Al-Ghaafir( غافر)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ حم(1)
(1)
تَنزيلُ الكِتٰبِ مِنَ اللَّهِ العَزيزِ العَليمِ(2)
اس سورت کو سورہ غافر اور سورہ، الطول بھی کہتے ہیں ۔ ٢۔١ تَنْزِیْل مُنَزَّل کے معنی میں ہے، یعنی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے جس میں جھوٹ نہیں ٢۔٢ جو غالب ہے، اس کی قوت اور غلبے کے سامنے کوئی پر نہیں مار سکتا۔ علیم ہے، اس سے کوئی ذرہ تک پوشیدہ نہیں چاہے وہ کتنے بھی کثیف پردوں میں چھپا ہو۔(2)
غافِرِ الذَّنبِ وَقابِلِ التَّوبِ شَديدِ العِقابِ ذِى الطَّولِ ۖ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ إِلَيهِ المَصيرُ(3)
٣۔١ گزشتہ گناہ معاف کرنے والا اور مستقبل میں ہونے والی کوتاہیوں پر توبہ قبول کرنے والا ہے یا اپنے دوستوں کے لئے غافر ہے اور کافر اور مشرک اگر توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ ۳۔۲ ان کے لیے جو آخرت پر دنیا کو ترجیح دیں اور تمرد و طغیان کا راستہ اختیار کریں یہ اللہ کے اس قول کی طرح ہی ہے نبیء عبادی انی انا الغفور الرحیم وان عذابی ہو العذاب الالیم (الحجر) میرے بندوں کو بتلا دو کہ میں غفور و رحیم ہوں اور میرا عذاب بھی نہایت دردناک ہے قرآن کریم میں اکثر جگہ یہ دونوں وصف ساتھ ساتھ بیان کیے گئے ہیں تاکہ انسان خوف اور رجا کے درمیان رہے کیونکہ محض خوف ہی خوف انسان کو رحمت و مغفرت الہی سے مایوس کر سکتا ہے اور نری امید گناہوں پر دلیر کر دیتی ہے۔ ۳۔۳ طول کے معنی فراخی اور تونگری کے ہیں یعنی وہی فراخی اور تونگری عطا کرنے والا ہے بعض کہتے ہیں اس کے معنی ہیں انعام اور تفضل یعنی اپنے بندوں پر انعام اور فضل کرنے والا ہے۔(3)
ما يُجٰدِلُ فى ءايٰتِ اللَّهِ إِلَّا الَّذينَ كَفَروا فَلا يَغرُركَ تَقَلُّبُهُم فِى البِلٰدِ(4)
٤۔۱ اس جھگڑے سے مراد ناجائز اور باطل جھگڑا ہے جس کا مقصد حق کی تکذیب اور اس کی تردید و تغلیظ ہے ورنہ جس جدال بحث ومناظرہ کا مقصد ایضاح حق، ابطال باطل اور منکرین و معترضین کے شبہات کا ازالہ ہو وہ مذموم نہیں نہایت محمود و مستحسن ہے بلکہ اہل علم کو تو اس کی تاکید کی گئی ہے لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ (آل عمران) تم اسے لوگوں کے سامنے ضرور بیان کرنا اسے چھپانا نہیں بلکہ اللہ کی نازل کردہ کتاب کے دلائل وبراہین کو چھپانا اتنا سخت جرم ہے کہ اس پر کائنات کی ہرچیز لعنت کرتی ہے البقرہ ٤۔۲ یعنی یہ کافر اور مشرک جو تجارت کرتے ہیں اس کے لئے مختلف شہروں میں آتے جاتے ہیں اور کثیر منافع حاصل کرتے ہیں، یہ اپنے کفر کی وجہ سے جلد ہی مؤاخذہ الٰہی میں آ جائیں گے، یہ مہلت ضرور دیئے جا رہے ہیں لیکن انہیں چھوڑا نہیں جائے گا۔(4)
كَذَّبَت قَبلَهُم قَومُ نوحٍ وَالأَحزابُ مِن بَعدِهِم ۖ وَهَمَّت كُلُّ أُمَّةٍ بِرَسولِهِم لِيَأخُذوهُ ۖ وَجٰدَلوا بِالبٰطِلِ لِيُدحِضوا بِهِ الحَقَّ فَأَخَذتُهُم ۖ فَكَيفَ كانَ عِقابِ(5)
٥۔١ تاکہ اسے قید یا قتل کر دیں یا سزا دیں۔ ٥۔٢ یعنی اپنے رسولوں سے انہوں نے جھگڑا کیا، جس سے مقصود حق بات میں کیڑے نکالنا اور اسے کمزور کرنا تھا۔ ٥۔٣ چنانچہ میں نے ان حامیان باطل کو اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس تم دیکھ لو ان کے حق میں میرا عذاب کس طرح آیا اور کیسے انہیں حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا یا انہیں نشان عبرت بنا دیا۔(5)
وَكَذٰلِكَ حَقَّت كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذينَ كَفَروا أَنَّهُم أَصحٰبُ النّارِ(6)
٦۔٤ مقصد اس سے اس بات کا اظہار ہے کہ جس طرح پچھلی امتوں پر تیرے رب کا عذاب ثابت ہوا اور وہ تباہ کر دی گئیں اگر یہ اہل مکہ بھی تیری تکذیب اور مخالفت سے باز نہ آئے اور جدل بالباطل کو ترک نہ کیا تو یہ بھی اسی طرح عذاب الہی کی گرفت میں آ جائیں گے پھر کوئی انہیں بچانے والا نہیں ہوگا۔(6)
الَّذينَ يَحمِلونَ العَرشَ وَمَن حَولَهُ يُسَبِّحونَ بِحَمدِ رَبِّهِم وَيُؤمِنونَ بِهِ وَيَستَغفِرونَ لِلَّذينَ ءامَنوا رَبَّنا وَسِعتَ كُلَّ شَيءٍ رَحمَةً وَعِلمًا فَاغفِر لِلَّذينَ تابوا وَاتَّبَعوا سَبيلَكَ وَقِهِم عَذابَ الجَحيمِ(7)
۷۔۱ اس میں ملائکہ مقربین کے ایک خاص گروہ کا تذکرہ اور وہ جو کچھ کرتے ہیں اس کی وضاحت ہے یہ گروہ ہے ان فرشتوں کا جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو عرش کے ارد گرد ہیں ان کا ایک کام یہ ہے کہ یہ اللہ کی تسبیح و تحمید کرتے ہیں یعنی نقائص سے اس کی تنزیہ کمالات اور خوبیوں کا اس کیلیے اثبات اور اس کے سامنے عجز وتذلل یعنی ایمان کا اظہار کرتے ہیں دوسرا کام ان کا یہ ہے کہ یہ اہل ایمان کیلیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں کہا جاتا ہے کہ عرش کو اٹھانے والے فرشتے چار ہیں مگر قیامت والے دن ان کی تعداد آٹھ ہوگی۔ ابن کثیر(7)
رَبَّنا وَأَدخِلهُم جَنّٰتِ عَدنٍ الَّتى وَعَدتَهُم وَمَن صَلَحَ مِن ءابائِهِم وَأَزوٰجِهِم وَذُرِّيّٰتِهِم ۚ إِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الحَكيمُ(8)
٨۔١ یعنی ان سب کو جنت میں جمع فرما دے تاکہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ٰ ہوں اس مضمون کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا ہے۔ ' وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہی کی پیروی ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ کی۔ ملا دیا ہم نے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو اور ہم نے ان کے عملوں میں سے کچھ کم نہیں کیا ' یعنی سب کو جنت میں اس طرح یکساں مرتبہ دے دیا کہ ادنیٰ کو بھی اعلٰی مقام عطا کر دیا۔ یہ نہیں کیا کہ اعلٰی مقام میں کمی کر کے انہیں ادنیٰ مقام پر لے آئے، بلکہ اد نیٰ کو اٹھا کر اعلیٰ کر دیا اور اس کے عمل کی کمی کو اپنے فضل و کرم سے پورا کر دیا (الطور۔٢١)(8)
وَقِهِمُ السَّيِّـٔاتِ ۚ وَمَن تَقِ السَّيِّـٔاتِ يَومَئِذٍ فَقَد رَحِمتَهُ ۚ وَذٰلِكَ هُوَ الفَوزُ العَظيمُ(9)
٩۔١ سیأت سے مراد یہاں عقوبات ہیں یا پھر جزا محذوف ہے یعنی انہیں آخرت کی سزاؤں سے یا برائیوں کی جزا سے بچانا۔ ۹۔۲ یعنی آخرت کے عذاب سے بچ جانا اور جنت میں داخل ہو جانا یہی سب سے بڑی کامیابی ہے اس لیے کہ اس جیسی کوئی کامیابی نہیں اور اس کے برابر کوئی نجات نہیں ان آیات میں اہل ایمان کے لیے دو عظیم خوش خبریاں ہیں ایک تو یہ کہ فرشتے ان کے لیے غائبانہ دعا کرتے ہیں جس کی حدیث میں بڑی فضلیت وارد ہے دوسری یہ کہ اہل ایمان کے خاندان جنت میں اکٹھے ہو جائیں گے جعلنا اللہ من الذین یلحقھم اللہ بابائھم الصالحین۔(9)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا يُنادَونَ لَمَقتُ اللَّهِ أَكبَرُ مِن مَقتِكُم أَنفُسَكُم إِذ تُدعَونَ إِلَى الإيمٰنِ فَتَكفُرونَ(10)
١٠۔١ مقت سخت ناراضی کو کہتے ہیں اہل کفر جو اپنے کو جہنم کی آگ میں جھلستے دیکھیں گے تو اپنے آپ پر سخت ناراض ہونگے، اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں جب تمہیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم انکار کرتے تھے، تو اللہ تعالٰی اس سے کہیں زیادہ تم پر ناراض ہوتا تھا جتنا تم آج اپنے آپ پر ہو رہے ہو۔ یہ اللہ کی اس ناراضی ہی کا نتیجہ ہے کہ آج تم جہنم میں ہو۔(10)
قالوا رَبَّنا أَمَتَّنَا اثنَتَينِ وَأَحيَيتَنَا اثنَتَينِ فَاعتَرَفنا بِذُنوبِنا فَهَل إِلىٰ خُروجٍ مِن سَبيلٍ(11)
