Al-i'Imran( آل عمران)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الم(1)
(1)
اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ الحَىُّ القَيّومُ(2)
٢۔١ حَیُّ اور قَیُومُ اللہ تعالٰی کی خاص صفات ہیں جن کا مطلب وہ ازل سے ابد تک رہے گا اسے موت اور فنا نہیں قیوم کا مطلب سارے کائنات کا قائم رکھنے والا، محافظ اور نگران، ساری کائنات اس کی محتاج وہ کسی کا محتاج نہیں۔ عیسائی حضرت عیسیٰ کو اللہ یا ابن اللہ یا تین میں سے ایک مانتے تھے گویا ان کو کہا جا رہا ہے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اللہ کی مخلوق ہیں، وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور ان کا زمانہ ولادت بھی تخلیق کائنات سے بہت عرصہ بعد کا ہے تو پھر وہ اللہ یا اللہ کا بیٹا کس طرح ہو سکتے ہیں نیز ان پر موت بھی نہیں آنی چاہیے تھی لیکن ایک وقت آئے گا کہ وہ موت سے بھی ہمکنار ہوں گے اور عیسائیوں کے بقول ہمکنار ہو چکے۔ احادیث میں آتا ہے کہ تین آیتوں میں اللہ کا اسم اعظم ہے جس کے ذریعے سے دعا کی جائے تو رد نہیں ہوتی۔ ایک یہ آل عمران کی آیت۔ دوسری آیت الکرسی اور تیسری سورۃ طہٰ(ابن کثیر تفسیر آیت الکرسی)(2)
نَزَّلَ عَلَيكَ الكِتٰبَ بِالحَقِّ مُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَيهِ وَأَنزَلَ التَّورىٰةَ وَالإِنجيلَ(3)
٣۔ ١ یعنی اس کی منزل من اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔(3)
مِن قَبلُ هُدًى لِلنّاسِ وَأَنزَلَ الفُرقانَ ۗ إِنَّ الَّذينَ كَفَروا بِـٔايٰتِ اللَّهِ لَهُم عَذابٌ شَديدٌ ۗ وَاللَّهُ عَزيزٌ ذُو انتِقامٍ(4)
٤۔ ١ اس سے پہلے انبیاء پر جو کتابیں نازل ہویئں یہ کتاب اس کی تصدیق کرتی ہے یعنی جو باتیں ان میں درج تھیں ان کی صداقت اور ان میں بیان کردہ پیشن گوئیوں کا اعتراف کرتی ہے جس کے صاف معنی یہ ہیں یہ قرآن کریم بھی اسی ذات کا نازل کردہ ہے جس نے پہلے بہت سی کتابیں نازل فرمائیں۔ اگر یہ کسی اور کی طرف سے یا انسانی کاوشوں کا نتیجہ ہوتا ان میں باہم مطابقت کی بجائے مخالفت ہوتی۔ ٤۔ ٢ یعنی اپنے وقت میں تورات اور انجیل بھی یقینا لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ تھیں اسلئے کہ ان کے اتارنے کا مقصد ہی یہی تھا۔ تاہم اس کے بعد دوبارہ کہہ کر وضاحت فرما دی کہ اب تورات و انجیل کا دور ختم ہو گیا اب قرآن نازل ہو چکا ہے وہ فرقان ہے اور اب صرف وہی حق و باطل کی پہچان ہے اس کو سچا مانے بغیر عند اللہ کوئی مسلمان اور مومن نہیں۔(4)
إِنَّ اللَّهَ لا يَخفىٰ عَلَيهِ شَيءٌ فِى الأَرضِ وَلا فِى السَّماءِ(5)
(5)
هُوَ الَّذى يُصَوِّرُكُم فِى الأَرحامِ كَيفَ يَشاءُ ۚ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(6)
٦۔١ خوب صورت یا بد صورت، مذکر یا مونث نیک بخت یا بد بخت، ناقص الخلقت یا تام الخلقت جب رحم مادر میں یہ سارے تصرفات صرف اللہ تعالٰی ہی کرنے والا ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کس طرح ہو سکتے ہیں جو خود بھی اسی مرحلہ تخلیق سے گزر کر دنیا میں آئے ہیں جس کا سلسلہ اللہ نے رحم مادر میں قائم فرمایا۔(6)
هُوَ الَّذى أَنزَلَ عَلَيكَ الكِتٰبَ مِنهُ ءايٰتٌ مُحكَمٰتٌ هُنَّ أُمُّ الكِتٰبِ وَأُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذينَ فى قُلوبِهِم زَيغٌ فَيَتَّبِعونَ ما تَشٰبَهَ مِنهُ ابتِغاءَ الفِتنَةِ وَابتِغاءَ تَأويلِهِ ۗ وَما يَعلَمُ تَأويلَهُ إِلَّا اللَّهُ ۗ وَالرّٰسِخونَ فِى العِلمِ يَقولونَ ءامَنّا بِهِ كُلٌّ مِن عِندِ رَبِّنا ۗ وَما يَذَّكَّرُ إِلّا أُولُوا الأَلبٰبِ(7)
٧۔١ محکمات سے مراد وہ آیات ہیں جن میں اوامر ونواہی، احکام و مسائل اور قصص وحکایات ہیں جن کا مفہوم واضح اور اٹل ہے اور ان کے سمجھنے میں کسی کو اشکال پیش نہیں آتا اس کے برعکس آیات متشابھات ہیں مثلا اللہ کی ہستی قضا و قدر کے مسائل، جنت و دوزخ، ملائکہ وغیرہ یعنی ماوراء عقل حقائق جن کی حقیقت سمجھنے سے عقل انسانی قاصر ہو یا ان میں ایسی تاویل کی گنجائش ہو یا کم از کم ایسا ابہام ہو جس سے عوام کو گمراہی میں ڈالنا ممکن ہو۔ اس لئے آگے کہاجا رہا ہے کہ جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ آیات متشابہ کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کے ذریعے سے فتنے برپا کرتے ہیں جیسے عیسائی ہیں۔ قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عبد اللہ اور نبی کہا یہ واضح اور محکم بات ہے لیکن عیسائی اسے چھوڑ کر قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ جو کہا گیا اس سے اپنے گمراہ کن عقائد پر غلط استدال کرتے ہیں یہی حال اہل بدعت کا ہے ْقرآن کے واضح عقائد کے برعکس اہل بدعت نے جو غلط عقائد گھڑ رکھے ہیں وہ انہیں متشابہات کو بنیاد بناتے ہیں۔ اور بسا اوقات محکمات کو بھی اپنے فلسفیانہ استدلال کے گورکھ دھندے سے متشابھات بنا دیتے ہیں اعاذنا اللہ منہ۔ ان کے برعکس صحیح العقیدہ مسلمان محکمات پر عمل کرتا ہے اور متشابھات کے مفہوم کو بھی اگر اس میں اشتباہ ہو محکمت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ قرآن نے انہی اصل کتاب قرار دیا ہے۔ جس سے وہ فتنے سے بھی محفوظ رہتا ہے اور عقائد گمراہی سے بھی جعلنا اللہ منہم ٧۔٢ تاویل کے ایک معنی تو ہیں کسی چیز کی اصل حقیقت اس معنی کے اعتبار سے الْا اللّٰہُ پر وقف ضروری ہے۔ کیونکہ ہرچیز کی اصل حقیقت واضح طور پر صرف اللہ تعالٰی ہی جانتا ہے تاویل کے دوسرے معنی ہیں کسی چیز کی تفسیر و تعبیر اور بیان، اس اعتبار سے الْا اللّہ پر وقف کے بجائے (وَالرَّسِخُوْنَ فِلْعِلْم ُ) پر بھی وقف کیا جا سکتا ہے کیونکہ مضبوط علم والے بھی صحیح تفسیر کا علم رکھتے ہیں تاویل کے یہ دونوں معنی قرآن کریم کے استعمال سے ثابت ہیں (ملخص از ابن کثیر)(7)
رَبَّنا لا تُزِغ قُلوبَنا بَعدَ إِذ هَدَيتَنا وَهَب لَنا مِن لَدُنكَ رَحمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الوَهّابُ(8)
(8)
رَبَّنا إِنَّكَ جامِعُ النّاسِ لِيَومٍ لا رَيبَ فيهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لا يُخلِفُ الميعادَ(9)
(9)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا لَن تُغنِىَ عَنهُم أَموٰلُهُم وَلا أَولٰدُهُم مِنَ اللَّهِ شَيـًٔا ۖ وَأُولٰئِكَ هُم وَقودُ النّارِ(10)
(10)
كَدَأبِ ءالِ فِرعَونَ وَالَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنوبِهِم ۗ وَاللَّهُ شَديدُ العِقابِ(11)
(11)
قُل لِلَّذينَ كَفَروا سَتُغلَبونَ وَتُحشَرونَ إِلىٰ جَهَنَّمَ ۚ وَبِئسَ المِهادُ(12)
١٢۔١ یہاں کافروں سے مراد یہودی ہیں۔ اور یہ پیش گوئی جلدی پوری ہو گئی۔ چنانچہ بنو قینقاع اور بنو نفیر جلا وطن کئے گئے بنو قریظہ قتل کئے گئے پھر خیبر فتح ہو گیا اور تمام یہودیوں پر جزیہ عائد کر دیا گیا (فتح القدیر)(12)
قَد كانَ لَكُم ءايَةٌ فى فِئَتَينِ التَقَتا ۖ فِئَةٌ تُقٰتِلُ فى سَبيلِ اللَّهِ وَأُخرىٰ كافِرَةٌ يَرَونَهُم مِثلَيهِم رَأىَ العَينِ ۚ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصرِهِ مَن يَشاءُ ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَعِبرَةً لِأُولِى الأَبصٰرِ(13)
١٣۔١ یعنی ہر فریق دوسرے فریق کو اپنے سے دوگنا دیکھتا ہے کافروں کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی انہیں مسلمان دو ہزار کے قریب دکھائی دیتے تھے مقصد اس سے ان کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھانا تھا اور مسلمانوں کی تعداد تین سو سے کچھ اوپر (یا ٣١٣) تھی انہیں کافر ٦٠٠ اور ٧٠٠ کے درمیان نظر آتے تھے۔ دراں حالانکہ ان کی اصل تعداد ہزار کے قریب (٣ گنا) تھی مقصد اس سے مسلمانوں کا عزم و حوصلہ میں اضافہ کرنا تھا۔ اپنے سے تین گنا دیکھ کر ممکن تھا مسلمان مرغوب ہو جاتے جب وہ تین گنا کی بجائے دو گنا نظر آئے تو ان کا حوصلہ پست نہیں ہوا لیکن یہ دوگنا دیکھنے کی کیفیت ابتدا میں تھی پھر جب دونوں گروہ آمنے سامنے صف آرا ہوگئے تو اللہ تعالٰی نے اس کے برعکس دونوں کو ایک دوسرے کی نظروں میں کم کر کے دکھایا تاکہ کوئی بھی فریق لڑائی سے گریز نہ کرے بلکہ ہر ایک پیش قدمی کی کوشش کرے (ابن کثیر) یہ تفصیل سورۃ الا نفال۔ آیت ٤٤ میں بیان کی گئی ہے۔ یہ جنگ بدر کا واقعہ ہے جو ہجرت کے بعد دوسرے سال مسلمانوں اور کافروں کے درمیان پیش آیا یہ کئی لحاظ سے نہایت اہم جنگ تھی ایک تو اس لئے کہ یہ پہلی جنگ تھی دوسرے یہ جنگی منصوبہ بندی کے بغیر ہوئی مسلمان ابو سفیان کے قافلے کے لئے نکلے تھے جو شام سے سامان تجارت لے کر مکہ جارہا تھا مگر اطلاع مل جانے کی وجہ سے وہ اپنا قافلہ بچا کر لے گیا لیکن کفار مکہ اپنی طاقت و کثرت کے گھمنڈ میں مسلمانوں پر چڑھ دوڑے اور مقام بدر پر یہ پہلا معرکہ برپا ہوا تیسرے اس میں مسلمانوں کو اللہ تعالٰی کی خصوصی مدد حاصل ہوئی چوتھے اس میں کافروں کو عبرت ناک شکست ہوئی جس سے آئندہ کے لئے کافروں کے حوصلے پست ہوگئے۔(13)
زُيِّنَ لِلنّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّساءِ وَالبَنينَ وَالقَنٰطيرِ المُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ وَالخَيلِ المُسَوَّمَةِ وَالأَنعٰمِ وَالحَرثِ ۗ ذٰلِكَ مَتٰعُ الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسنُ المَـٔابِ(14)
١٤۔١ شَھَوَات سے مراد یہاں مشتبھات ہیں یعنی وہ چیزیں جو طبعی طور پر انسان کو مرغوب اور پسندیدہ ہیں اس لئے ان میں رغبت اور ان کی محبت ناپسندیدہ نہیں ہے بشرطیکہ اعتدال کے اندر اور شریعت کے دائرے میں رہے۔ ان کی تزیین بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے سب سے پہلے عورت کا ذکر کیا ہے کیونکہ یہ ہر بالغ انسان کی سب سے بڑی ضرورت بھی ہے اور سب سے زیادہ مرغوب بھی۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے عورت اور خوشبو مجھے محبوب ہے اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک عورت کو دنیا کی سب سے بہتر متاع قرار دیا ہے اس لئے اس کی محبت شریعت کے دائرے سے تجاوز نہ کرے تو یہ بہترین رفیق زندگی بھی ہے اور زاد آخرت بھی ورنہ یہی عورت مرد کے لئے سب سے بڑا فتنہ ہے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے میرے بعد جو فتنے رونما ہونگے ان میں مردوں کے لئے سب سے بڑا فتنہ عورتوں کا ہے۔ اسی طرح بیٹوں کی محبت ہے اگر اس مقصد کے لئے مسلمانوں کی قوت میں اضافہ اور بقا و تکثیر نسل ہے تو محمود ہے ورنہ مزموم۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان (بہت محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو اس لئے کہ میں قیامت والے دن دوسری امتوں کے مقابلے میں اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا) اس آیت سے رھبانیت کی تردید اور تحریک خاندانی منصوبہ بندی کی تردید بھی ثابت ہوتی ہے مال ودولت سے بھی مقصود قیام معیشت صلہ رحمی صدقہ و خیرات اور امور پر خرچ کرنا اور سوال سے بچنا ہے تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو تو اس کی محبت بھی عین مطلوب ہے ورنہ مذموم۔ گھوڑوں سے مقصد جہاد کی تیاری دیگر جانوروں سے کھیتی باڑی اور بار برداری کا کام لینا اور زمین سے اس کی پیداوار حاصل کرنا ہو تو یہ سب پسندیدہ ہیں اور اگر مقصود محض دنیا کمانا اور پھر اس پر فخر اور غرور کا اظہار کرنا اور یاد الٰہی سے غافل ہو کر عیش و عشرت سے زندگی گزارنا ہے تو سب مفید چیزیں اس کے لئے وبال جان ثابت ہونگی۔ خزانے یعنی سونے چاندی اور مال و دولت کی فروانی اور کثرت اور وہ گھوڑے جو چراگاہ میں چرنے کے لئے چھوڑے گئے ہوں یا جہاد کے لئے تیار کئے گئے ہوں یا نشان زدہ، جن پر امتیاز کے لئے نشان یا نمبر لگا دیا جائے (فتح القدیر و ابن کثیر)(14)
۞ قُل أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيرٍ مِن ذٰلِكُم ۚ لِلَّذينَ اتَّقَوا عِندَ رَبِّهِم جَنّٰتٌ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها وَأَزوٰجٌ مُطَهَّرَةٌ وَرِضوٰنٌ مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ بَصيرٌ بِالعِبادِ(15)
١٥۔١ اس آیت میں اہل ایمان کو بتلایا جا رہا ہے کہ دنیا کی مذکورہ چیزوں میں ہی مت کھو جانا بلکہ ان سے بہتر وہ زندگی اور نعمتیں ہیں جو رب کے پاس ہیں جن کے مستحق اہل تقویٰ ہی ہونگے اس لئے تم تقویٰ اختیار کرو اگر یہ تمہارے اندر پیدا ہو گیا تو یقینا تم دین دنیا کی بھلائیاں اپنے دامن میں سمیٹ لو گے۔ ١٥۔٢ پاکیزہ یعنی وہ دنیاوی میل کچیل حیض و نفاس اور دیگر آلودگیوں سے پاک ہوں گی اور پاک دامن ہونگی۔ اس سے اگلی دو آیات میں اہل تقویٰ کی صفات کا تذکرہ ہے۔(15)
الَّذينَ يَقولونَ رَبَّنا إِنَّنا ءامَنّا فَاغفِر لَنا ذُنوبَنا وَقِنا عَذابَ النّارِ(16)
(16)
الصّٰبِرينَ وَالصّٰدِقينَ وَالقٰنِتينَ وَالمُنفِقينَ وَالمُستَغفِرينَ بِالأَسحارِ(17)
(17)
شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ وَالمَلٰئِكَةُ وَأُولُوا العِلمِ قائِمًا بِالقِسطِ ۚ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(18)
١٨۔١ شہادت کے معنی بیان کرنے اور آگاہ کرنے کے ہیں یعنی اللہ تعالٰی نے جو کچھ پیدا کیا اور بیان کیا اس کے ذریعے سے اس نے اپنی وحدانیت کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی۔ (فتح القدیر) فرشتے اور اہل علم بھی اس کی توحید کی گواہی دیتے ہیں۔ اس میں اہل علم کی بڑی فضیلت اور عظمت ہے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے فرشتوں کے ناموں کے ساتھ ان کا ذکر فرمایا ہے تاہم اس سے مراد صرف وہ اہل علم ہیں جو کتاب اور سنت کے علم سے بہرہ ور ہیں۔ (فتح القدیر)(18)
إِنَّ الدّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسلٰمُ ۗ وَمَا اختَلَفَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ إِلّا مِن بَعدِ ما جاءَهُمُ العِلمُ بَغيًا بَينَهُم ۗ وَمَن يَكفُر بِـٔايٰتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَريعُ الحِسابِ(19)
١٩۔١ اسلام وہی دین ہے جس کی دعوت و تعلیم ہر پیغمبر اپنے اپنے دور میں دیتے رہے ہیں اور اس کی کامل ترین شکل وہ ہے جسے نبی آخرزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا جس میں توحید و رسالت اور آخرت پر اس طرح یقین و ایمان رکھنا ہے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا ہے محض یہ عقیدہ رکھ لینا کہ اللہ ایک ہے یا کچھ اچھے عمل کر لینا یہ اسلام نہیں نہ اس سے نجات آخرت ملے گی۔ ایمان و اسلام اور دین عند اللہ قبول نہیں ہو گا۔ (الفرقان) برکتوں والی ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ جہانوں کا ڈرانے والا ہو اور حدیث میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو یہودی یا نصرانی مجھ پر ایمان لائے بغیر فوت ہو گیا وہ جہنمی ہے۔ (صحیح مسلم) اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وقت کے تمام سلاطین اور بادشاہوں کو خطوط تحریر فرمائے جن میں انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی (بحوالہ ابن کثیر) ١٩۔٢ ْ ان کے اس باہمی اختلاف سے مراد وہ اختلاف ہے جو ایک ہی دین کے ماننے والوں نے آپس میں برپا کر رکھا تھا مثلاً یہودیوں کے باہمی اختلافات اور فرقہ بندیاں اسی طرح عیسائیوں کے باہمی اختلا فات اور فرقہ بندیاں پھر وہ اختلافات بھی مراد ہے جو اہل کتاب کے درمیان آپس میں تھا جس کی بنا پر یہودی نصرانیوں کو اور نصرانی یہودیوں کو کہا کرتے تھے تم کسی چیز پر نہیں ہو نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اور نبوت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اختلاف بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ سارے اختلافات دلائل کی بنیاد پر نہیں تھے محض حسد اور بغض و عناد کی وجہ سے تھے یعنی وہ لوگ حق کو جاننے اور پہچاننے کے باوجود محض اپنے خیالی دنیاوی مفاد کے چکر میں غلط بات پر جمے رہتے۔ افسوس آج مسلمان علماء کی ایک بڑی تعداد ٹھیک ان ہی کے غلط مقاصد کے لئے غلط ڈگر پر چل رہی ہے۔ ١٩۔٣ یہاں آیتوں سے مراد وہ آیات ہیں جو اسلام کے دین الہی ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔(19)
فَإِن حاجّوكَ فَقُل أَسلَمتُ وَجهِىَ لِلَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ۗ وَقُل لِلَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ وَالأُمِّيّۦنَ ءَأَسلَمتُم ۚ فَإِن أَسلَموا فَقَدِ اهتَدَوا ۖ وَإِن تَوَلَّوا فَإِنَّما عَلَيكَ البَلٰغُ ۗ وَاللَّهُ بَصيرٌ بِالعِبادِ(20)
٢٠۔١ ان پڑھ لوگوں سے مراد مشرکین عرب ہیں جو اہل کتاب کے مقابلے میں بلعموم ان پڑھ تھے۔(20)
إِنَّ الَّذينَ يَكفُرونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَيَقتُلونَ النَّبِيّۦنَ بِغَيرِ حَقٍّ وَيَقتُلونَ الَّذينَ يَأمُرونَ بِالقِسطِ مِنَ النّاسِ فَبَشِّرهُم بِعَذابٍ أَليمٍ(21)
٢١۔١ یعنی ان کی سرکشی و بغاوت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ صرف نبیوں کو ہی انہوں نے ناحق قتل نہیں کیا بلکہ ان تک کو بھی قتل کر ڈالا جو عدل و انصاف کی بات کرتے تھے۔ یعنی وہ مومنین مخلصین اور داعیان حق جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ نبیوں کے ساتھ ان کا تذکرہ فرما کر اللہ تعالٰی نے ان کی عظمت و فضیلت بھی واضح کر دی۔(21)
أُولٰئِكَ الَّذينَ حَبِطَت أَعمٰلُهُم فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ وَما لَهُم مِن نٰصِرينَ(22)
(22)
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ أوتوا نَصيبًا مِنَ الكِتٰبِ يُدعَونَ إِلىٰ كِتٰبِ اللَّهِ لِيَحكُمَ بَينَهُم ثُمَّ يَتَوَلّىٰ فَريقٌ مِنهُم وَهُم مُعرِضونَ(23)
٢٣۔١ ان اہل کتاب سے مراد مدینے کے یہودی ہیں جن کی اکثریت قبول اسلام سے محروم رہی اور وہ اسلام مسلمانوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مکر و سازشوں میں مصروف رہے تاآنکہ ان کے دو قبیلے جلا وطن اور ایک قبیلہ قتل کر دیا گیا۔(23)
ذٰلِكَ بِأَنَّهُم قالوا لَن تَمَسَّنَا النّارُ إِلّا أَيّامًا مَعدودٰتٍ ۖ وَغَرَّهُم فى دينِهِم ما كانوا يَفتَرونَ(24)
٢٤۔١ یعنی کتاب اللہ کے ماننے سے گریز و اعتراض کی وجہ کا یہ زعم باطل ہے کہ اول تو وہ جہنم میں جائیں گے ہی نہیں اور گئے بھی تو صرف چند دن ہی کے لئے جائیں گے اور انہی من گھڑت باتوں نے انہی دھوکے اور فریب میں ڈال رکھا ہے۔(24)
فَكَيفَ إِذا جَمَعنٰهُم لِيَومٍ لا رَيبَ فيهِ وَوُفِّيَت كُلُّ نَفسٍ ما كَسَبَت وَهُم لا يُظلَمونَ(25)
٢٥۔١ قیامت والے دن ان کے یہ دعوے اور غلط عقائد کچھ کام نہ آئیں گے اور اللہ تعالٰی بے لاگ انصاف کے ذریعے سے ہر نفس کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دے گا کسی پر ظلم نہیں ہو گا۔(25)
قُلِ اللَّهُمَّ مٰلِكَ المُلكِ تُؤتِى المُلكَ مَن تَشاءُ وَتَنزِعُ المُلكَ مِمَّن تَشاءُ وَتُعِزُّ مَن تَشاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشاءُ ۖ بِيَدِكَ الخَيرُ ۖ إِنَّكَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(26)
٢٦۔١ اس آیت میں اللہ تعالٰی کی بے پناہ قوت وطاقت کا اظہار ہے شاہ کو گدا بنا دے، گدا کو شاہ بنا دے، تمام اختیارات کا مالک ہے یعنی تمام بھلائیاں صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں تیرے سوا کوئی بھلائی دینے والا نہیں شرکاء خالق بھی اگرچہ اللہ تعالٰی ہی ہے۔ لیکن ذکر صرف خیر کا کیا گیا ہے شر کا نہیں اس لئے کہ خیر اللہ کا فضل محض ہے بخلاف شر کے یہ انسان کے اپنے عمل کا بدلہ ہے جو اسے پہنچتا ہے یا اسلئے کہ شر بھی اس کے قضا وقدر کا حصہ ہے جو خیر کو متضمن ہے اس اعتبار سے اس کے تمام افعال خیر ہیں (فتح القدیر)(26)
تولِجُ الَّيلَ فِى النَّهارِ وَتولِجُ النَّهارَ فِى الَّيلِ ۖ وَتُخرِجُ الحَىَّ مِنَ المَيِّتِ وَتُخرِجُ المَيِّتَ مِنَ الحَىِّ ۖ وَتَرزُقُ مَن تَشاءُ بِغَيرِ حِسابٍ(27)
٢٧۔١ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے کا مطلب موسمی تغیرات ہیں رات لمبی ہوتی ہے تو دن چھوٹا ہو جاتا ہے اور دوسرے موسم میں اس کے برعکس دن لمبا اور رات چھوٹی ہو جاتی ہے یعنی کبھی رات کا حصہ دن میں اور کبھی دن کا حصہ رات میں داخل کر دیتا ہے جس سے رات اور دن چھوٹے بڑے ہو جاتے ہیں۔ ٢٧۔٢ جیسے نطفہ (مردہ) پہلے زندہ انسان سے نکلتا ہے۔ پھر اس مردہ (نطفہ) سے انسان اسی طرح مردہ انڈے سے پہلے مرغی پھر زندہ مرغی سے انڈہ (مردہ) یا کافر سے مومن اور مومن سے سے کافر پیدا فرماتا ہے بعض روایات میں ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اوپر قرض کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم آیت (قُلْ اللّہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ) (آل عمران) پڑھا کرو یہ دعا کرو (رَحْمَانُ الدُنْیَا وَلْاآخِرَۃِو رحیمھما تعطی من تشاء منھما رتمنع من تشاء ارحمنی رحمۃ تغنینی بھا عن رحمۃ من سواک اللھم اغننی من الفقر واقض عنی الدین)۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ ایسی دعا ہے کہ تم پر احد پہاڑ جتنا قرض بھی ہو تو اللہ تعالٰی اس کی ادائیگی کا تمہارے لئے انتظام فرما دے گا۔(مجمع الزوائد)(27)
لا يَتَّخِذِ المُؤمِنونَ الكٰفِرينَ أَولِياءَ مِن دونِ المُؤمِنينَ ۖ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ فَلَيسَ مِنَ اللَّهِ فى شَيءٍ إِلّا أَن تَتَّقوا مِنهُم تُقىٰةً ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفسَهُ ۗ وَإِلَى اللَّهِ المَصيرُ(28)
