Al-A'raf( الأعراف)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ المص(1)
(1)
كِتٰبٌ أُنزِلَ إِلَيكَ فَلا يَكُن فى صَدرِكَ حَرَجٌ مِنهُ لِتُنذِرَ بِهِ وَذِكرىٰ لِلمُؤمِنينَ(2)
٢۔١ یعنی اس کے بھیجنے سے آپ کا دل تنگ نہ ہو کہ کہیں کافر میری تکذیب (جھٹلائیں) نہ کریں اور مجھے ایذا نہ پہنچائیں اس لئے کہ اللہ سب کا حافظ و ناصر ہے یا حرج شک کے معنی میں ہے۔ یعنی اس کی منزل من اللہ ہونے کے بارے میں آپ اپنے سینے میں شک محسوس نہ کریں۔ یہ نہی بطور تعریف ہے اور اصل مخاطب امت ہے کہ وہ شک نہ کرے۔(2)
اتَّبِعوا ما أُنزِلَ إِلَيكُم مِن رَبِّكُم وَلا تَتَّبِعوا مِن دونِهِ أَولِياءَ ۗ قَليلًا ما تَذَكَّرونَ(3)
٣۔١ جو اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، یعنی قرآن، اور جو رسول اللہ نے فرمایا یعنی حدیث، کیونکہ آپ نے فرمایا کہ ' میں قرآن اور اس کی مثل اس کے ساتھ دیا گیا ہوں۔ ' ان دونوں کی پیروی ضروری ہے ان کے علاوہ کسے کا اتباع (پیروی) ضرور ی ٰ نہیں بلکہ ان کا انکار لازمی ہے۔ جیسے کہ اگلے فقرے میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالٰی کو چھوڑ کر دوسروں کی پیروی مت کرو۔ جس طرح زمانہء جاہلیت میں سرداروں اور نجومیوں کاہنوں کی بات کو ہی اہمیت دی جاتی تھی حتیٰ کہ حلال اور حرام میں بھی ان کو سند تسلیم کیا جاتا تھا۔(3)
وَكَم مِن قَريَةٍ أَهلَكنٰها فَجاءَها بَأسُنا بَيٰتًا أَو هُم قائِلونَ(4)
٤۔١ فَائِلُوْنَ قَیْلُوْلَۃ،ُ سے ہے، جو دوپہر کے وقت استراحت (آرام کرنے) کو کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارا عذاب اچانک ایسے وقتوں میں آیا جب وہ آرام و راحت کے لئے بے خبر بستروں میں آسودہ خواب تھے۔(4)
فَما كانَ دَعوىٰهُم إِذ جاءَهُم بَأسُنا إِلّا أَن قالوا إِنّا كُنّا ظٰلِمينَ(5)
٥۔١ لیکن عذاب آجانے کے بعد ایسے اعتراف کا کوئی فائدہ نہیں۔ جیسا کہ پہلے وضاحت گزر چکی ہے (فَلَمْ یَکُ یَنَفْعُھُمْ اِیْمَانُھُمْ لَمَّا رَاَوْا بَأسَنَا) المومن۔ ٨٥ جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو اس وقت ان کا ایمان لانا، ان کے لئے نفع مند نہیں ہوا۔(5)
فَلَنَسـَٔلَنَّ الَّذينَ أُرسِلَ إِلَيهِم وَلَنَسـَٔلَنَّ المُرسَلينَ(6)
٦۔١ امتوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہارے پاس پیغمبر آئے تھے؟ انہوں نے تمہیں ہمارا پیغام پہنچایا تھا؟وہ جواب دیں گے کہ ہاں! یا اللہ تیرے پیغمبر یقینا ہمار پاس آئے تھے لیکن ہماری قسمت پھوٹی تھی کہ ہم نے ان کی پروا نہیں کی اور پیغمبروں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے ہمارا پیغام اپنی امتوں کو پہنچایا تھا؟ اور انہوں نے اس کے مقابلے میں کیا رویہ اختیار کیا؟ پیغمبر سوال کا جواب دیں گے۔ جس کی تفصیل قرآن مجید کے مختلف مقامات پر موجود ہے۔(6)
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيهِم بِعِلمٍ ۖ وَما كُنّا غائِبينَ(7)
٧۔١ چونکہ ہر ظاہر اور پوشیدہ بات کا علم رکھتے ہیں اس لئے پھر ہم دونوں (امتیوں اور پیغمبروں) کے سامنے ساری باتیں بیان کریں گے اور جو جو کچھ انہوں نے کیا ہوگا، ان کے سامنے رکھ دیں گے۔(7)
وَالوَزنُ يَومَئِذٍ الحَقُّ ۚ فَمَن ثَقُلَت مَوٰزينُهُ فَأُولٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ(8)
(8)
وَمَن خَفَّت مَوٰزينُهُ فَأُولٰئِكَ الَّذينَ خَسِروا أَنفُسَهُم بِما كانوا بِـٔايٰتِنا يَظلِمونَ(9)
٩۔١ ان آیات میں وزن اعمال کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے جو قیامت والے دن ہوگا جسے قرآن کریم میں بھی متعدد جگہ اور احادیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ترازو میں اعمال تولے جائیں گے۔ جس کا نیکیوں کا پلا بھاری ہوگا، وہ کامیاب ہوگا اور جس کا بدیوں والا پلڑا بھاری ہوگا، وہ ناکام ہوگا۔ یہ اعمال کس طرح تولے جائیں گے جب کہ یہ اعراض ہیں یعنی ان کا ظاہری وجود اور جسم نہیں ہے؟ اس بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اللہ تعالٰی قیامت والے دن ان کو اجسام میں تبدیل فرمادے گا اور ان کا وزن ہوگا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ وہ صحیفے اور رجسٹر تولے جائیں گے۔ جن میں انسان کے اعمال درج ہونگے۔ تیسری رائے یہ ہے کہ خود صاحب عمل کو تولا جائے گا، تینوں مسلکوں والے کے پاس اپنے مسلک کی حمایت میں صحیح احادیث و آثار موجود ہیں، اس لئے امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ تینوں ہی باتیں صحیح ہوسکتی ہیں ممکن ہے، کبھی اعمال، کبھی صحیفے اور کبھی صاحب عمل کو تولا جائے (دلائل کے لئے دیکھئے تفسیر ابن کثیر) بہرحال میزان اور وزن اعمال کا مسئلہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اس کا انکار اس کی تاویل گمراہی ہے۔ اور موجودہ دور میں تو اس کے انکار کی اب مزید کوئی گنجائش نہیں کہ بے وزن چیزیں بھی تولی جانے لگی ہیں۔(9)
وَلَقَد مَكَّنّٰكُم فِى الأَرضِ وَجَعَلنا لَكُم فيها مَعٰيِشَ ۗ قَليلًا ما تَشكُرونَ(10)
(10)
وَلَقَد خَلَقنٰكُم ثُمَّ صَوَّرنٰكُم ثُمَّ قُلنا لِلمَلٰئِكَةِ اسجُدوا لِءادَمَ فَسَجَدوا إِلّا إِبليسَ لَم يَكُن مِنَ السّٰجِدينَ(11)
١١۔١ خَلَقْنَاکُمْ میں ضمیر اگرچہ جمع کی ہے لیکن مراد ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام ہیں۔(11)
قالَ ما مَنَعَكَ أَلّا تَسجُدَ إِذ أَمَرتُكَ ۖ قالَ أَنا۠ خَيرٌ مِنهُ خَلَقتَنى مِن نارٍ وَخَلَقتَهُ مِن طينٍ(12)
١٢۔١ ان لا تسجدوا میں لا زائد ہے یعنی ان تسجد تجھے سجدہ کرنے سے کس نے روکا؟ یا عبارت محذوف ہے یعنی تجھے کس چیز نے اس بات پر مجبور کیا کہ تو سجدہ نہ کرے، شیطان فرشتوں میں سے نہیں تھا بلکہ خود قرآن کی صراحت کے بموجب وہ جنات میں سے تھا (الکہف۔ ٥٠) لیکن آسمان پر فرشتوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے اس سجدہ حکم میں شامل تھا جو اللہ نے فرشتوں کو دیا تھا۔ اس لئے اس سے باز پرس بھی ہوئی اور اس پر عتاب بھی نازل ہوا۔ اگر وہ اس حکم میں شامل یہ نہ ہوتا تو اس سے باز پرس ہوتی نہ وہ راندہ درگاہ قرار پاتا۔ ١٢۔٢ شیطان کا یہ عذر ' عذر گناہ بدتر از گناہ ' جس کا آئینہ دار ہے۔ ایک تو اس کا سمجھنا کہ افضل کو مفعول کی تعظیم کا حکم نہیں دیا جاسکتا ، غلط ہے۔ اس لئے کہ اصل چیز تو اللہ کا حکم ہے اس کے حکم کے مقابلے میں افضل وغیرہ افضل کی بحث اللہ سے سرتابی ہے۔ دوسرے، اس نے بہتر ہونے کی دلیل یہ دی کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور یہ مٹی سے۔ لیکن اس نے اس شرف اور عظمت کو نظر انداز کر دیا جو حضرت آدم علیہ السلام کو حاصل ہوا کہ اللہ نے انہیں اپنے ہاتھ سے بنایا اور اپنی طرف سے اس میں روح پھونکی۔ اس شرف کے مقابلے میں دنیا کی کوئی بھی چیز ہوسکتی ہے؟ تیسرا، نص کے مقابلے میں قیاس سے کام لیا، جو کسی بھی اللہ کو ماننے والے کا شیوا نہیں ہو سکتا اور یہ قیاس بھی فاسد تھا۔ آگ، مٹی سے کس طرح بہتر ہے؟ آگ میں سوائے تیزی، بھڑکنے اور جلانے کے کیا ہے؟ جب کہ مٹی میں سکون اور ثبات ہے، اس میں نبات و نمو، زیادتی اور اصلاح کی صلاحیت ہے۔ یہ صفات آگ سے بہرحال بہتر اور زیادہ مفید ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ شیطان کی تخلیق آگ سے ہوئی، جیسا کہ حدیث میں بھی آتا ہے کہ ' فرشتے نور سے، ابلیس آگ کی لپیٹ سے اور آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں۔(12)
قالَ فَاهبِط مِنها فَما يَكونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فيها فَاخرُج إِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرينَ(13)
١٣۔ ١ مِنْھَا کی ضمیر کا مرجع اکثر مفسرین نے جنت قرار دیا اور بعض نے اس مرتبہ کو جو ملکوت اعلٰی میں اسے حاصل تھا۔ فاضل مترجم نے اسی دوسرے مفہوم کے مطابق آسان ترجمہ کیا ہے۔ نکل بیشک تو ذلیلوں میں سے ہے (٢) ١٣۔٢ اللہ کے حکم کے مقابلے میں تکبر کرنے والا احترام و تعظیم کا نہیں، ذلت اور خواری کا مستحق ہے۔(13)
قالَ أَنظِرنى إِلىٰ يَومِ يُبعَثونَ(14)
(14)
قالَ إِنَّكَ مِنَ المُنظَرينَ(15)
١٥۔١ اللہ تعالٰی نے اس کی خواہش کے مطابق اسے مہلت عطا فرما دی جو اس کی حکمت، ارادے اور مشیت کے مطابق تھی جس کا پورا علم اسی کو ہے۔ تاہم ایک حکمت یہ نظر آتی ہے کہ اس طرح اپنے بندوں کی آزمائش کر سکے گا کہ کون رحمان کا بندہ بنتا ہے اور کون شیطان کا پجاری۔(15)
قالَ فَبِما أَغوَيتَنى لَأَقعُدَنَّ لَهُم صِرٰطَكَ المُستَقيمَ(16)
١٦۔١ گمراہ تو اللہ کی تکوینی مشیت کے تحت ہوا۔ لیکن اس نے اسے بھی مشرکوں کی طرح الزام بنا لیا، جس طرح وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔(16)
ثُمَّ لَءاتِيَنَّهُم مِن بَينِ أَيديهِم وَمِن خَلفِهِم وَعَن أَيمٰنِهِم وَعَن شَمائِلِهِم ۖ وَلا تَجِدُ أَكثَرَهُم شٰكِرينَ(17)
١٧۔١ مطلب یہ ہے کہ ہر خیر اور شر کے راستے پر بیٹھوں گا۔ خیر سے روکوں گا اور شر کو ان کی نظروں میں پسندیدہ بنا کر ان کو اختیار کرنے کی ترغیب دوں گا۔ ١٧۔٢ شاکرین کے دوسرے معنی موحدین کے کیے گئے ہیں۔ یعنی اکثر لوگوں کو میں شرک میں مبتلا کر دوں گا۔ شیطان نے اپنا یہ گمان فی الواقع سچا کر دکھایا، (وَ لَقَدْ صدَّقَ عَلَیْھِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہ، فَا تَّبَعُوْہُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُئْومِنِیْنَ) (سو رہ۔ سباء۔٢٠) شیطان نے اپنا گمان سچا کر دکھایا، اور مومنوں کے ایک گروہ کو چھوڑ کر سب لوگ اس کے پیچھے لگ گئے۔ اسی لئے حدیث میں شیطان سے پناہ مانگنے اور قرآن میں اس کے مکر و کید سے بچنے کی بڑی تاکید آئی ہے۔(17)
قالَ اخرُج مِنها مَذءومًا مَدحورًا ۖ لَمَن تَبِعَكَ مِنهُم لَأَملَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُم أَجمَعينَ(18)
(18)
وَيٰـٔادَمُ اسكُن أَنتَ وَزَوجُكَ الجَنَّةَ فَكُلا مِن حَيثُ شِئتُما وَلا تَقرَبا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكونا مِنَ الظّٰلِمينَ(19)
١٩۔١ یعنی صرف اس درخت کو چھوڑ کر جہاں سے اور جتنا چاہو کھاؤ۔ ایک درخت کا پھل کھانے کی پابندی آزمائش کے طور عائد کی۔(19)
فَوَسوَسَ لَهُمَا الشَّيطٰنُ لِيُبدِىَ لَهُما ما وۥرِىَ عَنهُما مِن سَوءٰتِهِما وَقالَ ما نَهىٰكُما رَبُّكُما عَن هٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلّا أَن تَكونا مَلَكَينِ أَو تَكونا مِنَ الخٰلِدينَ(20)
٢٠۔١ وسوسہ اور وسواس زلزلہ اور زلزال کے وزن پر ہے شیطان دل میں جو بری باتیں ڈالتا ہے، اس کو وسوسہ کہا جاتا ہے۔ ٢٠۔١ یعنی شیطان کا مقصد اس بہکاوے سے حضرت آدم و حوا کو اس لباس جنت سے محروم کرکے انہیں شرمندہ کرنا تھا، جو انہیں جنت میں پہننے کے لئے دیا گیا تھا شرم گاہ کو سَوْءَۃ،ُ سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ اس کے ظاہر ہونے کو برا سمجھا جاتا ہے۔(20)
وَقاسَمَهُما إِنّى لَكُما لَمِنَ النّٰصِحينَ(21)
٢١۔١ جنت کی جو نعمتیں اور آسائشیں حضرت آدم علیہ السلام و حوا کو حاصل تھیں، اس کے حوالے سے شیطان نے دونوں کو بہلایا اور یہ جھوٹ بولا کہ اللہ تمہیں ہمیشہ جنت میں رکھنا نہیں چاہتا، اس لئے اس درخت کا پھل کھانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ اس کی تاثیر ہی یہ ہے جو اسے کھا لیتا ہے، وہ فرشتہ بن جاتا ہے یا دائمی زندگی اسے حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر قسم کھا کر اپنا خیر خواہ ہونا بھی ظاہر کیا، جس سے حضرت آدم علیہ السلام و حوا متاثر ہوگئے اس لئے اللہ والے اللہ کے نام پر آسانی سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔(21)
فَدَلّىٰهُما بِغُرورٍ ۚ فَلَمّا ذاقَا الشَّجَرَةَ بَدَت لَهُما سَوءٰتُهُما وَطَفِقا يَخصِفانِ عَلَيهِما مِن وَرَقِ الجَنَّةِ ۖ وَنادىٰهُما رَبُّهُما أَلَم أَنهَكُما عَن تِلكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَكُما إِنَّ الشَّيطٰنَ لَكُما عَدُوٌّ مُبينٌ(22)
٢٢۔١ تدلیۃ اور ادلاء کے معنی ہیں کسی چیز کو اوپر سے نیچے چھوڑ دینا گویا شیطان ان کو مرتبہ علیا سے اتار کر ممنوعہ درخت کا پھل کھانے تک لے آیا ٢٢۔۲یہ اس مصیت کا اثر ظاہر ہوا جو آدم علیہ السلام و حوا سے غیر شعوری اور غیر ارادی طور پر ہوئی اور پھر دونوں مارے شرم کے جنت کے پتے جوڑ جوڑ کر اپنی شرم گاہ چھپانے لگے۔ اس سے قبل انہیں اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک ایسا نورانی لباس ملا ہوا تھا، جو اگرچہ غیر مرئی تھا لیکن ایک دوسرے کی شرم گاہ کے لئے ساتر (پردہ پوش) تھا۔ ابن کثیر ٢٢۔۳ یعنی اس تنبہ کے باوجود تم شیطان کے وسوسوں کا شکار ہوگئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطان کے جال بڑے حسین اور دلفریب ہوتے ہیں اور جن سے بچنے کے لئے بڑی کاوش و محنت اور ہر وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔(22)
قالا رَبَّنا ظَلَمنا أَنفُسَنا وَإِن لَم تَغفِر لَنا وَتَرحَمنا لَنَكونَنَّ مِنَ الخٰسِرينَ(23)
٢٣۔١ توبہ استغفار کے یہ وہی کلمات ہیں جو حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تبارک و تعالٰی سے سیکھے، جیسا کہ سورہ بقرہ، آیت ٣٧ میں صراحت ہے (دیکھئے آیت مذکورہ کا حاشیہ) گویا شیطان نے اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا تو اس کے بعد وہ اس پر نہ صرف اڑ گیا بلکہ جواز و اثبات میں عقلی قیاسی دلائل دینے لگا، جس کے نتیجہ میں وہ راندہ درگاہ اور ہمیشہ کے لئے ملعون قرار پایا اور حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی غلطی پر ندامت و پشیمانی کا اظہار اور بارگاہ الٰہی میں توبہ و استفغار کا اہتمام کیا۔ تو اللہ تعالٰی کی رحمت و مغفرت کے مستحق قرار پائے۔ یوں گویا دونوں راستوں کی نشان دہی ہوگئی، شیطانی راستے کی بھی اور اللہ والوں کے راستے کی بھی۔ گناہ کرکے اس پر اترانا، اصرار کرنا اور اسکو صحیح ثابت کرنے کے لئے دلائل ' کے انبار فراہم کرنا شیطانی راستہ ہے۔ اور گناہ کے بعد احساس ندمت سے مغلوب ہو کر بارگاہ الٰہی میں جھک جانا اور توبہ استغفار کا اہتمام کرنا بندگان الٰہی کا راستہ ہے۔(23)
قالَ اهبِطوا بَعضُكُم لِبَعضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُم فِى الأَرضِ مُستَقَرٌّ وَمَتٰعٌ إِلىٰ حينٍ(24)
(24)
قالَ فيها تَحيَونَ وَفيها تَموتونَ وَمِنها تُخرَجونَ(25)
(25)
يٰبَنى ءادَمَ قَد أَنزَلنا عَلَيكُم لِباسًا يُوٰرى سَوءٰتِكُم وَريشًا ۖ وَلِباسُ التَّقوىٰ ذٰلِكَ خَيرٌ ۚ ذٰلِكَ مِن ءايٰتِ اللَّهِ لَعَلَّهُم يَذَّكَّرونَ(26)
٢٦۔١ سَوْآت،ُ ،ُ جسم کے وہ حصے جنہیں چھپانا ضروری ہے جیسے شرم گاہ اور وہ لباس جو حسن و رعنائی کے لئے پہنا جائے۔ گویا لباس کی پہلی قسم ضروریات سے اور دوسری قسم تتمہ اضافہ سے ہے۔ اللہ تعالٰی نے ان دونوں قسموں کے لباس کے لئے سامان اور مواد پیدا فرمایا۔ ٢٦۔٢ اس سے مراد بعض کے نزدیک وہ لباس ہے جو متقین قیامت والے دن پہنیں گے۔ بعض کے نزدیک ایمان، بعض کے نزدیک عمل صالح مشیت الٰہی وغیرہ ہیں۔ مفہوم سب کا تقریبًا ایک ہے کہ ایسالباس، جسے پہن کر انسان تکبر کرنے کی بجائے، اللہ سے ڈرے اور ایمان و عمل صالح کے تقاضوں کا اہتمام کرے۔ ٢٦۔٣ اس سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ زیب و زینت اور آرائش کے لئے بھی اگرچہ لباس پہننا جائز ہے، تاہم لباس میں ایسی سادگی زیادہ پسندیدہ ہے جو انسان کے زہد اور تقوےٰ کی مظہر ہو۔ علاوہ ازیں نیا لباس پہن کر یہ دعا بھی پڑھی جائے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا پڑھا کرتے تھے : (واَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّزِیْ کَسَانِی مَائْو وَارِیْ بِہٖ عَوْرَبِّی وَاَتَجَمَّلْ بِہِ فِیْ حَیَاتِیْ) تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے ایسا لباس پہنایا جس میں اپنا ستر چھپالوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کروں۔(26)
يٰبَنى ءادَمَ لا يَفتِنَنَّكُمُ الشَّيطٰنُ كَما أَخرَجَ أَبَوَيكُم مِنَ الجَنَّةِ يَنزِعُ عَنهُما لِباسَهُما لِيُرِيَهُما سَوءٰتِهِما ۗ إِنَّهُ يَرىٰكُم هُوَ وَقَبيلُهُ مِن حَيثُ لا تَرَونَهُم ۗ إِنّا جَعَلنَا الشَّيٰطينَ أَولِياءَ لِلَّذينَ لا يُؤمِنونَ(27)
٢٧۔١ اس میں اہل ایمان کو شیطان اور اور اس کے قبیلے یعنی چیلے چانٹوں سے ڈرایا گیا ہے کہ کہیں وہ تمہاری غفلت اور سستی سے فائدہ اٹھا کر تمہیں بھی اس طرح فتنے اور گمراہی میں نہ ڈال دے جس طرح تمہارے ماں باپ (آدم حوا) کو اس نے جنت سے نکلوا دیا اور لباس جنت بھی اتروا دیا۔ بالخصوص جب کہ وہ نظر بھی نہیں آتے۔ تو اس سے بچنے کا اہتمام اور فکر بھی زیادہ ہونا چاہئے۔ ٢٧۔٢ یعنی بے ایمان قسم کے لوگ ہی اس کے دوست اور اس کے خاص شکار ہیں۔ تاہم اہل ایمان پر بھی وہ ڈورے ڈالتا رہتا ہے۔ کچھ اور نہیں تو شرک خفی (ریاکاری) اور شرک میں ہی ان کو مبتلا کر دیتا ہے اور یوں ان کو بھی ایمان کے بعد ایمان صحیح کی پونجی سے محروم کر دیتا ہے۔(27)
وَإِذا فَعَلوا فٰحِشَةً قالوا وَجَدنا عَلَيها ءاباءَنا وَاللَّهُ أَمَرَنا بِها ۗ قُل إِنَّ اللَّهَ لا يَأمُرُ بِالفَحشاءِ ۖ أَتَقولونَ عَلَى اللَّهِ ما لا تَعلَمونَ(28)
٢٨۔١ اسلام سے قبل مشرکین بیت اللہ کا ننگا طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس حالت کو اختیار کرکے طواف کرتے ہیں جو اس وقت تھی جب ہماری ماؤں نے جنا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ اس کی یہ تاویل کرتے تھے کہ ہم جو لباس پہنے ہوتے ہیں اس میں ہم اللہ کی نافرمانی کرتے رہتے ہیں، اس لئے اس لباس میں طواف کرنا مناسب نہیں۔ چنانچہ وہ لباس اتار کر طواف کر تے اور عورتیں بھی ننگی طواف کرتیں، اس لئے، صرف اپنی شرم گاہ پر کوئی کپڑا یا چمڑے کا ٹکڑا رکھ لیتیں۔ اپنے اس شرم ناک فعل کے لئے دو عذر انہوں نے اور پیش کیے۔ ایک تو یہ کہ اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ اللہ نے اس کی تردید فرمائی کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالٰی بے حیائی کا حکم دے؟ یوں ہی تم اللہ کے ذمہ وہ بات لگاتے ہو جو اس نے نہیں کہی۔ جب انہیں حق کی بات بتائی جاتی ہے تو اس کے مقابلے میں یہی عذر پیش کرتے ہیں کہ ہمارے بڑے یہی کرتے آئے ہیں یا ہمارے امام اور پیر و شیخ کا یہی حکم ہے، یہی وہ خصلت ہے جس کی وجہ سے یہودی، یہودیت پر، نصرانی نصرانیت پر اور بدعتی بدعتوں پر قائم رہے (فتح القدیر)(28)
قُل أَمَرَ رَبّى بِالقِسطِ ۖ وَأَقيموا وُجوهَكُم عِندَ كُلِّ مَسجِدٍ وَادعوهُ مُخلِصينَ لَهُ الدّينَ ۚ كَما بَدَأَكُم تَعودونَ(29)
٢٩۔١ انصاف سے مراد یہاں بعض کے نزدیک لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یعنی توحید ہے۔ ٢٩۔٢ امام شوکانی نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ' اپنی نمازوں اپنا رخ قبلے کی طرف کرلو، چاہے تم کسی بھی مسجد میں ہو ' اور امام ابن کثیر نے اس سے استقامت بمعنی متابعت رسول مراد لی ہے اور اگلے جملے سے اخلاص اللہ اور کہا ہے کہ ہر عمل کی مقبولیت کے لئے ضروری ہے کہ وہ شریعت کے مطابق ہو اور دوسرے خالص رضائے الٰہی کے لئے ہو آیت میں ان باتوں کی تاکید کی گئی ہے۔(29)