١١۔١ جمہور مفسرین کی تفسیر کے مطابق دو موتوں میں سے پہلی موت تو وہ نطفہ ہے کو باپ کی پشت میں ہوتا ہے یعنی انسان کے وجود سے پہلے اس کے عدم وجود کو موت تے تعبیر کیا گیا ہے اور دوسری موت وہ ہے جس سے انسان اپنی زندگی گزار کر ہمکنار ہوتا اور اس کے بعد قبر میں دفن ہوتا ہے اور دو زندگیوں میں سے پہلی زندگی یہ دنیاوی زندگی ہے جس کا آغاز ولادت سے اور اختتام وفات پر ہوتا ہے اور دوسری زندگی وہ ہے جو قیامت والے دن قبروں سے اٹھنے کے بعد حاصل ہوگی انہی دو موتوں اور دو زندگیوں کا تذکرہ وکنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم البقرۃ میں بھی کیا گیا ہے۔ ١١۔۲ یعنی جہنم میں اعتراف کریں گے، جہاں اعتراف کا کوئی فائدہ نہیں اور وہاں پشیمان ہونگے جہاں پیشمانی کی کوئی حیثیت نہیں۔ ١١۔۳ یہ وہی خواہش ہے جس کا تذکرہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے کہ ہمیں دوبارہ زمین پر بھیج دیا جائے تاکہ ہم نیکیاں کما کر لائیں۔(11)
ذٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذا دُعِىَ اللَّهُ وَحدَهُ كَفَرتُم ۖ وَإِن يُشرَك بِهِ تُؤمِنوا ۚ فَالحُكمُ لِلَّهِ العَلِىِّ الكَبيرِ(12)
۱۲۔۱یہ ان کے جہنم سے نہ نکالے جانے کا سبب بیان فرمایا کہ تم دنیا میں اللہ کی توحید کے منکر تھے اور شرک تمہیں مرغوب تھا اس لیے اب جہنم کے دائمی عذاب کے سوا تمہارے لیے کچھ نہیں۔ ۱۲۔۲اسی ایک اللہ کا حکم ہے کہ اب تمہارے لیے جہنم کا عذاب ہمیشہ کے لیے ہے اور اس سے نکلنے کی کوئی سبیل نہیں۔ جو اعلیٰ یعنی ان باتوں سے بلند ہے کہ اس کی ذات یا صفات میں کوئی اس جیسا ہو اور کبیر یعنی ان باتوں سے بہت بڑا ہے کہ اس کی کوئی مثل ہو یا بیوی اور اولاد ہو یا شریک ہو۔(12)
هُوَ الَّذى يُريكُم ءايٰتِهِ وَيُنَزِّلُ لَكُم مِنَ السَّماءِ رِزقًا ۚ وَما يَتَذَكَّرُ إِلّا مَن يُنيبُ(13)
١٣۔١ یعنی پانی جو تمہارے لئے تمہاری روزیوں کا سبب ہے یہاں اللہ تعالٰی نے اظہار آیات کو انزال رزق کے ساتھ جمع کر دیا اس لئے کہ آیات قدرت کا اظہار، مذا ہب کی بنیاد ہے اور روزیاں اجسام کی بنیاد ہیں، یوں دونوں بنیادوں کو جمع فرما دیا ہے۔ (فتح القدیر) ١٣۔١ اللہ کی اطاعت کی طرف جس سے ان کے دلوں میں آخرت کا خوف پیدا ہوتا ہے اور احکام و فرائض الہی کی پایندی کرتے ہیں۔(13)
فَادعُوا اللَّهَ مُخلِصينَ لَهُ الدّينَ وَلَو كَرِهَ الكٰفِرونَ(14)
۱٤۔۱ یعنی جب سب کچھ اللہ ہی اکیلا کرنے والا ہے تو کافروں کو چاہے کتنا بھی ناگوار گزرے صرف اسی ایک اللہ کو پکارو اس کے لیے عبادت و اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔(14)
رَفيعُ الدَّرَجٰتِ ذُو العَرشِ يُلقِى الرّوحَ مِن أَمرِهِ عَلىٰ مَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ لِيُنذِرَ يَومَ التَّلاقِ(15)
۱٥۔۱ روح سے مراد وحی ہے جو وہ بندوں میں سے ہی کسی کو رسالت کے لیے چن کر اس پر نازل فرماتا ہے وحی کو روح سے اس لیے تعبیر فربایا کہ جس طرح روح میں انسانی زندگی کی بقا و سلامتی کا راز مضمر ہے اسی طرح وحی سے بھی ان انسانی قلوب میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے جو پہلے کفر وشرک کی وجہ سے مردہ ہوتے ہیں۔(15)
يَومَ هُم بٰرِزونَ ۖ لا يَخفىٰ عَلَى اللَّهِ مِنهُم شَيءٌ ۚ لِمَنِ المُلكُ اليَومَ ۖ لِلَّهِ الوٰحِدِ القَهّارِ(16)
١٦۔١ یعنی زندہ ہو کر قبروں سے نکل کھڑے ہونگے۔ ١٦۔١ یہ قیامت والے دن اللہ تعالٰی پوچھے گا جب سارے انسان اس کے سامنے میدان محشر میں جمع ہوں گے اللہ تعالٰی زمین کو اپنی مٹھی میں اور آسمان کو اپنے دا‏ئیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور کہے گا میں بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ (صحیح بخاری)، ١٦۔١ جب کوئی نہیں بولے گا تو یہ جواب اللہ تعالٰی خود ہی دے گا بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کے حکم سے ایک فرشتہ منادی کرے گا جس کے ساتھ ہی تمام کافر اور مسلمان بیک آواز یہی جواب دیں گے۔ فتح القدیر(16)
اليَومَ تُجزىٰ كُلُّ نَفسٍ بِما كَسَبَت ۚ لا ظُلمَ اليَومَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَريعُ الحِسابِ(17)
١٧۔١ اس لئے کہ اسے بندوں کی طرح غورو فکر کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔(17)
وَأَنذِرهُم يَومَ الءازِفَةِ إِذِ القُلوبُ لَدَى الحَناجِرِ كٰظِمينَ ۚ ما لِلظّٰلِمينَ مِن حَميمٍ وَلا شَفيعٍ يُطاعُ(18)
١٨۔١ َ اَزِفَۃ کے معنی ہیں قریب آنے والی۔ یہ قیامت کا نام ہے، اس لئے کہ وہ بھی قریب آنے والی ہے۔ ١٨۔(۲) یعنی اس دن خوف کی وجہ سے دل اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے کاظمین غم سے بھرے ہوئے یا روتے ہوئے یا خاموش اس کے تینوں معنی کیے گئے ہیں۔(18)
يَعلَمُ خائِنَةَ الأَعيُنِ وَما تُخفِى الصُّدورُ(19)
اس میں اللہ تعالٰی کے علم کامل کا بیان ہے کہ اسے تمام اشیا کا علم ہے چھوٹی ہو یا بڑی باریک ہو یا موٹی اعلی مرتبے کی ہو یا چھوٹے مرتبے کی اس لیے انسان کو چاہیے کہ جب اس کے علم واحاطہ کا یہ حال ہے تو اس کی نافرمانی سے اجتناب اور صحیح معنوں میں اس کا خوف اپنے اندر پیدا کرے آنکھوں کی خیانت یہ ہے کہ دزدیدہ نگاہوں سے دیکھا جائے جیسے راہ چلتے کسی حسین عورت کو کنکھیوں سے دیکھنا سینوں کی باتوں میں وہ وسوسے بھی آ جاتے ہیں جو انسان کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں وہ جب تک وسوسے ہی رہتے ہیں یعنی ایک لمحہ گزراں کی طرح آتے اور ختم ہو جاتے ہیں تب تک تو وہ قابل مواخذہ نہیں ہوگے لیکن جب وہ عزائم کا روپ دھار لیں تو پھر ان کا مواخذہ ہو سکتا ہے چاہے ان پر عمل کرنے کا انسان کو موقع نہ ملے۔(19)
وَاللَّهُ يَقضى بِالحَقِّ ۖ وَالَّذينَ يَدعونَ مِن دونِهِ لا يَقضونَ بِشَيءٍ ۗ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّميعُ البَصيرُ(20)
٢٠۔١ اس لئے کہ انہیں کسی چیز کا علم ہے نہ کسی پر قدرت، وہ بے خبر بھی ہیں اور بے اختیار بھی، جب کہ فیصلے کے لئے علم اور اختیار دونوں چیزوں کی ضرورت ہے اور یہ دونوں خوبیاں صرف اللہ کے پاس ہیں۔ اس لئے صرف اسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ فیصلہ کرے اور وہ یقینا حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا، کیونکہ اسے کسی کا خوف ہوگا نہ کسی سے حرص و طمع۔(20)
۞ أَوَلَم يَسيروا فِى الأَرضِ فَيَنظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ الَّذينَ كانوا مِن قَبلِهِم ۚ كانوا هُم أَشَدَّ مِنهُم قُوَّةً وَءاثارًا فِى الأَرضِ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنوبِهِم وَما كانَ لَهُم مِنَ اللَّهِ مِن واقٍ(21)
۲۱۔۱ گزشنہ آیات میں احوال آخرت کا بیان تھا اب دنیا کے احوال سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ ذرا زمین میں چل پھر کر ان قوموں کا انجام دیکھیں جو ان سے پہلے اس جرم تکذیب میں ہلاک کی گئیں جس کا ارتکاب یہ کر رہے ہیں دراں حالیکہ گزشتہ قومیں قوت و آثار میں ان سے کہیں بڑھ کر تھیں لیکن جب ان پر اللہ کا عذاب آیا تو انہیں کوئی نہیں بجا سکا اسی طرح تم پر بھی عذاب آ سکتا ہے اور اگر آ گیا تو پھر کوئی تمہارا پشت پناہ نہ ہوگا۔(21)
ذٰلِكَ بِأَنَّهُم كانَت تَأتيهِم رُسُلُهُم بِالبَيِّنٰتِ فَكَفَروا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّهُ قَوِىٌّ شَديدُ العِقابِ(22)