٢٨۔١ اولیاء ولی کی جمع ہے ولی ایسے دوست کو کہتے ہیں جس سے دلی محبت اور خصوصی تعلق ہو جیسے اللہ تعالٰی نے اپنے آپ کو اہل ایمان کا ولی قرار دیا ہے۔ اللہ ولی الذین امنوا (البقرہ۔ ٢٥٧) یعنی اللہ اہل ایمان کا ولی ہے مطلب یہ ہوا کہ اہل ایمان کو ایک دوسرے سے محبت اور ایک دوسرے کیساتھ خصوصی تعلق ہے اور وہ آپس میں ایک دوسرے کے ولی (دوست) ہیں۔ اللہ تعالٰی نے یہاں اہل ایمان کو اس بات سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے کہ وہ کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں کیونکہ کافر اللہ کے بھی دشمن ہیں اور اہل ایمان کے بھی دشمن ہیں۔ تو پھر ان کو دوست بنانے کا جواز کس طرح ہو سکتا ہے؟ اس لئے اللہ تعالٰی نے اس مضمون کو قرآن کریم میں کئی جگہ وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ تاکہ اہل ایمان کافروں کی موالات (دوستی) اور ان سے خصوصی تعلق قائم کرنے سے گریز کریں۔ البتہ حسب ضرورت ومصلحت ان سے صلح ومعاہدہ بھی ہو سکتا ہے اور تجارتی لین دین بھی۔ اسی طرح جو کافر مسلمانوں کے دشمن نہ ہوں ان سے حسن سلوک اور مدارات کا معاملہ بھی جائز ہے (جس کی تفصیل سورہ ممتحنہ میں ہے) کیونکہ یہ سارے معاملات، موالات (دوستی ومحبت) سے مختلف ہے۔ ٢٨۔٢ یہ اجازت ان مسلمانوں کے لئے ہے جو کسی کافر کی حکومت میں رہتے ہوں کہ ان کے لئے اگر کسی وقت اظہار دوستی کے بغیر ان کے شر سے بچنا ممکن نہ ہو تو وہ زبان سے ظاہری طور پر دوستی کا اظہار کر سکتے ہیں۔(28)
قُل إِن تُخفوا ما فى صُدورِكُم أَو تُبدوهُ يَعلَمهُ اللَّهُ ۗ وَيَعلَمُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(29)
(29)
يَومَ تَجِدُ كُلُّ نَفسٍ ما عَمِلَت مِن خَيرٍ مُحضَرًا وَما عَمِلَت مِن سوءٍ تَوَدُّ لَو أَنَّ بَينَها وَبَينَهُ أَمَدًا بَعيدًا ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفسَهُ ۗ وَاللَّهُ رَءوفٌ بِالعِبادِ(30)
(30)
قُل إِن كُنتُم تُحِبّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعونى يُحبِبكُمُ اللَّهُ وَيَغفِر لَكُم ذُنوبَكُم ۗ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ(31)
٣١۔١ یہود اور نصاری دونوں کا دعویٰ تھا کہ ہمیں اللہ سے اور اللہ تعالٰی کو ہم سے محبت ہے بالخصوص عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ و مریم علہما السلام کی تعظیم و محبت میں اتنا غلو کیا کہ انہیں درجہ الوہیت پر فائز کر دیا اس کی بابت بھی ان کا خیال تھا کہ ہم اس طرح اللہ کا قرب اور اس کی رضا و محبت چاہتے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ ان کے دعووں اور خود ساختہ طریقوں سے اللہ کی محبت اور اس کی رضا حاصل نہیں ہو سکتی اس کا تو صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ میرے آخری پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی پیروی کرو۔ اس آیت نے تمام دعوے داران محبت کے لئے ایک کسوٹی اور معیار مہیا کر دیا ہے کہ محبت الہٰی کا طالب اگر اتباع محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے یہ مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے تو پھر تو یقینا وہ کامیاب ہے اور اپنے دعوی میں سچا ہے ورنہ وہ جھوٹا بھی ہے اور اس مقصد کے حصول میں ناکام بھی رہے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی فرمان "جس نے ایسا کام کیا جس پر ہمارا معاملہ نہیں ہے یعنی ہمارے بتلائے ہوئے طریقے سے مختلف ہے تو وہ مسترد ہے"۔ ٣١۔٢ یعنی پیروی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے تمہارے گناہ ہی معاف نہیں ہونگے بلکہ تم محب سے محبوب بن جاؤ گے۔ اور یہ کتنا اونچا مقام ہے کہ بارگاہ الٰہی میں ایک انسان کو محبوبیت کا مقام مل جائے۔(31)
قُل أَطيعُوا اللَّهَ وَالرَّسولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوا فَإِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الكٰفِرينَ(32)
٣٢۔١ اس آیت میں اللہ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پھر تاکید کر کے واضح کر دیا کہ اب نجات اگر ہے تو صرف اطاعت محمدی میں ہے اور اس سے انحراف کفر ہے اور ایسے کافروں کو اللہ تعالٰی پسند نہیں فرماتا چاہے وہ اللہ کی محبت اور قرب کے کتنے ہی دعوے دار ہوں۔ اس آیت میں پیروی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے گریز کرنے والوں کے لئے سخت وعید ہے کیونکہ دونوں ہی اپنے اپنے انداز سے ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جسے یہاں کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔(32)
۞ إِنَّ اللَّهَ اصطَفىٰ ءادَمَ وَنوحًا وَءالَ إِبرٰهيمَ وَءالَ عِمرٰنَ عَلَى العٰلَمينَ(33)
٣٣۔١ انبیاء علیہ السلام کے خاندانوں میں دو عمران ہوئے ہیں ایک حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کے والد اور دوسرے حضرت مریم علیہ السلام کے والد۔ اس آیت میں اکثر مفسرین کے نزدیک یہی دوسرے عمران مراد ہیں اور اس خاندان کو بلند درجہ حضرت مریم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے حاصل ہوا اور حضرت مریم علیہ السلام کی والدہ کا نام مفسرین نے حنّہ بنت فاقوذ لکھا ہے (تفسیر قرظبی و ابن کثیر) اس آیت میں اللہ تبارک و تعالٰی نے آل عمران کے علاوہ مزید تین خاندانوں کا تذکرہ فرمایا جن کو اللہ تعالٰی نے اپنے وقت میں جہانوں پر فضیلت عطا فرمائی ان میں پہلے حضرت آدم علیہ السلام ہیں جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی۔ دوسرے حضرت نوح علیہ السلام ہیں انہیں اس وقت کا رسول بنا کر بھیجا گیا جب لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو معبود بنا لیا انہیں عمر طویل عطا کی گئی انہوں نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی لیکن چند افراد کے سوا کوئی آپ پر ایمان نہیں لایا۔ بالآخر آپ کی بددعا سے اہل ایمان کے سوا دوسرے تمام لوگوں کو غرق کر دیا گیا آل ابراہیم کو یہ فضیلت عطا کی گئی کہ ان میں انبیاء و سلاطین کا سلسلہ قائم کیا اور بیشتر پیغمبر آپ ہی کی نسل سے ہوئے حتیٰ کہ کائنات میں سب سے افضل حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے ہوئے۔(33)
ذُرِّيَّةً بَعضُها مِن بَعضٍ ۗ وَاللَّهُ سَميعٌ عَليمٌ(34)
٣٤۔١ یا دوسرے معنی ہیں دین میں ایک دوسرے کے معاون اور مددگار۔(34)
إِذ قالَتِ امرَأَتُ عِمرٰنَ رَبِّ إِنّى نَذَرتُ لَكَ ما فى بَطنى مُحَرَّرًا فَتَقَبَّل مِنّى ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّميعُ العَليمُ(35)
٣٥۔١ مُحَرّرَا (تیرے نام آزاد) کا مطلب تیری عبادت گاہ کی خدمت کے لئے وقف۔(35)
فَلَمّا وَضَعَتها قالَت رَبِّ إِنّى وَضَعتُها أُنثىٰ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِما وَضَعَت وَلَيسَ الذَّكَرُ كَالأُنثىٰ ۖ وَإِنّى سَمَّيتُها مَريَمَ وَإِنّى أُعيذُها بِكَ وَذُرِّيَّتَها مِنَ الشَّيطٰنِ الرَّجيمِ(36)
٣٦۔١ اس جملے میں حسرت کا اظہار بھی ہے اور عذر کا بھی۔ حسرت اس طرح کہ میری امید کے برعکس لڑکی ہوئی ہے اور عذر اس طرح کہ نذر سے مقصود تو تیری رضا کے لئے ایک خدمت گار وقف کرنا تھا اور یہ کام ایک مرد ہی زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتا تھا۔ اب جو کچھ بھی ہے تو اسے جانتا ہے (فتح القدیر) ٣٦۔٢ حافظ ابن کثیر نے اس سے اور حدیث نبوی سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے بچے کا نام ولادت کے پہلے روز رکھنا چاہیے اور ساتویں دن نام رکھنے والی حدیث کو ضعیف قرار دے دیا۔ لیکن حافظ ابن القیم نے تمام احادیث پر بحث کر کے آخر میں لکھا ہے کہ پہلے روز، تیسرے روز یا ساتویں روز نام رکھا جا سکتا ہے، اس مسئلے میں گنجائش ہے۔ ٣٦۔٣ اللہ تعالٰی نے یہ دعا قبول فرمائی چنانچہ حدیث صحیح میں ہے کہ جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کو مس کرتا ہے (چھوتا) ہے۔ جس سے وہ چیختا ہے۔ لیکن اللہ تعالٰی نے اس مس شیطان سے حضرت مریم علیہا السلام کو اور ان کے بیٹے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو محفوظ رکھا (صحیح بخاری، کتاب التفسیر)(36)
فَتَقَبَّلَها رَبُّها بِقَبولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَها نَباتًا حَسَنًا وَكَفَّلَها زَكَرِيّا ۖ كُلَّما دَخَلَ عَلَيها زَكَرِيَّا المِحرابَ وَجَدَ عِندَها رِزقًا ۖ قالَ يٰمَريَمُ أَنّىٰ لَكِ هٰذا ۖ قالَت هُوَ مِن عِندِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ يَرزُقُ مَن يَشاءُ بِغَيرِ حِسابٍ(37)
٣٧۔١ حضرت زکریا علیہ السلام حضرت مریم علیہا السلام کے خالو بھی تھے علاوہ ازیں اپنے وقت کے پیغمبر ہونے کے لحاظ سے بھی وہی سب سے بہتر کفیل بن سکتے تھے جو حضرت مریم علیہا السلام کی مادی ضروریات اور علمی و اخلاقی تربیت کے تقاضوں کا صحیح اہتمام کر سکتے تھے۔ ٣٧۔٢ محرابُ سے مراد حجرہ ہے جس میں حضرت مریم علیہا السلام رہائش پذیر تھیں رزق سے مراد پھل یہ پھل ایک تو غیر موسمی ہوتے گرمی کے پھل سردی کے موسم میں اور سردی کے گرمی کے موسم میں ان کے کمرے میں موجود ہوتے، دوسرے حضرت زکریا علیہ السلام یا اور کوئی شخص لا کر دینے والا نہیں تھا اس لئے حضرت زکریا علیہ السلام نے ازراہ تعجب و حیرت سے پوچھا یہ کہاں سے آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اللہ کی طرف سے۔ گویا یہ حضرت مریم علیہا السلام کی کرامت تھی۔ معجزہ اور کرامت خرق عادت امور کو کہا جاتا ہے یعنی جو ظاہر اسباب کے خلاف ہو۔ یہ کسی نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو اسے معجزہ اور کسی ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو اسے کرامت کہا جاتا ہے یہ دونوں برحق ہیں۔ تاہم ان کا صدور اللہ کے حکم اور اس کی مشیت سے ہوتا ہے نبی یا ولی کے اختیار میں یہ بات نہیں کہ وہ معجزہ اور کرامت جب چاہے صادر کر دے۔ اس لیے معجزہ اور کرامت اس بات کی تو دلیل ہوتی ہے کہ یہ حضرات اللہ کی بارگاہ میں خاص مقام رکھتے ہیں لیکن اس سے یہ امر ثابت نہیں ہوتا کہ ان مقبولین بارگاہ کے پاس کائنات میں تصرف کرنے کا اختیار ہے جیسا کہ اہل بدعت اولیاء کی کرامتوں سےعوام کو یہی کچھ باور کرا کے انہیں شرکیہ عقیدوں میں مبتلا کر دیتے ہیں اس کی مزید وضاحت بعض معجزات کے ضمن میں آئے گی۔(37)
هُنالِكَ دَعا زَكَرِيّا رَبَّهُ ۖ قالَ رَبِّ هَب لى مِن لَدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَميعُ الدُّعاءِ(38)
(38)
فَنادَتهُ المَلٰئِكَةُ وَهُوَ قائِمٌ يُصَلّى فِى المِحرابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحيىٰ مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصّٰلِحينَ(39)
٣٩۔١ بے موسمی پھل دیکھ کر حضرت زکریا علیہ السلام کے دل میں بھی (بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود) یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش اللہ تعالٰی انہیں بھی اسی طرح اولاد سے نواز دے۔ چنانچہ بے اختیار دعا کے لئے ہاتھ بارگاہ الٰہی میں اُٹھ گئے جسے اللہ تعالٰی نے شرف قبولیت سے نوازا۔ ٣٩۔٢ اللہ کے کلمے کی تصدیق سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق ہے گویا حضرت یحییٰ علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بڑے ہوئے دونوں آپس میں خالہ زاد تھے دونوں نے ایک دوسرے کی تائید کی۔ حصوراً کے معنی ہیں گناہوں سے پاک یعنی گناہوں کےقریب نہیں پھٹکے بعض نے اس کے معنی نامرد کے کئے ہیں لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ ایک عیب ہے جب کہ یہاں ان کا ذکر مدح اور فضیلت کے طور پر کیا گیا ہے۔(39)
قالَ رَبِّ أَنّىٰ يَكونُ لى غُلٰمٌ وَقَد بَلَغَنِىَ الكِبَرُ وَامرَأَتى عاقِرٌ ۖ قالَ كَذٰلِكَ اللَّهُ يَفعَلُ ما يَشاءُ(40)
(40)
قالَ رَبِّ اجعَل لى ءايَةً ۖ قالَ ءايَتُكَ أَلّا تُكَلِّمَ النّاسَ ثَلٰثَةَ أَيّامٍ إِلّا رَمزًا ۗ وَاذكُر رَبَّكَ كَثيرًا وَسَبِّح بِالعَشِىِّ وَالإِبكٰرِ(41)
٤١۔ ١ بڑھاپے میں معجزانہ طور پر اولاد کی خوشخبری سن کر اشتیاق میں اضافہ ہوا اور نشانی معلوم کرنی چاہی اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ تین دن تیری زبان بند ہو جائیگی۔ جو ہماری طرف سے بطور نشانی ہو گی لیکن تو اس خاموشی میں کثرت سے صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کیا کر تاکہ اس نعمت الٰہی کا جو تجھے ملنے والی ہے شکر ادا ہو یہ گویا سبق دیا گیا کہ اللہ تعالٰی تمہاری طلب کے مطابق تمہیں مزید نعمتوں سے نوازے تو اسی حساب سے اس کا شکر بھی زیادہ سے زیادہ کرو۔(41)
وَإِذ قالَتِ المَلٰئِكَةُ يٰمَريَمُ إِنَّ اللَّهَ اصطَفىٰكِ وَطَهَّرَكِ وَاصطَفىٰكِ عَلىٰ نِساءِ العٰلَمينَ(42)
٤٢۔١ حضرت مریم علیہا السلام کا یہ شرف و فضل اپنے زمانے کے اعتبار سے ہے کیونکہ صحیح حدیث میں حضرت مریم علیہا السلام کے ساتھ حضرت خدیجہ کو بھی سب عورتوں میں بہتر کہا گیا ہے اور بعض احادیث میں چار عورتوں کو کامل قرار دیا گیا ہے حضرت مریم، حضرت آسیہ (فر عون کی بیوی) حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی بابت کہا گیا ہے کہ ان کی فضیلت دیگر عورتوں پر ایسے ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر فوقیت حاصل ہے۔ (ابن کثیر) اور ترمذی کی روایت میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی فضیلت والی عورتوں میں شامل کیا گیا ہے۔ (ابن کثیر) اس کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ مذکورہ خواتین ان چند عورتوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالٰی نے دیگر عورتوں پر فضیلت اور بزرگی عطا فرمائی یا یہ کہ اپنے اپنے زمانے میں فضیلت رکھتی ہیں۔ واللہ اعلم۔(42)
يٰمَريَمُ اقنُتى لِرَبِّكِ وَاسجُدى وَاركَعى مَعَ الرّٰكِعينَ(43)
(43)
ذٰلِكَ مِن أَنباءِ الغَيبِ نوحيهِ إِلَيكَ ۚ وَما كُنتَ لَدَيهِم إِذ يُلقونَ أَقلٰمَهُم أَيُّهُم يَكفُلُ مَريَمَ وَما كُنتَ لَدَيهِم إِذ يَختَصِمونَ(44)
٤٤۔١ آجکل کے اہل بدعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں غلو عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو اللہ تعالٰی کی طرح عالم الغیب اور ہر جگہ حاضر اور ناظر ہونے کا عقیدہ گھڑ رکھا ہے۔ اس آیت سے ان دونوں عقیدوں کی واضح تردید ہوتی ہے۔ اگر آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب ہوتے تو اللہ تعالٰی یہ نہ فرماتا کہ ہم غیب کی خبریں آپ کو بیان کر رہے ہیں کیونکہ جس کو پہلے ہی علم ہو اس کو اس طرح نہیں کہا جاتا اور اس طرح اور ناظر کو یہ نہیں کہا جاتا کہ آپ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے جب لوگ قرعہ اندازی کے لئے قلم ڈال رہے تھے۔ قرعہ اندازی کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ حضرت مریم علیہا السلام کی کفالت کے اور بھی کئی خواہش مند تھے۔ذالک من انباء الغیب نوحیہ الیک سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آپ کی صداقت کا اثبات بھی ہے جس میں یہودی اور عیسائی شک کرتے تھے کیونکہ وحی شریعت پیغمبر پر ہی آتی ہے غیر پیغمبر پر نہیں۔(44)
إِذ قالَتِ المَلٰئِكَةُ يٰمَريَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِنهُ اسمُهُ المَسيحُ عيسَى ابنُ مَريَمَ وَجيهًا فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ وَمِنَ المُقَرَّبينَ(45)
٤٥۔١ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کلمہ یعنی کلمۃ اللہ اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ ان کی ولادت اعجازی شان کی مظہر اور عام انسانی اصول کے برعکس باپ کے بغیر ہوئی اور اللہ کی خاص قدرت اس کے کلمہ کن کی تخلیق ہے۔ ٤٥۔٢ مسیح مسح سے ہے یعنی کثرت سے زمین کی سیاحت کرنے والا یا اس کے معنی ہاتھ پھیرنے والا ہے کیونکہ آپ ہاتھ پھیر کر مریضوں کو باذن اللہ شفایاب فرماتے تھے ان دونوں معنوں کے اعتبار سے فَعیلْ بمعنی فاعل ہے اور قیامت کے قریب ظاہر ہونے والے دجال کو جو مسیح کہا جاتا ہے یا تو بمعنی مفعول (یعنی اس کی ایک آنکھ کانی ہو گی) کے اعتبار سے ہے یا وہ بھی چونکہ کثرت سے دنیا میں پھرے گا اور مکہ اور مدینہ کے سوا ہر جگہ پہنچے گا (بخاری مسلم) اور بعض روایات میں بیت المقدس کا بھی ذکر ہے اس لیے اسے بھی المسیح الدجال کہا جاتا ہے۔ عام اہل تفسیر نے عموماً یہی بات درج کی ہے۔ کچھ اور محققین کہتے ہیں کہ مسیح یہود ونصاری کی اصطلاح میں بڑے مامور من اللہ پیغمبر کو کہتے ہیں یعنی ان کی یہ اصطلاح تقریبا اولوالعزم پیغمبر کے ہم معنی ہے دجال کو مسیح اس لیے کہا گیا ہے کہ یہود کو جس انقلاب آفریں مسیح کی بشارت دی گئی ہے اور جس کے وہ غلط طور پر اب بھی منتظر ہیں دجال اسی مسیح کے نام پر آئے گا یعنی اپنے آپ کو وہی مسیح قرار دے گا مگر وہ اپنے اس دعوی سمیت تمام دعووں میں دجل وفریب کا اتنا بڑا پیکر ہوگا کہ اولین و آخرین میں اس کی کوئی مثال نہ ہوگی اس لیے وہ الدجال کہلائے گا۔ اور عیسیٰ عجمی زبان کا لفظ ہے۔ بعض کے نزدیک یہ عربی ہے اور عاس یعوس سے مشتق ہے جس کے معنی سیاست و قیادت کے ہیں۔ (قرطبی و فتح القدیر)(45)
وَيُكَلِّمُ النّاسَ فِى المَهدِ وَكَهلًا وَمِنَ الصّٰلِحينَ(46)
٤٦۔١ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے (گہوارے) میں گفتگو کرنے کا ذکر خود قرآن کریم کی سورہ مریم میں موجود ہے اس کے علاوہ صحیح حدیث میں دو بچوں کا ذکر اور ہے ایک صاحب جریج اور ایک اسرائیلی عورت کا بچہ (صحیح بخاری) ادھیڑ عمر میں کلام کرنے کا مطلب بعض نے یہ بیان کیا ہے کہ جب وہ بڑے ہو کر وحی اور رسالت سے سرفراز کئے جائیں گے اور بعض نے کہا ہے کہ آپ کا قیامت کے قریب جب آسمان سے نزول جیسا کہ اہل سنت کا عقیدہ ہے جو صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے تو اس وقت جو وہ اسلام کی تبلیغ کریں گے وہ کلام مراد ہے۔ (تفسیر ابن کثیر و قرطبی)(46)
قالَت رَبِّ أَنّىٰ يَكونُ لى وَلَدٌ وَلَم يَمسَسنى بَشَرٌ ۖ قالَ كَذٰلِكِ اللَّهُ يَخلُقُ ما يَشاءُ ۚ إِذا قَضىٰ أَمرًا فَإِنَّما يَقولُ لَهُ كُن فَيَكونُ(47)
٤٧۔١ تیرا تعجب بجا لیکن قدرت الٰہی کے لئے یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے وہ تو جب چاہے اسباب عادیہ و ظاہریہ کا سلسلہ ختم کر کے حکم کن سے پلک جھپکتے میں جو چاہے کر دے۔(47)
وَيُعَلِّمُهُ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَالتَّورىٰةَ وَالإِنجيلَ(48)
٤٨۔١ کتاب سے مراد کتابت ہے جیسا کہ ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے یا انجیل و تورات کے علاوہ کوئی اور کتاب ہے جس کا علم اللہ تعالٰی نے انہیں دیا (قرطبی) یا تورات و انجیل (الکتاب وحکمۃ) کی تفسیر ہے۔(48)
وَرَسولًا إِلىٰ بَنى إِسرٰءيلَ أَنّى قَد جِئتُكُم بِـٔايَةٍ مِن رَبِّكُم ۖ أَنّى أَخلُقُ لَكُم مِنَ الطّينِ كَهَيـَٔةِ الطَّيرِ فَأَنفُخُ فيهِ فَيَكونُ طَيرًا بِإِذنِ اللَّهِ ۖ وَأُبرِئُ الأَكمَهَ وَالأَبرَصَ وَأُحىِ المَوتىٰ بِإِذنِ اللَّهِ ۖ وَأُنَبِّئُكُم بِما تَأكُلونَ وَما تَدَّخِرونَ فى بُيوتِكُم ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لَكُم إِن كُنتُم مُؤمِنينَ(49)
٤٩۔١ اخلق لکم ۔ یعنی خلق یہاں پیدائش کے معنی میں نہیں ہے، اس پر تو صرف اللہ تعالٰی ہی قادر ہے کیونکہ وہی خالق ہے یہاں اس کے معنی ظاہر شکل و صورت گھڑنے اور بنانے کے ہیں۔ ٤٩۔٢ دوبارہ باذن اللہ (اللہ کے حکم سے) کہنے سے مقصد یہی ہے کہ کوئی شخص اس غلط فہمی کا شکار نہ ہو کہ میں خدائی صفات یا اختیارات کا حامل ہوں نہیں میں تو اس کا عاجز بندہ ہوں اور رسول ہی ہوں یہ جو کچھ میرے ہاتھ پر ظاہر ہو رہا ہے معجزہ ہے جو محض اللہ کے حکم سے صادر ہو رہا ہے امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے ہر نبی کو اس کے زمانے کے حالات کے مطابق معجزے عطا فرمائے تاکہ اس کی صداقت ہو اور بالاتری نمایاں ہو سکے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جادوگری کا زور تھا انہیں ایسا معجزہ عطا فرمایا کہ جس کے سامنے بڑے بڑے جادوگر اپنا کرتب دکھانے میں ناکام رہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں طب کا بڑا چرچہ تھا چنانچہ انہوں نے ٰمردہ کو زندہ کر دینے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کر دینے کا ایسا معجزہ عطا فرمایا گیا کہ کوئی بھی بڑے سے بڑا طبیب اپنے فن کے ذریعے سے کرنے پر قادر نہیں تھا۔ ہمارے پیغمبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دور شعر وادب اور فصاحت اور بلاغت کا دور تھا چنانچہ انہیں قرآن جیسا فصیح و بلیغ اور پر اعجاز کلام عطا فرمایا گیا جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا بھر کے بلغا اور شعرا عاجز رہے اور چلینج کے باوجود آج تک عاجز ہیں اور قیامت تک عاجز رہیں گے (ابن کثیر)(49)
وَمُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَىَّ مِنَ التَّورىٰةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعضَ الَّذى حُرِّمَ عَلَيكُم ۚ وَجِئتُكُم بِـٔايَةٍ مِن رَبِّكُم فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطيعونِ(50)
٥٠۔١ اس سے مراد یا تو وہ بعض چیزیں ہیں جو بطور سزا اللہ تعالٰی نے ان پر حرام کر دی تھیں یا پھر وہ چیزیں جو ان کے علماء نے اجتہاد کے ذریعے سے حرام کیں تھیں اور اجتہاد میں ان سے غلطی کا ارتکاب ہوا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس غلطی کا ازالہ کر کے انہیں حلال قرار دیا۔ (ابن کثیر)(50)
إِنَّ اللَّهَ رَبّى وَرَبُّكُم فَاعبُدوهُ ۗ هٰذا صِرٰطٌ مُستَقيمٌ(51)
٥١۔١ یعنی اللہ کی عبادت کرنے میں اور اس کے سامنے ذلت و عاجزی کے اظہار میں میں اور تم دونوں برابر ہیں۔ اس لئے سیدھا راستہ صرف یہ ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کی واحدانیت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔(51)
۞ فَلَمّا أَحَسَّ عيسىٰ مِنهُمُ الكُفرَ قالَ مَن أَنصارى إِلَى اللَّهِ ۖ قالَ الحَوارِيّونَ نَحنُ أَنصارُ اللَّهِ ءامَنّا بِاللَّهِ وَاشهَد بِأَنّا مُسلِمونَ(52)
