Al-Haqqa( الحاقة)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الحاقَّةُ(1)
١۔١ یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اس میں امر الٰہی ثابت ہوگا اور خود یہ بھی بہر صورت وقوع پذیر ہونے والی ہے، اس لئے اسے الْحَاَقَّۃُ سے تعبیر فرمایا۔(1)
مَا الحاقَّةُ(2)
٢۔١ یہ لفظًا استفہام ہے لیکن اس کا مقصد قیامت کی عظمت اور شان بیان کی گئی ہے۔(2)
وَما أَدرىٰكَ مَا الحاقَّةُ(3)
٣۔١ گویا کہ تجھے اس کا علم نہیں، کیوں کہ تو نے ابھی اسے دیکھا ہے اور نہ اس کی ہولناکیوں کا مشاہدہ کیا ہے، گویا مخلوقات کے دائرہ علم سے باہر ہے (فتح القدیر)(3)
كَذَّبَت ثَمودُ وَعادٌ بِالقارِعَةِ(4)
٤۔١ اس میں قیامت کو کھڑکا دینے والی کہا ہے، اس لئے کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے لوگوں کو بیدار کر دے گی۔(4)
فَأَمّا ثَمودُ فَأُهلِكوا بِالطّاغِيَةِ(5)
٥۔١ اس میں قیام کو کھڑکا دینے والی کہا ہے، اس لئے کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے لوگوں کو بیدار کر دے گی۔(5)
وَأَمّا عادٌ فَأُهلِكوا بِريحٍ صَرصَرٍ عاتِيَةٍ(6)
٦۔١ کسی کے قابو میں نہ آنے والی، یعنی نہایت تند و تیز، پالے والی اور بے قابو ہوا کے ذریعے اسے حضرت ہود علیہ السلام کی قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔(6)
سَخَّرَها عَلَيهِم سَبعَ لَيالٍ وَثَمٰنِيَةَ أَيّامٍ حُسومًا فَتَرَى القَومَ فيها صَرعىٰ كَأَنَّهُم أَعجازُ نَخلٍ خاوِيَةٍ(7)
٧۔١ جسم کے معنی کاٹنے اور جدا جدا کرنے کے ہیں اور بعض نے حسوما کے معنی پے درپے کیے ہیں۔ اس سے ان کی درازی کی طرف اشارہ ہے کھوکھلے بے روح جسم کو کھوکھلے تنے سے تشبیہ دی ہے۔(7)
فَهَل تَرىٰ لَهُم مِن باقِيَةٍ(8)
(8)
وَجاءَ فِرعَونُ وَمَن قَبلَهُ وَالمُؤتَفِكٰتُ بِالخاطِئَةِ(9)
۹۔۱اس سے قوم لوط مراد ہے۔(9)
فَعَصَوا رَسولَ رَبِّهِم فَأَخَذَهُم أَخذَةً رابِيَةً(10)
۱۰۔۱یعنی ان کی ایسی گرفت کی جو دوسری قوموں کی گرفت سے زائد یعنی سب میں سخت تر تھی۔(10)
إِنّا لَمّا طَغَا الماءُ حَمَلنٰكُم فِى الجارِيَةِ(11)
١١۔١ یعنی پانی بلندی میں تجاوز کر گیا، یعنی پانی خوب چڑھ گیا۔ ١١۔٢ کُم سے مخاطب عہد رسالت کے لوگ ہیں، مطلب ہے کہ تم جن آبا کی پشتوں سے ہو، ہم نے انہیں کشتی میں سوار کرکے بپھرے ہوئے پانی سے بچایا تھا۔ اَلْجَارِیَۃ سے مراد سفینہ نوح علیہ السلام ہے۔(11)
لِنَجعَلَها لَكُم تَذكِرَةً وَتَعِيَها أُذُنٌ وٰعِيَةٌ(12)
۱۲۔۱یعنی یہ فعل کہ کافروں کو پانی میں غرق کردیا اور مومنوں کو کشتی میں سوار کرا کے بچا لیا تمہارے لیے اس کو عبرت و نصیحت بنا دیں تاکہ تم اس سے نصیحت حاصل کرو اور اللہ کی نافرمانی سے بچو۔ یعنی سننے والے اسے سن کر یاد رکھیں اور وہ بھی اس سے عبرت پکڑیں۔(12)
فَإِذا نُفِخَ فِى الصّورِ نَفخَةٌ وٰحِدَةٌ(13)