٢٢۔١ یہ ان کی ہلاکت کی وجہ بیان کی گئی ہے، اور وہ ہے اللہ کی آیتوں کا انکار اور پیغمبروں کی تکذیب۔ اب سلسلہ نبوت و رسالت تو بند ہے۔ تاہم آفاق پر انس میں بے شمار آیات الٰہی بکھری اور پھیلی ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں وعظ وتذکیر اور دعوت وتبلیغ کے ذریعے سے علماء اور داعیان حق ان کی وضاحت اور نشاندہی کے لیے موجود ہیں اس لیے آج بھی جو آیات الہی سے اعراض اور دین وشریعت سے غفلت کرے گا اس کا انجام مکذبین اور منکرین رسالت سے مختلف نہیں ہوگا۔(22)
وَلَقَد أَرسَلنا موسىٰ بِـٔايٰتِنا وَسُلطٰنٍ مُبينٍ(23)
۲۳۔۱ آیات سے مراد وہ نشانیاں بھی ہو سکتی ہیں جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے یا عصا اور ید بیضا والے دو بڑے واضح معجزات بھی سلطان مبین سے مراد قوی دلیل اور حجت واضحہ جس کا کوئی جواب ان کی طرف سے ممکن نہیں تھا بجز ڈھٹائی اور بے شرمی کے۔(23)
إِلىٰ فِرعَونَ وَهٰمٰنَ وَقٰرونَ فَقالوا سٰحِرٌ كَذّابٌ(24)
۲٤۔۱ فرعون مصر میں آباد قبط کا بادشاہ تھا بڑا ظالم وجابر اور رب اعلی ہونے کا دعوے دار اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا اور اس پر طرح طرح کی سختیاں کرتا تھا جیسا کہ قرآن کے متعدد مقامات پر اس کی تفصیل ہے ہامان فرعون کا وزیر اور مشیر خاص تھا قارون اپنے وقت کا مال دار ترین آدمی تھا ان سب نے پہلے لوگوں کی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تکذیب کی اور انہیں جادوگر اور کذاب کہا جیسے دوسرے مقام پر فرمایا گیا کذلک ما اتی الذین من قبلھم من رسول الا قالو ساحر او مجنون اتواصوابہ بل ھم قوم طاغون اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کے پاس جو بھی نبی آیا انہوں نے کہہ دیا کہ یا تو یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے کیا یہ اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے گئے ہیں؟نہیں بلکہ یہ سب کے سب سرکش ہیں۔(24)
فَلَمّا جاءَهُم بِالحَقِّ مِن عِندِنا قالُوا اقتُلوا أَبناءَ الَّذينَ ءامَنوا مَعَهُ وَاستَحيوا نِساءَهُم ۚ وَما كَيدُ الكٰفِرينَ إِلّا فى ضَلٰلٍ(25)
٢٥۔١فرعون یہ کام پہلے بھی کر رہا تھا تاکہ وہ بچہ پیدا نہ ہو جو نجومیوں کی پیش گوئی کے مطابق اس کی بادشاہت کے لیے خطرے کا تھا یہ دوبارہ حکم اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تذلیل واہانت کے لیے دیا نیز تاکہ بنی اسرائیل موسیٰ علیہ السلام کے وجود کو اپنے لیے مصبیت اور نحوست کا باعث سمجھیں جیسا کہ فی الواقع انہوں نے کہا اوذینا من قبل ان تاتینا و من بعد ماجئتنا (الاعراف) اے موسیٰ علیہ السلام تیرے آنے سے قبل بھی ہم اذیتوں سے دو چار تھے اور تیرے آنے کے بعد بھی ہمارا یہی حال ہے۔٢٥۔١ یعنی اس سے جو مقصد وہ حاصل کرنا چاہتا تھا کہ بنی اسرائیل کی قوت میں اضافہ اور اس کی عزت میں کمی نہ ہو۔ یہ اسے حاصل نہیں ہوا، بلکہ اللہ نے فرعون اور اس کی قوم ہی غرق کر دیا اور بنی اسرائیل کو بابرکت زمین کا وارث بنا دیا۔(25)
وَقالَ فِرعَونُ ذَرونى أَقتُل موسىٰ وَليَدعُ رَبَّهُ ۖ إِنّى أَخافُ أَن يُبَدِّلَ دينَكُم أَو أَن يُظهِرَ فِى الأَرضِ الفَسادَ(26)
٢٦۔١ یہ غالبًا فرعون نے ان لوگوں سے کہا جو اسے موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے سے منع کرتے تھے۔ ٢٦۔٢ یہ فرعون کی دیدہ دلیری کا اظہار ہے کہ میں دیکھوں گا، اس کا رب اسے کیسے بچاتا ہے، اسے پکار کر دیکھ لے۔ یا رب ہی کا انکار ہے کہ اس کا کون سا رب ہے جو بچا لے گا، کیونکہ رب تو وہ اپنے آپ کو کہتا تھا۔ ٢٦۔۳ یعنی غیر اللہ کی عبادت سے ہٹا کر ایک اللہ کی عبادت پر نہ لگا دے یا اس کی وجہ سے فساد نہ پیدا ہو جائے مطلب یہ تھا کہ اس کی دعوت اگر میری قوم کے کچھ لوگوں نے قبول کرلی تو وہ نہ قبول کرنے والوں سے بحث وتکرار کریں گے جس سے ان کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوگا جو فساد کا ذریعہ بنے گا یوں دعوت توحید کو اس نے قساد کا سبب اور اہل توحید کو فسادی قرار دیا درآں حالیکہ فسادی وہ خود تھا اور غیر اللہ کی عبادت ہی فساد کی جڑ ہے۔(26)
وَقالَ موسىٰ إِنّى عُذتُ بِرَبّى وَرَبِّكُم مِن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لا يُؤمِنُ بِيَومِ الحِسابِ(27)
۲۷۔۱ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علم میں جب یہ بات آئی کہ فرعون مجھے قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو انہوں نے اللہ سے اس کے شر سے بچنے کیلیے دعا مانگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دشمن کا خوف ہوتا تو یہ دعا پڑھتے اللھم انا نجعلک فی نحورھم ونعوذ بک من شرور ھم مسند احمد اے اللہ ہم تجھ کو ان کے مقابلے میں کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں۔(27)
وَقالَ رَجُلٌ مُؤمِنٌ مِن ءالِ فِرعَونَ يَكتُمُ إيمٰنَهُ أَتَقتُلونَ رَجُلًا أَن يَقولَ رَبِّىَ اللَّهُ وَقَد جاءَكُم بِالبَيِّنٰتِ مِن رَبِّكُم ۖ وَإِن يَكُ كٰذِبًا فَعَلَيهِ كَذِبُهُ ۖ وَإِن يَكُ صادِقًا يُصِبكُم بَعضُ الَّذى يَعِدُكُم ۖ إِنَّ اللَّهَ لا يَهدى مَن هُوَ مُسرِفٌ كَذّابٌ(28)
٢٨۔١ یعنی اللہ کی ربوبیت پر وہ ایمان یوں ہی نہیں رکھتا، بلکہ اس کے پاس اپنے اس موقف کی واضح دلیلیں ہیں۔ ٢٨۔ یہ اس نے بطور تنزل کے کہا کہ اگر اس کے دلائل سے تم مطمئن نہیں اور اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے اس سے تعرض نہ کیا جائے اگر وہ جھوٹا ہے تو اللہ تعالٰی خود ہی اسے اس جھوٹ کی سزا دنیا و آخرت میں دے دے گا اور اگر وہ سچا ہے اور تم نے اسے ایذائیں پہنچائیں تو پھر یقینا وہ نمہیں جن عذابوں سے ڈراتا ہے تم پر ان میں سے کوئی عذاب آ سکتا ہے۔ ٢٨۔۳ اس کا مطلب ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہوتا جیسا کہ تم باور کراتے ہو تو اللہ تعالٰی اسے دلائل معجزات سے نہ نوازتا جب کہ اس کے پاس یہ چیزیں موجود ہیں دوسرا مطلب ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اللہ تعالٰی خود ہی اسے ذلیل اور ہلاک کر دے گا تمہیں اس کے خلاف کوئی اقدام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔(28)
يٰقَومِ لَكُمُ المُلكُ اليَومَ ظٰهِرينَ فِى الأَرضِ فَمَن يَنصُرُنا مِن بَأسِ اللَّهِ إِن جاءَنا ۚ قالَ فِرعَونُ ما أُريكُم إِلّا ما أَرىٰ وَما أَهديكُم إِلّا سَبيلَ الرَّشادِ(29)
٢٩۔١ یعنی یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ تمہیں زمین پر غلبہ عطا فرمایا اس کا شکر ادا کرو اور اس کے رسول کی تکذیب کر کے اللہ کی ناراضی مول نہ لو۔ ٢٩۔۲ یہ فوجی لشکر تمہارے کچھ کام نہ آئیں گے، نہ اللہ کے عذاب ہی کو ٹال سکیں گے اگر وہ آ گیا۔ یہاں تک اس مومن کا کلام تھا جو ایمان چھپائے ہوئے تھا۔ ٢٩۔۳ فرعون نے اپنے دنیاوی جاہ جلال کی بنیاد پر جھوٹ بولا اور کہا کہ میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں وہی تمہیں بتلا رہا ہوں اور میری بتلائی ہوئی راہ ہی صحیح ہے حالانکہ ایسا نہیں تھا وما امر فرعون برشید (ھود)(29)
وَقالَ الَّذى ءامَنَ يٰقَومِ إِنّى أَخافُ عَلَيكُم مِثلَ يَومِ الأَحزابِ(30)
(30)
مِثلَ دَأبِ قَومِ نوحٍ وَعادٍ وَثَمودَ وَالَّذينَ مِن بَعدِهِم ۚ وَمَا اللَّهُ يُريدُ ظُلمًا لِلعِبادِ(31)
