر رہتی ہیں۔(102)
وَلَقَد نَعلَمُ أَنَّهُم يَقولونَ إِنَّما يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ ۗ لِسانُ الَّذى يُلحِدونَ إِلَيهِ أَعجَمِىٌّ وَهٰذا لِسانٌ عَرَبِىٌّ مُبينٌ(103)
١٠٣۔١ یعنی بعض غلام تھے جو تورات و انجیل سے واقف تھے، پہلے وہ عیسائی یا یہودی تھے، پھر مسلمان ہوگئے ان کی زبان میں بھی روانی نہ تھی۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ فلاں غلام، محمد کو قرآن سکھاتا ہے۔ ١٠٣۔٢ اللہ تعالٰی نے جواب میں فرمایا کہ یہ جس آدمی، یا آدمیوں کا نام لیتے ہیں وہ تو عربی زبان بھی روانی کے ساتھ نہیں بول سکتے، جب کہ قرآن تو ایسی صاف عربی زبان میں ہے جو فصاحت و بلاغت اور اعجاز بیان میں بے نظیر ہے اور چلینج کے باوجود اس کی مثل ایک سورت بھی بنا کر پیش نہیں کی جا سکتی، دنیا بھر کے عالم فاضل اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ عربی اس شخص کو عجمی (گونگا) کہتے تھے جو فصیح و بلیغ زبان بولنے سے قاصر ہوتا تھا اور غیر عربی کو بھی عجمی کہا جاتا ہے کہ عجمی زبانیں بھی فصاحت وبلاغت میں عربی زبان کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔(103)
إِنَّ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ لا يَهديهِمُ اللَّهُ وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ(104)
(104)
إِنَّما يَفتَرِى الكَذِبَ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ ۖ وَأُولٰئِكَ هُمُ الكٰذِبونَ(105)
١٠٥۔١ اور ہمارا پیغمبر تو ایمانداروں کا سردار اور ان کا قائد ہے، وہ کس طرح اللہ پر افترا باندھ سکتا ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے اس پر نازل نہ ہوئی ہو، اور وہ یونہی کہہ دے کہ یہ کتاب مجھ پر اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ اس لئے جھوٹا ہمارا پیغمبر نہیں، یہ خود جھوٹے ہیں جو قرآن کے منزل من اللہ ہونے کے منکر ہیں۔(105)
مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعدِ إيمٰنِهِ إِلّا مَن أُكرِهَ وَقَلبُهُ مُطمَئِنٌّ بِالإيمٰنِ وَلٰكِن مَن شَرَحَ بِالكُفرِ صَدرًا فَعَلَيهِم غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُم عَذابٌ عَظيمٌ(106)
١٠٦۔١ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس شخص کو کفر پر مجبور کیا جائے اور وہ جان بچانے کے لئے قولاً یا فعلاً کفر کا ارتکاب کر لے جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو، تو وہ کافر نہیں ہوگا، نہ اس کی بیوی اس سے جدا ہوگی اور نہ اس پر دیگر احکام کفر لاگو ہونگیں۔ قالہ الْقُرْطُبِیُّ (فتح القدیر) ١٠٦۔٢ یہ مرتد ہونے کی سزا ہے کہ وہ غضب الٰہی اور عذاب عظیم کے مستحق ہوں گے اور اس کی دنیاوی سزا قتل ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ (مزید تفصیل کے لئے دیکھئے سورہ بقرہ، آیت ٢١٧ اور آیت ٢٥٦ کا حاشیہ)۔(106)
ذٰلِكَ بِأَنَّهُمُ استَحَبُّوا الحَيوٰةَ الدُّنيا عَلَى الءاخِرَةِ وَأَنَّ اللَّهَ لا يَهدِى القَومَ الكٰفِرينَ(107)
١٠٧۔١ یہ ایمان کے بعد کفر اختیار کرنے (مرتد ہو جانے) کی علت ہے کہ انہیں ایک تو دنیا محبوب ہے۔ دوسرے اللہ کے ہاں یہ ہدایت کے قابل ہی نہیں ہیں۔(107)
أُولٰئِكَ الَّذينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلىٰ قُلوبِهِم وَسَمعِهِم وَأَبصٰرِهِم ۖ وَأُولٰئِكَ هُمُ الغٰفِلونَ(108)