فَريقًا هَدىٰ وَفَريقًا حَقَّ عَلَيهِمُ الضَّلٰلَةُ ۗ إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيٰطينَ أَولِياءَ مِن دونِ اللَّهِ وَيَحسَبونَ أَنَّهُم مُهتَدونَ(30)
(30)
۞ يٰبَنى ءادَمَ خُذوا زينَتَكُم عِندَ كُلِّ مَسجِدٍ وَكُلوا وَاشرَبوا وَلا تُسرِفوا ۚ إِنَّهُ لا يُحِبُّ المُسرِفينَ(31)
٣١۔١ آیت میں زینت سے مراد لباس ہے۔ اس کا سبب نزول بھی مشرکین کے ننگے طواف سے متعلق ہے۔ اس لئے انہیں کہا گیا ہے کہ لباس پہن کر اللہ کی عبادت کرو اور طواف کرو۔ ٣١۔٢ اِسْرَافُ، (حد سے نکل جانا) کسی چیز میں حتیٰ کے کھانے پینے میں بھی ناپسندیدہ ہے، ایک حدیث میں نبی نے فرمایا ' جو چاہو کھاؤ اور جو چاہے پیو جو چاہے پہنو البتہ دو باتوں سے گریز کرو۔ اسراف اور تکبر سے (صحیح مسلم، صحیح بخاری)، بعض سلف کا قول ہے، کہ اللہ تعالٰی نے (وَ کَلُوْ وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا) اس آدھی آیت میں ساری طب جمع فرما دی ہے (ابن کثیر) بعض کہتے ہیں زینت سے وہ لباس مراد ہے جو آرائش کے لیے پہنا جائے۔ جس سے ان کے نزدیک نماز اور طواف کے وقت تزئین کا حکم نکلتا ہے۔ اس آیت سے نماز میں ستر عورت کے وجوب پر بھی استدلال کیا گیا ہے بلکہ احادیث کی رو سے ستر عورت گھٹنوں سے لے کر ناف تک کے حصے کو ڈھانپنا ہرحال میں ضروری ہے چاہے آدمی خلوت میں ہی ہو۔ (فتح القدیر) جمعہ اور عیدین کے دن خوشبو کا استعمال بھی مستحب ہے کہ یہ بھی زینت کا ایک حصہ ہے۔ (ابن کثیر)(31)
قُل مَن حَرَّمَ زينَةَ اللَّهِ الَّتى أَخرَجَ لِعِبادِهِ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزقِ ۚ قُل هِىَ لِلَّذينَ ءامَنوا فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا خالِصَةً يَومَ القِيٰمَةِ ۗ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الءايٰتِ لِقَومٍ يَعلَمونَ(32)
٣٢۔١ مشرکین نے جس طرح طواف کے وقت لباس پہننے کو ناپسندیدہ قرار دے رکھا تھا، اسی طرح حلال چیزیں بھی بطور تقرب الٰہی اپنے اوپر حرام کر لی تھیں نیز بہت سی حلال چیزیں اپنے بتوں کے نام وقف کر دینے کی وجہ سے حرام گردانتے تھے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا لوگوں کی زینت کے لئے (مثلاً لباس وغیرہ) اور کھانے کی عمدہ چیزیں بنائی ہیں۔ گو کفار بھی ان سے فیض یاب اور فائدہ اٹھا لیتے ہیں بلکہ بعض دفعہ دینوی چیزوں اور آسائشوں کے حصول میں وہ مسلمانوں سے زیادہ کامیاب نظر آتے ہیں لیکن یہ بالتبع اور عارضی ہے جس میں اللہ تعالٰی کی تکوینی مشیت اور حکمت ہے تاہم قیامت والے دن یہ نعمتیں صرف اہل ایمان کے لیے ہوں گی کیونکہ کافروں پر جس طرح جنت حرام ہوگی، اسی طرح ماکولات ومشروبات بھی حرام ہوں گے۔(32)
قُل إِنَّما حَرَّمَ رَبِّىَ الفَوٰحِشَ ما ظَهَرَ مِنها وَما بَطَنَ وَالإِثمَ وَالبَغىَ بِغَيرِ الحَقِّ وَأَن تُشرِكوا بِاللَّهِ ما لَم يُنَزِّل بِهِ سُلطٰنًا وَأَن تَقولوا عَلَى اللَّهِ ما لا تَعلَمونَ(33)
٣٣۔ ١ ١ اعلانیہ فحش باتوں سے مراد بعض کے نزدیک طوائفوں کے اڈوں پر جا کر بدکاری اور پوشیدہ سے مراد کسی ' گرل فرینڈ ' سے خصوصی تعلق قائم کرنا ہے، بعض کے نزدیک اول الذکر سے مراد محرموں سے نکاح کرنا ہے جو ممنوع ہے، اس میں ہر قسم کی ظاہری بے حیائی کو شامل ہے، جیسے فلمیں، ڈرامے،ٹی وی، وی سی آر فحش اخبارات و رسائل، رقص و سرور اور مجروں کی محفلیں، عورتوں کی بے پردگی اور مردوں سے ان کا بے باکانہ اختلاط، مہندی اور شادی کی رسموں میں بے حیائی کے کھلے عام مظاہرہ وغیرہ یہ سب فواحش ظاہرہ ہیں ٣٣۔ ۲گناہ اللہ کی نافرمانی کا نام ہے اور ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے اور لوگوں کے اس پر مطلع ہونے کو تو برا سمجھے، بعض کہتے ہیں گناہ وہ ہے جس کا اثر کرنے والے کی اپنی ذات تک محدود ہو اور بغی یہ ہے کہ اس کے اثرات دوسروں تک بھی پہنچیں یہاں بغی کے ساتھ بغیر الحق کا مطلب ناحق ظلم و زیادتی مثلا لوگوں کا حق غضب کرلینا، کسی کا مال ہتھیالینا ناجائز مارنا پیٹنا اور سب وشتم کر کے بے عزتی کرنا وغیرہ ہے۔(33)
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذا جاءَ أَجَلُهُم لا يَستَأخِرونَ ساعَةً ۖ وَلا يَستَقدِمونَ(34)
٣٤۔١ میعاد معین سے مراد وہ مہلت عمل ہے جو اللہ وتبارک و تعالٰی ہر گروہ کو آزمانے کے لئے عطا فرماتا ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے یا اس کی بغاوت و سرکشی میں مزید اضافہ ہوتا ہے یہ مہلت بعض دفعہ ان کی پوری زندگیوں تک محدود ہوتی ہے۔ یعنی دینوی زندگی میں وہ گرفت نہیں فرماتا بلکہ صرف آخرت میں ہی سزا دے گا ان کی اجل مسمی قیامت کا دن ہی ہے اور جن کو دنیا میں وہ عذاب سے دوچار کر دیتا ہے، ان کی اجل مسمٰی وہ ہے۔ جب ان کا مواخذہ فرماتا ہے۔(34)
يٰبَنى ءادَمَ إِمّا يَأتِيَنَّكُم رُسُلٌ مِنكُم يَقُصّونَ عَلَيكُم ءايٰتى ۙ فَمَنِ اتَّقىٰ وَأَصلَحَ فَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ(35)
٣٥۔١ یہ ان اہل ایمان کا حسن انجام بیان کیا گیا ہے جو تقوےٰ اور عمل صالح سے آراستہ ہوں گے۔ قرآن نے ایمان کے ساتھ، اکثر جگہ، عمل صالح کا ذکر ضرور کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عند اللہ ایمان وہی معتبر ہے جس کے ساتھ عمل بھی ہوگا۔(35)
وَالَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَاستَكبَروا عَنها أُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ(36)
٣٦۔١ اس میں اہل ایمان کے برعکس ان لوگوں کا برا انجام بیان کیا گیا ہے جو اللہ کے احکام کو جھٹلاتے اور ان کے مقابلے میں استکبار کرتے ہیں۔ اہل ایمان اور اہل کفر دونوں کا انجام بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ لوگ اس کردار کو اپنائیں جس کا انجام اچھا ہے اور اس کردار سے بچیں جس کا انجام برا ہے۔(36)
فَمَن أَظلَمُ مِمَّنِ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَو كَذَّبَ بِـٔايٰتِهِ ۚ أُولٰئِكَ يَنالُهُم نَصيبُهُم مِنَ الكِتٰبِ ۖ حَتّىٰ إِذا جاءَتهُم رُسُلُنا يَتَوَفَّونَهُم قالوا أَينَ ما كُنتُم تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ ۖ قالوا ضَلّوا عَنّا وَشَهِدوا عَلىٰ أَنفُسِهِم أَنَّهُم كانوا كٰفِرينَ(37)
٣٧۔١ اسکے مختلف معنی کئے گئے ہیں۔ ایک معنی عمل، رزق اور عمر کے کئے گئے ہیں۔ یعنی ان کے مقدر میں جو عمر اور رزق ہے اسے پورا کر لینے اور جتنی عمر ہے، اس کو گزار لینے کے بعد بالآخر موت سے ہمکنار ہونگے۔ اسی کے ہم معنی یہ آیت ہے:(اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ ہ مَتَاع فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ) (آیت یونس۔٦٩،٧٠) جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہونگے، دنیا کا چند روزہ فائدہ اُٹھا کر، بالآخر ہمارے پاس ہی انہیں لوٹ کر آنا ہے۔(37)
قالَ ادخُلوا فى أُمَمٍ قَد خَلَت مِن قَبلِكُم مِنَ الجِنِّ وَالإِنسِ فِى النّارِ ۖ كُلَّما دَخَلَت أُمَّةٌ لَعَنَت أُختَها ۖ حَتّىٰ إِذَا ادّارَكوا فيها جَميعًا قالَت أُخرىٰهُم لِأولىٰهُم رَبَّنا هٰؤُلاءِ أَضَلّونا فَـٔاتِهِم عَذابًا ضِعفًا مِنَ النّارِ ۖ قالَ لِكُلٍّ ضِعفٌ وَلٰكِن لا تَعلَمونَ(38)
٣٨۔١ امم امۃ کی جمع ہے مراد وہ فرقے اور گروہ ہیں جو کفر شقاق اور شرک وتکذیب میں ایک جیسے ہوں گے۔ فی بمعنی مع بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی تم سے پہلے انسانوں اور جنوں میں جو گروہ تم جیسے یہاں آچکے ہیں ان کے ساتھ جہنم میں داخل ہو جاؤ یا ان میں شامل ہو جاؤ۔ (لَّعْنَتُ اُخْتَھَا) اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی۔ اُخْت"بہن" کو کہتے ہیں۔ ایک جماعت (امت) کو دوسری جماعت (امت) کی بہن بہ اعتبار دین، یا گمراہی کے کہا گیا۔ یعنی دونوں ہی ایک غلط مذہب کے پیرو یا گمراہ تھے یا جہنم کے ساتھی ہونے کے اعتبار سے ان کو ایک دوسری کی بہن قرار دیا گیا ہے۔ ٣٨۔٢ اِدَّارَکُوْا کے معنی ہیں تَدَارَکُوْا۔ جب ایک دوسرے کو ملیں گے اور باہم اکٹھے ہونگے۔ ٣٨۔٣ اخری (پچھلے) سے مراد بعد میں داخل ہونے والے اور اولی (پہلے) سے مراد ان سے پہلے داخل ہونے والے ہیں۔ یا اخری سے مراد اتباع پیروکار اور اولی سے متبوع لیڈر اور سردار مراد ہیں۔ ان کا جرم چونکہ زیادہ شدید ہے کہ خود بھی راہ حق سے دور ہو رہے ہیں اور دوسروں کو بھی کوشش کرکے اس سے دور رکھا، اس لئے یہ اپنے پیرو کاروں سے پہلے جہنم میں جائیں گے۔ ٣٨۔٤ جس طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ جہنمی کہیں گے، اے ہمارے رب! ہم تو اپنے سرداروں اور بڑوں کے پیچھے لگے رہے، پس انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے گمراہ کیا، یا اللہ ان کو دوگنا عذاب دے اور ان کو بڑی لعنت کر۔ ٣٨۔٥ یعنی ایک دوسرے کو طعنے دینے، کوسنے اور ایک دوسرے پر الزام دھرنے سے کوئی فائدہ نہیں، تم سب ہی اپنی اپنی جگہ بڑے مجرم ہو اور تم سب ہی دوگنے عذاب کے مستحق ہو۔ ان کا یہ مکالمہ سورۃ سبا۔٣١،٢٣ میں بیان کیا گیا ہے۔(38)
وَقالَت أولىٰهُم لِأُخرىٰهُم فَما كانَ لَكُم عَلَينا مِن فَضلٍ فَذوقُوا العَذابَ بِما كُنتُم تَكسِبونَ(39)
(39)
إِنَّ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَاستَكبَروا عَنها لا تُفَتَّحُ لَهُم أَبوٰبُ السَّماءِ وَلا يَدخُلونَ الجَنَّةَ حَتّىٰ يَلِجَ الجَمَلُ فى سَمِّ الخِياطِ ۚ وَكَذٰلِكَ نَجزِى المُجرِمينَ(40)
٤٠۔١ اس سے بعض نے اعمال، بعض نے ارواح اور بعض نے دعا مراد لی ہے، یعنی ان کے عملوں، یا روحوں یا دعا کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے، یعنی اعمال اور دعا قبول نہیں ہوسکتی اور روحیں واپس زمین میں لوٹا دی جاتی ہیں (جیساکہ مسند احمد، جلد ٢ صفحہ ٣٦٤،٣٦٥ کی ایک حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے امام شوکانی فرماتے ہیں کہ تینوں ہی چیزیں مراد ہوسکتی ہیں۔ ٤٠۔٢ یہ تعلیق بالمحال ہے جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گزرنا ممکن نہیں، اسی طرح اہل کفر کا جنت میں داخلہ ممکن نہیں۔ اونٹ کی مثال بیان فرمائی ہے اس لئے کہ اونٹ عربوں میں متعارف تھا اور جسمانی اعتبار سے ایک بڑا جانور تھا اور سوئی کا ناکہ (سوراخ) یہ اپنے باریک تنگ ہونے کے اعتبار سے بے مثال ہے۔ ان دونوں کے ذکر کرنے اس تعلیق بالمحال کے مفہوم کا درجہ واضح کر دیا ہے۔ تعلیق بالمحال کا مطلب ہے ایسی چیز کے ساتھ مشروط کر دینا جو ناممکن ہو۔ جیسے اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اب کسی چیز کے وقوع کو، اونٹ کے سوئی کے ناکے میں داخل ہونے کے ساتھ مشروط کر دینا تعلیق بالمحال ہے۔(40)
لَهُم مِن جَهَنَّمَ مِهادٌ وَمِن فَوقِهِم غَواشٍ ۚ وَكَذٰلِكَ نَجزِى الظّٰلِمينَ(41)
٤١۔١ غواش غاشیۃ کی جمع ہے ڈھانپ لینے والی۔ یعنی آگ ہی ان کا اوڑھنا ہوگا، یعنی اوپر سے بھی آگ نے ان کو ڈھانپا یعنی گھیرا ہوگا۔(41)
وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لا نُكَلِّفُ نَفسًا إِلّا وُسعَها أُولٰئِكَ أَصحٰبُ الجَنَّةِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ(42)
٤٢۔١ یہ جملہ معترضہ ہے جس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ ایمان اور عمل صالح، یہ ایسی چیزیں نہیں ہیں کہ جو انسانی طاقت سے زیادہ ہوں اور انسان ان پر عمل کرنے کی قدرت نہ رکھتے ہوں، بلکہ ہر انسان ان کو باآسانی اپنا سکتا ہے اور ان کے عمل کو بروئے کار لا سکتا ہے۔(42)
وَنَزَعنا ما فى صُدورِهِم مِن غِلٍّ تَجرى مِن تَحتِهِمُ الأَنهٰرُ ۖ وَقالُوا الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى هَدىٰنا لِهٰذا وَما كُنّا لِنَهتَدِىَ لَولا أَن هَدىٰنَا اللَّهُ ۖ لَقَد جاءَت رُسُلُ رَبِّنا بِالحَقِّ ۖ وَنودوا أَن تِلكُمُ الجَنَّةُ أورِثتُموها بِما كُنتُم تَعمَلونَ(43)
٤٣۔١ اللہ تعالٰی اہل جنت پر انعام فرمائے گا کہ ان کے سینوں میں ایک دوسرے کے خلاف بغض و عداوت کے جذبات ہوں گے، وہ دور کردے گا، پھر ان کے دل ایک دوسرے کے بارے میں آئینے کی طرح صاف ہوجائیں گے، کسی کے بارے میں دل میں کوئی کدورت اور عداوت نہیں رہے گی۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اہل جنت کے درمیان درجات و منازل کا جو تفاوت ہوگا، اس پر وہ ایک دوسرے سے حسد نہیں کریں گے۔ پہلے مفہوم کی تائید ایک حدیث میں ہوتی ہے کہ جنتیوں کو، جنت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا اور ان کے درمیان آپس کی جو زیادتیاں ہونگی، ایک دوسرے کو ان کا بدلہ دلایا جائے گا، حتّی کہ جب وہ بالکل پاک صاف ہوجائیں گے تو پھر انہیں جنت میں داخلے کی اجازت دے دی جائے گی (صحیح بخاری) ٤٣۔٢ یعنی یہ ہدایت جس سے ہمیں ایمان اور عمل صالح کی زندگی نصیب ہوئی اور پھر بارگاہ الٰہی قبولیت کا درجہ بھی حاصل ہوا، یہ اللہ تعالٰی کی خاص رحمت ہے اور اس کا فضل ہے۔ اگر یہ رحمت اور فضل نہ ہوتا تو ہم یہاں تک نہ پہنچ سکتے، اسی مفہوم کی یہ حدیث ہے جس میں نبی نے فرمایا ' یہ بات اچھی طرح جان لو کہ تم میں سے کسی کو محض اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا، جب تک اللہ تعالٰی کی رحمت نہ ہوگی۔ صحابہ نے پوچھا یارسول اللہ آپ بھی؟ فرمایا ہاں میں بھی اس وقت تک جنت میں نہیں جاؤں گا جب تک کہ رحمت الہی مجھے اپنے دامن میں نہیں سمیٹ لے گی۔ ٤٣۔٣ یہ تشریح پچھلی بات اور حدیث مذکورہ کے منافی نہیں، اس لئے کہ نیک عمل کی توفیق بھی بجائے خود اللہ کا فضل و احسان ہے۔(43)
وَنادىٰ أَصحٰبُ الجَنَّةِ أَصحٰبَ النّارِ أَن قَد وَجَدنا ما وَعَدَنا رَبُّنا حَقًّا فَهَل وَجَدتُم ما وَعَدَ رَبُّكُم حَقًّا ۖ قالوا نَعَم ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَينَهُم أَن لَعنَةُ اللَّهِ عَلَى الظّٰلِمينَ(44)
٤٤۔١ یہی بات نبی نے جنگ بدر میں جو کافر مارے گئے تھے اور ان کی لاشیں ایک کنوئیں میں پھینک دی گئیں تھیں۔ انہیں خطاب کرتے ہوئے کہی تھی، جس پر حضرت عمر نے کہا تھا ' آپ ایسے لوگوں سے خطاب فرما رہے ہیں جو ہلاک ہو چکے ہیں ' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم، میں انہیں جو کچھ کہ رہا ہوں، وہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں، لیکن اب وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے (صحیح مسلم)(44)
الَّذينَ يَصُدّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ وَيَبغونَها عِوَجًا وَهُم بِالءاخِرَةِ كٰفِرونَ(45)
(45)
وَبَينَهُما حِجابٌ ۚ وَعَلَى الأَعرافِ رِجالٌ يَعرِفونَ كُلًّا بِسيمىٰهُم ۚ وَنادَوا أَصحٰبَ الجَنَّةِ أَن سَلٰمٌ عَلَيكُم ۚ لَم يَدخُلوها وَهُم يَطمَعونَ(46)
٤٦۔١ ' ان دونوں کے درمیان ' سے مراد جنت دوزخ کے درمیان یا کافروں اور مومنوں کے درمیان ہے۔ حِجَاب،ُ (آڑ) سے وہ فصیل (دیوار) مراد ہے جس کا ذکر سورۃ حدید میں ہے :(فَضْرِبَ بَیْنَھُمْ بِسُوْرٍ لَّہُ بَا ب،ُ،ُ) الحدید۔١٣ پس ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی، جس میں ایک دروازہ ہوگا یہی اعراف کی دیوار ہے۔ ٤٦۔٢ یہ کون ہونگے؟ ان کی تعین میں مفسرین کے درمیان خاصا اختلاف ہے۔ اکثر مفسرین کے نزدیک یہ وہ لوگ ہونگے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ ان کی نیکیاں جہنم میں جانے سے اور برائیاں جنت میں جانے سے مانع ہونگی اور یوں اللہ تعالٰی کی طرف سے قطعی فیصلہ ہونے تک وہ درمیان میں معلق رہیں گے۔ ٤٦۔٣ سیماء کے معنی علامت کے ہیں جنتیوں کے چہرے روشن اور جہنمیوں کے چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلی ہونگی۔ اس طرح وہ دونوں قسم کے لوگوں کو پہچان لیں گے۔ ٤٦۔٤ یہاں یَطْمَعُوْنَ کے معنی بعض لوگوں نے یَعْلَمُوْن کے کئے ہیں یعنی ان کو علم ہوگا کہ وہ عنقریب جنت میں داخل کر دئے جائیں گے۔(46)
۞ وَإِذا صُرِفَت أَبصٰرُهُم تِلقاءَ أَصحٰبِ النّارِ قالوا رَبَّنا لا تَجعَلنا مَعَ القَومِ الظّٰلِمينَ(47)
(47)
وَنادىٰ أَصحٰبُ الأَعرافِ رِجالًا يَعرِفونَهُم بِسيمىٰهُم قالوا ما أَغنىٰ عَنكُم جَمعُكُم وَما كُنتُم تَستَكبِرونَ(48)
٤٨۔١ یہ اہل دوزخ ہونگے جن کو اصحاب الاعراف ان کی علامتوں سے پہچان لیں گے اور وہ اپنے جتھے اور دوسری چیزوں پر جو گھمنڈ کرتے تھے اس کے حال سے انہیں یاد دلائیں گے کہ یہ چیزیں تمہارے کچھ کام نہ آئیں۔(48)
أَهٰؤُلاءِ الَّذينَ أَقسَمتُم لا يَنالُهُمُ اللَّهُ بِرَحمَةٍ ۚ ادخُلُوا الجَنَّةَ لا خَوفٌ عَلَيكُم وَلا أَنتُم تَحزَنونَ(49)
٤٩۔١ اس سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو دنیا میں غریب و مسکین اور مفلس و نادار قسم کے تھے جن کا مذاق مذکورہ منکرین اڑایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے اگر یہ اللہ کے محبوب ہوتے تو ان کا دنیا میں یہ حال نہ ہوتا؟ پھر مزید جسارت کرتے ہوئے دعویٰ کرتے کہ قیامت والے دن بھی اللہ کی رحمت ہم پر ہوگی نہ کہ ان پر (ابن کثیر) بعض نے اس کا قائل اصحاب الاعراف کو بتلایا ہے اور بعض کہتے ہیں جب اصحاب الاعراف جہنمیوں کو یہ کہیں گے کہ تمہارا جتھہ اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا تمہارے کچھ کام نہ آیا۔ تو اس وقت اللہ کی طرف سے جنتیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جائے گا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھاتے تھے کہ ان پر اللہ کی رحمت نہیں ہوگی۔(49)
وَنادىٰ أَصحٰبُ النّارِ أَصحٰبَ الجَنَّةِ أَن أَفيضوا عَلَينا مِنَ الماءِ أَو مِمّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ ۚ قالوا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُما عَلَى الكٰفِرينَ(50)
٥٠۔١ جس طرح پہلے گزر چکا ہے کہ کھانے پینے کی نعمتیں قیامت والے دن صرف اہل ایمان کے لئے ہونگی (خَالصَۃً یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ) یہاں اس کی مزید وضاحت جنتیوں کی زبان سے کر دی گئی ہے۔(50)
الَّذينَ اتَّخَذوا دينَهُم لَهوًا وَلَعِبًا وَغَرَّتهُمُ الحَيوٰةُ الدُّنيا ۚ فَاليَومَ نَنسىٰهُم كَما نَسوا لِقاءَ يَومِهِم هٰذا وَما كانوا بِـٔايٰتِنا يَجحَدونَ(51)
٥١۔١ حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالٰی اس قسم کے بندے سے پوچھے گا کیا میں نے تمہیں بیوی بچے نہیں دیئے تھے؟ تمہیں عزت اور اکرام سے نہیں نوازا تھا اور کیا اونٹ اور گھوڑے تیرے تابع نہیں کر دیئے تھے؟ کیا تو سرداری کرتے ہوئے لوگوں سے چونگی وصول نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا کیوں نہیں؟ یا اللہ یہ سب باتیں صحیح ہیں، اللہ تعالٰی اس سے پوچھے گا، کیا تو میری ملاقات کا یقین رکھتا تھا؟ وہ کہے گا نہیں، اللہ تعالٰی فرمائے گا ' پس جس طرح تو مجھے بھولا رہا آج میں بھی تمہیں بھول جاتا ہوں (صحیح مسلم) قرآن کریم کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین کو لہو و لعب بنانے والے وہی ہوتے ہیں جو دنیا کے فریب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں سے چونکہ آخرت کی فکر اور اللہ کا خوف نکل جاتا ہے۔ اس لئے وہ دین میں بھی اپنی طرف سے جو چاہتے ہیں اضافہ کر لیتے ہیں احکام اور فرائض پر عمل کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔(51)