٣١۔١ یہ اس مومن آدمی نے دوبارہ اپنی قوم کو ڈرایا کہ اگر اللہ کے رسول کی تکذیب (جھٹلایا) پر ہم اڑے رہے تو خطرہ ہے کہ گزشتہ قوموں کی طرح عذاب الٰہی کی گرفت میں آ جائیں گے ۔ ٣١۔۲یعنی اللہ نے جن کو بھی ہلاک کیا ان کے گناہوں کی پاداش میں اور رسولوں کی تکذیب ومخالفت کی وجہ سے ہی ہلاک کیا ورنہ وہ شفیق ورحیم رب اپنے بندوں پر ظلم کرنے کا ارادہ ہی نہیں کرتا گویا قوموں کی ہلاکت یہ ان پر اللہ کا ظلم نہیں ہے بلکہ قانون مکافات کا ایک لازمی نتیجہ ہے جس سے کوئی قوم اور فرد مستثنی نہیں از مکافات عمل غافل مشو گندم از گندم بروید جو از جو(31)
وَيٰقَومِ إِنّى أَخافُ عَلَيكُم يَومَ التَّنادِ(32)
٣٢۔١تنادی کے معنی ہیں۔ ایک دوسرے کو پکارنا، قیامت کو یَوْمَ التَّنَادِ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس دن ایک دوسرے کو پکاریں گے۔ اہل جنت اہل نار کو اور اہل نار اہل جنت کو ندائیں دیں گے۔ (الاعراف۔ ٤٨،٤٩)۔ بعض کہتے ہیں کہ میزان کے پاس ایک فرشتہ ہوگا جس کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا اس کی بد بختی کا یہ فرشتہ چیخ کر اعلان کرے گا بعض کہتے ہیں کہ عملوں کے مطابق لوگوں کو پکارا جائے گا جیسے اہل جنت کو اے جنتیو! اور اہل جہتم کو اے جہنمیو! امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ امام بغوی کا یہ قول بہت اچھا ہے کہ ان تمام باتوں ہی کی وجہ سے یہ نام رکھا گیا ہے۔(32)
يَومَ تُوَلّونَ مُدبِرينَ ما لَكُم مِنَ اللَّهِ مِن عاصِمٍ ۗ وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن هادٍ(33)
٣٣۔١ یعنی موقف (میدان محشر) سے جہنم کی طرف جاؤ گے، یا حساب کے بعد وہاں سے بھاگو گے ۔ ٣٣۔٢ جو اسے ہدایت کا راستہ بتا سکے یعنی چلا سکے۔(33)
وَلَقَد جاءَكُم يوسُفُ مِن قَبلُ بِالبَيِّنٰتِ فَما زِلتُم فى شَكٍّ مِمّا جاءَكُم بِهِ ۖ حَتّىٰ إِذا هَلَكَ قُلتُم لَن يَبعَثَ اللَّهُ مِن بَعدِهِ رَسولًا ۚ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَن هُوَ مُسرِفٌ مُرتابٌ(34)
٣٤۔١ یعنی اہل مصر! حضرت موسیٰ علیہ السلام سے قبل تمہارے اس علاقہ میں جس میں تم آباد ہو، حضرت یوسف علیہ السلام بھی دلائل و براہین کے ساتھ آئے تھے۔ جس میں تمہارے آباؤ اجداد کو ایمان کی دعوت دی گئی تھی یعنی جَآءَ کُمْ سے مراد جَآءَ اِلَیٰ آبائِکُمْ ہے یعنی تمہارے آباؤ واجداد کے پاس آئے۔ ٣٤۔٢ لیکن تم ان پر بھی ایمان نہیں لائے اور ان کی دعوت میں شک و شبہ ہی کرتے رہے۔ ٣٤۔٣ یعنی یوسف علیہ السلام پیغمبر کی وفات ہوگئی۔ ٣٤۔٤یعنی تمہارا شیوہ چونکہ ہر پیغمبر کی تکذیب اور مخالفت ہی رہا ہے اس لیے سمجھتے تھے کہ اب کوئی رسول ہی نہیں آئے گا یا یہ مطلب ہے کہ رسول کا آنا یا نہ آنا تمہارے لیے برابر ہے یا یہ مطلوب ہے کہ اب ایسا باعظمت انسان کہاں پیدا ہو سکتا ہے جو رسالت سے سرفراز ہو گویا بعد از مرگ حضرت یوسف علیہ السلام کی عظمت کا اعتراف تھا اور بہت سے لوگ ہر اہم ترین انسان کی وفات کے بعد یہی کہتے رہے ہیں۔ ٣٤۔۵ یعنی اس واضح گمراہی کی طرح جس میں تم مبتلا ہو اللہ تعالٰی ہر اس شخص کو بھی گمراہ کرتا ہے جو نہایت کثرت سے گناہوں کا ارتکاب کرتا اور اللہ کے دین کی وحدانیت اور اس کے وعدوں وعیدوں میں شک کرتا ہے۔(34)
الَّذينَ يُجٰدِلونَ فى ءايٰتِ اللَّهِ بِغَيرِ سُلطٰنٍ أَتىٰهُم ۖ كَبُرَ مَقتًا عِندَ اللَّهِ وَعِندَ الَّذينَ ءامَنوا ۚ كَذٰلِكَ يَطبَعُ اللَّهُ عَلىٰ كُلِّ قَلبِ مُتَكَبِّرٍ جَبّارٍ(35)
٣٥۔١ یعنی اللہ کی طرف سے اتاری ہوئی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہے، اس کے باوجود اللہ کی توحید اور اس کے احکام میں جھگڑتے ہیں، جیسا کہ ہر دور کے اہل باطن کا وطیرہ رہا ہے۔ ٣٥۔٢ یعنی ان کی اس حرکت سے اللہ تعالٰی ہی ناراض نہیں ہوتا، اہل ایمان بھی اس کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ ٣٥۔٢یعنی جس طرح ان مجادلین کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے اسی طرح ہر اس شخص کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے جو اللہ کی آیتوں کے مقابلے میں تکبر اور سرکشی کا اظہار کرتا ہے جس کے بعد معروف ان کو معروف اور منکر، منکر نظر نہیں آتا بلکہ بعض دفعہ منکر، ان کے ہاں معروف اور اور معروف، منکر قرار پاتا ہے۔(35)
وَقالَ فِرعَونُ يٰهٰمٰنُ ابنِ لى صَرحًا لَعَلّى أَبلُغُ الأَسبٰبَ(36)
٣٦۔١ یہ فرعون کی سرکشی کا بیان ہے کہ اس نے اپنے وزیر ہامان کو بلند عمارت بنانے کا حکم دیا تاکہ اس کے ذریعے سے وہ آسمان کے دروازوں تک پہنچ جائے۔ اسباب کے معنی دروازے، یا راستے کے ہیں مزید دیکھئے القصص، آیت۔(36)
أَسبٰبَ السَّمٰوٰتِ فَأَطَّلِعَ إِلىٰ إِلٰهِ موسىٰ وَإِنّى لَأَظُنُّهُ كٰذِبًا ۚ وَكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرعَونَ سوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبيلِ ۚ وَما كَيدُ فِرعَونَ إِلّا فى تَبابٍ(37)
٣٧۔١ یعنی دیکھوں کہ آسمانوں پر کیا واقعی کوئی اللہ ہے؟ ٣٧۔٢ اس بات میں کہ آسمان پر اللہ ہے جو آسمان و زمین کا خالق اور ان کا مدبر ہے۔ یا اس بات میں کہ وہ اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہے۔ ٣٧۔٣ یعنی شیطان نے اس طرح اسے گمراہ کئے رکھا اور اس کے برے عمل اسے اچھے نظر آتے رہے۔ ٣٧۔٤ یعنی حق اور درست راستے سے اسے روک دیا گیا اور وہ گمراہیوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا رہا۔ ٣٧۔٥ تباب خسارہ، ہلاکت۔ یعنی فرعون نے جو تدبیر اختیار کی، اس کا نتیجہ اس کے حق میں برا ہی نکلا۔ اور بالآخر اپنے لشکر سمیت پانی میں ڈبو دیا گیا۔(37)
وَقالَ الَّذى ءامَنَ يٰقَومِ اتَّبِعونِ أَهدِكُم سَبيلَ الرَّشادِ(38)
٣٨۔١ فرعون کی قوم سے ایمان لانے والا پھر بولا اور کہا کہ دعویٰ تو فرعون بھی کرتا ہے کہ میں تمہیں سیدھے راستے پر چلا رہا ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فرعون بھٹکا ہوا ہے، میں جس راستے کی نشاندہی کر رہا ہوں وہ سیدھا راستہ ہے اور وہ وہی راستہ ہے، جس کی طرف تمہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام دعوت دے رہے ہیں۔(38)
يٰقَومِ إِنَّما هٰذِهِ الحَيوٰةُ الدُّنيا مَتٰعٌ وَإِنَّ الءاخِرَةَ هِىَ دارُ القَرارِ(39)
٣٩۔١ جس کی زندگی چند روزہ ہے۔ اور وہ بھی آخرت کے مقابلے میں صبح یا شام کی ایک گھڑی کے برابر۔ ٣٩۔٢ جس کو زوال اور فنا نہیں، نہ وہاں انتقال اور کوچ ہوگا۔ کوئی جنت میں جائے یا جہنم میں، دونوں کی زندگیاں ہمیشہ کی ہوں گی۔ ایک راحت اور آرام کی زندگی۔ دوسرے عذاب کی زندگی۔ موت اہل جنت کو آئے گی نہ اہل جہنم کو۔(39)
مَن عَمِلَ سَيِّئَةً فَلا يُجزىٰ إِلّا مِثلَها ۖ وَمَن عَمِلَ صٰلِحًا مِن ذَكَرٍ أَو أُنثىٰ وَهُوَ مُؤمِنٌ فَأُولٰئِكَ يَدخُلونَ الجَنَّةَ يُرزَقونَ فيها بِغَيرِ حِسابٍ(40)
٤٠۔١یعنی برائی کی مثل ہی جزا ہوگی زیادہ نہیں اور اس کے مطابق ہی عذاب ہوگا جو عدل وانصاف کا آئینہ دار ہوگا۔ ٤٠۔۲ یعنی وہ جو ایمان دار بھی ہوں گے اور اعمال صالحہ کے پابند بھی اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اعمال صالحہ کے بغیر محض ایمان یا ایمان کے بغیر اعمال صالحہ کی حثییت اللہ کے ہاں کچھ نہیں ہوگی عند اللہ کامیابی کے لیے ایمان کےساتھ عمل صالح اور عمل صالح کے ساتھ ایمان ضروری ہے۔ ٤٠۔۳ یعنی بغیر اندازے اور حساب کے نعمتیں ملیں گی اور ان کے ختم ہونے کا بھی اندیشہ نہیں ہوگا۔(40)
