Al-Ma'arij( المعارج)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ سَأَلَ سائِلٌ بِعَذابٍ واقِعٍ(1)
١۔١ کہتے ہیں نضر بن حارث تھا یا ابوجہل تھا جس نے کہا تھا (اللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ) (الاَنفا ل،٣٢) چنانچہ یہ شخص جنگ بدر میں مارا گیا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ جنہوں نے اپنی قوم کے لئے بد دعا کی تھی اور اس کے نتیجے میں اہل مکہ پر قحط سالی مسلط کی گئی تھی۔(1)
لِلكٰفِرينَ لَيسَ لَهُ دافِعٌ(2)
(2)
مِنَ اللَّهِ ذِى المَعارِجِ(3)
٣۔١ یا درجات والا، بلندیوں والا ہے، جس کی طرف فرشتے چڑھتے ہیں۔(3)
تَعرُجُ المَلٰئِكَةُ وَالرّوحُ إِلَيهِ فى يَومٍ كانَ مِقدارُهُ خَمسينَ أَلفَ سَنَةٍ(4)
٤۔١ روح سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں، ان کی عظمت شان کے پیش نظر ان کا الگ خصوصی ذکر کیا گیا ہے ورنہ فرشتوں میں وہ بھی شامل ہیں۔ یا روح سے مراد انسانی روحیں ہیں جو مرنے کے بعد آسمان پر لے جاتی ہیں جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔ اس یوم کی تعریف میں بہت اختلاف ہے جیسا کہ الم سجدہ کے آغاز میں ہم بیان کرآئے ہیں۔(4)
فَاصبِر صَبرًا جَميلًا(5)
(5)
إِنَّهُم يَرَونَهُ بَعيدًا(6)
(6)
وَنَرىٰهُ قَريبًا(7)
٧۔١ دور سے مراد ناممکن اور قریب سے اس کا یقینی واقع ہونا ہے۔ یعنی کافر قیامت کو ناممکن سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ ضرور آکر رہے گی۔(7)
يَومَ تَكونُ السَّماءُ كَالمُهلِ(8)
(8)
وَتَكونُ الجِبالُ كَالعِهنِ(9)
٩۔١ یعنی دھنی ہوئی روئی کی طرح، جیسے سورہ القارعۃ میں ہے۔(9)
وَلا يَسـَٔلُ حَميمٌ حَميمًا(10)
(10)
يُبَصَّرونَهُم ۚ يَوَدُّ المُجرِمُ لَو يَفتَدى مِن عَذابِ يَومِئِذٍ بِبَنيهِ(11)
١١۔١ لیکن سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی، اس لئے تعارف اور شناخت کے باوجود ایک دوسرے کو نہیں پوچھیں گے(11)
وَصٰحِبَتِهِ وَأَخيهِ(12)
(12)
وَفَصيلَتِهِ الَّتى تُـٔويهِ(13)
(13)
وَمَن فِى الأَرضِ جَميعًا ثُمَّ يُنجيهِ(14)
١٤۔١ یعنی اولاد، بیوی، بھائی اور خاندان یہ ساری چیزیں انسان کو نہایت عزیز ہوتی ہیں، لیکن قیامت والے دن مجرم چاہے گا کہ اس سے فدیے میں یہ عزیز چیزیں قبول کر لی جائیں اور اسے چھوڑ دیا جائے۔(14)
كَلّا ۖ إِنَّها لَظىٰ(15)
١٥۔١ یعنی وہ جہنم، یہ اس کی شدت حرارت کا بیان ہے۔(15)
نَزّاعَةً لِلشَّوىٰ(16)
١٦۔١ یعنی گوشت اور کھال کو جلا کر رکھ دے گی۔ انسان صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا۔(16)
تَدعوا مَن أَدبَرَ وَتَوَلّىٰ(17)
(17)
وَجَمَعَ فَأَوعىٰ(18)
١٨۔١ یعنی دنیا میں حق سے پیٹھ پھیرتا اور منہ موڑتا تھا اور مال جمع کرکے خزانوں میں سنبھال سنبھال کر رکھتا تھا، اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا تھا نہ اس میں سے زکوۃ نکالتا تھا۔ اللہ تعالٰی جہنم کو قوت گویائی عطا فرمائے گا اور جہنم بزبان قال خود ایسے لوگوں کو پکارے گی، بعض کہتے ہیں، پکارنے والے فرشتے ہی ہونگے اسے منسوب جہنم کی طرف کر دیا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کوئی نہیں پکارے گا، یہ صرف تمثیل کے طور پر ایسا کہا گیا ہے۔ مطلب ہے کہ مذکورہ افراد کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔(18)
