Al-Zalzalah( الزلزلة)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ إِذا زُلزِلَتِ الأَرضُ زِلزالَها(1)
١۔١ اس کا مطلب ہے سخت بھو نچال سے ساری زمین لرز اٹھے گی اور ہرچیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی، یہ اس وقت ہوگا جب پہلا نفخہ پھونکا جائے گا۔(1)
وَأَخرَجَتِ الأَرضُ أَثقالَها(2)
٢۔١ یعنی زمین میں جتنے انسان دفن ہیں، وہ زمین کا بوجھ ہیں، جنہیں زمین قیامت والے دن باہر نکال پھینکے گی اور اللہ کے حکم سے سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔ یہ دوسرے نفخے میں ہوگا، اسی طرح زمین کے خزانے بھی باہر نکل آئیں گے۔(2)
وَقالَ الإِنسٰنُ ما لَها(3)
۳۔۱یعنی دہشت زدہ ہو کر کہے گا کہ اسے کیا ہوگیا ہے یہ کیوں اس طرح ہل رہی ہے اور اپنے خزانے اگل رہی ہے۔(3)
يَومَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخبارَها(4)
٤۔۱حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی اور صحابہ سے پوچھا کہ جانتے ہو کہ اس کی خبریں کیا ہیں صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس کی خبریں یہ ہیں کہ جس بندے یا بندی نے زمین کی پشت پر جو کچھ کیا ہوگا، اس کی گواہی دے گی۔ کہے گی فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں عمل، فلاں فلاں دن میں کیا تھا۔(4)
بِأَنَّ رَبَّكَ أَوحىٰ لَها(5)
۵۔۱یعنی زمین کو یہ قوت گویائی اللہ تعالٰی عطا کرے گا اس لیے اس میں تعجب بات نہیں۔، جس طرح انسانی اعضا میں اللہ تعالٰی یہ قوت پیدافرمادے گا، زمین کو بھی اللہ تعالٰی متکلم بنا دے گا اور وہ اللہ کے حکم سے بولے گی۔(5)
يَومَئِذٍ يَصدُرُ النّاسُ أَشتاتًا لِيُرَوا أَعمٰلَهُم(6)
٦۔۱یصدر، یرجع (لوٹیں گے) یہ ورود کی ضد ہے یعنی قبروں سے نکل کر موقف حساب کی طرف ، یا حساب کے بعد جنت اور دوزخ کی طرف لوٹیں گے۔ اشتاتا، متفرق، یعنی ٹولیاں ٹولیاں، بعض بے خوف ہوں گے، بعض خوف زدہ، بعض کے رنگ سفید ہوں گے جیسے جنتیوں کے ہوں گے اور بعض کے رنگ سیاہ ، جو ان کے جہنمی ہونے کی علامت ہوگی۔ بیض کا رخ دائیں جانب ہوگا تو بعض کا بائیں جانب۔ یا یہ مختلف گروہ ادیان ومذاہب اور اعمال وافعال کی بنیاد پر ہوں گے۔ ٦۔١ یعنی زمین اپنی خبریں اس لئے بیان کرے گی تاکہ انسانوں کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں۔(6)
فَمَن يَعمَل مِثقالَ ذَرَّةٍ خَيرًا يَرَهُ(7)
۷۔۱پس وہ اس سے خوش ہوگا۔(7)
وَمَن يَعمَل مِثقالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ(8)
۸۔۱وہ اس پر سخت پشیمان اور مضطرب ہوگا۔ذرۃ بعض کے نزدیک چیونٹی سے بھی چھوٹی چیز ہے۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں، انسان زمین پر ہاتھ مارتا ہے، اس سے اس کے ہاتھ پر جو مٹی لگ جاتی ہے وہ ذرہ ہے۔ بعض کے نزدیک سوراخ سے آنے والی سورج کی شعاعوں میں گردوغبار کے جو ذرات سے نظر آتے ہیں، وہ ذرہ ہے۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے معنی کو اولیٰ کہا ہے۔ امام مقاتل کہتے ہیں کہ یہ سورت ان دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں سے ایک شخص، ساءل کو تھوڑا سا صدقہ دینے میں تامل کرتا اور دوسراشخص چھوٹا گناہ کرنے میں کوئی خوف محسوس نہ کرتا تھا۔ (فتح القدیر)(8)