١٠٨۔١ پس یہ وعظ ونصیحت کی باتیں سنتے ہیں نہ انہیں سمجھتے ہیں اور نہ وہ نشانیاں ہی دیکھتے ہیں جو انہیں حق کی طرف لے جانے والی ہیں۔ بلکہ یہ ایسی غفلت میں مبتلا ہیں جس نے ہدایت کے راستے ان کے لئے مسدود کر دیئے ہیں۔(108)
لا جَرَمَ أَنَّهُم فِى الءاخِرَةِ هُمُ الخٰسِرونَ(109)
(109)
ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذينَ هاجَروا مِن بَعدِ ما فُتِنوا ثُمَّ جٰهَدوا وَصَبَروا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعدِها لَغَفورٌ رَحيمٌ(110)
١١٠۔١ یہ مکے کے ان مسلمانوں کا تذکرہ ہے جو کمزور تھے اور قبول اسلام کی وجہ سے کفار کے ظلم وستم کا نشانہ بنے رہے۔ بالآخر انہیں ہجرت کا حکم دیا گیا تو اپنے خویش و اقارب، وطن مالوف اور مال جائداد سب کچھ چھوڑ کر حبشہ یا مدینہ چلے گئے، پھر جب کفار کے ساتھ معرکہ آرائی کا مرحلہ آیا تو مردانہ وار لڑے اور جہاد میں بھرپور حصہ لیا اور پھر اس کی راہ کی شدتوں اور الم ناکیوں کو صبر کے ساتھ برداشت کیا۔ ان تمام باتوں کے بعد یقیناً تیرا رب ان کے لئے غفور ورحیم ہے یعنی رب کی مغفرت ورحمت کے حصول کے لئے ایمان اور اعمال صالح کی ضرورت ہے، جیسا کہ مذکورہ مہاجرین نے ایمان وعمل کا عمدہ نمونہ پیش کیا تو رب کی رحمت ومغفرت سے وہ شاد کام ہوئے۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُو ا عَنْہُ۔(110)
۞ يَومَ تَأتى كُلُّ نَفسٍ تُجٰدِلُ عَن نَفسِها وَتُوَفّىٰ كُلُّ نَفسٍ ما عَمِلَت وَهُم لا يُظلَمونَ(111)
١١١۔١ یعنی کوئی اور کسی حمایت میں آگے نہیں آئے گا نہ باپ، نہ بھائی، نہ بیٹا نہ بیوی نہ کوئی اور۔ بلکہ ایک دوسرے سے بھاگیں گے۔ بھائی بھائی سے، بیٹے ماں باپ سے، خاوند بیوی سے بھاگے گا۔ ہر شخص کو صرف اپنی فکر ہوگی جو اسے دوسرے سے بے پروا کر دے گی۔ "لکل امرء منھم یومئذ شأن یغنیہ" ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک ایسا مشغلہ ہوگا جو اسے مشغول رکھنے کیلیے کافی ہوگا۔ ١١١۔٢ یعنی نیکی کے ثواب میں کمی کر دی جائے اور برائی کے بدلے میں زیادتی کر دی جائے۔ ایسا نہیں ہوگا کسی پر ادنیٰ سا ظلم بھی نہیں ہوگا۔ برائی کا اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا کسی برائی کا ہوگا۔ البتہ نیکی کی جزا اللہ تعالٰی خوب بڑھا چڑھا کر دے گا اور یہ اس کے فضل وکرم کا مظاہرہ ہوگا جو قیامت والے دن اہل ایمان کے لئے ہوگا۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْھُمْ۔(111)
وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَريَةً كانَت ءامِنَةً مُطمَئِنَّةً يَأتيها رِزقُها رَغَدًا مِن كُلِّ مَكانٍ فَكَفَرَت بِأَنعُمِ اللَّهِ فَأَذٰقَهَا اللَّهُ لِباسَ الجوعِ وَالخَوفِ بِما كانوا يَصنَعونَ(112)
١٢٢۔١ اکثر مفسرین نے اس قریہ (بستی) سے مراد مکہ لیا ہے۔ یعنی اس میں مکہ اور اہل مکہ کا حال بیان کیا گیا ہے اور یہ اس وقت ہوا جب اللہ کے رسول نے ان کے لئے بد دعا فرمائی ' اے اللہ مضر (قبیلے) پر اپنی سخت گرفت فرما اور ان پر اس طرح قحط سالی مسلط کر دے، جس طرح حضرت یوسف کے زمانے میں مصر میں ہوئی ' چنانچہ اللہ تعالٰی نے مکے کے امن کو خوف سے اور خوشحالی کو بھوک سے بدل دیا۔ حتیٰ کہ ان کا یہ حال ہو گیا کہ ہڈیاں اور درختوں کے پتے کھا کر انہیں گزارہ کرنا پڑا۔ اور بعض مفسرین کے نزدیک یہ غیر معین بستی ہے اور تمثیل کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے۔ کہ کفران نعمت کرنے والے لوگوں کا یہ حال ہوگا، وہ جہاں بھی ہوں اور جب بھی ہوں۔ اس کے اس عموم سے جمہور مفسرین کو بھی انکار نہیں ہے، گو نزول کا سبب ان کے نزدیک خاص ہے۔(112)