وَلَقَد جِئنٰهُم بِكِتٰبٍ فَصَّلنٰهُ عَلىٰ عِلمٍ هُدًى وَرَحمَةً لِقَومٍ يُؤمِنونَ(52)
٥٢۔١ یہ اللہ تعالٰی جہنمیوں کے ضمن میں ہی فرما رہا ہے کہ ہم نے تو اپنے علم کامل کے مطابق ایسی کتاب بھیج دی تھی جس میں ہرچیز کو کھول کر بیان کر دیا تھا۔ ان لوگوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا، تو ان کی بد قسمتی، ورنہ جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئے، وہ ہدایت و رحمت الٰہی سے فیض یاب ہوئے گویا ہم نے تو (وَمَا كُنَّا مُعَذَّبِیْنَ حتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا) (سورہ بنی اسرائیل۔ ١٥) ' جب تک ہم رسول بھیج کر اتمام حجت نہیں کر دیتے، ہم عذاب نہیں دیتے 'کے مطابق اہتمام کر دیا تھا۔(52)
هَل يَنظُرونَ إِلّا تَأويلَهُ ۚ يَومَ يَأتى تَأويلُهُ يَقولُ الَّذينَ نَسوهُ مِن قَبلُ قَد جاءَت رُسُلُ رَبِّنا بِالحَقِّ فَهَل لَنا مِن شُفَعاءَ فَيَشفَعوا لَنا أَو نُرَدُّ فَنَعمَلَ غَيرَ الَّذى كُنّا نَعمَلُ ۚ قَد خَسِروا أَنفُسَهُم وَضَلَّ عَنهُم ما كانوا يَفتَرونَ(53)
٥٣۔١ تاویل کا مطلب ہے کسی چیز کی اصل حقیقت۔ یعنی کتاب الٰہی کے ذریعے سے وعدے، وعید اور جنت و دوزخ وغیرہ کا بیان تو کر دیا تھا، لیکن یہ اس دنیا کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے منتظر تھے، سو اب وہ انجام ان کے سامنے آگیا۔ ٥٣۔٢ یعنی جس انجام کے منتظر تھے اس کے سامنے آجانے کے بعد اعتراف حق کرنے یا دوبارہ دنیا میں بھيجے جانے کی آرزو اور کسی سفارش کی تلاش، یہ سب بے فائدہ ہونگی۔ وہ معبود بھی ان سے گم ہوجائیں گے جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، وہ ان کی مدد کر سکیں گے نہ سفارش اور نہ عذاب جہنم سے چھڑا ہی سکیں گے۔(53)
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ فى سِتَّةِ أَيّامٍ ثُمَّ استَوىٰ عَلَى العَرشِ يُغشِى الَّيلَ النَّهارَ يَطلُبُهُ حَثيثًا وَالشَّمسَ وَالقَمَرَ وَالنُّجومَ مُسَخَّرٰتٍ بِأَمرِهِ ۗ أَلا لَهُ الخَلقُ وَالأَمرُ ۗ تَبارَكَ اللَّهُ رَبُّ العٰلَمينَ(54)
٥٤۔١ یہ چھ دن اتوار، پیر، منگل، بدھ، جمعرات اور جمعہ ہیں۔ جمعہ کے دن ہی حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، ہفتے والے دن کہتے ہیں کوئی تخلیق نہیں ہوئی، اسی لئے اس کو یوم البست کہا جاتا ہے، کیونکہ سبت کے معنی ہیں قطع (کاٹنے) کے ہیں یعنی اس دن تخلیق کا کام قطع ہوگیا۔ پھر اس دن سے کیا مراد ہے؟ ہماری دنیا کا دن، جو طلوع شمس سے شروع ہوتا ہے اور غروب شمس پر ختم ہو جاتا ہے۔ یا یہ دن ہزار سال کے برابر ہے؟ جس طرح کہ اللہ کے یہاں کے دن کی گنتی ہے، یا جس طرح قیامت کے دن کے بارے میں آتا ہے۔ بظاہر یہ دوسری بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ ایک تو اس وقت سورج چاند کا یہ نظام ہی نہیں تھا، آسمان اور زمین کی تخلیق کے بعد ہی یہ نظام قائم ہوا دوسرے یہ عالم بالا کا واقعہ ہے جس کو دنیا سے کوئی نسبت نہیں ہے، اس لئے اس دن کی اصل حقیقت اللہ تعالٰی ہی بہتر جانتا ہے، ہم قطعیت کے ساتھ کوئی بات نہیں کہہ سکتے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالٰی تو کُنْ سے سب کچھ پیدا کر سکتا تھا، اس کے باوجود اس نے ہرچیز کو الگ الگ درجہ بدرجہ سلسلہ وار بنایا اس کی بھی اصل حکمت اللہ تعالٰی ہی جانتا ہے تاہم بعض علماء نے اس کی ایک حکمت لوگوں کو آرام، وقار اور تدریج (سلسلہ وار) کے ساتھ کام کرنے کا سبق دینا بتلائی ہے۔ وَا للّٰہُ اَعْلَم ٥٤۔٢ یعنی اللہ تعالٰی عرش پر مستقر ( ّٹھہرا) ہے۔ لیکن کس طرح، کس کیفیت کے ساتھ، اسے ہم بیان نہیں کرسکتے کسی کے ساتھ تشبیہ ہی دے سکتے ہیں۔ نعیم بن حماد کا قول ہے ' جو اللہ کی تخلیق کے ساتھ تشبیہ دے اس نے بھی کفر کیا اور جس نے اللہ کی اپنے بارے میں بیان کردہ کسی بات کا انکار کیا، اس نے بھی کفر کیا ' اور اللہ کے بارے میں اس کی یا اس کے رسول کی بیان بات کو بیان کرنا، تشبیہ نہیں ہے۔ اس لئے جو باتیں اللہ تعالٰی کے بارے میں نص(قطعی حکم) سے ثابت ہیں، ان پر بلا تاویل اور بلا کیف و تشبیہ پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ (ابن کثیر) ٥٤۔٣ حثیثا کے معنی ہیں نہایت تیزی سے اور مطلب ہے کہ ایک کے بعد دوسرا فورا آجاتا ہے یعنی دن کی روشنی آتی ہے تو رات کی تاریکی فوراً غائب ہو جاتی ہے اور رات آتی ہے تو دن کا اجالا ختم ہو جاتا ہے اور سب دور و نزدیک سیاہی چھا جاتی ہے۔(54)
ادعوا رَبَّكُم تَضَرُّعًا وَخُفيَةً ۚ إِنَّهُ لا يُحِبُّ المُعتَدينَ(55)
(55)
وَلا تُفسِدوا فِى الأَرضِ بَعدَ إِصلٰحِها وَادعوهُ خَوفًا وَطَمَعًا ۚ إِنَّ رَحمَتَ اللَّهِ قَريبٌ مِنَ المُحسِنينَ(56)
٥٦۔١ ان آیات میں چار چیزوں کی تلقین کی گئی ہے ١۔ اللہ تعالٰی سے آہ زاری اور خفیہ طریقے سے دعا کی جائے، جس طرح کہ حدیث میں آتا ہے ' لوگو! اپنے نفس کے ساتھ نرمی کرو (یعنی آواز پست رکھو) تم جس کو پکار رہے ہو، وہ بہرا نہ غائب، وہ تمہاری دعائیں سننے والا اور قریب ہے (صحیح بخاری)۲۔ دعا میں زیادتی نہ کی جائے یعنی اپنی حیثیت اور مرتبے سے بڑھ کر دعا نہ کی جائے۔ ۳۔ اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلایا جائے یعنی اللہ کی نافرمانیاں کر کے فساد پھیلانے میں حصہ نہ لیا جائے۔ ٤۔ اس کے عذاب کا ڈر بھی دل میں ہو اور اس کی رحمت کی امید بھی ہو۔ اس طریقے سے دعا کرنے والے محسنین ہیں۔ یقینا اللہ کی رحمت ان کے قریب ہے۔(56)
وَهُوَ الَّذى يُرسِلُ الرِّيٰحَ بُشرًا بَينَ يَدَى رَحمَتِهِ ۖ حَتّىٰ إِذا أَقَلَّت سَحابًا ثِقالًا سُقنٰهُ لِبَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَنزَلنا بِهِ الماءَ فَأَخرَجنا بِهِ مِن كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۚ كَذٰلِكَ نُخرِجُ المَوتىٰ لَعَلَّكُم تَذَكَّرونَ(57)
٥٧۔١ اپنی الوہیت و ربوبیت کے اثبات میں اللہ تعالٰی مزید دلائل بیان فرما کر پھر اس سے احیاء موتی کا اثبات فرما رہا ہے۔ بشرا بشیر کی جمع ہے، رحمۃ سے مراد یہاں مطر بارش ہے یعنی بارش سے پہلے وہ ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے جو بارش کی نوید ہوتی ہیں۔ ١٥٧۔٢ بھاری بادل سے مراد پانی سے بھرے ہوئے بادل ہیں۔ ٥٧۔٣ ہر قسم کے پھل، جو رنگوں میں، ذائقوں میں، خوشبوؤں میں اور شکل و صورت میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ٥٧۔٤ جس طرح ہم پانی کے ذریعے مردہ زمین روئیدگی پیدا کر دیتے ہیں اور وہ انواع و اقسام کے غلہ اور پھل پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح قیامت والے دن تمام انسانوں کو، جو مٹی میں مل کر مٹی ہو چکے ہونگے ہم دوبارہ زندہ کریں گے اور پھر ان کا حساب لیں گے۔(57)
وَالبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخرُجُ نَباتُهُ بِإِذنِ رَبِّهِ ۖ وَالَّذى خَبُثَ لا يَخرُجُ إِلّا نَكِدًا ۚ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الءايٰتِ لِقَومٍ يَشكُرونَ(58)
٥٨۔١ علاوہ ازیں یہ تمثیل بھی ہوسکتی ہے۔ اَلْبَلَدُ الطَّیِّبُ سے مراد سریع الفہم اور اَلْبَلَدُ الطَّیِّبُ سے کند ذہن، وعظ و نصیحت قبول کرنے والا دل اور اس کے برعکس دل۔ قلب مومن یا قلب منافق یا پاکیزہ انسان اور ناپاک انسان مومن، پاکیزہ انسان اور وعظ و نصحت قبول کرنے والا دل بارش کو قبول کرنے والی زمین کی طرح، آیات الٰہی کو سن کر ایمان و عمل صالح میں مزید پختہ ہوتا ہے اور دوسرا دل اس کے برعکس زمین شور کی طرح ہے جو بارش کا پانی قبول ہی نہیں کرتی یا کرتی ہے تو برائے نام جس سے پیداوار بھی نکمی اور برائے نام ہوتی ہے۔ اسی کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ نے بیان فرمایا کہ ' مجھے اللہ تعالٰی نے علم ہدایت دے کر بھیجا ہے، اس کی مثال اس موسلا دھار بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی۔ اس کے جو حصے زرخیز تھے انہوں نے پانی کو اپنے اندر جذب کرکے چارہ اور گھاس خوب اگایا (یعنی بھرپور پیداوار دی) اور اس کے بعض حصے سخت تھے جنہوں نے پانی کو روک لیا (اندر جذب نہیں ہوا ' تاہم اس سے بھی لوگوں نے فائدہ اٹھایا، خود بھی پیا۔ کھیتوں کو بھی سیراب کیا اور کاشتکاری کی اور زمین کا کچھ حصہ بالکل چٹیل تھا، جس نے پانی روکا اور نہ کچھ کیا۔ پس یہ اس شخص کی مثال ہے جس نے اللہ کی دین میں سمجھ حاصل کی اور اللہ نے مجھے جس چیز کے ساتھ بھیجا اس سے اس نے نفع اٹھایا، پس خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھلایا اور مثال اس شخص کی بھی ہے جس نے کچھ نہیں سیکھا اور نہ وہ ہدایت ہی قبول کی جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا (صحیح بخاری)(58)
لَقَد أَرسَلنا نوحًا إِلىٰ قَومِهِ فَقالَ يٰقَومِ اعبُدُوا اللَّهَ ما لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرُهُ إِنّى أَخافُ عَلَيكُم عَذابَ يَومٍ عَظيمٍ(59)
(59)
قالَ المَلَأُ مِن قَومِهِ إِنّا لَنَرىٰكَ فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(60)
٦٠۔١ شرک اس طرح انسانی عقل کو ماؤف کر دیتا ہے کہ انسان کو ہدایت، گمراہی اور گمراہی۔ ہدایت نظریاتی ہے۔ چنانچہ قوم نوح کی بھی یہی قلبی ماہیت ہوئی، ان کو حضرت نوح علیہ السلام، جو اللہ کی توحید کی طرف اپنی قوم کو دعوت دے رہے تھے، نعوذباللہ گمراہ نظر آتے تھے۔: تھا جو ناخوب، بتدریج وہی خوب ہوا۔ کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر۔(60)
قالَ يٰقَومِ لَيسَ بى ضَلٰلَةٌ وَلٰكِنّى رَسولٌ مِن رَبِّ العٰلَمينَ(61)
(61)
أُبَلِّغُكُم رِسٰلٰتِ رَبّى وَأَنصَحُ لَكُم وَأَعلَمُ مِنَ اللَّهِ ما لا تَعلَمونَ(62)
(62)
أَوَعَجِبتُم أَن جاءَكُم ذِكرٌ مِن رَبِّكُم عَلىٰ رَجُلٍ مِنكُم لِيُنذِرَكُم وَلِتَتَّقوا وَلَعَلَّكُم تُرحَمونَ(63)
٦٣۔١ حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت آدم علیہ السلام کے درمیان دس قرنوں یا دس پشتوں کا فاصلہ ہے، حضرت نوح علیہ السلام کے کچھ پہلے تک تمام لوگ اسلام پر قائم چلے آرہے تھے پھر سب سے پہلے توحید سے انحراف اس طرح آیا کہ اس قوم کے صالحین فوت ہوگئے تو ان کے عقیدت مندوں نے ان پر سجدہ گاہیں (عبادت خانے) قائم کردیں اور ان کی تصویریں بھی وہاں لٹکا دیں، مقصد ان کا یہ تھا کہ اس طرح ان کی یاد سے وہ بھی اللہ کا ذکر کریں گے اور ذکر الٰہی میں ان کی مشابہت اختیار کریں گے۔ جب کچھ وقت گزرا تو انہوں نے تصویروں کے مجسمے بنا دیئے اور پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہ مجسمے بتوں کی شکل اختیار کر گئے اور ان کی پوجا پاٹ شروع ہوگئی اور قوم نوح کے یہ صالحین معبود بن گئے۔ ان حالات میں اللہ تعالٰی نے حضرت نوح علیہ السلام کو ان میں نبی بنا کر بھیجا جنہوں نے ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی۔ لیکن تھوڑے سے لوگوں کے سوا، کسی نے آپ کی تبلیغ کا اثر قبول نہیں کیا بالآخر اہل ایمان کے سوا سب کو غرق کردیا گیا۔ اس آیت میں بتلایا جارہا ہے کہ قوم نوح نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ ان ہی میں کا ایک آدمی نبی بن کر آگیا جو انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرا رہا ہے؟ یعنی ان کے خیال میں نبوت کے لئے انسان موزوں نہیں۔(63)
فَكَذَّبوهُ فَأَنجَينٰهُ وَالَّذينَ مَعَهُ فِى الفُلكِ وَأَغرَقنَا الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا ۚ إِنَّهُم كانوا قَومًا عَمينَ(64)
٦٤۔١ یعنی حق سے حق کو دیکھتے تھے نہ اس کو اپنانے کے لئے تیار تھے۔(64)
۞ وَإِلىٰ عادٍ أَخاهُم هودًا ۗ قالَ يٰقَومِ اعبُدُوا اللَّهَ ما لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرُهُ ۚ أَفَلا تَتَّقونَ(65)
٦٥۔١ یہ قوم عاد، عاد اولیٰ ہے جن کی رہائش یمن میں ریتلے پہاڑوں پر تھی اور اپنی قوت و طاقت میں بے مثال تھی۔ ان کی طرف حضرت ہود علیہ السلام، جو اسی قوم کے ایک فرد تھے نبی بن کر آئے۔(65)
قالَ المَلَأُ الَّذينَ كَفَروا مِن قَومِهِ إِنّا لَنَرىٰكَ فى سَفاهَةٍ وَإِنّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الكٰذِبينَ(66)
٦٦۔١ یہ کم عقلی ان کے نزدیک یہ تھی کہ بتوں کو چھوڑ کر، جن کی عبادت ان کے آباواجداد سے ہوتی آرہی تھی۔ اللہ واحد کی عبادت کی طرف دعوت دی جا رہی ہے۔(66)
قالَ يٰقَومِ لَيسَ بى سَفاهَةٌ وَلٰكِنّى رَسولٌ مِن رَبِّ العٰلَمينَ(67)
(67)
أُبَلِّغُكُم رِسٰلٰتِ رَبّى وَأَنا۠ لَكُم ناصِحٌ أَمينٌ(68)
(68)
أَوَعَجِبتُم أَن جاءَكُم ذِكرٌ مِن رَبِّكُم عَلىٰ رَجُلٍ مِنكُم لِيُنذِرَكُم ۚ وَاذكُروا إِذ جَعَلَكُم خُلَفاءَ مِن بَعدِ قَومِ نوحٍ وَزادَكُم فِى الخَلقِ بَصۜطَةً ۖ فَاذكُروا ءالاءَ اللَّهِ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ(69)
٦٩۔١ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالٰی نے ان کی بابت فرمایا ' اس جیسی قوت والی قوم پیدا نہیں کی گئی ' اپنی اس قوت کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اس نے کہا مَنْ اَ شَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ اللہ تعالٰی نے فرمایا ' جس نے انہیں پیدا کیا وہ ان سے زیادہ قوت والا ہے ' (حٰم سجدہ۔١٥)(69)
قالوا أَجِئتَنا لِنَعبُدَ اللَّهَ وَحدَهُ وَنَذَرَ ما كانَ يَعبُدُ ءاباؤُنا ۖ فَأتِنا بِما تَعِدُنا إِن كُنتَ مِنَ الصّٰدِقينَ(70)
٧٠۔١ آباؤ اجداد کی تقلیدِ ہر دور میں گمراہی کی بنیاد رہی ہے۔ قوم عاد نے بھی یہی ' دلیل ' پیش کی اور شرک کو چھوڑ کر، توحید کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں بھی اپنے بڑوں کی تقلید کی یہ بیماری عام ہے۔ ٧٠۔٢ جس طرح قریش مکہ نے بھی رسول اللہ کی دعوت توحید کے جواب میں کہا تھا ' اے اللہ! اگر یہ حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر بھیج دے '۔ یعنی شرک کرتے کرتے مشرک کی مت بھی ماری جاتی ہے۔ حالانکہ عقل مندی کا تقاضا یہ تھا کہ یہ کہا جاتا یا اللہ اگر یہ سچ ہے اور تیری ہی طرف سے ہے تو ہمیں اسے قبول کرنے کی توفیق عطا فرما۔ بہرحال قوم عاد نے اپنے پیغمبر حضرت ہود علیہ السلام سے کہدیا، کہ اگر تو سچا ہے تو اپنے اللہ سے کہہ جس عذاب سے وہ ڈراتا ہے، بھیج دے۔(70)
قالَ قَد وَقَعَ عَلَيكُم مِن رَبِّكُم رِجسٌ وَغَضَبٌ ۖ أَتُجٰدِلونَنى فى أَسماءٍ سَمَّيتُموها أَنتُم وَءاباؤُكُم ما نَزَّلَ اللَّهُ بِها مِن سُلطٰنٍ ۚ فَانتَظِروا إِنّى مَعَكُم مِنَ المُنتَظِرينَ(71)
٧١۔١ ' رِجْس،ُ 'کے معنی پلیدی کے ہیں۔ لیکن یہاں یہ مقلوب (بدلا ہوا) ہے رِجْز،ُ سے جس کے معنی عذاب کے ہیں۔ یا پھر رِجْسُ،ُ یہاں نارضگی اور غضب کے معنی میں ہے (ابن کثیر) ٧١۔٢ اس سے مراد وہ نام ہیں جو انہوں نے اپنے معبودوں کے رکھے ہوئے تھے مثلًا صدا، صمود، ھبا۔ وغیرہ جیسے قوم نوح کے پانچ بت تھے جن کے نام اللہ نے قرآن میں ذکر کئے ہیں جیسے مشرکین عرب کے بتوں کے نام تھے۔ لا ت، عزَّیٰ، مَنَات ھُبَل وغیرہ۔ یا جیسے آج کل کے مشرکانہ عقائد واعمال میں ملوث لوگوں نے نام رکھے ہوئے ہیں۔ مثلا داتا گنج بخش، خواجہ غریب نواز، بابا فرید شکر گنج، مشکل کشا وغیرہ جن کے معبود یا مشکل کشا وگنج بخش وغیرہ ہونے کی کوئی دلیل ان لوگوں کے پاس نہیں ہے۔(71)
فَأَنجَينٰهُ وَالَّذينَ مَعَهُ بِرَحمَةٍ مِنّا وَقَطَعنا دابِرَ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا ۖ وَما كانوا مُؤمِنينَ(72)
٧٢۔١ اس قوم پر باد تند کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل جاری رہا جس نے ہرچیز کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور یہ قوم عاد کے لوگ، جنہیں اپنی قوت پر بڑا ناز تھا، ان کے لاشے کھجور کے کٹے ہوئے تنوں کی طرح زمین پر پڑے نظر آتے تھے (دیکھئے سورۃ الحاقہ ٦۔٨ سورہ ھود۔ ٥٣۔٥٦ سورہ احقاف ٤٢۔٢٥ آیات)(72)
وَإِلىٰ ثَمودَ أَخاهُم صٰلِحًا ۗ قالَ يٰقَومِ اعبُدُوا اللَّهَ ما لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرُهُ ۖ قَد جاءَتكُم بَيِّنَةٌ مِن رَبِّكُم ۖ هٰذِهِ ناقَةُ اللَّهِ لَكُم ءايَةً ۖ فَذَروها تَأكُل فى أَرضِ اللَّهِ ۖ وَلا تَمَسّوها بِسوءٍ فَيَأخُذَكُم عَذابٌ أَليمٌ(73)
٧٣۔١ یہ ثمود، حجاز اور شام کے درمیان وادی القریٰ میں رہائش پذیر تھے ٩ ہجری میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ اور آپ کے صحابہ کا ان کے مساکن اور وادی سے گزر ہوا، جس پر آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ معذب قوموں کے علاقے سے گزرو تو روتے ہوئے، یعنی عذاب الٰہی سے پناہ مانگتے ہوئے گزرو (صحیح بخاری) ان کی طرف حضرت صالح علیہ السلام نبی بنا کر بھیجے گئے۔ یہ عاد کے بعد کا واقعہ ہے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر سے مطالبہ کیا کہ پتھر کی چٹان سے ایک اونٹنی نکال کر دکھا، جسے ہم نکلتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ حضرت صالح علیہ السلام نے ان سے عہد لیا کہ اس کے بعد اگر ایمان نہ لائے تو وہ ہلاک کر دیئے جائیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالٰی نے ان کے مطالبے پر اونٹنی ظاہر فرما دی۔ اس اونٹنی کے متعلق انہیں تاکید کر دی گئی کہ اسے بری نیت سے کوئی ہاتھ نہ لگائے ورنہ عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاؤ گے۔ لیکن ان ظالموں نے اس اونٹنی کو بھی قتل کر ڈالا، جس کے تین دن بعد انہیں چنگھاڑ (صَیْحَۃ، سخت چیخ اور رَجْفَۃ، زلزلہ) کے عذاب سے ہلاک کر دیا گیا، جس سے وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے۔(73)
وَاذكُروا إِذ جَعَلَكُم خُلَفاءَ مِن بَعدِ عادٍ وَبَوَّأَكُم فِى الأَرضِ تَتَّخِذونَ مِن سُهولِها قُصورًا وَتَنحِتونَ الجِبالَ بُيوتًا ۖ فَاذكُروا ءالاءَ اللَّهِ وَلا تَعثَوا فِى الأَرضِ مُفسِدينَ(74)
٧٤۔١ اس کا مطلب ہے کہ نرم زمین سے مٹی لے لے کر اینٹیں تیار کرتے ہو اور اینٹوں سے محل، جیسے آج بھی بھٹوں پر اسی طرح مٹی سے اینٹیں تیار کی جاتی ہیں۔ ٧٤۔٢ یہ ان کی قوت، صلاحیت اور مہارت فن کا اظہار ہے۔ ٧٤۔٣ یعنی ان نعمتوں پر اللہ کا شکر کرو اور اس کی اطاعت کا راستہ اختیار کرو، نہ کہ کفران نعمت اور معصیت کا ارتکاب کرکے فساد پھیلاؤ۔(74)
قالَ المَلَأُ الَّذينَ استَكبَروا مِن قَومِهِ لِلَّذينَ استُضعِفوا لِمَن ءامَنَ مِنهُم أَتَعلَمونَ أَنَّ صٰلِحًا مُرسَلٌ مِن رَبِّهِ ۚ قالوا إِنّا بِما أُرسِلَ بِهِ مُؤمِنونَ(75)
٧٥۔١ یعنی جو دعوت توحید وہ لے کر آئے ہیں، وہ چونکہ فطرت کی آواز ہے، ہم تو اس پر ایمان لے آئے ہیں، باقی رہی یہ بات کہ صالح واقعی اللہ کے رسول ہیں؟ جو ان کا سوال تھا اس سے ان اہل ایمان نے مزاحمت ہی نہیں کی کیونکہ ان کے رسول من اللہ ہونے کو وہ بحث کے قابل ہی نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک ان کی رسالت ایک مسلمہ حقیقت و صداقت تھی۔ جیسا کہ فی الواقع تھی۔(75)
قالَ الَّذينَ استَكبَروا إِنّا بِالَّذى ءامَنتُم بِهِ كٰفِرونَ(76)
٧٦۔١ اس معقول جواب کے باوجود وہ اپنے استکبار اور انکار پر اڑے رہے۔(76)
فَعَقَرُوا النّاقَةَ وَعَتَوا عَن أَمرِ رَبِّهِم وَقالوا يٰصٰلِحُ ائتِنا بِما تَعِدُنا إِن كُنتَ مِنَ المُرسَلينَ(77)
(77)
فَأَخَذَتهُمُ الرَّجفَةُ فَأَصبَحوا فى دارِهِم جٰثِمينَ(78)
