Al-Hijr( الحجر)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الر ۚ تِلكَ ءايٰتُ الكِتٰبِ وَقُرءانٍ مُبينٍ(1)
١۔١ کتاب اور قرآن مبین سے مراد قرآن کریم ہی ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ جس طرح (قَدْ جَآ ءَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْ ر،ُ وَّ کِتٰب،ُ مُّبِیْن،ُ) (المائدہ، ١٥) میں نور اور کتاب دونوں سے مراد قرآن کریم کی تکریم اور شان کے لئے ہے۔ یعنی قرآن کامل اور نہایت عظمت وشان والا ہے۔(1)
رُبَما يَوَدُّ الَّذينَ كَفَروا لَو كانوا مُسلِمينَ(2)
٢۔١ یہ آرزو کب کریں گے؟ موت کے وقت، جب فرشتے انہیں جہنم کی آگ دکھاتے ہیں یا جب جہنم میں چلے جائیں گے یا اس وقت جب گنہگار ایمانداروں کو کچھ عرصہ بطور سزا، جہنم میں رکھنے کے بعد جہنم سے نکالا جائے گا یا میدان محشر میں، جہاں حساب کتاب ہو رہا ہوگا اور کافر دیکھیں گے کہ مسلمان جنت میں جا رہے ہیں تو آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے۔ رُبَمَا اصل میں تو تکثیر کے لئے ہے لیکن کبھی کمی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کی طرف سے یہ آرزو ہر موقعے پر ہوتی رہے گی لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔(2)
ذَرهُم يَأكُلوا وَيَتَمَتَّعوا وَيُلهِهِمُ الأَمَلُ ۖ فَسَوفَ يَعلَمونَ(3)
٣۔١ یہ تہدید و تویخ ہے کہ کافر و مشرک اپنے کفر و شرک سے باز نہیں آ رہے ہیں تو انہیں چھوڑ دیجئے یہ دنیاوی لذتوں سے محفوظ ہولیں اور اپنی امیدیں برلائیں۔ عنقریب انہیں اپنے کفر و شرک کا انجام معلوم ہو جائے گا۔(3)
وَما أَهلَكنا مِن قَريَةٍ إِلّا وَلَها كِتابٌ مَعلومٌ(4)
(4)
ما تَسبِقُ مِن أُمَّةٍ أَجَلَها وَما يَستَـٔخِرونَ(5)
٥۔١ جس بستی کو بھی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کرتے ہیں، تو فوراً ہلاک نہیں کر ڈالتے، بلکہ ہم ایک وقت مقرر کئے ہوئے ہیں، اس وقت تک اس بستی والوں کو مہلت دی جاتی ہے لیکن جب وہ مقررہ وقت آ جاتا ہے تو انہیں ہلاک کر دیا جاتا ہے پھر وہ اس سے آگے یا پیچھے نہیں ہوتے۔(5)
وَقالوا يٰأَيُّهَا الَّذى نُزِّلَ عَلَيهِ الذِّكرُ إِنَّكَ لَمَجنونٌ(6)
(6)
لَو ما تَأتينا بِالمَلٰئِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ الصّٰدِقينَ(7)
٧۔١ یہ کافروں کے کفر و عناد کا بیان ہے کہ وہ نبی کو دیوانہ کہتے اور کہتے کہ اگر تو (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سچا ہے تو اپنے اللہ سے کہہ کہ وہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے تاکہ وہ تیری رسالت کی تصدیق کریں یا ہمیں ہلاک کر دیں۔(7)
ما نُنَزِّلُ المَلٰئِكَةَ إِلّا بِالحَقِّ وَما كانوا إِذًا مُنظَرينَ(8)
٨۔١ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ فرشتے ہم حق کے ساتھ بھیجتے ہیں یعنی جب ہماری حکمت و مشیت عذاب بھیجنے کا تقاضا کرتی ہے تو پھر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور پھر وہ مہلت نہیں دیئے جاتے، فوراً ہلاک کر دیئے جاتے ہیں۔(8)
إِنّا نَحنُ نَزَّلنَا الذِّكرَ وَإِنّا لَهُ لَحٰفِظونَ(9)
٩۔١ یعنی اس کو دست برد زمانہ سے اور تغیر وتبدل سے بچانا ہمارا کام ہے۔ چنانچہ قرآن آج تک اسی طرح محفوظ ہے جس طرح یہ اترا تھا، گمراہ فرقے اپنے اپنے گمراہانہ عقائد کے اثبات کے لئے اس کی آیات میں معنوی تحریف تو کرتے رہتے ہیں اور آج بھی کرتے ہیں لیکن پچھلی کتابوں کی طرح یہ لفظی تحریف اور تغیر سے محفوظ ہے۔ علاوہ ازیں اہل حق کی ایک جماعت بھی تحریفات معنوی کا پردہ چاک کرنے کے لئے ہر دور میں موجود رہی ہے، جو ان کے گمراہانہ عقائد اور غلط دلائل اور ثبوت بکھیرتی رہی ہے اور آج بھی وہ اس محاذ پر سرگرم عمل ہے۔ علاوہ ازیں قرآن کو یہاں 'ذکر '(نصیحت) کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے اہل جہاں کے لئے ' ذکر ' (یاد دہانی اور نصیحت ہونے) کے پہلو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے تابندہ نقوش اور آپ کے فرمودات کو بھی محفوظ کر کے قیامت تک کے لئے باقی رکھا گیا ہے۔ گویا قرآن کریم اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کا راستہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہوا ہے۔ یہ شرف اور محفوظیت کا مقام پچھلی کسی بھی کتاب اور رسول کو حاصل نہیں ہوا۔(9)