٥٢۔١ یعنی ایسی گہری سازش اور مشکوک حرکتیں جو کفر یعنی حضرت مسیح کی رسالت کے انکار پر مبنی تھیں۔ ٥٢۔٢ بہت سے نبیوں نے اپنی قوم کے ہاتھوں تنگ آ کر ظاہری اسباب کے مطابق اپنی قوم کے با شعور لوگوں سے مدد طلب کی ہے۔ جس طرح خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ابتداء میں جب قریش آپ کی دعوت کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے تو آپ موسم حج میں لوگوں کو اپنا ساتھی اور مددگار بننے پر آمادہ کرتے تھے تاکہ آپ رب کا کلام لوگوں تک پہنچا سکیں جس پر انصار نے لبیک کہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انہوں نے قبل ہجرت مدد کی۔ اس طرح یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مدد طلب فرمائی یہ وہ مدد نہیں ہے جو مافوق الاسباب طریقے سے طلب کی جاتی ہے کیونکہ وہ تو شرک ہے اور ہر نبی شرک کے سدباب ہی کے لئے آتا رہا ہے پھر وہ خود شرک کا ارتکاب کس طرح کر سکتے تھے۔ لیکن قبر پرستوں کی غلط روش قابل ماتم ہے کہ وہ فوت شدہ اشخاص سے مدد مانگنے کے جواز کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول مَن انصاری الی اللہ سے استدلال کرتے ہیں؟ اللہ تعالٰی ان کو ہدایت نصیب فرمائے (آمین) ٥٢۔٣ حواریوںِ حواری کی جمع ہے بمعنی انصار (مددگار) جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ہر نبی کا کوئی مددگار خاص ہوتا ہے اور میرا مددگار زبیر ہے۔(52)
رَبَّنا ءامَنّا بِما أَنزَلتَ وَاتَّبَعنَا الرَّسولَ فَاكتُبنا مَعَ الشّٰهِدينَ(53)
(53)
وَمَكَروا وَمَكَرَ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيرُ المٰكِرينَ(54)
٥٤۔١ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں شام کا علاقہ رومیوں کے زیرنگین تھا یہاں ان کا جو حکمران مقرر تھا وہ کافر تھا یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف اس حکمران کے کان بھرے کہ یہ نعوذ با اللہ بے باپ کے اور فسادی ہے وغیرہ وغیرہ حکمران نے ان کے مطالبے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دینے کا فیصلہ کر لیا لیکن اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بحفاظت آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی جگہ ان کے ہمشکل ایک آدمی کو سولی دے دی (مکر) عربی زبان میں لطیف اور خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اور اس معنی میں یہاں اللہ تعالٰی (خیرُ الْماکِرِیْنَ) کہا گیا گویا یہ مکر (برا) بھی ہو سکتا ہے اگر غلط مقصد کے لئے ہو اور خیر (اچھا) بھی ہو سکتا ہے اگر اچھے مقصد کے لئے ہو۔(54)
إِذ قالَ اللَّهُ يٰعيسىٰ إِنّى مُتَوَفّيكَ وَرافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذينَ كَفَروا وَجاعِلُ الَّذينَ اتَّبَعوكَ فَوقَ الَّذينَ كَفَروا إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ ۖ ثُمَّ إِلَىَّ مَرجِعُكُم فَأَحكُمُ بَينَكُم فيما كُنتُم فيهِ تَختَلِفونَ(55)
٥٥۔١ انسان کی موت پر جو وفات کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس لئے کہ اس کے جسمانی اختیارات مکمل طور پر سلب کر لئے جاتے ہیں اس اعتبار سے موت اس کے معنی کی مختلف صورتوں میں سے محض ایک صورت ہے۔ نیند میں بھی چونکہ انسانی اختیارات عارضی طور پر معطل کر دیئے جاتے ہیں اس لئے نیند پر بھی قرآن نے وفات کے لفظ کا اطلاق کیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ اس کے حقیقی اور اصل معنی پورا پورا لینے کے ہی ہیں۔ یعنی اے عیسیٰ تجھے میں یہودیوں کی سازش سے بچا کر پورا پورا اپنی طرف آسمانوں پر اٹھا لونگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور پھر جب دوبارہ دنیا میں نزول ہوگا تو اس وقت موت سے ہمکنار کروں گا۔ یعنی یہودیوں کے ہاتھوں تیرا قتل نہیں ہوگا بلکہ تجھے طبعی موت ہی آئے گی۔ (فتح القدیر) ٥٥۔٢ اس سے مراد ان الزامات سے پاکیزگی ہے جن سے یہودی آپ کو متہم کرتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے آپ کی صفائی دنیا میں پیش کر دی جائے گی۔ ٥٥۔٣ اس سے مراد یا تو نصاریٰ کا دنیاوی غلبہ ہے جو یہودیوں پر قیامت تک رہے گا گو وہ اپنے غلط عقائد کی وجہ سے نجات اخروی سے محروم ہی رہیں گے یا امت محمدیہ کے افراد کا غلبہ ہے جو درحقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دیگر تمام انبیاء کی تصدیق کرتے اور ان کے صحیح دین کی پیروی کرتے ہیں۔(55)
فَأَمَّا الَّذينَ كَفَروا فَأُعَذِّبُهُم عَذابًا شَديدًا فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ وَما لَهُم مِن نٰصِرينَ(56)
(56)
وَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفّيهِم أُجورَهُم ۗ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ الظّٰلِمينَ(57)
(57)
ذٰلِكَ نَتلوهُ عَلَيكَ مِنَ الءايٰتِ وَالذِّكرِ الحَكيمِ(58)
(58)
إِنَّ مَثَلَ عيسىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ ءادَمَ ۖ خَلَقَهُ مِن تُرابٍ ثُمَّ قالَ لَهُ كُن فَيَكونُ(59)
(59)
الحَقُّ مِن رَبِّكَ فَلا تَكُن مِنَ المُمتَرينَ(60)
(60)
فَمَن حاجَّكَ فيهِ مِن بَعدِ ما جاءَكَ مِنَ العِلمِ فَقُل تَعالَوا نَدعُ أَبناءَنا وَأَبناءَكُم وَنِساءَنا وَنِساءَكُم وَأَنفُسَنا وَأَنفُسَكُم ثُمَّ نَبتَهِل فَنَجعَل لَعنَتَ اللَّهِ عَلَى الكٰذِبينَ(61)
٦١۔١ یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے۔ مباہلہ کے معنی ہیں دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بدعا کرنا مطلب یہ ہے کہ جب دو فریقین میں کسی معاملے کے حق یا باطل ہونے میں اختلاف ہو اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہو تو دونوں بارگاہ الہٰی میں یہ دعا کریں کہ یا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اس پر لعنت فرما اس کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ ٩ ہجری میں نجران سے عیسائیوں کا ایک وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو وہ غلو آمیز عقائد رکھتے تھے اس پر مناظرہ کرنے لگا۔ بالآخر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مباہلہ کی دعوت دی حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما اور حضرت حسن، حسین رضی اللہ عنہم کو بھی ساتھ لیا اور عیسائیوں سے کہا کہ تم بھی اپنے اہل و عیال کو بلا لو اور پھر مل کر جھو ٹے پر لعنت کی بددعا کریں۔ عیسائیوں نے باہم مشورے کے بعد مباہلہ کرنے سے گریز کیا اور پیش کش کی کہ آپ ہم سے جو چاہتے ہیں ہم دینے کے لئے تیار ہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر جزیہ مقرر فرمایا جس کی وصولی کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امین اُمت کا خطاب عنایت فرمایا تھا ان کے ساتھ بھیجا (تفسیر ابن کثیر و فتح القدیر وغیرہ) اس سے اگلی آیت میں اہل کتاب کو دعوت توحید دی جا رہی ہے۔(61)
إِنَّ هٰذا لَهُوَ القَصَصُ الحَقُّ ۚ وَما مِن إِلٰهٍ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(62)
(62)
فَإِن تَوَلَّوا فَإِنَّ اللَّهَ عَليمٌ بِالمُفسِدينَ(63)
(63)
قُل يٰأَهلَ الكِتٰبِ تَعالَوا إِلىٰ كَلِمَةٍ سَواءٍ بَينَنا وَبَينَكُم أَلّا نَعبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلا نُشرِكَ بِهِ شَيـًٔا وَلا يَتَّخِذَ بَعضُنا بَعضًا أَربابًا مِن دونِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوا فَقولُوا اشهَدوا بِأَنّا مُسلِمونَ(64)
٦٤۔١ کسی بت نہ صلیب کو نہ آگ اور نہ کسی چیز کو بلکہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں جیسا کہ تمام انبیاء کی دعوت رہی ہے۔ ٦٤۔٢ یہ ایک تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم نے حضرت مسیح اور حضرت عزیر علیہ السلام کی ربوبیت (رب ہونے) کا جو عقیدہ کھڑا کر رکھا ہے یہ غلط ہے وہ رب نہیں ہیں انسان ہیں دوسرا اس بات کی طرف اشارہ ہے تم نے اپنے احبار و رہبان کو حلال یا حرام کرنے کا جو اختیار دے رکھا ہے یہ بھی ان کو رب بنانا ہے حلال اور حرام کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے (ابن کثیر و فتح القدیر) ٦٤۔٣ صحیح بخاری میں ہے کہ قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل شاہ روم کو مکتوب تحریر فرمایا اور اس میں اسے اس آیت کے حوالے سے قبول اسلام کی دعوت دی اسے کہا تو مسلمان ہو جائے گا تو تجھے دوہرا اجر ملے گا ورنہ ساری رعایا کا گناہ تجھ پر ہوگا اسلام قبول کرلے سلامتی میں رہے گا کیونکہ رعایا کا عدم قبول اسلام کا سبب تو ہی ہوگا۔ اس آیت مذکورہ میں تین نکات ١۔ صرف اللہ کی عبادت کرنا۔ ٢ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ ٣ اور کسی کو شریعت سازی کا خدائی مقام نہ دینا۔ لہذا اس امت کے شیرازہ کو جمع کرنے کے لئے بھی ان تینوں نکات اور اس کلمہ سواء کو بدرجہ اولیٰ اساس و بنیاد بنانا چاہیے۔(64)
يٰأَهلَ الكِتٰبِ لِمَ تُحاجّونَ فى إِبرٰهيمَ وَما أُنزِلَتِ التَّورىٰةُ وَالإِنجيلُ إِلّا مِن بَعدِهِ ۚ أَفَلا تَعقِلونَ(65)
٦٥۔١ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں جھگڑنے کا مطلب یہ ہے کہ یہودی اور عیسائی دونوں دعویٰ کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے دین پر تھے حالانکہ تورات جس پر یہودی ایمان رکھتے تھے اور انجیل جسے عیسائی مانتے تھے دونوں حضرت ابراہیم اور موسیٰ علیہ السلام کے سینکڑوں برس بعد نازل ہوئیں پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام یہودی یا عیسائی کس طرح ہو سکتے ہیں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان ایک ہزار سال کا حضرت ابراہیم و عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان دو ہزار سال کا فاصلہ تھا (قرطبی)(65)
هٰأَنتُم هٰؤُلاءِ حٰجَجتُم فيما لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحاجّونَ فيما لَيسَ لَكُم بِهِ عِلمٌ ۚ وَاللَّهُ يَعلَمُ وَأَنتُم لا تَعلَمونَ(66)
٦٦۔١ تمہارے علم اور دیانت کا تو یہ حال ہے کہ جن چیزوں کا تمہیں علم ہے۔ یعنی اپنے دین اور اپنی کتاب کا اس کی بابت تمہارے جھگڑے بے اصل بھی ہیں اور بے عقلی کا مظہر بھی تو پھر تم اس بات پر کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں سرے سے علم ہی نہیں یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شان اور ان کی ملت حنفیہ کے بارے میں جس کی اساس توحید و اخلاص پر ہے۔(66)
ما كانَ إِبرٰهيمُ يَهودِيًّا وَلا نَصرانِيًّا وَلٰكِن كانَ حَنيفًا مُسلِمًا وَما كانَ مِنَ المُشرِكينَ(67)
٦٧۔١ خالص مسلمان۔ یعنی شرک سے بیزار اور صرف خدائے واحد کے پرستار۔(67)
إِنَّ أَولَى النّاسِ بِإِبرٰهيمَ لَلَّذينَ اتَّبَعوهُ وَهٰذَا النَّبِىُّ وَالَّذينَ ءامَنوا ۗ وَاللَّهُ وَلِىُّ المُؤمِنينَ(68)
٦٨۔١ اسی لئے قرآن کریم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملت ابراہیمی کا اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہے علاوہ ازیں حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ہر نبی کے نبیوں میں سے دوست ہوتے ہیں، میرے ولی (دوست) ان میں سے میرے باپ اور میرے رب کے خلیل (ابراہیم علیہ السلام) ہیں۔(68)
وَدَّت طائِفَةٌ مِن أَهلِ الكِتٰبِ لَو يُضِلّونَكُم وَما يُضِلّونَ إِلّا أَنفُسَهُم وَما يَشعُرونَ(69)
٦٩۔١ یہ یہودیوں کے اس حسد و بغض کی وضاحت ہے جو اہل ایمان سے رکھتے تھے اور اسی عناد کی وجہ سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ اس طرح یہ خود ہی بے شعوری میں اپنے آپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔(69)
يٰأَهلَ الكِتٰبِ لِمَ تَكفُرونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَأَنتُم تَشهَدونَ(70)
٧٠۔١ قائل ہونے کا مطلب ہے کہ تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت و حقانیت کا علم ہے۔(70)
يٰأَهلَ الكِتٰبِ لِمَ تَلبِسونَ الحَقَّ بِالبٰطِلِ وَتَكتُمونَ الحَقَّ وَأَنتُم تَعلَمونَ(71)
٧١۔١ اس میں یہودیوں کے دو بڑے جرائم کی نشان دہی کر کے انہیں ان سے باز رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے پہلا جرم حق وباطل اور سچ اور جھوٹ کو خلط ملط کرنا تاکہ لوگوں پر حق اور باطل واضح نہ ہو سکے دوسرا حق چھپانا۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اوصاف تورات میں لکھے ہوئے تھے انہیں لوگوں سے چھپانا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کم از کم اس اعتبار سے نمایاں نہ ہو سکے اور یہ دونوں جرم جان بوجھ کر کرتے تھے۔ جس سے ان کی بدبختی دو چند ہو گئی تھی۔ ان کے جرائم کی نشان دہی سورۃ بقرہ میں بھی کی گئی ہے۔ اہل کتاب کے لفظ کو بعض مفسرین نے عام رکھا ہے جس میں یہود و نصاری دونوں شامل ہیں۔ یعنی دونوں کو ان جرائم مذکورہ سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے اور بعض کے نزدیک اس سے مراد صرف وہ قبائل یہود ہیں جو مدینے میں رہائش پذیر تھے۔ بنو قریظہ، بنونضیر اور بنو قینقاع۔ زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ مسلمانوں کا براہ راست انہی سے معاملہ تھا اور یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مکالفت میں پیش پیش تھے۔(71)
وَقالَت طائِفَةٌ مِن أَهلِ الكِتٰبِ ءامِنوا بِالَّذى أُنزِلَ عَلَى الَّذينَ ءامَنوا وَجهَ النَّهارِ وَاكفُروا ءاخِرَهُ لَعَلَّهُم يَرجِعونَ(72)
٧٢۔١ یہ یہودیوں کے ایک اور مکر کا ذکر ہے۔ جس سے وہ مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے تھے کہ انہوں نے باہم طے کیا کہ صبح کو مسلمان ہو جائیں تاکہ مسلمانوں کے دلوں میں بھی اپنے اسلام کے بارے میں شک پیدا ہو کہ یہ لوگ قبول اسلام کے بعد دوبارہ اپنے دین میں چلے گئے ہیں تو ممکن ہے کہ اسلام میں ایسے عیوب اور خامیاں ہوں جو ان کے علم میں آئی ہوں۔(72)
وَلا تُؤمِنوا إِلّا لِمَن تَبِعَ دينَكُم قُل إِنَّ الهُدىٰ هُدَى اللَّهِ أَن يُؤتىٰ أَحَدٌ مِثلَ ما أوتيتُم أَو يُحاجّوكُم عِندَ رَبِّكُم ۗ قُل إِنَّ الفَضلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤتيهِ مَن يَشاءُ ۗ وَاللَّهُ وٰسِعٌ عَليمٌ(73)
٧٣۔١ یہ آپس میں انہوں نے ایک دوسرے کو کہا کہ تم ظاہری طور پر تو اسلام کا اظہار ضرور کرو لیکن اپنے ہم مذہب (یہود) کے سوا کسی اور کی بات پر یقین مت رکھنا۔ ٧٣۔٢ یہ ایک جملہ معترضہ ہے جس کا ما قبل اور ما بعد سے تعلق نہیں ہے صرف ان کے مکر و حیلہ کی اصل حقیقت اس سے واضح کرنا مقصود ہے کہ ان کے جملوں سے کچھ نہ ہوگا کیونکہ ہدایت تو اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو ہدایت دے یا دینا چاہے، تمہارے حیلے اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ ٧٣۔٣ یہ بھی یہودیوں کا قول ہے یعنی یہ بھی تسلیم مت کرو کہ جس طرح تمہارے اندر نبوت وغیرہ رہی ہے یہ کسی اور کو بھی مل سکتی ہے اور اس طرح یہودیت کے سوا کوئی اور دین بھی حق ہو سکتا ہے۔(73)
يَختَصُّ بِرَحمَتِهِ مَن يَشاءُ ۗ وَاللَّهُ ذُو الفَضلِ العَظيمِ(74)
٧٤۔١ اس آیت کے دو معنی بیان کئے جاتے ہیں ایک یہ یہود کے بڑے بڑے علماء جب اپنے شاگردوں کو یہ سکھاتے کہ دن چڑھتے ایمان لاؤ اور دن اترتے کفر کرو تاکہ جو لوگ فی الواقع مسلمان ہیں وہ بھی متذبذب ہو کر مرتد ہو جائیں تو ان شاگردوں کو مزید یہ تاکید کرتے تھے کہ دیکھو صرف ظاہرا مسلمان ہونا حقیقتاً اور واقعتًا مسلمان نہ ہو جانا بلکہ یہودی ہی رہنا اور یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ جیسا دین جیسی وحی وشریعت اور جیسا علم وفضل تمہیں دیا گیا ہے ویسا ہی کسی اور کو بھی دیا جاسکتا ہے یا تمہارے بجائے کوئی اور حق پر ہے جو تمہارے خلاف اللہ کے نزدیک حجت قائم کر سکتا ہے اور تمہیں غلط ٹھہرا سکتا ہے اس معنی کی رو سے جملہ معترضہ کو چھوڑ کر عند ربکم تک کل یہود کا قول ہوگا دوسرے معنی یہ ہیں کہ اے یہودیو! تم حق کو دبانے اور مٹانے کی یہ ساری حرکتیں اور سازشیں اس لیے کر رہے ہو کہ ایک تمہیں اس بات کا غم اور جلن ہے کہ جیسا علم وفضل وحی وشریعت اور دین تمہیں دیا گیا تھا اب ویسا ہی علم وفضل اور دین کسی اور کو کیوں دے دیا گیا۔ دوسرا تمہیں یہ اندیشہ اور خطرہ بھی ہے کہ اگر حق کی یہ دعوت پنپ گئی اور اس نے اپنی جڑیں مضبوط کرلیں تو نہ صرف یہ کہ تمہیں دنیا میں جو جاہ و وقار حاصل ہے وہ جاتا رہے گا بلکہ تم نے جو حق چھپا رکھا ہے اس کا پردہ بھی فاش ہو جائے گا اور اس بنا پر یہ لوگ اللہ کے نزدیک بھی تمہارے خلاف حجت قائم کر بیٹھیں گے۔ حالانکہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دین وشریعت اللہ کا فضل ہے اور یہ کسی کی میراث نہیں بلکہ وہ اپنا فضل جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ اور اسے معلوم ہے کہ یہ فضل کس کو دینا چاہیے۔(74)
۞ وَمِن أَهلِ الكِتٰبِ مَن إِن تَأمَنهُ بِقِنطارٍ يُؤَدِّهِ إِلَيكَ وَمِنهُم مَن إِن تَأمَنهُ بِدينارٍ لا يُؤَدِّهِ إِلَيكَ إِلّا ما دُمتَ عَلَيهِ قائِمًا ۗ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم قالوا لَيسَ عَلَينا فِى الأُمِّيّۦنَ سَبيلٌ وَيَقولونَ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ وَهُم يَعلَمونَ(75)
٧٥۔١ (ان پڑھ۔ جاہل) سے مراد مشرکین عرب ہیں یہود کے بددیانت لوگ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ چونکہ مشرک ہیں اس لئے ان کا مال ہڑپ کر لینا جائز ہے اس میں کوئی گناہ نہیں اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ یہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالٰی کس طرح کسی کا مال ہڑپ کر جانے کی اجازت دے سکتا ہے اور بعض تفسیری روایات میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ سن کر فرمایا کہ ' اللہ کے دشمنوں نے جھوٹ کہا زمانہ جاہلیت کی تمام چیزیں میرے قدموں تلے ہیں سوائے امانت کے کہ وہ ہر صورت میں ادا کی جائے گی چاہے وہ کسی نیکوکار کی ہو یا بدکار کی۔ (ابن کثیر وفتح القدیر) افسوس ہے کہ یہود کی طرح آج بعض مسلمان بھی مشرکین کا مال ہڑپ کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ دارالحرب کا سود ناجائز ہے اور حربی کے مال کے لیے کوئی عصمت نہیں۔(75)
بَلىٰ مَن أَوفىٰ بِعَهدِهِ وَاتَّقىٰ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُتَّقينَ(76)
٧٦۔١ قرار پورا کرے کا مطلب وہ عہد پورا کرے جو اہل کتاب سے یا ہر نبی کے واسطے سے ان کی امتوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی بابت لیا گیا ہے اور پرہیزگاری کرے یعنی اللہ تعالٰی کے محارم سے بچے اور ان باتوں پر عمل کرے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائیں۔ ایسے لوگ یقینا مواخذہ الٰہی سے نہ صرف محفوظ رہیں گے بلکہ محبوب باری تعالٰی ہونگے۔(76)
إِنَّ الَّذينَ يَشتَرونَ بِعَهدِ اللَّهِ وَأَيمٰنِهِم ثَمَنًا قَليلًا أُولٰئِكَ لا خَلٰقَ لَهُم فِى الءاخِرَةِ وَلا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلا يَنظُرُ إِلَيهِم يَومَ القِيٰمَةِ وَلا يُزَكّيهِم وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ(77)
٧٧۔١ مذکورہ افراد کے برعکس دوسرے لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے اور یہ دو طرح کے لوگ شامل ہیں ایک تو وہ جو عہد الٰہی اور اپنی قسموں کو پس پشت ڈال کر تھوڑے سے دینی مفادات کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے دوسرے وہ لوگ ہیں جو جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا سودا بیچتے ہیں یا کسی کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی کا مال ہتھیانے کے لئے جھوٹی قسم کھائے وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضب ناک ہوگا نیز فرمایا تین آدمیوں سے اللہ تعالٰی نہ کلام کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ان میں ایک وہ شخص ہے جو جھوٹی قسم کے ذریعے سے اپنا سودا بیچتا ہے۔ متعدد احادیث میں یہ باتیں بیان کی گئی ہیں۔ (ابن کثیرو فتح القدیر)(77)
وَإِنَّ مِنهُم لَفَريقًا يَلوۥنَ أَلسِنَتَهُم بِالكِتٰبِ لِتَحسَبوهُ مِنَ الكِتٰبِ وَما هُوَ مِنَ الكِتٰبِ وَيَقولونَ هُوَ مِن عِندِ اللَّهِ وَما هُوَ مِن عِندِ اللَّهِ وَيَقولونَ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ وَهُم يَعلَمونَ(78)
٧٨۔١ یہ یہود کے ان لوگوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے کتاب الٰہی (تورات) میں نہ صرف بددیانتی و تبدیلی کی بلکہ دو جرم بھی کئے ایک تو زبان کو مروڑ کر کتاب کے الفاظ پڑھتے جس سے عوام کو خلاف واقعہ تاثر دینے میں وہ کامیاب رہتے دوسرا وہ اپنی خود ساختہ باتوں میں عند اللہ باور کراتے بد قسمتی امت محمدیہ کے مذہبی پیشواؤں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی (تم اپنے سے پہلی امتوں کی قدم بقدم پیروی کرو گے) کے مطابق بکثرت ایسے لوگ ہیں جو دینوی اغراض یا جماعتی تعصب یا فقہی جمود کی وجہ سے قرآن کریم کے ساتھ بھی یہی معاملہ کرتے ہیں پڑھتے قرآن کی آیت ہیں اور مسئلہ اپناخود ساختہ بیان کرتے ہیں عوام سمجھتے ہیں کہ مولوی صاحب نے مسئلہ قرآن سے بیان کیا ہے حالانکہ اس مسئلے کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا یا پھر آیات میں معنوی تبدیلی و طمع سازی سے کام لیا جاتا ہے تاکہ باور یہی کرایا جائے کہ یہ من عند اللہ ہے۔(78)
ما كانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤتِيَهُ اللَّهُ الكِتٰبَ وَالحُكمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقولَ لِلنّاسِ كونوا عِبادًا لى مِن دونِ اللَّهِ وَلٰكِن كونوا رَبّٰنِيّۦنَ بِما كُنتُم تُعَلِّمونَ الكِتٰبَ وَبِما كُنتُم تَدرُسونَ(79)
