Al-Mumtahana( الممتحنة)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذوا عَدُوّى وَعَدُوَّكُم أَولِياءَ تُلقونَ إِلَيهِم بِالمَوَدَّةِ وَقَد كَفَروا بِما جاءَكُم مِنَ الحَقِّ يُخرِجونَ الرَّسولَ وَإِيّاكُم ۙ أَن تُؤمِنوا بِاللَّهِ رَبِّكُم إِن كُنتُم خَرَجتُم جِهٰدًا فى سَبيلى وَابتِغاءَ مَرضاتى ۚ تُسِرّونَ إِلَيهِم بِالمَوَدَّةِ وَأَنا۠ أَعلَمُ بِما أَخفَيتُم وَما أَعلَنتُم ۚ وَمَن يَفعَلهُ مِنكُم فَقَد ضَلَّ سَواءَ السَّبيلِ(1)
۱۔۱ کفار مکہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان حدیبیہ میں جو معاہدہ ہوا تھا اہل مکہ نے اس کی خلاف ورزی کی اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مسلمانوں کو خفیہ طور پر لڑائی کی تیاری کا حکم دے دیا حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ ایک مہاجر بدری صحابی تھے جن کی قریش کے ساتھ کوئی رشتے داری نہیں تھی لیکن ان کے بیوی بچے مکے میں ہی تھے انہوں نے سوچا کہ میں قریش مکہ کو آپ کی تیاری کی اطلاع کردوں تاکہ اس احسان کے بدلے وہ میرے بال بچوں کا خیال رکھیں چنانچہ انہوں نے ایک عورت کے ذریعے سے یہ پیغام تحریری طور پر اہل مکہ کی طرف روانہ کردیا جس کی اطلاع بذریعہ وحی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کر دی گئی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی حضرت مقداد اور حضرت زبیر رضی اللہ عنھم کو فرمایا کہ جاؤ روضہ خاخ پر ایک عورت ہوگی جو مکہ جا رہی ہوگی اس کے پاس ایک رقعہ ہے وہ لے آؤ چنانچہ وہ حضرات گئے اور اس سے یہ رقعہ لے آئے جو اس نے سر کے بالوں میں چھپارکھا تھا آپ نے حضرت حاطب رضی اللہ سے پوچھا یہ تم نے کیا کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ کام کفر وارتداد کی بنا پر نہیں کیا بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ دیگر مہاجرین کے رشتے دار مکے میں موجود ہیں جو ان کے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہیں میرا وہاں کوئی رشتے دار نہیں ہے تو میں نے یہ سوچا کہ میں اہل مکہ کو کچھ اطلاع کردوں تاکہ وہ میرے احسان مند رہیں اور میرے بچوں کی حفاظت کریں آپ نے ان کی سچائی کی وجہ سے انہیں کچھ نہیں کہا تاہم اللہ نے تنبیہ کے طور پپر یہ آیات نازل فرما دیں تاکہ آئندہ کوئی مومن کسی کافر کےساتھ اس طرح کا تعلق مودت قائم نہ کرے صحیح بخاری ۔ ١۔۲ مطلب ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خبریں ان تک پہنچا کر ان سے دوستانہ تعلق قائم کرنا چاہتے ہو؟ ١۔۳ جب ان کا تمہارے ساتھ اور حق کے ساتھ یہ معاملہ ہے تو تمہارے لئے کیا یہ مناسب ہے کہ تم ان سے محبت اور ہمدردی کا رویہ اختیار کرو؟ ١۔٤ یہ جواب شرط، جو محذوف ہے، کا ترجمہ ہے۔ ١۔۵ یعنی میرے اور اپنے دشمنوں سے محبت کا تعلق جوڑنا اور انہیں خفیہ نام و پیام بھیجنا، یہ گمراہی کا راستہ ہے، جو کسی مسلمان کے شایان شان نہیں۔(1)
إِن يَثقَفوكُم يَكونوا لَكُم أَعداءً وَيَبسُطوا إِلَيكُم أَيدِيَهُم وَأَلسِنَتَهُم بِالسّوءِ وَوَدّوا لَو تَكفُرونَ(2)