۞ وَيٰقَومِ ما لى أَدعوكُم إِلَى النَّجوٰةِ وَتَدعونَنى إِلَى النّارِ(41)
٤١۔١ اور وہ یہ کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اس کے رسول کی تصدیق کرو، جو اس نے تمہاری ہدایت اور راہنمائی کے لئے بھیجا ہے ٤١۔۲ یعنی توحید کی بجائے شرک کی دعوت دے رہے ہو جو انسان کو جہنم میں لے جانے والا ہے جیسا کہ اگلی آیت میں وضاحت ہے۔(41)
تَدعونَنى لِأَكفُرَ بِاللَّهِ وَأُشرِكَ بِهِ ما لَيسَ لى بِهِ عِلمٌ وَأَنا۠ أَدعوكُم إِلَى العَزيزِ الغَفّٰرِ(42)
٤۲۔۱ عزیز غالب جو کافروں سے انتقام لینے اور ان کو عذاب دینے پر قادر ہے غفار اپنے ماننے والوں کی غلطیوں کوتاہیوں کو معاف کر دینے والا اور ان کی پردہ پوشی کرنے والا۔ جب کہ تم جن کی عبادت کرنے کی طرف مجھے بلا رہے ہو وہ بالکل حقیر اور کم تر چیزیں ہیں نہ وہ سن سکتی ہیں نہ جواب دے سکتی ہیں کسی کو نفع پہچانے پر قادر ہیں نہ نقصان پہنچانے پر۔(42)
لا جَرَمَ أَنَّما تَدعونَنى إِلَيهِ لَيسَ لَهُ دَعوَةٌ فِى الدُّنيا وَلا فِى الءاخِرَةِ وَأَنَّ مَرَدَّنا إِلَى اللَّهِ وَأَنَّ المُسرِفينَ هُم أَصحٰبُ النّارِ(43)
٤٣۔١ لاجرَمَ یہ بات یقینی ہے، یا اس میں جھوٹ نہیں ہے۔ ٤٣ ۔٢ یعنی وہ کسی کی پکار سننے کی استعداد ہی نہیں رکھتے کہ کسی کو نفع پہنچا سکیں یا الوہیت کا استحقاق انہیں حاصل ہو اس کا تقربیا وہی مفہوم ہے جو اس آیت اور اس جیسی دیگر متعدد آیات میں بیان کیا گیا ہے و من اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لا یستجیب لہ الی یوم القیمۃ و ہم عن دعائھم غفلون الاحقاف ان تدعو ھم لا یسمعوا دعاء کم ولو سمعوا ما استجابوالکم (فاطر) اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر بالفرض سن لیں تو قبول نہیں کر سکتے۔ ٤٣۔۳ یعنی آخرت میں ہی وہ پکار سن کر کسی کو عذاب سے چھڑانے پر یا شفاعت ہی کرنے پر قادر ہوں؟ یہ بھی ممکن نہیں ہے ایسی چیزیں بھلا اس لائق ہو سکتی ہیں کہ وہ معبود بنیں اور ان کی عبادت کی جائے؟ ٤٣۔٤ جہاں ہر ایک کا حساب ہوگا اور عمل کے مطابق اچھی یا بری جزا دی جائے گی۔ ٤٣۔۵ یعنی کافر و مشرک جو اللہ کی نافرمانی میں ہر حد سے تجاوز کر جاتے ہیں اس طرح جو بہت زیادہ گناہ گار مسلمان ہوں گے جن کی نافرمانیاں اسراف کی حد تک پہنچی ہوئی ہوں گی انہیں بھی کچھ عرصہ جہنم کی سزا بھگتنی ہوگی تاہم بعد میں شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا اللہ کی مشیت سے ان کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔(43)
فَسَتَذكُرونَ ما أَقولُ لَكُم ۚ وَأُفَوِّضُ أَمرى إِلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَصيرٌ بِالعِبادِ(44)
٤٤۔١ عنقریب وہ وقت آئے گا جب میری باتوں کی صداقت اور جن باتوں سے روکتا تھا ان کی شناعت تم پر واضح ہو جائے گی پھر تم ندامت کا اظہار کرو گے مگر وہ وقت ایسا ہوگا کہ ندامت بھی کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ ٤٤۔۲ یعنی اسی پر بھروسہ کرتا اور اسی سے ہر وقت استعانت کرتا ہوں اور تم سے بیزاری اور قطع تعلق کا اعلان کرتا ہوں۔ ٤٤۔۳ وہ انہیں دیکھ رہا ہے پس وہ مستحق ہدایت کو ہدایت سے نوازتا اور ضلالت کا استحقاق رکھنے والے کو ضلالت سے ہمکتار کتا ہے ان امور میں جو حکمتیں ہیں ان کو وہی خوب جانتا ہے۔(44)
فَوَقىٰهُ اللَّهُ سَيِّـٔاتِ ما مَكَروا ۖ وَحاقَ بِـٔالِ فِرعَونَ سوءُ العَذابِ(45)
٤٥۔١ یعنی اس کی قوم قبط نے اس مومن کے اظہار حق کی وجہ سے اس کے خلاف جو تدبیریں اور سازشیں سوچ رکھی تھیں ان سب کو ناکام بنا دیا اور اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نجات دے دی۔ اور آخرت میں اس کا گھر جنت ہوگا۔ ٤٥۔٢ یعنی دنیا میں انہیں سمندر میں غرق کر دیا گیا اور آخرت میں ان کے لئے جہنم کا سخت ترین عذاب ہے۔(45)
النّارُ يُعرَضونَ عَلَيها غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۖ وَيَومَ تَقومُ السّاعَةُ أَدخِلوا ءالَ فِرعَونَ أَشَدَّ العَذابِ(46)
٤٦۔١ اس آگ پر برزخ میں یعنی قبروں میں لوگ روزانہ صبح شام پیش کئے جاتے ہیں، جس سے قبر کا عذاب ثابت ہوتا ہے جس کا بعض لوگ انکار کرتے ہیں۔ حدیث میں تو بڑی وضاحت سے عذاب قبر پر روشنی ڈالی گئی ہے مثلاً حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے سوال کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' ہاں! قبر کا عذاب حق ہے ' اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا گیا ' جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو (قبر میں) اس پر صبح و شام اس کی جگہ پیش کی جاتی ہے یعنی اگر وہ جنتی ہے تو جنت اور جہنمی ہے تو جہنم اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ تیری اصل جگہ ہے، جہاں قیامت والے دن اللہ تعالٰی تجھے بھیجے گا (صحیح بخاری اس کا مطلب ہے کہ منکرین عذاب قبر قرآن و حدیث دونوں کی صراحتوں کو تسلیم نہیں کرتے۔ ٤٦۔۲ اس سے بالکل واضح ہے کہ عرض علی النار کا معاملہ جو صبح وشام ہوتا ہے قیامت سے پہلے کا ہے اور قیامت سے پہلے برزخ اور قبر ہی کی زندگی ہے قیامت والے دن اس کو قبر سے نکال کر سخت ترین عذاب یعنی جہنم میں ڈال دیا جائے گا آل فرعون سے مراد فرعون اس کی قوم اور اس کے سارے پیروکار ہیں یہ کہنا کہ ہمیں تو قبر میں مردہ آرام سے پڑا نظر آتا ہے اسے اگر عذاب ہو تو اس طرح نظر نہ آئے لغو ہے کیونکہ عذاب کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ہمیں نظر بھی آ‏ئے اللہ تعالٰی ہر طرح عذاب دینے پر قادر ہے کیا ہم دیکھتے نہیں ہیں کہ خواب میں ایک شخص نہایت المناک منظر دیکھ کر سخت کرب و اذیت محسوس کرتا ہے لیکن دیکھنے والوں کو ذرا محسوس نہیں ہوتا کہ یہ خوابیدہ شخص تکلیف سے دو چار ہے اس کے باوجود عذاب قبر کا انکار محض ہٹ دھرمی اور بے جا تحکم ہے بلکہ بیداری میں بھی انسان کو جو تکالیف ہوتی ہیں وہ خود ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ صرف انسان کا تڑپنا اور تلملانا ظاہر ہوتا ہے اور وہ بھی اس صورت میں جبکہ وہ تڑپے اور تلمائے۔(46)
وَإِذ يَتَحاجّونَ فِى النّارِ فَيَقولُ الضُّعَفٰؤُا۟ لِلَّذينَ استَكبَروا إِنّا كُنّا لَكُم تَبَعًا فَهَل أَنتُم مُغنونَ عَنّا نَصيبًا مِنَ النّارِ(47)
(47)
قالَ الَّذينَ استَكبَروا إِنّا كُلٌّ فيها إِنَّ اللَّهَ قَد حَكَمَ بَينَ العِبادِ(48)
(48)
وَقالَ الَّذينَ فِى النّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادعوا رَبَّكُم يُخَفِّف عَنّا يَومًا مِنَ العَذابِ(49)
(49)
قالوا أَوَلَم تَكُ تَأتيكُم رُسُلُكُم بِالبَيِّنٰتِ ۖ قالوا بَلىٰ ۚ قالوا فَادعوا ۗ وَما دُعٰؤُا۟ الكٰفِرينَ إِلّا فى ضَلٰلٍ(50)
٥٠۔١ ہم ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے کیوںکر کچھ کہہ سکتے ہیں جن کے پاس اللہ کے پیغمبر دلائل و معجزات لے کر آئے لیکن انہوں نے پروا نہ کی؟ ٥٠۔٢ یعنی بالآخر وہ خود ہی اللہ سے فریاد کریں گے لیکن اس فریاد کی وہاں شنوائی نہیں ہوگی۔ اس لئے کہ دنیا میں ان پر حجت تمام کی جا چکی تھی اب آخرت تو ایمان، توبہ اور عمل کی جگہ نہیں، وہ تو دار الجزا ہے، دنیا میں جو کچھ کیا ہوگا، اس کا نتیجہ وہاں بھگتنا ہوگا۔(50)
إِنّا لَنَنصُرُ رُسُلَنا وَالَّذينَ ءامَنوا فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا وَيَومَ يَقومُ الأَشهٰدُ(51)