٧٩۔١ یہ عیسائیوں کے ضمن میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا بنایا ہوا ہے حالانکہ وہ ایک انسان تھے جنہیں کتاب و حکمت اور نبوت سے سرفراز کیا گیا تھا۔ ایسا کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے پجاری اور بندے بن جاؤ بلکہ وہ تو یہی کہتا ہے کہ رب والے بن جاؤ رَبَّانِیُّ رب کی طرف منسوب ہے، الف اور نون کا اضافہ مبالغہ کے لئے ہے۔ (فتح القدیر) ٧٩۔٢ یعنی کتاب اللہ کی تعلیم و تدریس کے نتیجے میں رب کی شناخت اور رب سے خصوصی ربط و تعلق قائم ہونا چاہئے، اسی طرح کتاب اللہ کا علم رکھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کو بھی قرآن کی تعلیم دے۔ اس آیت سے واضح ہے کہ جب اللہ کے پیغمبروں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی عبادت کرنے کا حکم دیں، تو کسی اور کو یہ کیونکر حاصل ہو سکتا ہے۔ (ابن کثیر)(79)
وَلا يَأمُرَكُم أَن تَتَّخِذُوا المَلٰئِكَةَ وَالنَّبِيّۦنَ أَربابًا ۗ أَيَأمُرُكُم بِالكُفرِ بَعدَ إِذ أَنتُم مُسلِمونَ(80)
٨٠۔١ یعنی نبیوں اور فرشتوں (یا کسی اور کو) رب والی صفات کا حامل باور کرانا یہ کفر ہے۔ تمہارے مسلمان ہو جانے کے بعد ایک نبی یہ کام بھلا کس طرح کر سکتا ہے؟ کیونکہ نبی کا کام تو ایمان کی دعوت دینا ہے جو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کا نام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ کی پناہ اس بات سے ہے کہ ہم اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کریں یا کسی کو اس کا حکم دیں اللہ نے مجھے نہ اس لئے بھیجا ہے نہ اس کا حکم ہی دیا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر۔ بحوالہ سیرۃ ابن ہشام)(80)
وَإِذ أَخَذَ اللَّهُ ميثٰقَ النَّبِيّۦنَ لَما ءاتَيتُكُم مِن كِتٰبٍ وَحِكمَةٍ ثُمَّ جاءَكُم رَسولٌ مُصَدِّقٌ لِما مَعَكُم لَتُؤمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ ۚ قالَ ءَأَقرَرتُم وَأَخَذتُم عَلىٰ ذٰلِكُم إِصرى ۖ قالوا أَقرَرنا ۚ قالَ فَاشهَدوا وَأَنا۠ مَعَكُم مِنَ الشّٰهِدينَ(81)
٨١۔١ یعنی ہر نبی سے یہ وعدہ لیا گیا کہ اس کی زندگی اور دور نبوت میں اگر دوسرا نبی آئے گا تو اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہوگا جب نبی کی موجودگی میں آنے والے نئے نبی پر خود اس نبی کو ایمان لانا ضروری ہے تو ان کی امتوں کے لئے تو اس نئے نبی پر ایمان لانا بطریق اولیٰ ضروری ہے بعض مفسرین نے اس کا یہی مفہوم مراد لیا ہے۔ یعنی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تمام نبیوں سے عہد لیا گیا کہ اگر ان کے دور میں وہ آجائیں تو اپنی نبوت ختم کر کے ان پر ایمان لانا ہوگا لیکن یہ واقعہ ہے پہلے معنی میں ہی یہ دوسرا مفہوم از خود آجاتا ہے اس لئے الفاظ قرآن کے اعتبار سے پہلا مفہوم ہی زیادہ صحیح ہے اس مفہوم کے لحاظ سے بھی یہ بات واضح ہے کہ نبوت محمدی کے سراج منیر کے بعد کسی بھی نبی کا چراغ نہیں جل سکتا جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تورات کے اوراق پڑھ رہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر غضب ناک ہوئے اور فرمایا کہ "قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہو کر آجائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کے پیچھے لگ جاؤ تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ (مسند احمد بحوالہ ابن کثیر) بہرحال اب قیامت تک واجب الاتباع صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور نجات انہی کی اطاعت میں منحصر ہے نہ کہ کسی امام کی اندھی تقلید یا کسی بزرگ کی بیعت میں۔ جب کسی پیغمبر کا سکہ اب نہیں چل سکتا تو کسی اور کی ذات غیر مشروط اطاعت کی مستحق کیوں کر ہو سکتی ہے؟ اصر بمعنی عہد اور ذمہ ہے۔(81)
فَمَن تَوَلّىٰ بَعدَ ذٰلِكَ فَأُولٰئِكَ هُمُ الفٰسِقونَ(82)
٨٢۔١ یہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اور دیگر اہل مذہب کو تنبہہ ہے کہ بعثت محمدی کے بعد بھی ان پر ایمان لانے کے بجائے اپنے اپنے مذہب پر قائم رہنا اس عہد کے خلاف ہے جو اللہ تعالٰی نے نبیوں کے واسطے سے ہر امت سے لیا اور اس عہد سے انحراف کفر ہے۔ فسق یہاں کفر کے معنی میں ہے کیونکہ نبوت محمدی سے انکار صرف فسق نہیں سراسر کفر ہے۔(82)
أَفَغَيرَ دينِ اللَّهِ يَبغونَ وَلَهُ أَسلَمَ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ طَوعًا وَكَرهًا وَإِلَيهِ يُرجَعونَ(83)
٨٣۔١ جب آسمان اور زمین کی کوئی چیز اللہ تعالٰی کی قدرت و مشیت سے باہر نہیں چاہے خوشی سے چاہے ناخوشی سے۔ تو پھر تم اس کے سامنے قبول اسلام سے کیوں گریز کرتے ہو؟ اگلی آیت میں ایمان لانے کا طریقہ بتلا کر (کہ ہر نبی اور ہر مُنَزل کتاب پر بغیر تفریق کے ایمان لانا ضروری ہے) پھر کہا جا رہا ہے کہ اسلام کے سوا کوئی اور دین قبول نہیں ہوگا کسی اور دین کے پیروکاروں کے حصے میں سوائے کھانے کے اور کچھ نہیں آئے گا۔(83)
قُل ءامَنّا بِاللَّهِ وَما أُنزِلَ عَلَينا وَما أُنزِلَ عَلىٰ إِبرٰهيمَ وَإِسمٰعيلَ وَإِسحٰقَ وَيَعقوبَ وَالأَسباطِ وَما أوتِىَ موسىٰ وَعيسىٰ وَالنَّبِيّونَ مِن رَبِّهِم لا نُفَرِّقُ بَينَ أَحَدٍ مِنهُم وَنَحنُ لَهُ مُسلِمونَ(84)
٨٤۔١ یعنی تمام سچے نبیوں پر ایمان لانا کہ وہ اپنے اپنے وقت میں اللہ کی طرف سے مبعوث تھے نیز ان پر جو الہامی کتابیں نازل ہوئیں ان کی بابت بھی عقیدہ رکھنا کہ وہ آسمانی کتابیں تھیں اور واقعۃً اللہ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں ضروری ہے۔ گو اب عمل صرف قرآن کریم پر ہی ہوگا کیونکہ قرآن نے پچھلی کتابوں کو منسوخ کر دیا۔(84)
وَمَن يَبتَغِ غَيرَ الإِسلٰمِ دينًا فَلَن يُقبَلَ مِنهُ وَهُوَ فِى الءاخِرَةِ مِنَ الخٰسِرينَ(85)
(85)
كَيفَ يَهدِى اللَّهُ قَومًا كَفَروا بَعدَ إيمٰنِهِم وَشَهِدوا أَنَّ الرَّسولَ حَقٌّ وَجاءَهُمُ البَيِّنٰتُ ۚ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ(86)
(86)
أُولٰئِكَ جَزاؤُهُم أَنَّ عَلَيهِم لَعنَةَ اللَّهِ وَالمَلٰئِكَةِ وَالنّاسِ أَجمَعينَ(87)
(87)
خٰلِدينَ فيها لا يُخَفَّفُ عَنهُمُ العَذابُ وَلا هُم يُنظَرونَ(88)
(88)
إِلَّا الَّذينَ تابوا مِن بَعدِ ذٰلِكَ وَأَصلَحوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ(89)
٨٩۔١ انصار میں سے ایک مسلمان مرتد ہو گیا اور مشرکوں سے جا ملا لیکن جلدی ہی اسے ندامت ہوئی اور اس نے لوگوں کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پیغام بھجوایا کہ میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئیں ان آیات سے معلوم ہوا کہ مرتد کی سزا اگرچہ بہت سخت ہے کیونکہ اس نے حق پہچاننے کے بعد بغض اور عناد اور سرکشی سے حق سے انکار کیا تاہم اگر کوئی خلوص دل سے توبہ اور اپنی اصلاح کر لے تو اللہ تعالٰی غفور و رحیم ہے اس کی توبہ قابل قبول ہے۔(89)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا بَعدَ إيمٰنِهِم ثُمَّ ازدادوا كُفرًا لَن تُقبَلَ تَوبَتُهُم وَأُولٰئِكَ هُمُ الضّالّونَ(90)
٩٠۔١ اس آیت میں ان کی سزا بیان کی جا رہی ہے جو مرتد ہونے کے بعد توبہ کی توفیق سے محروم رہیں اور کفر پر انتقال ہو۔ ٩٠۔٢ اس سے وہ توبہ مراد ہے جو موت کے وقت ہو۔ ورنہ توبہ کا دروازہ تو ہر ایک کے لئے ہر وقت کھلا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں بھی قبولیت توبہ کا اثبات ہے۔ علاوہ ازیں قرآن میں اللہ تعالٰی نے بار بار توبہ کی اہمیت اور قبولیت کو بیان فرمایا ہے۔(وہو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ۔) "الشوری ۔۲۵"کیا انہوں نے نہیں جانا کہ اللہ تعالٰی بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور احادیث میں بھی یہ مضمون بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے اس لیے اس آیت سے مراد آخری سانس کی توبہ ہے جو نامقبول ہے جیسا کہ قرآن کریم کے ایک اور مقام پر ہے (ولیست التوبۃ للذین یعملون السیات حتی اذاحضر احدھم الموت قال انی تبت الئن)۔ النساء۔ ان کی توبہ قبول نہیں ہے جو برائی کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے ایک کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے میری توبہ ۔ حدیث میں بھی ہے ان اللہ یقبل توبۃ العبد مالم یغرغر۔ مسند احمد، ترمذی۔ بحوالہ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر۔ اللہ تعالٰی بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک اسے موت کا اچھو نہ لگے یعنی جان کنی کے وقت کی توبہ قبول نہیں۔(90)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا وَماتوا وَهُم كُفّارٌ فَلَن يُقبَلَ مِن أَحَدِهِم مِلءُ الأَرضِ ذَهَبًا وَلَوِ افتَدىٰ بِهِ ۗ أُولٰئِكَ لَهُم عَذابٌ أَليمٌ وَما لَهُم مِن نٰصِرينَ(91)
۱ ۔ ۱۹حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالٰی قیامت والے دن ایک جہنمی سے کہے گا کہ اگر تیرے پاس دنیا بھر کا سامان ہو تو کیا تو اس عذاب نار کے بدلے اسے دینا پسند کرے گا؟ وہ کہے گا"ہاں" اللہ تعالٰی فرمائے گا میں نے دنیا میں تجھ سے اس سے کہیں زیادہ آسان بات کا مطالبہ کیا تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا مگر تو شرک سے باز نہیں آیا (مسند احمد وھکذا اخرجہ البخاری ومسلم۔ ابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ کافر کے لیے جہنم کا دائمی عذاب ہے اس نے اگر دنیا میں کچھ اچھے کام بھی کیے ہوں گے تو کفر کی وجہ سے وہ بھی ضائع ہی جائیں گے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ عبد اللہ بن جدعان کی بابت پوچھا گیا کہ وہ مہمان نواز، غریب پرور تھا اور غلاموں کو آزاد کرنے والا تھا کیا یہ اعمال سے نفع دیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"نہیں" کیونکہ اس نے ایک دن بھی اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں مانگی (صحیح مسلم۔ کتاب الایمان) اسی طرح اگر کوئی شخص وہاں زمین بھر سونا بطور فدیہ دے کر یہ چاہے کہ وہ عذاب جہنم سے بچ جائے تو یہ ممکن نہیں ہوگا۔ اول تو وہاں کسی کے پاس ہوگا ہی کیا؟ اور اگر بالفرض اس کے پاس دنیا بھر کے خزانے ہوں اور انہیں دے کر عذاب سے چھوٹ جانا چاہے تو یہ بھی نہیں ہوگا، کیونکہ اس سے وہ معاوضہ یا فدیہ قبول ہی نہیں کیا جائے گا۔ جس طرح دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا (ولایقبل منھا عدل ولا تنفعہا شفاعۃ) اس سے کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ کوئی سفارش اسے فائدہ دے گی۔ (لابیع فیہ ولا خلال) اس دن میں کوئی خرید وفروخت ہو گی نہ کوئی دوستی کام آئے گی۔(91)
لَن تَنالُوا البِرَّ حَتّىٰ تُنفِقوا مِمّا تُحِبّونَ ۚ وَما تُنفِقوا مِن شَيءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَليمٌ(92)
٩٢۔١ بر (نیکی بھلائی) سے مراد عمل صالح یا جنت ہے (فتح القدیر) حدیث میں آتا ہے جب یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ جو مدینہ کے اصحاب حیثیت میں سے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! بیرحا کا باغ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، میں اسے اللہ کی رضا کے لئے صدقہ کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' وہ تو بہت نفع بخش مال ہے، میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دو ' چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورے سے انہوں نے اسے اپنے اقارب اور عم زادوں میں تقسیم کر دیا، اچھی چیز صدقہ کی جائے، یہ افضل اور اکمل درجہ حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ جس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کمتر چیز یا اپنی ضرورت سے زائد فالتو چیز یا استعمال شدہ پرانی چیز کا صدقہ نہیں کیا جا سکتا یا اس کا اجر نہیں ملے گا۔ اس قسم کی چیزوں کا صدقہ کرنا بھی یقینا جائز اور باعث اجر ہے گو کمال و افضلیت محبوب چیز کے خرچ کرنے میں ہے۔ ٩٢۔٢ تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے اچھی یا بری چیز، اللہ اسے جانتا ہے، اس کے مطابق جزا سے نوازے گا۔(92)
۞ كُلُّ الطَّعامِ كانَ حِلًّا لِبَنى إِسرٰءيلَ إِلّا ما حَرَّمَ إِسرٰءيلُ عَلىٰ نَفسِهِ مِن قَبلِ أَن تُنَزَّلَ التَّورىٰةُ ۗ قُل فَأتوا بِالتَّورىٰةِ فَاتلوها إِن كُنتُم صٰدِقينَ(93)
٩٣۔١ یہ اور ما بعد دو آیتیں یہود کے اس اعتراض پر نازل ہوئیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دین ابراہیمی کے پیروکار ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور اونٹ کا گوشت بھی کھاتے ہیں جب کہ اونٹ کا گوشت اور اس کا دودھ دین ابراہیمی میں حرام تھا۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا یہود کا دعوی غلط ہے حضرت ابراہیم کے دین میں یہ چیزیں حرام نہیں تھیں۔ ہاں البتہ بعض چیزیں اسرائیل (حضرت یعقوب علیہ السلام نے خود اپنے اوپر حرام کر لی تھیں اور وہ یہی اونٹ کا گوشت اور دودھ تھا (اس کی ایک وجہ نذر یا بیماری تھی اور حضرت یعقوب علیہ السلام کا یہ فعل بھی نزول تورات سے پہلے کا ہے۔ اس لیے کہ تورات تو حضرت ابراہیم علیہ السلام و حضرت یعقوب علیہ السلام کے بہت بعد نازل ہوئی ہے۔ پھر تم کس طرح مزکورہ دعویٰ کر سکتے ہو؟ علاوہ ازیں تورات میں بعض چیزیں تم (یہودیوں) پر تمہارے ظلم اور سرکشی کی وجہ سے حرام کی گئی تھیں۔ (سورۃ الانعام ٤٦۔ النساء۔۱٦۰) اگر تمہیں یقین نہیں ہے تو تورات لاؤ اور اسے پڑھ کر سناؤ جس سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں یہ چیزیں حرام نہیں تھیں اور تم پر بھی بعض چیزیں حرام کی گئیں تو اس کی وجہ تمہاری ظلم و زیادتی تھی یعنی ان کی حرمت بطور سزا تھی۔ (ایسرالتفاسیر)(93)
فَمَنِ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ مِن بَعدِ ذٰلِكَ فَأُولٰئِكَ هُمُ الظّٰلِمونَ(94)
(94)
قُل صَدَقَ اللَّهُ ۗ فَاتَّبِعوا مِلَّةَ إِبرٰهيمَ حَنيفًا وَما كانَ مِنَ المُشرِكينَ(95)
(95)
إِنَّ أَوَّلَ بَيتٍ وُضِعَ لِلنّاسِ لَلَّذى بِبَكَّةَ مُبارَكًا وَهُدًى لِلعٰلَمينَ(96)
٩٦۔ ا یہ یہود کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے، وہ کہتے تھے کہ بیت المقدس سب سے پہلا عبادت خانہ ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں نے اپنا قبلہ کیوں بدل لیا؟ اس کے جواب میں اور اس کے جواب میں کہا گیا تمہارا یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔ پہلا گھر جو اللہ کی عبادت کے لیے تعمیر کی گیا ہے وہ ہے جو مکہ میں ہے۔(96)
فيهِ ءايٰتٌ بَيِّنٰتٌ مَقامُ إِبرٰهيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُ كانَ ءامِنًا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى النّاسِ حِجُّ البَيتِ مَنِ استَطاعَ إِلَيهِ سَبيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِىٌّ عَنِ العٰلَمينَ(97)
٩٧۔۱ اس میں قتال، خون ریزی، شکار حتٰی کہ درخت تک کاٹنا ممنوع ہے۔ ٩٧۔٢ راہ پا سکتے ہوں کا مطلب زاد راہ کی استطاعت اور فراہمی ہے۔ یعنی اتنا خرچ کہ سفر کے اخراجات پورے ہو جائیں۔ علاوہ ازیں استطاعت کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ راستہ پر امن ہو اور جان و مال محفوظ رہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ صحت اور تندرستی کے لحاظ سے سفر کے قابل ہو نیز عورت کے لئے محرم بھی ضروری ہے۔ یہ آیت ہر صاحب استطاعت کے لئے وجوب حج کی دلیل ہے اور احادیث سے امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ یہ عمر میں صرف ایک دفعہ فرض ہے۔ ٩٧۔٣ استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے کو قرآن نے کفر سے تعبیر کیا ہے جس سے حج کی فرضیت میں اور اس کی تاکید میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ احادیث میں بھی ایسے شخص کے لئے وعید آئی ہے۔(97)
قُل يٰأَهلَ الكِتٰبِ لِمَ تَكفُرونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَاللَّهُ شَهيدٌ عَلىٰ ما تَعمَلونَ(98)
(98)
قُل يٰأَهلَ الكِتٰبِ لِمَ تَصُدّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ مَن ءامَنَ تَبغونَها عِوَجًا وَأَنتُم شُهَداءُ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ(99)
٩٩۔١ یعنی تم جانتے ہو کہ یہ دین اسلام حق ہے، اس کے داعی اللہ کے سچے پیغمبر ہیں کیونکہ یہ باتیں ان کتابوں میں درج ہیں جو تمہارے انبیاء پر اتریں اور جنہیں تم پڑھتے ہو۔(99)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِن تُطيعوا فَريقًا مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ يَرُدّوكُم بَعدَ إيمٰنِكُم كٰفِرينَ(100)
١٠٠۔١ یہودیوں کے مکرو فریب اور ان کی طرف سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی مذموم کوششوں کا ذکر کرنے کے بعد مسلمانوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم بھی ان کی سازشوں سے ہوشیار رہو اور قرآن کی تلاوت کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موجود ہونے کے باوجود کہیں یہود کے جال میں نہ پھنس جانا۔ اس کا پس منظر تفسیری روایات میں اسطرح بیان کیا گیا ہے۔ کہ انصار کے دو قبیلے اوس اور خزرج ایک مجلس میں اکھٹے بیٹھے باہم گفتگو کر رہے تھے کہ شاس بن قیس یہودی ان کے پاس سے گزرا اور ان کا باہمی پیار دیکھ کر جل بھن گیا پہلے یہ ایک دوسرے کے سخت دشمن تھے اب اسلام کی برکت سے باہم شیرو شکر ہوگئے ہیں۔ اس نے ایک نوجوان کے ذمے یہ کام لگایا کہ وہ ان کے درمیان جنگ بعاث کا تذکرہ کرے جو ہجرت سے ذرا پہلے ان کے درمیان ہوئی تھی انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف رزمیہ اشعار کہے تھے وہ ان کو سنائے۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، جس سے ان دونوں قبیلوں کے درمیان جذبات بھڑک اٹھے اور ایک دوسرے کو گالی گلوچ دینے لگے یہاں تک کے ہتھیار اٹھانے کے لئے للکار اور پکار شروع ہوگئی اور قریب تھا کہ ان کا باہم قتال بھی شروع ہو جائے کہ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور انہیں سمجھایا اور وہ باز آگئے اس پر یہ آیت بھی اور جو آگے آرہی ہیں وہ بھی نازل ہوئیں (ابن کثیر)(100)
وَكَيفَ تَكفُرونَ وَأَنتُم تُتلىٰ عَلَيكُم ءايٰتُ اللَّهِ وَفيكُم رَسولُهُ ۗ وَمَن يَعتَصِم بِاللَّهِ فَقَد هُدِىَ إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(101)
١٠١۔ ۱ اعتصام باللہ۔ اللہ کے دین کو مضبوطی سے تھام لینا اور اس کی اطاعت میں کوتاہی نہ کرنا۔(101)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ وَلا تَموتُنَّ إِلّا وَأَنتُم مُسلِمونَ(102)
١٠٢۔١ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے احکام و فرائض پورے طور پر بجا لائے جائیں اور منہیات کے قریب نہ جایا جائے بعض کہتے ہیں کہ اس آیت سے صحابہ کرام پریشان ہوئے تو اللہ تعالٰی نے دوسری آیت نازل فرما دی اللہ سے اپنی طاقت کے مطابق ڈرو جس طرح اپنی طاقت سے ڈرنے کا حق ہے (فتح القدیر)(102)
وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّهِ جَميعًا وَلا تَفَرَّقوا ۚ وَاذكُروا نِعمَتَ اللَّهِ عَلَيكُم إِذ كُنتُم أَعداءً فَأَلَّفَ بَينَ قُلوبِكُم فَأَصبَحتُم بِنِعمَتِهِ إِخوٰنًا وَكُنتُم عَلىٰ شَفا حُفرَةٍ مِنَ النّارِ فَأَنقَذَكُم مِنها ۗ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُم ءايٰتِهِ لَعَلَّكُم تَهتَدونَ(103)
١٠٣۔١ تقوٰی کے بعد سب ملکر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینے کا درس دے کر واضح کر دیا کہ نجات بھی انہی دو اصولوں میں ہے اور اتحاد بھی انہیں پر قائم ہو سکتا اور رہ سکتا ہے۔ ١٠٣۔٢ 'ولا تفرقوا اور پھوٹ نہ ڈالو ' کے ذریعے فرقہ بندی سے روک دیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مزکورہ دو اصولوں سے انحراف کرو گے تو تمہارے درمیان پھوٹ پڑ جائے گی اور تم الگ الگ فرقوں میں بٹ جاؤ گے۔ اور یہیں سے امت مسلمہ کے افتراق کے المیہ کا آغاز ہوا جو دن بدن بڑھتا ہی چلا گیا اور نہایت مستحکم ہو گیا۔(103)
وَلتَكُن مِنكُم أُمَّةٌ يَدعونَ إِلَى الخَيرِ وَيَأمُرونَ بِالمَعروفِ وَيَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ ۚ وَأُولٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ(104)
(104)
وَلا تَكونوا كَالَّذينَ تَفَرَّقوا وَاختَلَفوا مِن بَعدِ ما جاءَهُمُ البَيِّنٰتُ ۚ وَأُولٰئِكَ لَهُم عَذابٌ عَظيمٌ(105)
١٠٥۔١ روشن دلیلیں آ جانے کے بعد تفرقہ ڈالا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہود و نصاریٰ کے باہم اختلاف و تفرقہ کی وجہ یہ نہ تھی کہ انہیں حق کا پتہ نہ تھا اور وہ اس کے دلائل سے بے خبر تھے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں سب کچھ جانتے ہوئے محض دنیاوی مفاد اور نفسانی اغراض کے لئے اختلاف و تفرقہ کی راہ پکڑی تھی اور اس پر جمے ہوئے تھے۔ قرآن مجید نے مختلف اسلوب اور پیرائے سے بار بار اس حقیقت کی نشان دہی کی ہے اور اس سے دور رہنے کی تاکید فرمائی۔ مگر افسوس کہ اس امت کے تفرقہ بازوں نے بھی ٹھیک یہی روش اختیار کی کہ حق اور اس کی روشن دلیلیں خوب اچھی طرح معلوم ہیں۔ لیکن وہ اپنی فرقہ بندیوں پر جمے ہوئے ہیں اور اپنی عقل و ذہانت کا سارا جوہر سابقہ امتوں کی طرح تاویل اور تحریف کے مکروہ شغل میں ضائع کر رہے ہیں۔(105)
يَومَ تَبيَضُّ وُجوهٌ وَتَسوَدُّ وُجوهٌ ۚ فَأَمَّا الَّذينَ اسوَدَّت وُجوهُهُم أَكَفَرتُم بَعدَ إيمٰنِكُم فَذوقُوا العَذابَ بِما كُنتُم تَكفُرونَ(106)
١٠٦۔١ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اس سے اہل سنت والجماعت اور اہل بدعت وافتراق مراد لئے ہیں (ابن کثیر و فتح القدیر) جس سے معلوم ہوا اسلام وہی ہے جس پر اہل سنت والجماعت عمل پیرا ہیں اور اہل بدعت و اہل افتراق اس نعمت اسلام سے محروم ہیں جو ذریعہ نجات ہے۔(106)
