Al-Lail( الليل)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ وَالَّيلِ إِذا يَغشىٰ(1)
۱۔۱یعنی افق پر چھا جائے جس سے دن کی روشنی ختم اور اندھیرا ہو جائے۔(1)
وَالنَّهارِ إِذا تَجَلّىٰ(2)
۲۔۱۔ یعنی رات کا اندھیرا ختم ہو جائے اور دن کو اجالا پھیل جائے۔(2)
وَما خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأُنثىٰ(3)
٣۔١ یہ اللہ نے اپنی قسم کھائی ہے، کیونکہ مرد عورت دونوں کا خالق اللہ ہی ہے(3)
إِنَّ سَعيَكُم لَشَتّىٰ(4)
٤۔١ یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔ یہ جواب قسم ہے۔(4)
فَأَمّا مَن أَعطىٰ وَاتَّقىٰ(5)
۵۔۱یعنی خیر کے کاموں میں خرچ کرے گا اور محارم سے بچے گا۔(5)
وَصَدَّقَ بِالحُسنىٰ(6)
٦۔۱یا اچھے صلے کی تصدیق کرے گا، یعنی اس بات پر یقین رکھے گا کہ انفاق اور تقوی اللہ کی طرف سے عمدہ صلہ ملے گا۔(6)
فَسَنُيَسِّرُهُ لِليُسرىٰ(7)
۷۔۲یعنی ہم بھی اس کو اس سے نیکی اور اطاعت کی توفیق دیتے اور ان کو اس کے لیے آسان کر دیتے ہیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے چھ غلام آزاد کیے، جنہیں اہل مکہ مسلمان ہونے کی وجہ سے سخت اذیت دیتے تھے۔ (فتح القدیر)(7)
وَأَمّا مَن بَخِلَ وَاستَغنىٰ(8)
۸۔۱یعنی اللہ کے راہ میں خرچ نہیں کرے گا اور اللہ کے حکم سے بے پرواہی کرے گا۔(8)
وَكَذَّبَ بِالحُسنىٰ(9)
۹۔۱یا آخرت کی جزاء وسزا اور حساب وکتاب کا انکار کرے گا۔(9)
فَسَنُيَسِّرُهُ لِلعُسرىٰ(10)
۱۰۔۱تنگی سے مراد کفر ومعصیت اور طریق شر ہے، یعنی ہم اس کے لیے نافرمانی کا راستہ آسان کر دیں گے، جس سے اس کے لیے خیر وسعادت کے راستے مشکل ہو جائیں گے، قرآن مجید میں یہ مضمون کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ جو خیر و رشد کا راستہ اپناتا ہے اس کے صلے میں اللہ اسے خیر و توفیق سے نوازتا ہے اور جو شر و معصیت کو اختیار کرتا ہے اللہ اس کو اس کے حال پر چھوڑتا ہے یہ اس کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے جو اللہ نے اپنے علم سے لکھ رکھی ہے۔ (ابن کثیر)(10)
وَما يُغنى عَنهُ مالُهُ إِذا تَرَدّىٰ(11)
۱۱۔۱یعنی جب جہنم میں گرے گا تو یہ مال جسے وہ خرچ نہیں کرتا تھا، کچھ کام نہ آئے گا۔(11)
إِنَّ عَلَينا لَلهُدىٰ(12)
۱۲۔۱یعنی حلال اور حرام، خیر و شر، ہدایت وضلالت کو واضح اور بیان کرنا ہمارے ذمے ہے۔ (جو کہ ہم نے کر دیا)(12)
وَإِنَّ لَنا لَلءاخِرَةَ وَالأولىٰ(13)
١٣۔١ یعنی دونوں کے مالک ہم ہی ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں اس لئے ان دونوں کے یا ان میں سے کسی ایک کے طالب ہم سے ہی مانگیں کیونکہ ہر طالب کو ہم اپنی مشیت کے مطابق دیتے ہیں۔(13)
فَأَنذَرتُكُم نارًا تَلَظّىٰ(14)
(14)
لا يَصلىٰها إِلَّا الأَشقَى(15)
(15)
الَّذى كَذَّبَ وَتَوَلّىٰ(16)
(16)
وَسَيُجَنَّبُهَا الأَتقَى(17)
۱۷۔۱یعنی جہنم سے دور رہے گا اور جنت میں داخل ہوگا۔(17)
الَّذى يُؤتى مالَهُ يَتَزَكّىٰ(18)
١٨۔١ یعنی جو اپنا مال اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا نفس بھی اور اس کا مال بھی پاک ہو جائے۔(18)
وَما لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِعمَةٍ تُجزىٰ(19)
(19)
إِلَّا ابتِغاءَ وَجهِ رَبِّهِ الأَعلىٰ(20)
٢٠۔١ بلکہ اخلاص سے اللہ کی رضا اور جنت میں اس کے دیدار کے لئے خرچ کرتا ہے۔(20)
وَلَسَوفَ يَرضىٰ(21)
٢١۔١ یعنی جو شخص ان صفات کا حامل ہوگا، اللہ تعالٰی اسے جنت کی نعمتیں اور عزت و شرف عطا فرمائے گا۔ جس سے وہ راضی ہو جائے گا، اکثر مفسرین نے کہا ہے بلکہ بعض نے اجماع تک نقل کیا ہے کہ یہ آیات حضرت ابوبکر کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ تاہم معنی ومفہوم کے اعتبار سے عام ہیں جو بھی ان صفات عالیہ سے متصف ہوگا، وہ بارگاہ الہی میں ان کا مصداق قرار پائے گا۔(21)