۞ إِنَّ الإِنسٰنَ خُلِقَ هَلوعًا(19)
١٩۔١ سخت حریص اور بہت جزع فزع کرنے والے کو ھلوع کہا جاتا ہے۔ جس کو ترجمے میں انسان کچے دل والا سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ ایسا شخص ہی بخیل و حریص اور زیادہ گریہ جاری کرنے والا ہوتا ہے۔(19)
إِذا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزوعًا(20)
(20)
وَإِذا مَسَّهُ الخَيرُ مَنوعًا(21)
(21)
إِلَّا المُصَلّينَ(22)
(22)
الَّذينَ هُم عَلىٰ صَلاتِهِم دائِمونَ(23)
۲۳۔۱مراد ہیں مومن کامل اور اہل توحید، ان کے اندر مذکورہ اخلاقی کمزوریاں نہیں ہوتیں بلکہ اس کے برعکس وہ صفات محمودہ کے پیکر ہوتے ہیں۔ ہمیشہ نماز پڑھنے کا مطلب ہے کہ نماز میں کوتاہی نہیں کرتے ہر نماز اپنے وقت پر نہایت پابندی اور التزام سے پڑھ لیتے ہیں۔ کوئی مشغولیت انہیں نماز سے نہیں روکتی اور دنیا کا کوئی فائدہ انہیں نماز سے غافل نہیں کرتا۔(23)
وَالَّذينَ فى أَموٰلِهِم حَقٌّ مَعلومٌ(24)
٢٤۔١ یعنی زکوۃ مفروضۃ، بعض کے نزدیک یہ عام ہے، صدقات واجبہ اور نافلہ دونوں اس میں شامل ہیں۔(24)
لِلسّائِلِ وَالمَحرومِ(25)
۲۵۔۱محروم میں وہ شخص بھی داخل ہے جو رزق سے ہی محروم ہے وہ بھی جو کسی آفت سماوی وارضی کی زد میں آکر اپنی پونجی سے محروم ہوگیا اور وہ بھی جو ضرورت مند ہونے کے باوجود اپنی صفت تعفف کی وجہ سے لوگوں کی عطا اور صدقات سے محروم رہتا ہے۔(25)
وَالَّذينَ يُصَدِّقونَ بِيَومِ الدّينِ(26)
۲ ٦ ۔۱یعنی وہ اس کا انکار کرتے ہیں نہ اس میں شک وشبہ کا اظہار۔(26)
وَالَّذينَ هُم مِن عَذابِ رَبِّهِم مُشفِقونَ(27)
۲۷۔۱یعنی اطاعت اور اعمال صالحہ کے باوجود اللہ کی عظمت وجلالت کے پیش نظر اس کی گرفت سے لرزاں وترساں رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ جب تک اللہ کی رحمت ہمیں اپنے دامن میں نہیں ڈھانک لے گی ہمارے یہ اعمال نجات کے لیے کافی نہیں ہوں گے جیسا کہ اس مفہوم کی حدیث پہلے گزر چکی ہے۔(27)
إِنَّ عَذابَ رَبِّهِم غَيرُ مَأمونٍ(28)
۲۸۔۱یہ سابقہ مضمون ہی کی تاکید ہے کہ اللہ کے عذاب سے کسی کو بھی بے خوف نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر وقت اس سے ڈرتے رہنا اور اس سے بچاؤ کی ممکنہ تدابیر اختیار کرتے رہنا چاہیے۔(28)
وَالَّذينَ هُم لِفُروجِهِم حٰفِظونَ(29)
(29)
إِلّا عَلىٰ أَزوٰجِهِم أَو ما مَلَكَت أَيمٰنُهُم فَإِنَّهُم غَيرُ مَلومينَ(30)
٣٠۔١ یعنی انسان کے جنسی تسکین کے لئے اللہ نے دو جائز ذرائع رکھے ہیں ایک بیوی اور دوسری (لونڈی) بہرحال اہل ایمان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ جنسی خواہش کی تکمیل و تسکین کے لئے ناجائز ذریعہ اختیار نہیں کرتے۔(30)
فَمَنِ ابتَغىٰ وَراءَ ذٰلِكَ فَأُولٰئِكَ هُمُ العادونَ(31)
(31)
وَالَّذينَ هُم لِأَمٰنٰتِهِم وَعَهدِهِم رٰعونَ(32)