۱۳۔۱مکذبین کا انجام بیان کرنے کے بعد اب بتلایا جارہا ہے کہ یہ الحاقہ کس طرح واقع ہوگی اسرافیل کی ایک ہی پھونک سے یہ برپا ہو جائے گی۔(13)
وَحُمِلَتِ الأَرضُ وَالجِبالُ فَدُكَّتا دَكَّةً وٰحِدَةً(14)
۱٤۔۱یعنی اپنی جگہوں سے اٹھا لیے جائیں گے اور قدرت الہی سے اپنی قرار گاہوں سے ان کو اکھیڑ لیا جائے گا۔(14)
فَيَومَئِذٍ وَقَعَتِ الواقِعَةُ(15)
(15)
وَانشَقَّتِ السَّماءُ فَهِىَ يَومَئِذٍ واهِيَةٌ(16)
١٦۔١ یعنی اس میں کوئی قوت اور استحکام نہیں رہے گا جو چیز پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ اس میں استحکام کس طرح رہ سکتا ہے۔(16)
وَالمَلَكُ عَلىٰ أَرجائِها ۚ وَيَحمِلُ عَرشَ رَبِّكَ فَوقَهُم يَومَئِذٍ ثَمٰنِيَةٌ(17)
١٧۔ ١ یعنی آسمان تو ٹکرے ٹکرے ہو جائے گا پھر فرشتے کہاں ہوںگے فرمایا کہ وہ آسمان کے کناروں پر ہوں گے اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرشتے آسمان پھٹنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم سے زمین پر آجائیں گے۔ یعنی اب مخصوص فرشتوں نے عرش الٰہی کو اپنے سروں پر اٹھایا ہوا ہو گا، یہ بھی ممکن ہے اس عرش سے مراد وہ عرش ہو جو فیصلوں کے لئے زمین پر رکھا جائے گا، جس پر اللہ تعالٰی نزول اجلال فرمائے گا (ابن کثیر)(17)
يَومَئِذٍ تُعرَضونَ لا تَخفىٰ مِنكُم خافِيَةٌ(18)
۱۸۔۱یہ پیشی اس لیے نہیں ہوگی کہ جن کو اللہ نہیں جانتا ان کو جان لے گا وہ تو سب کو ہی جانتا ہے یہ پیشی خود انسانوں پر حجت قائم کرنے کے لیے ہوگی ورنہ اللہ سے تو کسی کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔(18)
فَأَمّا مَن أوتِىَ كِتٰبَهُ بِيَمينِهِ فَيَقولُ هاؤُمُ اقرَءوا كِتٰبِيَه(19)
١٩۔١یعنی جو اس کی سعادت، نجات اور کامیابی کی دلیل ہوگا۔ یعنی وہ مارے خوشی کے ہر ایک کو کہے گا کہ لو، میرا اعمال نامہ پڑھ لو میرا اعمال نامہ تو مجھے مل گیا، اس لئے کہ اسے پتہ ہوگا کہ اس میں اس کی نیکیاں ہی نیکیاں ہوں گی، کچھ برائیاں ہونگی تو اللہ نے معاف فرما دی ہونگی۔(19)
إِنّى ظَنَنتُ أَنّى مُلٰقٍ حِسابِيَه(20)
۲۰۔۱یعنی آخرت کے حساب وکتاب پر میرا کامل یقین تھا۔(20)
فَهُوَ فى عيشَةٍ راضِيَةٍ(21)
(21)
فى جَنَّةٍ عالِيَةٍ(22)
۲۲۔۱جنت میں مختلف درجات ہیں ہر درجے کے درمیان بہت فاصلہ ہے جیسے مجاہدین کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ نے مجاہدین کے تیار کیے ہیں ان کے دو درجوں کے درمیان کا فاصلہ زمین و آسمان جتنا ہے۔ (صحیح مسلم)(22)
قُطوفُها دانِيَةٌ(23)
٢٣۔١ یعنی بالکل قریب ہونگے کوئی لیٹے لیٹے بھی توڑنا چاہے گا تو ممکن ہوگا۔(23)
كُلوا وَاشرَبوا هَنيـًٔا بِما أَسلَفتُم فِى الأَيّامِ الخالِيَةِ(24)
٢٤۔١ یعنی دنیا میں اعمال صالحہ کئے، یہ جنت ان کا صلہ ہے۔(24)
