Al-Munafiqun( المنافقون)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ إِذا جاءَكَ المُنٰفِقونَ قالوا نَشهَدُ إِنَّكَ لَرَسولُ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ يَعلَمُ إِنَّكَ لَرَسولُهُ وَاللَّهُ يَشهَدُ إِنَّ المُنٰفِقينَ لَكٰذِبونَ(1)
١۔١ منافقین سے مراد عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ہیں۔ یہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو قسمیں کھا کھا کر کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ ١۔٢ یہ جملہ معترضہ ہے جو مضمون ماقبل کی تاکید کے لیے ہے جس کا اظہار منافقین بطور منافقت کے کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا یہ تو ویسے ہی زبان سے کہتے ہیں، ان کے دل اس یقین سے خالی ہیں۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ ١۔٣ اس بات میں کہ وہ دل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں، یعنی دل سے گواہی نہیں دیتے صرف زبان سے دھوکا دینے کے لئے اظہار کرتے ہیں۔(1)
اتَّخَذوا أَيمٰنَهُم جُنَّةً فَصَدّوا عَن سَبيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّهُم ساءَ ما كانوا يَعمَلونَ(2)
٢۔١ یعنی وہ قسم کھا کر کہتے ہیں کہ وہ تمہاری طرح مسلمان ہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں انہوں نے اپنی اس قسم کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ اس کے ذریعے سے وہ تم سے بچے رہتے ہیں اور کافروں کی طرح یہ تمہاری تلواروں کی زد میں نہیں آتے۔ ٢۔٢ دوسرا ترجمہ یہ ہے کہ انہوں نے شک و شبہات پیدا کرکے لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا۔(2)
ذٰلِكَ بِأَنَّهُم ءامَنوا ثُمَّ كَفَروا فَطُبِعَ عَلىٰ قُلوبِهِم فَهُم لا يَفقَهونَ(3)
٣۔١ اس سے معلوم ہوا کہ منافقین بھی صریح کافر ہیں۔(3)
۞ وَإِذا رَأَيتَهُم تُعجِبُكَ أَجسامُهُم ۖ وَإِن يَقولوا تَسمَع لِقَولِهِم ۖ كَأَنَّهُم خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ ۖ يَحسَبونَ كُلَّ صَيحَةٍ عَلَيهِم ۚ هُمُ العَدُوُّ فَاحذَرهُم ۚ قٰتَلَهُمُ اللَّهُ ۖ أَنّىٰ يُؤفَكونَ(4)
٤۔١ یعنی ان کے حسن و جمال اور رونق و شادابی کی وجہ سے۔ ٤۔٢ یعنی زبان کی فصاحت و بلاغت کی وجہ سے۔ ٤۔۳ یعنی اپنی درازئی قد اور حسن ورعنائی، عدم فہم ور قلت خیر میں ایسے ہیں گویا کہ دیوار پر لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو تو بھلی لگتی ہے لیکن کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ ٤۔٤ یعنی بزدل ایسے ہیں کہ کوئی زوردار آواز سن لیں تو سمجھتے ہیں کہ ہم پر کوئی آفت نازل ہوگئی یا گھبرا اُٹھتے ہیں کہ ہمارے خلاف کسی کاروائی کا آغاز تونہیں ہو رہا۔(4)
وَإِذا قيلَ لَهُم تَعالَوا يَستَغفِر لَكُم رَسولُ اللَّهِ لَوَّوا رُءوسَهُم وَرَأَيتَهُم يَصُدّونَ وَهُم مُستَكبِرونَ(5)
٥۔١ یعنی استغفار سے اعراض کرتے ہوئے اپنے سروں کو موڑ لیتے ہیں۔ ٥۔٢ یعنی کہنے والے کی بات سے منہ موڑ لیں گے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کرلیں گے۔(5)
