Al-Mutaffife( المطففين)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ وَيلٌ لِلمُطَفِّفينَ(1)
(1)
الَّذينَ إِذَا اكتالوا عَلَى النّاسِ يَستَوفونَ(2)
(2)
وَإِذا كالوهُم أَو وَزَنوهُم يُخسِرونَ(3)
٣۔١ یعنی لینے اور دینے کے الگ الگ پیمانے رکھنا اور اس طرح ڈنڈی مار کر ناپ تول میں کمی کرنا، بہت بڑی اخلاقی بیماری ہے، جس کا نتیجہ دین اور آخرت میں تباہی ہے۔ ایک حدیث ہے، جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے، تو اس پر قحط سالی، سخت محنت اور حکمرانوں کا ظلم مسلط کر دیا جاتا ہے۔(3)
أَلا يَظُنُّ أُولٰئِكَ أَنَّهُم مَبعوثونَ(4)
(4)
لِيَومٍ عَظيمٍ(5)
(5)
يَومَ يَقومُ النّاسُ لِرَبِّ العٰلَمينَ(6)
(6)
كَلّا إِنَّ كِتٰبَ الفُجّارِ لَفى سِجّينٍ(7)
٧۔١ سِجِیْن بعض کہتے ہیں سِجْن(قید خانہ) سے ہے، مطلب ہے کہ قید خانہ کی طرح ایک نہایت تنگ مقام ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ زمین کے سب سے نچلے حصے میں ایک جگہ ہے، جہاں کافروں، ظالموں اور مشرکوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے جمع اور محفوظ ہوتے ہیں۔ اسی لئے آگے اسے لکھی ہوئی کتاب قرار دی ہے۔(7)
وَما أَدرىٰكَ ما سِجّينٌ(8)
(8)
كِتٰبٌ مَرقومٌ(9)
(9)
وَيلٌ يَومَئِذٍ لِلمُكَذِّبينَ(10)
(10)
الَّذينَ يُكَذِّبونَ بِيَومِ الدّينِ(11)
(11)
وَما يُكَذِّبُ بِهِ إِلّا كُلُّ مُعتَدٍ أَثيمٍ(12)
(12)
إِذا تُتلىٰ عَلَيهِ ءايٰتُنا قالَ أَسٰطيرُ الأَوَّلينَ(13)
١٣۔١ یعنی اس کا گناہوں میں مصروفیت اور حد سے تجاوز اتنا بڑھ گیا کہ اللہ کی آیات سن کر ان پر غور و فکر کرنے کے بجائے، انہیں اگلوں کی کہانیاں بتلاتا ہے۔(13)
كَلّا ۖ بَل ۜ رانَ عَلىٰ قُلوبِهِم ما كانوا يَكسِبونَ(14)
(۳) یعنی یہ قرآن کہانیاں نہیں ، جیسا کہ کافر کہتے اور سمجھتے ہیں۔ بلکہ یہ اللہ کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس کے رسول پر جبرائیل علیہ السلام امین کے ذریعے سے نازل ہوئی ہے۔ (٤) یعنی ان کے دل اس قرآن اور وحی الہٰی پر ایمان اس لیے نہیں لاتے کہ ان کے دلوں پر گناہوں کی کثرت کی وجہ سے پردے پڑگئے ہیں اور وہ زنگ آلود ہوگئے ہیں رین گناہوں کی وہ سیاہی ہے جو مسلسل ارتکاب گناہ کی وجہ سے اس کے دل پر چھا جاتی ہے۔ حدیث میں ہے "بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو وہ سیاہی دور کر دی جاتی ہے، اور اگر توبہ کے بجائے، گناہ کیے جاتا ہے تو وہ سیاہی پڑھتی جاتی ہے، حتیٰ کہ اس کے پورے دل پر چھا جاتی ہے۔ یہی وہ رین ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔(ترمذی، باب تفسیر سورۃ المطففین، ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکرالذنوب۔ مسند أحمد۲۹۷/۲)(14)