وَأَمّا مَن أوتِىَ كِتٰبَهُ بِشِمالِهِ فَيَقولُ يٰلَيتَنى لَم أوتَ كِتٰبِيَه(25)
٢٥۔١ کیوں کہ نامہ اعمال کا بائیں ہاتھ میں ملنا بدبختی کی علامت ہوگا۔(25)
وَلَم أَدرِ ما حِسابِيَه(26)
٢٦۔١ یعنی مجھے بتلایا ہی نہ جاتا کیوں کہ سارا حساب ان کے خلاف ہوگا۔(26)
يٰلَيتَها كانَتِ القاضِيَةَ(27)
٢٧۔١ یعنی موت ہی فیصلہ کن ہوتی اور دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا تاکہ یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔(27)
ما أَغنىٰ عَنّى مالِيَه ۜ(28)
(28)
هَلَكَ عَنّى سُلطٰنِيَه(29)
٢٩۔١ یعنی جس طرح مال میرے کام نہ آیا، جاہ و مرتبہ اور سلطنت و حکومت بھی میرے کام نہ آئی۔ آج میں اکیلا ہی سزا بھگت رہا ہوں۔(29)
خُذوهُ فَغُلّوهُ(30)
(30)
ثُمَّ الجَحيمَ صَلّوهُ(31)
٣١۔١ یہ اللہ ملائکہ جہنم کو حکم دے گا۔(31)
ثُمَّ فى سِلسِلَةٍ ذَرعُها سَبعونَ ذِراعًا فَاسلُكوهُ(32)
۳۲۔۱ذراع (ہاتھ) یہ کتنا ہوگا اس کی وضاحت ممکن نہیں تاہم اس سے اتنا معلوم ہوا کہ زنجیر کی لمبائی ستر ذراع ہوگی۔(32)
إِنَّهُ كانَ لا يُؤمِنُ بِاللَّهِ العَظيمِ(33)
٣٣۔١ یہ مذکورہ سزا کی علت یا مجرم کے جرم کا بیان ہے۔(33)
وَلا يَحُضُّ عَلىٰ طَعامِ المِسكينِ(34)
٣٤۔١ یعنی عبادت و اطاعت کے ذریعے سے اللہ کا حق ادا کرتا تھا اور نہ وہ حقوق ادا کرتا تھا جو بندوں کے بندوں پر ہیں۔ گویا اہل ایمان میں یہ جامعیت ہوتی ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔(34)
فَلَيسَ لَهُ اليَومَ هٰهُنا حَميمٌ(35)
(35)
وَلا طَعامٌ إِلّا مِن غِسلينٍ(36)
۳ ٦ ۔۱بعض کہتے ہیں کہ یہ جہنم میں کوئی درخت ہے بعض کہتے ہیں کہ زقوم ہی کو غسلین کہا گیا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ جہنمیوں کی پیپ یا ان کے جسموں سے نکلنے والا خون اور بدبودار ہوگا۔ اللہ ہمیں اس سے محفوظ فرمائے۔آمین۔(36)
لا يَأكُلُهُ إِلَّا الخٰطِـٔونَ(37)
۳۷۔۱خاطئون سے مراد اہل جہنم ہیں جو کفر و شرک کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے اس لیے کہ یہ گناہ ایسے ہیں جو خلود فی النار کا سبب ہیں۔(37)
فَلا أُقسِمُ بِما تُبصِرونَ(38)
(38)
وَما لا تُبصِرونَ(39)
٣٩۔١ یعنی اللہ کی پیدا کردہ وہ چیزیں، جو اللہ کی ذات اور اس کی قدرت و طاقت پر دلالت کرتی ہیں، جنہیں تم دیکھتے ہو یا نہیں دیکھتے، ان سب کی قسم ہے۔ آگے جواب قسم ہے۔(39)
إِنَّهُ لَقَولُ رَسولٍ كَريمٍ(40)
٤٠۔١ بزرگ رسول سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور قول سے مراد تلاوت ہے یعنی رسول کریم سے مراد ایسا قول ہے جو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تمہیں پہنچاتا ہے۔ کیونکہ قرآن، رسول یا جبرائیل علیہ السلام کا قول نہیں ہے، بلکہ اللہ کا قول ہے جو اس نے فرشتے کے ذریعے سے پیغمبر پر نازل فرمایا ہے، پھر پیغمبر اسے لوگوں تک پہنچاتا ہے۔(40)