وَلَقَد أَرسَلنا مِن قَبلِكَ فى شِيَعِ الأَوَّلينَ(10)
(10)
وَما يَأتيهِم مِن رَسولٍ إِلّا كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(11)
١١۔١ یہ گویا نبی کو تسلی دی جا رہی ہے کہ صرف آپ ہی کی تکذیب نہیں کی گئی، ہر رسول کے ساتھ اس کی قوم نے یہی معاملہ کیا۔(11)
كَذٰلِكَ نَسلُكُهُ فى قُلوبِ المُجرِمينَ(12)
١٢۔١ یعنی کفر اور رسولوں کا استہزاء ہم مجرموں کے دلوں میں دیتے ہیں یا رچا دیتے ہیں، یہ نسبت نے اپنی طرف اس لئے کی کہ ہرچیز کا خالق اللہ تعالٰی ہی ہے گو ان کا فعل ان کی مسلسل معصیت کے نتیجے میں اللہ کی مشیت سے رونما ہوا۔(12)
لا يُؤمِنونَ بِهِ ۖ وَقَد خَلَت سُنَّةُ الأَوَّلينَ(13)
١٣۔١ یعنی ان کے ہلاک کرنے کا وہی طریقہ ہے جو اللہ نے پہلے مقرر کر رکھا ہے کہ تکذیب و استہزاء کے بعد وہ قوموں کو ہلاک کرتا ہے۔(13)
وَلَو فَتَحنا عَلَيهِم بابًا مِنَ السَّماءِ فَظَلّوا فيهِ يَعرُجونَ(14)
(14)
لَقالوا إِنَّما سُكِّرَت أَبصٰرُنا بَل نَحنُ قَومٌ مَسحورونَ(15)
١٥۔١ یعنی ان کا کفر و عناد اس حد تک بڑھا ہوا ہے کہ فرشتوں کا نزول تو رہا ایک طرف، اگر خود ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جائیں اور یہ ان دروازوں سے آسمان پر آ جائیں، تب بھی انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہ آئے اور رسولوں کی تصدیق نہ کریں بلکہ یہ کہیں کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے یا ہم پر جادو کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ہم ایسا محسوس کر رہے ہیں کہ ہم آسمان پر آ جا رہے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں۔(15)
وَلَقَد جَعَلنا فِى السَّماءِ بُروجًا وَزَيَّنّٰها لِلنّٰظِرينَ(16)
١٦۔١ بروج برج کی جمع ہے جس کے معنی ظہور کے ہیں۔ اسی سے تبرج ہے جو عورت کے اظہار زینت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہاں آسمان کے ستاروں کو بُرُوْج،ُ کہا گیا ہے کیونکہ وہ بلند اور ظاہر ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں بُرُوْج سے مراد شمس و قمر اور دیگر سیاروں کی منزلیں ہیں، جو ان کے لئے مقرر ہیں اور یہ ۱۲ ہیں۔ حمل، ثور، جوزاء، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔ عرب ان سیاروں کی منزلوں اور ان کے ذریعے سے موسم کا حال معلوم کرتے تھے۔ اس میں کوئی قباحت نہیں البتہ ان سے تغیر پذیر ہونے والے واقعات وحوادث جاننے کا دعوی کرنا، جیسے آج کل بھی جاہلوں میں اس کا خاصا چرچہ۔ اور لوگوں کی قسمتوں کو ان کے ذریعے سے دیکھا اور سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کوئی تعلق دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات وحوادث سے نہیں ہوتا، جو کچھ بھی ہوتا ہے، صرف مشیت الہی ہی سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالٰی نے یہاں ان برجوں یا ستاروں کا ذکر اپنی قدرت اور بے مثال صنعت کے طور پر کیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ واضح کیا ہے کہ یہ آسمان کی زینت بھی ہیں۔(16)
وَحَفِظنٰها مِن كُلِّ شَيطٰنٍ رَجيمٍ(17)
١٧۔١ رجیم مرجوم کے معنی میں ہے رَجْم کے معنی ہیں سنگسار کرنا یعنی پتھر مارنے کے ہیں۔شیطان کو رجیم اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ سب آسمان کی طرف جانے کی کوشش کرتا ہے تو آسمان سے شہاب ثاقب اس پر ٹوٹ کر گرتے ہیں، پھر رجیم ملعون و مردود کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، کیونکہ جسے سنگسار کیا جاتا ہے اسے ہر طرف سے لعنت ملامت بھی کی جاتی ہے۔ یہاں اللہ تعالٰی نے یہی فرمایا ہے کہ ہم نے آسمانوں کی حفاظت فرمائی ہر شیطان رجیم سے۔ یعنی ان ستاروں کے ذریعے سے، کیونکہ یہ شیطان کو مار بھاگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔(17)
إِلّا مَنِ استَرَقَ السَّمعَ فَأَتبَعَهُ شِهابٌ مُبينٌ(18)
