Al-Qamar( القمر)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ اقتَرَبَتِ السّاعَةُ وَانشَقَّ القَمَرُ(1)
١۔١ ایک تو بہ اعتبار اس زمانے کے جو گزر گیا، کیونکہ جو باقی ہے، وہ تھوڑا ہے۔ دوسرے ہر آنے والی چیز قریب ہی ہے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بابت فرمایا کہ میرا وجود قیامت سے متصل ہے، یعنی میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ١۔٢ یہ وہ معجزہ ہے جو اہل مکہ کے مطالبے پر دکھایا گیا،چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے حتی کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا۔ یعنی اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اس طرف اور ایک ٹکڑا اس طرف ہوگیا۔ جمہور سلف و خلف کا یہی مسلک ہے (فتح القدیر) امام ابن کثیر لکھتے ہیں علماء کے درمیان یہ بات متفق علیہ ہے کہ انشقاق قمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح معجزات میں سے ہے، صحیح سند سے ثابت احادیث متواترہ اس پر دلالت کرتی ہیں۔(1)
وَإِن يَرَوا ءايَةً يُعرِضوا وَيَقولوا سِحرٌ مُستَمِرٌّ(2)
٢۔١ یعنی قریش نے، ایمان لانے کی بجائے، اسے جادو قرار دے کر اپنے اعراض کی روش جاری رکھی۔(2)
وَكَذَّبوا وَاتَّبَعوا أَهواءَهُم ۚ وَكُلُّ أَمرٍ مُستَقِرٌّ(3)
٣۔١ یہ کفار مکہ کی تکذیب اور اتباع کی تردید کے لئے فرمایا کہ ہر کام کی ایک انتہا ہوتی ہے، وہ کام اچھا ہو یا برا۔ یعنی بالآخر اس کا نتیجہ نکلے گا، اچھے کام کا نتیجہ اچھا اور برے کام کا نتیجہ برا۔ اس نتیجے کا ظہور دنیا میں بھی ہو سکتا ہے اگر اللہ کی مشیت مقتضی ہو، ورنہ آخرت میں تو یقینی ہے۔(3)
وَلَقَد جاءَهُم مِنَ الأَنباءِ ما فيهِ مُزدَجَرٌ(4)
٤۔١ یعنی گذشتہ امتوں کی ہلاکت کی، جب انہوں نے جھٹلایا۔(4)
حِكمَةٌ بٰلِغَةٌ ۖ فَما تُغنِ النُّذُرُ(5)
٥۔١ یعنی ایسی بات جو تباہی سے پھیر دینے والی ہے یا قرآن حکمت بالغہ ہے جس میں کوئی نقص یا خلل نہیں ہے۔ یا اللہ تعالٰی جس کو ہدایت دے اور یا اسے گمراہ کرے، اس میں بڑی حکمت ہے جس کو وہی جانتا ہے۔(5)
فَتَوَلَّ عَنهُم ۘ يَومَ يَدعُ الدّاعِ إِلىٰ شَيءٍ نُكُرٍ(6)
٦۔١ یعنی اس دن کو یاد کرو، نہایت ہولناک اور دہشت ناک مراد میدان محشر اور موقف حساب کے آزمائشیں ہیں۔(6)
خُشَّعًا أَبصٰرُهُم يَخرُجونَ مِنَ الأَجداثِ كَأَنَّهُم جَرادٌ مُنتَشِرٌ(7)
٧۔١ یعنی قبروں سے نکل کر وہ اس طرح پھیلیں گے اور موقف حساب کی طرف اس طرح نہایت تیزی سے جائیں گے، گویا ٹڈی دل ہے جو آنا فانا میں کشادہ فضا میں پھیل جاتا ہے۔(7)
مُهطِعينَ إِلَى الدّاعِ ۖ يَقولُ الكٰفِرونَ هٰذا يَومٌ عَسِرٌ(8)
(8)
۞ كَذَّبَت قَبلَهُم قَومُ نوحٍ فَكَذَّبوا عَبدَنا وَقالوا مَجنونٌ وَازدُجِرَ(9)
٩۔١ یعنی قوم نوح نے نوح علیہ السلام کی تکذیب ہی نہیں کی، بلکہ انہیں جھڑکا اور ڈرایا دھمکایا بھی گیا تھا۔(9)
فَدَعا رَبَّهُ أَنّى مَغلوبٌ فَانتَصِر(10)
(10)
فَفَتَحنا أَبوٰبَ السَّماءِ بِماءٍ مُنهَمِرٍ(11)
١١۔١ کہتے ہیں کہ چالیس دن تک مسلسل خوب زور سے پانی برستا رہا۔(11)
