Al-Kafirun( الكافرون)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ قُل يٰأَيُّهَا الكٰفِرونَ(1)
١۔١ الکفرون میں الف لام جنس کے لیے ہے لیکن بطور خاص صرف ان کافروں سے خطاب ہے جن کی بابت اللہ کو علم تھا کہ ان کا خاتمہ کفر و شرک پر ہوگا۔ کیونکہ اس سورت کے نزول کے بعد کئی مشرک مسلمان ہوئے اور انہوں نے اللہ کی عبادت کی (فتح القدیر)(1)
لا أَعبُدُ ما تَعبُدونَ(2)
(2)
وَلا أَنتُم عٰبِدونَ ما أَعبُدُ(3)
(3)
وَلا أَنا۠ عابِدٌ ما عَبَدتُم(4)
(4)
وَلا أَنتُم عٰبِدونَ ما أَعبُدُ(5)
بعض نے پہلی آیت کو حال کے اور دوسری کو استقبال کے مفہوم میں لیا ہے، لیکن امام شوکانی نے کہا ہے کہ ان تکلفات کی ضرورت نہیں ہے۔ تاکید کے لیے تکرار، عربی زبان کا عام اسلوب ہے، جسے قرآن کریم میں کئی جگہ اختیار کیا گیا ہے۔ جیسے سورۂ رحمٰن، سورۂ مرسلات میں ہے۔ اسی طرح یہاں بھی تاکید کے لیے یہ جملہ دہرایا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ کبھی ممکن نہیں کہ میں توحید کا راستہ چھوڑ کر شرک کا راستہ اختیار کرلوں ، جیسا کہ تم چاہتے ہو۔ اور اگر اللہ نے تمہاری قسمت میں ہدایت نہیں لکھی ہے، تو تم بھی اس توحید اور عبادت الہی سے محروم ہی رہو گے۔ یہ بات اس وقت فرمائی گئی جب کفار نے یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معبود کی اور ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے معبودوں کی عبادت کریں۔(5)
لَكُم دينُكُم وَلِىَ دينِ(6)
٦۔۱یعنی اگر تم اپنے دین پر راضی ہو اور اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہو، تو میں اپنے دین پر راضی ہوں میں اسے کیوں چھوڑوں۔؟(لنا اعمالنا ولکم اعمالکم)(6)