٧٨۔١ یہاں رَجْفَہ،ُ (زلزلے) کا ذکر ہے۔ دوسرے مقام پر صَیْحَۃ،ُ،ُ (چیخ) کا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں قسم کا عذاب ان پر آیا۔ اوپر سے سخت چیخ اور نیچے سے زلزلہ۔ ان دونوں عذابوں نے انہیں تہس نہس کرکے رکھ دیا۔(78)
فَتَوَلّىٰ عَنهُم وَقالَ يٰقَومِ لَقَد أَبلَغتُكُم رِسالَةَ رَبّى وَنَصَحتُ لَكُم وَلٰكِن لا تُحِبّونَ النّٰصِحينَ(79)
٧٩۔١ یہ یا تو ہلاکت سے قبل کا خطاب ہے یا پھر ہلاکت کے بعد اسی طرح کا خطاب ہے، جس طرح رسول اللہ نے جنگ بدر ختم ہونے کے بعد جنگ بدر میں مشرکین کی لاشوں سے خطاب فرمایا تھا۔(79)
وَلوطًا إِذ قالَ لِقَومِهِ أَتَأتونَ الفٰحِشَةَ ما سَبَقَكُم بِها مِن أَحَدٍ مِنَ العٰلَمينَ(80)
٨٠۔١ یہ حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لانے والوں میں سے تھے پھر ان کو بھی اللہ تعالٰی نے ایک علاقے میں نبی بنا کر بھیجا۔ یہ علاقہ اردن اور بیت المقدس کے درمیان تھا جسے سدوم کہا جاتا ہے، یہ زمین سرسبز اور شاداب تھی اور یہاں ہر طرح کے غلے اور پھلوں کی کثرت تھی قرآن نے اس جگہ کو مُئْوتَفِکَۃ،ُ یا مؤْتَفِکَات،ُ کے الفاظ سے ذکر کیا ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے غالبًا سب سے پہلے یا دعوت توحید کے ساتھ ہی، (جو ہر نبی کی بنیادی دعوت تھی اور سب سے پہلے وہ اس کی دعوت اپنی قوم کو دیتے تھے۔ جیسا کہ پچھلے نبیوں کے حوالے میں، جن کا ذکر ابھی گزرا ہے، دیکھا جاسکتا ہے۔) دوسری بڑی خرابی مردوں کے ساتھ بد فعلی، قوم لوط میں تھی، اس کی شناخت و قباحت بیان فرمائی۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ ایک ایسا گناہ ہے جسے دنیا میں سب سے پہلے اسی قوم لوط نے کیا، اس گناہ کا نام ہی لواطت پڑ گیا۔ اس لئے مناسب سمجھا گیا کہ پہلے قوم کو اس جرم کی خطرناکی سے آگاہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعے دعوت توحید بھی یہاں پہنچ چکی ہوگی، لواطت کی سزا میں ائمہ کے درمیان اختلاف ہے، بعض ائمہ کے نزدیک اس کی وہی سزا ہے جو زنا کی ہے یعنی مجرم اگر شادی شدہ ہو تو رجم، غیر شادی شدہ ہو تو سو کوڑے۔ بعض کے نزدیک اس کی سزا ہی رجم ہے چاہے مجرم کیسا بھی ہو اور بعض کے نزدیک فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دینا چاہئے۔ البتہ امام ابوحنیفہ صرف تعزیری سزا کے قائل ہیں، حد کے نہیں۔(80)
إِنَّكُم لَتَأتونَ الرِّجالَ شَهوَةً مِن دونِ النِّساءِ ۚ بَل أَنتُم قَومٌ مُسرِفونَ(81)
٨١۔١ یعنی مردوں کے پاس تم اس بے حیائی کے کام کے لئے محض شہوت رانی کی غرض سے آتے ہو، اس کے علاوہ تمہاری اور کوئی غرض ایسی نہیں ہوتی جو موافق عقل ہو۔ اس لحاظ سے جاہلوں کی طرح تھے یا محض شہوت رانی کے لئے ایک دوسرے پر چڑھتے ہیں۔ ١٨١۔٢ جو قضائے شہوت کا اصل محل اور حصول لذت کی اصل جگہ ہے۔ یہ ان کی فطرت کے مسخ ہونے کی طرف اشارہ ہے، یعنی اللہ نے مرد کی جنسی لذت کی تسکین کے لئے عورت کی شرم گاہ کو اس کا محل اور موضع بنایا ہے اور ان ظالموں نے اس سے تجاوز کرکے مرد کی دبر کو اس کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ٨١۔٣ لیکن اب یہ فطرت صحیحہ سے انحراف اور حدود الٰہی سے تجاوز کو مغرب کی ' مہذب ' قوموں نے اختیار کر لیا ہے تو یہ انسان کا بنیادی حق قرار پا گیا ہے، جس سے روکنے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے۔ چنانچہ اب وہاں لواطت کو قانونی تحفظ حاصل ہوگیا ہے۔ اور یہ سرے سے جرم ہی نہیں رہا۔(81)
وَما كانَ جَوابَ قَومِهِ إِلّا أَن قالوا أَخرِجوهُم مِن قَريَتِكُم ۖ إِنَّهُم أُناسٌ يَتَطَهَّرونَ(82)
٨٢۔١ یہ حضرت لوط کو بستی سے نکالنے کی علت ہے۔ باقی ان کی پاکیزگی کا اظہار یا تو حقیقت کے طور پر ہے اور مقصد ان کا یہ ہوا کہ یہ لوگ اس برائی سے بچنا چاہتے ہیں، اس لیئے بہتر ہے کہ یہ ہمارے ساتھ ہماری بستی میں ہی نہ رہیں اور تمسخر کے طور پر انہوں نے ایسا کیا۔(82)
فَأَنجَينٰهُ وَأَهلَهُ إِلَّا امرَأَتَهُ كانَت مِنَ الغٰبِرينَ(83)
٨٣۔١ یعنی وہ ان لوگوں میں باقی رہ گئی۔ جن پر اللہ کا عذاب آیا۔ کیونکہ وہ بھی مسلمان نہیں تھی اور اس کی ہمدردیاں بھی مجرمین کے ساتھ تھیں بعض نے اس کا ترجمہ ' ہلاک ہونے والوں میں سے ' کیا ہے۔ لیکن یہ لازمی معنی ہیں، اصل معنی وہی ہیں۔(83)
وَأَمطَرنا عَلَيهِم مَطَرًا ۖ فَانظُر كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُجرِمينَ(84)
٨٤۔١ یہ خاص طرح کا مینہ کیا تھا؟ پتھروں کا مینہ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا، ہم نے ان پر تہ بہ تہ پتھروں کی بارش برسائی اس سے پہلے فرمایا ہم نے اس بستی کو الٹ کر نیچے اوپر کر دیا۔ ٨٤۔۲یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم دیکھئے تو سہی جو لوگ اعلانیہ اللہ کی معاصی کا ارتکاب اور پیغمبروں کی تکذیب کرتے ہیں، ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔(84)
وَإِلىٰ مَديَنَ أَخاهُم شُعَيبًا ۗ قالَ يٰقَومِ اعبُدُوا اللَّهَ ما لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرُهُ ۖ قَد جاءَتكُم بَيِّنَةٌ مِن رَبِّكُم ۖ فَأَوفُوا الكَيلَ وَالميزانَ وَلا تَبخَسُوا النّاسَ أَشياءَهُم وَلا تُفسِدوا فِى الأَرضِ بَعدَ إِصلٰحِها ۚ ذٰلِكُم خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم مُؤمِنينَ(85)
٨٥۔١ مدین حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے یا پوتے کا نام تھا پھر انہیں کی نسل پر مبنی قبیلے کا نام مدین اور جس بستی میں یہ رہائش پذیر تھے اس کا نام بھی مدین پڑ گیا۔ یوں اس کا اطلاق قبیلے اور بستی دونوں پر ہوتا ہے۔ یہ بستی حجاز کے راستے میں معان کے قریب انہی کو قرآن میں دوسرے مقام پر اَصْحَابُ الأیْکَۃِ (بن کے رہنے والے) بھی کہا گیا ہے۔ ان کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام نبی بنا کر بھیجے گئے (دیکھئے الشعرا۔ ١٧٦ کا حاشیہ) ملحوظہ: ہر نبی کو اس قوم کا بھائی کہا گیا ہے، جس کا مطلب اسی قوم اور قبیلے کا فرد ہے جس کو بعض جگہ رسول منھم یا من انفسہم سے بھی تعبیر کی گیا ہے، اور مطلب ان سب کا یہ ہے کہ رسول اور نبی انسانوں میں سے ہی ایک انسان ہوتا ہے جسے اللہ تعالٰی لوگوں کی ہدایت کے لیے چن لیتا ہے اور وحی کے ذریعے سے اس پر اپنی کتاب اور احکام نازل فرماتا ہے۔ ٨٥۔٢ دعوت توحید کے بعد اس قوم میں ناپ تول کی بڑی خرابی تھی، اس سے انہیں منع فرمایا اور پورا پورا ناپ اور تول کر دینے کی تلقین کی۔ یہ کوتاہی بھی بڑی خطرناک ہے جس سے اس قوم کا اخلاق پستی اور گراوٹ کا پتہ چلتا ہے جس کے اندر یہ ہو۔ یہ بدترین خیانت ہے کہ پیسے پورے لئے جائیں اور چیز کم دی جائے۔ اس لئے سورہ مُطَفِّفِیْن میں ایسے لوگوں کی ہلاکت کی خبر دی گئی ہے۔(85)
وَلا تَقعُدوا بِكُلِّ صِرٰطٍ توعِدونَ وَتَصُدّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ مَن ءامَنَ بِهِ وَتَبغونَها عِوَجًا ۚ وَاذكُروا إِذ كُنتُم قَليلًا فَكَثَّرَكُم ۖ وَانظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُفسِدينَ(86)
٨٦۔١ اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے اللہ کے راستے میں کجیاں تلاش کرنا۔ یہ ہر دور کے نافرمانوں کا محبوب مشغلہ رہا ہے جس کے نمونے آجکل کے متجدین اور فرنگیت زدہ لوگوں میں نظر آتے ہیں۔ مثلاً لوگوں کو ستانے کے لئے بیٹھنا، جیسے عام طور پر اوباش قسم کے لوگوں کا شیوا ہے۔ یا حضرت شعیب علیہ السلام کی طرف جانے والے راستوں پر بیٹھنا اور اس راہ پر چلنے والوں کو روکنا۔ یوں لوٹ مار کی غرض سے ناکوں پر بیٹھنا تاکہ آنے جانے والوں کا مال سلب کرلیں، یا بعض کے نزدیک محصول اور چونگی وصول کرنے کے لئے ان کے راستوں پر بیٹھنا۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ سارے ہی مفہوم صحیح ہو سکتے ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ وہ سب ہی کچھ کرتے ہوں۔ (فتح القدیر)(86)
وَإِن كانَ طائِفَةٌ مِنكُم ءامَنوا بِالَّذى أُرسِلتُ بِهِ وَطائِفَةٌ لَم يُؤمِنوا فَاصبِروا حَتّىٰ يَحكُمَ اللَّهُ بَينَنا ۚ وَهُوَ خَيرُ الحٰكِمينَ(87)
٨٧۔١ کفر پر صبر کرنے کا حکم نہیں ہے بلکہ اس کے لئے تہدید اور سخت وعید ہے کیونکہ اللہ تعالٰی کا فیصلہ اہل حق کا اہل باطل پر فتح و غلبہ ہی ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (فَتَرَبَّصُوْآ اِنَّا مَعَکُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ) (التوبۃ۔ ٥٢)(87)
۞ قالَ المَلَأُ الَّذينَ استَكبَروا مِن قَومِهِ لَنُخرِجَنَّكَ يٰشُعَيبُ وَالَّذينَ ءامَنوا مَعَكَ مِن قَريَتِنا أَو لَتَعودُنَّ فى مِلَّتِنا ۚ قالَ أَوَلَو كُنّا كٰرِهينَ(88)
٨٨۔١ ان سرداروں کے تکبر اور سرکشی کا اندازہ کیجئے کہ انہوں نے ایمان اور توحید کی دعوت کو ہی رد نہیں کیا بلکہ اس سے بھی تجاوز کرکے اللہ کے پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کو دھمکی دی یا تو اپنے آبائی مذہب میں واپس آجاؤ نہیں تو ہم تمہیں یہاں سے نکال دیں گے۔ اہل ایمان کے لئے اپنے سابق مذہب کی طرف واپسی کی بات تو قابل فہم ہے کیونکہ انہوں نے کفر چھوڑ کر ایمان اختیار کیا تھا۔ لیکن حضرت شعیب علیہ السلام کو بھی ملت اَبائی کی طرف لوٹنے کی دعوت اس لحاظ سے تھی کہ وہ انہیں بھی نبوت اور تبلیغ ودعوت سے پہلے اپنا مذہب ہی سمجھتے تھے کو حقیقتا ایسا نہ ہو۔ یا بطور تغلیب انہیں بھی شامل کر لیا ہو۔ (۲) یہ سوال مقدر کا جواب ہے اور ہمزہ انکار کے لئے اور واو حالیہ ہے۔ یعنی کیا تم ہمیں اپنے مذہب کی طرف لوٹاؤ گے یا ہمیں اپنى بستی سے نکال دوگے دراَں حالیکہ ہم اس مذہب کی طرف لوٹنا اور اس بستی سے نکلنا پسند نہ کرتے ہوں؟مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ تم ہمیں ان میں سے کسی ایک بات کے اختیار کرنے پر مجبور کرو۔(88)
قَدِ افتَرَينا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا إِن عُدنا فى مِلَّتِكُم بَعدَ إِذ نَجّىٰنَا اللَّهُ مِنها ۚ وَما يَكونُ لَنا أَن نَعودَ فيها إِلّا أَن يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا ۚ وَسِعَ رَبُّنا كُلَّ شَيءٍ عِلمًا ۚ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلنا ۚ رَبَّنَا افتَح بَينَنا وَبَينَ قَومِنا بِالحَقِّ وَأَنتَ خَيرُ الفٰتِحينَ(89)
٨٩۔١ یعنی اگر ہم دوبارہ اس دین آبائی کی طرف لوٹ آئے، جس سے اللہ نے ہمیں نجات دی، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے ایمان و توحید کی دعوت دے کر اللہ پر جھوٹ باندھا تھا؟ مطلب یہ تھا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہماری طرف سے ایسا ہو۔ ٩٨۔٢ اپنا عزم ظاہر کرنے کے بعد معاملہ اللہ کی مشیت کے سپرد کر دیا۔ یعنی ہم نے اپنی رضامندی سے اب کفر کی طرف نہیں لوٹ سکتے۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو بات اور ہے۔ ٨٩۔٣ کہ وہ ہمیں ایمان پر ثابت رکھے گا اور ہمارے اور کفر و اہل کفر کے درمیان حائل رہے گا، ہم پر اپنی نعمت کا اتمام فرمائے گا اور اپنے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔(89)
وَقالَ المَلَأُ الَّذينَ كَفَروا مِن قَومِهِ لَئِنِ اتَّبَعتُم شُعَيبًا إِنَّكُم إِذًا لَخٰسِرونَ(90)
٩٠۔١ اپنے آبائی مذہب کو چھوڑنا اور ناپ تول میں کمی نہ کرنا، یہ ان کے نزدیک خسارے والی بات تھی درآںحالیکہ ان دونوں باتوں میں ان ہی کا فائدہ تھا، لیکن دنیا والوں کی نظر میں نفع عاجل (دنیا میں فوراً حاصل ہونے والا نفع) ہی سب کچھ ہوتا ہے، جو ناپ تول میں ڈنڈی مار کر انہیں حاصل ہو رہا تھا، وہ اہل ایمان کی طرح آخرت کے نفع آجل (دیر میں ملنے والا نفع) کے لئے اسے کیوں چھوڑتے۔(90)
فَأَخَذَتهُمُ الرَّجفَةُ فَأَصبَحوا فى دارِهِم جٰثِمينَ(91)
٩١۔١ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ عذاب میں ساری ہی چیزوں کا اجتماع ہوا پہلے بادل نے ان پر سایہ کیا جس میں شعلے چنگاریاں اور آگ کے بھبھوکے تھے، پھر آسمان سے سخت چیخ آئی اور زمین سے بھونچال، جس سے ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور بے جان لاشے ہو کر پرندوں کی طرح گھٹنوں میں منہ دے کر اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے(91)
الَّذينَ كَذَّبوا شُعَيبًا كَأَن لَم يَغنَوا فيهَا ۚ الَّذينَ كَذَّبوا شُعَيبًا كانوا هُمُ الخٰسِرينَ(92)
٩٢۔١ یعنی جس بستی سے یہ اللہ کے رسول اور ان کے پیروکارں کو نکالنے پر تلے ہوئے تھے اللہ کی طرف سے عذاب نازل ہونے کے بعد ایسے ہوگئے جیسے وہ یہاں رہتے ہی نہ تھے۔ ٩٢۔٢ یعنی خسارے میں وہی لوگ رہے جنہوں نے پیغمبر کی تکذیب کی، نہ کہ پیغمبر اور ان پر ایمان لانے والے۔ اور خسارہ بھی دونوں جہانوں میں۔ دنیا میں بھی ذلت کا عذاب چکھا اور آخرت میں اس سے کہیں زیادہ عذاب شدید ان کے لئے تیار ہے۔(92)
فَتَوَلّىٰ عَنهُم وَقالَ يٰقَومِ لَقَد أَبلَغتُكُم رِسٰلٰتِ رَبّى وَنَصَحتُ لَكُم ۖ فَكَيفَ ءاسىٰ عَلىٰ قَومٍ كٰفِرينَ(93)
٩٣۔١ عذاب و تباہی کے بعد جب وہ وہاں سے چلے، تو انہوں نے وفور جذبات میں باتیں کیں۔ اور ساتھ کہا کہ جب میں نے حق تبلیغ ادا کردیا اور اللہ کا پیغام ان تک پہنچا دیا، تو اب میں ایسے لوگوں پر افسوس کروں تو کیوں کروں؟ جو اس کے باوجود اپنے کفر اور شرک پر ڈٹے رہے۔(93)
وَما أَرسَلنا فى قَريَةٍ مِن نَبِىٍّ إِلّا أَخَذنا أَهلَها بِالبَأساءِ وَالضَّرّاءِ لَعَلَّهُم يَضَّرَّعونَ(94)
٩٤۔١ مطلب یہ کہ جس کسی بستی میں بھی ہم نے رسول بھیجا انہوں اس کی تکذیب کی جس کی پاداش میں ہم نے ان کو بیماری اور محتاجی میں مبتلا کر دیا جس سے مقصد یہ تھا کہ اللہ کی طرف رجوع کریں اور اس کی بارگا میں گڑگڑائیں۔(94)
ثُمَّ بَدَّلنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الحَسَنَةَ حَتّىٰ عَفَوا وَقالوا قَد مَسَّ ءاباءَنَا الضَّرّاءُ وَالسَّرّاءُ فَأَخَذنٰهُم بَغتَةً وَهُم لا يَشعُرونَ(95)
٩٥۔١ یعنی فقر و بیماری کو صحت و عافیت سے بدل دیا جب کے ان کے اندر رجوع الی اللہ کا داعیہ پیدا نہیں ہوا تو ہم نے ان کو تنگ دستی کو خوش حالی سے اور بیماری کو صحت عافیت سے بدل دیا تاکہ وہ اس پر اللہ کا شکر کریں۔ لیکن اس انقلاب حال سے بھی ان کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی اور انہوں نے کہا یہ تو ہمیشہ سے ہوتا چلا آرہا ہے تو پھر ہم نے اچانک اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیا۔ اسی لیے حدیث مومنوں کامعاملہ اس کے برعکس بیان فرمایا گیا ہے۔ کہ وہ اَرام وراحت ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور تکلیف پہنچنے پر صبر سے کام لیتے ہیں یوں دونوں ہی حالتیں ان کے لیے خیر اور اجر کا باعث ہوتی ہیں۔(95)
وَلَو أَنَّ أَهلَ القُرىٰ ءامَنوا وَاتَّقَوا لَفَتَحنا عَلَيهِم بَرَكٰتٍ مِنَ السَّماءِ وَالأَرضِ وَلٰكِن كَذَّبوا فَأَخَذنٰهُم بِما كانوا يَكسِبونَ(96)
(96)
أَفَأَمِنَ أَهلُ القُرىٰ أَن يَأتِيَهُم بَأسُنا بَيٰتًا وَهُم نائِمونَ(97)
(97)
أَوَأَمِنَ أَهلُ القُرىٰ أَن يَأتِيَهُم بَأسُنا ضُحًى وَهُم يَلعَبونَ(98)
(98)
أَفَأَمِنوا مَكرَ اللَّهِ ۚ فَلا يَأمَنُ مَكرَ اللَّهِ إِلَّا القَومُ الخٰسِرونَ(99)
٩٩۔١ ان آیات میں اللہ تعالٰی نے پہلے یہ بیان فرمایا کہ ایمان و تقویٰ ایسی چیز ہے کہ جس بستی کے لوگ اسے اپنالیں تو ان پر اللہ تعالٰی آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے یعنی حسب ضرورت انہیں آسمان سے بارش مہیا فرماتا ہے اور زمین اس سے سیراب ہو کر خوب پیداوار دیتی جس سے خوش حالی و فروانی ان کا مقدر بن جاتی ہے لیکن اس کے برعکس تکذیب اور کفر کا راست اختیار کرنے پر قومیں اللہ کے عذاب کی مستحق ٹھہر جاتی ہیں، پھر پتہ نہیں ہوتا کہ شب و روز کی کس گھڑی میں عذاب آجائے اور ہنستی کھیلتی بستیوں کو آن واحد میں کھنڈرات بنا کر رکھ دیے اس لئے اللہ کی ان تدبیروں سے بے خوف نہیں ہونا چاہیئے۔ اس بے خوفی کا نتیجہ سوائے خسارے اور کچھ نیں۔ مَکْر،ُ کے مفہوم کی وضاحت کے لئے دیکھئے سورۃ آل عمران آیت،٥٤ کا حاشیہ۔(99)
أَوَلَم يَهدِ لِلَّذينَ يَرِثونَ الأَرضَ مِن بَعدِ أَهلِها أَن لَو نَشاءُ أَصَبنٰهُم بِذُنوبِهِم ۚ وَنَطبَعُ عَلىٰ قُلوبِهِم فَهُم لا يَسمَعونَ(100)
١٠٠۔١ یعنی گناہوں کے نتیجے میں عذاب ہی نہیں آتا، دلوں پر قفل لگ جاتے ہیں، پر بڑے بڑے عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے بیدار نہیں کر پاتے، دیگر بعض مقامات کی طرح یہاں بھی اللہ تعالٰی نے ایک تو یہ بیان فرمایا ہے کہ جس طرح گزشتہ قوموں کو ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کیا ہم چاہیں تو تمہیں بھی تمہارے کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کر دیں اور دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ مسلسل گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کی حق کی آواز کے لئے ان کے کان بھی بند ہوجاتے ہیں پھر واعظ و نصیحت ان کے لئے بیکار ہو جاتے ہیں۔آیت میں ہدایت تبیین (وضاحت) کے معنی میں ہے اسی لیے لام کے ساتھ متعدی ہے اَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ یعنی کیا ان پر یہ بات واضح نہیں ہوئی۔(100)
تِلكَ القُرىٰ نَقُصُّ عَلَيكَ مِن أَنبائِها ۚ وَلَقَد جاءَتهُم رُسُلُهُم بِالبَيِّنٰتِ فَما كانوا لِيُؤمِنوا بِما كَذَّبوا مِن قَبلُ ۚ كَذٰلِكَ يَطبَعُ اللَّهُ عَلىٰ قُلوبِ الكٰفِرينَ(101)
(۱) جس طرح گزشتہ صفحات میں چند انبیاء کا ذکر گزرا۔ بینات سے مراد دلائل و براہین اور معجزات دونوں ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ رسولوں کے ذریعے سے جب تک ہم نے حجت تمام نہیں کردی ہم نے انہیں ہلاک نہیں کیا۔ کیونکہ جب تک ہم رسول نہیں بھیجتے عذاب نازل نہیں کرتے ۔ ١٠١۔١ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یوم میثاق کو جب عہد لیا گیا تھا تو یہ اللہ کے علم میں ایمان لانے والے نہ تھے اس لئے جب ان کے پاس رسول آئے تو اللہ کے علم کے مطابق ایمان نہیں لائے، کیونکہ ان کی تقدیر میں ہی ایمان نہیں تھا جسے اللہ نے اپنے علم کے مطابق لکھ دیا تھا۔ جس کو حدیث میں تعبیر کیا گیا ہے دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب پیغمبر ان کے پاس آئے تو اس وجہ سے ان پر ایمان نہیں لائے کہ وہ اس سے قبل حق کی تکذیب کر چکے تھے۔ گویا ابتدا میں جس چیز کی تکذیب کرچکے تھے، یہی گناہ ان کے عدم ایمان کا سبب بن گیا اور ایمان لانے کی توفیق ان سے سلب کر لی گئی، اسی کو اگلے جملے میں مہر لگانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (وما یشعرکم انہا اذا جائت لایومنون۔ ونقلب افئدتہم وابصارہم کمالم یؤمنوا بہ اول مر‏ہ) اور تمہیں کیا معلوم ہے یہ تو ایسے (بدبخت) ہیں کہ ان کے پاس نشانیاں بھی اَجائیں تب بھی ایمان نہ لائیں اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے)۔(101)
وَما وَجَدنا لِأَكثَرِهِم مِن عَهدٍ ۖ وَإِن وَجَدنا أَكثَرَهُم لَفٰسِقينَ(102)
١٠٢۔١ اس سے بعض نے عہد الست جو عالم ارواح میں لیا گیا تھا، بعض نے عذاب ٹالنے کے لئے پیغمبروں سے جو عہد کرتے تھے، وہ عہد اور بعض نے عام عہد مراد لیا ہے جو آپس میں ایک دوسرے سے کرتے تھے۔ اور یہ عہد شکنی، چاہے وہ کسی بھی قسم کی ہو، فسق ہی ہے۔(102)