٥١۔١ یعنی ان کے دشمن کو ذلیل اور ان کو غالب کریں گے بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ اشکال پیدا ہو سکتا ہے کہ بعض نبی قتل کر دئیے گئے جیسے حضرت یحیی و زکریا علیہما السلام وغیرہ اور بعض ہجرت پر مجبور ہوگئے جیسے ابراہیم علیہ السلام اور ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وعدہ امداد کے باوجود ایسا کیوں ہوا؟ دراصل یہ وعدہ غالب حالات اور اکثریت کے اعتبار سے ہے اس لیے بعض حالتوں میں اور بعض اشخاص پر کافروں کا غلبہ اس کے منافی نہیں یا مطلب یہ ہے کہ عارضی طور پر یعض دفعہ اللہ کی حکمت و مشیت کے تحت کافروں کو غلبہ عطا فرما دیا جاتا ہے لیکن بالاخر اہل ایمان ہی غالب اور سرخرو ہوتے ہیں جیسے حضرت یحیی و زکریا علیہما السلام کے قاتلین پر بعد میں اللہ تعالٰی نے ان کے دشمنوں کو مسلط فرما دیا جنہوں نے ان کے خون سے اپنی پیاس بجھائی اور انہیں ذلیل و خوار کیا جن یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے کر مارنا چاہا اللہ نے ان یہودیوں پر رومیوں کو ایسا غلبہ دیا کہ انہوں نے یہودیوں کو خوب ذلت کا عذاب چکھایا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے رفقا یقینا ہجرت پر مجبور ہوئے لیکن اس کے بعد جنگ بدر، احد، احزاب، غزوہ خیبر، اور پھر فتح مکہ کے ذریعے سے اللہ تعالٰی نے جس طرح مسلمانوں کی مدد فرمائی اور اپنے پیغمبر اور اہل ایمان کو جس طرح غلبہ عطا فرمایا اس کے بعد اللہ کی مدد کرنے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے؟ ابن کثیر ٥١۔۲ اشہاد شہید گواہ کی جمع ہے جیسے شریف کی جمع اشراف ہے قیامت والے دن فرشتے اور انبیاء علیہم السلام گواہی دیں گے یا فرشتے اس بات کی گواہی دیں گے کہ یا اللہ پیغمبروں نے تیرا پیغام پہنچا دیا تھا لیکن ان کی امتوں نے ان کو جھٹلایا۔ علاوہ ازیں امت محمدیہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی گواہی دیں گے جیسے کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔ اس لئے قیامت کو گواہوں کے کھڑا ہونے کا دن کہا گیا ہے۔ اس دن اہل ایمان کی مدد کرنے کا مطلب ہے ان کو ان کے اچھے اعمال کی جزا دی جائے گی اور انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔(51)
يَومَ لا يَنفَعُ الظّٰلِمينَ مَعذِرَتُهُم ۖ وَلَهُمُ اللَّعنَةُ وَلَهُم سوءُ الدّارِ(52)
٥٢۔١ یعنی اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار۔ اور معذرت کا فائدہ اس لئے نہیں ہوگا کہ وہ معذرت کی جگہ نہیں، اس لئے یہ معذرت، معذرت باطلہ ہوگی۔(52)
وَلَقَد ءاتَينا موسَى الهُدىٰ وَأَورَثنا بَنى إِسرٰءيلَ الكِتٰبَ(53)
٥٣۔١ یعنی نبوت اور تورات عطا کی جیسے فرمایا انا انزلنا التوراتہ فیھا ھدی ونور (المائدۃ) ٥٣۔١ یعنی تورات، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھی باقی رہی، جس کے نسلاً بعد نسل وہ وارث ہوتے رہے۔ یا کتاب سے مراد وہ تمام کتابیں ہیں جو انبیائے بنی اسرائیل پر نازل ہوئیں، ان سب کتابوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنایا۔(53)
هُدًى وَذِكرىٰ لِأُولِى الأَلبٰبِ(54)
٥٤۔١ آسمانی کتابوں کا فائدہ وہی اٹھاتے ہیں ہدایت و نصیحت حاصل کرتے ہیں جو عقل سلیم کے مالک ہیں دوسرے لوگ تو گدھوں کی طرح ہیں جن پر کتابوں کا بوجھ تو لدا ہوتا ہے لیکن وہ اس سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ان کتابوں میں کیا ہے؟(54)
فَاصبِر إِنَّ وَعدَ اللَّهِ حَقٌّ وَاستَغفِر لِذَنبِكَ وَسَبِّح بِحَمدِ رَبِّكَ بِالعَشِىِّ وَالإِبكٰرِ(55)
٥٥۔١ گناہ سے مراد چھوٹی چھوٹی لغزشیں ہیں، جو بہ تقاضائے بشریت سرزد ہو جاتی ہیں، جن کی اصلاح بھی اللہ تعالٰی کی طرف سے کر دی جاتی ہے۔ یا استغفار بھی ایک عبادت ہی ہے۔ اجر و ثواب کی زیادتی کے لئے استغفار کا حکم دیا گیا ہے، یا مقصد امت کی رہنمائی ہے کہ وہ استغفار سے بے نیاز نہ ہوں۔ ٥٥۔۲ عشیی سے دن کا آخری اور رات کا ابتدائی حصہ اور ابکار سے رات کا آخری اور دن کا ابتدائی حصہ مراد ہے۔(55)
إِنَّ الَّذينَ يُجٰدِلونَ فى ءايٰتِ اللَّهِ بِغَيرِ سُلطٰنٍ أَتىٰهُم ۙ إِن فى صُدورِهِم إِلّا كِبرٌ ما هُم بِبٰلِغيهِ ۚ فَاستَعِذ بِاللَّهِ ۖ إِنَّهُ هُوَ السَّميعُ البَصيرُ(56)
٥٦۔١ یعنی وہ لوگ جو بغیر آسمانی دلیل کے بحث و حجت کرتے ہیں، یہ محض تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں، تاہم اس سے جو ان کا مقصد ہے کہ حق کمزور اور باطل مضبوط ہو وہ ان کو حاصل نہیں ہوگا۔(56)
لَخَلقُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ أَكبَرُ مِن خَلقِ النّاسِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ(57)
٥٧۔١ یعنی پھر یہ کیوں اس بات سے انکار کر رہے ہیں کہ اللہ تعالٰی انسانوں کو دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا؟ جب کہ یہ کام آسمان و زمین کی تخلیق سے بہت آسان ہے۔(57)
وَما يَستَوِى الأَعمىٰ وَالبَصيرُ وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَلَا المُسيءُ ۚ قَليلًا ما تَتَذَكَّرونَ(58)
٥٨۔١ مطلب ہے جس طرح بینا اور نابینا برابر نہیں، اسی طرح مومن و کافر اور نیکوکار اور بدکار برابر نہیں بلکہ قیامت کے دن ان کے درمیان جو عظیم فرق ہوگا، وہ بالکل واضح ہو کر سامنے آئے گا۔(58)
إِنَّ السّاعَةَ لَءاتِيَةٌ لا رَيبَ فيها وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يُؤمِنونَ(59)
(59)
وَقالَ رَبُّكُمُ ادعونى أَستَجِب لَكُم ۚ إِنَّ الَّذينَ يَستَكبِرونَ عَن عِبادَتى سَيَدخُلونَ جَهَنَّمَ داخِرينَ(60)
٦٠۔١ گزشتہ آیت میں جب اللہ نے وقوع قیامت کا تذکرہ فرمایا تو اب اس آیت میں ایسی راہنمائی دی جا رہی ہے، جسے اختیار کر کے انسان آخرت کی سعادتوں سے ہمکنار ہو سکے، اس آیت میں دعا سے اکثر مفسرین نے عبادت مراد لی ہے یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ جیسا کہ حدیث میں میں بھی دعا کو عبادت بلکہ عبادت کا مغز قرار دیا گیا، بعض کہتے ہیں کہ دعا سے مراد دعا ہی ہے۔ یعنی اللہ سے جلب نفع اور دفع ضرر کا سوال کرنا، کیونکہ دعا کے شرعی اور حقیقی معنی طلب کرنے کے ہیں، دوسرے مفہوم میں اس کا استعمال مجازی ہے۔ علاوہ ازیں دعا بھی اپنے حقیقی معنی کے اعتبار سے اور حدیث مذکورہ کی رو سے بھی عبادت ہے کیونکہ مافوق الاسباب طریقے سے کسی کو حاجت روائی کے لئے پکارنا اس کی عبادت ہے اور عبادت اللہ کے سوا کسی کی جائز نہیں۔ ٦٠۔٢ یہ اللہ کی عبادت سے انکار و اعراض یا اس میں دوسروں کو بھی شریک کرنے والوں کا انجام ہے۔(60)
اللَّهُ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الَّيلَ لِتَسكُنوا فيهِ وَالنَّهارَ مُبصِرًا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَذو فَضلٍ عَلَى النّاسِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَشكُرونَ(61)
٦١۔١ یعنی رات کو تاریک بنایا، تاکہ کاروبار زندگی معطل ہو جائیں اور لوگ امن اور سکون سے سو سکیں۔ ٦١۔٢ یعنی روشن بنایا تاکہ معاشی محنت اور تگ و دو میں تکلیف نہ ہو۔ ٦١۔٢ اللہ کی نعمتوں کا اور نہ ان کا اعتراف ہی کرتے ہیں یا تو کفر وجحود کی وجہ سے جیسا کہ کافروں کا شیوہ ہے یا منعم کے واجبات شکر سے اہمام و غفلت کی وجہ سے جیسا کہ جاہلوں کا شعار ہے۔(61)
ذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُم خٰلِقُ كُلِّ شَيءٍ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ فَأَنّىٰ تُؤفَكونَ(62)