وَأَمَّا الَّذينَ ابيَضَّت وُجوهُهُم فَفى رَحمَةِ اللَّهِ هُم فيها خٰلِدونَ(107)
(107)
تِلكَ ءايٰتُ اللَّهِ نَتلوها عَلَيكَ بِالحَقِّ ۗ وَمَا اللَّهُ يُريدُ ظُلمًا لِلعٰلَمينَ(108)
(108)
وَلِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۚ وَإِلَى اللَّهِ تُرجَعُ الأُمورُ(109)
(109)
كُنتُم خَيرَ أُمَّةٍ أُخرِجَت لِلنّاسِ تَأمُرونَ بِالمَعروفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ وَتُؤمِنونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَو ءامَنَ أَهلُ الكِتٰبِ لَكانَ خَيرًا لَهُم ۚ مِنهُمُ المُؤمِنونَ وَأَكثَرُهُمُ الفٰسِقونَ(110)
١١٠۔١ اس آیت میں امت مسلمہ کو ' خیر امت ' قرار دیا گیا ہے اور اس کی علت بھی بیان کر دی گئی ہے جو امر بالمعروف نہی عن المنکر اور ایمان باللہ ہے۔ گویا یہ امت اگر ان امتیازی خصوصیات سے متصف رہے گی تو خیر امت ہے بصورت دیگر اس امتیاز سے محروم قرار پا سکتی ہے۔ اس کے بعد اہل کتاب کی مذمت سے بھی اسی نکتے کی وضاحت مقصود و معلوم ہوتی ہے کہ جو امر بالمعروف و نہی المنکر نہیں کرے گا، وہ بھی اہل کتاب کے مشابہ قرار پائے گا۔ ان کی صفت بیان کی گئی ہے۔ وہ ایک دوسرے کو برائی سے نہیں روکتے اور یہاں اسی آیت میں ان کی اکثریت کو فاسق کہا گیا ہے۔ امر بالمعروف یہ فرض عین ہے یا فرض کفایہ؟ اکثر علماء کے خیال میں یہ فرض کفایہ ہے۔ یعنی علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فرض کو ادا کرتے رہیں کیونکہ معروف اور منکر شرعی کا صحیح علم وہی رکھتے ہیں ان کے فریضہ تبلیغ و دعوت کی ادائیگی سے دیگر افراد کی طرف سے یہ فرض ساقط ہو جائے گا۔ جیسے جہاد بھی عام حالات میں فرض کفایہ ہے یعنی ایک گروہ کی طرف سے ادائیگی سے اس فرض کی ادائیگی ہو جائے گی۔ ١١٠۔٢ جیسے عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وغیرہ جو مسلمان ہوگئے تھے۔ تاہم ان کی تعداد نہایت قلیل تھی۔ اس لئے مِنْہمْ میں مِنْ، تَبْعِیْضُ کے لئے ہے۔(110)
لَن يَضُرّوكُم إِلّا أَذًى ۖ وَإِن يُقٰتِلوكُم يُوَلّوكُمُ الأَدبارَ ثُمَّ لا يُنصَرونَ(111)
١١١۔١ اس سے مراد زبانی بہتان تراشی ہے جس سے دل کو وقتی طور پر ضرور تکلیف پہنچتی ہے تاہم میدان حرب و ضرب میں یہ تمہیں شکست نہیں دے سکیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا، مدینہ سے بھی یہودیوں کو نکلنا پڑا پھر خیبر فتح ہو گیا اور وہاں سے بھی نکلے، اسی طرح شام کے علاقوں میں عیسائیوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے شکست سے دو چار ہونا پڑا تاآنکہ حروب صلیبیہ میں عیسائیوں نے اس کا بدلہ لینے کی کوشش کی اور بیت المقدس پر بھی قابض ہوگئے مگر اسے صلاح الدین ایوبی نے ٩٠ سال کے بعد واگزار کرا لیا۔ لیکن اب مسلمانوں کی ایمانی کمزوری کے نتیجہ میں یہود و نصاریٰ کی مشترکہ سازشوں اور کوششوں سے بیت المقدس پھر مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے۔ تاہم ایک وقت آئے گا کہ یہ صورت حال تبدیل ہو جائے گی بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد عیسائیت کا خاتمہ اور اسلام کا غلبہ یقینی ہے جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے۔ (ابن کثیر)(111)
ضُرِبَت عَلَيهِمُ الذِّلَّةُ أَينَ ما ثُقِفوا إِلّا بِحَبلٍ مِنَ اللَّهِ وَحَبلٍ مِنَ النّاسِ وَباءو بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَضُرِبَت عَلَيهِمُ المَسكَنَةُ ۚ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم كانوا يَكفُرونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَيَقتُلونَ الأَنبِياءَ بِغَيرِ حَقٍّ ۚ ذٰلِكَ بِما عَصَوا وَكانوا يَعتَدونَ(112)
١١٢۔١ یہودیوں پر جو ذلت و مسکنت، غضب الٰہی کے نتیجے میں مسلط کی گئی ہے، اس سے وقتی طور پر بچاؤ کی دو صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اللہ کی پناہ میں آجائیں۔ یعنی اسلام قبول کرلیں یا اسلامی مملکت میں جزیہ دے کر ذمی کی حیثیت سے رہنا قبول کرلیں، دوسری صورت یہ ہے کہ لوگوں کی پناہ ان کو حاصل ہو ١١٢۔٢ یہ ان کے کرتوت ہیں جنکی پادش میں ان پر ذلت مسلط کی گئی ہے۔(112)
۞ لَيسوا سَواءً ۗ مِن أَهلِ الكِتٰبِ أُمَّةٌ قائِمَةٌ يَتلونَ ءايٰتِ اللَّهِ ءاناءَ الَّيلِ وَهُم يَسجُدونَ(113)
(113)
يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ وَيَأمُرونَ بِالمَعروفِ وَيَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ وَيُسٰرِعونَ فِى الخَيرٰتِ وَأُولٰئِكَ مِنَ الصّٰلِحينَ(114)
(114)
وَما يَفعَلوا مِن خَيرٍ فَلَن يُكفَروهُ ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ بِالمُتَّقينَ(115)
١١٥۔١ یعنی سارے اہل کتاب ایسے نہیں جن کی مذمت پچھلی آیات میں بیان کی گئی ہے، بلکہ ان میں کچھ اچھے لوگ بھی ہیں، جنہیں اللہ تعالٰی نے شرف اسلام سے نوازا اور ان میں اہل ایمان و تقویٰ والی خوبیاں پائی جاتی ہیں، رضی اللہ عنہم ورضو عنہ۔ قائمۃ کے معنی ہیں، شریعت کی اطاعت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرنے والی، یسجدون کا مطلب رات کو قیام کرتے یعنی تہجد پڑھتے اور نمازوں میں تلاوت کرتے ہیں۔ اس مقام پر امر بالمعروف کے معنی بعض نے یہ کئے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا حکم دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے سے روکتے ہیں۔ اسی گروہ کا ذکر آگے بھی کیا گیا ہے (وان من اھل الکتٰب لمن یؤمن باللہ وما انزل الیکم وما انزل الیکم وما انزل الیھم خٰشعین للہ) (آل عمران، ١٩٩)(115)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا لَن تُغنِىَ عَنهُم أَموٰلُهُم وَلا أَولٰدُهُم مِنَ اللَّهِ شَيـًٔا ۖ وَأُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۚ هُم فيها خٰلِدونَ(116)
(116)
مَثَلُ ما يُنفِقونَ فى هٰذِهِ الحَيوٰةِ الدُّنيا كَمَثَلِ ريحٍ فيها صِرٌّ أَصابَت حَرثَ قَومٍ ظَلَموا أَنفُسَهُم فَأَهلَكَتهُ ۚ وَما ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلٰكِن أَنفُسَهُم يَظلِمونَ(117)
١١٧۔١ قیامت والے دن کافروں کے نہ مال کچھ کام آئیں گے نہ اولاد، حتیٰ کے رفاہی اور بظاہر بھلائی کے کاموں پر جو بھی خرچ کرتے ہیں وہ بیکار جائیں گے اور ان کی مثال اس سخت پالے کی سی ہے جو ہری بھری کھیتی کو جلا کر خاکستر کر دیتا ہے ظالم اسی کھیتی کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوتے اور اس سے نفع کی امید رکھے ہوتے ہیں کہ اچانک ان کی امیدیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا جب تک ایمان نہیں ہوگا، رفاہی کاموں پر رقم خرچ کرنے والوں کی چاہے دنیا میں کتنی ہی شہرت ہو جائے آخرت میں انہیں ان کا کوئی صلہ نہیں ملے گا، وہاں تو ان کے لئے جہنم کا دائمی عذاب ہے۔(117)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذوا بِطانَةً مِن دونِكُم لا يَألونَكُم خَبالًا وَدّوا ما عَنِتُّم قَد بَدَتِ البَغضاءُ مِن أَفوٰهِهِم وَما تُخفى صُدورُهُم أَكبَرُ ۚ قَد بَيَّنّا لَكُمُ الءايٰتِ ۖ إِن كُنتُم تَعقِلونَ(118)
١١٨۔١ یہ مضمون پہلے بھی گزر چکا ہے۔ یہاں اس کی اہمیت کے پیش نظر پھر دہرایا جا رہا ہے۔ بطانتہ، دلی دوست اور رازدار کو کہا جاتا ہے۔ کافر اور مشرک مسلمانوں کے بارے میں جو جذبات و عزائم رکھتے ہیں، ان میں سے جن کا وہ اظہار کرتے اور جنہیں اپنے سینوں میں مخفی رکھتے ہیں، اللہ تعالٰی نے ان سب کی نشاندہی فرما دی ہے یہ اور اس قسم کی دیگر آیات کے پیش نظر ہی علماء و فقہا نے تحریر کیا ہے کہ ایک اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کو کلیدی مناصب پر فائز کرنا جائز نہیں ہے۔ مروی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ نے ایک (غیر مسلم) کو کاتب (سیکرٹری) رکھ لیا، حضرت عمر رضی اللہ کے علم میں یہ بات آئی تو آپ نے انہیں سختی سے ڈانٹا اور فرمایا کہ ' تم انہیں اپنے قریب نہ کرو جب کہ اللہ نے انہیں دور کر دیا ہے ان کو عزت نہ بخشو جب کہ اللہ تعالٰی نے انہیں ذلیل کر دیا ہے اور انہیں راز دار مت بناؤ جب کہ اللہ نے انہیں بد دیانت قرار دیا ہے ـ' حضرت عمر رضی اللہ نے اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا۔ امام قرطبی فرماتے ہیں اس زمانے میں اہل کتاب کو سیکرٹری اور امین بنانے کی وجہ سے احوال بدل گئے ہیں اور اس وجہ سے غبی لوگ سردار اور امرا بن گئے (تفسیر قرطبی)۔ بد قسمتی سے آج کے اسلامی ممالک میں بھی قرآن کریم کے اس نہایت اہم حکم کو اہمیت نہیں دی جا رہی ہے اور اس کے برعکس غیر مسلم بڑے بڑے اہم عہدوں اور کلیدی مناصب پر فائز ہیں جن کے نقصانات واضح ہیں۔ اگر اسلامی ممالک اپنی داخلی اور خارجی دونوں پالیسیوں میں اس حکم کی رعایت کریں تو یقینا بہت سے مفاسد اور نقصانات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ١١٨۔۲ لایألون، کوتاہی اور کمی نہیں کریں گے خبالا کے معنی فساد اور ہلاکت کے ہیں ماعنتم (جس سے تم مشقت اور تکلیف میں پڑو) عنت بمعنی مَشَقَّۃ(118)
هٰأَنتُم أُولاءِ تُحِبّونَهُم وَلا يُحِبّونَكُم وَتُؤمِنونَ بِالكِتٰبِ كُلِّهِ وَإِذا لَقوكُم قالوا ءامَنّا وَإِذا خَلَوا عَضّوا عَلَيكُمُ الأَنامِلَ مِنَ الغَيظِ ۚ قُل موتوا بِغَيظِكُم ۗ إِنَّ اللَّهَ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ(119)
١١٩۔١ تم ان منافقین کی نماز اور ایمان کیوجہ سے ان کی بابت دھوکے کا شکار ہو جاتے ہو اور ان سے محبت رکھتے ہو۔ ١١٩۔٢ یہ ان کے غیظ و غضب کی شدت کا بیان ہے جیسا کہ اگلی آیت میں بھی ان کی اسی کیفیت کا اظہار ہے۔(119)
إِن تَمسَسكُم حَسَنَةٌ تَسُؤهُم وَإِن تُصِبكُم سَيِّئَةٌ يَفرَحوا بِها ۖ وَإِن تَصبِروا وَتَتَّقوا لا يَضُرُّكُم كَيدُهُم شَيـًٔا ۗ إِنَّ اللَّهَ بِما يَعمَلونَ مُحيطٌ(120)
١٢٠۔١ اس میں منافقین کی شدید عداوت کا ذکر ہے جو انہیں مومنوں کے ساتھ تھی اور وہ یہ کہ جب مسلمانوں کو خوش حالی میسر آتی، اللہ تعالٰی کی طرف سے ان کو تائید و نصرت ملتی اور مسلمانوں کی تعداد و قوت میں اضافہ ہوتا تو منافقین کو بہت برا لگتا اور اگر مسلمان قحط سالی یا تنگدستی میں مبتلا ہوتے یا اللہ کی مشیت و مصلحت سے دشمن وقتی طور پر مسلمانوں پر غالب آجاتے (جیسے جنگ احد میں ہوا) تو بڑے خوش ہوتے۔ مقصد بتلانے سے یہ ہے جن لوگوں کا یہ حال ہو، کیا وہ اس لائق ہو سکتے ہیں کہ مسلمان ان سے محبت کی پینگیں بڑھائیں اور انہیں اپنا راز دار اور دوست بنائیں؟ اسی لئے اللہ تعالٰی نے یہود و نصاریٰ سے بھی دوستی رکھنے سے منع فرمایا (جیسا کہ قرآن کریم کے دوسرے مقامات پر ہے)۔ اس لیے کہ وہ بھی مسلمانوں سے نفرت وعداوت رکھتے ان کی کامیابیوں سے ناخوش اور ان کی ناکامیوں سے خوش ہوتے ہیں۔ ١٢٠۔٢ یہ ان کے مکر و فریب سے بچنے کا طریقہ اور علاج ہے۔ گویا منافقین اور دیگر دشمنان اسلام و مسلمین کی سازشوں سے بچنے کے لئے صبر اور تقویٰ نہایت ضروری ہے۔ اس صبر اور تقویٰ کے فقدان نے غیر مسلموں کی سازشوں کو کامیاب بنا رکھا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ کافروں کی یہ کامیابی مادی اسباب اور وسائل کی فروانی اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ان کی ترقی کا نتیجہ ہے۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی پستی اور زوال کا اصل سبب یہی ہے کہ وہ اپنے دین پر استقامت (صبر کے دامن) سے محروم اور تقوے سے عاری ہوگئے جو مسلمانوں کی کامیابی کی کلید اور تائید الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہیں۔(120)
وَإِذ غَدَوتَ مِن أَهلِكَ تُبَوِّئُ المُؤمِنينَ مَقٰعِدَ لِلقِتالِ ۗ وَاللَّهُ سَميعٌ عَليمٌ(121)
١٢١۔١ جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد جنگ احد کا واقعہ ہے جو شوال ٣ ہجری میں پیش آیا۔ اس کا پس منظر مختصراً یہ ہے کہ جب جنگ بدر ٢ ہجری میں کفار کو عبرت ناک شکست ہوئی، ان کے سترّ آدمی مارے گئے اور ستّر قید ہوئے تو کفار کے لئے یہ بدنامی کا باعث اور مرنے کا مقام تھا، چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک زبردست انتقامی جنگ کی تیاری کی جس میں عورتیں بھی شریک ہوئیں۔ ادھر مسلمانوں کو جب اس کا علم ہوا کہ کافر تین ہزار کی تعداد میں احد پہاڑ کے نزدیک خیمہ زن ہوگئے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر رہ کر ہی مقابلہ کا مشورہ دیا اور رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا۔ لیکن اس کے برعکس بعض پر جوش صحابہ کرام نے جنہیں جنگ بدر میں حصہ لینے کی سعادت حاصل نہیں ہوئی تھی، مدینہ کے باہر جاکر لڑنے کی حمایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر حجرے میں تشریف فرما تھے ہتھیار پہن کر باہر آئے، دوسری رائے والوں کو ندامت ہوئی کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی خواہش کے برعکس باہر نکلنے پر مجبور کرکے ٹھیک نہیں کیا چنانچہ انہوں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اگر اندر رہ کر مقابلہ کرنا پسند فرمائیں تو اندر ہی رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لباس حرب پہن لینے کے بعد کسی نبی کے لائق نہیں کہ وہ اللہ کے فیصلے کے بغیر واپس ہو اور لباس اتارے۔ چنانچہ مسلمان ایک ہزار کی تعداد میں روانہ ہوگئے مگر صبح دم جب مقام شوط پر پہنچے تو عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں سمیت یہ کہہ کر واپس آگیا کہ اس کی رائے نہیں مانی گئی۔ خواہ مخواہ جان دینے کا کیا فائدہ؟ اس کے اس فیصلے سے وقتی طور پر بعض مسلمان بھی متاثر ہوگئے اور انہوں نے بھی کمزوری کا مظاہرہ کیا (ابن کثیر)(121)
إِذ هَمَّت طائِفَتانِ مِنكُم أَن تَفشَلا وَاللَّهُ وَلِيُّهُما ۗ وَعَلَى اللَّهِ فَليَتَوَكَّلِ المُؤمِنونَ(122)
١٢٢۔١ یہ اوس اور خزرج کے دو قبیلے (بنو حارث اور بنو سلمہ) تھے ١٢٢۔٢ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ نے ان کی مدد کی اور ان کی کمزوری کو دور فرما کر ان کی ہمت باندھ دی۔(122)
وَلَقَد نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدرٍ وَأَنتُم أَذِلَّةٌ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُم تَشكُرونَ(123)
١٢٣۔١ بہ اعتبار قلت تعداد اور قلت سامان کے، کیونکہ جنگ بدر میں مسلمان ٣١٣ تھے اور یہ بھی بے سرو سامان۔ صرف دو گھوڑے اور ستّر اونٹ تھے باقی سب پیدل تھے (ابن کثیر)(123)
إِذ تَقولُ لِلمُؤمِنينَ أَلَن يَكفِيَكُم أَن يُمِدَّكُم رَبُّكُم بِثَلٰثَةِ ءالٰفٍ مِنَ المَلٰئِكَةِ مُنزَلينَ(124)
(124)
بَلىٰ ۚ إِن تَصبِروا وَتَتَّقوا وَيَأتوكُم مِن فَورِهِم هٰذا يُمدِدكُم رَبُّكُم بِخَمسَةِ ءالٰفٍ مِنَ المَلٰئِكَةِ مُسَوِّمينَ(125)
١٢٥۔١ مسلمان بدر کی جانب قافلہ قریش پر جو تقریبًا نہتا تھا چھاپہ مارنے نکلے تھے۔ مگر بدر پہنچتے پہنچتے معلوم ہوا کہ مکہ سے مشرکین کا ایک لشکر جرار غیظ و غضب اور جوش و خروش کے ساتھ چلا آرہا ہے۔ یہ سن کر مسلمانوں کی صف میں گھبراہٹ، تشویش اور جوش قتال کا ملا جلا اور عمل ہوا اور انہوں نے رب تعالٰی سے دعا و فریاد کی۔ اس پر اللہ تعالٰی نے پہلے ایک ہزار پھر تین ہزار فرشتے اتارنے کی بشارت دی اور مزید وعدہ کیا کہ اگر تم صبرو تقویٰ پر قائم رہے اور مشرکین کا جوش وخروش و غضب برقرار نہ رہ سکا۔ (بدر پہنچنے سے پہلے ہی ان میں پھوٹ پڑ گئی۔ ایک گروہ مکہ پلٹ گیا اور باقی جو بدر میں آئے ان میں سے اکثر سرداروں کی رائے تھی کہ لڑائی نہ کی جائے) اس لیے حسب بشارت تین ہزار فرشتے اتارے گئے اور پانچ ہزار کی تعداد پوری کرنے کی ضرورت پیش نہ آسکی اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ تعداد پوری کی گئی۔ ١٢٥۔٢ یعنی پہچان کے لئے ان کی مخصوص علامت ہوگی۔(125)
وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلّا بُشرىٰ لَكُم وَلِتَطمَئِنَّ قُلوبُكُم بِهِ ۗ وَمَا النَّصرُ إِلّا مِن عِندِ اللَّهِ العَزيزِ الحَكيمِ(126)
(126)
لِيَقطَعَ طَرَفًا مِنَ الَّذينَ كَفَروا أَو يَكبِتَهُم فَيَنقَلِبوا خائِبينَ(127)
١٢٧۔١ یہ اللہ غالب و کار فرما کی مدد کا نتیجہ بتلایا جا رہا ہے سورہ انفال میں فرشتوں کی تعداد ایک ہزار بتلائی گئی ہے، "اذتستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملٰئکۃ" جب تم اپنے رب سے مدد طلب کر رہے تھے، اللہ تعالٰی نے تمہاری فریاد سنتے ہوئے کہا کہ میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرونگا۔ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے واقعتًا تو ایک ہزار ہی نازل ہوئے اور مسلمانوں کے حوصلے اور تسلی کے لئے تین ہزار کا اور پھر پانچ ہزار کا مزید مشروط وعدہ کیا گیا۔ پھر حسب حالات مسلمانوں کی تسلی کے نقطہ نظر سے بھی ان کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ اس لئے بعض مفسرین کے نزدیک یہ تین ہزار پانچ ہزار فرشتوں کا نزول نہیں ہوا کیونکہ مقصد تو مسلمانوں کے حوصلے بلند کرنا تھا، ورنہ اصل مددگار تو اللہ تعالٰی ہی تھا اور اللہ اپنی مدد کے لیے فرشتوں کا یا کسی اور کا محتاج ہی نہیں ہے۔ چنانچہ اس نے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور جنگ بدر میں مسلمانوں کو تاریخی کامیابی حاصل ہوئی، کفر کی طاقت کمزور ہوئی اور کافروں کا گھمنڈ خاک میں مل گیا۔ (ایسرالتفاسیر)(127)
لَيسَ لَكَ مِنَ الأَمرِ شَيءٌ أَو يَتوبَ عَلَيهِم أَو يُعَذِّبَهُم فَإِنَّهُم ظٰلِمونَ(128)
١٢٨۔١ یعنی ان کافروں کو ہدایت دینا یا ان کے معاملے میں کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنا سب اللہ کے اختیار میں ہی ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ جنگ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک بھی شہید ہوگئے اور چہرا مبارک بھی زخمی ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' وہ قوم کس طرح فلاح یاب ہوگی جس نے اپنے نبی کو زخمی کر دیا ' گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ہدایت سے ناآمیدی ظاہر فرمائی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اسی طرح بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض کفار کے لئے قنوت نازلہ کا بھی اہتمام فرمایا جس میں ان کے لئے بد دعا فرمائی جس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کا سلسلہ بند فرما دیا (ابن کثیر فتح القدیر) اس آیت سے ان لوگوں کو عبرت پکڑنی چاہئیے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مختار کل قرار دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اتنا اختیار بھی نہ تھا کہ کسی کو راہ راست پر لگا دیں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی راستے کی طرف بلانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ ١٢٨۔٢ یہ قبیلے جن کے لئے بددعا فرماتے رہے اللہ کی توفیق سے سب مسلمان ہوگئے۔ جن سے معلوم ہوا مختار کل اور عالم الغیب صرف اللہ تعالٰی ہی ہے۔(128)
وَلِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۚ يَغفِرُ لِمَن يَشاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشاءُ ۚ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ(129)
(129)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَأكُلُوا الرِّبوٰا۟ أَضعٰفًا مُضٰعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ(130)
١٣٠۔١ چونکہ غزوہ احد میں ناکامی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی اور مال دنیا کے لا لچ کے سبب ہوئی تھی اس لئے اب طمع دنیا کی سب سے زیادہ بھیانک اور مستقل شکل سود سے منع کیا جا رہا ہے اور اطاعت کی تاکید کی جا رہی ہے اور بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ کا یہ مطلب نہیں کہ بڑھا چڑھا کر نہ ہو تو مطلق سود جائز ہے بلکہ سود کم ہو یا زیادہ مفرد ہو یا مرکب مطلقًا حرام ہے جیسے کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کیلئے تیار کی گئی ہے جس سے تنبیہ بھی مقصود ہے کہ سود خوری سے باز نہ آئے تو یہ فعل تمہیں کفر تک پہنچا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ اللہ و رسول سے محاربہ ہے۔(130)
وَاتَّقُوا النّارَ الَّتى أُعِدَّت لِلكٰفِرينَ(131)
(131)
وَأَطيعُوا اللَّهَ وَالرَّسولَ لَعَلَّكُم تُرحَمونَ(132)
(132)
۞ وَسارِعوا إِلىٰ مَغفِرَةٍ مِن رَبِّكُم وَجَنَّةٍ عَرضُهَا السَّمٰوٰتُ وَالأَرضُ أُعِدَّت لِلمُتَّقينَ(133)
١٣٣۔١ مال و دولت دنیا کے پیچھے لگ کر آخرت تباہ کرنے کی بجائے، اللہ اور رسول کی اطاعت اور اللہ کی مغفرت اور اس کی جنت کا راستہ اختیار کرو۔ جو متقین کے لئے اللہ نے تیار کیا ہے۔ چنانچہ آگے متقین کی چند خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔(133)
الَّذينَ يُنفِقونَ فِى السَّرّاءِ وَالضَّرّاءِ وَالكٰظِمينَ الغَيظَ وَالعافينَ عَنِ النّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ المُحسِنينَ(134)
١٣٤۔١ محض خوش حالی میں ہی نہیں، تنگ دستی کے موقع پر بھی خرچ کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہی کہ ہر حال اور ہر موقع پر اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ ١٣٤۔٢ یعنی جب غصہ انہیں بھڑکاتا ہے تو اسے پی جاتے ہیں یعنی اس پر عمل نہیں کرتے اور ان کو معاف کر دیتے ہیں جو ان کے ساتھ برائی کرتے ہیں۔(134)
وَالَّذينَ إِذا فَعَلوا فٰحِشَةً أَو ظَلَموا أَنفُسَهُم ذَكَرُوا اللَّهَ فَاستَغفَروا لِذُنوبِهِم وَمَن يَغفِرُ الذُّنوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَم يُصِرّوا عَلىٰ ما فَعَلوا وَهُم يَعلَمونَ(135)
١٣٥۔١ یعنی جب ان سے بتقاضائے بشریت کسی غلطی یا گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو فوراً توبہ استغفار کا اہتمام کرتے ہیں۔(135)