وَلَقَد جاءَهُم رَسولٌ مِنهُم فَكَذَّبوهُ فَأَخَذَهُمُ العَذابُ وَهُم ظٰلِمونَ(113)
١١٣۔١ اس عذاب سے مراد وہی عذاب خوف وبھوک ہے جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہے، یا اس سے مراد کافروں کا وہ قتل ہے جو جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا۔(113)
فَكُلوا مِمّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلٰلًا طَيِّبًا وَاشكُروا نِعمَتَ اللَّهِ إِن كُنتُم إِيّاهُ تَعبُدونَ(114)
١١٤۔١ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حلال وطیب چیزوں سے تجاوز کر کے حرام اور خبیث چیزوں کا استعمال اور اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرنا، یہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہے۔(114)
إِنَّما حَرَّمَ عَلَيكُمُ المَيتَةَ وَالدَّمَ وَلَحمَ الخِنزيرِ وَما أُهِلَّ لِغَيرِ اللَّهِ بِهِ ۖ فَمَنِ اضطُرَّ غَيرَ باغٍ وَلا عادٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ(115)
١١٥۔١ یہ آیت اس سے قبل تین مرتبہ پہلے بھی گزر چکی ہے۔ سورہ البقرہ۔١٧٣۔ المائدہ،٣۔ الانعام،١٤٥ میں۔ یہ چوتھا مقام ہے۔ یعنی مخاطبین کے عقیدے اور خیال کو سامنے رکھتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ ورنہ دوسرے جانور اور درندے وغیرہ بھی حرام ہیں، البتہ ان آیات سے یہ واضح ہے کہ ان میں جن چار محرکات کا ذکر ہے، اللہ تعالٰی ان سے مسلمانوں کو نہایت تاکید کے ساتھ بچانا چاہتا ہے۔ اس کی ضروری تشریح گزشتہ مقامات پر کی جا چکی ہے، تاہم اس میں (جس چیز پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا جائے) جو چوتھی قسم ہے۔ اس کے مفہوم میں حقیر عذر کو سامنے رکھ کر شرک کے لئے چور دروازہ تلاش کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کی مزید وضاحت پیش خدمت ہے۔ جو جانور غیر اللہ کے لیے نامزد کر دیا جائے اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ غیر اللہ کے تقرب اور اس کی خوشنودی کے لیے اسے ذبح کیا جائے اور ذبح کرتے وقت نام بھی اسی بت یا بزرگ کا لیا جائے بزعم خویش جس کو راضی کرنا مقصود ہے دوسری صورت یہ ہے کہ مقصود تو غیر اللہ کا تقرب ہی ہو۔ لیکن ذبح اللہ کے نام پر ہی کیا جائے جس طرح کہ قبر پرستوں میں یہ سلسلہ عام ہے۔ وہ جانوروں کو بزرگوں کیلیے نامزد تو کرتے ہیں مثلا یہ بکرا فلاں پیر کا ہے یہ گائے فلاں پیر کی ہے، یہ جانور گیارہویں کے لیے یعنی شیخ عبدالقادر جیلانی کے لیے ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اور ان کو وہ بسم اللہ پڑھ کر ہی ذبح کرتے ہیں۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ پہلی صورت تو یقیناً حرام ہے لیکن یہ دوسری صورت حرام نہیں بلکہ جائز ہے کیونکہ یہ غیر اللہ کے نام پر ذبح نہیں کیا گیا ہے اور یوں شرک کا راستہ کھول دیا گیا ہے۔ حالاںکہ فقہاء نے اس دوسری صورت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ اس لیے کہ یہ بھی وما اھل لغیر اللہ بہ میں داخل ہے چنانچہ حاشیہ بیضاوی میں ہے ہر وہ جانور جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے حرام ہے اگرچہ ذبح کے وقت اس پر اللہ ہی کا نام لیا جائے اس لیے کہ علماء کا اتفاق ہے کہ کوئی مسلمان اگر غیر اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی غرض سے جانور ذبح کرے گا تو وہ مرتد ہو جائے گا اور اس کا ذبیح مرتد کا ذبیحہ ہوگا اور فقہ حنفی کی مشہور کتاب درمختار میں ہے کہ کسی حاکم اور کسی طرح کسی بڑے کی آمد پر حسن خلق یا شرع ضیافت کی نیت سے نہیں بلکہ اس کی رضامندی اور اس کی تعظیم کے طور پر جانور ذبح کیا جائے تو وہ حرام ہوگا اس لیے کہ وہ وما اھل لغیر اللہ میں داخل ہے اگرچہ اس پر اللہ ہی کا نام لیا گیا ہو اور علامہ شامی نے اس کی تائید کی ہے۔ البتہ بعض فقہاء اس دوسری صورت کو وما اھل لغیر اللہ کا مدلول اور اس میں داخل نہیں سمجھتے اور اشتراک علت کی وجہ سے اسے حرام سمجھتے ہیں۔ گویا حرمت میں کوئی اختلاف نہیں صرف استدلال و احتجاج کے طریقے میں اختلاف ہے۔ علاوہ ازیں یہ دوسری صورت وماذبح علی النصب (جو بتوں کے پاس یا تھانوں پر ذبح کیے جائیں) بھی داخل ہے، جسے سورۃ المائدہ میں محرمات میں ذکر کیا گیا ہے اور احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آستانوں درباروں اور تھانوں پر ذبح کیے گئے جانور بھی حرام ہیں اس لیے کہ وہاں ذبح کرنے کا یا وہاں لے جا کر تقسیم کرنے کا مقصد تقرب لغیر اللہ ہی ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے ایک شخص نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا وہاں زمانہ جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی پرستش کی جاتی تھی؟ لوگوں نے بتلایا نہیں پھر آپ نے پوچھا کہ وہاں ان کی عیدوں میں سے کوئی عید تو نہیں منائی جاتی تھی؟ لوگوں نے اس کی بھی نفی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کو نذر پوری کرنے کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بتوں کے ہٹائے جانے کے بعد بھی غیر آباد آستانوں پر جا کر جانور ذبح کرنا جائز نہیں ہے۔ چہ جائیکہ ان آستانوں اور درباروں پر جا کر ذبح کیے جائیں جو پرستش اور نذر ونیاز کے لیے مرجع عوام ہیں۔ اعاذنا اللہ منہ(115)
وَلا تَقولوا لِما تَصِفُ أَلسِنَتُكُمُ الكَذِبَ هٰذا حَلٰلٌ وَهٰذا حَرامٌ لِتَفتَروا عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ ۚ إِنَّ الَّذينَ يَفتَرونَ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ لا يُفلِحونَ(116)
١١٦۔١ یہ اشارہ ہے ان جانوروں کی طرف جو وہ بتوں کے نام وقف کر کے ان کو اپنے لئے حرام کر لیتے تھے، جیسے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام وغیرہ۔ (دیکھئے المائدہ،١٠٣ اور الا نعام،١٣٩۔١٤١ کے حواشی)(116)
مَتٰعٌ قَليلٌ وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ(117)
(117)
وَعَلَى الَّذينَ هادوا حَرَّمنا ما قَصَصنا عَلَيكَ مِن قَبلُ ۖ وَما ظَلَمنٰهُم وَلٰكِن كانوا أَنفُسَهُم يَظلِمونَ(118)
١١٨۔١ دیکھئے سورہ الا نعام،١٤٦ کا حاشیہ، نیز سورہ نساء۔ ١٦٠ میں بھی اس کا ذکر ہے(118)
ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذينَ عَمِلُوا السّوءَ بِجَهٰلَةٍ ثُمَّ تابوا مِن بَعدِ ذٰلِكَ وَأَصلَحوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعدِها لَغَفورٌ رَحيمٌ(119)
(119)
إِنَّ إِبرٰهيمَ كانَ أُمَّةً قانِتًا لِلَّهِ حَنيفًا وَلَم يَكُ مِنَ المُشرِكينَ(120)
١٢٠۔١ اُ مَّۃٌ کے معنی پیشوا اور قائد کے بھی ہیں۔ جیسا کہ ترجمے سے واضح ہے اور امت بمعنی امت بھی ہے، اس اعتبار سے حضرت ابرہیم علیہ السلام کا وجود ایک امت کے برابر تھا۔ (امت کے معانی کے لئے سورہ ہود،٨ کا حاشیہ دیکھئے)(120)
شاكِرًا لِأَنعُمِهِ ۚ اجتَبىٰهُ وَهَدىٰهُ إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(121)
(121)
وَءاتَينٰهُ فِى الدُّنيا حَسَنَةً ۖ وَإِنَّهُ فِى الءاخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحينَ(122)