٢۔١ یعنی تمہارے خلاف ان کے دلوں میں تو اس طرح بغض و عناد ہے اور تم ہو کہ ان کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہو۔(2)
لَن تَنفَعَكُم أَرحامُكُم وَلا أَولٰدُكُم ۚ يَومَ القِيٰمَةِ يَفصِلُ بَينَكُم ۚ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ(3)
٣۔١ یعنی جس اولاد کے لئے تم کفار کے ساتھ محبت کا اظہار کر رہے ہو، یہ تمہارے کچھ کام نہ آئے گی، پھر اس کی وجہ سے تم کافروں سے دوستی کرکے کیوں اللہ کو ناراض کرتے ہو۔ قیامت والے دن جو چیز کام آئے گی، وہ تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے، اس کا اہتمام کرو۔ ٣۔٢ دوسرے معنی ہیں تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ یعنی اہل اطاعت کو جنت میں اور اہل معصیت کو جہنم میں داخل کرے گا، بعض کہتے ہیں آپس میں جدائی کا مطلب کہ ایک دوسرے سے بھا گیں گے۔(3)
قَد كانَت لَكُم أُسوَةٌ حَسَنَةٌ فى إِبرٰهيمَ وَالَّذينَ مَعَهُ إِذ قالوا لِقَومِهِم إِنّا بُرَءٰؤُا۟ مِنكُم وَمِمّا تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ كَفَرنا بِكُم وَبَدا بَينَنا وَبَينَكُمُ العَدٰوَةُ وَالبَغضاءُ أَبَدًا حَتّىٰ تُؤمِنوا بِاللَّهِ وَحدَهُ إِلّا قَولَ إِبرٰهيمَ لِأَبيهِ لَأَستَغفِرَنَّ لَكَ وَما أَملِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَيءٍ ۖ رَبَّنا عَلَيكَ تَوَكَّلنا وَإِلَيكَ أَنَبنا وَإِلَيكَ المَصيرُ(4)
٤۔١کفار سے عدم اتحاد کے مسئلے کی وضاحت کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال دی جا رہی ہے کہ ایسا نمونہ جس کی پیروی کی جائے ٤۔٢ یعنی شرک کی وجہ سے ہمارا اور تمہارا کوئی تعلق نہیں، اللہ کے پرستاروں کا بھلا غیر اللہ کے پجاریوں سے کیا تعلق۔ ٤۔٣ یعنی علیحدگی اور بیزاری اس وقت تک رہے گی جب تک کفر و شرک چھوڑ کر توحید کو نہیں اپنالو گے۔ ٤۔٤ مطلب یہ حضرت ابراہیم کی پوری زندگی ایک قابل تقلید نمونہ ہے، البتہ ان کے باپ کے لئے مغفرت کی دعا کرنا ایک ایسا عمل ہے جس میں ان کی پیروی نہیں کرنی چاہیئے، کیونکہ ان کا یہ فعل اس وقت ہے جب ان کو اپنے باپ کی بابت علم نہیں تھا، چنانچہ جب ان پر واضح ہوگیا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے اپنے باپ سے بھی اظہار نجات کر دیا، جیسا کہ سورہ براء ت۔ ١١٤ میں ہے۔ ٤۔۵ توکل کا مطلب ہے امکانی حد تک ظاہری اسباب ووسائل اختیار کرنے کے بعد معاملہ اللہ کے سپرد کردیا جائے یہ ہے اس لیے توکل کا یہ مفہوم بھی غلط ہوگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اونٹ کو باہر کھڑا کرکے اندر آگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تو کہا میں اونٹ اللہ کے سپرد کر آیا ہوں آپ نے فرمایا یہ توکل نہیں ہے۔ اعقل وتوکل۔ پہلے اسے کسی چیز سے باندھ پھر اللہ پر بھروسہ کر۔ ترمذی۔ انابت کا مطلب ہے اللہ کی طرف رجوغ کرنا(4)
رَبَّنا لا تَجعَلنا فِتنَةً لِلَّذينَ كَفَروا وَاغفِر لَنا رَبَّنا ۖ إِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الحَكيمُ(5)