أُولٰئِكَ جَزاؤُهُم مَغفِرَةٌ مِن رَبِّهِم وَجَنّٰتٌ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها ۚ وَنِعمَ أَجرُ العٰمِلينَ(136)
(136)
قَد خَلَت مِن قَبلِكُم سُنَنٌ فَسيروا فِى الأَرضِ فَانظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُكَذِّبينَ(137)
١٣٧۔١ جنگ احد میں مسلمانوں کا لشکر سات سو افراد پر مشتمل تھا جس میں ٥٠ تیر اندازوں کا ایک دستہ آپ نے عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک پہاڑی پر مقرر فرما دیا اور انہیں تاکید کر دی کہ چاہے ہمیں فتح ہو یا شکست تم یہاں سے نہ ہلنا اور تمہارا کام یہ ہے کہ جو گھڑ سوار تمہاری طرف آئے تیروں سے اسے پیچھے دھکیل دینا لیکن مسلمان فتح یاب ہوگئے اور مال اسباب سمیٹنے لگے تو اس دستے میں اختلاف ہو گیا کچھ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مقصد تو یہ تھا جب تک جنگ جاری رہے یہیں جمے رہنا لیکن جب یہ جنگ ختم ہو گئی ہے اور کفار بھاگ رہے ہیں تو یہاں رہنا ضروری نہیں۔ چنانچہ انہوں نے بھی وہاں سے ہٹ کر مال و اسباب جمع کرنا شروع کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہاں صرف دس آدمی رہ گئے جس سے کافروں نے فائدہ اُٹھایا ان کے گھڑ سوار پلٹ کر وہیں سے مسلمانوں کے عقب میں جا پہنچے اور اچانک حملہ کر دیا جس میں مسلمانوں میں افراتفری مچ گئی۔ جس سے مسلمانوں کو قدرتی طور پر بہت تکلیف ہوئی۔ ان آیات میں اللہ تعالٰی مسلمانوں کو تسلی دے رہا ہے کہ تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا ہے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے۔ تاہم بالآخر تباہی و بربادی اللہ و رسول کی تکذیب کرنے والوں کا ہی مقدر ہے۔(137)
هٰذا بَيانٌ لِلنّاسِ وَهُدًى وَمَوعِظَةٌ لِلمُتَّقينَ(138)
(138)
وَلا تَهِنوا وَلا تَحزَنوا وَأَنتُمُ الأَعلَونَ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ(139)
١٣٩۔١ گذشتہ جنگ میں تمہیں جو نقصان پہنچا ہے، اس سے نہ سست ہو اور نہ اس پر غم کھاؤ کیونکہ اگر تمہارے اندر ایمانی قوت موجود رہی تو غالب اور کامران تم ہی رہو گے۔ اس میں اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کی قوت کا اصل راز اور ان کی کامیابی کی ایک بنیاد واضح کر دی ہے۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ اس کے بعد مسلمان ہر معرکے میں سرخرو ہی رہے۔(139)
إِن يَمسَسكُم قَرحٌ فَقَد مَسَّ القَومَ قَرحٌ مِثلُهُ ۚ وَتِلكَ الأَيّامُ نُداوِلُها بَينَ النّاسِ وَلِيَعلَمَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا وَيَتَّخِذَ مِنكُم شُهَداءَ ۗ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ الظّٰلِمينَ(140)
١٤٠۔١ ایک اور انداز سے مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اگر جنگ احد میں تمہارے کچھ لوگ زخمی ہوئے تو کیا ہوا؟ تمہارے مخالف بھی تو (جنگ بدر میں) اور احد کی ابتداء میں اسی طرح زخمی ہو چکے ہیں اور اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ فتح و شکست کے ایام کو ادلتا بدلتا رہتا ہے۔ کبھی غالب کو مغلوب اور کبھی مغلوب کو غالب کر دیتا ہے۔(140)
وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا وَيَمحَقَ الكٰفِرينَ(141)
١٤١۔١ احد میں مسلمانوں کو جو عارضی شکست ان کی اپنی کوتاہی کی وجہ سے ہوئی اس میں بھی مستقبل کے لئے کئی حکمتیں پنہاں ہیں۔ جنہیں اللہ تعالٰی آگے بیان فرما رہا ہے۔ ایک یہ کہ ایمان والوں کو ظاہر کر دے (کیونکہ صبر اور استقامت ایمان کا تقاضا ہے) جنگ کی شدتوں اور مصیبتوں میں جنہوں نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا، یقینا وہ سب مومن ہیں۔ دوسری یہ کہ کچھ لوگوں کو شہادت کے مرتبہ پر فائز کر دے۔ آخری دونوں کا مطلب گناہوں سے پاکی اور خلاصی ہے (فتح الْقدیر) مرحوم مترجم نے پہلے معنی کو اختیار کیا ہے چوتھی، یہ کہ کافروں کو ہٹا دے۔ وہ اس طرح کہ وقتی فتح یابی سے ان کی سرکشی اور تکبر میں اضافہ ہوگا اور یہی چیز ان کی تباہی و ہلاکت کا سبب بنے گی۔(141)
أَم حَسِبتُم أَن تَدخُلُوا الجَنَّةَ وَلَمّا يَعلَمِ اللَّهُ الَّذينَ جٰهَدوا مِنكُم وَيَعلَمَ الصّٰبِرينَ(142)
١٤٢۔١ بغیر قتال کی آزمائش کے تم جنت میں چلے جاؤ گے؟ نہیں! بلکہ جنت ان لوگوں کو ملے گی جو آزمائش میں پورا اتریں گے، ابھی تم پر وہ حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھی، انہیں تنگ دستی اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ خوب بلائے گئے مذید فرمایا، کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ انہیں صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی۔ ١٤٢۔٢ یہ مضمون اس سے پہلے سورہ بقرہ میں گزر چکا ہے، یہاں موقع کی مناسبت سے پھر بیان کیا جا رہا ہے کہ جنت یوں ہی نہیں مل جائے گی اس کے لئے پہلے تمہیں آزمائش کی بھٹی سے گزارا اور میدان جہاد میں آزمایا جائے گا وہاں نرغہ اعداء میں تم سرفروشی اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہو یا نہیں؟۔(142)
وَلَقَد كُنتُم تَمَنَّونَ المَوتَ مِن قَبلِ أَن تَلقَوهُ فَقَد رَأَيتُموهُ وَأَنتُم تَنظُرونَ(143)
١٤٣۔١ یہ اشارہ ان صحابہ کی طرف ہے جو جنگ بدر میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے ایک احساس محرومی رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ میدان کارزار گرم ہو تو کافروں کی سرکوبی کر کے جہاد کی فضیلت حاصل کریں۔ انہی صحابہ نے جنگ احد میں جوش و جہاد سے کام لیتے ہوئے مدینہ سے باہر نکلنے کا مشورہ دیا لیکن جب مسلمانوں کی فتح کافروں کے اچانک حملے سے شکست میں تبدیل ہو گئی (جس کی تفصیل پہلے گزر چکی) تو یہ پرجوش مجاھدین بھی سراسیمگی کا شکار ہوگئے اور بعض نے راہ فرار اختیار کی۔ (جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی) اور بہت تھوڑے لوگ ہی ثابت قدم رہے (فتح القدیر)۔ اس لئے حدیث میں آتا ہے ' تم دشمن سے مڈھ بھیڑ کی آرزو مت کرو اور اللہ سے عافیت طلب کیا کرو ' اور یہ بات جان لو کہ جنت تلواروں کے سایہ تلے ہے (بحوالہ ابن کثیر) ١٤٣۔۲رایتموہ اور تنظرون۔ دونوں کے ایک ہی معنی یعنی دیکھنے کے ہیں۔ تاکید اور مبالغے کے لیے دو لفظ لائے گئے ہیں۔ یعنی تلواروں کی چمک، نیزوں کی تیزی، تیروں کی یلغار اور جاں بازوں کی صف آرائی میں تم نے موت کا خوب مشاہدہ کرلیا۔ (ابن کثیر وفتح القدیر)(143)
وَما مُحَمَّدٌ إِلّا رَسولٌ قَد خَلَت مِن قَبلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِي۟ن ماتَ أَو قُتِلَ انقَلَبتُم عَلىٰ أَعقٰبِكُم ۚ وَمَن يَنقَلِب عَلىٰ عَقِبَيهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيـًٔا ۗ وَسَيَجزِى اللَّهُ الشّٰكِرينَ(144)
١٤٤۔١ محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف رسول ہی ہیں ' یعنی ان کا امتیاز بھی وصف رسالت ہی ہے۔ یہ نہیں کہ وہ بشری خصائص سے بالاتر اور خدائی صفات سے متصف ہوں کہ انہیں موت سے دو چار نہ ہونا پڑے ١٤٤۔۲ جنگ احد میں شکست کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے بارے میں کافروں نے یہ افواہ اڑا دی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے۔ مسلمانوں میں جب یہ خبر پھیلی تو اس سے بعض مسلمانوں کے حوصلے پست ہوگئے اور لڑائی سے پیچھے ہٹ گئے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کافروں کے ہاتھوں قتل ہو جانا یا ان پر موت کا وارد ہو جانا، کوئی نئی بات تو نہیں ہے۔ پچھلے انبیاء علیہم السلام بھی قتل اور موت سے ہمکنار ہو چکے ہیں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی (بالفرض) اس سے دو چار ہو جائیں تو کیا تم اس دین سے ہی پھر جاؤ گے۔ یاد رکھو جو پھر جائے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا، اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سانحہ وفات کے وقت جب حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ شدت جذبات میں وفات نبوی کا انکار کر رہے تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نہایت حکمت سے کام لیتے ہوئے منبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہو کر انہی آیات کی تلاوت کی جس سے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی متاثر ہوئے اور انہیں محسوس ہوا کہ یہ آیات ابھی ابھی اتری ہیں۔ ١٤٤۔۳ یعنی ثابت قدم رہنے والوں کو جنہوں نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کر کے اللہ کی نعمتوں کا عملی شکر ادا کیا۔(144)
وَما كانَ لِنَفسٍ أَن تَموتَ إِلّا بِإِذنِ اللَّهِ كِتٰبًا مُؤَجَّلًا ۗ وَمَن يُرِد ثَوابَ الدُّنيا نُؤتِهِ مِنها وَمَن يُرِد ثَوابَ الءاخِرَةِ نُؤتِهِ مِنها ۚ وَسَنَجزِى الشّٰكِرينَ(145)
١٤٥۔١یہ کمزوری اور بذدلی مظاہرہ کرنے والوں کے حوصلوں میں اضافہ کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے کہ موت تو اپنے وقت پر آکر رہے گی، پھر بھاگنے یا بذدلی دکھانے کا کیا فائدہ؟ اسی طرح محض دنیا طلب کرنے سے کچھ دنیا تو مل جاتی ہے لیکن آخرت میں کچھ نہیں ملے گا، اس کے برعکس آخرت کے طالبوں کو آخرت میں اخروی نعمتیں تو ملیں ہی گی، دنیا بھی اللہ تعالٰی انہیں عطا فرماتا ہے۔ آگے مذید حوصلہ افزائی اور تسلی کے لئے پچھلے انبیاء علیہم السلام اور ان کے پیروں کاروں کے صبر اور ثابت قدمی کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔(145)
وَكَأَيِّن مِن نَبِىٍّ قٰتَلَ مَعَهُ رِبِّيّونَ كَثيرٌ فَما وَهَنوا لِما أَصابَهُم فى سَبيلِ اللَّهِ وَما ضَعُفوا وَمَا استَكانوا ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصّٰبِرينَ(146)
١٤٦۔١ یعنی ان کو جو جنگ کی شدتوں میں پست ہمت نہیں ہوتے اور ضعف اور کمزوری نہیں دکھاتے۔(146)
وَما كانَ قَولَهُم إِلّا أَن قالوا رَبَّنَا اغفِر لَنا ذُنوبَنا وَإِسرافَنا فى أَمرِنا وَثَبِّت أَقدامَنا وَانصُرنا عَلَى القَومِ الكٰفِرينَ(147)
(147)
فَـٔاتىٰهُمُ اللَّهُ ثَوابَ الدُّنيا وَحُسنَ ثَوابِ الءاخِرَةِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ المُحسِنينَ(148)
(148)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِن تُطيعُوا الَّذينَ كَفَروا يَرُدّوكُم عَلىٰ أَعقٰبِكُم فَتَنقَلِبوا خٰسِرينَ(149)
(149)
بَلِ اللَّهُ مَولىٰكُم ۖ وَهُوَ خَيرُ النّٰصِرينَ(150)
١٥٠۔١ یہ مضمون پہلے بھی گزر چکا ہے، یہاں پھر دہرایا جا رہا ہے کیونکہ احد کی شکست سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض کفار یا منافقین مسلمانوں کو یہ مشورہ دے رہے تھے کہ تم اپنے آبائی دین کی طرف لوٹ آؤ۔ ایسے میں مسلمانوں کو کہا گیا کہ کافروں کی اطاعت ہلاکت و خسران کا باعث ہے۔ کامیابی اللہ کی اطاعت میں ہی ہے اور اس سے بہتر کوئی مددگار نہیں۔(150)
سَنُلقى فى قُلوبِ الَّذينَ كَفَرُوا الرُّعبَ بِما أَشرَكوا بِاللَّهِ ما لَم يُنَزِّل بِهِ سُلطٰنًا ۖ وَمَأوىٰهُمُ النّارُ ۚ وَبِئسَ مَثوَى الظّٰلِمينَ(151)
١٥١۔١ مسلمانوں کی شکست دیکھتے ہوئے بعض کافروں کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ موقع مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے بڑا اچھا ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالٰی نے کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا پھر انہیں اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کا حوصلہ نہ ہوا (فتح القدیر)۔ صحیحین کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے قبل کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ان میں ایک یہ ہے کہ "نصرت بالرعب مسیرۃ شھر "دشمن کے دل میں ایک مہینے کی مسافت پر میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی ہے۔"اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رعب مستقل طور پر دشمن کے دل میں ڈال دیا گیا تھا۔ اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت یعنی مسلمانوں کا رعب بھی مشرکوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ اور اس کی وجہ ان کا شرک ہے۔گویا شرک کرنے والوں کا دل دوسروں کی ہیبت سے لرزاں و ترساں رہتا ہے۔غالباً یہی وجہ ہے کہ جب مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مشرکانہ عقائد و اعمال میں مبتلا ہوئی ہے، دشمن ان سے مرعوب ہونے کی بجائے، وہ دشمنوں سے مرعوب ہیں۔(151)
وَلَقَد صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعدَهُ إِذ تَحُسّونَهُم بِإِذنِهِ ۖ حَتّىٰ إِذا فَشِلتُم وَتَنٰزَعتُم فِى الأَمرِ وَعَصَيتُم مِن بَعدِ ما أَرىٰكُم ما تُحِبّونَ ۚ مِنكُم مَن يُريدُ الدُّنيا وَمِنكُم مَن يُريدُ الءاخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُم عَنهُم لِيَبتَلِيَكُم ۖ وَلَقَد عَفا عَنكُم ۗ وَاللَّهُ ذو فَضلٍ عَلَى المُؤمِنينَ(152)
١٥٢۔١ اس وعدے پر بعض مفسرین نے تین ہزار اور پانچ ہزار فرشتوں کا نزول مراد لیا ہے۔ لیکن یہ رائے سرے سے صحیح نہیں بلکہ صحیح یہ ہے کہ فرشتوں کا نزول صرف جنگ بدر کے ساتھ مخصوص تھا۔ باقی رہا وہ وعدہ جو اس آیت میں مذکور ہے تو اس سے مراد فتح و نصرت کا وہ عام وعدہ ہے جو اہل اسلام کے لئے اور اس کے رسول کی طرف سے بہت پہلے سے کیا جا چکا حتٰی کہ بعض آیتیں مکہ میں نازل ہوچکی تھیں۔ اور اس کے مطابق ابتدائے جنگ میں مسلمان غالب و فاتح رہے جس کی طرف (اذتحسّونھم باذنہ) سے اشارہ کیا گیا ہے۔ ١٥٢۔٢ اس تنازع اور عصیان سے مراد ٥٠ تیر اندازوں کا وہ اختلاف ہے جو فتح و غلبہ دیکھ کر ان کے اندر واقع ہوا اور جس کی وجہ سے کافروں کو پلٹ کر دوبارہ حملہ آور ہونے کا موقع ملا۔ ١٥٢۔٣ اس سے مراد وہ فتح ہے جو ابتدا میں مسلمانوں کو حاصل ہوئی تھی۔ ١٥٢۔٤ یعنی مال غنیمت، جس کے لئے انہوں نے وہ پہاڑی چھوڑ دی جس کے نہ چھوڑنے کی انہیں تاکید کی گئی تھی۔ ١٥٢۔٥ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مورچہ چھوڑنے سے منع کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اسی جگہ ڈٹے رہنے کا عزم ظاہر کیا۔ ١٥٢۔٦ یعنی غلبہ عطا کرنے کے بعد پھر تمہیں شکست دے کر ان کافروں سے پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائے۔ ١٥٢۔٧ اس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے اس شرف اور فضل کا اظہار ہے جو ان کی کوتاہیوں کے باوجود اللہ نے ان پر فرمایا۔ یعنی ان کی غلطیوں کی وضاحت کر کے آئندہ اس کا اعادہ نہ کریں، اللہ نے ان کے لئے معافی کا اعلان کر دیا تاکہ کوئی بد باطن ان پر زبانِ طعن دراز نہ کرے۔ جب اللہ تعالٰی نے ہی قرآن کریم میں ان کے لئے عفو عام کا اعلان فرما دیا تو اب کسی کے لئے طعن وتشنیع کی گنجائش کہاں رہ گئی صحیح بخاری میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ ایک حج کے موقع پر ایک شخص نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ پر بعض اعتراضات کیے کہ وہ جنگ بدر میں بیعت رضوان میں شریک نہیں ہوئے۔ نیز یوم احد میں فرار ہوگئے تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جنگ بدر میں تو انکی اہلیہ (بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم) بیمار تھیں، بیعت رضوان کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر بن کر مکہ گئے ہوئے تھے اور یوم احد کے فرار کو اللہ نے معاف فرمادیا ہے۔ (ملخصا۔صحیح بخاری، غزوہ احد)(152)
۞ إِذ تُصعِدونَ وَلا تَلوۥنَ عَلىٰ أَحَدٍ وَالرَّسولُ يَدعوكُم فى أُخرىٰكُم فَأَثٰبَكُم غَمًّا بِغَمٍّ لِكَيلا تَحزَنوا عَلىٰ ما فاتَكُم وَلا ما أَصٰبَكُم ۗ وَاللَّهُ خَبيرٌ بِما تَعمَلونَ(153)
١٥٣۔١ کفار کے یکبارگی اچانک حملے سے مسلمانوں میں جو بھگدڑ مچی اور مسلمانوں کی اکثریت نے راہ فرار اختیار کی یہ اس کا نقشہ بیان کیا جا رہا ہے۔ ١٥٣۔٢ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں سمیت پیچھے رہ گئے اور مسلمانوں کو پکارتے رہے، اللہ کے بندو! میرے طرف لوٹ کر آؤ، اللہ کے بندو! میری طرف لوٹ کے آؤ۔ لیکن سراسیمگی کے عالم میں یہ پکار کون سنتا۔ ١٥٣۔٣ فَاَثاَبَکُمْ تمہاری کوتاہی کے بدلے میں تمہیں غم پر غم دیا، غما بغم بمعنی غما علی غم ابن جریر اور ابن کثیر کے اختیار کردہ راجح قول کے مطابق پہلے غم سے مراد، مال غنیمت اور کفار پر فتح و ظفر سے محرومی کا غم اور دوسرے غم سے مراد ہے مسلمانوں کی شہادت، ان کے زخمی ہونے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر شہادت سے پہنچنے والا غم۔ ١٥٣۔٤ یعنی یہ غم پہ غم اس لئے دیا تاکہ تمہارے اندر شدائد برداشت کرنے کی قوت اور عزم و حوصلہ پیدا ہو۔ جب یہ قوت اور حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے تو پھر انسان کو فوت شدہ چیز پر غم اور پہنچنے والے شدائد پر ملال نہیں ہوتا۔(153)
ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيكُم مِن بَعدِ الغَمِّ أَمَنَةً نُعاسًا يَغشىٰ طائِفَةً مِنكُم ۖ وَطائِفَةٌ قَد أَهَمَّتهُم أَنفُسُهُم يَظُنّونَ بِاللَّهِ غَيرَ الحَقِّ ظَنَّ الجٰهِلِيَّةِ ۖ يَقولونَ هَل لَنا مِنَ الأَمرِ مِن شَيءٍ ۗ قُل إِنَّ الأَمرَ كُلَّهُ لِلَّهِ ۗ يُخفونَ فى أَنفُسِهِم ما لا يُبدونَ لَكَ ۖ يَقولونَ لَو كانَ لَنا مِنَ الأَمرِ شَيءٌ ما قُتِلنا هٰهُنا ۗ قُل لَو كُنتُم فى بُيوتِكُم لَبَرَزَ الَّذينَ كُتِبَ عَلَيهِمُ القَتلُ إِلىٰ مَضاجِعِهِم ۖ وَلِيَبتَلِىَ اللَّهُ ما فى صُدورِكُم وَلِيُمَحِّصَ ما فى قُلوبِكُم ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ(154)
١٥٤۔١ مذکورہ سراسیمگی کے بعد اللہ تعالٰی نے پھر مسلمانوں پر اپنا فضل فرمایا اور میدان جنگ میں باقی رہ جانے والے مسلمانوں پر اونگھ مسلط کر دی۔ یہ اونگھ اللہ کی طرف سے نصرت کی دلیل تھی۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ فرماتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد کے دن اونگھ چھائی جا رہی تھی حتیٰ کہ میری تلوار کئی مرتبہ میرے ہاتھ سے گری میں اسے پکڑتا وہ پھر گر جاتی، پھر پکڑتا پھر گر جاتی (صحیح بخاری) نعاسا امنۃ سے بدل ہے۔ طائفہ واحد اور جمع دونوں کے لیے مستعمل ہے (فتح القدیر) ١٥٤۔٢ اس سے مراد منافقین ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں ان کو اپنی جانوں کی فکر تھی۔ ١٥٤۔٣ وہ یہ تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ باطل ہے، یہ جس دین کی دعوت دیتے ہیں، اس کا مستقبل مخدوش ہے، انہیں اللہ کی مدد ہی حاصل نہیں وغیرہ وغیرہ۔ ١٥٤۔٤ یعنی کیا اب ہمارے لئے اللہ تعالٰی کی طرف سے کسی فتح و نصرت کا امکان ہے؟ یا یہ کہ ہماری بھی کوئی بات چل سکتی ہے اور مانی جاسکتی ہے۔ ١٥٤۔٥ تمہارے یا دشمن کے اختیار میں نہیں ہے، مدد بھی اسی کی طرف سے آئے گی اور کامیابی بھی اسی کے حکم سے ہوگی اور امر و نہی بھی اسی کا ہے۔ ١٥٤۔٦ اپنے دلوں میں نفاق چھپائے ہوئے ہیں، ظاہر یہ کرتے ہیں، کہ رہنمائی کے طالب ہیں۔ ١٥٤۔٧ یہ وہ آپس میں کہتے یا اپنے دل میں کہتے تھے۔ ١٥٤۔٨ اللہ تعالٰی نے فرمایا، اس قسم کی باتوں کا کیا فائدہ؟ موت تو ہر صورت میں آنی ہے اور اسی جگہ پر آنی ہے جہاں اللہ تعالٰی کی طرف سے لکھ دی گئی۔ اگر تم گھروں میں بیٹھے ہوتے اور تمہاری موت کسی مقتل میں لکھی ہوتی تو تمہیں قضا ضرور وہاں کھینچ لے جاتی۔ ١٥٤۔٩ یہ جو کچھ ہوا اس سے ایک مقصد یہ بھی تھا کہ تمہارے سینوں کے اندر جو کچھ ہے یعنی ایمان اسے آزمائے (تاکہ منافق الگ ہو جائیں) اور پھر تمہارے دلوں کو شیطانی وساوس سے پاک کر دے۔ ١٥٤۔١٠ یعنی اس کو تو علم ہے کہ مخلص مسلمان کون ہے اور نفاق کا لبادہ کس نے اوڑھ رکھا ہے؟ جہاد کی متعدد حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ اس سے مومن اور منافق کھل کر سامنے آجاتے ہیں، جنہیں عام لوگ دیکھ اور پہچان لیتے ہیں۔(154)
إِنَّ الَّذينَ تَوَلَّوا مِنكُم يَومَ التَقَى الجَمعانِ إِنَّمَا استَزَلَّهُمُ الشَّيطٰنُ بِبَعضِ ما كَسَبوا ۖ وَلَقَد عَفَا اللَّهُ عَنهُم ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ حَليمٌ(155)
١٥٥۔١ یعنی احد میں مسلمانوں سے جو لغزش اور کوتاہی ہوئی اس کی وجہ ان کی پچھلی کمزوریاں تھیں جس کی وجہ سے شیطان بھی انہیں پھسلانے میں کامیاب ہو گیا۔ جس طرح بعض سلف کا قول ہے کہ "نیکی کا بدلہ یہ بھی ہے کہ اس کے بعد مذید نیکی کی تو فیق ملتی ہے اور برائی کا بدلہ یہ ہے کہ اس بعد مذید برائی کا راستہ کھلتا اور ہموار ہوتا ہے۔ ١٥٥۔٢ اللہ تعالٰی صحابہ کرام کی لغزشوں، ان کے نتائج اور حکمتوں کے بیان کے بعد پھر بھی اپنی طرف سے ان کی معافی کا اعلان فرما رہا ہے۔ جس سے ایک تو ان کا محبوب بارگاہ الٰہی میں ہونا واضح ہے اور دوسرے، عام مومنین کو تنبیہ ہے کہ ان کے مومنین صادقین کو جب اللہ تعالٰی نے معاف فرما دیا تو اب کسی کے لئے جائز نہیں کہ ہدف ملامت یا نشانۂ تنقید بنائے۔(155)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَكونوا كَالَّذينَ كَفَروا وَقالوا لِإِخوٰنِهِم إِذا ضَرَبوا فِى الأَرضِ أَو كانوا غُزًّى لَو كانوا عِندَنا ما ماتوا وَما قُتِلوا لِيَجعَلَ اللَّهُ ذٰلِكَ حَسرَةً فى قُلوبِهِم ۗ وَاللَّهُ يُحيۦ وَيُميتُ ۗ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ(156)
١٥٦۔١ اہل ایمان کو اس فساد عقیدہ سے روکا جا رہا ہے جس کے حامل کفار اور منافقین تھے کیونکہ یہ عقیدہ بذدلی کی بنیاد ہے اس کے برعکس جب یہ عقیدہ ہو کہ موت وحیات اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ نیز یہ کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے تو اس سے انسان کے اندر عزم اور حوصلہ اور اللہ کی راہ میں لڑنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ١٥٦۔٢ مذکورہ فساد عقیدہ دلی حسرت کا ہی سبب بنتا ہے کہ اگر وہ سفر میں یا میدان جنگ میں نہ جاتے بلکہ گھر میں ہی رہتے تو موت کی آغوش میں جانے سے بچ جاتے۔ درآںحالیکہ موت تو مضبوط قلعوں کے اندر بھی آجاتی ہے۔ اس لئے اس حسرت سے مسلمان ہی بچ سکتے ہیں جن کے عقیدے صحیح ہیں۔(156)
