Adh-Dhuha( الضحى)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tafseer e Makki(تفسیر مکی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ وَالضُّحىٰ(1)
١۔١ چاشت اس وقت کو کہتے ہیں، جب سورج بلند ہوتا ہے۔ یہاں مراد پورا دن ہے۔(1)
وَالَّيلِ إِذا سَجىٰ(2)
۲۔۱جب ساکن ہو جائے، یعنی جب اندھیرا مکمل چھا جائے، کیونکہ اس وقت ہرچیز ساکن ہو جاتی ہے۔(2)
ما وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَما قَلىٰ(3)
۳۔۱جیسا کہ کافر سمجھ رہے ہیں۔(3)
وَلَلءاخِرَةُ خَيرٌ لَكَ مِنَ الأولىٰ(4)
٤۔١ یا آخرت دنیا سے بہتر ہے، دونوں مفہوم معانی کے اعتبار سے صحیح ہیں۔(4)
وَلَسَوفَ يُعطيكَ رَبُّكَ فَتَرضىٰ(5)
٥۔١ اس سے دنیا کی فتوحات اور آخرت کا اجر و ثواب مراد ہے، اس میں وہ حق شفاعت بھی داخل ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے گناہ گاروں کے لئے ملے گا۔(5)
أَلَم يَجِدكَ يَتيمًا فَـٔاوىٰ(6)
٦۔١ یعنی باپ کے سہارے سے بھی محروم تھا، ہم نے تیری دست گیری اور چارہ سازی کی۔(6)
وَوَجَدَكَ ضالًّا فَهَدىٰ(7)
٧۔١ یعنی تجھے دین شریعت اور ایمان کا پتہ نہیں تھا، ہم نے تجھے راہ یاب کیا، نبوت سے نوازا اور کتاب نازل کی، ورنہ اس سے قبل تو ہدایت کے لئے سرگرداں تھا۔(7)
وَوَجَدَكَ عائِلًا فَأَغنىٰ(8)
۸۔۱تونگر کا مطلب ہے کہ اپنے سوا تجھ کو ہر ایک سے بے نیاز کر دیا، پس تو فقر میں صابر اور غنا میں شاکر رہا ہے۔ جیسے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تونگری کثرت ساز و سامان کا نام نہیں اصل تونگری تو دل کی تونگری ہے۔ (صحیح مسلم)(8)
فَأَمَّا اليَتيمَ فَلا تَقهَر(9)
۹۔۱بلکہ اس کے ساتھ نرمی واحسان کا معاملہ کر۔(9)
وَأَمَّا السّائِلَ فَلا تَنهَر(10)
۱۰۔۱یعنی اس سے سختی اور تکبر نہ کر، نہ درشت اور تلخ لہجہ اختیار کر، بلکہ جواب بھی دینا ہو تو پیار اور محبت سے دو۔(10)
وَأَمّا بِنِعمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّث(11)
۱۱۔۱یعنی اللہ نے تجھ پر جو احسانات کیے ہیں، مثلا ہدایت اور رسالت و نبوت سے نوازا، یتیمی کے باوجود تیری کفالت و سرپرستی کا انتظام کیا، تجھے قناعت وتونگری عطا کی وغیرہ۔(11)