١٨۔١ اس کا مطلب یہ ہے کہ شیاطین آسمانوں پر باتیں سننے کے لئے جاتے ہیں، جن پر شہاب ثاقب ٹوٹ کر گرتے ہیں، جن سے کچھ تو مر جاتے ہیں اور کچھ بچ جاتے ہیں اور بعض سن آتے ہیں۔ حدیث میں اس کی تفسیر اس طرح آتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ' جب اللہ تعالٰی آسمان پر کوئی فیصلہ فرماتا ہے، تو فرشتے اسے سن کر اپنے پر یا بازو پھڑ پھڑاتے ہیں گویا وہ کسی چٹان پر زنجیر کی آواز ہے۔ پھر جب فرشتوں کے دلوں سے اللہ کا خوف دور ہو جاتا ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، تمہارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں، اس نے کہا حق اور اور وہ بلند اور بڑا ہے (اس کے بعد اللہ کا وہ فیصلہ اوپر سے نیچے تک یکے بعد دیگرے سنایا جاتا ہے) اس موقع پر شیطان چوری چھپے بات سنتے ہیں۔ اور یہ چوری چھپے بات سننے والے شیطان، تھوڑے تھوڑے فاصلے سے ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں اور ایک آدھا حکم سن کر اپنے دوست نجومی یا کاہن کے کان پھونک دیتے ہیں، اور اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں کو بیان کرتا ہے (ملخصا۔ صحیح بخاری تفسیر سورہ حجر)(18)
وَالأَرضَ مَدَدنٰها وَأَلقَينا فيها رَوٰسِىَ وَأَنبَتنا فيها مِن كُلِّ شَيءٍ مَوزونٍ(19)
(19)
وَجَعَلنا لَكُم فيها مَعٰيِشَ وَمَن لَستُم لَهُ بِرٰزِقينَ(20)
٢٠۔١ معایش معیشۃ کی جمع ہے یعنی زمین میں تمہاری معیشت اور گزران کے لئے بیشمار اسباب و وسائل پیدا کر دیئے۔ ٢٠۔٢ اس سے مراد نوکر چاکر، غلام اور جانور ہیں۔ یعنی جانوروں کو تمہارے تابع کر دیا، جن پر تم سواری بھی کرتے ہو، سامان بھی لاد کر لے جاتے ہو اور انہیں ذبح کر کے کھا بھی لیتے ہو۔ غلام لونڈیاں ہیں، جن سے تم خدمت گزاری کا کام لیتے ہو۔ یہ اگرچہ سب تمہارے ماتحت ہیں اور تم ان کے چارے اور خوراک وغیرہ کا انتظام بھی کرتے ہو لیکن حقیقت میں ان کا رازق اللہ تعالٰی ہے، تم نہیں ہو۔ تم یہ نہ سمجھنا کہ تم ان کے رازق ہو، اگر تم انہیں کھانا نہیں دو گے تو بھوکے مر جائیں گے۔(20)
وَإِن مِن شَيءٍ إِلّا عِندَنا خَزائِنُهُ وَما نُنَزِّلُهُ إِلّا بِقَدَرٍ مَعلومٍ(21)
٢١۔١ بعض نے خزائن سے مراد بارش لی ہے کیونکہ بارش ہی پیداوار کا ذریعہ ہے لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے اس سے مراد تمام کائنات کے خزانے ہیں جنہیں اللہ تعالٰی حسب مشیت و ارادہ عدم سے وجود میں لاتا رہتا ہے۔(21)
وَأَرسَلنَا الرِّيٰحَ لَوٰقِحَ فَأَنزَلنا مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَسقَينٰكُموهُ وَما أَنتُم لَهُ بِخٰزِنينَ(22)
٢٢۔١ ہواؤں کو بوجھل، اس لئے کہا گیا کہ یہ ان بادلوں کو اٹھاتی ہیں جن میں پانی ہوتا ہے۔ جس طرح حاملہ اونٹنی کو کہا جاتا ہے جو پیٹ میں بچہ اٹھائے ہوتی ہے۔ ٢٢۔٢ یعنی یہ پانی جو ہم اتارتے ہیں، اسے تم ذخیرہ رکھنے پر بھی قادر نہیں ہو۔ یہ ہماری ہی قدرت و رحمت ہے کہ ہم اس پانی کو چشموں، کنوؤں اور نہروں کے ذریعے سے محفوظ رکھتے ہیں، ورنہ اگر ہم چاہیں تو پانی کی سطح اتنی نیچی کر دیں کہ چشموں اور کنوؤں سے پانی لینا تمہارے لئے ممکن نہ رہے، جس طرح بعض علاقوں میں اللہ تعالٰی بعض دفعہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھاتا ہے الَّھُمَّ اَحفظْنَا مِنْہُ۔(22)
وَإِنّا لَنَحنُ نُحيۦ وَنُميتُ وَنَحنُ الوٰرِثونَ(23)
(23)
وَلَقَد عَلِمنَا المُستَقدِمينَ مِنكُم وَلَقَد عَلِمنَا المُستَـٔخِرينَ(24)
(24)
وَإِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحشُرُهُم ۚ إِنَّهُ حَكيمٌ عَليمٌ(25)
(25)
وَلَقَد خَلَقنَا الإِنسٰنَ مِن صَلصٰلٍ مِن حَمَإٍ مَسنونٍ(26)
٢٦۔١ مٹی کی مختلف حالتوں کے اعتبار سے اس کے مختلف نام ہیں، خشک مٹی، بھیگی ہوئی، گوندھی ہوئی بدبودار خشک ہو کر کھن کھن بولنے لگے تو اور جب آگ سے پکا لیا جائے تو (ٹھیکری) کہلاتی ہے۔ یہاں اللہ تعالٰی نے انسان کی تخلیق کا جس طرح تذکرہ فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم خاکی کا پتلا مٹی سے بنایا گیا، جب وہ سوکھ کر کھن کھن کرنے لگا (صلصال) ہو گیا۔ تو اس میں روح پھونکی گئی، اسی طرح صَلصَالِ کو قرآن میں دوسری جگہ (فخار کی ماند کہا گیا ہے (خَلَقَ الْا نْسَانَ مِنْ صَلْصَالِ کَا لْفَخَارِ) (الرحمٰن۔١٤) ' پیدا کیا انسان کو کھنکھناتی مٹی سے جیسے ٹھیکرا '(26)