وَما هُوَ بِقَولِ شاعِرٍ ۚ قَليلًا ما تُؤمِنونَ(41)
٤۱۔۱جیسا کہ تم سمجھتے ہو اور کہتے ہو اس لیے کہ یہ اصناف شعر سے نہ اس کے مشابہ ہے پھر یہی کسی شاعر کا کلام کس طرح ہو سکتا ہے۔(41)
وَلا بِقَولِ كاهِنٍ ۚ قَليلًا ما تَذَكَّرونَ(42)
٤۲۔۱جیسا کہ تم بعض دفعہ تم یہ دعوی کرتے ہو حالانکہ کہانت بھی ایک دوسری چیز ہے۔قلت دونوں جگہ نفی کے معنی میں ہے یعنی تم نہ قرآن پر ایمان لاتے ہو نہ نصیحت پر عمل کرتے ہو۔(42)
تَنزيلٌ مِن رَبِّ العٰلَمينَ(43)
٤۳۔۱یعنی رسول کی زبان سے ادا ہونے والا یہ قول رب العالمین کا اتارا ہوا کلام ہے اسے تم کبھی شاعری اور کبھی کہانت کہہ کر اس کی تکذیب کرتے ہو۔(43)
وَلَو تَقَوَّلَ عَلَينا بَعضَ الأَقاويلِ(44)
٤٤۔١ یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کر دیتا، یا اس میں کمی بیشی کر دیتا، تو ہم فوراً اس کا مؤاخذہ کرتے اور اسے ڈھیل نہ دیتے جیسا کہ اگلی آیات میں فرمایا۔(44)
لَأَخَذنا مِنهُ بِاليَمينِ(45)
٤٥۔١ یا دائیں ہاتھ کے ساتھ اس کی گرفت کرتے، اس لئے کہ دائیں ہاتھ سے گرفت زیادہ سخت ہوتی ہے۔ اور اللہ کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں۔(45)
ثُمَّ لَقَطَعنا مِنهُ الوَتينَ(46)
٤٦۔١ خیال رہے یہ سزا، خاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں بیان کی گئی ہے جس سے مقصد آپ کی صداقت کا اظہار ہے۔ اس میں یہ اصول بیان نہیں کیا گیا ہے کہ جو بھی نبوت کا جھوٹا وعدہ کرے تو جھوٹے مدعی کو ہم فورا سزا سے دوچار کردیں گے لہذا اس سے کسی جھوٹے نبی کو اس لیے سچا باور نہیں کرایا جاسکتا کہ دنیا میں وہ مؤخذہ الہی سے بچا رہا۔(46)
فَما مِنكُم مِن أَحَدٍ عَنهُ حٰجِزينَ(47)
٤٧۔١ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول تھے، جن کو اللہ نے سزا نہیں دی، بلکہ دلائل و معجزات اور اپنی خاص تائید و نصرت سے انہیں نوازا۔(47)
وَإِنَّهُ لَتَذكِرَةٌ لِلمُتَّقينَ(48)
٤۸۔۱کیونکہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ورنہ قرآن تو سارے ہی لوگوں کے لیے نصیحت لے کر آیا ہے۔(48)
وَإِنّا لَنَعلَمُ أَنَّ مِنكُم مُكَذِّبينَ(49)
(49)
وَإِنَّهُ لَحَسرَةٌ عَلَى الكٰفِرينَ(50)
٥٠۔١ یعنی قیامت والے دن اس پر حسرت کریں گے، کہ کاش ہم نے قرآن کی تکذیب نہ کی ہوتی۔ یا یہ قرآن بجائے خود ان کے لئے حسرت کا باعث ہوگا، جب وہ اہل ایمان کو قرآن کا اجر ملتے ہوئے دیکھیں گے۔(50)
وَإِنَّهُ لَحَقُّ اليَقينِ(51)
٥١۔١ یعنی قرآن اللہ کی طرف سے ہونا بالکل یقینی ہے، اس میں قطعًا شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ یا قیامت کی بابت جو خبر دی جا رہی ہے، وہ بالکل حق اور سچ ہے۔(51)
فَسَبِّح بِاسمِ رَبِّكَ العَظيمِ(52)
٥٢۔١ جس نے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب نازل فرمائی۔(52)