ثُمَّ بَعَثنا مِن بَعدِهِم موسىٰ بِـٔايٰتِنا إِلىٰ فِرعَونَ وَمَلَإِي۟هِ فَظَلَموا بِها ۖ فَانظُر كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُفسِدينَ(103)
١٠٣۔١ یہاں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر شروع ہو رہا ہے جو مذکورہ انبیاء کے بعد آئے جو جلیل القدر پیغمبر تھے، جنہیں فرعون مصر اور اس کی قوم کی طرف دلائل و معجزات دے کر بھیجا تھا۔ ١٠٣۔٢ یعنی انہیں غرق کر دیا گیا، جیسا کہ آگے آئے گا۔(103)
وَقالَ موسىٰ يٰفِرعَونُ إِنّى رَسولٌ مِن رَبِّ العٰلَمينَ(104)
(104)
حَقيقٌ عَلىٰ أَن لا أَقولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الحَقَّ ۚ قَد جِئتُكُم بِبَيِّنَةٍ مِن رَبِّكُم فَأَرسِل مَعِىَ بَنى إِسرٰءيلَ(105)
١٠٥۔١ جو اس بات کی دلیل ہے کہ میں واقعی اللہ کی طرف سے مقرر کردہ رسول ہوں۔ اس معجزے اور بڑی دلیل کی تفصیل بھی آگے آرہی ہے۔ ١٠٥۔٢ بنی اسرائیل جن کا اصل مسکن شام کا علاقہ تھا، حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں مصر چلے گئے تھے اور پھر وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ فرعون نے ان کو غلام بنا لیا تھا اور ان پر طرح طرح کے مظالم کرتا تھا، جس کی تفصیل پہلے سورہ، بقرہ میں گزر چکی ہے اور آئندہ بھی آئے گی۔ فرعون اور اس کے درباری امراء نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکرا دیا تو حضرت موسیٰ نے فرعون سے دوسرا مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردے تاکہ یہ اپنے آبائی مسکن میں جاکر عزت اور احترام کی زندگی گزاریں اور اللہ کی عبادت کریں۔(105)
قالَ إِن كُنتَ جِئتَ بِـٔايَةٍ فَأتِ بِها إِن كُنتَ مِنَ الصّٰدِقينَ(106)
(106)
فَأَلقىٰ عَصاهُ فَإِذا هِىَ ثُعبانٌ مُبينٌ(107)
(107)
وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذا هِىَ بَيضاءُ لِلنّٰظِرينَ(108)
١٠٨۔١ یعنی اللہ تعالٰی نے نے جو دو معجزے انہیں عطا فرمائے تھے، اپنے صداقت کے لئے انہیں پیش کر دیا۔(108)
قالَ المَلَأُ مِن قَومِ فِرعَونَ إِنَّ هٰذا لَسٰحِرٌ عَليمٌ(109)
١٠٩۔١ معجزے دیکھ کر، ایمان لانے کی بجائے، فرعون کے درباریوں نے اسے جادو قرار دیکر یہ کہہ دیا یہ تو بڑا ماہر جادوگر ہے جس سے اس کا مقصد تمہاری حکومت کو ختم کرنا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ کے زمانے میں جادو کا بڑا زور تھا اور اس کا عام چلن تھا، اس لئے انہوں نے معجزات کو بھی جادو سمجھا جس میں سرے سے انسان کا دخل ہی نہیں ہوتا۔ خالص اللہ کی معشیت سے ظہور میں آتے ہیں تاہم درباریوں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرعون کو بہکانے کا موقع مل گیا۔(109)
يُريدُ أَن يُخرِجَكُم مِن أَرضِكُم ۖ فَماذا تَأمُرونَ(110)
(110)
قالوا أَرجِه وَأَخاهُ وَأَرسِل فِى المَدائِنِ حٰشِرينَ(111)
(111)
يَأتوكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَليمٍ(112)
١١٢۔١ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جادوگری کو بڑا عروج حاصل تھا، اس لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیش کردہ معجزات کو بھی انہوں نے جادو سمجھا اور جادو کے ذریعے اس کا توڑ مہیا کرنے کا منصوبہ بنایا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے کہا اے موسیٰ کیا تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہماری زمین سے نکال دے؟ پس ہم بھی اس جیسا جادو تیرے مقابلے میں لائیں گے، اس کے لئے کسی ہموار جگہ اور وقت کا ہم تعین کرلیں جس کی دونوں پابندی کریں، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا نو روز کا دن اور چاشت کا وقت ہے اس حساب سے لوگ جمع ہوجائیں (سورہ طٰہ۔٥٧۔٥٩)(112)
وَجاءَ السَّحَرَةُ فِرعَونَ قالوا إِنَّ لَنا لَأَجرًا إِن كُنّا نَحنُ الغٰلِبينَ(113)
(113)
قالَ نَعَم وَإِنَّكُم لَمِنَ المُقَرَّبينَ(114)
١١٤۔١ جادوگر، چونکہ طالب دنیا تھے، دنیا کمانے کے لئے ہی شعبدہ بازی کا فن سیکھتے تھے، اس لئے انہوں نے موقع غنیمت جانا کہ اس وقت تو بادشاہ کو ہماری ضرورت لاحق ہوئی ہے کیوں نہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر زیادہ سے زیادہ اجرت حاصل کی جائے۔ چنانچہ انہوں نے اپنا مطالبہ اجرت، کامیابی کی صورت میں پیش کر دیا، جس پر فرعون نے کہا کہ اجرت ہی نہیں بلکہ تم میرے مقربین میں بھی شامل ہو جاؤ گے۔(114)
قالوا يٰموسىٰ إِمّا أَن تُلقِىَ وَإِمّا أَن نَكونَ نَحنُ المُلقينَ(115)
١١٥۔١ جادوگروں نے یہ اختیار اپنے آپ پر مکمل اعتماد کرنے کی وجہ سے دیا۔ انہیں پورا یقین تھا کہ ہمارے جادو کے مقابلے میں موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ جسے وہ ایک کرتب ہی سمجھتے تھے، کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور اگر موسیٰ علیہ السلام کو پہلے اپنے کرتب دکھانے کا موقع دے بھی دیا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہم اس کے کرتب کا توڑ بہر صورت مہیا کرلیں گے۔(115)
قالَ أَلقوا ۖ فَلَمّا أَلقَوا سَحَروا أَعيُنَ النّاسِ وَاستَرهَبوهُم وَجاءو بِسِحرٍ عَظيمٍ(116)
١١٦۔١ لیکن موسیٰ علیہ السلام چونکہ اللہ کے رسول تھے اور اللہ کی تائید انہیں حاصل تھی، اس لئے انہیں اپنے اللہ کی مدد کا یقین تھا، لہٰذا انہوں نے بغیر کسی خوف اور تامل کے جادوگروں سے کہا پہلے جو تم دکھانا چاہتے ہو، دکھاؤ! علاوہ ازیں اس میں حکمت بھی ہوسکتی ہے کہ جادوگروں کے پیش کردہ جادو کا توڑ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے معجزانہ انداز میں پیش ہوگا تو یہ لوگوں کے لئے زیادہ متاثر کن ہوگا، جس سے ان کی صداقت واضح تر ہوگی اور لوگوں کے لئے ایمان لانا سہل ہو جائے گا۔ ١١٦۔٢ بعض آثار میں بتایا گیا ہے کہ یہ جادوگر ٧٠ ہزار کی تعداد میں تھے۔ بظاہر یہ تعداد مبالغے سے خالی نہیں، جن میں سے ہر ایک نے ایک ایک رسی اور ایک ایک لاٹھی میدان میں پھینکی، جو دیکھنے والوں کو دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔ یہ گویا بزم خویش بہت بڑا جادو تھا جو انہوں نے پیش کیا۔(116)
۞ وَأَوحَينا إِلىٰ موسىٰ أَن أَلقِ عَصاكَ ۖ فَإِذا هِىَ تَلقَفُ ما يَأفِكونَ(117)
١١٧۔١ لیکن یہ جو کچھ بھی تھا ایک تخیل شعبدہ بازی اور جادو تھا جو حقیقت کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کے لاٹھی ڈالتے ہی سب کچھ ختم ہوگیا اور لاٹھی نے ایک خوفناک اژدھا کی شکل اختیار کرکے سب کچھ نگل لیا۔(117)
فَوَقَعَ الحَقُّ وَبَطَلَ ما كانوا يَعمَلونَ(118)
(118)
فَغُلِبوا هُنالِكَ وَانقَلَبوا صٰغِرينَ(119)
(119)
وَأُلقِىَ السَّحَرَةُ سٰجِدينَ(120)
(120)
قالوا ءامَنّا بِرَبِّ العٰلَمينَ(121)
١٢١۔١ جادوگر جادو کے فن اور اس کی اصل حقیقت جانتے تھے یہ دیکھا تو سمجھ گئے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جو کچھ یہاں پیش کیا، جادو نہیں ہے، یہ واقع ہی اللہ کا نمائندہ ہے اور اللہ کی مدد سے ہی اس نے یہ معجزہ پیش کیا ہے جس نے آن واحد میں ہم سب کے کرتبوں پر پانی پھیر دیا۔ چنانچہ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کا اعلان کر دیا۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ باطل باطل ہے چاہے اس پر کتنے ہی حسین غلاف چڑھا لئے جائیں اور حق حق ہے چاہے اس پر کتنے ہی پردے ڈال دیئے جائیں تاہم حق کا ڈنکا بج کر رہتا ہے۔(121)
رَبِّ موسىٰ وَهٰرونَ(122)
١٢٢۔١ سجدے میں گر کر انہوں نے رب العالمین پر ایمان لانے اعلان دیا جس سے فرعونیوں کو مغالطہ ہو سکتا تھا کہ یہ سجدہ فرعون کو کیا گیا ہے جس کی الوہیت کے وہ قائل تھے اس لئے انہوں نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کا رب کہہ کر واضح کردیا کہ یہ سجدہ ہم جہانوں کے رب کو ہی کر رہے ہیں۔ لوگوں کے خود ساختہ کسی رب کو نہیں۔(122)
قالَ فِرعَونُ ءامَنتُم بِهِ قَبلَ أَن ءاذَنَ لَكُم ۖ إِنَّ هٰذا لَمَكرٌ مَكَرتُموهُ فِى المَدينَةِ لِتُخرِجوا مِنها أَهلَها ۖ فَسَوفَ تَعلَمونَ(123)
١٢٣۔١ یہ جو کچھ ہوا فرعون کے لئے بڑا حیران کن اور تعجب خیز تھا اس لئے اسے اور تو کچھ نہیں سوجھا، اس نے یہی کہہ دیا کہ تم سب آپس میں ملے ہوئے ہو اور اس کا مقصد ہمارے اقتدار کا خاتمہ ہے۔ اچھا اس کا انجام عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔(123)
لَأُقَطِّعَنَّ أَيدِيَكُم وَأَرجُلَكُم مِن خِلٰفٍ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُم أَجمَعينَ(124)
١٢٤۔١ یعنی دایاں پاؤں اور بایاں ہاتھ پھر یہی نہیں سولی پر چڑھا کر تمہیں نشان عبرت بھی بنا دونگا۔(124)
قالوا إِنّا إِلىٰ رَبِّنا مُنقَلِبونَ(125)
١٢٥۔١ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اگر ہمارے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا تو تجھے بھی اس بات کے لئے تیار رہنا چاہیے کہ قیامت والے دن اللہ تعالٰی تجھے اس جرم کی سخت سزا دے گا اس لئے کہ ہم سب کو مر کر اس کے پاس جانا ہے اس کی سزا سے کون بچ سکتا ہے؟ گویا فرعون کے عذاب دنیا کے مقابلے میں اسے عذاب آخرت سے ڈرایا گیا ہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ موت تو ہمیں آنی ہی آنی ہے اس سے کیا فرق پڑے گا کہ موت سولی پر بھی آئے یا کسی اور طریقے سے۔(125)
وَما تَنقِمُ مِنّا إِلّا أَن ءامَنّا بِـٔايٰتِ رَبِّنا لَمّا جاءَتنا ۚ رَبَّنا أَفرِغ عَلَينا صَبرًا وَتَوَفَّنا مُسلِمينَ(126)
١٢٦۔١ یعنی تیرے نزدیک ہمارا یہ عیب ہے۔ جس پر تو ہم سے ناراض ہوگیا ہے اور ہمیں سزا دینے پر تل گیا ہے۔ درآںحالیکہ یہ سرے سے عیب ہی نہیں یہ تو خوبی ہے بہت بڑی خوبی کہ جب حقیقت ہمارے سامنے واضح ہو کر آگئی تو ہم نے اس کے مقابلے میں تمام دنیاوی مفادات ٹھکرا دیئے اور حقیقت کو اپنا لیا۔ پھر انہوں نے اپنا روئے سخن فرعون سے پھیر کر اللہ کی طرف کر لیا اور اس کی بارگاہ میں دست دعا ہوگئے۔ ١٢٦۔٢ تاکہ ہم تیرے اس دشمن کے عذاب کو برداشت کرلیں، اور حق اور ایمان پر ثابت قدم رہیں۔ ١٢٦۔٣ اس دنیاوی آزمائش سے ہمارے اندر ایمان سے انحراف آئے نہ کسی اور فتنے میں ہم مبتلا ہوں۔(126)
وَقالَ المَلَأُ مِن قَومِ فِرعَونَ أَتَذَرُ موسىٰ وَقَومَهُ لِيُفسِدوا فِى الأَرضِ وَيَذَرَكَ وَءالِهَتَكَ ۚ قالَ سَنُقَتِّلُ أَبناءَهُم وَنَستَحيۦ نِساءَهُم وَإِنّا فَوقَهُم قٰهِرونَ(127)
١٢٧۔١ یہ ہر دور کے مفسدین کا شیوا رہا ہے کہ وہ اللہ والوں کو فسادی اور ان کی دعوت ایمان و توحید کو فساد سے تعبیر کرتے ہیں فرعون نے بھی یہی کہا۔ ١٢٧۔٢ فرعون کو بھی اگرچہ دعویٰ ربوبیت تھا (اَنَا رَبُّکُمُا لْاَعْلٰی) میں تمہارا بڑا رب ہوں وہ کہا کرتا تھا لیکن دوسرے چھوٹے چھوٹے معبود بھی تھے جن کے ذریعے سے لوگ فرعون کا تقرب حاصل کرتے تھے۔ ١٢٧۔٣ ہمارے اس انتظام میں یہ رکاوٹ نہیں ڈال سکتے قتلِ انبیاء کا یہ پروگرام فرعونیوں کے کہنے پر بنایا گیا اس سے قبل بھی جب موسیٰ علیہ السلام کی ولادت نہیں ہوئی تھی موسیٰ علیہ السلام کے بعد از ولادت خاتمے کے لئے اس نے بنی اسرائیل کے نوملود بچوں کو قتل کرنا شروع کیا تھا، اللہ تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے بعد ان کو بچانے کی یہ تدبیر کی کہ موسیٰ علیہ السلام کو خود فرعون کے محل میں پہنچوا کر اس کی گود میں ان کی پرورش کروائی۔ فَلِلَّہِ الْمَکْرُ جَمِیْعًا۔(127)
قالَ موسىٰ لِقَومِهِ استَعينوا بِاللَّهِ وَاصبِروا ۖ إِنَّ الأَرضَ لِلَّهِ يورِثُها مَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ ۖ وَالعٰقِبَةُ لِلمُتَّقينَ(128)
١٢٨۔١ جب فرعون کی طرف سے دوبارہ اس ظلم کا آغاز ہوا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ سے مدد حاصل کرنے اور صبر کرنے کی تلقین کی اور تسلی دی کہ اگر تم صحیح رہے تو زمین کا اقتدار بالآخر تمہیں ہی ملے گا(128)
قالوا أوذينا مِن قَبلِ أَن تَأتِيَنا وَمِن بَعدِ ما جِئتَنا ۚ قالَ عَسىٰ رَبُّكُم أَن يُهلِكَ عَدُوَّكُم وَيَستَخلِفَكُم فِى الأَرضِ فَيَنظُرَ كَيفَ تَعمَلونَ(129)
١٢٩۔١ یہ اشارہ ہے ان مظالم کی طرف جو ولادت موسیٰ علیہ السلام سے قبل ان پر ہوتے رہے۔ ١٢٩۔٢ جادوگروں کے واقعہ کے بعد ظلم و ستم کا یہ نیا دور جو موسیٰ علیہ السلام کے آنے کے بعد شروع ہوا۔ ١٢٩۔٣ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا، زمین میں تمہیں اقتدار عطا فرمائے گا پھر تمہاری آزمائش کا نیا دور شروع ہوگا۔ ابھی تو تکلیفوں کے ذریعے سے آزمائے جا رہے ہو، پھر انعام واکرام کی بارش کرکے اور اختیار اور اقتدار سے بہرہ مند کرکے تمہیں آزمایا جائے گا۔(129)
وَلَقَد أَخَذنا ءالَ فِرعَونَ بِالسِّنينَ وَنَقصٍ مِنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُم يَذَّكَّرونَ(130)
١٣٠۔١ آل فرعون سے مراد فرعون کی قوم ہے۔ اور سنین سے قحط سالی۔ یعنی بارش کے فقدان اور درختوں میں کیڑے وغیرہ لگ جانے سے پیداوار میں کمی۔ مقصد آزمائش سے یہ تھا کہ اس ظلم اور استکبار سے باز آجائیں جس میں وہ مبتلا تھے۔(130)
فَإِذا جاءَتهُمُ الحَسَنَةُ قالوا لَنا هٰذِهِ ۖ وَإِن تُصِبهُم سَيِّئَةٌ يَطَّيَّروا بِموسىٰ وَمَن مَعَهُ ۗ أَلا إِنَّما طٰئِرُهُم عِندَ اللَّهِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ(131)
١٣١۔١ حَسَنَةُ (بھلائی) سے مراد غلے اور پھلوں کی فروانی سَيِّئَةٌ (برائی) سے اس کے برعکس اور قحط سالی اور پیداوار میں کمی۔ بھلائی کا سارا کریڈٹ خود لے لیتے کہ یہ ہماری محنت کا ثمر ہے اور بدحالی کا سبب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اس پر ایمان لانے والوں کو قرار دیتے کہ یہ تم لوگوں کی نحوست کے اثرات ہمارے ملک پر پڑ رہے ہیں۔ ١٣١۔٢ طَائِرُ کی معنی اڑنے والا یعنی پرندہ ۔چونکہ پرندے کے بائیں یا دائیں اڑنے سے وہ لوگ نیک فالی یا بدفالی لیا کرتے تھے۔ اس لیے یہ لفظ مطلق فال کے لیے بھی استعمال ہونے لگ گیا اور اسی معنی میں ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا خیر یا شر، جو خوش حالی یا قحط سالی کی وجہ سے انہیں پہنچتا ہے اس کے اسباب اللہ تعالٰی کی طرف سے ہیں موسیٰ علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں اس کا سبب نہیں۔ (طٰئِرُ ھُمْ عَنْدَاللّٰہِ) کا مطلب ہوگا کہ ان کی بد شگونی کا سبب اللہ کے علم میں ہے اور وہ ان کا کفر و انکار ہے نہ کہ کچھ اور۔ یا اللہ کی طرف سے ہے اور اس کی وجہ ان کا کفر ہے۔(131)
وَقالوا مَهما تَأتِنا بِهِ مِن ءايَةٍ لِتَسحَرَنا بِها فَما نَحنُ لَكَ بِمُؤمِنينَ(132)
١٣٢۔١ یہ کفر و جحود کا ظہار ہے جس میں وہ مبتلا تھے اور معجزت و آیات الٰہی کو اب بھی وہ جادوگری باور کرتے یا کراتے۔(132)
فَأَرسَلنا عَلَيهِمُ الطّوفانَ وَالجَرادَ وَالقُمَّلَ وَالضَّفادِعَ وَالدَّمَ ءايٰتٍ مُفَصَّلٰتٍ فَاستَكبَروا وَكانوا قَومًا مُجرِمينَ(133)
١٣٣۔١ طوفان سے سیلاب یا کثرت بارش، جس میں ہرچیز غرق ہوگئی، یا کثرت اموات، جس سے ہر گھر میں ماتم برپا ہوگیا، ٹڈی دل کا حملہ فصلوں کی ویرانی کے لئے مشہور ہے یہ ٹڈیاں ان کے غلوں اور پھلوں کی فصلوں کو کھا کر چٹ کر جاتیں، جو پانی جوہڑوں، چھپڑوں میں ہوتا ہے، یہ مینڈک ان کے کھانوں میں، بستروں میں۔ غلوں میں غرض ہر جگہ اور ہر طرف مینڈک ہی مینڈک ہوگئے جس سے ان کا کھانا پینا، سونا آرام کرنا حرام ہوگیا۔ دم (خون) سے مراد پانی کا خون بن جانا یوں پانی پینا ان کے لئے ناممکن ہوگیا، بعض نے خون سے مراد نکسیر کی بیماری لی ہے۔ یعنی ہر شخص کی ناک سے خون جاری ہوگیا، یہ کھلے کھلے اور جدا جدا معجزے تھے جو وقفے وقفے سے ان پر آئے۔(133)
وَلَمّا وَقَعَ عَلَيهِمُ الرِّجزُ قالوا يٰموسَى ادعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِندَكَ ۖ لَئِن كَشَفتَ عَنَّا الرِّجزَ لَنُؤمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرسِلَنَّ مَعَكَ بَنى إِسرٰءيلَ(134)
(134)
فَلَمّا كَشَفنا عَنهُمُ الرِّجزَ إِلىٰ أَجَلٍ هُم بٰلِغوهُ إِذا هُم يَنكُثونَ(135)
١٣٥۔١ یعنی ایک عذاب آتا تو اس سے تنگ آکر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آتے تو ان کی دعا سے ٹل جاتا تو ایمان لانے کی بجائے پھر اس کفر اور شرک پر جمے رہتے پھر دوسرا عذاب آجاتا پھر اسی طرح کرتے یوں کچھ کچھ وقفوں سے پانچ عذاب ان پر آئے لیکن ان کے دلوں میں جو فرعونیت اور دماغوں میں جو تکبر تھا وہ حق کی راہ میں ان کے لئے زنجیر پا بنا رہا اتنی اتنی واضح نشانیاں دیکھنے کے باوجود ایمان کی دولت سے محروم ہی رہے۔(135)
فَانتَقَمنا مِنهُم فَأَغرَقنٰهُم فِى اليَمِّ بِأَنَّهُم كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَكانوا عَنها غٰفِلينَ(136)
١٣٦۔١ اتنی بڑی نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لانے کے لئے اور خواب غفلت سے بیدار ہونے کے لئے تیار نہیں ہوئے بالآخر انہیں دریا میں غرق کر دیا، جس کی تفصیل قرآن مجید کے مختلف مقامات پر موجود ہے۔(136)
وَأَورَثنَا القَومَ الَّذينَ كانوا يُستَضعَفونَ مَشٰرِقَ الأَرضِ وَمَغٰرِبَهَا الَّتى بٰرَكنا فيها ۖ وَتَمَّت كَلِمَتُ رَبِّكَ الحُسنىٰ عَلىٰ بَنى إِسرٰءيلَ بِما صَبَروا ۖ وَدَمَّرنا ما كانَ يَصنَعُ فِرعَونُ وَقَومُهُ وَما كانوا يَعرِشونَ(137)
١٣٧۔١ یعنی بنی اسرائیل کو جن کو فرعون نے غلام بنا رکھا تھا اور ان پر ظلم روا رکھا تھا، اس بنا پر وہ فی الواقع مصر میں کمزور سمجھے جاتے تھے کیونکہ مغلوب اور غلام تھے۔ لیکن جب اللہ نے چاہا تو اسی مغلوب اور غلام قوم کو زمین کا وارث بنا دیا۔ (۲)زمین سے مراد شام کا علاقہ فلسطین ہے جہاں اللہ تعالٰی نے عمالقہ کے بعد بنی اسرائیل کو غلبہ عطا فرمایا شام میں بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام و ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد اس وقت گئے جب یوشع بن نون نے عمالقہ کو شکست دے کر بنی اسرائیل کے لیے راستہ ہموار کردیا۔ اور زمین کے ان حصوں میں برکتیں رکھیں یعنی شام کے علاقے میں۔ جو بکثرت انبیاء کامسکن ومدفن رہا اور ظاہری شادابی وخوش حالی میں بھی ممتاز ہے۔ یعنی ظاہری وباطنی دونوں قسم کی برکتوں سے یہ زمین مالا مال رہی ہے۔ مشارق مشرق کی جمع اور مغارب مغرب کی جمع ہے۔ حالانکہ مشرق اور مغرب ایک ایک ہی ہیں۔ جمع سے مراد اس ارض بابرکت کے مشرقی اور مغربی حصے ہیں یعنی جہات مشرق ومغرب۔ ١٣٧۔٢ یہ وہ وعدہ بھی ہے جو اس سے قبل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبانی آیت نبر ١٢٨،١٢٩ میں فرمایا گیا ہے اور سورۃ قصص میں بھی ١٣٧۔٣ مصنوعات سے مراد کارخانے، عمارتیں اور ہتھیار وغیرہ ہیں (جو وہ بلند کرتے تھے) اس سے مراد اونچی اونچی عمارتیں بھی ہوسکتی ہیں، ہتھیار اور دیگر سامان بھی تباہ کر دیا اور ان کے باغات بھی۔(137)
وَجٰوَزنا بِبَنى إِسرٰءيلَ البَحرَ فَأَتَوا عَلىٰ قَومٍ يَعكُفونَ عَلىٰ أَصنامٍ لَهُم ۚ قالوا يٰموسَى اجعَل لَنا إِلٰهًا كَما لَهُم ءالِهَةٌ ۚ قالَ إِنَّكُم قَومٌ تَجهَلونَ(138)