(122)
ثُمَّ أَوحَينا إِلَيكَ أَنِ اتَّبِع مِلَّةَ إِبرٰهيمَ حَنيفًا ۖ وَما كانَ مِنَ المُشرِكينَ(123)
١٢٣۔١ مِلَّۃَ کے معنی ایسا دین جسے اللہ تعالٰی نے اپنے کسی نبی کے ذریعے لوگوں کے لئے شروع کے موافق اور ضروری قرار دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باوجود اس بات کے کہ آپ تمام انبیاء سمیت اولاد آدم کے سردار ہیں، آپ کو ملت ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، جس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امتیازی اور خصوصی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ ایسے اصول میں تمام انبیاء کی شریعت اور ملت ایک ہی رہی جس میں رسالت کے ساتھ توحید وعقبیٰ و بنیادی حیثیت حاصل ہے۔(123)
إِنَّما جُعِلَ السَّبتُ عَلَى الَّذينَ اختَلَفوا فيهِ ۚ وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَحكُمُ بَينَهُم يَومَ القِيٰمَةِ فيما كانوا فيهِ يَختَلِفونَ(124)
١٢٤۔١ اس اختلاف کی نیت کیا ہے؟ اس کی تفصیل میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کے لئے جمعہ کا دن مقرر فرمایا تھا، لیکن بنو اسرائیل نے اختلاف کیا اور ہفتے کا دن تعظیم وعبادت کے لئے پسند کیا۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا، موسیٰ! انہوں نے جو دن پسند کیا ہے، وہی دن رہنے دو، بعض کہتے ہیں اللہ تعالٰی نے انہیں حکم دیا تھا تعظیم کے لئے ہفتے میں کوئی ایک دن متعین کر لو۔ جس کے تعین میں ان کے درمیان اختلاف ہوا۔ پس یہود نے اپنے مذہبی قیاس کی بنیاد پر ہفتے کا دن اور نصاریٰ نے اتوار کا دن یہودیوں کی مخالفت کے جذبے سے اپنے لئے مقرر کیا تھا، اسی طرح عبادت کے لئے انہوں نے اپنے کو یہودیوں سے الگ رکھنے کے لئے بیت المقدس کی شرقی جانب کو بطور قبلہ اختیار کیا۔ جمعہ کا دن اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لئے مقرر کئے جانے کا ذکر حدیث میں موجود ہے (صحیح بخاری)(124)
ادعُ إِلىٰ سَبيلِ رَبِّكَ بِالحِكمَةِ وَالمَوعِظَةِ الحَسَنَةِ ۖ وَجٰدِلهُم بِالَّتى هِىَ أَحسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعلَمُ بِالمُهتَدينَ(125)
١٢٥۔١ اس میں تبلیغ ودعوت کے اصول بیان کئے گئے ہیں جو حکمت، اصلاحات کی مناسبت پر مبنی ہیں۔ جدال بالأحسن، درشتی اور تلخی سے بچتے ہوئے نرم ومشفقانہ لب ولہجہ اختیار کرنا ہے۔ ١٢٥۔٢ یعنی آپ کا کام مذکورہ اصولوں کے مطابق وعظ و تبلیغ ہے، ہدایت کے راستے پر چلا دینا، یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے، اور وہ جانتا ہے کہ ہدایت قبول کرنے والا کون ہے اور کون نہیں؟(125)
وَإِن عاقَبتُم فَعاقِبوا بِمِثلِ ما عوقِبتُم بِهِ ۖ وَلَئِن صَبَرتُم لَهُوَ خَيرٌ لِلصّٰبِرينَ(126)
١٢٦۔١ اس میں اگرچہ بدلہ لینے کی اجازت ہے بشرطیکہ تجاوز نہ ہو، ورنہ یہ خود ظالم ہو جائے گا، تاہم معاف کر دینے اور صبر اختیار کرنے کو بہتر قرار دیا گیا ہے۔(126)
وَاصبِر وَما صَبرُكَ إِلّا بِاللَّهِ ۚ وَلا تَحزَن عَلَيهِم وَلا تَكُ فى ضَيقٍ مِمّا يَمكُرونَ(127)
١٢٧۔١ اس لئے کہ اللہ تعالٰی ان کے مکروں کے مقابلے میں اہل ایمان وتقویٰ اور محسنین کے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ اللہ ہو، اسے اہل دنیا کی سازشیں نقصان نہیں پہنچا سکتیں، جیسا کہ ما بعد کی آیت میں ہے(127)
إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذينَ اتَّقَوا وَالَّذينَ هُم مُحسِنونَ(128)
(128)