وَفَجَّرنَا الأَرضَ عُيونًا فَالتَقَى الماءُ عَلىٰ أَمرٍ قَد قُدِرَ(12)
(12)
وَحَمَلنٰهُ عَلىٰ ذاتِ أَلوٰحٍ وَدُسُرٍ(13)
(13)
تَجرى بِأَعيُنِنا جَزاءً لِمَن كانَ كُفِرَ(14)
(14)
وَلَقَد تَرَكنٰها ءايَةً فَهَل مِن مُدَّكِرٍ(15)
١٥۔١ مُدَّکِرٍ معنی ہیں عبرت پکڑنے اور نصیحت حاصل کرنے والا (فتح القدیر)(15)
فَكَيفَ كانَ عَذابى وَنُذُرِ(16)
(16)
وَلَقَد يَسَّرنَا القُرءانَ لِلذِّكرِ فَهَل مِن مُدَّكِرٍ(17)
١٧۔١ یعنی اس کے مطلب اور معانی کو سمجھنا، اس سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا اور اسے زبانی یاد کرنا ہم نے آسان کر دیا، اسی طرح یہ دنیا کی واحد کتاب ہے، جو لفظ بہ لفظ یاد کر لی جاتی ہے ورنہ چھوٹی سی کتاب کو بھی اس طرح یاد کرلینا اور اسے یاد رکھنا نہایت مشکل ہے(17)
كَذَّبَت عادٌ فَكَيفَ كانَ عَذابى وَنُذُرِ(18)
(18)
إِنّا أَرسَلنا عَلَيهِم ريحًا صَرصَرًا فى يَومِ نَحسٍ مُستَمِرٍّ(19)
١٩۔١ کہتے ہیں یہ بدھ کی شام تھی، جب اس تند، یخ اور شاں شاں کرتی ہوئی ہوا کا آغاز ہوا، پھر مسلسل ٧ راتیں اور ٨ دن چلتی رہی۔ یہ ہوا گھروں اور قلعوں میں بند انسانوں کو بھی وہاں سے اٹھاتی اور اس طرح زور سے انہیں زمین پر پٹختی کہ ان کے سر ان کے دھڑوں سے الگ ہو جاتے۔ یہ دن ان کے لیے عذاب کے اعتبار سے منحوس ثابت ہوا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بدھ کے دن میں یا کسی اور دن میں نحوست ہے، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ مستمر کا مطلب، یہ عذاب اس وقت تک جاری رہا جب تک سب ہلاک نہیں ہوگئے ۔(19)
تَنزِعُ النّاسَ كَأَنَّهُم أَعجازُ نَخلٍ مُنقَعِرٍ(20)
(20)
فَكَيفَ كانَ عَذابى وَنُذُرِ(21)
(21)
وَلَقَد يَسَّرنَا القُرءانَ لِلذِّكرِ فَهَل مِن مُدَّكِرٍ(22)
(22)
كَذَّبَت ثَمودُ بِالنُّذُرِ(23)
(23)
فَقالوا أَبَشَرًا مِنّا وٰحِدًا نَتَّبِعُهُ إِنّا إِذًا لَفى ضَلٰلٍ وَسُعُرٍ(24)
٢٤۔١ یعنی ایک بشر کو رسول مان لینا، ان کے نزدیک گمراہی اور دیوانگی تھی۔(24)
أَءُلقِىَ الذِّكرُ عَلَيهِ مِن بَينِنا بَل هُوَ كَذّابٌ أَشِرٌ(25)
٢٥۔١ یعنی اس نے جھوٹ بھی بولا تو بہت بڑا۔ کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ بھلا ہم میں سے صرف اسی پر وحی آنی تھی؟ یا اس کے ذریعے سے ہم پر اپنی بڑائی جتانا اس کا مقصد تھا۔(25)
سَيَعلَمونَ غَدًا مَنِ الكَذّابُ الأَشِرُ(26)
٢٦۔١ یہ خود، پیغمبر پر الزام تراشی کرنے والے۔ یا حضرت صالح علیہ السلام، جن کو اللہ نے وحی و رسالت سے نوازا۔ غَدًا یعنی کل سے مراد قیامت کا دن یا دنیا میں ان کے لئے عذاب کا مقررہ دن۔(26)
إِنّا مُرسِلُوا النّاقَةِ فِتنَةً لَهُم فَارتَقِبهُم وَاصطَبِر(27)
٢٧۔١ کہ یہ ایمان لاتے ہیں یا نہیں وہی اونٹنی ہے جو اللہ نے خود ان کے کہنے پر پتھر کی ایک چٹان ظاہر فرمائی تھی۔(27)
وَنَبِّئهُم أَنَّ الماءَ قِسمَةٌ بَينَهُم ۖ كُلُّ شِربٍ مُحتَضَرٌ(28)
٢٨۔١ یعنی ایک دن اونٹنی کے پانی پینے کے لئے اور ایک دن قوم کے پانی پینے کے لئے۔ ٢٨۔٢ مطلب ہے ہر ایک کا حصہ اس کے ساتھ ہی خاص ہے جو اپنی اپنی باری پر حاضر ہو کر وصول کرے دوسرا اس روز نہ آئے شُرَب حصہ آب۔(28)