وَالجانَّ خَلَقنٰهُ مِن قَبلُ مِن نارِ السَّمومِ(27)
٢٧۔١ جِنّ کو جن اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ سورہ رحمٰن میں جنات کی تخلیق (مَّارِجٍ مِّنَ نَّارِ) سے بتلائی گئی ہے اور صحیح مسلم کی ایک حدیث میں یہ کہا گیا اس اعتبار سے لو والی آگ یا آگ کے شعلے کا ایک ہی مطلب ہوگا۔(27)
وَإِذ قالَ رَبُّكَ لِلمَلٰئِكَةِ إِنّى خٰلِقٌ بَشَرًا مِن صَلصٰلٍ مِن حَمَإٍ مَسنونٍ(28)
(28)
فَإِذا سَوَّيتُهُ وَنَفَختُ فيهِ مِن روحى فَقَعوا لَهُ سٰجِدينَ(29)
٢٩۔١ سجدے کا یہ حکم بطور تعظیم کے تھا، عبادت کے طور پر نہیں، اور یہ چونکہ اللہ کا حکم تھا، اس لئے اس کے وجوب میں کوئی شک نہیں۔ تاہم شریعت محمدیہ میں بطور تعظیم بھی کسی کے لئے سجدہ کرنا جائز نہیں۔(29)
فَسَجَدَ المَلٰئِكَةُ كُلُّهُم أَجمَعونَ(30)
(30)
إِلّا إِبليسَ أَبىٰ أَن يَكونَ مَعَ السّٰجِدينَ(31)
(31)
قالَ يٰإِبليسُ ما لَكَ أَلّا تَكونَ مَعَ السّٰجِدينَ(32)
(32)
قالَ لَم أَكُن لِأَسجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقتَهُ مِن صَلصٰلٍ مِن حَمَإٍ مَسنونٍ(33)
٣٣۔١ شیطان نے انکار کی وجہ حضرت آدم علیہ السلام کا خاکی اور بشر ہونا بتلایا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان اور بشر کو اس کی بشریت کی بنا پر حقیر اور کم تر سمجھنا یہ شیطان کا فلسفہ ہے، جو اہل حق انبیاء علیہم السلام کی بشریت کے منکر نہیں، اس لئے کہ ان کی بشریت کو خود قرآن کریم نے وضاحت سے بیان کیا ہے۔ علاوہ ازیں بشریت ان کی عظمت اور شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔(33)
قالَ فَاخرُج مِنها فَإِنَّكَ رَجيمٌ(34)
(34)
وَإِنَّ عَلَيكَ اللَّعنَةَ إِلىٰ يَومِ الدّينِ(35)
(35)
قالَ رَبِّ فَأَنظِرنى إِلىٰ يَومِ يُبعَثونَ(36)
(36)
قالَ فَإِنَّكَ مِنَ المُنظَرينَ(37)
(37)
إِلىٰ يَومِ الوَقتِ المَعلومِ(38)
(38)
قالَ رَبِّ بِما أَغوَيتَنى لَأُزَيِّنَنَّ لَهُم فِى الأَرضِ وَلَأُغوِيَنَّهُم أَجمَعينَ(39)
(39)
إِلّا عِبادَكَ مِنهُمُ المُخلَصينَ(40)
(40)
قالَ هٰذا صِرٰطٌ عَلَىَّ مُستَقيمٌ(41)
٤١۔١ یعنی تم سب کو بالآخر میرے پاس ہی لوٹ آنا ہے، جنہوں نے میرا اور میرے رسولوں کا اتباع کیا ہوگا، میں انہیں اچھی جزا دوں گا اور جو شیطان کے پیچھے لگ کر گمراہی کے راستے پر چلتا رہا ہوگا اسے سخت سزا دوں گا جو جہنم کی صورت میں تیار ہے۔(41)
إِنَّ عِبادى لَيسَ لَكَ عَلَيهِم سُلطٰنٌ إِلّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الغاوينَ(42)
٤٢۔١ یعنی میرے نیک بندوں پر تیرا داؤ نہیں چلے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے کوئی گناہ ہی سرزد نہیں ہوگا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایسا گناہ نہیں ہوگا کہ جس کے بعد نادم اور تائب نہ ہو کیونکہ وہی گناہ انسان کی ہلاکت کا باعث ہے کہ جس کے بعد انسان کے اندر ندامت کا احساس اور توبہ و انابت الی اللہ کا داعیہ پیدا نہ ہو۔ ایسے گناہ کے بعد ہی انسان گناہ پر گناہ کرتا چلا جاتا ہے۔ اور بالآخر دائمی تباہی و ہلاکت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اور اہل ایمان کی صفت یہ ہے کہ گناہ پر اصرار نہیں کرتے بلکہ فوراً توبہ کر کے آئندہ کے لئے اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔(42)
وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوعِدُهُم أَجمَعينَ(43)
٤٣۔١ یعنی جتنے بھی تیرے پیروکار ہوں گے، سب جہنم کا ایندھن بنیں گے۔(43)
لَها سَبعَةُ أَبوٰبٍ لِكُلِّ بابٍ مِنهُم جُزءٌ مَقسومٌ(44)
٤٤۔١ یعنی ہر دروازہ مخصوص قسم کے لوگوں کے لئے خاص ہوگا۔ مثلاً ایک دروازہ مشرکوں کے لئے، ایک دروازہ دھریوں کے لئے۔ ایک زندیقوں، ایک زانیوں کے لئے۔ سود خوروں، چوروں اور ڈاکوؤں کے لئے وغیرہ وغیرہ۔ یا سات دروازوں سے مراد سات طبق اور درجے ہیں۔ پہلا طبق یا درجہ جہنم ہے، دوسرا نطی۔ پھر حطمہ، پھر سعیر۔ پھر سقر، پھر حجیم، پھر ہاویہ، سب سے اوپر والا درجہ موحدین کے لئے ہوگا، جنہیں کچھ عرصہ سزا دینے کے بعد یا سفارش پر نکال لیا جائے گا، دوسرے میں یہودی، تیسرے میں عیسائی،چوتھے میں صابی، پانچویں میں مجوسی۔ چھٹے میں مشرکین اور ساتویں میں منافقین ہونگے، سب سے اوپر والے درجے کا نام جہنم ہے اس کے بعد اس ترتیب سے نام ہیں۔ (فتح القدیر)(44)