٦٢۔١ یعنی پھر تم اس کی عبادت سے کیوں بدکتے ہو اور اس کی توحید سے کیوں پھرتے اور بھاگتے ہو۔(62)
كَذٰلِكَ يُؤفَكُ الَّذينَ كانوا بِـٔايٰتِ اللَّهِ يَجحَدونَ(63)
(63)
اللَّهُ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَرضَ قَرارًا وَالسَّماءَ بِناءً وَصَوَّرَكُم فَأَحسَنَ صُوَرَكُم وَرَزَقَكُم مِنَ الطَّيِّبٰتِ ۚ ذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُم ۖ فَتَبارَكَ اللَّهُ رَبُّ العٰلَمينَ(64)
٦٤۔١ آگے نعمتوں کی کچھ قسمیں بیان کی جا رہی ہیں تاکہ اللہ کی قدرت کاملہ بھی واضح ہو جائے اور اس کا بلا شرکت غیرے معبود ہونا بھی۔ ٦٤۔٢ جس میں تم رہتے چلتے پھرتے کاروبار کرتے اور زندگی گزارتے ہو پھر بالآخر موت سے ہمکنار ہو کر قیامت تک کے لیے اسی میں آسودہ خواب رہتے ہو۔ ٦٤۔۳ یعنی قائم اور ثابت رہنے والی چھت اگر اس کے گرنے کا اندیشہ رہتا تو کوئی شخص آرام کی نیند سو سکتا تھا نہ کسی کے لیے کاروبار حیات کرنا ممکن ہوتا۔ ۔ ٦٤۔٤ جتنے بھی روئے زمین پر حیوانات ہیں، ان سب میں (تم) انسانوں کو سب سے زیادہ خوش شکل اور متناسب الا، عضا بنایا ہے۔ ٦٤۔۵ یعنی اقسام و انواع کے کھانے تمہارے لئے مہیا کئے، جو لذیذ بھی ہیں اور قوت بخش بھی۔(64)
هُوَ الحَىُّ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ فَادعوهُ مُخلِصينَ لَهُ الدّينَ ۗ الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ العٰلَمينَ(65)
٦٥۔۱ یعنی جب سب کچھ کرنے والا اور دینے والا وہی ہے دوسرا کوئی بنانے میں شریک ہے نہ اختیارات میں تو پھر عبادت کا مستحق بھی صرف اک اللہ ہی ہے، دوسرا کوئی اس میں شریک نہیں ہو سکتا۔ استمداد و استغاثہ بھی اسی سے کرو کہ وہی سب کی فریادیں اور التجائیں سننے پر قادر ہے دوسرا کوئی بھی مافوق الاسباب طریقے سے کسی کی بات سننے پر قادر ہی نہیں ہے جب یہ بات ہے تو دوسرے مشکل کشائی اور حاجت روائی کس طرح کر سکتے ہیں؟(65)
۞ قُل إِنّى نُهيتُ أَن أَعبُدَ الَّذينَ تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ لَمّا جاءَنِىَ البَيِّنٰتُ مِن رَبّى وَأُمِرتُ أَن أُسلِمَ لِرَبِّ العٰلَمينَ(66)
٦٦۔١ چاہے وہ پتھر کی مورتیاں ہوں، انبیاء علیہم السلام اور صلحا ہوں اور قبروں میں مدفون اشخاص ہوں۔ مدد کے لئے کسی کو مت پکارو، ان کے ناموں کی نذر نیاز مت دو ان کے ورد نہ کرو ان سے خوف مت کھاؤ اور ان سے امیدیں وابستہ نہ کرو کیونکہ یہ سب عبادت کی قسمیں ہیں جو صرف ایک اللہ کا حق ہے۔ ٦٦۔۲ یہ وہی عقلی اور نقلی دلائل ہیں جن سے اللہ کی توحید یعنی اللہ کے واحد الہ اور رب ہونے کا اثبات ہوتا ہے جو قرآن میں جا بجا ذکر کیے گئے ہیں اسلام کے معنی ہیں اطاعت وانقیاد کے لیے جھک جانا سر اطاعت خم کر دینا یعنی اللہ کے سامنے میں جھک جاؤں ان سے سرتابی نہ کروں آگے پھر توحید کے کچھ دلائل بیان کیے جا رہے ہیں۔(66)
هُوَ الَّذى خَلَقَكُم مِن تُرابٍ ثُمَّ مِن نُطفَةٍ ثُمَّ مِن عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخرِجُكُم طِفلًا ثُمَّ لِتَبلُغوا أَشُدَّكُم ثُمَّ لِتَكونوا شُيوخًا ۚ وَمِنكُم مَن يُتَوَفّىٰ مِن قَبلُ ۖ وَلِتَبلُغوا أَجَلًا مُسَمًّى وَلَعَلَّكُم تَعقِلونَ(67)
٦٧۔١ یعنی تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا جو ان کی تمام اولاد کے مٹی سے پیدا ہونے کو مستلزم ہے پھر اس کے بعد نسل انسانی کے تسلسل اور اس کی بقا وتحفظ کے لیے انسانی تخلیق کو نطفے سے وابستہ کر دیا اب ہر انسان اس نطفے سے پیدا ہوتا ہے جو صلب پدر سے رحم مادر میں جا کر قرار پکڑتا ہے سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ ان کی پیدائش معجزانہ طور پر بغیر باپ کے ہوئی جیسا کہ قرآن کریم کی بیان کردہ تفصیلات سے واضح ہے اور جس پر امت مسلمہ کا اجماع ہے۔ ٦٧۔۲ یعنی ان تمام کیفیتوں اور اطوار سے گزارنے والا وہی اللہ ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ ٦٧۔۳ یعنی رحم مادر میں مختلف ادوار سے گزر کر باہر آنے سے پہلے ہی ماں کے پیٹ میں، بعض بچپن میں، بعض جوانی میں اور بعض بڑھاپے سے قبل فوت ہو جاتے ہیں۔ ٦٧۔٤ یعنی اللہ تعالٰی یہ اس لئے کرتا ہے تاکہ جس کی جتنی عمر اللہ نے لکھ دی ہے، وہ اس کو پہنچ جائے اور اتنی زندگی دنیا میں گزار لے۔ ٦٧۔۵ یعنی جب تم ان اطوار اور مراحل پر غور کرو گے کہ نطفے سے علقہ پھر مضغۃ، پھر بچہ، پھر جوانی، کہولت اور بڑھاپا، تو تم جان لو گے کہ تمہارا رب بھی ایک ہی ہے اور تمہارا معبود بھی ایک اس کے سوا کو‏ئی معبود نہیں علاوہ ازیں یہ بھی سمجھ لو گے کہ جو اللہ یہ سب کچھ کرنے والا ہے اس کے لیے قیامت والے دن انسانوں کو دوبارہ زندہ کر دینا بھی مشکل نہیں ہے اور وہ یقینا سب کو زندہ فرما‏ئے گا۔(67)
هُوَ الَّذى يُحيۦ وَيُميتُ ۖ فَإِذا قَضىٰ أَمرًا فَإِنَّما يَقولُ لَهُ كُن فَيَكونُ(68)
٦٨۔١ زندہ کرنا اور مارنا اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ ایک بے جان نطفے کو مختلف اطوار سے گزار کر ایک زندہ انسان کے روپ میں ڈھال دیتا ہے اور پھر ایک وقت مقررہ کے بعد اس زندہ انسان کو مار کر موت کی وادیوں میں سلا دیتا ہے۔ ٦٨۔٢ اس کی قدرت کا یہ حال ہے کہ اس کے لفظ کن (ہو جا) سے وہ چیز معرض وجود میں آجاتی ہے جس کا وہ ارادہ کرے۔(68)
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ يُجٰدِلونَ فى ءايٰتِ اللَّهِ أَنّىٰ يُصرَفونَ(69)
٦٩۔١ انکار اور تکذیب کے لئے یا اس کے رد و ابطال کے لئے۔ ٦٩۔٢ یعنی ظہور دلائل اور وضوح حق کے باوجود وہ کس طرح حق کو نہیں مانتے۔ یہ تعجب کا اظہار ہے۔(69)
الَّذينَ كَذَّبوا بِالكِتٰبِ وَبِما أَرسَلنا بِهِ رُسُلَنا ۖ فَسَوفَ يَعلَمونَ(70)
(70)
إِذِ الأَغلٰلُ فى أَعنٰقِهِم وَالسَّلٰسِلُ يُسحَبونَ(71)
٧١۔١ یہ وہ نقشہ ہے جو جہنم میں ان مکذبین کا ہوگا۔(71)
فِى الحَميمِ ثُمَّ فِى النّارِ يُسجَرونَ(72)
۷۲۔۱ مجاہد اور مقاتل کا قول ہے کہ ان کے ذریعے سے جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی یعنی یہ لوگ اس کا ایندھن بنے ہوں گے۔(72)
ثُمَّ قيلَ لَهُم أَينَ ما كُنتُم تُشرِكونَ(73)
(73)
مِن دونِ اللَّهِ ۖ قالوا ضَلّوا عَنّا بَل لَم نَكُن نَدعوا مِن قَبلُ شَيـًٔا ۚ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الكٰفِرينَ(74)
٧٤۔١ کیا وہ آج تمہاری مدد کر سکتے ہیں؟ ٧٤۔٢ یعنی پتہ نہیں، کہاں چلے گئے ہیں، وہ ہماری مدد کیا کریں گے؟ ٧٤۔٣ اقرار کرنے کے بعد، پھر ان کی عبادت کا ہی انکار کر دیں گے کیونکہ وہاں ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہ ایسی چیزوں کی عبادت کرتے رہے جو سن سکتی تھیں، نہ دیکھ سکتی تھیں اور نقصان پہنچا سکتی تھیں نہ نفع (فتح القدیر اور اس کا دوسرا معنی واضح ہے اور وہ یہ کہ وہ شرک کا سرے سے انکار ہی کریں گے۔ ٧٤۔٤ یعنی ان مکذبین ہی کی طرح اللہ تعالٰی کافروں کو بھی گمراہ کرنا ہے مطلب یہ ہے کہ مسلسل تکذیب اور کفر یہ ایسی چیزیں ہیں کہ جن سے انسانوں کے دل سیاہ اور زنگ آلود ہو جاتے ہیں اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے قبول حق کی توفیق سے محروم ہو جاتے ہیں۔(74)
ذٰلِكُم بِما كُنتُم تَفرَحونَ فِى الأَرضِ بِغَيرِ الحَقِّ وَبِما كُنتُم تَمرَحونَ(75)