١٣٨۔١ اس سے بڑی جہالت اور نادانی کیا ہوگی کہ جس اللہ نے انہیں فرعون جیسے دشمن سے نہ صرف نجات دی، بلکہ ان کی آنکھوں کے سامنے اسے اس کے لشکر سمیت غرق کر دیا اور معجزانہ طر یقہ سے دریا عبور کروا دیا۔ وہ دریا پار کرتے ہی اس اللہ کو بھول کر پتھر کے خود تراشیدہ معبود تلاش کرنے لگ گئے۔ کہتے ہیں کہ یہ بت گائے کی شکل کے تھے جو پتھر کی بنی ہوئی تھیں۔(138)
إِنَّ هٰؤُلاءِ مُتَبَّرٌ ما هُم فيهِ وَبٰطِلٌ ما كانوا يَعمَلونَ(139)
١٣٩۔١ یعنی مورتیوں کے پجاری جن کے حال نے تمہیں بھی دھوکے میں ڈال دیا، ان کا مقدر تباہی اور ان کا یہ فعل باطل اور خسارے کا باعث ہے۔(139)
قالَ أَغَيرَ اللَّهِ أَبغيكُم إِلٰهًا وَهُوَ فَضَّلَكُم عَلَى العٰلَمينَ(140)
١٤٠۔١ کیا جس اللہ نے تم پر اتنے احسانات اور تمہیں جہانوں پر فضیلت بھی عطا کی، اسے چھوڑ کر میں تمہارے لئے پتھر اور لکڑی کے تراشے ہوئے بت تلاش کروں، یعنی یہ ناشکری اور احسان ناشناسی میں کس طرح کر سکتا ہوں؟ اگلی آیات میں اللہ تعالٰی کے مزید احسا نات کا تذکرہ ہے۔(140)
وَإِذ أَنجَينٰكُم مِن ءالِ فِرعَونَ يَسومونَكُم سوءَ العَذابِ ۖ يُقَتِّلونَ أَبناءَكُم وَيَستَحيونَ نِساءَكُم ۚ وَفى ذٰلِكُم بَلاءٌ مِن رَبِّكُم عَظيمٌ(141)
١٤١۔١ یہ وہی آزمائشیں ہیں جن کا ذکر سورہ بقرہ میں بھی گزرا ہے اور سورہ ابراہیم میں بھی آئے گا۔(141)
۞ وَوٰعَدنا موسىٰ ثَلٰثينَ لَيلَةً وَأَتمَمنٰها بِعَشرٍ فَتَمَّ ميقٰتُ رَبِّهِ أَربَعينَ لَيلَةً ۚ وَقالَ موسىٰ لِأَخيهِ هٰرونَ اخلُفنى فى قَومى وَأَصلِح وَلا تَتَّبِع سَبيلَ المُفسِدينَ(142)
١٤٢۔١ فرعون اس کے لشکر کے غرق کے بعد ضرورت لاحق ہوئی کہ بنی اسرائیل کی ہدایت و رہنمائی کے لئے کوئی کتاب انہیں دی جائے۔ چنانچہ اللہ تعالٰی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تیس راتوں کے لئے کوہ طور پر بلایا، جس میں دس راتوں کا اضافہ کرکے اسے چالیس کر دیا گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جاتے وقت حضرت ہارون علیہ السلام کو جو ان کے بھائی، بھی تھے اور نبی بھی، اپنا جانشین مقر کر دیا تاکہ وہ بنی اسرائیل کی ہدایت و اصلاح کا کام کرتے رہیں اور انہیں ہر قسم کے فساد سے بچائیں۔ اس آیت میں یہی بیان کیا گیا ہے۔ ١٤٢۔٢ حضرت ہارون علیہ السلام خود نبی تھے اور اصلاح کا کام ان کے فرائض منصبی میں شامل تھا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں محض تذکرہ تنبیہ کے طور پر یہ نصیحتیں کیں، میقات سے یہاں مراد وقت معین ہے۔(142)
وَلَمّا جاءَ موسىٰ لِميقٰتِنا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قالَ رَبِّ أَرِنى أَنظُر إِلَيكَ ۚ قالَ لَن تَرىٰنى وَلٰكِنِ انظُر إِلَى الجَبَلِ فَإِنِ استَقَرَّ مَكانَهُ فَسَوفَ تَرىٰنى ۚ فَلَمّا تَجَلّىٰ رَبُّهُ لِلجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ موسىٰ صَعِقًا ۚ فَلَمّا أَفاقَ قالَ سُبحٰنَكَ تُبتُ إِلَيكَ وَأَنا۠ أَوَّلُ المُؤمِنينَ(143)
١٤٣۔١ جب موسیٰ علیہ السلام طور پر گئے اور وہاں اللہ نے ان سے براہ راست گفتگو کی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں اللہ کو دیکھنے کے شوق کا اظہار رَ بِ اَرِنِیْ کہہ کر کیا۔ جس کے جواب میں اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ لَنْ تَرٰنِیْ تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا اس سے استدلال کرتے ہوئے مسلمانوں کے کے ایک فرقہ نے کہا کہ لَنْ نَفْیُ نَاْبِیْدٍ (ہمیشہ کی نفی) کے لئے آتا ہے۔ اس لئے اللہ کا دیدار نہ دنیا میں ممکن ہے نہ آخرت میں۔ لیکن فرقہ کا یہ مسلک صحیح احادیث کے خلاف ہے۔ متواتر صحیح اور قوی روایات سے ثابت ہے کہ قیامت والے دن اہل ایمان اللہ کو دیکھیں گے اور جنت میں بھی دیدار الٰہی سے مشرف ہونگے، تمام اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے۔ اس روایت کا تعلق صرف دنیا سے ہے، دنیا میں کوئی انسانی آنکھ اللہ کو دیکھنے پر قادر نہیں ہے۔ لیکن آخرت میں اللہ تعالٰی ان آنکھوں میں اتنی قوت پیدا فرما دے گا کہ وہ اللہ کے جلوے کو برداشت کر سکے۔ ١٤٣۔٢ یعنی وہ پہاڑ بھی رب کی تجلی کو برداشت نہ کرسکا اور موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن سب لوگ بے ہوش ہونگے، (یہ بے ہوشی امام ابن کثیر کے بقول میدان محشر میں اس وقت ہوگی جب اللہ تعالٰی فیصلے کرنے کے لئے نزول اجلال فرمائے گا) اور جب ہوش میں آئیں گے تو میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) ہوش میں آنے والوں میں سب سے پہلا شخص ہوں گا، میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کا پایہ تھامے کھڑے ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آئے یا انہیں کوہ طور کی بے ہوشی کے بدلے میں میدان محشر کی بے ہوشی سے مستثنٰی رکھا گیا۔ (صحیح بخاری) ١٤٣۔٣ تیری عظمت و جلالت کا اور اس بات کا کہ میں تیرا عاجز بندہ ہوں، دنیا میں تیرے دیدار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔(143)
قالَ يٰموسىٰ إِنِّى اصطَفَيتُكَ عَلَى النّاسِ بِرِسٰلٰتى وَبِكَلٰمى فَخُذ ما ءاتَيتُكَ وَكُن مِنَ الشّٰكِرينَ(144)
١٤٤۔١ یہ ہم کلامی کا دوسرا موقع تھا جس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مشرف کیا گیا۔ اس سے قبل جب آگ لینے گئے تھے تو اللہ نے ہم کلامی سے نوازا تھا اور پیغمبری عطا فرمائی تھی۔(144)
وَكَتَبنا لَهُ فِى الأَلواحِ مِن كُلِّ شَيءٍ مَوعِظَةً وَتَفصيلًا لِكُلِّ شَيءٍ فَخُذها بِقُوَّةٍ وَأمُر قَومَكَ يَأخُذوا بِأَحسَنِها ۚ سَأُو۟ريكُم دارَ الفٰسِقينَ(145)
١٤٥۔١ گویا تورات تختیوں کی شکل میں عطا فرمائی گئی جس میں ان کے لئے دینی احکام، امر و نہی تر غیب و ترتیب کی پوری تفصیل تھی۔ ١٤٥۔٢ یعنی رخصتوں کی ہی تلاش میں نہ رہیں جیسا کہ سہولت پسندوں کا حال ہوتا ہے۔ ١٤٥۔٣ مقام (دار) سے مراد تو انجام یہی ہلاکت ہے یا اس کا مطلب ہے کہ فاسقوں کے ملک پر تمہیں حکمرانی عطا کروں گا اور اس سے مراد ملک شام ہے۔ جس پر اس وقت عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ جو اللہ کے نافرمان تھے۔ (ابن کثیر)(145)
سَأَصرِفُ عَن ءايٰتِىَ الَّذينَ يَتَكَبَّرونَ فِى الأَرضِ بِغَيرِ الحَقِّ وَإِن يَرَوا كُلَّ ءايَةٍ لا يُؤمِنوا بِها وَإِن يَرَوا سَبيلَ الرُّشدِ لا يَتَّخِذوهُ سَبيلًا وَإِن يَرَوا سَبيلَ الغَىِّ يَتَّخِذوهُ سَبيلًا ۚ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَكانوا عَنها غٰفِلينَ(146)
١٤٦۔١ تکبر کا مطلب ہے اللہ کی آیات و احکام کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور لوگوں کو حقیر گرداننا۔ یہ تکبر انسان کے لئے زیبا نہیں دیتا، کیونکہ اللہ خالق ہے اور وہ اس کی مخلوق۔ مخلوق ہو کر، خالق کا مقابلہ کرنا اور اس کے احکام و ہدایات سے اعراض و غفلت کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ اس لئے اللہ تعالٰی کو تکبر سخت ناپسند ہے۔ اس اَیت میں تکبر کا نتیجہ بتلایا گیا ہے۔ کہ اللہ تعالٰی انہیں اَیات الہی سے دور ہی رکھتا ہے اور پھر وہ اتنے دور ہوجاتے ہیں کہ کسی طرح کی بھی نشانی انہیں حق کی طرف لانے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا (ترجمہ) جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوگئ وہ ایمان نہیں لائیں گے چاہے ان کے پاس ہر طرح کی نشانی آجاوے حتی کہ وہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔ ١٤٦۔٢ اس میں احکام الٰہی سے اعراض کرنے والوں کی ایک عادت یا نفسیات کا بیان ہے کہ ہدایت کی کوئی بات ان کے سامنے آئے تو اسے تو نہیں مانتے، البتہ گمراہی کی کوئی چیز دیکھتے ہیں تو اسے فوراً اپنا لیتے اور راہ عمل بنا لیتے ہیں قرآن کریم کی بیان کردہ اس حقیقت کا ہر دور میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ آج ہم بھی ہر جگہ اور ہر معاشرے میں حتٰی کہ مسلمان معاشروں میں بھی دیکھ رہے ہیں کہ نیکی منہ چھپائے پھر رہی ہے اور بدی انسان لپک لپک کر اختیار کر رہا ہے۔ ١٤٦۔٣ یہ اس بات کا سبب بتلایا جا رہا ہے کہ لوگ نیکی کے مقابلے میں بدی کو اور حق کے مقابلے میں باطل کو کیوں زیادہ اختیار کرتے ہیں؟ یہ سبب ہے آیات الٰہی کی تکذیب اور ان سے غفلت اور اعراض کا۔ یہ ہر معاشرے میں عام ہے۔(146)
وَالَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَلِقاءِ الءاخِرَةِ حَبِطَت أَعمٰلُهُم ۚ هَل يُجزَونَ إِلّا ما كانوا يَعمَلونَ(147)
١٤٧۔١ اس میں آیات الٰہی کی تکذیب اور احکام کا انکار کرنے والوں کا انجام بتلایا گیا ہے کہ چونکہ ان کے عمل کی اساس عدل و حق نہیں ظلم و باطل ہے۔ اس لئے ان کا نامہ اعمال میں شر ہی شر ہوگا جس کی کوئی قیمت اللہ کے ہاں نہ ہوگی۔ اور اس شر کا بدلہ ان کو وہاں ضرور دیا جائے گا۔(147)
وَاتَّخَذَ قَومُ موسىٰ مِن بَعدِهِ مِن حُلِيِّهِم عِجلًا جَسَدًا لَهُ خُوارٌ ۚ أَلَم يَرَوا أَنَّهُ لا يُكَلِّمُهُم وَلا يَهديهِم سَبيلًا ۘ اتَّخَذوهُ وَكانوا ظٰلِمينَ(148)
١٤٨۔١ موسیٰ علیہ السلام جب چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر گئے تو پیچھے سے سامری نامی شخص نے سونے کے زیورات اکھٹے کرکے ایک بچھڑا تیار کیا جس میں اس نے جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کے سموں کے نیچے کی مٹی بھی، جو اس نے سنبھال کر رکھی تھی شامل کردی، جس میں اللہ نے زندگی کی تاثیر رکھی تھی جس کی وجہ سے بچھڑا کچھ کچھ بیل کی آواز نکالتا تھا (گو واضح کلام کرنے اور راہنمائی کرنے سے عاجز تھا جیسا کہ قرآن کے الفاظ واضح کر رہے ہیں، اسمیں اختلاف ہے کہ فی الواقع گوشت پوست کا بچھڑا بن گیا تھا، یا تھا وہ سونے کا ہی، لیکن کسی طریقے سے اس میں ہوا داخل ہوتی تو گائے، بیل کی سی آواز اس میں سے نکلتی۔ (ابن کثیر) اس آواز سے سامری نے بنی اسرائیل کو گمراہ کیا کہ تمہارا معبود تو یہ ہے، موسیٰ علیہ السلام بھول گئے ہیں اور وہ معبود کی تلاش میں کوہ طور پر گئے ہیں۔(148)
وَلَمّا سُقِطَ فى أَيديهِم وَرَأَوا أَنَّهُم قَد ضَلّوا قالوا لَئِن لَم يَرحَمنا رَبُّنا وَيَغفِر لَنا لَنَكونَنَّ مِنَ الخٰسِرينَ(149)
١٤٩۔١ سقط فی أیدھم۔ محاورہ ہے جس کے معنی نادم ہونا ہیں۔ یہ ندامت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی کے بعد ہوئی، جب انہوں نے آکر اس پر لعنت ملامت کی۔ جیسا کہ سورۃ طٰہ ٰمیں ہے۔ یہاں اسے مقدم اس لئے کر دیا گیا ہے کہ ان کا فعل اور قول اکٹھا ہو جائے۔ (فتح القدیر)(149)
وَلَمّا رَجَعَ موسىٰ إِلىٰ قَومِهِ غَضبٰنَ أَسِفًا قالَ بِئسَما خَلَفتُمونى مِن بَعدى ۖ أَعَجِلتُم أَمرَ رَبِّكُم ۖ وَأَلقَى الأَلواحَ وَأَخَذَ بِرَأسِ أَخيهِ يَجُرُّهُ إِلَيهِ ۚ قالَ ابنَ أُمَّ إِنَّ القَومَ استَضعَفونى وَكادوا يَقتُلونَنى فَلا تُشمِت بِىَ الأَعداءَ وَلا تَجعَلنى مَعَ القَومِ الظّٰلِمينَ(150)
١٥٠۔١ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آکر دیکھا کہ وہ بچھڑے کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں تو سخت غضبناک ہوئے اور جلدی میں تختیاں بھی جو کوہ طور سے لائے تھے، ایسے طور پر رکھیں کہ دیکھنے والے کو محسوس ہو کہ انہوں نے نیچے پھینک دی ہیں جسے قرآن نے " ڈال دیں " سے تعبیر کیا ہے۔ تاہم اگر پھینک بھی دی ہوں تو اس میں سوء بے ادبی نہیں کیونکہ مقصد ان کا تختیوں کی بے ادبی نہیں تھا بلکہ دینی غیرت و اہمیت میں بے خود ہو کر غیر اختیاری طور پر ان سے یہ فعل سر زد ہوا۔ ١٥٠۔٢ حضرت ہارون علیہ السلام و موسیٰ علیہ السلام آپس میں سگے بھائی تھے، لیکن یہاں حضرت ہارون نے ماں جائے ' اس لئے کہا کہ اس لفظ میں پیار اور نرمی کا پہلو زیادہ ہے۔ ١٥٠۔٣ حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنا عذر پیش کیا جس کی وجہ سے وہ قوم کو شرک جیسے جرم عظیم سے روکنے میں ناکام رہے۔ ایک اپنی کمزوری اور دوسرا بنی اسرائیل کا عناد اور سرکشی کہ انہیں قتل تک کر دینے پر آمادہ ہوگئے تھے اور انہیں اپنی جان بچانے کے لئے خاموش ہونا پڑا، جس کی اجازت ایسے موقعوں پر اللہ نے دی ہے۔ ١٥٠۔٤ میری ہی سرزنش کرنے سے دشمن خوش ہونگے، جب کہ یہ موقع تو دشمنوں کی سرکوبی اور ان سے اپنی قوم کو بچانے کا ہے۔ ١٥٠۔٥ اور ویسے بھی عقیدہ و عمل میں مجھے کس طرح ان کے ساتھ شمار کیا جاسکتا ہے، میں نے نہ شرک کا ارتکاب کیا، نہ اس کی اجازت دی، نہ اس پر خوش ہوا، صرف خاموش رہا اور اس کے لئے بھی میرے پاس معقول عذر موجود ہے، پھر میرا شمار ظالموں (مشرکوں) کے ساتھ کس طرح ہوسکتا ہے؟ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کے لئے مغفرت و رحمت کی دعا مانگی۔(150)
قالَ رَبِّ اغفِر لى وَلِأَخى وَأَدخِلنا فى رَحمَتِكَ ۖ وَأَنتَ أَرحَمُ الرّٰحِمينَ(151)
(151)
إِنَّ الَّذينَ اتَّخَذُوا العِجلَ سَيَنالُهُم غَضَبٌ مِن رَبِّهِم وَذِلَّةٌ فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا ۚ وَكَذٰلِكَ نَجزِى المُفتَرينَ(152)
١٥٢۔١ اللہ کا غضب یہ تھا کہ توبہ کے لئے قتل ضروری قرار پایا۔ اور اس سے قبل جب تک جیتے رہے، ذلت اور رسوائی کے مستحق قرار پائے۔ ١٥٢۔٢ اور یہ سزا ان ہی کے لئے خاص نہیں ہے، جو بھی اللہ پر افترا (بہتان) کرتا ہے، اس کو ہم یہی سزا دیتے ہیں۔(152)
وَالَّذينَ عَمِلُوا السَّيِّـٔاتِ ثُمَّ تابوا مِن بَعدِها وَءامَنوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعدِها لَغَفورٌ رَحيمٌ(153)
١٥٣۔١ جنہوں نے توبہ کر لی ان کے لئے اللہ تعالٰی غفور رحیم ہے۔ معلوم ہوا کہ توبہ سے ہر گناہ معاف ہوجاتا ہے بشرطیکہ خالص توبہ ہو۔(153)
وَلَمّا سَكَتَ عَن موسَى الغَضَبُ أَخَذَ الأَلواحَ ۖ وَفى نُسخَتِها هُدًى وَرَحمَةٌ لِلَّذينَ هُم لِرَبِّهِم يَرهَبونَ(154)
١٥٤۔١ یہاں نسخہ سے مراد یا تو وہ اصل الواح ہیں جن پر تورات لکھی گئی تھی یا اس سے مراد وہ دوسرا نسخہ ہے جو تختیوں کو زور سے پھنکنے کی وجہ سے ٹوٹ جانے کے بعد اس سے نقل کر کے تیار کیا گیا تھا تاہم بات پہلی ہی لگتی ہے۔ کیونکہ آگے چل کر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان تختیوں کو اٹھا لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تختیاں ٹوٹی نہیں تھیں۔ بہرحال اس کا مرادی مفہوم ' مضامین ' ہے جو ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے۔ ١٥٤۔٢ تورات کو بھی قرآن کریم کی طرح، انہیں لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت قرار دیا گیا ہے، جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں، کیونکہ اصل فائدہ آسمانی کتابوں سے ایسے ہی لوگوں کو ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ تو چونکہ اپنے کانوں کو حق کے سننے سے، آنکھوں کو حق کے دیکھنے سے بند کئے ہوئے ہوتے ہیں، اس چشمہ فیض سے وہ بالعموم محروم ہی رہتے ہیں۔(154)
وَاختارَ موسىٰ قَومَهُ سَبعينَ رَجُلًا لِميقٰتِنا ۖ فَلَمّا أَخَذَتهُمُ الرَّجفَةُ قالَ رَبِّ لَو شِئتَ أَهلَكتَهُم مِن قَبلُ وَإِيّٰىَ ۖ أَتُهلِكُنا بِما فَعَلَ السُّفَهاءُ مِنّا ۖ إِن هِىَ إِلّا فِتنَتُكَ تُضِلُّ بِها مَن تَشاءُ وَتَهدى مَن تَشاءُ ۖ أَنتَ وَلِيُّنا فَاغفِر لَنا وَارحَمنا ۖ وَأَنتَ خَيرُ الغٰفِرينَ(155)
١٥٥۔١ ان ستر آدمیوں کی تفصیل اگلے حاشیے میں آرہی ہے۔ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے ستر آدمی چنے اور انہیں کوہ طور پر لے گئے، جہاں بطور عذاب انہیں ہلاک کردیا گیا، جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔ ١٥٥۔٢ بنی اسرائیل کے یہ ستر آدمی کون تھے؟ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تورات کے احکام انہیں سنائے تو انہوں نے کہا کہ ہم کیسے یقین کرلیں کہ یہ کتاب واقع اللہ تعالٰی کی طرف سے ہی نازل شدہ ہے؟ ہم تو جب تک خود اللہ تعالٰی کو کلام کرتے ہوئے نہ سن لیں اسے نہیں مانیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ستر برگزیدہ آدمیوں کا انتخاب کیا اور انہیں کوہ طور پر لے گئے۔ وہاں اللہ تعالٰی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہمکلام ہوئے جسے ان لوگوں نے بھی سنا۔ لیکن وہاں انہوں نے ایک نیا مطالبہ کردیا کہ ہم جب تک اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیں گے، ایمان نہیں لائیں گے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ ستر آدمی وہ ہیں جو پوری قوم کی طرف سے بچھڑے کی عبادت کے جرم عظیم کی توبہ کی اور معذرت کے لئے کوہ طور پر لے جائے گئے تھے اور وہاں جاکر انہوں نے اللہ کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ تیسری رائے یہ ہے کہ یہ ستر آدمی وہ ہیں جنہوں نے اسرائیل کو بچھڑے کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا لیکن انہیں منع نہیں کیا۔ ایک چوتھی رائے یہ ہے کہ یہ ستر آدمی وہ ہیں جنہیں اللہ کے حکم سے کوہ طور پر لے جانے کے لئے چنا گیا تھا، وہاں جاکر انہوں نے اللہ سے دعائیں کیں۔ جن میں ایک دعا یہ بھی تھی کہ ' یا اللہ ہمیں تو وہ کچھ عطا فرما، جو اس سے قبل تو نے کسی کو عطا نہ کیا اور نہ آئندہ کسی کو عطا کرنا ' اللہ تعالٰی کو یہ دعا پسند نہ آئی، جس پر وہ زلزلے کے ذریعے سے ہلاک کر دیئے گئے۔ زیادہ مفسرین دوسری رائے کے قائل ہیں اور انہوں نے وہی واقعہ قرار دیا جس کا ذکر سورۃ بقرہ آیت ٥٦ میں آیا ہے۔ جہاں ان پر صاعقہ (بجلی کی کڑک) سے موت وارد ہونے کا ذکر ہے۔ اور یہاں رجفہ (زلزلے) سے موت کا ذکر ہے۔ اس کی توجیہ میں کہا گیا ہے کہ ممکن ہے دونوں ہی عذاب آوے ہوں اوپر سے بجلی کی کڑک اور نیچے سے زلزلہ۔ بہرحال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس دعا والتجا کے بعد کہ اگر ان کو ہلاک ہی کرنا تھا تو اس سے قبل اس وقت ہلاک کرتا جب یہ بچھڑے کی عبادت میں مصروف تھے۔ اللہ تعالٰی نے انہیں زندہ کردیا۔(155)
۞ وَاكتُب لَنا فى هٰذِهِ الدُّنيا حَسَنَةً وَفِى الءاخِرَةِ إِنّا هُدنا إِلَيكَ ۚ قالَ عَذابى أُصيبُ بِهِ مَن أَشاءُ ۖ وَرَحمَتى وَسِعَت كُلَّ شَيءٍ ۚ فَسَأَكتُبُها لِلَّذينَ يَتَّقونَ وَيُؤتونَ الزَّكوٰةَ وَالَّذينَ هُم بِـٔايٰتِنا يُؤمِنونَ(156)
١٥٦۔١ یعنی توبہ کرتے ہیں۔ ١٥٦۔ ٢ یہ اس کی وسعت رحمت ہی ہے کہ دنیا میں صالح و فاسق اور مومن و کافر دونوں ہی اس کی رحمت سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے ' اللہ تعالٰی کی رحمت کے ١٠٠ حصے ہیں۔ یہ اس کی رحمت کا ایک حصہ ہے کہ جس سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے اور وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور اس نے اپنی رحمت کے ٩٩ حصے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ (صحیح مسلم)(156)
الَّذينَ يَتَّبِعونَ الرَّسولَ النَّبِىَّ الأُمِّىَّ الَّذى يَجِدونَهُ مَكتوبًا عِندَهُم فِى التَّورىٰةِ وَالإِنجيلِ يَأمُرُهُم بِالمَعروفِ وَيَنهىٰهُم عَنِ المُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيهِمُ الخَبٰئِثَ وَيَضَعُ عَنهُم إِصرَهُم وَالأَغلٰلَ الَّتى كانَت عَلَيهِم ۚ فَالَّذينَ ءامَنوا بِهِ وَعَزَّروهُ وَنَصَروهُ وَاتَّبَعُوا النّورَ الَّذى أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ(157)