۵۔۱ یعنی کافروں کو ہم پر غلبہ وتسلط عطا نہ فرما اس طرح وہ سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور یوں ہم ان کے لیے فتنے کا باعث بن جائیں گے یا یہ مطلب ہے کہ ان کے ہاتھوں یا اپنی طرف سے ہمیں کسی سزا سے دو چار نہ کرنا اس طرح بھی ہمارا وجود ان کے لیے فتنہ بن جائے گا وہ کہیں گے کہ اگر یہ حق پر ہوتے تو ان کو یہ تکلیف کیوں پہنچتی؟(5)
لَقَد كانَ لَكُم فيهِم أُسوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كانَ يَرجُوا اللَّهَ وَاليَومَ الءاخِرَ ۚ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الغَنِىُّ الحَميدُ(6)
٦۔١ یعنی ابراہیم علیہ السلام کے اور ان کے ساتھی اہل ایمان میں۔ یہ تکرار تاکید کے لئے ہے۔ ٦۔٢ کیونکہ ایسے ہی لوگ اللہ سے اور عذاب آخرت سے ڈرتے ہیں، یہی لوگ حالات و واقعات سے عبرت پکڑتے اور نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ ٦ ۔۳ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوے کو اپنانے سے گریز کرے ۔(6)
۞ عَسَى اللَّهُ أَن يَجعَلَ بَينَكُم وَبَينَ الَّذينَ عادَيتُم مِنهُم مَوَدَّةً ۚ وَاللَّهُ قَديرٌ ۚ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ(7)
٧۔١ یعنی ان کو مسلمان کرکے تمہارا بھائی اور ساتھی بنا دے، جس سے تمہارے مابین عداوت، دوستی اور محبت میں تبدیل ہو جائے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، فتح مکہ کے بعد لوگ فوج در فوج مسلمان ہونا شروع ہوگئے اور ان کے مسلمان ہوتے ہی نفرتیں، محبت میں تبدیل ہوگئیں، جو مسلمانوں کے خون کے پیاسے تھے، وہ دست و بازو بن گئے۔(7)
لا يَنهىٰكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذينَ لَم يُقٰتِلوكُم فِى الدّينِ وَلَم يُخرِجوكُم مِن دِيٰرِكُم أَن تَبَرّوهُم وَتُقسِطوا إِلَيهِم ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُقسِطينَ(8)
٨۔١ یہ ان کافروں کے بارے میں ہدایت دی جا رہی ہے جو مسلمانوں سے محض دین السلام کی وجہ سے بغض و عداوت نہیں رکھتے اور اس بنیاد پر مسلمانوں سے نہیں لڑتے، یہ پہلی شرط ہے ۔ ٨۔٢ یعنی تمہارے ساتھ ایسا رویہ بھی اختیار نہیں کیا کہ تم ہجرت پر مجبور ہو جاؤ، یہ دوسری شرط ہے۔ ایک تیسری شرط یہ ہے جو اگلی آیت سے واضح ہوتی ہے، کہ وہ مسلمانوں کے خلاف دوسرے کافروں کو کسی قسم کی مدد بھی نہ پہنچائیں مشورے اور رائے سے اور نہ ہتھیار وغیرہ کے ذریعے سے۔ ۸۔۳ یعنی ایسے کافروں سے احسان اور انصاف کا معاملہ کرنا ممنوع نہیں ہے جیسے حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی مشرکہ ماں کی بابت صلہ رحمی یعنی حسن سلوک کرنے کا پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :صلی امک۔ صحیح مسلم۔ اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو ۔ ۸۔٤ اس میں انصاف کرنے کی ترغیب ہے حتی کہ کافروں کے ساتھ بھی حدیث میں انصاف کرنے والوں کی فضیلت یوں بیان ہوئی ہے۔ ان المقسطین عند اللہ علی منبر من نور عن یمین الرحمن عز وجل وکلتا یدیہ یمین الذین یعدلون فی حکمھم واھلیھم وماولوا۔صحیح مسلم کتاب الامارہ۔ انصاف کرنے والے نور کے منبروں پر ہوں گے جو رحمن کے دائیں جانب ہوں گے اور رحمن کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں جو اپنے فیصلوں میں اپنے اہل میں اور اپنی رعایا میں انصاف کا اہتمام کرتے ہیں۔(8)