۷٥۔۱ یعنی تمہاری یہ گمراہی اس بات کا نتیجہ ہے کہ تم کفر وتکذیب اور فسق وفجور میں اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ ان پر تم خوش ہوتے اور اتراتے تنے اترانے میں مزید خوشی کا اظہار ہے جو تکبر کو مستلزم ہے۔(75)
ادخُلوا أَبوٰبَ جَهَنَّمَ خٰلِدينَ فيها ۖ فَبِئسَ مَثوَى المُتَكَبِّرينَ(76)
٧٦۔١ یہ جہنم پر مقرر فرشتے، اہل جہنم کو کہیں گے۔(76)
فَاصبِر إِنَّ وَعدَ اللَّهِ حَقٌّ ۚ فَإِمّا نُرِيَنَّكَ بَعضَ الَّذى نَعِدُهُم أَو نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَينا يُرجَعونَ(77)
٧٧۔١ کہ ہم کافروں سے انتقام لیں گے۔ یہ وعدہ جلدی بھی پورا ہو سکتا ہے یعنی دنیا میں ہی ہم ان کی گرفت کرلیں گے یا حسب مشیت الٰہی تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔ یعنی قیامت والے دن ہم انہیں سزا دیں۔ تاہم یہ بات یقینی ہے کہ یہ اللہ کی گرفت سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے۔ ٧٧۔۲ یعنی آپ کی زندگی میں ان کو مبتلائے عذاب کر دیں چنانچہ ایسا ہی ہوا اللہ نے کافروں سے انتقام لے کر مسلمانوں کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا جنگ بدر میں ستر کافر مارے گئے ۸ہجری میں مکہ فتح ہوگیا اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہی پورا جزیرہ عرب مسلمانوں کے زیر نگیں آ گیا۔ ٧٧۔۳ یعنی اگر کافر دنیاوی مواخذہ وعذاب سے بچ بھی گئے تو آخر میرے پاس ہی آئیں گے جہاں ان کے لیے سخت عذاب تیار ہے۔(77)
وَلَقَد أَرسَلنا رُسُلًا مِن قَبلِكَ مِنهُم مَن قَصَصنا عَلَيكَ وَمِنهُم مَن لَم نَقصُص عَلَيكَ ۗ وَما كانَ لِرَسولٍ أَن يَأتِىَ بِـٔايَةٍ إِلّا بِإِذنِ اللَّهِ ۚ فَإِذا جاءَ أَمرُ اللَّهِ قُضِىَ بِالحَقِّ وَخَسِرَ هُنالِكَ المُبطِلونَ(78)
٧٨۔١ اور یہ تعداد میں، بہ نسبت ان کے جن کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ بہت زیادہ ہیں۔ اس لئے کہ قرآن کریم میں تو صرف ٢٥، انبیاء و رسل کا ذکر اور ان کی قوموں کے حالات بیان کئے ہیں۔ ٧٨۔٢ آیت سے مراد یہاں معجزہ اور خرق عادت واقعہ ہے جو پیغمبر کی صداقت پر دلالت کرے کفار پیغمبروں سے مطالبے کرتے رہے کہ ہمیں فلاں فلاں چیز دکھاؤ جیسے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کفار مکہ نے کئی چیزوں کا مطالبہ کیا جس کی تفصیل سورہ بنی اسرائیل میں موجود ہے اللہ تعالٰی فرما رہا ہے کہ کسی پیغمبر کے اختیار میں یہ نہیں تھا کہ وہ اپنی قوموں کے مطالبے پر ان کو کوئی معجزہ صادر کر کے دکھلادے یہ صرف ہمارے اختیار میں تھا بعض نبیوں کو تو ابتدا ہی سے معجزے دے دیے گئے تھے بعض قوموں کو ان کے مطالبے پر معجزہ دکھلایا گیا اور بعض کو مطالبے کے باوجود نہیں دکھلایا گیا ہماری مشیت کے مطابق اس کا فیصلہ ہوتا تھا کسی نبی کے ہاتھ میں یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ جب چاہتا معجزہ صادر کر کے دکھلا دیتا اس سے ان لوگوں کی واضح تردید ہوتی ہے جو بعض اولیاء کی طرف یہ باتیں منسوب کرتے ہیں کہ وہ جب چاہتے اور جس طرح کا چاہتے خرق عادت امور کا اظہار کردیتے تھے جیسے شیخ عبد القادر جیلانی کے لیے بیان کیا جاتا ہے یہ سب من گھڑت قصے کہانیاں ہیں جب اللہ نے پیغمبروں کو یہ اختیار نہیں دیا جن کو اپنی صداقت کے ثبوت کے لیے اس کی ضرورت بھی تھی تو کسی ولی کو یہ اختیار کیوں کر مل سکتا ہے؟ بالخصوص جب کہ ولی کو اس کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ نبی کی نبوت پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے اس لیے معجزہ ان کی ضرورت تھی لیکن اللہ کی حکمت ومشیت اس کی متقصضی نہ تھی اس لیے یہ قوت کسی نبی کو نہیں دی گئی ولی کی ولایت پر ایمان رکھنا ضروری نہیں ہے اس لیے انہیں معجزے اور کرامات کی ضرورت ہی نہیں ہے انہیں اللہ تعالٰی یہ اختیار بلا ضرورت کیوں عطا کر سکتا ہے؟ ‏٧٨۔۳ یعنی دنیا یا آخرت میں جب ان کے عذاب کا وقت معین آجائے گا۔ ٧٨۔٤ یعنی ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا۔ اہل حق کو نجات اور اہل باطل کو عذاب۔(78)
اللَّهُ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَنعٰمَ لِتَركَبوا مِنها وَمِنها تَأكُلونَ(79)
٧٩۔١ اللہ تعالٰی اپنی ان گنت نعمتوں میں سے بعض نعمتوں کا تذکرہ فرما رہا ہے چوپائے سے مراد اونٹ، گائے، بکری اور بھیڑ ہے یہ نر مادہ مل کر آٹھ ہیں جیسا کہ سورہ انعام میں ہے ٧٩۔۲ یہ سواری کے کام بھی آتے ہیں، ان کا دودھ بھی پیا جاتا ہے (جیسے بکری، گائے اور اونٹنی کا دودھ) ان کا گوشت انسان کی مرغوب ترین غذا ہے اور بار برداری کا کام بھی ان سے لیا جاتا ہے۔(79)
وَلَكُم فيها مَنٰفِعُ وَلِتَبلُغوا عَلَيها حاجَةً فى صُدورِكُم وَعَلَيها وَعَلَى الفُلكِ تُحمَلونَ(80)
٨٠۔١ جیسے ان سب کے اون اور بالوں سے اور ان کی کھالوں سے کئی چیزیں بنائی جاتی ہیں۔ ان کے دودھ سے گھی مکھن، پنیر وغیرہ بھی بنتی ہے۔ ٨٠۔١ ان سے مراد بچے اور عورتیں ہیں جنہیں ہودج سمیت اونٹ وغیرہ پر بٹھا دیا جاتا تھا۔(80)
وَيُريكُم ءايٰتِهِ فَأَىَّ ءايٰتِ اللَّهِ تُنكِرونَ(81)
۸۱۔۱ جو اس کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں اور یہ نشانیاں آفاق میں ہی نہیں ہیں تمہارے نفسوں کے اندر بھی ہیں۔ ۸۱۔۲ یعنی یہ اتنی واضح عام اور کثیر ہیں جن کا کوئی منکر انکار کرنے کی قدرت نہیں رکھتا یہ استفہام انکار کے لیے ہے۔(81)
أَفَلَم يَسيروا فِى الأَرضِ فَيَنظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ كانوا أَكثَرَ مِنهُم وَأَشَدَّ قُوَّةً وَءاثارًا فِى الأَرضِ فَما أَغنىٰ عَنهُم ما كانوا يَكسِبونَ(82)
٨٢۔١ یعنی جن قوموں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا۔ یہ ان کی بستیوں کے آثار اور کھنڈرات تو دیکھیں جو ان کے علاقوں میں ہی ہیں کہ ان کا کیا انجام ہوا؟ ٨٢۔۲ یعنی عمارتوں کارخانوں اور کھیتیوں کی شکل میں ان کے کھنڈرات واضح کرتے ہیں کہ وہ کاریگی کے میدان میں بھی تم سے بڑھ کر تھے۔ ٨٢۔۳ فما اغنی میں ما استفہامیہ بھی ہو سکتا ہے اور نافیہ بھی نافیہ کا مفہوم تو ترجمے سے واضح ہے استفہامیہ کی رو سے مطلب ہوگا ان کو کیا فائدہ پہنچایا؟ مطلب وہی ہے کہ ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہیں آئی۔(82)
فَلَمّا جاءَتهُم رُسُلُهُم بِالبَيِّنٰتِ فَرِحوا بِما عِندَهُم مِنَ العِلمِ وَحاقَ بِهِم ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(83)
٨٣۔١ علم سے مراد ان کی خود ساختہ شبہات اور باطل دعوے ہیں، انہیں علم سے بطور استہزاء تعبیر فرمایا وہ چونکہ انہیں علمی دلائل سمجھتے تھے، ان کے خیال کے مطابق ایسا کہا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اور رسول کی باتوں کے مقابلے میں یہ اپنے توہمات پر اتراتے اور فخر کرتے رہے۔ یا علم سے مراد دنیاوی باتوں کا علم ہے، یہ احکام و فرائض الٰہی کے مقابلے میں انہیں ترجیح دیتے رہے۔(83)
فَلَمّا رَأَوا بَأسَنا قالوا ءامَنّا بِاللَّهِ وَحدَهُ وَكَفَرنا بِما كُنّا بِهِ مُشرِكينَ(84)
(84)
فَلَم يَكُ يَنفَعُهُم إيمٰنُهُم لَمّا رَأَوا بَأسَنا ۖ سُنَّتَ اللَّهِ الَّتى قَد خَلَت فى عِبادِهِ ۖ وَخَسِرَ هُنالِكَ الكٰفِرونَ(85)
۸٥۔۱ یعنی اللہ کا یہ معمول چلا آ رہا ہے کہ عذاب دیکھنے کے بعد توبہ اور ایمان مقبول نہیں یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔ ۸٥۔۲ یعنی معاینہ عذاب کے بعد ان پر واضح ہوگیا کہ اب سوائے خسارے اور ہلاکت کے ہمارے مقدر میں کچھ نہیں۔(85)