فَنادَوا صاحِبَهُم فَتَعاطىٰ فَعَقَرَ(29)
٢٩۔١ یعنی جس کو انہوں نے اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے آمادہ کیا تھا، جس کا نام قدار بن سالف بتلایا جاتا ہے، اس کو پکارا کہ وہ اپنا کام کرے۔ ٢٩۔٢ یا تلوار یا اونٹنی کو پکڑا اور اس کی ٹانگیں کاٹ دیں اور پھر اسے ذبح کر دیا۔ بعض نے فَتَعَاطَیٰ کے معنی فَجَسَرَ کئے ہیں، پس اس نے جسارت کی ۔(29)
فَكَيفَ كانَ عَذابى وَنُذُرِ(30)
(30)
إِنّا أَرسَلنا عَلَيهِم صَيحَةً وٰحِدَةً فَكانوا كَهَشيمِ المُحتَظِرِ(31)
٣١۔١ باڑ جو خشک جھاڑیوں اور لکڑیوں سے جانوروں کی حفاظت کے لئے بنائی جاتی ہے، خشک لکڑیاں اور جھاڑیاں مسلسل روندے جانے کی وجہ سے چورا چورا ہو جاتی ہیں وہ بھی اس باڑ کی ماند ہمارے عذاب سے چورا ہوگئے۔(31)
وَلَقَد يَسَّرنَا القُرءانَ لِلذِّكرِ فَهَل مِن مُدَّكِرٍ(32)
(32)
كَذَّبَت قَومُ لوطٍ بِالنُّذُرِ(33)
(33)
إِنّا أَرسَلنا عَلَيهِم حاصِبًا إِلّا ءالَ لوطٍ ۖ نَجَّينٰهُم بِسَحَرٍ(34)
٣٤۔١ یعنی ایسی ہوا بھیجی جو ان کو کنکریاں مارتی تھی، یعنی ان کی بستیوں کو ان پر الٹا کر دیا گیا، اس طرح کہ ان کا اوپر والا حصہ نیچے اور نیچے والا حصہ اوپر، اس کے بعد ان پر کھنگر پتھروں کی بارش ہوئی جیسا کہ سورہ ہود وغیرہ میں تفصیل گزری۔(34)
نِعمَةً مِن عِندِنا ۚ كَذٰلِكَ نَجزى مَن شَكَرَ(35)
٣٥۔١ یعنی ان کو عذاب سے بچانا، یہ ہماری رحمت اور احسان تھا جو ان پر ہوا۔(35)
وَلَقَد أَنذَرَهُم بَطشَتَنا فَتَمارَوا بِالنُّذُرِ(36)
٣٦۔١ یعنی عذاب آنے سے پہلے سخت گرفت سے ڈرایا تھا۔ ٣٦۔٢ لیکن انہوں نے اس کی پروا نہ کی بلکہ شک کیا اور ڈرانے والوں سے جھگڑتے رہے۔(36)
وَلَقَد رٰوَدوهُ عَن ضَيفِهِ فَطَمَسنا أَعيُنَهُم فَذوقوا عَذابى وَنُذُرِ(37)
٣٧۔١یا بہلایا یا مانگا لوط علیہ السلام سے ان کے مہمانوں کو۔ مطلب یہ ہے کہ جب لوط علیہ السلام کی قوم کو معلوم ہوا کہ چند خوبرو نوجوان لوط علیہ السلام کے ہاں آئے ہیں ۔(جو دراصل فرشتے تھے اور انکو عذاب دینے کے لیے آئے تھے) تو انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ہمارے سپرد کردیں تاکہ ہم اپنے بگڑے ہوئے ذوق کی ان سے تسکین کریں۔ (۲) کہتے ہیں کہ یہ فرشتے جبرائیل میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جب انہوں نے بد فعلی کی نیت سے فرشتوں (مہمانو) کو لینے پر زیادہ اصرار کیا تو جبرائیل علیہ السلام نے اپنے پر کا ایک حصہ انہیں مارا، جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلے ہی باہر نکل آئے، بعض کہتے ہیں، صرف آنکھوں کی بصارت زائل ہوئی، بہرحال عذاب عام سے پہلے یہ عذاب خاص ان لوگوں کو پہنچا جو حضرت لوط علیہ السلام کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ اور آنکھوں سے یا بینائی سے محروم ہو کر گھر پہنچے۔ اور صبح اس عذاب عام میں تباہ ہوگئے جو پوری قوم کے لئے آیا۔(تفسیر ابن کثیر)(37)