سَواءٌ عَلَيهِم أَستَغفَرتَ لَهُم أَم لَم تَستَغفِر لَهُم لَن يَغفِرَ اللَّهُ لَهُم ۚ إِنَّ اللَّهَ لا يَهدِى القَومَ الفٰسِقينَ(6)
٦۔١ اپنے نفاق پر اصرار اور کفر پر قائم رہنے کی وجہ سے وہ ایسے مقام پر پہنچ گئے جہاں استغفار اور عدم استغفار ان کے حق میں برابر ہے۔ ٦۔٢ اگر اسی حالت میں نفاق میں مر گئے۔ ہاں اگر وہ زندگی میں کفر و نفاق سے تائب ہوجائیں تو بات اور ہے، پھر ان کی مغفرت ممکن ہے۔(6)
هُمُ الَّذينَ يَقولونَ لا تُنفِقوا عَلىٰ مَن عِندَ رَسولِ اللَّهِ حَتّىٰ يَنفَضّوا ۗ وَلِلَّهِ خَزائِنُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَلٰكِنَّ المُنٰفِقينَ لا يَفقَهونَ(7)
٧۔١ مطلب یہ کہ مہاجرین کا رازق اللہ تعالٰی ہے اس لئے رزق کے خزانے اسی کے پاس ہیں، وہ جس کو جتنا چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے۔ ٧۔٢ منافق اس حقیقت کو نہیں جانتے، اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ انصار اگر مہاجرین کی طرف دست تعاون دراز نہ کریں تو وہ بھوکے مر جائیں گے۔(7)
يَقولونَ لَئِن رَجَعنا إِلَى المَدينَةِ لَيُخرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنهَا الأَذَلَّ ۚ وَلِلَّهِ العِزَّةُ وَلِرَسولِهِ وَلِلمُؤمِنينَ وَلٰكِنَّ المُنٰفِقينَ لا يَعلَمونَ(8)
٨۔١ اس کا کہنے والا رئیس المنافق عبد اللہ بن ابی تھا، عزت والے سے اس کی مراد تھی، وہ خود اور اس کے رفقاء اور ذلت والے سے (نعوذ باللہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان۔ ۸۔۲ یعنی عزت اور غلبہ صرف ایک اللہ کے لیے ہے اور پھر وہ اپنی طرف سے جس کو چاہے عزت وغلبہ عطا فرمادے۔ ۸۔۳ اس لیے ایسے کام نہیں کرتے جو ان کے لیے مفید ہیں اور ان چیزوں سے نہیں بچتے جو اس کے لیے نقصان دہ ہیں۔(8)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تُلهِكُم أَموٰلُكُم وَلا أَولٰدُكُم عَن ذِكرِ اللَّهِ ۚ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ فَأُولٰئِكَ هُمُ الخٰسِرونَ(9)
٩۔١ یعنی مال اور اولاد کی محبت تم پر غالب آجائے کہ تم اللہ کے بتلائے ہوئے احکام و فرائض سے غافل ہو جاؤ اور اللہ کی قائم کردہ حلال وحرام کی حدوں کی پروا نہ کرو۔(9)
وَأَنفِقوا مِن ما رَزَقنٰكُم مِن قَبلِ أَن يَأتِىَ أَحَدَكُمُ المَوتُ فَيَقولَ رَبِّ لَولا أَخَّرتَنى إِلىٰ أَجَلٍ قَريبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِنَ الصّٰلِحينَ(10)
١٠۔١ خرچ کرنے سے مراد زکوۃ کی ادائیگی اور دیگر امور خیر میں خرچ کرنا ہے۔ ۱۰۔۲ اس سے معلوم ہوا کہ زکواۃ کی ادائیگی اور انفاق فی سبیل اللہ میں اور اسی طرح اگر حج کی استطاعت ہو تو اس کی ادائیگی میں قطعا تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ موت کا کوئی پتہ نہیں کس وقت آجائے؟ اور یہ فرائض اس کے ذمے رہ جائیں۔(10)
وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفسًا إِذا جاءَ أَجَلُها ۚ وَاللَّهُ خَبيرٌ بِما تَعمَلونَ(11)
(11)