وَلَئِن قُتِلتُم فى سَبيلِ اللَّهِ أَو مُتُّم لَمَغفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَحمَةٌ خَيرٌ مِمّا يَجمَعونَ(157)
١٥٧۔١ موت تو ہر صورت آنی ہے لیکن اگر موت ایسی آئے کہ جس کے بعد انسان اللہ کی مغفرت و رحمت کا مستحق قرار پائے تو یہ دنیا کے مال اسباب سے بہت بہتر ہے جس کے جمع کرنے میں انسان عمر کھپا دیتا ہے اس لئے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے گریز نہیں، اس میں رغبت اور شوق ہونا چاہیے کہ اس طرح رحمت و مغفرت الٰہی یقینی ہو جاتی ہے بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ ہو۔(157)
وَلَئِن مُتُّم أَو قُتِلتُم لَإِلَى اللَّهِ تُحشَرونَ(158)
(158)
فَبِما رَحمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُم ۖ وَلَو كُنتَ فَظًّا غَليظَ القَلبِ لَانفَضّوا مِن حَولِكَ ۖ فَاعفُ عَنهُم وَاستَغفِر لَهُم وَشاوِرهُم فِى الأَمرِ ۖ فَإِذا عَزَمتَ فَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُتَوَكِّلينَ(159)
١٥٩۔١ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو صاحب خلق عظیم تھے، اللہ تعالٰی اپنے اس پیغمبر پر ایک احسان کا ذکر فرما رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر جو نرمی اور ملائمت ہے یہ اللہ کی خاص مہربانی کا نتیجہ ہے اور یہ نرمی دعوت و تبلیغ کے لئے نہایت ضروری ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر یہ نہ ہوتی بلکہ اس کے برعکس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تندخو اور سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے قریب ہونے کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور بھاگتے۔ اس لئے آپ درگزر سے ہی کام لیتے رہئیے۔ ١٥٩۔٢ یعنی مسلمانوں کی طیب خاطر کے لئے مشورہ کر لیا کریں۔ اس آیت سے مشاورت کی اہمیت، افادیت اور اس کی ضرورت و مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ مشاورت کا یہ حکم بعض کے نزدیک وجوب کے لئے اور بعض کے نزدیک استحباب کے لئے ہے (ابن کثیر) امام شوکانی لکھتے ہیں ' حکمرانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ علماء سے ایسے معاملات میں مشورہ کریں جن کا انہیں علم نہیں ہے۔ یا ان کے بارے میں انہیں اشکال ہیں۔ فوج کے سربراہوں سے فوجی معاملات میں، سربرآوردہ لوگوں سے عوام کے مصالح کے بارے میں اور ماتحت حکام و والیان سے ان کے علاقوں کی ضروریات و ترجیحات کے سلسلے میں مشورہ کریں "۔ ابن عطیہ کہتے ہیں کہ ایسے حکمران کے وجوب عزل پر کوئی اختلاف نہیں ہے جو اہل علم و اہل دین سے مشورہ نہیں کرتا"۔ یہ مشورہ صرف ان معاملات تک محدود ہوگا جن کی بابت شریعت خاموش ہے یا جن کا تعلق انتظامی امور سے ہے۔ (فتح القدیر) ١٥٩۔٣ یعنی مشاورت کے بعد جس پر آپ کی رائے پختہ ہو جائے، پھر اللہ پر توکل کرکے اسے کر گزریئے۔ اس سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ مشاورت کے بعد بھی آخری فیصلہ حکمران کا ہی ہوگا نہ کہ ارباب مشاورت یا ان کی اکثریت کا جیسا کہ جمہوریت میں ہے۔ دوسری یہ کہ سارا اعتماد و توکل اللہ کی ذات پر ہو نہ کہ مشورہ دینے والوں کی عقل و فہم پر۔ اگلی آیت میں بھی توکل علی اللہ کی مذید تاکید ہے۔(159)
إِن يَنصُركُمُ اللَّهُ فَلا غالِبَ لَكُم ۖ وَإِن يَخذُلكُم فَمَن ذَا الَّذى يَنصُرُكُم مِن بَعدِهِ ۗ وَعَلَى اللَّهِ فَليَتَوَكَّلِ المُؤمِنونَ(160)
(160)
وَما كانَ لِنَبِىٍّ أَن يَغُلَّ ۚ وَمَن يَغلُل يَأتِ بِما غَلَّ يَومَ القِيٰمَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفّىٰ كُلُّ نَفسٍ ما كَسَبَت وَهُم لا يُظلَمونَ(161)
١٦١۔١ جنگ احد کے دوران جو لوگ مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے دوڑ پڑے تھے ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نہ پہنچے تو سارا مال دوسرے لپیٹ کر لے جائیں گے اس پر تنبیہ کی جا رہی ہے کہ آخر تم نے یہ تصور کیسے کر لیا کہ اس مال میں سے تمہارا حصہ تم کو نہیں دیا جائے گا کیا تمہیں قائد غزوہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت پر اطمینان نہیں۔ یاد رکھو کہ ایک پیغمبر سے کسی قسم کی خیانت کا صدور ممکن ہی نہیں کیونکہ خیانت، نبوت کے منافی ہے۔ اگر نبی ہی خائن ہو تو پھر اس کی نبوت پر یقین کیونکر کیا جاسکتا ہے؟ خیانت بہت بڑا گناہ ہے احادیث میں اس کی سخت مذمت آئی ہے۔(161)
أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضوٰنَ اللَّهِ كَمَن باءَ بِسَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأوىٰهُ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئسَ المَصيرُ(162)
(162)
هُم دَرَجٰتٌ عِندَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ بَصيرٌ بِما يَعمَلونَ(163)
(163)
لَقَد مَنَّ اللَّهُ عَلَى المُؤمِنينَ إِذ بَعَثَ فيهِم رَسولًا مِن أَنفُسِهِم يَتلوا عَلَيهِم ءايٰتِهِ وَيُزَكّيهِم وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَإِن كانوا مِن قَبلُ لَفى ضَلٰلٍ مُبينٍ(164)
١٦٤۔١ نبی کے بشر اور انسانوں میں سے ہی ہونے کو اللہ تعالٰی ایک احسان کے طور پر بیان کر رہا ہے اور فی الواقع یہ احسان عظیم ہے کہ اس طرح ایک تو وہ اپنی قوم کی زبان اور لہجے میں ہی اللہ کا پیغام پہنچائے گا جسے سمجھنا ہر شخص کے لئے آسان ہوگا دوسرے لوگ ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مانوس اور قریب ہونگے۔ تیسرے انسان کے لئے انسان یعنی بشر کی پیروی تو ممکن ہے لیکن فرشتوں کی پیروی اس کے بس کی بات نہیں اور نہ فرشتہ انسان کے وجدان و شعور کی گہرائیوں اور باریکیوں کا ادراک کر سکتا ہے۔ اس لئے اگر پیغمبر فرشتوں میں سے ہوتے تو وہ ان ساری خوبیوں سے محروم ہوتے جو تبلیغ و دعوت کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اس لئے جتنے بھی انبیاء آئے ہیں سب کے سب بشر ہی تھے۔ قرآن نے ان کی بشریت کو خوب کھول کر بیان کیا ہے۔ (وَمِا اَرْسَلْنَا قَبْلِکَ اِلَّاَرْجَالاًنُوْحَیْ الیْھِمْ) ' ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے وہ مرد تھے جن پر ہم وحی کرتے تھے۔ (وما ارسلنا قبلک من المرسلین الا انھم لیا کلون الطعام ویمشون فی الاسواق) (سورۃ الفرقان ۲۰)"ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے سب کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے تھے"۔ اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے کہلوایا گیا (قل انما انا بشرمثلکم یوحی الی) (سورۃحٰم السجدۃ ٦) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئے میں بھی تو تمہاری طرح ٖصرف بشر ہی ہوں البتہ مجھ پر وحی کا نزول ہوتا ہے "۔آج بہت سے افراد اس چیز کو نہیں سمجھتے اور انحراف کا شکار ہیں۔ ١٦٤۔٢ اس آیت میں نبوت کے تین اہم مقاصد بیان کئے گئے ہیں ١۔ تلاوت ٢۔ تزکیہ ٣۔ تعلیم کتاب و حکمت تعلیم کتاب میں تلاوت از خود آجاتی ہے، تلاوت کی ساتھ ہی تعلیم ممکن ہے، تلاوت کے بغیر تعلیم کا تصور ہی نہیں، اس کے باوجود تلاوت کو الگ ایک مقصد کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے اس نقطے کی وضاحت مقصود ہے کہ تلاوت بجائے خود ایک مقدس اور اور نیک عمل ہے، چاہے پڑھنے والا اس کا مفہوم سمجھے نہ سمجھے۔ قرآن کے معنی و مطالب کو سمجھنے کی کوشش کرنا یقینا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ لیکن جب تک یہ مقصد حاصل نہ ہو یا اتنی فہم استعداد بہم نہ پہنچ جائے، تلاوت قرآن سے اعراض یا غفلت جائز نہیں۔ تزکیے سے مراد عقائد اور اعمال و اخلاق کی اصلاح ہے۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شرک سے ہٹا کر توحید پر لگایا اسی طرح نہایت بد اخلاق اور بد اطوار قوم کو اخلاق اور کردار کی رفعتوں سے ہمکنار کر دیا، حکمت سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک حدیث ہے۔ ١٦٤۔۲ یہ ان مخففۃ من المثقلۃ ہے یعنی (انّ) (تحقیق، یقینا بلاشبہ) کے معنی ہیں۔(164)
أَوَلَمّا أَصٰبَتكُم مُصيبَةٌ قَد أَصَبتُم مِثلَيها قُلتُم أَنّىٰ هٰذا ۖ قُل هُوَ مِن عِندِ أَنفُسِكُم ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(165)
١٦٥۔١ یعنی احد میں تمہارے ستّر آدمی شہید ہوئے تو بدر میں تم نے ستّر کافر قتل کئے تھے اور ستّر قیدی بنائے تھے۔ ١٦٥۔٢ یعنی تمہاری اس غلطی کی وجہ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تاکیدی حکم کے باوجود پہاڑی مورچہ چھوڑ کر تم نے کی تھی۔ جیسا کہ تفصیل پہلے گزر چکی ہے کہ اس غلطی کی وجہ سے کافروں کے ایک دستے کو اس درے سے دوبارہ حملہ کرنے کا موقع مل گیا۔(165)
وَما أَصٰبَكُم يَومَ التَقَى الجَمعانِ فَبِإِذنِ اللَّهِ وَلِيَعلَمَ المُؤمِنينَ(166)
(166)
وَلِيَعلَمَ الَّذينَ نافَقوا ۚ وَقيلَ لَهُم تَعالَوا قٰتِلوا فى سَبيلِ اللَّهِ أَوِ ادفَعوا ۖ قالوا لَو نَعلَمُ قِتالًا لَاتَّبَعنٰكُم ۗ هُم لِلكُفرِ يَومَئِذٍ أَقرَبُ مِنهُم لِلإيمٰنِ ۚ يَقولونَ بِأَفوٰهِهِم ما لَيسَ فى قُلوبِهِم ۗ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِما يَكتُمونَ(167)
١٦٧۔١ یعنی احد میں جو تمہیں نقصان پہنچا، وہ اللہ کے حکم سے ہی پہنچا (تاکہ آئندہ تم اطاعت رسول کا کماحقہ اہتمام کرو) علاوہ ازیں اس کا ایک مقصد مومنین اور منافقین کو ایک دوسرے سے الگ اور ممتاز کرنا بھی تھا۔ ١٦٧۔٢ لڑائی جاننے کا مطلب یہ ہے کہ واقع آپ لوگ لڑائی لڑنے چل رہے ہوتے تو ہم بھی ساتھ دیتے مگر آپ تو لڑائی کی بجائے اپنے آپ کو تباہی کے دہانے میں جھونکنے جا رہے ہو۔ ایسے غلط کام میں ہم کیوں آپ کا ساتھ دیں۔ یہ عبد اللہ بن ابی اور ان کے ساتھیوں نے اس لئے کہا کہ ان کی بات نہیں مانی گئی تھی اور اس وقت کہا جب وہ مقام شوط پر پہنچ کر واپس ہو رہے تھے اور عبد اللہ بن حرام انصاری رضی اللہ انہیں سمجھا بجھا کر شریک جنگ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ (قدرے تفصیل گزرچکی ہے) ١٦٧۔٣ اپنے نفاق اور ان باتوں کی وجہ سے جو انہوں نے کیں۔ ١٦٧۔٤ یعنی زبان سے تو ظاہر کیا جو مذکور ہوا لیکن دل میں تھا کہ ہماری علٰیحدگی سے ایک تو مسلمانوں کے اندر بھی ضعف پیدا ہوگا۔ دوسرے کافروں کو فائدہ ہوگا۔ مقصد اسلام، مسلمانوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچانا تھا۔(167)
الَّذينَ قالوا لِإِخوٰنِهِم وَقَعَدوا لَو أَطاعونا ما قُتِلوا ۗ قُل فَادرَءوا عَن أَنفُسِكُمُ المَوتَ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(168)
١٦٨۔١ یہ منافقین کا قول ہے ' اگر ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے ' اللہ تعالٰی نے فرمایا ' اگر تم سچے ہو تو اپنے سے موت ٹال کر دکھاؤ ' مطلب یہ کہ تقدیر سے کسی کو مفر نہیں۔ موت بھی جہاں اور جیسے اور جس جگہ آنا ہے ہر صورت میں آکر رہے گی۔ اس لئے جہاد اور اللہ کی راہ میں لڑنے سے گریز و فرار یہ کسی کو موت کے شکنجے سے نہیں بچا سکتا۔(168)
وَلا تَحسَبَنَّ الَّذينَ قُتِلوا فى سَبيلِ اللَّهِ أَموٰتًا ۚ بَل أَحياءٌ عِندَ رَبِّهِم يُرزَقونَ(169)
١٦٩۔١ شہداء کی زندگی حقیقی ہے یا مجازی، یقینا حقیقی ہے لیکن اس کا شعور اہل دنیا کو نہیں، جیسا کہ قرآن نے وضاحت کر دی ہے۔ ملاحظہ ہو (سورۃ بقرہ آیت نمبر ١٥٤) پھر اس زندگی کا مطلب کیا ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ قبروں میں ان کی روحیں لوٹا دی جاتی ہیں اور وہاں اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ جنت کے پھلوں کی خوشبوئیں انہیں آتی ہیں جن سے ان کے مشام جان معطر رہتے ہیں۔ لیکن حدیث سے ایک تیسری شکل معلوم ہوتی ہے اس لئے وہی صحیح، وہ یہ کہ ان کی روحیں سبز پرندوں کے جوف یا سینوں میں داخل کر دی جاتی ہیں اور وہ جنت میں کھاتی پھرتی اور اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتی ہیں (فتح القدیر بحوالہ صحیح مسلم)(169)
فَرِحينَ بِما ءاتىٰهُمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ وَيَستَبشِرونَ بِالَّذينَ لَم يَلحَقوا بِهِم مِن خَلفِهِم أَلّا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ(170)
١٧٠۔١ یعنی وہ اہل اسلام جو ان کے پیچھے دنیا میں زندہ ہیں یا مصروف جہاد ہیں، ان کی بابت وہ خواہش کرتے ہیں کہ کاش وہ بھی شہادت سے ہمکنار ہو کر یہاں ہم جیسی پر لطف زندگی اختیار کریں۔ شہدائے احد نے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں عرض کیا کہ ہمارے وہ مسلمان بھائی جو دنیا میں زندہ ہیں، انہیں ہمارے حالات اور پر مسرت زندگی سے کوئی مطلع کرنے والا ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا میں تمہاری یہ بات ان تک پہنچا دیتا ہوں ' اس سلسلہ میں اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائیں (سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد) علاوہ ازیں متعدد احادیث سے شہادت کی فضیلت ثابت ہے۔ مثلا ایک حدیث میں فرمایا (مامن نفس تموت، لھا عند اللہ حیر، یسرہ ان ترجع الی الدنیا الا الشہید، فانہ یسرہ ان یرجع الی الدنیا فیقتل مرۃ اخریٰ لما یریٰ من فضل الشہادۃ) ( مسند احمد ، صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الشہادۃ) کوئی مرنے والی جان، جس کو اللہ کے ہاں اچھا مقام حاصل ہے دنیا میں لوٹنا پسند نہیں کرتی۔ البتہ شہید دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرتا ہے تاکہ وہ دوبارہ اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے یہ آرزو وہ اس لیے کرتا ہے کہ شہادت کی فضیلت کا وہ مشاہدہ کر لیتا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے معلوم ہے کہ اللہ نے تیرے باپ کو زندہ کیا اور اس سے کہا کہ مجھ سے اپنی کسی آرزو کا اظہار کر (تاکہ میں اسے پورا کر دوں) تیرے باپ نے جواب دیا کہ میری تو صرف یہی آرزو ہے کہ مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تاکہ دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں اللہ تعالٰی فرمائے گا یہ تو ممکن نہیں ہے اس لیے کہ میرا فیصلہ ہے کہ یہاں آنے کے بعد کوئی دنیا میں واپس نہیں جاسکتا۔(170)
۞ يَستَبشِرونَ بِنِعمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لا يُضيعُ أَجرَ المُؤمِنينَ(171)
١٧١۔١ یہ استبشار پہلے استبشار کی تاکید اور اس بات کا بیان ہے کہ ان کی خوشی محض خوف و حزن کے فقدان کی ہی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کی نعمتوں اور اس کے بے پایاں فضل و کرم کی وجہ سے بھی ہے اور بعض مفسرین نے کہا ہے پہلی خوشی کا تعلق دنیا میں رہ جانے والے بھائیوں کی وجہ سے اور یہ دوسری خوشی اس انعام و اکرام کی ہے جو اللہ تبارک و تعالٰی کی طرف سے خود ان پر ہوا (فتح القدیر)(171)
الَّذينَ استَجابوا لِلَّهِ وَالرَّسولِ مِن بَعدِ ما أَصابَهُمُ القَرحُ ۚ لِلَّذينَ أَحسَنوا مِنهُم وَاتَّقَوا أَجرٌ عَظيمٌ(172)
١٧٢۔١ جب مشرکین جنگ احد سے واپس ہوئے تو راستے میں انہیں خیال آیا کہ ہم نے تو ایک سنہری موقع ضائع کر دیا۔ مسلمان شکست خوردنی کی وجہ سے خوف زدہ اور بے حوصلہ تھے ہمیں اس سے فائدہ اٹھا کر مدینہ پر بھرپور حملہ کر دینا چاہیے تھا تاکہ اسلام کا یہ پودا اپنی سر زمین (مدینہ) سے ہی نیست و نابود ہو جاتا۔ ادھر مدینہ پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اندیشہ ہوا کہ شاید وہ پلٹ کر آئیں لہذا آپ نے صحابہ کرام کو لڑنے کے لئے آمادہ کیا اور صحابہ کرام تیار ہوگئے۔ مسلمانوں کا یہ قافلہ جب مدینہ سے ٨ میل واقع 'حمراء الاسد ' پر پہنچا تو مشرکین کو خوف محسوس ہوا چنانچہ ان کا ارادہ بدل گیا اور وہ مدینہ پر حملہ آور ہونے کی بجائے مکہ واپس چلے گئے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفقاء بھی مدینہ واپس آگئے۔آیت میں مسلمانوں کے اسی جذبہ اطاعت اللہ و رسول کی تعریف کی گئی ہے۔ بعض نے اس کا سبب نزول حضرت ابو سفیان کی اس دھمکی کو بتلایا ہے کہ آئندہ سال بدر صغریٰ میں ہمارا تمہارا مقابلہ ہوگا۔ (ابوسفیان ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) جس پر مسلمانوں نے بھی اللہ و رسول کی اطاعت کے جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے جہاد میں بھرپور حصہ لینے کا عزم کر لیا۔ (ملخص از فتح القدیر و ابن کثیر مگر یہ آخری قول سیاق سے میل نہیں کھاتا)(172)
الَّذينَ قالَ لَهُمُ النّاسُ إِنَّ النّاسَ قَد جَمَعوا لَكُم فَاخشَوهُم فَزادَهُم إيمٰنًا وَقالوا حَسبُنَا اللَّهُ وَنِعمَ الوَكيلُ(173)
١٧٣۔١ کہا جاتا ہے کہ ابو سفیان نے بعض لوگوں کو معاوضہ دے کر یہ افواہ پھیلائی کہ مشرکین مکہ لڑائی کے لئے بھرپور تیاری کر رہے ہیں تاکہ یہ سن کر مسلمانوں کے حوصلے پست ہو جائیں، لیکن مسلمان اس قسم کی افواہیں سن کر خوف زدہ ہونے کی بجائے مذید عزم اور ولولہ سے سرشار ہوگئے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان جامد قسم کی چیز نہیں بلکہ اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، جیسا کہ محدثین کا مسلک ہے۔ اسی لئے حدیث میں حسبُنا اللّٰہ و نَعْم الْوکِیْل پڑھنے کی فضیلت وارد ہے۔ نیز صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں ڈالا گیا تو آپ کی زبان پر یہی الفاظ تھے (فتح القدیر)۔(173)
فَانقَلَبوا بِنِعمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضلٍ لَم يَمسَسهُم سوءٌ وَاتَّبَعوا رِضوٰنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ ذو فَضلٍ عَظيمٍ(174)
١٧٤۔١ نِعْمَۃ، سے مراد سلامتی ہے اور فضل سے مراد نفع ہے جو بدر صغریٰ تجارت کے ذریعے حاصل ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدرِ صغریٰ میں ایک گزرنے والے قافلے سے سامان تجارت خرید کر فروخت کیا جس سے نفع حاصل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا (ابن کثیر)(174)
إِنَّما ذٰلِكُمُ الشَّيطٰنُ يُخَوِّفُ أَولِياءَهُ فَلا تَخافوهُم وَخافونِ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ(175)
١٧٥۔١ یعنی تمہیں اس وسوسے اور وہم میں ڈالتا ہے کہ وہ بڑے مضبوط اور طاقتور ہیں۔ ١٧٥۔٢ یعنی جب وہ تمہیں اس وہم میں مبتلا کرے تو تم صرف مجھ پر ہی بھروسہ رکھو اور میری ہی طرف رجوع کرو میں تمہیں کافی ہو جاؤں گا اور تمہارا ناصر ہوں گا، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (اَلَیْسَ اللّٰہُ بکاَفٍ، عَبْدَہ) (الزمر۔٣٦) کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں ہے۔(175)
وَلا يَحزُنكَ الَّذينَ يُسٰرِعونَ فِى الكُفرِ ۚ إِنَّهُم لَن يَضُرُّوا اللَّهَ شَيـًٔا ۗ يُريدُ اللَّهُ أَلّا يَجعَلَ لَهُم حَظًّا فِى الءاخِرَةِ ۖ وَلَهُم عَذابٌ عَظيمٌ(176)
١٧٦۔١ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر اس بات کی شدید خواہش تھی کہ سب لوگ مسلمان ہو جائیں، اسی لئے ان کے انکار اور تکذیب سے آپ کو سخت تکلیف پہنچی۔ اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین نہ ہوں، یہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اپنی ہی آخرت برباد کر رہے ہیں۔(176)
إِنَّ الَّذينَ اشتَرَوُا الكُفرَ بِالإيمٰنِ لَن يَضُرُّوا اللَّهَ شَيـًٔا وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ(177)
(177)
وَلا يَحسَبَنَّ الَّذينَ كَفَروا أَنَّما نُملى لَهُم خَيرٌ لِأَنفُسِهِم ۚ إِنَّما نُملى لَهُم لِيَزدادوا إِثمًا ۚ وَلَهُم عَذابٌ مُهينٌ(178)
١٧٨۔١ اس میں اللہ کے قانون امہال (مہلت دینے) کا بیان ہے یعنی اللہ تعالٰی اپنی حکمت و مشیت کے مطابق کافروں کو مہلت عطا فرماتا ہے، وقتی طور پر انہیں دنیا کی فراغت و خوش حالی سے، فتوحات سے، مال اولاد سے نوازتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں ان پر اللہ کا فضل ہو رہا ہے لیکن اگر اللہ کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے والے نیکی اور اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار نہیں کرتے تو یہ دنیاوی نعمتیں، فضل الٰہی نہیں، مہلت الٰہی ہے۔ جس سے ان کے کفر و فسوق میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ بالآخر وہ جہنم کے دائمی عذاب کے مستحق قرار پاجاتے ہیں۔ اس مضمون کو اللہ تعالٰی نے اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا ہے۔ مثلاً (ایحسبون انما نمدھم بہ من مال وبنین نسارع لھم فی الخیرات بل لا یشعرون) (المومنون ۵۵۔۵٦) "کیا وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کےمال و اولاد میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ ہم ان کے لیے بھلائیوں میں جلدی کر رہے ہیں؟ نہیں بلکہ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔"(178)
ما كانَ اللَّهُ لِيَذَرَ المُؤمِنينَ عَلىٰ ما أَنتُم عَلَيهِ حَتّىٰ يَميزَ الخَبيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۗ وَما كانَ اللَّهُ لِيُطلِعَكُم عَلَى الغَيبِ وَلٰكِنَّ اللَّهَ يَجتَبى مِن رُسُلِهِ مَن يَشاءُ ۖ فَـٔامِنوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ وَإِن تُؤمِنوا وَتَتَّقوا فَلَكُم أَجرٌ عَظيمٌ(179)