١٥٧۔١ یہ آیت بھی اس امر کی وضاحت کے لئے آیت قطعی کی حیثیت رکھتی ہے کہ رسالت محمدیہ پر ایمان لائے بغیر نجات اخروی ممکن نہیں اور ایمان وہی معتبر ہے جس کی تفصیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے۔ اس آیت سے بھی تصور 'دیگر مذاہب ' کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ ١٥٧۔٢ معروف وہ ہے جسے شریعت نے اچھا اور منکر، وہ ہے جسے شریعت نے برا قرار دیا۔ ١٥٧۔٣ یہ بوجھ اور طوق وہ ہیں جو پچھلی شریعت میں تھے، مثلاً نفس کے بدلے نفس کا قتل ضروری تھا، (دیت یا معافی نہیں تھی۔ یا جس کپڑے کو نجاست لگ جاتی، اسے قطع کرنا ضروری تھا، شریعت اسلامیہ نے اسے صرف دھونے کا حکم دیا ہے۔ جس طرح قصاص میں دیت اور معافی کی اجازت دی وغیرہ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ' مجھے آسان دین حنیفی کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ١٥٧۔٤ ان آخری الفاظ سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کامیاب وہی لوگ ہونگے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے اور ان کی پیروی کرنے والے ہوں گے۔ جو رسالت محمدیہ پر ایمان نہیں لائیں گے، وہ کامیاب نہیں نقصان اٹھانے والے اور ناکام ہونگے۔ علاوہ ازیں کامیابی سے مراد بھی آخرت کی کامیابی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی قوم رسالت محمدیہ پر ایمان نہ رکھتی ہو اور اسے دنیاوی خوش حالی و فروانی حاصل ہو۔ جس طرح اس وقت مغربی اور یورپی اور دیگر بعض قوموں کا حال ہے کہ وہ عیسائی یا یہودی یا کافر مشرک ہونے کے باوجود مادی ترقی اور خوش حالی میں ممتاز ہیں، لیکن ان کی یہ ترقی عارضی بطور امتحان و خلاف معمول ہے۔ یہ انکی اخروی کامیابی کی ضمانت یا علامت نہیں۔ اسی طرح (واتبعوا النور الذی انزل معہ) سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ المائدہ کی آیت ۱٥میں نور سے مراد قرآن مجید ہی ہے۔ اس لیے اس ‏‏نور سے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مراد نہیں ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ اَپ کی صفات میں ایک صفت نور بھی ہے۔ جس سے کفرو شرک کی تاریکیاں دور ہوئیں۔ لیکن آپ کے نوری صفت ہونے سے آپ کا نور من نور اللہ ہونا ثابت نہیں ہوسکتا جس طرح اہل بدعت یہ ثابت کرتے ہیں۔(157)
قُل يٰأَيُّهَا النّاسُ إِنّى رَسولُ اللَّهِ إِلَيكُم جَميعًا الَّذى لَهُ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ يُحيۦ وَيُميتُ ۖ فَـٔامِنوا بِاللَّهِ وَرَسولِهِ النَّبِىِّ الأُمِّىِّ الَّذى يُؤمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمٰتِهِ وَاتَّبِعوهُ لَعَلَّكُم تَهتَدونَ(158)
١٥٨۔١ یہ آیت بھی رسالت محمدیہ کی عالمگیر رسالت کے اثبات میں بالکل واضح ہے۔ اس میں اللہ تعالٰی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئے کہ اے کائنات کے انسانو! میں سب کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ یوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری بنی نوع انسانی کے نجات دہندہ اور رسول ہیں۔ اب نجات اور ہدایت نہ عیسائت میں ہے نہ یہودیت میں، نہ کسی اور مذ ہب میں، نجات اور ہدایت اگر ہے تو صرف اسلام کے اپنانے اور اسے ہی اختیار کرنے میں ہے اس آیت میں بھی اور اس سے پہلی آیت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو النبی الأمی کہا گیا ہے۔ یہ آپ کی ایک خاص صفت ہے۔ امی کے معنی ہیں ان پڑھ۔ یعنی آپ نے کسی استاد کے سامنے زانو بطور شاگرد نہیں کئے کسی سے کسی قسم کی تعلیم حاصل نہیں کی۔ لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم پیش کیا، اس کے اعجاز و بلاغت کے سامنے دنیا بھر کے خوش بیان عالم فاضل عاجز آگئے اور آپ نے جو تعلیمات پیش کیں، ان کی صداقت و حقانیت کی ایک دنیا اعتراف کرتی ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ واقع اللہ کے سچے رسول ہیں ورنہ ایک ان پڑھ نہ ایسا قرآن پیش کرسکتا ہے اور نہ ہی ایسی تعلیمات بیان کرسکتا ہے جو عدل و انصاف کا بہترین نمونہ اور انسانیت کی فلاح و کامرانی کے لئے ناگزیر ہیں، انہیں اپنائے بغیر دنیا حقیقی امن سکون اور راحت و عافیت سے ہمکنار نہیں ہوسکتی۔(158)
وَمِن قَومِ موسىٰ أُمَّةٌ يَهدونَ بِالحَقِّ وَبِهِ يَعدِلونَ(159)
١٥٩۔١ اس سے مراد وہی چند لوگ ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے، عبد اللہ بن سلام وغیرہ۔(159)
وَقَطَّعنٰهُمُ اثنَتَى عَشرَةَ أَسباطًا أُمَمًا ۚ وَأَوحَينا إِلىٰ موسىٰ إِذِ استَسقىٰهُ قَومُهُ أَنِ اضرِب بِعَصاكَ الحَجَرَ ۖ فَانبَجَسَت مِنهُ اثنَتا عَشرَةَ عَينًا ۖ قَد عَلِمَ كُلُّ أُناسٍ مَشرَبَهُم ۚ وَظَلَّلنا عَلَيهِمُ الغَمٰمَ وَأَنزَلنا عَلَيهِمُ المَنَّ وَالسَّلوىٰ ۖ كُلوا مِن طَيِّبٰتِ ما رَزَقنٰكُم ۚ وَما ظَلَمونا وَلٰكِن كانوا أَنفُسَهُم يَظلِمونَ(160)
١٦٠۔١ اَسْبَا ط، سِبْط،ُ کی جمع ہے۔ بمعنی پوتا یہاں اسباط قبائل کے معنی میں ہیں۔ یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں سے بارہ قبیلے معرض وجود میں آئے ہر قبیلے میں اللہ تعالٰی نے ایک ایک نقیب (نگران) بھی مقرر فرمادیا یہاں پر اللہ تعالٰی ان بارہ قبیلوں کی بعض بعض صفات میں ایک دوسرے سے ممتاز ہونے کی بنا پر ان کے الگ الگ گروہ ہونے کو بطور احسان کے ذکر فرما رہا ہے۔(160)
وَإِذ قيلَ لَهُمُ اسكُنوا هٰذِهِ القَريَةَ وَكُلوا مِنها حَيثُ شِئتُم وَقولوا حِطَّةٌ وَادخُلُوا البابَ سُجَّدًا نَغفِر لَكُم خَطيـٰٔتِكُم ۚ سَنَزيدُ المُحسِنينَ(161)
(161)
فَبَدَّلَ الَّذينَ ظَلَموا مِنهُم قَولًا غَيرَ الَّذى قيلَ لَهُم فَأَرسَلنا عَلَيهِم رِجزًا مِنَ السَّماءِ بِما كانوا يَظلِمونَ(162)
١٦٢۔١ ١٦٠ تا ١٦٢ آیات میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں، یہ وہ ہیں جو پارہ الم، سورہ بقرہ کے آغاز میں بیان کی گئی ہیں۔ وہاں ان کی تفصیل ملاحظہ فرمائی جائے۔(162)
وَسـَٔلهُم عَنِ القَريَةِ الَّتى كانَت حاضِرَةَ البَحرِ إِذ يَعدونَ فِى السَّبتِ إِذ تَأتيهِم حيتانُهُم يَومَ سَبتِهِم شُرَّعًا وَيَومَ لا يَسبِتونَ ۙ لا تَأتيهِم ۚ كَذٰلِكَ نَبلوهُم بِما كانوا يَفسُقونَ(163)
١٦٣۔١ وسئلہم میں (ھم) ضمیر سے مراد یہود ہیں۔ یعنی ان سے پوچھئے اس میں یہودیوں کو یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ اس واقعے کا علم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی دلیل ہے۔ کیونکہ اللہ کی طرف سے وحی کے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کا علم نہیں ہوسکتا تھا۔ (۲) اس بستی کی تعیین میں اختلاف ہے کوئی اس کا نام ایلہ کوئی طبریہ کوئی ایلیا اور کوئی شام کی کوئی بستی جو سمندر کے قریب تھی۔ بتلاتا ہے۔ مفسرین کا زیادہ رجحان ایلہ کی طرف ہے جو مدین اور کوہ طور کے درمیان دریائے قلزم کے ساحل پر تھی۔ (۳) حیتان حوت (مچھلی کی جمع ہے۔ شرعا شارع کی جمع ہے۔ معنی ہیں پانی کے اوپر ابھر ابھر کر آنے والیاں۔ یہ یہودیوں کے اس واقعے کی طرف اشارہ ہیں جس میں انہیں ہفتے والے دن مچھلیوں کا شکار کرنے سے منع کردیا گیا تھا۔ لیکن بطور آزمائش ہفتے والے دن مچھلیاں کثرت سے آتیں اور پانی کے اوپر ظاہر ہو ہو کر انہیں دعوت شکار دیتیں۔ اور جب یہ دن گزر جاتا تو اس طرح نہ آتیں۔ بالآخر یہودیوں نے ایک حیلہ کر کے حکم الہی سے تجاوز کیا کہ گڑھے کھود لیے تاکہ مچھلیاں اس میں پھنسی رہیں اور جب ہفتے کا دن گزر جاتا تو پھر انہیں پکڑ لیتے۔(163)
وَإِذ قالَت أُمَّةٌ مِنهُم لِمَ تَعِظونَ قَومًا ۙ اللَّهُ مُهلِكُهُم أَو مُعَذِّبُهُم عَذابًا شَديدًا ۖ قالوا مَعذِرَةً إِلىٰ رَبِّكُم وَلَعَلَّهُم يَتَّقونَ(164)
١٦٤۔١ اس جماعت سے صالحین کی وہ جماعت مراد ہے جو اس حیلے کا ارتکاب بھی نہیں کرتی تھی اور حیلہ گروں کو سمجھا سمجھا کر ان کی اصلاح سے مایوس بھی ہوگئی تھی۔ تاہم کچھ اور لوگ بھی سمجھانے والے تھے جو انہیں واعظ و نصیحت کرتے تھے۔ صالحین کی یہ جماعت انہیں یہ کہتی کہ ایسے لوگوں کو واعظ و نصیحت کا کیا فائدہ جن کی قسمت میں ہلاکت و عذاب الٰہی ہے۔ یا اس جماعت سے وہی نافرمان اور تجاوز کرنے والے مراد ہیں۔ جب انکو وعظ کرنے والے نصیحت کرتے تو یہ کہتے کہ جب تمہارے خیال میں ہلاکت یا عذاب الہی ہمارا مقدر ہے تو پھر ہمیں کیوں وعظ کرتے ہو؟ تو وہ جواب دیتے کہ ایک تو اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کرنے کے لیے تاکہ ہم تو اللہ کی گرفت سے محفوظ رہیں۔ کیونکہ معصیت الہی کا ارتکاب ہوتے ہوئے دیکھنا اور پھر اسے روکنے کی کوشش نہ کرنا بھی جرم ہے۔ جس پر اللہ تعالٰی کی گرفت ہوسکتی ہے۔ اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ شاید یہ لوگ حکم الہی سے تجاوز کرنے سے باز ہی آجائیں۔ پہلی تفسیر کی رو سے یہ تین جماعتیں ہوئیں۔۱) نافرمان اور شکار کرنے والی جماعت( ۲) وہ جماعت جو بالکل کنارہ کش ہوگئی۔ نہ وہ نافرمانوں میں تھی نہ منع کرنے والوں میں (۳) وہ جماعت جونافرمان بھی نہیں تھی اور بالکل کنارہ کش بھی نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ نافرمانوں کو منع کرتی تھی۔ دوسری تفسیر کی رو سے یہ دو جماعتیں ہوں گی۔ ایک نافرمانوں کی اور دوسری منع کرنے والوں کی۔(164)
فَلَمّا نَسوا ما ذُكِّروا بِهِ أَنجَينَا الَّذينَ يَنهَونَ عَنِ السّوءِ وَأَخَذنَا الَّذينَ ظَلَموا بِعَذابٍ بَـٔيسٍ بِما كانوا يَفسُقونَ(165)
١٦٥۔١ یعنی واعظ و نصیحت کی انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی اور نافرمانی پر اڑے رہے۔ ١٦٥۔٢ یعنی وہ ظالم بھی تھے، اللہ تعالٰی کی نافرمانیوں کا ارتکاب کرکے انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور انہیں جہنم کا ایندھن بنالیا اور فاسق بھی، کہ اللہ کے حکموں سے سرتابی کو انہوں نے اپنا شیوہ اور وطیرہ بنالیا(165)
فَلَمّا عَتَوا عَن ما نُهوا عَنهُ قُلنا لَهُم كونوا قِرَدَةً خٰسِـٔينَ(166)
١٦٦۔١ عَتَوا کے معنی ہیں جنہوں نے اللہ کی نافرمانی میں حد سے تجاوز کیا۔ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ نجات پانے والے صرف وہی تھے، جو منع کرتے تھے اور باقی دونوں عذاب الٰہی کی زد میں آئے؟ یا زد میں آنے والے صرف معصیت کار تھے؟ باقی دو جماعتیں نجات پانے والی تھیں؟ امام ابن کثیر نے دوسری رائے کو ترجیح دی ہے۔(166)
وَإِذ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبعَثَنَّ عَلَيهِم إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ مَن يَسومُهُم سوءَ العَذابِ ۗ إِنَّ رَبَّكَ لَسَريعُ العِقابِ ۖ وَإِنَّهُ لَغَفورٌ رَحيمٌ(167)
١٦٧۔١ یعنی وہ وقت بھی یاد کرو! جب آپ کے رب نے ان یہودیوں کو اچھی طرح باخبر کر دیا یا جتلایا تھا، یعنی قسم کھا کر نہایت تاکید کے ساتھ اللہ تعالٰی فرما رہا ہے کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سخت عذاب میں مبتلا رکھیں گے، چنانچہ یہودیوں کی پوری تاریخ اس ذلت و مسکنت اور غلامی و محکومی کی تاریخ ہے جس کی خبر اللہ تعالٰی نے اس آیت میں دی ہے۔ اسرائیل کی موجودہ حکومت قرآن کی بیان کردہ اس حقیقت کے خلاف نہیں ہے اس لئے کہ وہ قرآن ہی کے بیان کردہ استثنا وَ حَبْلٍ مِنَاالنَّاسِ کی مظہر ہے جو قرآنی حقیقت کے خلاف نہیں بلکہ اس کی موید ہے۔ (تفصیل دیکھئے آل عمران۔ ١١٢ کا حاشیہ) ١٦٧۔٢ یعنی اگر ان میں سے کوئی توبہ کرکے مسلمان ہو جائے تو وہ ذلت و رسوائی سے بچ جائے گا۔(167)
وَقَطَّعنٰهُم فِى الأَرضِ أُمَمًا ۖ مِنهُمُ الصّٰلِحونَ وَمِنهُم دونَ ذٰلِكَ ۖ وَبَلَونٰهُم بِالحَسَنٰتِ وَالسَّيِّـٔاتِ لَعَلَّهُم يَرجِعونَ(168)
١٦٨۔١ اس میں یہود کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے ان میں سے بعض کے نیک ہونے کا ذکر ہے۔ اور ان دونوں طریقوں سے آزمائے جانے کا بیان ہے کہ شاید وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔(168)
فَخَلَفَ مِن بَعدِهِم خَلفٌ وَرِثُوا الكِتٰبَ يَأخُذونَ عَرَضَ هٰذَا الأَدنىٰ وَيَقولونَ سَيُغفَرُ لَنا وَإِن يَأتِهِم عَرَضٌ مِثلُهُ يَأخُذوهُ ۚ أَلَم يُؤخَذ عَلَيهِم ميثٰقُ الكِتٰبِ أَن لا يَقولوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الحَقَّ وَدَرَسوا ما فيهِ ۗ وَالدّارُ الءاخِرَةُ خَيرٌ لِلَّذينَ يَتَّقونَ ۗ أَفَلا تَعقِلونَ(169)
(۱) خلف (لام پر فتح کیساتھ) اولاد صالح کو اور خلف (بسکون اللام) نالائق اولاد کو کہتے ہیں۔ اردو میں بھی ناخلف کی ترکیب نالائق اولاد کے معنی میں مستعمل ہے۔ ١٦٩۔١ أدنی دنو (قریب) سے ماخوذ ہے یعنی قریب کا مال حاصل کرتے ہیں جس سے دنیا مراد ہے یا یہ دَنَآءَۃ سے ماخوذ ہے جس سے مراد حقیر گرا پڑا مال ہے۔ مطلب دونوں سے اس دنیا کے مال متاع کے حرص کی وضاحت ہے۔ ١٦٩۔٢ یعنی طالب دنیا ہونے کے باوجود، مغفرت کی امید رکھتے ہیں، جیسے آجکل کے مسلمانوں کا بھی حال ہے۔ ١٦٩۔٣ اس کے باوجود وہ اللہ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنے سے باز نہیں آتے، مثلاً وہی مغفرت کی بات، جو اوپر گزری۔ ١٦٩۔٤ اس کا ایک دوسرا مفہوم مٹانا بھی ہو سکتا ہے، جیسے دَرَسَتِ الرِّیْحُ الاَ ثَارَ (ہوا نے نشانات مٹا ڈالے) یعنی کتاب کی باتوں کو مٹا ڈالا، محو کر دیا یعنی ان پر عمل ترک کر دیا۔(169)
وَالَّذينَ يُمَسِّكونَ بِالكِتٰبِ وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ إِنّا لا نُضيعُ أَجرَ المُصلِحينَ(170)
١٧٠۔١ ان لوگوں میں سے جو تقوٰی کا راستہ اختیار کرلیں، کتاب کو مضبوطی سے تھام لیں۔ جس سے مراد اصلی تورات ہے اور جس پر عمل کرتے ہوئے نبوت محمدی پر ایمان لے آئیں، نماز وغیرہ کی پابندی کریں، تو اللہ ایسے مصلحین کا اجر ضائع نہیں کرے گا۔ اس میں ان اہل کتاب (سیاق کلام سے یہاں بطور خاص یہود) کا ذکر ہے جو تقوٰی، تمسک یا کتاب اور اقامت صلٰوۃ کا اہتمام کریں اور ان کے لئے آخرت کی خوشخبری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلمان ہوجائیں اور رسالت محمدیہ پر ایمان لے آئیں۔ کیونکہ اب پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے بغیر نجات اخروی ممکن نہیں۔(170)
۞ وَإِذ نَتَقنَا الجَبَلَ فَوقَهُم كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ وَظَنّوا أَنَّهُ واقِعٌ بِهِم خُذوا ما ءاتَينٰكُم بِقُوَّةٍ وَاذكُروا ما فيهِ لَعَلَّكُم تَتَّقونَ(171)
١٧١۔١ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس تورات لائے اور اس کے احکام ان کو سنائے، تو انہوں نے پھر حسب عادت ان پر عمل کرنے سے انکار و اعراض کیا جس پر اللہ تعالٰی نے ان پر پہاڑ کو بلند کر دیا کہ تم پر گرا کر تمہیں کچل دیا جائے گا، جس سے ڈرتے ہوئے انہوں تورات پر عمل کرنے کا عہد کیا۔ بعض کہتے ہیں کہ رفع جبل کا یہ واقعہ ان کے مطالبے پر پیش آیا، جب انہوں نے کہا کہ ہم تورات پر عمل اس وقت کریں گے جب اللہ تعالٰی پہاڑ کو ہمارے اوپر بلند کرکے دکھائے، لیکن پہلی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے واللہ اَعلَم۔ یہاں مطلق پہاڑ کا ذکر ہے۔ لیکن اس سے قبل سورہ بقرہ آیت ٦۳اور آیت ۹۳میں دو جگہ اس واقعہ کا ذکر آیا ہے۔ وہاں اس کا نام صراحت کے ساتھ کوہ طور بتلایا گیا۔(171)
وَإِذ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنى ءادَمَ مِن ظُهورِهِم ذُرِّيَّتَهُم وَأَشهَدَهُم عَلىٰ أَنفُسِهِم أَلَستُ بِرَبِّكُم ۖ قالوا بَلىٰ ۛ شَهِدنا ۛ أَن تَقولوا يَومَ القِيٰمَةِ إِنّا كُنّا عَن هٰذا غٰفِلينَ(172)
١٧٢۔١ یہ عہد حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد ان کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد سے لیا گیا۔ اس کی تفصیل ایک حدیث میں اس طرح آتی ہے ' عرفہ والے دن نعمان جگہ میں اللہ تعالٰی نے اصلاب آدم سے عہد (میثاق) لیا۔ پس آدم کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد کو نکالا اور اس کو اپنے سامنے پھیلا دیا اور ان سے پوچھا، ' کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ ' سب نے کہا ' کیوں نہیں ' ہم سب رب ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ امام شوکانی اس حدیث کی بابت لکھتے ہیں واسنادہ لامطعن فیہ (فتح القدیر) اس کی سند میں کوئی طعن نہیں نیز امام شوکانی فرماتے ہیں۔ یہ عالم ذر کہلاتا ہے اس کی یہی تفسیر صحیح اور حق ہے جس سے عدول اور کسی اور مفہوم کی طرف جاناصحیح نہیں ہے کیونکہ یہ مرفوع حدیث اور آثار صحابہ سے ثابت ہے اور اسے مجاز پر بھی محمول کرناجائز نہیں ہے۔ بہرحال اللہ کی ربوبیت کی یہ گواہی ہر انسان کی فطرت میں ودیعت ہے۔ اسی مفہوم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پس اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔ جس طرح جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے اس کا ناک کان کٹا نہیں ہوتا۔ اور صحیح مسلم کی روایت ہے۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو حنیف (اللہ کی طرف یکسوئی سے متوجہ ہونے والا) پیدا کیا ہے۔ پس شیطان ان کو ان کے دین (فطری) سے گمراہ کردیتا ہے۔ الحدیث۔ یہ فطرت یادین فطرت یہی رب کی توحید اور اس کی نازل کردہ شریعت ہے جو اب اسلام کی صورت میں محفوظ اور موجود ہے۔(172)
أَو تَقولوا إِنَّما أَشرَكَ ءاباؤُنا مِن قَبلُ وَكُنّا ذُرِّيَّةً مِن بَعدِهِم ۖ أَفَتُهلِكُنا بِما فَعَلَ المُبطِلونَ(173)
١٧٣۔١ یعنی ہم نے یہ اخذ عہد اپنی ربوبیت کی گواہی اس لئے لی تاکہ تم یہ عذر پیش نہ کر سکو کہ ہم تو غافل تھے یا ہمارے باپ دادا شرک کرتے تھے، یہ عذر قیامت والے دن بارگاہ الٰہی میں قبول نہیں ہونگے۔(173)
وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الءايٰتِ وَلَعَلَّهُم يَرجِعونَ(174)
(174)
وَاتلُ عَلَيهِم نَبَأَ الَّذى ءاتَينٰهُ ءايٰتِنا فَانسَلَخَ مِنها فَأَتبَعَهُ الشَّيطٰنُ فَكانَ مِنَ الغاوينَ(175)
١٧٥۔١ مفسرین نے اسے کسی ایک متعین شخص سے متعلق قرار دیا ہے جسے کتاب الٰہی کا علم حاصل تھا لیکن پھر وہ دنیا اور شیطان کے پیچھے لگ کر گمراہ ہوگیا۔ تاہم اس کے تعیین میں کوئی مسند بات مروی بھی نہیں۔ اس لئے اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ عام ہے اور ایسے افراد ہر امت اور ہر دور میں ہوتے رہے ہیں، جو بھی اس صفت کا حامل ہوگا وہ اس کا مصداق قرار پائے گا۔(175)
وَلَو شِئنا لَرَفَعنٰهُ بِها وَلٰكِنَّهُ أَخلَدَ إِلَى الأَرضِ وَاتَّبَعَ هَوىٰهُ ۚ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الكَلبِ إِن تَحمِل عَلَيهِ يَلهَث أَو تَترُكهُ يَلهَث ۚ ذٰلِكَ مَثَلُ القَومِ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا ۚ فَاقصُصِ القَصَصَ لَعَلَّهُم يَتَفَكَّرونَ(176)
١٧٦۔١ لَھَت،ُ کہتے ہیں تھکاوٹ یا پیاس وغیرہ کی وجہ سے زبان باہر نکالنے کو، کتے کی یہ عادت ہے کہ تم اسے ڈانٹو ڈپٹو یا اسکے حال پر چھوڑ دو، دونوں حالتوں میں وہ بھونکنے سے باز نہیں آتا، اسی طرح اس کی یہ عادت بھی ہے کہ وہ شکم سیر ہو یا بھوکا، تندرست ہو یا بیمار، تھکا ماندہ ہو یا توانا، ہرحال میں زبان باہر نکالے ہانپتا رہتا ہے۔ یہی حال ایسے شخص کا ہے اسے وعظ کرو یا نہ کرو، اس کا حال ایک ہی رہے گا اور دنیا کے مال و متاع کے لئے اس کی رال ٹپکتی رہے گی۔ ١٧٦۔٢ اور اس قسم کے لوگوں سے عبرت حاصل کرکے، گمراہی سے بچیں اور حق کو اپنائیں۔(176)