إِنَّ المُتَّقينَ فى جَنّٰتٍ وَعُيونٍ(45)
٤٥۔١ جہنم اور اہل جہنم کے بعد جنت اور اہل جنت کا تذکرہ کیا جا رہا ہے تاکہ جنت میں جانے کی ترغیب ہو۔ متقین سے مراد شرک سے بچنے والے موحدین ہیں اور بعض کے نزدیک وہ اہل ایمان جو معاصی سے بچتے رہے۔ جَنَّاتٍ سے مراد باغات اور عُیُونِ سے نہریں مراد ہیں۔ یہ باغات اور نہریں یا تو متقین کے لئے مشترکہ ہونگی، یا ہر ایک کے لئے الگ الگ باغات اور نہریں یا ایک ایک باغ اور نہر ہوگی۔(45)
ادخُلوها بِسَلٰمٍ ءامِنينَ(46)
٤٦۔ ١ سلامتی ہر قسم کی آفات سے اور امن ہر قسم کے خوف سے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو یا فرشتے اہل جنت کو سلامتی کی دعا دیں گے۔ یا اللہ کی طرف سے ان کی سلامتی اور امن کا اعلان ہوگا۔(46)
وَنَزَعنا ما فى صُدورِهِم مِن غِلٍّ إِخوٰنًا عَلىٰ سُرُرٍ مُتَقٰبِلينَ(47)
٤٧۔١ دنیا میں ان کے درمیان جو آپس میں حسد اور بغض و عداوت کے جذبات رہے ہوں گے، وہ ان کے سینوں سے نکال دیئے جائیں گے اور ایک دوسرے کے بارے میں ان کے آئینے کی طرح صاف اور شفاف ہوں گے۔(47)
لا يَمَسُّهُم فيها نَصَبٌ وَما هُم مِنها بِمُخرَجينَ(48)
(48)
۞ نَبِّئ عِبادى أَنّى أَنَا الغَفورُ الرَّحيمُ(49)
(49)
وَأَنَّ عَذابى هُوَ العَذابُ الأَليمُ(50)
(50)
وَنَبِّئهُم عَن ضَيفِ إِبرٰهيمَ(51)
(51)
إِذ دَخَلوا عَلَيهِ فَقالوا سَلٰمًا قالَ إِنّا مِنكُم وَجِلونَ(52)
٥٢۔١ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان فرشتوں سے ڈر اس لئے محسوس ہوا کہ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تیار کردہ بھنا ہوا بچھڑا نہیں کھایا، جیسا کہ سورہ ہود میں تفصیل گزری۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی کے جلیل القدر پیغمبر کو بھی غیب کا علم نہیں ہوتا، اگر پیغمبر عالم الغیب ہوتے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سمجھ جاتے کہ آنے والے مہمان فرشتے ہیں اور ان کے لئے کھانا تیار کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ فرشتے انسانوں کی طرح کھانے پینے کے محتاج نہیں۔(52)
قالوا لا تَوجَل إِنّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَليمٍ(53)
(53)
قالَ أَبَشَّرتُمونى عَلىٰ أَن مَسَّنِىَ الكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرونَ(54)
(54)
قالوا بَشَّرنٰكَ بِالحَقِّ فَلا تَكُن مِنَ القٰنِطينَ(55)
٥٥۔١ کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو خلاف نہیں ہو سکتا۔ علاوہ ازیں وہ ہر بات پر قادر ہے، کوئی بات اس کے لئے ناممکن نہیں۔(55)
قالَ وَمَن يَقنَطُ مِن رَحمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضّالّونَ(56)
٥٦۔١ یعنی اولاد کے ہونے پر میں تعجب اور حیرت کا اظہار کر رہا ہوں تو صرف اپنے بڑھاپے کی وجہ سے کر رہا ہوں یہ بات نہیں ہے کہ میں اپنے رب کی رحمت سے نا امید ہوں۔ رب کی رحمت سے نا امید تو گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں۔(56)
قالَ فَما خَطبُكُم أَيُّهَا المُرسَلونَ(57)
٥٧۔١ حضرت ابرہیم علیہ السلام نے ان فرشتوں کی گفتگو سے اندازہ لگا لیا کہ یہ صرف اولاد کی بشارت دینے ہی نہیں آئے ہیں بلکہ ان کی آمد کا اصل مقصد کوئی اور ہے۔ چنانچہ انہوں نے پوچھا۔(57)
قالوا إِنّا أُرسِلنا إِلىٰ قَومٍ مُجرِمينَ(58)
(58)
إِلّا ءالَ لوطٍ إِنّا لَمُنَجّوهُم أَجمَعينَ(59)
(59)
إِلَّا امرَأَتَهُ قَدَّرنا ۙ إِنَّها لَمِنَ الغٰبِرينَ(60)
(60)
فَلَمّا جاءَ ءالَ لوطٍ المُرسَلونَ(61)
(61)
قالَ إِنَّكُم قَومٌ مُنكَرونَ(62)
٦٢۔١ یہ فرشتے حسین نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے اور حضرت لوط علیہ السلام کے لئے بالکل انجان تھے، اس لئے انہوں نے ان سے اجنبیت اور بیگانگی کا اظہار کیا۔(62)
قالوا بَل جِئنٰكَ بِما كانوا فيهِ يَمتَرونَ(63)
٦٣۔١ یعنی عذاب الٰہی، جس میں تیری قوم کو شک ہے کہ وہ آ بھی سکتا ہے؟(63)
وَأَتَينٰكَ بِالحَقِّ وَإِنّا لَصٰدِقونَ(64)