١٧٩۔١ اس لئے اللہ تعالٰی ابتلا کی بھٹی سے ضرور گزارتا ہے تاکہ اس کے دوست واضح اور دشمن ذلیل ہو جائیں۔ مومن صابر، منافق سے الگ ہو جائے، جس طرح احد میں اللہ تعالٰی نے اہل ایمان کو آزمایا جس سے ان کے ایمان، صبر و ثبات اور اطاعت کا اظہار ہوا اور منافقین نے اپنے اوپر جو نفاق کا پردہ ڈال رکھا تھا وہ بے نقاب ہوگیا۔ ١٧٩۔٢ یعنی اللہ تعالٰی اس طرح ابتلا کے ذریعہ سے لوگوں کے حالات اس طرح ابتلا کے ذریعہ سے ظاہر اور باطن نمایاں نہ کرے تو تمہارے پاس کوئی غیب کا علم تو ہے نہیں کہ جس سے تم پر یہ چیزیں منکشف ہو جائیں اور تم جان سکو کہ کون منافق ہے اور کون مومن خالص۔ ١٧٩۔٣ ہاں البتہ اللہ تعالٰی اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے، غیب کا علم عطا فرماتا ہے جس سے بعض دفعہ ان پر منافقین کا اور ان کے حالات اور ان کی سازشوں کا راز فاش ہو جاتا ہے۔ یعنی یہ بھی کسی کسی وقت اور کسی کسی نبی پر ہی ظاہر کیا جاتا ہے۔ ورنہ عام طور پر نبی بھی (جب تک اللہ نہ چاہے) منافقین کے اندرونی نفاق اور ان کے مکرو فریب سے بے خبر ہی رہتا ہے (جس طرح کہ سورۃ توبہ کی آیت نمبر ١٠١ میں اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ اعراب اور اہل مدینہ جو منافق ہیں، اے پیغمبر! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو نہیں جانتے) اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ غیب کا علم ہم صرف اپنے رسولوں کو ہی عطا کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کی منصبی ضرورت ہے۔ اس وحی الٰہی اور امور غیبیہ کے ذریعے سے ہی وہ لوگوں کو اللہ تعالٰی کی طرف بلاتے ہیں اور اپنے کو اللہ کا رسول ثابت کرتے ہیں؟ اس مضمون کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان کیا گیا ہے (عٰلم الغیب فلایظھر علٰی غیبہ احدا الاّمن ارتضی من رسول) (الجن۲۷،۲٦) "عالم الغیب (اللہ تعالٰی ہے) اور وہ اپنے غیب سے پنسدیدہ رسولوں کو ہی خبردار کرتا ہے "ظاہر بات ہے یہ امور غیبیہ وہی ہوتے ہیں جن کا تعلق منصب وفرائض رسالت کی ادائیگی سے ہوتا ہے نہ کہ ماکان ومایکون (جو کچھ ہو چکا اور آئندہ قیامت تک جو ہونے والا ہے) 'کا علم۔ جیسا کہ بعض اہل باطل اس طرح کا علم غیب انبیاء علیہم السلام کے لیے اور کچھ اپنے "آئمہ معصومین کے لیے باور کراتے ہیں۔(179)
وَلا يَحسَبَنَّ الَّذينَ يَبخَلونَ بِما ءاتىٰهُمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ هُوَ خَيرًا لَهُم ۖ بَل هُوَ شَرٌّ لَهُم ۖ سَيُطَوَّقونَ ما بَخِلوا بِهِ يَومَ القِيٰمَةِ ۗ وَلِلَّهِ ميرٰثُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۗ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ خَبيرٌ(180)
١٨٠۔١ اس میں اس بخیل کا بیان کیا گیا ہے جو اللہ کے دیئے ہوئے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا حتی کہ اس میں سے فرض زکوۃ بھی نہیں نکالتا، صحیح بخاری کی حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن اس کے مالک کو ایک زہریلا اور نہایت خوف ناک سانپ بنا کر طوق کی طرح اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا، وہ سانپ اس کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔(180)
لَقَد سَمِعَ اللَّهُ قَولَ الَّذينَ قالوا إِنَّ اللَّهَ فَقيرٌ وَنَحنُ أَغنِياءُ ۘ سَنَكتُبُ ما قالوا وَقَتلَهُمُ الأَنبِياءَ بِغَيرِ حَقٍّ وَنَقولُ ذوقوا عَذابَ الحَريقِ(181)
١٨١۔١ جب اللہ تعالٰی نے اہل ایمان کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی اور فرمایا (من ذاللذی یقرض اللہ قرضاً حسنا) کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے! تو یہود نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرا رب فقیر ہو گیا ہے کہ اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے؟ جس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ١٨١۔٢ یعنی مذکورہ قول جس میں اللہ کی شان میں گستاخی ہے اور اسی طرح ان کے (اسلاف) کا انبیاء علیہم السلام کو ناحق قتل کرنا، ان کے سارے جرائم اللہ کی بارگاہ میں درج ہیں، جن پر وہ جہنم کی آگ میں داخل ہونگے۔(181)
ذٰلِكَ بِما قَدَّمَت أَيديكُم وَأَنَّ اللَّهَ لَيسَ بِظَلّامٍ لِلعَبيدِ(182)
(182)
الَّذينَ قالوا إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَينا أَلّا نُؤمِنَ لِرَسولٍ حَتّىٰ يَأتِيَنا بِقُربانٍ تَأكُلُهُ النّارُ ۗ قُل قَد جاءَكُم رُسُلٌ مِن قَبلى بِالبَيِّنٰتِ وَبِالَّذى قُلتُم فَلِمَ قَتَلتُموهُم إِن كُنتُم صٰدِقينَ(183)
١٨٣۔١ اس میں یہود کی ایک اور بات کی تکذیب کی جا رہی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ تعالٰی نے ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ تم صرف اس رسول کو ماننا جس کی دعا پر آسمان سے آگ آئے اور قربانی اور صدقات کو جلا ڈالے۔ مطلب یہ تھا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ذریعے سے اس معجزے کا چونکہ صدور نہیں ہوا۔ اس لئے حکم الٰہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانا ہمارے لئے ضروری نہیں حالانکہ پہلے نبیوں میں ایسے نبی بھی آئے ہیں جن کی دعا سے آسمان سے آگ آتی اور اہل ایمان کے صدقات اور قربانیوں کو کھا جاتی۔ جو ایک طرف اس بات کی دلیل ہوتی کہ اللہ کی راہ میں پیش کردہ صدقہ یا قربانی بارگاہ الٰہی میں قبول ہوگئی۔ دوسری طرف اس بات کی دلیل ہوتی کہ یہ نبی برحق ہے۔ لیکن ان یہودیوں نے ان نبیوں اور رسولوں کی بھی تکذیب ہی کی تھی۔ اس لئے اللہ تعالٰی نے فرمایا، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو پھر تم نے ایسے پیغمبروں کو کیوں جھٹلایا اور انہیں قتل کیا جو تمہاری طلب کردہ نشانی ہی لے کر آئے تھے۔(183)
فَإِن كَذَّبوكَ فَقَد كُذِّبَ رُسُلٌ مِن قَبلِكَ جاءو بِالبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ وَالكِتٰبِ المُنيرِ(184)
١٨٤۔١ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کی ان کٹ حجتیوں سے بد دل نہ ہوں، ایسا معاملہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں کیا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آنے والے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو چکا ہے۔(184)
كُلُّ نَفسٍ ذائِقَةُ المَوتِ ۗ وَإِنَّما تُوَفَّونَ أُجورَكُم يَومَ القِيٰمَةِ ۖ فَمَن زُحزِحَ عَنِ النّارِ وَأُدخِلَ الجَنَّةَ فَقَد فازَ ۗ وَمَا الحَيوٰةُ الدُّنيا إِلّا مَتٰعُ الغُرورِ(185)
١٨٥۔١ اس آیت میں ایک تو اس اٹل حقیقت کا بیان ہے کہ موت سے مفر نہیں۔ دوسرا یہ کہ دنیا میں جس نے اچھا یا برا جو کچھ کیا اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، تیسرا کامیابی کا معیار بتایا گیا کہ کامیاب اصل میں وہ ہے جس نے دنیا میں رہ کر اپنے رب کو راضی کر لیا جس کے نتیجے میں جہنم سے دور اور جنت میں داخل کر دیا گیا، چوتھا یہ کہ دنیا کی زندگی سامانِ فریب ہے، جو اس سے دامن بچا کر نکل گیا، وہ خوش نصیب ہے اور جو اس کے فریب میں پھنس گیا وہ ناکام اور نامراد ہے۔(185)
۞ لَتُبلَوُنَّ فى أَموٰلِكُم وَأَنفُسِكُم وَلَتَسمَعُنَّ مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ مِن قَبلِكُم وَمِنَ الَّذينَ أَشرَكوا أَذًى كَثيرًا ۚ وَإِن تَصبِروا وَتَتَّقوا فَإِنَّ ذٰلِكَ مِن عَزمِ الأُمورِ(186)
١٨٦۔١ اہل ایمان کو ان کے ایمان کے مطابق آزمانے کا بیان ہے، جیسا کہ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ١٥٥ میں گزر چکا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک واقعہ بھی آتا ہے کہ رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی نے ابھی اسلام کا اظہار نہیں کیا تھا اور جنگ بدر بھی نہیں ہوئی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن عباد رضی اللہ کی عیادت کے لئے بنی حارث بن خزرج میں تشریف لے گئے۔ راستے میں ایک مجلس میں مشرکین، یہود اور عبد اللہ بن ابی وغیرہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی جو گرد اٹھی، اس نے اس پر بھی ناگواری کا اظہار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ٹھہر کر قبول اسلام کی دعوت بھی دی جس پر عبد اللہ بن ابی نے گستاخانہ کلمات بھی کہے۔ وہاں بعض مسلمان بھی تھے، انہوں نے اس کے برعکس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحسین فرمائی، قریب تھا کہ ان کے مابین جھگڑا ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو خاموش کرایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد رضی اللہ کے پاس پہنچے تو انہیں بھی یہ واقعہ سنایا، جس پر انہوں نے فرمایا کہ عبد اللہ بن ابی یہ باتیں اس لئے کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آنے سے قبل، یہاں کے باشندوں کو اس کی تاج پوشی کرنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے اس کی سرداری کا یہ حسین خواب ادھورا رہ گیا، جس کا اسے سخت صدمہ ہے اور اس کی یہ باتیں اس کے اس بغض و عناد کا مظہر ہیں، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم در گزر ہی سے کام لیں (صحیح بخاری) ١٨٦۔٢ اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مختلف انداز سے طعن و تشنیع کرتے رہتے تھے۔ اسی طرح مشرکین عرب کا حال تھا۔ علاوہ ازیں مدینہ میں آنے کے بعد منافقین بالخصوص ان کا رئیس عبد اللہ بن ابی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں استخفاف کرتا رہتا تھا۔ آپ کے مدینہ آنے سے قبل اہل مدینہ اسے اپنا سردار بنانے لگے تھے اور اس کے سر پر تاجِ سیادت رکھنے کی تیاری مکمل ہو چکی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے اس کا یہ سارا خواب بکھر کر رہ گیا، جس کا اسے شدید صدمہ تھا چنانچہ انتقام کے طور پر بھی یہ شخص آپ کے خلاف کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا (جیسا کہ صحیح بخاری کے حوالے سے اس کی ضروری تفصیل گزشتہ حاشیہ میں ہی بیان کی گئی ہے) ان حالات میں مسلمانوں کو عفو و درگزر اور صبر اور تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ داعیانِ حق کا اذیتوں اور مشکلات سے دو چار ہونا اس راہ حق کے ناگزیر مرحلوں میں سے ہے اور اس کا علاج صبر فی اللہ، استعانت باللہ اور رجوع الی اللہ کے سوا کچھ نہیں (ابن کثیر)(186)
وَإِذ أَخَذَ اللَّهُ ميثٰقَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنّاسِ وَلا تَكتُمونَهُ فَنَبَذوهُ وَراءَ ظُهورِهِم وَاشتَرَوا بِهِ ثَمَنًا قَليلًا ۖ فَبِئسَ ما يَشتَرونَ(187)
١٨٧۔١ اس میں اہل کتاب کو بتایا جا رہا ہے کہ ان سے اللہ نے یہ عہد لیا تھا کہ کتاب الٰہی (تورات اور انجیل) میں جو باتیں درج ہیں اور آخری نبی کی جو صفات ہیں، انہیں لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور انہیں چھپائیں گے نہیں، لیکن انہوں نے دنیا کے تھوڑے سے مفادات کے لئے اللہ کے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا، یہ گویا اہل علم کو تلقین و تنبیہ ہے کہ ان کے ہاں جو علم نافع ہے، جس سے لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح ہو سکتی ہو، وہ لوگوں تک ضرورپہنچانا چاہیے اور دنیاوی اغراض و مفادات کی خاطر ان کو چھپانا بہت بڑا جرم ہے، قیامت والے دن ایسے لوگوں کو آگ کی لگام پہنائی جائیگی (کما فی الحدیث)(187)
لا تَحسَبَنَّ الَّذينَ يَفرَحونَ بِما أَتَوا وَيُحِبّونَ أَن يُحمَدوا بِما لَم يَفعَلوا فَلا تَحسَبَنَّهُم بِمَفازَةٍ مِنَ العَذابِ ۖ وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ(188)
١٨٨۔١ ایسے لوگوں کے لئے سخت وعید ہے جو صرف اپنے واقعی کارناموں پر ہی خوش نہیں ہوتے بلکہ چاہتے ہیں کہ ان کے کھاتے میں وہ کارنامے بھی درج یا ظاہر کئے جائیں جو انہوں نے نہیں کئے ہوتے۔ یہ بیماری جس طرح عہد رسالت کے بعض لوگوں میں تھی جن کے پیش نظر آیات کا نزول ہوا۔ اسی طرح آج بھی جاہ پسند قسم کے لوگوں اور پراپیگنڈے اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے سے بننے والے لیڈروں میں یہ بیماری عام ہے، آیت کے سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی کتاب الٰہی میں تحریف کے مجرم تھے مگر وہ اپنے ان کرتوتوں پر خوش ہوتے تھے، یہی حال باطل گروہوں کا بھی ہے وہ بھی لوگوں کو گمراہ کر کے، غلط رہنمائی کرکے اور آیات الٰہی میں معنوی تحریف و تبدیل کر کے بڑے خوش ہوتے ہیں اور دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ وہ اہل حق ہیں اور یہ کہ انکی فریب کاری کی انہیں داد دی جائے۔قاتلھم اللہ انی یؤفکون۔(188)
وَلِلَّهِ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۗ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(189)
(189)
إِنَّ فى خَلقِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَاختِلٰفِ الَّيلِ وَالنَّهارِ لَءايٰتٍ لِأُولِى الأَلبٰبِ(190)
١٩٠۔١ یعنی جو لوگ زمین و آسمان کی تخلیق اور کائنات کے دیگر اسرار و رموز پر غور کرتے ہیں، انہیں کائنات کے خالق اور اس کے اصل فرمانروا کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے اور وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اتنی طویل و عریض کائنات کا یہ لگا بندھا نظام، جس میں ذرہ برابر خلل واقع نہیں ہوتا، یقینا اس کے پیچھے ایک ذات ہے جو اسے چلا رہی ہے اور اس کی تدبیر کر رہی ہے اور وہ ہے اللہ کی ذات۔ آگے انہی اہل دانش کی صفات کا تذکرہ ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے اور کروٹوں پر لیٹے ہوئے اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ اِنَّ فِیْ خَلَقِ السَّماوَاتِ سے لے کر آخر سورت تک آیات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب تہجد کے لئے اٹھتے تو پڑھتے اور اس کے بعد وضو کرتے (صحیح بخاری، کتاب التفسیر۔ صحیح مسلم۔ کتاب صلوٰۃ المسا فرین)۔(190)
الَّذينَ يَذكُرونَ اللَّهَ قِيٰمًا وَقُعودًا وَعَلىٰ جُنوبِهِم وَيَتَفَكَّرونَ فى خَلقِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ رَبَّنا ما خَلَقتَ هٰذا بٰطِلًا سُبحٰنَكَ فَقِنا عَذابَ النّارِ(191)
١٩١۔١ ان دس آیات میں سے پہلی آیت میں اللہ تعالٰی نے اپنی قدرت و طاقت کی چند نشانیاں بیان فرمائی ہیں اور فرمایا کہ یہ نشانیاں ضرور ہیں لیکن کن کے لئے؟ اہل عقل و دانش کے لئے، اس کا مظلب یہ ہوا کہ ان عجائبات تخلیق اور قدرت الٰہی کو دیکھ کر بھی جس شخص کو باری تعالٰی کا عرفان حاصل نہ ہو وہ اہل دانش ہی نہیں۔ لیکن یہ المیہ بھی بڑا عجیب ہے کہ عالم اسلام میں ' دانشور ' سمجھا ہی اس کو جاتا ہے، جو اللہ تعالٰی کے بارے میں شک کا شکار ہو، دوسری آیت میں اہل دانش کے ذوقِ ذکر الٰہی اور ان کا آسمان اور زمین کی تخلیق میں غورو فکر کرنے کا بیان ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔ اگر کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر پڑھو، بیٹھ کر بھی نہیں پڑھ سکتے تو کروٹ کے بل لیٹے لیٹے ہی نماز پڑھ لو۔ (صحیح بخاری کتاب الصلٰوۃ) اس کے بعد والی تین آیات میں بھی مغفرت اور قیامت کے دن کی رسوائی سے بچنے کی دعائیں ہیں۔(191)
رَبَّنا إِنَّكَ مَن تُدخِلِ النّارَ فَقَد أَخزَيتَهُ ۖ وَما لِلظّٰلِمينَ مِن أَنصارٍ(192)
(192)
رَبَّنا إِنَّنا سَمِعنا مُنادِيًا يُنادى لِلإيمٰنِ أَن ءامِنوا بِرَبِّكُم فَـٔامَنّا ۚ رَبَّنا فَاغفِر لَنا ذُنوبَنا وَكَفِّر عَنّا سَيِّـٔاتِنا وَتَوَفَّنا مَعَ الأَبرارِ(193)
(193)
رَبَّنا وَءاتِنا ما وَعَدتَنا عَلىٰ رُسُلِكَ وَلا تُخزِنا يَومَ القِيٰمَةِ ۗ إِنَّكَ لا تُخلِفُ الميعادَ(194)
(194)
فَاستَجابَ لَهُم رَبُّهُم أَنّى لا أُضيعُ عَمَلَ عٰمِلٍ مِنكُم مِن ذَكَرٍ أَو أُنثىٰ ۖ بَعضُكُم مِن بَعضٍ ۖ فَالَّذينَ هاجَروا وَأُخرِجوا مِن دِيٰرِهِم وَأوذوا فى سَبيلى وَقٰتَلوا وَقُتِلوا لَأُكَفِّرَنَّ عَنهُم سَيِّـٔاتِهِم وَلَأُدخِلَنَّهُم جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ ثَوابًا مِن عِندِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسنُ الثَّوابِ(195)
١٩٥۔١ فَا َسْتَجَابَ یہاں اَجَابَ ' قبول فرما لی ' کے معنی میں ہے (فتح القدیر) ١٩٥۔٢ مرد ہو یا عورت کی وضاحت اس لئے کردی کہ اسلام نے بعض معاملات میں مرد اور عورت کے درمیان ان کے ایک دوسرے سے مختلف فطری اوصاف کی بنا پر جو فرق کیا ہے۔ مثلا قومیت اور حاکمیت میں، کسب معاش کی ذمہ داری میں، جہاد میں حصہ لینے میں اور وراثت میں نصف حصہ ملنے میں۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے، کہ نیک اعمال کی جزا میں بھی شاید مرد عورت کے درمیان کچھ فرق کیا جائے گا، نہیں! ایسا نہیں ہوگا، نیکی کا جو اجر مرد کو ملے گا وہی عورت کو بھی ملے گا۔ ١٩٥۔٣ یہ جملہ معترضہ ہے اس کا مقصد پچھلے نکتے ہی کی وضاحت ہے یعنی اجر و اطاعت میں تم مرد اور عورت ایک جیسے ہی ہو۔ بعض روایت میں ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ عرض کیا یارسول اللہ! اللہ تعالٰی نے ہجرت کے سلسلے میں عورتوں کا نام نہیں لیا۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی (تفسیر طبری، ابن کثیر و فتح القدیر)(195)
لا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذينَ كَفَروا فِى البِلٰدِ(196)
١٩٦۔١ خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن مخاطب پوری امت ہے، شہروں میں چلنے پھرنے سے مراد تجارت اور کاروبار کے لئے ایک شہر سے دوسرے شہر، ایک ملک سے دوسرے ملک جانا ہے، یہ تجارتی سفر و سائل دنیا کی فراوانی اور کاروبار کے وسعت و فروغ کی دلیل ہوتا ہے، اللہ تعالٰی فرماتا ہے، یہ سب کچھ عارضی اور چند روزہ فائدہ ہے، اس سے اہل ایمان کو دھوکا میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ اصل انجام پر نظر رکھنی چاہئے، جو ایمان میں محرومی کی صورت میں جہنم کا دائمی عذاب ہے جس میں دولتِ دنیا سے مالا مال یہ کافر مبتلا ہونگے۔ یہ مضمون بھی متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ مثلا (مایجادل فی آیٰت اللہ الاّالذین کفروافلا یغررک تقلبھم فی البلاد) (سورۃ المومن۔ ٤) اللہ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں، پس ان کا شہروں میں چلنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے۔"(ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون *متاع فی الدنیا ثم الینا مرجعھم) (سورۃ یونس) (نمتعھم قلیلا ثم نضطرھم الیٰ عذاب غلیظ) (سورۃلقمان)(196)
مَتٰعٌ قَليلٌ ثُمَّ مَأوىٰهُم جَهَنَّمُ ۚ وَبِئسَ المِهادُ(197)
١٩٧۔١ یعنی دنیا کے وسائل، آسائش اور سہولتیں بظاہر کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، درحقیقت متاعِ قلیل ہی ہیں کیونکہ بالاخر انہیں فنا ہونا ہے اور ان کے بھی فنا ہونے سے پہلے وہ حضرات خود فنا ہو جائیں گے، جو ان کے حصول کی کوششوں میں اللہ کو بھی فراموش کئے رکھتے ہیں اور ہر قسم کے اخلاقی ضابطوں اور اللہ کی حدوں کو بھی پامال کرتے ہیں۔(197)
لٰكِنِ الَّذينَ اتَّقَوا رَبَّهُم لَهُم جَنّٰتٌ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها نُزُلًا مِن عِندِ اللَّهِ ۗ وَما عِندَ اللَّهِ خَيرٌ لِلأَبرارِ(198)
١٩٨۔١ ان کے برعکس جو تقویٰ اور خداوندی کی زندگی گزار کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونگے۔ گو دنیا میں ان کے پاس خدا فراموشوں کی طرح دولت کے انبار اور رزق کی فروانی نہ رہی ہوگی، مگر وہ اللہ کے مہمان ہونگے جو تمام کائنات کا خالق اور مالک ہے اور وہاں ان ابرار (نیک لوگوں) کو جو اجر و صلہ ملے گا، وہ اس سے بہتر ہوگا جو دنیا میں کافروں کو عارضی طور پر ملتا ہے۔(198)
وَإِنَّ مِن أَهلِ الكِتٰبِ لَمَن يُؤمِنُ بِاللَّهِ وَما أُنزِلَ إِلَيكُم وَما أُنزِلَ إِلَيهِم خٰشِعينَ لِلَّهِ لا يَشتَرونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَليلًا ۗ أُولٰئِكَ لَهُم أَجرُهُم عِندَ رَبِّهِم ۗ إِنَّ اللَّهَ سَريعُ الحِسابِ(199)
١٩٩۔١ اس آیت میں اہل کتاب کے اس گروہ کا ذکر ہے جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے ایمان اور ایمانی صفات کا تذکرہ فرما کر اللہ تعالٰی نے انہیں دوسرے اہل کتاب سے ممتاز کر دیا، جن کا مشن ہی اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا، آیات الٰہی میں تحریف و تبدیل کرنا اور دنیا کے عارضی اور فانی مفادات کے لئے کرنا تھا۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا یہ مومنین اہل کتاب ایسے نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اور اللہ کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچنے والے نہیں۔ حافظ ابن کثیرنے لکھا ہے کہ آیت میں جن مومنین اہل کتاب کا ذکر ہے، یہودیوں کی تعداد دس تک بھی نہیں پہنچی البتہ عیسائی بڑی تعداد میں مسلمان ہوئے اور انہوں نے دین حق کو اپنایا۔ (تفسیر ابن کثیر)(199)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اصبِروا وَصابِروا وَرابِطوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ(200)
٢٠٠۔١ صبر کرو یعنی طاعت کے اختیار کرنے اور شہوات اور لذات ترک کرنے میں اپنے نفس کو مضبوط اور ثابت قدم رکھو، جنگ کی شدت میں دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہنا، یہ صبر کی سخت ترین صورت ہے اس لئے اسے علٰیحدہ بیان فرمایا محاذ جنگ میں مورچہ بند ہو کر ہمہ وقت چوکنا اور جہاد کے لئے تیار رہنا مرابطہ ہے۔ یہ بھی بڑے عزم ولولہ کا کام ہے، اسی لئے حدیث میں اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے (رباط یوم فی سبیل اللہ خیر من الدنیا وما علیھا) (صحیح بخاری، باب فضل رباط یوم فی سبیل اللہ) اللہ کے راستے (جہاد) میں ایک سن پڑاؤ ڈالنا۔ (یعنی مورچہ بند ہونا) دنیا ومافیہا سے بہتر ہے "علاوہ ازیں حدیث میں مکارہ (یعنی ناگواری کے حالات میں) مکمل وضو کرنے، مسجدوں میں زیادہ دور سے چل کر جانے اور نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کرنے کو بھی رباط کہا گیا ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الطہارۃ)(200)