وَلَقَد صَبَّحَهُم بُكرَةً عَذابٌ مُستَقِرٌّ(38)
٣٨۔١ یعنی صبح ان پر نازل ہونے والا عذاب آگیا، جو انہیں ہلاک کئے بغیر نہ چھوڑے(38)
فَذوقوا عَذابى وَنُذُرِ(39)
(39)
وَلَقَد يَسَّرنَا القُرءانَ لِلذِّكرِ فَهَل مِن مُدَّكِرٍ(40)
٤٠۔١ قرآن کا اس سورت میں بار بار ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ قرآن اور اس کے فہم و حفظ کو آسان کر دینا، اللہ کا احسان عظیم ہے، اس کے شکر سے انسان کو کبھی غافل نہیں ہونا چاہیئے۔(40)
وَلَقَد جاءَ ءالَ فِرعَونَ النُّذُرُ(41)
(41)
كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا كُلِّها فَأَخَذنٰهُم أَخذَ عَزيزٍ مُقتَدِرٍ(42)
٤٢۔١ وہ نشانیاں، جن کے ذریعے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور فرعونیوں کو ڈرایا، یہ نشانیاں تھیں جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔(42)
أَكُفّارُكُم خَيرٌ مِن أُولٰئِكُم أَم لَكُم بَراءَةٌ فِى الزُّبُرِ(43)
٤٣۔١ یہ استفہام انکار یعنی نفی کے لئے ہے، یعنی اے اہل عرب! تمہارے کافر، گذشتہ کافروں سے بہتر نہیں ہیں، جب وہ اپنے کفر کی وجہ سے ہلاک کر دیئے گئے، تو تم جب کہ تم ان سے بدتر ہو، عذاب سے سلامتی کی امید کیوں رکھتے ہو(43)
أَم يَقولونَ نَحنُ جَميعٌ مُنتَصِرٌ(44)
٤٤۔١ تعداد کی کثرت اور وسائل قوت کی وجہ سے، ہم دشمن سے انتقام لینے پر قادر ہیں۔(44)
سَيُهزَمُ الجَمعُ وَيُوَلّونَ الدُّبُرَ(45)
٤٥۔١ جماعت سے مراد کفار مکہ ہیں۔ چنانچہ بدر میں انہیں شکست ہوئی اور یہ پیٹھ دے کر بھاگے۔(45)
بَلِ السّاعَةُ مَوعِدُهُم وَالسّاعَةُ أَدهىٰ وَأَمَرُّ(46)
٤٦۔١ یعنی دنیا میں جو یہ قتل کئے گئے، قیدی بنائے گئے وغیرہ، یہ ان کی آخری سزا نہیں ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت سزائیں ان کو قیامت والے دن دی جائیں گی جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔(46)
إِنَّ المُجرِمينَ فى ضَلٰلٍ وَسُعُرٍ(47)
(47)
يَومَ يُسحَبونَ فِى النّارِ عَلىٰ وُجوهِهِم ذوقوا مَسَّ سَقَرَ(48)
٤٨۔١ سَقَرً بھی جہنم کا نام ہے یعنی اس کی حرارت اور شدت عذاب کا مزہ چکھو۔(48)
إِنّا كُلَّ شَيءٍ خَلَقنٰهُ بِقَدَرٍ(49)
(49)
وَما أَمرُنا إِلّا وٰحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالبَصَرِ(50)
(50)
وَلَقَد أَهلَكنا أَشياعَكُم فَهَل مِن مُدَّكِرٍ(51)
٥١۔١ یعنی گذشتہ امتوں کے کافروں کو، جو کفر میں تمہارے ہی جیسے تھے۔(51)
وَكُلُّ شَيءٍ فَعَلوهُ فِى الزُّبُرِ(52)
٥٢۔١ یا دوسرے معنی میں، لوح محفوظ میں درج ہیں۔(52)
وَكُلُّ صَغيرٍ وَكَبيرٍ مُستَطَرٌ(53)
٥٣۔١ یعنی مخلوق کے تمام اعمال، اقوال و افعال لکھے ہوئے ہیں، چھوٹے ہوں یا بڑے، حقیر ہوں یا جلیل۔(53)
إِنَّ المُتَّقينَ فى جَنّٰتٍ وَنَهَرٍ(54)
٥٤۔١ یعنی مختلف اور قسم قسم کے باغات میں ہونگے، بطور جنس کے ہے جو جنت کی تمام نہروں کو شامل ہے۔(54)
فى مَقعَدِ صِدقٍ عِندَ مَليكٍ مُقتَدِرٍ(55)
٥٥۔١ مَقْعَدِ صِدْقٍ عزت کی بیٹھک یا مجلس حق، جس میں گناہ کی بات ہوگی نہ لغویات کا ارتکاب۔ مراد جنت ہے۔(55)