ساءَ مَثَلًا القَومُ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَأَنفُسَهُم كانوا يَظلِمونَ(177)
١٧٧۔١ مثلاً تمییز ہے۔ اصل عبارت یوں ہوگی : ' سَاَءَ مَثَلاً! مَثَلُ الْقَوْمِ اللَّذیْنَ کَذَّبُوْ ا بِاَیَاتِنَا۔ '(177)
مَن يَهدِ اللَّهُ فَهُوَ المُهتَدى ۖ وَمَن يُضلِل فَأُولٰئِكَ هُمُ الخٰسِرونَ(178)
١٧٨۔١ یہ اس کے قانون مشیت کا بیان ہے جس کی وضاحت پہلے دو تین مرتبہ کی جاچکی ہے۔(178)
وَلَقَد ذَرَأنا لِجَهَنَّمَ كَثيرًا مِنَ الجِنِّ وَالإِنسِ ۖ لَهُم قُلوبٌ لا يَفقَهونَ بِها وَلَهُم أَعيُنٌ لا يُبصِرونَ بِها وَلَهُم ءاذانٌ لا يَسمَعونَ بِها ۚ أُولٰئِكَ كَالأَنعٰمِ بَل هُم أَضَلُّ ۚ أُولٰئِكَ هُمُ الغٰفِلونَ(179)
١٧٩۔١ اس کا تعلق تقدیر سے ہے۔ یعنی ہر انسان اور جن کی بابت اللہ کو علم تھا کہ وہ دنیا میں جا کر اچھے یا برے کیا عمل کرے گا، اس کے مطابق اس نے لکھ رکھا ہے۔ یہ انہیں دوزخیوں کا ذکر ہے جنہیں اللہ کے علم کے مطابق دوزخ والے ہی کام کرنے تھے۔ آگے ان کی مزید صفات بیان کرکے بتا دیا گیا ہے کہ جن لوگوں کے اندر یہ چیزیں اس انداز میں ہوں جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے، تو سمجھ لو کہ اس کا انجام برا ہے۔ (۲) یعنی دل آنکھ کان یہ چیزیں اللہ نے اس لیے دی ہیں کہ انسان ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے پروردگار کو سمجھے اس کی آیات کامشاہدہ کرے اور حق کی بات کو غور سے سنے۔ لیکن جو شحص ان مشاعر سے یہ کام نہیں لیتا وہ گویا ان سے عدم انتفاع (فائدہ نہ اٹھانے) میں چوپایوں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔ اس لیے کہ چوپایے تو پھر بھی اپنے نفع نقصان کا کچھ شعور رکھتے ہیں اور نفع والی چیزوں سے نفع اٹھاتے اور نقصان دینے والی چیزوں سے بچ کر رہتے ہیں لیکن اللہ تعالٰی کی ہدایت سے اعراض کرنی والے شخص کے اندر تو یہ تمیز کرنے کی صلاحیت ہی ختم ہوجاتی ہے کہ اس کے لیے مفید چیز کون سی ہے اور مضر کون سی؟ اسی لیے اگلے جملے میں انہیں غافل بھی کہا گیا ہے۔(179)
وَلِلَّهِ الأَسماءُ الحُسنىٰ فَادعوهُ بِها ۖ وَذَرُوا الَّذينَ يُلحِدونَ فى أَسمٰئِهِ ۚ سَيُجزَونَ ما كانوا يَعمَلونَ(180)
١٨٠۔١ حسنی احسن کی تانیث ہے۔ اللہ کے اچھے ناموں سے مراد اللہ کے وہ نام ہیں جن سے اس کی مختلف صفات، اس کی عظمت و جلالت اور اس کی قدرت و طاقت کا اظہار ہوتا ہے، صحیحین کی حدیث میں انکی تعداد ٩٩ ایک کم ١٠٠ بتائی گئی ہے فرمایا ' جو ان کو شمار کرے گا، جنت میں داخل ہوگا اللہ تعالٰی طاق ہے اور طاق کو پسند فرماتا ہے۔ نیز علماء نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ اللہ کے ناموں کی تعداد ٩٩ میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ ہیں۔ (ابن کثیر) ١٨٠۔٢ الحاد کے معنی ہیں کسی ایک طرف مائل ہونا، اسی سے لحد ہے جو اس قبر کو کہا جاتا ہے جو ایک طرف بنائی جاتی ہے۔ دین میں الحاد اختیار کرنے کا مطلب کج روی اور گمراہی اختیار کرنا ہے۔ اللہ تعالٰی کے ناموں میں (کج روی) الحاد کی تین صورتیں ہیں ١۔ اللہ تعالٰی کے ناموں میں تبدیلی کر دی جائے جیسے مشرکین نے کہا۔ مثلا اللہ کی اسی نام سے اپنے ایک بت کا نام لات اور اس کے صفاتی ناموں عَزیز سے عُزَّا بنا لیا ٢، یا اللہ کے ناموں میں اپنی طرف سے اضافہ کر لینا جس کا حکم اللہ نے نہیں دیا۔ ٣۔ یا اس کے ناموں میں کمی کردی جائے مثلاً اسے ایک ہی مخصوص نام سے پکارا جائے اور دوسرے صفاتی ناموں سے پکارنے کو برا سمجھا جائے (فتح القدیر) اللہ کے ناموں میں الحاد کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان میں تاویل یا تعطیل یا تشبیہ سے کام لیا جائے (ایسر التفاسیر) جس طرح معتزلہ، معطلہ اور مشبہ وغیرہ گمراہ فرقوں کاطریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالٰی نے حکم دیا کہ ان سب سے بچ کر رہو۔(180)
وَمِمَّن خَلَقنا أُمَّةٌ يَهدونَ بِالحَقِّ وَبِهِ يَعدِلونَ(181)
(181)
وَالَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا سَنَستَدرِجُهُم مِن حَيثُ لا يَعلَمونَ(182)
(182)
وَأُملى لَهُم ۚ إِنَّ كَيدى مَتينٌ(183)
١٨٣۔١ یہ وہی استدراج و امہال ہے جو بطور امتحان اللہ تعالٰی افراد اور قوموں کو دیتا ہے۔ پھر جب اس کی مشیت مواخذہ کرنے کی ہوتی ہے تو کوئی اسے بچانے پر قادر نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کی تدبیر بڑی مضبوط ہے۔(183)
أَوَلَم يَتَفَكَّروا ۗ ما بِصاحِبِهِم مِن جِنَّةٍ ۚ إِن هُوَ إِلّا نَذيرٌ مُبينٌ(184)
١٨٤۔١ صَاحِب سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے جن کی بابت مشرکین کبھی ساحر اور کبھی مجنون (نعوذ باللہ) کہتے تھے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا یہ تمہارے عدم تفکر کا نتیجہ ہے وہ تو تمہارا پیغمبر ہے جو ہمارے احکام پہنچانے والا اور ان سے غفلت اور اعراض کرنے والوں کو ڈرانے والا ہے۔(184)
أَوَلَم يَنظُروا فى مَلَكوتِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما خَلَقَ اللَّهُ مِن شَيءٍ وَأَن عَسىٰ أَن يَكونَ قَدِ اقتَرَبَ أَجَلُهُم ۖ فَبِأَىِّ حَديثٍ بَعدَهُ يُؤمِنونَ(185)
مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں پر بھی اگر یہ غور کریں تو یقینا یہ اللہ پر ایمان لے آئیں اس کے رسول کی تصدیق اور اس کی اطاعت اختیار کرلیں اور انہوں نے جو اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں۔ انہیں چھوڑ دیں اور اس بات سے ڈریں کہ انہیں موت اس حال میں آجائے کہ وہ کفر پر قائم ہوں۔ ١٨٥۔٢ حَدِ یْث، سے مراد یہاں قرآن کریم ہے۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انداز و تہدید اور قرآن کریم کے بعد بھی اگر یہ ایمان نہ لائیں تو ان سے بڑھ کر انہیں ڈرانے والی چیز کیا ہوگی جو اللہ کی طرف سے نازل ہو اور پھر یہ اس پر ایمان نہ لائیں۔(185)
مَن يُضلِلِ اللَّهُ فَلا هادِىَ لَهُ ۚ وَيَذَرُهُم فى طُغيٰنِهِم يَعمَهونَ(186)
(186)
يَسـَٔلونَكَ عَنِ السّاعَةِ أَيّانَ مُرسىٰها ۖ قُل إِنَّما عِلمُها عِندَ رَبّى ۖ لا يُجَلّيها لِوَقتِها إِلّا هُوَ ۚ ثَقُلَت فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ لا تَأتيكُم إِلّا بَغتَةً ۗ يَسـَٔلونَكَ كَأَنَّكَ حَفِىٌّ عَنها ۖ قُل إِنَّما عِلمُها عِندَ اللَّهِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ(187)
١٨٧۔١ سَاعَۃ،ُ کے معنی ہیں گھڑی (لمحہ یا پل) کے ہیں قیامت کو ساعۃ اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ اچانک اس طرح آجائے گی کہ پل بھر میں ساری کائنات درہم برہم ہو جائے گی یا سرعت حساب کے اعتبار سے قیامت کی گھڑی کو ساعۃ سے تعبیر کیا گیا۔ ١٨٧۔٢ اَرْسَیٰ یُرْسِیْ کے معنی اثبات و وقوع کے ہیں، یعنی کب یہ قیامت ثابت یا واقع ہوگی۔ ١٨٧۔٣ یعنی اس کا یقینی علم نہ کسی فرشتے کو ہے نہ کسی نبی کو، اللہ کے سوا اس کا علم کسی کے پاس نہیں، وہی اس کو اپنے وقت پر ظاہر فرمائے گا۔ ١٨٧۔٤ اس کے ایک دوسرے معنی ہیں۔ اس کا علم آسمان اور زمین والوں پر بھاری ہے، کیونکہ وہ پوشیدہ ہے اور پوشیدہ چیز لوگوں پر بھاری ہوتی ہے۔ ١٨٧۔٥ حَفِی،ُ کہتے ہیں پیچھے پڑ کر سوال کرنے اور تحقیق کرنے کو۔ یعنی یہ آپ سے قیامت کے بارے میں اس طرح سوال کرتے ہیں کہ گویا آپ نے رب کے پیچھے پڑ کر اس کی بابت ضروری علم حاصل کر رکھا ہے۔(187)
قُل لا أَملِكُ لِنَفسى نَفعًا وَلا ضَرًّا إِلّا ما شاءَ اللَّهُ ۚ وَلَو كُنتُ أَعلَمُ الغَيبَ لَاستَكثَرتُ مِنَ الخَيرِ وَما مَسَّنِىَ السّوءُ ۚ إِن أَنا۠ إِلّا نَذيرٌ وَبَشيرٌ لِقَومٍ يُؤمِنونَ(188)
١٨٨۔١ یہ آیت اس بات میں کتنی واضح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عالم غیب نہیں۔ عالم غیب صرف اللہ کی ذات ہے، لیکن ظلم اور جہالت کی انتہا ہے کہ اس کے باوجود اہل بدعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب باور کراتے ہیں۔ حالانکہ بعض جنگوں میں آپ کے دندان مبارک بھی شہید ہوئے، آپ کا چہرہ بھی زخمی ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ قوم کیسے فلاح یاب ہوگی جس نے اپنے نبی کے سر کو زخمی کردیا، کتب حدیث میں یہ واقعات بھی اور ذیل کے واقعات بھی درج ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگی تو پورا ایک مہینہ مضطرب اور نہایت پریشان رہے۔ ایک یہودی عورت نے آپ کی دعوت کی اور کھانے میں زہر ملادیا، جسے آپ نے تناول فرمایا اور صحابہ نے بھی، حتٰی کہ بعض صحابہ تو کھانے کے زہر سے ہلاک ہی ہوگئے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمر بھر اس زہر کے اثرات محسوس فرماتے رہے۔ یہ اور اس قسم کے متعدد واقعات ہیں جن سے واضح ہے کہ آپ کو عدم علم کی وجہ سے یہ تکلیف پہنچی، نقصان اٹھانا پڑا، جس سے قرآن کی بیان کردہ حقیقت کا اثبات ہوتا ہے ' اگر میں غیب جانتا ہوتا تو مجھے کوئی مضرت نہ پہنچتی '(188)
۞ هُوَ الَّذى خَلَقَكُم مِن نَفسٍ وٰحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنها زَوجَها لِيَسكُنَ إِلَيها ۖ فَلَمّا تَغَشّىٰها حَمَلَت حَملًا خَفيفًا فَمَرَّت بِهِ ۖ فَلَمّا أَثقَلَت دَعَوَا اللَّهَ رَبَّهُما لَئِن ءاتَيتَنا صٰلِحًا لَنَكونَنَّ مِنَ الشّٰكِرينَ(189)
١٨٩۔١ ابتدا یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے۔ اسی لئے انسان اول اور ابوالبشر کہا جاتا ہے۔ ١٨٩۔٢ اس سے مراد حضرت حوا ہیں، جو حضرت آدم علیہ السلام کی زوج بنیں۔ ان کی تخلیق حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی، جس طرح کہ منھا کی ضمیر سے، جو نفس واحدۃ کی طرف راجع ہے اور واضح ہے (مزید دیکھئے سورت نساء کا حاشیہ) ١٨٩۔٣ یعنی اس سے اطمینان و سکون حاصل کرے۔ اس لئے کہ ایک جنس اپنے ہی ہم جنس سے صحیح معنوں میں مانوس اور قریب ہوسکتی ہے جو سکون حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔ قربت کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالٰی نے فرمایا :(وَ مِنْ اٰ یٰتِہٖ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْا اِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّہً وَ رَحمَۃً) (روم۔ ٢١) اللہ کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تم ہی میں سے (یا تمہاری جنس ہی میں سے) جوڑے پیدا کئے، تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے دل میں اس نے پیار محبت رکھ دی ' یعنی اللہ نے مرد اور عورت دونوں کے اندر ایک دوسرے کے جذبات اور کشش رکھی ہے، فطرت کے یہ تقاضے وہ جوڑا بن کر پورا کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے قرب و انس حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ جو باہمی پیار میاں بیوی کے درمیان ہوتا ہے وہ دنیا میں کسی اور کے ساتھ نہیں ہوتا۔ ١٨٩۔٤ یعنی یہ نسل انسانی اس طرح بڑھی اور آگے چل کر جب ان میں سے ایک زوج یعنی میاں بیوی نے ایک دوسرے سے قربت کی۔ تَغشَّاھَا کے معنی بیوی سے ہمبستری۔ یعنی وطی کرنے کے لئے ڈھانپا۔ ١٨٩۔٥ یعنی حمل کے ابتدائی ایام میں حتٰی کہ نطفے سے عَلَقَۃِاور عَلَقَۃ،ُ سے مُضَغَۃ،ُ بننے تک، حمل خفیف رہتا ہے محسوس نہیں ہوتا اور عورت کو زیادہ گرانی بھی نہیں ہوتی۔ ١٨٩۔٦ بوجھل ہو جانے سے مراد بچہ پیٹ میں بڑا ہوجاتا ہے تو جوں جوں ولادت کا وقت قریب آتا جاتا ہے، والدین کے دل میں خطرات اور توہمات پیدا ہوتے جاتے ہیں (بالخصوص جب عورت کو اٹھرا کی بیماری ہو تو انسانی فطرت ہے کہ خطرات میں وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، چنانچہ وہ دونوں اللہ سے دعائیں کرتے ہیں اور شکر گزاری کا عہد کرتے ہیں۔(189)
فَلَمّا ءاتىٰهُما صٰلِحًا جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فيما ءاتىٰهُما ۚ فَتَعٰلَى اللَّهُ عَمّا يُشرِكونَ(190)
١٩٠۔١ شریک قرار دینے سے مراد یا تو بچے کا نام ایسا رکھنا ہے، مثلاً امام بخش، پیراں دیتا، عبدالشمس، بندہ علی وغیرہ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بچہ فلاں بزرگ، فلاں پیر کی (نعوذ باللہ) نظر کرم کا نتیجہ ہے۔ یا پھر اس اپنے عقیدے کا اظہار کرکے کہ ہم فلاں بزرگ فلاں قبر پر گئے تھے جس کے نتیجہ میں بچہ پیدا ہوا ہے، جو بد قسمتی سے مسلمان عوام میں بھی عام ہیں۔ اگلی آیات میں اللہ تعالٰی شرک کی تردید فرما رہا ہے۔(190)
أَيُشرِكونَ ما لا يَخلُقُ شَيـًٔا وَهُم يُخلَقونَ(191)
(191)
وَلا يَستَطيعونَ لَهُم نَصرًا وَلا أَنفُسَهُم يَنصُرونَ(192)
(192)
وَإِن تَدعوهُم إِلَى الهُدىٰ لا يَتَّبِعوكُم ۚ سَواءٌ عَلَيكُم أَدَعَوتُموهُم أَم أَنتُم صٰمِتونَ(193)
١٩٣۔١ یعنی تمہاری بتلائی ہوئی بات پر عمل نہیں کریں گے۔ ایک دوسرا مفہوم یہ ہے اگر تم ان سے رشدو ہدایت طلب کرو تو وہ تمہاری بات نہیں مانیں گے۔ نہ تمہیں کوئی جواب دیں گے (فتح القدیر)(193)
إِنَّ الَّذينَ تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ عِبادٌ أَمثالُكُم ۖ فَادعوهُم فَليَستَجيبوا لَكُم إِن كُنتُم صٰدِقينَ(194)
١٩٤۔١ یعنی جب وہ زندہ تھے، بلکہ اب تو تم خود ان سے زیادہ کامل ہو، اب وہ دیکھ نہیں سکتے، تم دیکھتے ہو، وہ سن نہیں سکتے، تم سنتے ہو۔ وہ کسی بات کو سمجھ نہیں سکتے، تم سمجھتے ہو، وہ جواب نہیں دے سکتے، تم دیتے ہو اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین، جن کی مورتیاں بنا کر پوجتے تھے، وہ بھی پہلے اللہ کے بندے یعنی انسان ہی تھے جیسے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پانچ بتوں کی بابت عقیدہ رکھتی تھی جیسا کہ صحیح بخاری میں صراحتا موجود ہے کہ وہ اللہ کے نیک بندے تھے۔(194)
أَلَهُم أَرجُلٌ يَمشونَ بِها ۖ أَم لَهُم أَيدٍ يَبطِشونَ بِها ۖ أَم لَهُم أَعيُنٌ يُبصِرونَ بِها ۖ أَم لَهُم ءاذانٌ يَسمَعونَ بِها ۗ قُلِ ادعوا شُرَكاءَكُم ثُمَّ كيدونِ فَلا تُنظِرونِ(195)
١٩٥۔١ یعنی اب ان میں سے کوئی چیز بھی ان کے پاس موجود نہیں۔ مرنے کے ساتھ ہی دیکھنے سننے، سمجھنے اور چلنے کی طاقت ختم ہوگئی۔ اب ان کی طرف منسوب یا تو پتھر یا لکڑی کی خود تراشیدہ مورتیاں ہیں۔ یا گنبد، قبے اورآستانے ہیں جو ان کی قبروں پر بنالیے گئے اور یوں استخواں فروشی کا کاروبار فروغ پذیر ہے۔ ١٩٥۔٢ یعنی اگر تم دعوے میں سچے ہو کہ یہ تمہارے مددگار ہیں تو ان سے کہو کہ میرے خلاف تدبیر کریں۔(195)
إِنَّ وَلِۦِّىَ اللَّهُ الَّذى نَزَّلَ الكِتٰبَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحينَ(196)
(196)
وَالَّذينَ تَدعونَ مِن دونِهِ لا يَستَطيعونَ نَصرَكُم وَلا أَنفُسَهُم يَنصُرونَ(197)
١٩٧۔١ جو اپنی مدد آپ کرنے پر قادر نہ ہو وہ بھلا دوسروں کی مدد کیا کریں گے۔(197)
وَإِن تَدعوهُم إِلَى الهُدىٰ لا يَسمَعوا ۖ وَتَرىٰهُم يَنظُرونَ إِلَيكَ وَهُم لا يُبصِرونَ(198)
١٩٨۔١ اس کا وہی مفہوم ہے جو آیت ١٩٣ کا ہے۔(198)
خُذِ العَفوَ وَأمُر بِالعُرفِ وَأَعرِض عَنِ الجٰهِلينَ(199)
١٩٩۔١ بعض علماء نے اس کے معنی کئے ہیں ' ضرورت سے زائد مال ہو، وہ لے لو ' اور یہ زکوۃ کی فضیلت سے قبل کا حکم ہے، لیکن دوسرے مفسرین نے اس سے اخلاقی ہدایت یعنی عفو و درگزر مراد لیا ہے اور امام بن جری اور امام بخاری وغیرہ نے اس کو ترجیح دی ہے،چناچہ امام بخاری نے اس کی تفسیر میں حضرت عمر کا واقعہ نقل کیا ہے کہ عیینہ بن حصن حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آ کر تنقید کرنے لگے کہ آپ زکوۃ میں نہ پوری عطاء دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہیں جس پر حضرت عمر غضب ناک ہوئے یہ صورت حال دیکھ کر حضرت عمر کے مشیر حر بن قیس نے (جو عیینہ کے بھتیجےتھے) حضرت عمر سے کہا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا تھا (درگزر اختیار کیجئے اور نیکی کا حکم دیجئے اور جاہلوں سےپرہیز کیجئیے ' اور یہ بھی جاہلوں میں سے ہے۔ ' جس پر حضرت عمر نے درگزر فرمایا اس کی تائید ان احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ظلم کے مقابلے میں معاف کر دینے، قطع رحمی کے مقابلے میں صلہ رحمی اور برائی کے بدلے احسان کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ١٩٩۔٢ عُرْف،ُسے مراد معروف یعنی نیکی ہے۔ ١٩٩۔٣ یعنی جب آپ نیکی کا حکم دینے میں اتمام حجت کر چکیں اور پھر بھی وہ نہ مانیں تو ان سے اعراض فرمالیں اور ان کے جھگڑوں اور حماقتوں کا جواب نہ دیں۔(199)
وَإِمّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيطٰنِ نَزغٌ فَاستَعِذ بِاللَّهِ ۚ إِنَّهُ سَميعٌ عَليمٌ(200)
٢٠٠۔١ اور اس موقع پر اگر آپ کو شیطان اشتعال میں لانے کی کوشش کرے تو آپ اللہ کی پناہ طلب فرمائیں۔(200)
إِنَّ الَّذينَ اتَّقَوا إِذا مَسَّهُم طٰئِفٌ مِنَ الشَّيطٰنِ تَذَكَّروا فَإِذا هُم مُبصِرونَ(201)
٢٠١۔١ اس میں اہل تقویٰ کی بابت بتلایا گیا ہے کہ وہ شیطان سے چوکنا رہتے ہیں۔ طائف یا طیف، اس تخیل کو کہتے ہیں جو دل میں آئے یا خواب میں نظر آئے۔ یہاں اسے شیطانی وسوسے کے معنی میں استعمال کیا گیا، کیونکہ وسوسہ شیطانی بھی خیالی تصورات کے مشابہ ہے۔ (فتح القدیر)(201)
وَإِخوٰنُهُم يَمُدّونَهُم فِى الغَىِّ ثُمَّ لا يُقصِرونَ(202)
٢٠٢۔١ یعنی شیطان کافروں کو گمراہی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں، پھر وہ کافر (گمراہی کی طرف جانے میں) یا شیطان انکو لے جانے میں کوتاہی میں کمی نہیں کر تے۔ یعنی لَا یَقْصِرُوْنَ کا فاعل کافر بھی بن سکتے ہیں اور اِخْوَان الْکُفَّاِرِ شیاطین بھی۔(202)
وَإِذا لَم تَأتِهِم بِـٔايَةٍ قالوا لَولَا اجتَبَيتَها ۚ قُل إِنَّما أَتَّبِعُ ما يوحىٰ إِلَىَّ مِن رَبّى ۚ هٰذا بَصائِرُ مِن رَبِّكُم وَهُدًى وَرَحمَةٌ لِقَومٍ يُؤمِنونَ(203)
٢٠٣۔١ مراد ایسا معجزہ جو ان کے کہنے پر ان کی خواہش کے مطابق دکھایا جائے۔ جیسے ان کے بعض مطا بات سورہ بنی اسرائیل، آیت ٩٠۔٩٣ میں بیان کئے گئے ہیں۔ ٢٠٣۔٢ لَوْلَا اَجْتَبْیتَھَا کے معنی ہیں، تو اپنے پاس سے ہی کیوں نہیں بنا لاتا؟ اس کے جواب میں بتایا گیا کہ آپ فرما دیں، معجزات پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے میں تو صرف وحی الٰہی کا پیروکار ہوں۔ ہاں البتہ یہ قرآن جو میرے پاس آیا ہے۔ یہ بجائے خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے، اس میں تمہارے رب کی طرف سے بصائر (دلائل و براہین) اور ہدایت و رحمت ہے۔ بشرطیکہ کوئی ایمان لائے۔(203)
وَإِذا قُرِئَ القُرءانُ فَاستَمِعوا لَهُ وَأَنصِتوا لَعَلَّكُم تُرحَمونَ(204)
٢٠٤۔١ یہ ان کافروں کو کہا جارہا ہے، جو قرآن کی تلاوت کرتے وقت شور کرتے تھے اور اپنے ساتھیوں سے کہتے تھے (لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَ الْقُراٰنِ وَالغَوْا فِیْہِ) (حٰم السجدۃ ٢٦) یہ قرآن مت سنو اور شور کرو، ان سے کہا گیا کہ اس کی بجائے تم اگر غور سے سنو اور خاموش رہو تو شاید اللہ تعالٰی تمہیں ہدایت سے نواز دے۔ اور یوں تم رحمت الٰہی کے مستحق بن جاؤ۔(204)
وَاذكُر رَبَّكَ فى نَفسِكَ تَضَرُّعًا وَخيفَةً وَدونَ الجَهرِ مِنَ القَولِ بِالغُدُوِّ وَالءاصالِ وَلا تَكُن مِنَ الغٰفِلينَ(205)
(205)
إِنَّ الَّذينَ عِندَ رَبِّكَ لا يَستَكبِرونَ عَن عِبادَتِهِ وَيُسَبِّحونَهُ وَلَهُ يَسجُدونَ ۩(206)
(206)