كَلّا إِنَّهُم عَن رَبِّهِم يَومَئِذٍ لَمَحجوبونَ(15)
١٥۔١ ان کے برعکس اہل ایمان روئیت باری تعالٰی سے مشرف ہوں گے۔(15)
ثُمَّ إِنَّهُم لَصالُوا الجَحيمِ(16)
(16)
ثُمَّ يُقالُ هٰذَا الَّذى كُنتُم بِهِ تُكَذِّبونَ(17)
(17)
كَلّا إِنَّ كِتٰبَ الأَبرارِ لَفى عِلِّيّينَ(18)
١٨۔١ عِلَیِئیْنُ، (بلندی سے ہے یہ عِلَیِئیْنُ کے برعکس، آسمانوں میں یا سدرۃ المُنْتَہٰی یا عرش کے پاس جگہ ہے جہاں نیک لوگوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے محفوظ ہوتے ہیں، جس کے پاس مقرب فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔(18)
وَما أَدرىٰكَ ما عِلِّيّونَ(19)
(19)
كِتٰبٌ مَرقومٌ(20)
(20)
يَشهَدُهُ المُقَرَّبونَ(21)
(21)
إِنَّ الأَبرارَ لَفى نَعيمٍ(22)
(22)
عَلَى الأَرائِكِ يَنظُرونَ(23)
(23)
تَعرِفُ فى وُجوهِهِم نَضرَةَ النَّعيمِ(24)
(24)
يُسقَونَ مِن رَحيقٍ مَختومٍ(25)
(25)
خِتٰمُهُ مِسكٌ ۚ وَفى ذٰلِكَ فَليَتَنافَسِ المُتَنٰفِسونَ(26)
٢٦۔١ یعنی عمل کرنے والو ایسے عملوں میں سبقت کرنی چاہیے جس کے صلے میں جنت اور اس کی نعمتیں حاصل ہوں۔ جیسے فرمایا، (لِمِثلِ ھٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ) (الصافات۔ ٦١)(26)
وَمِزاجُهُ مِن تَسنيمٍ(27)
٢٧۔١ اس میں تسنیم شراب کی امیزش ہوگی جو جنت کے بلائی علاقوں سے ایک چشمے کے ذریعے سے آئے گی۔ یہ جنت کی بہترین اور اعلیٰ شراب ہوگی۔(27)
عَينًا يَشرَبُ بِهَا المُقَرَّبونَ(28)
(28)
إِنَّ الَّذينَ أَجرَموا كانوا مِنَ الَّذينَ ءامَنوا يَضحَكونَ(29)
٢٩۔١ یعنی انہیں حقیر جانتے ہوئے ان کا مذاق اڑاتے تھے۔(29)
وَإِذا مَرّوا بِهِم يَتَغامَزونَ(30)
(30)
وَإِذَا انقَلَبوا إِلىٰ أَهلِهِمُ انقَلَبوا فَكِهينَ(31)
٣١۔١ یعنی اہل ایمان کا ذکر کر کے خوش ہوتے اور دل لگیاں کرتے۔ دوسرا مطلب یہ کہ جب اپنے گھروں میں لو ٹتے تو وہاں خوشحالی اور فراغت ان کا استقبال کرتی اور جو چاہتے وہ انہیں مل جاتا، اس کے باوجود انہوں نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ اہل ایمان کی تحقیر کی اور ان پر حسد کرنے میں ہی مشغول رہے (ابن کثیر)(31)
وَإِذا رَأَوهُم قالوا إِنَّ هٰؤُلاءِ لَضالّونَ(32)
(32)
وَما أُرسِلوا عَلَيهِم حٰفِظينَ(33)
٣٣۔١ یعنی یہ کافر مسلمانوں پر نگران بنا کر تو نہیں بھیجے گئے ہیں کہ ہر وقت مسلمانوں کے اعمال و احوال ہی دیکھتے اور ان پر تبصر کرتے رہیں۔(33)
فَاليَومَ الَّذينَ ءامَنوا مِنَ الكُفّارِ يَضحَكونَ(34)
(34)
عَلَى الأَرائِكِ يَنظُرونَ(35)
(35)
هَل ثُوِّبَ الكُفّارُ ما كانوا يَفعَلونَ(36)
٣٦۔١ کافروں کو، جو کچھ وہ کرتے تھے، اس کا بدلہ دے دیا گیا ہے۔(36)