إِنَّما يَنهىٰكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذينَ قٰتَلوكُم فِى الدّينِ وَأَخرَجوكُم مِن دِيٰرِكُم وَظٰهَروا عَلىٰ إِخراجِكُم أَن تَوَلَّوهُم ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم فَأُولٰئِكَ هُمُ الظّٰلِمونَ(9)
٩۔١ یعنی ارشاد الٰہی اور امر ربانی سے اعراض کرتے ہوئے۔ ٩۔٢ کیوں کہ انہوں نے ایسے لوگوں سے محبت کی ہے جو محبت کے اہل نہیں تھے، یوں انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انہیں اللہ کے عذاب کے لئے پیش کر دیا۔(9)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا جاءَكُمُ المُؤمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامتَحِنوهُنَّ ۖ اللَّهُ أَعلَمُ بِإيمٰنِهِنَّ ۖ فَإِن عَلِمتُموهُنَّ مُؤمِنٰتٍ فَلا تَرجِعوهُنَّ إِلَى الكُفّارِ ۖ لا هُنَّ حِلٌّ لَهُم وَلا هُم يَحِلّونَ لَهُنَّ ۖ وَءاتوهُم ما أَنفَقوا ۚ وَلا جُناحَ عَلَيكُم أَن تَنكِحوهُنَّ إِذا ءاتَيتُموهُنَّ أُجورَهُنَّ ۚ وَلا تُمسِكوا بِعِصَمِ الكَوافِرِ وَسـَٔلوا ما أَنفَقتُم وَليَسـَٔلوا ما أَنفَقوا ۚ ذٰلِكُم حُكمُ اللَّهِ ۖ يَحكُمُ بَينَكُم ۚ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ(10)
۱۰۔۱ معاہدہ حدیبیہ میں ایک شق یہ تھی کہ مکے سے کوئی مسلمانوں کے پاس چلا جائے گا تو اس کو واپس کرنا پڑے گا لیکن اس میں مرد وعورت کی صراحت نہیں تھی بظاہر کوئی احد میں دونوں ہی شامل تھے چنانچہ بعد میں بعض عورتیں مکے سے ہجرت کرکے مسلمانوں کے پاس چلی گئیں تو کفار نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا جس پر اللہ نے اس آیت میں مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی اور یہ حکم دیا امتحان لینے کا مطلب ہے اس امر کی تحقیق کرو کہ ہجرت کر کے آنے والی عورت جو ایمان کا اظہار کر رہی ہے اپنے کافر خاوند سے ناراض ہو کر یا کسی مسلمان کے عشق میں یا کسی اور غرض سے تو نہیں آئی ہے اور صرف یہاں پناہ لینے کی خاطر ایمان کا دعوی کر رہی ہے۔ ١٠۔۲ یعنی تم اپنی تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچو اور تمہیں گمان غالب حاصل ہو جائے کہ یہ واقعی مومنہ ہیں۔ ۱۰۔۳ یہ انہیں ان کے کافر خاوندوں کے پاس واپس نہ کرنے کی علت ہے کہ اب کوئی مومن عورت کسی کافر کے لیے حلال نہیں جیسا کہ ابتدائے اسلام میں یہ جائز تھا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح ابو العاص ابن ربیع کے ساتھ ہوا تھا جب کہ وہ مسلمان نہیں تھے لیکن اس آیت نے آئندہ کے لیے ایسا کرنے سے منع کردیا اسی لیے یہاں فرمایا گیا کہ وہ ایک دوسرے کے لیے حلال نہیں اس لیے انہیں کافروں کے پاس مت لوٹاؤ ہاں اگر شوہر بھی مسلمان ہو جائے تو پھر ان کا نکاح برقرار رہ سکتا ہے چاہے خاوند عورت کے بعد ہجرت کر کے آئے ۔ ١٠۔٤ یعنی ان کے کافر خاوندوں نے ان کو جو مہر ادا کیا ہے، وہ تم انہیں ادا کردو۔ ۱۰۔۵ یہ مسلمانوں کو کہا جا رہا ہے کہ یہ عورتیں جو ایمان کی خاطر اپنے کافر خاوندوں کو چھوڑ کر تمہارے پاس آگئی ہیں تم ان سے نکاح کرسکتے ہو بشرطیکہ ان کا حق مہر تم ادا کرو تاہم یہ نکاح مسنون طریقے سے ہی ہوگا یعنی ایک تو انقضائے عدت (استبراء رحم) کے بعد ہوگا دوسرے اس میں ولی کی اجازت اور دو عادل گواہوں کی موجودگی بھی ضروری ہے البتہ عورت مدخول بہا نہیں ہے تو پھر بلا عدت فوری نکاح جائز ہے ۱۰۔ ٦  عصم عصمۃ کی جمع ہے یہاں اس سے مراد عصمت عقد نکاح ہے مطلب یہ ہے کہ اگر خاوند مسلمان ہو جائے اور بیوی بدستور کافر اور مشرک رہے تو ایسی مشرک عورت کو اپنے نکاح میں رکھنا جائز نہیں ہے اسے فورا طلاق دے کر اپنے سے علیحدہ کردیا جائے چنانچہ اس حکم کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دو مشرک بیویوں کو اور حضرت طلحہ ابن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ابن کثیر۔ البتہ اگر بیوی کتابیہ ہو تو اسے طلاق دینا ضروری نہیں ہے کیونکہ ان سے نکاح جائز ہے اس لیے اگر وہ پہلے سے ہی بیوی کی حثییت سے تمہارے پاس موجود ہے تو قبول اسلام کے بعد اسے علیحدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ١٠۔۷ یعنی ان عورتوں پر جو کفر پر برقرا رہنے کی وجہ سے کافروں کے پاس چلی گئی ہیں ١٠۔۸ یعنی ان عورتوں پر جو مسلمان ہو کر ہجرت کرکے مدینے آگئی ہیں۔ ۱۰۔۹ یعنی یہ حکم مذکور کہ دونوں ایک دوسرے کو حق مہر ادا کریں بلکہ مانگ کرلیں اللہ کا حکم ہے امام قرطبی فرماتے ہیں کہ یہ حکم اس دور کے ساتھ ہی خاص تھا اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے فتح القدیر۔ اس کی وجہ وہ معاہدہ ہے جو اس وقت فریقین کے درمیان تھا اس قسم کے معاہدے کی صورت میں آئندہ بھی اس پر عمل کرنا ضروری ہوگا بصورت دیگر نہیں ۔(10)
وَإِن فاتَكُم شَيءٌ مِن أَزوٰجِكُم إِلَى الكُفّارِ فَعاقَبتُم فَـٔاتُوا الَّذينَ ذَهَبَت أَزوٰجُهُم مِثلَ ما أَنفَقوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذى أَنتُم بِهِ مُؤمِنونَ(11)
١١۔١ فعاقبتم ۔ پس تم سزا دو یا بدلہ لو۔ کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ مسلمان ہو کر آنے والی عورتوں کے حق مہر، جو تمہیں ان کے کافر شوہروں کو ادا کرنے تھے، وہ تم ان مسلمانوں کو دے دو، جن کی عورتیں کافر ہونے کی وجہ سے کافروں کے پاس چلی گئی ہیں اور انہوں نے مسلمانوں کو مہر ادا نہیں کیا (یعنی یہ بھی سزا کی ایک صورت ہے) دوسرا مفہوم یہ ہے کہ تم کافروں سے جہاد کرو اور جو مال غنیمت حاصل ہو اس میں تقسیم سے پہلے ان مسلمانوں کو، جن کی بیویاں دارالکفر چلی گئی ہیں، ان کے خرچ کے بقدر ادا کردو، گویا مال غنیمت سے مسلمانوں کے نقصان کا (ازالہ) یہ بھی سزا ہے (ایسر التفاسیر و ابن کثیر) اگر مال غنیمت سے بھی ازالہ کی صورت نہ ہو تو بیت المال سے تعاون کیا جائے۔(11)
يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ إِذا جاءَكَ المُؤمِنٰتُ يُبايِعنَكَ عَلىٰ أَن لا يُشرِكنَ بِاللَّهِ شَيـًٔا وَلا يَسرِقنَ وَلا يَزنينَ وَلا يَقتُلنَ أَولٰدَهُنَّ وَلا يَأتينَ بِبُهتٰنٍ يَفتَرينَهُ بَينَ أَيديهِنَّ وَأَرجُلِهِنَّ وَلا يَعصينَكَ فى مَعروفٍ ۙ فَبايِعهُنَّ وَاستَغفِر لَهُنَّ اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ(12)
۱۲۔۱ یہ بیعت اس وقت لیتے جب عورتیں ہجرت کرکے آتیں جیسا کہ صحیح بخاری تفسیر سورہ ممتحنہ میں ہے علاوہ ازیں فتح مکہ والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی عورتوں سے بیعت لی بیعت لیتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف زبان سے عہد لیتے کسی عورت کے ہاتھ کو آپ نہیں چھوتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اللہ کی قسم بیعت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا بیعت کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف یہ فرماتے کہ میں نے ان باتوں پر تجھ سے بیعت لے لی ۔صحیح بخاری۔ بیعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ عہد بھی عورتوں سے لیتے تھے کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی گریبان چاک نہیں کریں گی سر کے بال نہیں نوچیں گی اور جاہلیت کی طرح بین نہیں کریں گی ۔صحیح بخاری۔ اس بیعت میں نماز روزہ حج اور زکوۃ وغیرہ کا ذکر نہیں ہے اس لیے کہ یہ ارکان دین اور شعائراسلام ہونے کے اعتبار سے محتاج وضاحت نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص ان چیزوں کی بیعت لی جن کا عام ارتکاب عورتوں سے ہوتا تھا تاکہ وہ ارکان دین کی پابندی کے ساتھ ان چیزوں سے بھی اجتناب کریں اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ علماودعاۃ اور واعظین حضرات اپنا زور خطابت ارکان دین کے بیان کرنے میں ہی صرف نہ کریں جو پہلے ہی واضح ہیں بلکہ ان خرابیوں اور رسموں کی بھی پر زور انداز میں تردید کیا کریں جو معاشرے میں عام ہیں اور نماز روزے کے پابند حضرات بھی ان سے اجتناب نہیں کرتے۔(12)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَوَلَّوا قَومًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِم قَد يَئِسوا مِنَ الءاخِرَةِ كَما يَئِسَ الكُفّارُ مِن أَصحٰبِ القُبورِ(13)
١٣۔١ اس سے بعض یہود، بعض منافقین اور بعض نے تمام کافر مراد لئے ہیں۔ یہ آخری قول ہی زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اس میں یہود و منافقین بھی آجاتے ہیں، علاوہ ازیں سارے کفار ہی غضب الٰہی کے مستحق ہیں، اس لئے مطلب یہ ہوگا کہ کسی بھی کافر سے دوستانہ تعلق مت رکھو، جیسا کہ یہ مضمون قرآن میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے۔ ١٣۔٢ آخرت سے مایوس ہونے کا مطلب، قیامت کے برپا ہونے سے انکار ہے۔ ایک دوسرے معنی اس کے یہ کئے گئے ہیں کہ قبروں میں مدفون کافر، ہر قسم کی خیر سے مایوس ہوگئے۔ کیوں کہ مر کر انہوں نے اپنے کفر کا انجام دیکھ لیا، اب وہ خیر کی کیا توقع کر سکتے ہیں (ابن جریر طبری)۔(13)