٦٤۔١ اس صریح حق سے عذاب مراد ہے جس کے لئے وہ بھیجے گئے تھے، اس لئے انہوں نے کہا ہم ہیں بھی بالکل سچے۔ یعنی عذاب کی جو بات ہم کر رہے ہیں۔ اس میں سچے ہیں۔ اب اس قوم کی تباہی کا وقت بالکل قریب آ پہنچا ہے۔(64)
فَأَسرِ بِأَهلِكَ بِقِطعٍ مِنَ الَّيلِ وَاتَّبِع أَدبٰرَهُم وَلا يَلتَفِت مِنكُم أَحَدٌ وَامضوا حَيثُ تُؤمَرونَ(65)
٦٥۔١ تاکہ کوئی مومن پیچھے نہ رہے، تو ان کو آگے کرتا رہے۔(65)
وَقَضَينا إِلَيهِ ذٰلِكَ الأَمرَ أَنَّ دابِرَ هٰؤُلاءِ مَقطوعٌ مُصبِحينَ(66)
٦٦۔١ یعنی لوط علیہ السلام کو وحی کے ذریعے سے اس فیصلے سے آگاہ کر دیا کہ صبح ہونے تک ان لوگوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی، یا دَابِرَ سے مراد وہ آخری آدمی ہے جو باقی رہ جائے گا، فرمایا، وہ بھی صبح ہونے تک ہلاک کر دیا جائے گا۔(66)
وَجاءَ أَهلُ المَدينَةِ يَستَبشِرونَ(67)
٦٧۔١ ادھر تو حضرت لوط علیہ السلام کے گھر میں قوم کی ہلاکت کا یہ فیصلہ ہو رہا تھا۔ ادھر قوم لوط کو پتہ چلا کہ لوط علیہ السلام کے گھر میں خوش شکل نوجوان مہمان آئے ہیں تو اپنی امرد پرستی کی وجہ سے بڑے خوش ہوئے اور خوشی خوشی حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے اور مطالبہ کیا کہ ان نوجوانوں کو ان کے سپرد کیا جائے تاکہ وہ ان سے بے حیائی کا ارتکاب کر کے اپنی تسکین کر سکیں۔(67)
قالَ إِنَّ هٰؤُلاءِ ضَيفى فَلا تَفضَحونِ(68)
٦٨۔١ حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ مہمان ہیں انہیں میں کس طرح تمہارے سپرد کر سکتا ہوں، اس میں میری رسوائی ہے۔(68)
وَاتَّقُوا اللَّهَ وَلا تُخزونِ(69)
(69)
قالوا أَوَلَم نَنهَكَ عَنِ العٰلَمينَ(70)
٧٠۔١ انہوں نے بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا اے لوط! تو ان اجنبیوں کا کیا لگتا ہے؟ اور کیوں ان کی حمایت کرتا ہے؟ کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا ہے کہ اجنبیوں کی حمایت نہ کیا کر، یا ان کو اپنا مہمان نہ بنایا کر! یہ ساری گفتگو اس وقت ہوئی جب کہ حضرت لوط علیہ السلام کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ اجنبی مہمان اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور وہ اسی قوم کو تباہ کرنے کے لئے آئے ہیں جو ان فرشتوں کے ساتھ بد فعلی کے لئے مصر تھی، جیسا کہ سورہ ہود میں یہ تفصیل گزر چکی ہے۔ یہاں ان کے فرشتے ہونے کا ذکر پہلے آ گیا ہے۔(70)
قالَ هٰؤُلاءِ بَناتى إِن كُنتُم فٰعِلينَ(71)
٧١۔١ یعنی ان سے تم نکاح کر لو یا پھر اپنی قوم کی عورتوں کو اپنی بیٹیاں کہا، تم عورتوں سے نکاح کر لو یا جن کے حبالہ عقد میں عورتیں ہیں، وہ ان سے اپنی خواہش پوری کریں۔(71)
لَعَمرُكَ إِنَّهُم لَفى سَكرَتِهِم يَعمَهونَ(72)
٧٢۔١ اللہ نبی سے خطاب فرما کر، ان کی زندگی کی قسم کھا رہا ہے، جس سے آپ کا شرف و فضل واضح ہے۔ تاہم کسی اور کے لئے اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور کی قسم کھانا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی تو حاکم مطلق ہے، وہ جس کی چاہے قسم کھائے، اس سے کون پوچھنے والا ہے؟ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ جس طرح شراب کے نشے میں دھت انسان کی عقل ماؤف ہو جاتی ہے، اسی طرح یہ اپنی بد مستی اور گمراہی میں اتنے سرگرداں تھے کہ حضرت لوط علیہ السلام کی اتنی معقول بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آ پائی۔(72)
فَأَخَذَتهُمُ الصَّيحَةُ مُشرِقينَ(73)
٧٣۔١ ایک چنگھاڑ نے، جب کہ سورج طلوع ہو چکا تھا، ان کا خاتمہ کر دیا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ زوردار آواز حضرت جبرائیل علیہ السلام کی تھی۔(73)
فَجَعَلنا عٰلِيَها سافِلَها وَأَمطَرنا عَلَيهِم حِجارَةً مِن سِجّيلٍ(74)
٧٤۔١ کہا جاتا ہے کہ ان کی بستیوں کو زمین سے اٹھا کر اوپر آسمان پر لے جایا گیا اور وہاں سے ان کو الٹا کر کے زمین پر پھینک دیا گیا۔ یوں اوپر حصہ نیچے اور نچلا حصہ اوپر کر کے تہ و بالا کر دیا گیا، اور کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد محض اس بستی کا چھتوں سمیت زمین بوس ہو جانا ہے۔ ٧٤۔٢ اس کے بعد کھنگر قسم کے مخصوص پتھر برسائے گئے۔ اس طرح گویا تین قسم کے عذابوں سے انہیں دوچار کر کے نشان عبرت بنا دیا گیا۔(74)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِلمُتَوَسِّمينَ(75)
٧٥۔١ گہری نظر سے جائزہ لینے اور غور وفکر کرنے والوں کو مُتَوَسِّمِیْنَ کہا جاتا ہے۔ مُتَوَسِّمِیْنَ کے لئے اس واقعے میں عبرت کے پہلو اور نشانیاں ہیں۔(75)
وَإِنَّها لَبِسَبيلٍ مُقيمٍ(76)
٧٦۔١ مراد شاہراہ ہے، یعنی قوم لوط کی بستیاں مدینے سے شام کو جاتے ہوئے راستے میں پڑتی ہیں۔ ہر آنے جانے والے کو انہی بستیوں سے گزر کر جانا پڑتا ہے۔ کہتے ہیں یہ پانچ بستیاں تھیں، کہا جاتا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے بازو پر انہیں اٹھایا اور آسمان پر چڑھ گئے حتٰی کہ آسمان والوں نے ان کے کتوں کے بھونکنے اور مرغوں کے بولنے کی آوازیں سنیں اور پھر ان کو زمین پر دے مارا (ابن کثیر) مگر اس بات کی کوئی سند نہیں۔(76)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِلمُؤمِنينَ(77)
(77)
وَإِن كانَ أَصحٰبُ الأَيكَةِ لَظٰلِمينَ(78)
٧٨۔١ أیکَہ گھنے درخت کو کہتے ہیں۔ اس بستی میں گھنے درخت ہونگے۔ اس لئے انہیں اَصْحَابُ الأیکَۃُ(بن یا جنگل والے) کہا گیا۔ مراد اس سے قوم شعیب ہے اور ان کا زمانہ حضرت لوط علیہ السلام کے بعد ہے اور ان کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان قوم لوط کی بستیوں کے قریب ہی تھا۔ اسے مدین کہا جاتا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے یا پوتے کا نام تھا اور اسی کے نام پر بستی کا نام پڑ گیا تھا۔ ان کا ظلم یہ تھا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرتے تھے، رہزنی ان کا شیوہ اور کم تولنا اور کم ناپنا ان کا وطیرہ تھا، ان پر جب عذاب آیا ایک بادل ان پر سایہ فگن ہو گیا پھر چنگھاڑ اور بھو نچال نے مل کر ان کو ہلاک کر دیا۔(78)
فَانتَقَمنا مِنهُم وَإِنَّهُما لَبِإِمامٍ مُبينٍ(79)
٧٩۔١ امام مُبِیْنٍ کے معنی بھی شاہراہ عام کے ہیں، جہاں سے شب و روز لوگ گزرتے ہیں۔ دونوں شہر سے مراد قوم لوط کا شہر اور قوم شعیب کا مسکن۔ مدین۔ مراد ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہی تھے۔(79)
وَلَقَد كَذَّبَ أَصحٰبُ الحِجرِ المُرسَلينَ(80)
٨٠۔١ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ثمود کی بستیوں کا نام تھا۔ انہیں اَصْحَابُ الْحِجْرِ (حجر والے) کہا گیا ہے۔ یہ بستی مدینہ اور تبوک کے درمیان تھی۔ انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام کو جھٹلایا۔ لیکن یہاں اللہ تعالٰی نے فرمایا ' انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا، یہ اس لئے کہ ایک پیغمبر کی تکذیب ایسے ہی ہے جیسے سارے پیغمبروں کی تکذیب۔(80)
وَءاتَينٰهُم ءايٰتِنا فَكانوا عَنها مُعرِضينَ(81)
٨١۔١ ان نشانیوں میں وہ اونٹنی بھی تھی جو ان کے کہنے پر ایک چٹان سے بطور معجزہ ظاہر کی گئی تھی، لیکن ظالموں نے اسے قتل کر ڈالا۔(81)
وَكانوا يَنحِتونَ مِنَ الجِبالِ بُيوتًا ءامِنينَ(82)
٨٢۔١ یعنی بغیر کسی خوف کے پہاڑ تراش لیا کرتے تھے۔ ٩ ہجری میں تبوک جاتے ہوئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بستی سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر کپڑا لپیٹ لیا اور اپنی سواری کو تیز کر لیا اور صحابہ سے فرمایا کہ روتے ہوئے اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اس بستی سے گزرو (ابن کثیر) صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔(82)
فَأَخَذَتهُمُ الصَّيحَةُ مُصبِحينَ(83)
٨٣۔١ حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں کہا کہ تین دن کے بعد تم پر عذاب آ جائے گا، چنانچہ چوتھے روز ان پر یہ عذاب آ گیا۔(83)
فَما أَغنىٰ عَنهُم ما كانوا يَكسِبونَ(84)
(84)
وَما خَلَقنَا السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما إِلّا بِالحَقِّ ۗ وَإِنَّ السّاعَةَ لَءاتِيَةٌ ۖ فَاصفَحِ الصَّفحَ الجَميلَ(85)