۳۲۔۱یعنی ان کے پاس جو لوگوں کی امانتیں ہیں اس میں وہ خیانت نہیں کرتے اور لوگوں سے جو عہد کرتے ہیں انہیں توڑتے نہیں بلکہ ان کی پاسداری کرتے ہیں۔(32)
وَالَّذينَ هُم بِشَهٰدٰتِهِم قائِمونَ(33)
۳۳۔۱یعنی اسے صحیح صحیح ادا کرتے ہیں چاہے اس کی زد میں ان کے قریبی عزیز ہی آجائیں علاوہ ازیں اسے چھپاتے بھی نہیں، نہ اس میں تبدیلی ہی کرتے ہیں۔(33)
وَالَّذينَ هُم عَلىٰ صَلاتِهِم يُحافِظونَ(34)
(34)
أُولٰئِكَ فى جَنّٰتٍ مُكرَمونَ(35)
(35)
فَمالِ الَّذينَ كَفَروا قِبَلَكَ مُهطِعينَ(36)
(36)
عَنِ اليَمينِ وَعَنِ الشِّمالِ عِزينَ(37)
٣٧۔١ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار کا ذکر ہے کہ وہ آپ کی مجلس میں دوڑتے دوڑتے آتے، لیکن آپ کی باتیں سن کر عمل کرنے کی بجائے ان کا مذاق اڑاتے اور ٹولیوں میں بٹ جاتے۔ اور دعویٰ یہ کرتے کہ اگر مسلمان جنت میں گئے تو ہم ان سے پہلے جنت میں جائیں گے۔ اللہ نے اگلی آیت میں ان کے اس زعم باطل کی تردید فرمائی۔(37)
أَيَطمَعُ كُلُّ امرِئٍ مِنهُم أَن يُدخَلَ جَنَّةَ نَعيمٍ(38)
(38)
كَلّا ۖ إِنّا خَلَقنٰهُم مِمّا يَعلَمونَ(39)
٣٩۔١ایسا کیسا ممکن ہے کہ مومن اور کافر دونوں جنت میں جائیں رسول کو ماننے والے اور اس کی تکذیب کرنے والے دونوں کو اخروی نعمتیں ملیں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ یعنی (حقیر قطرے) سے۔ جب یہ بات ہے تو کیا تکبر اس انسان کو زیب دیتا ہے؟ جس تکبر کی وجہ سے ہی یہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب بھی کرتا ہے۔(39)
فَلا أُقسِمُ بِرَبِّ المَشٰرِقِ وَالمَغٰرِبِ إِنّا لَقٰدِرونَ(40)
٤٠۔١ تفصیل کے لئے سورہ صافا ت۔ ٥ دیکھئے۔(40)
عَلىٰ أَن نُبَدِّلَ خَيرًا مِنهُم وَما نَحنُ بِمَسبوقينَ(41)
٤١۔١ یعنی ان کو ختم کرکے ایک نئی مخلوق آباد کر دینے پر ہم پوری طرح قادر ہیں۔ جب ایسا ہے تو کیا ہم قیامت والے دن ان کو دوبارہ نہیں اٹھا سکیں گے۔(41)
فَذَرهُم يَخوضوا وَيَلعَبوا حَتّىٰ يُلٰقوا يَومَهُمُ الَّذى يوعَدونَ(42)
٤۲۔۱یعنی فضول اور لایعنی بحثوں میں پھنسے اور اپنی دنیا میں مگن رہیں تاہم آپ اپنی تبلیغ کا کام جاری رکھیں ان کا رویہ آپ کو اپنے منصب سے غافل یا بد دل نہ کر دے۔(42)
يَومَ يَخرُجونَ مِنَ الأَجداثِ سِراعًا كَأَنَّهُم إِلىٰ نُصُبٍ يوفِضونَ(43)
٤۳۔۱جدث کے معنی ہیں قبر۔ جہاں بتوں کے نام پر جانور ذبح کیے جاتے ہیں اور بتوں کے معنی میں بھی استعمال ہے۔ بتوں کے پجاری جب سورج طلوع ہوتا تھا تو نہایت تیزی سے اپنے بتوں کی طرف دوڑتے کہ کون پہلے اسے بوسہ دیتا ہے۔ اسی طرح قیامت والے دن اپنی قبروں سے برق رفتاری سے نکلیں گے۔(43)
خٰشِعَةً أَبصٰرُهُم تَرهَقُهُم ذِلَّةٌ ۚ ذٰلِكَ اليَومُ الَّذى كانوا يوعَدونَ(44)
٤٤۔١ جس طرح مجرموں کی آنکھیں جھکی ہوتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے کرتوتوں کا علم ہوتا ہے۔ ٤٤۔٢ یعنی سخت ذلت انہیں اپنی لپیٹ میں لے رہی ہوگی اور ان کے چہرے مارے خوف کے سیاہ ہوں گے۔ ٤٤۔٣ یعنی رسولوں کی زبانی اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے۔(44)