٨٥۔١ حق سے مراد وہ فوائد و صالح ہیں جو آسمان و زمین کی پیدائش سے مقصود ہیں۔ یا حق سے مراد محسن (نیکوکار) کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی برائی کا بدلہ دینا ہے۔ جس طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا ' اللہ ہی کے لئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے تاکہ بروں کو ان کی برائیوں کا اور نیکوں کو ان کی نیکی کا بدلہ دے (النجم۔ ٣١)(85)
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الخَلّٰقُ العَليمُ(86)
(86)
وَلَقَد ءاتَينٰكَ سَبعًا مِنَ المَثانى وَالقُرءانَ العَظيمَ(87)
٨٧۔١ سبع مثانی سے مراد کیا ہے اس میں مفسرین کا اختلاف ہے صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد سورۃ فاتحہ ہے۔ یہ سات آیتیں ہیں اور جو ہر نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں (مثانی کے معنی بار بار دہرانے کے کیئے گئے ہیں (حدیث میں بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں رسول اللہ نے فرمایا (اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ) یہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو میں دیا گیا ہوں (صحیح بخاری) ایک اور حدیث میں فرمایا ((ام القرآن ھی السبع المثانی والقرآن العظیم)) سورۂ فاتحہ قرآن کا ایک جزء ہے اس لیے قرآن عظیم کا ذکر بھی ساتھ ہی کیا گیا ہے۔(87)
لا تَمُدَّنَّ عَينَيكَ إِلىٰ ما مَتَّعنا بِهِ أَزوٰجًا مِنهُم وَلا تَحزَن عَلَيهِم وَاخفِض جَناحَكَ لِلمُؤمِنينَ(88)
٨٨۔١ یعنی ہم نے سورت فاتحہ اور قرآن عظیم جیسی نعمتیں آپ کو عطا کی ہیں، اس لئے دنیا اور اس کی زینتیں اور ان مختلف قسم کے اہل دنیا کی طرف نہ نظر دوڑائیں جن کو دنیا فانی کی عارضی چیزیں ہم نے دی ہیں اور وہ جو آپ کی تکذیب کرتے ہیں، اس پر غم نہ کھائیں اور مومنوں کے لئے اپنے بازو جھکائے رہیں، یعنی ان کے لئے نرمی اور محبت کا رویہ اپنائیں۔ اس محاورہ کی اصل یہ ہے کہ جب پرندہ اپنے بچوں کو اپنے سایہ شفقت میں لیتا ہے تو ان کو اپنے بازوؤں یعنی پروں میں لے لیتا ہے۔ یوں یہ ترکیب نرمی، پیار و محبت کا رویہ اپنانے کے مفہوم میں استعمال ہوتی ہے۔(88)
وَقُل إِنّى أَنَا النَّذيرُ المُبينُ(89)
(89)
كَما أَنزَلنا عَلَى المُقتَسِمينَ(90)
٩٠۔١ بعض مفسرین کے نزدیک انزلنا کا مفعول العذاب محذوف ہے ۔ معنی یہ ہیں کہ میں تمہیں کھل کر ڈرانے والا ہوں عذاب سے، مثل اس عذاب کے، جنہوں نے کتاب الٰہی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے، بعض کہتے ہیں کہ اس سے قریش قوم مراد ہے، جنہوں نے اللہ کی کتاب کو تقسیم کر دیا، اس کے بعض حصے کے شعر، بعض کو سحر (جادو) بعض کو کہانت اور بعض کو اساطیرالأولین (پہلوں کی کہانیاں (قرار دیا، بعض کہتے ہیں کہ یہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ہے جنہوں نے آپس میں قسم کھائی تھی کہ صالح علیہ السلام اور ان کے گھر والوں کو رات کے اندھیرے میں قتل کر دیں گے (تقاسموا باللہ لنبیتنہ واھلہ) اور آسمانی کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ عضین کے ایک معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ اس کی بعض باتوں پر ایمان رکھنا اور بعض کے ساتھ کفر کرنا۔(90)
الَّذينَ جَعَلُوا القُرءانَ عِضينَ(91)
(91)
فَوَرَبِّكَ لَنَسـَٔلَنَّهُم أَجمَعينَ(92)
(92)
عَمّا كانوا يَعمَلونَ(93)
(93)
فَاصدَع بِما تُؤمَرُ وَأَعرِض عَنِ المُشرِكينَ(94)
٩٤۔١ اَ صْدَعْ کے معنی ہیں کھول کر بیان کرنا، اس آیت کے نزول سے قبل آپ چھپ کر تبلیغ فرماتے تھے، اس کے بعد آپ نے کھلم کھلا تبلیغ شروع کر دی۔ (فتح القدیر)(94)
إِنّا كَفَينٰكَ المُستَهزِءينَ(95)
(95)
الَّذينَ يَجعَلونَ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ ۚ فَسَوفَ يَعلَمونَ(96)
(96)
وَلَقَد نَعلَمُ أَنَّكَ يَضيقُ صَدرُكَ بِما يَقولونَ(97)
(97)
فَسَبِّح بِحَمدِ رَبِّكَ وَكُن مِنَ السّٰجِدينَ(98)
(98)
وَاعبُد رَبَّكَ حَتّىٰ يَأتِيَكَ اليَقينُ(99)
٩٩۔١ مشرکین آپ کو ساحر، مجنون، کاہن وغیرہ کہتے جس سے بشری جبلت کی وجہ سے آپ کبیدہ خاطر ہوتے، اللہ تعالٰی نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ حمد وثنا کریں، نماز پڑھیں اور اپنے رب کی عبادت کریں، اس سے آپ کو قلبی سکون بھی ملے گا اور اللہ کی مدد بھی حاصل ہوگی، سجدے سے یہاں نماز اور یقین سے مراد موت ہے۔(99)